Ayah 65:1[يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ : اے نبی (آپ کہہ دیجئے کہ)] [اِذَا طَلَّقْتم النِّسَاۗءَ : جب کبھی تم لوگ طلاق دو (اپنی) عورتوں کو ] [فَطَلِقُوْهُنَّ : تو طلاق دو ان کو ] [لِعِدَّتِ هِنَّ : ان کی مدت (تک) کے لیے ] [وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ : اور پورا شمار کرو مدت کو ] [وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ : اور تقوٰی اختیار کرو اللہ کا جو تمہارا رب ہے ] [لَا تُخْرِجوهُنَّ : اور تم لوگ مت نکالو ان کو ] [مِنْۢ بُيُوْتِ هِنَّ : ان کے گھروں سے ] [وَلَا يَخْرُجْنَ : اور چاہیے کہ وہ (بھی) نہ نکلیں ] [اِلَّآ ان يَاْتِيْنَ : سوائے اس کے کہ وہ کریں ] [بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ : کوئی کھلی بےحیائی (کا کام)] [وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ : اور یہ اللہ کی حدود ہیں ] [وَمَنْ يَّتَعَدَّ : اور جو تجاوز کرے گا ] [حُدُوْدَ اللّٰهِ : اللہ کی حدود سے ] [فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ : تو اس نے ظلم یا ہے اپنے آپ پر ] [لَا تَدْرِيْ : تو نہیں جانتا ] [لَعَلَّ اللّٰهَ : شاید کہ اللہ ] [يُحْدِثُ : وجود میں لے آئے ] [بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [اَمْرًا : کوئی نیا معاملہ ]
ترکیب : (آیت۔ 1) نبی ﷺ کو مخاطب کر کے آگے طَلَّقْتُمْ میں واحد مخاطب کی ضمیرت کے بجائے جمع مخاطب کی ضمیر تُمْ آئی ہے۔ پھر اس کے آگے طَلِّقُوْا۔ اَحْصُوْا۔ اِتَّقُوْا۔ لَا تُخْرِجُوْا یہ سب جمع مخاطب کے صیغے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن ہدایات پوری امت کے لیے ہیں۔ اس لیے استادِ محترم حافظ احمد یار صاحب مرحوم کی رائے ہے کہ یایھا النبی کے بعد قل کو محذوف مان لیا جائے تو مفہوم صحیح طریقے سے واضح ہوجائے گا۔
نوٹ۔ 1: سابق سورة التغابن کی آیات 14 تا 16 میں یہ تنبیہفرمائی ہے کہ آدمی کے بیوی بچے اس کے لیے بڑی آزمائش ہیں۔ اگر وہ چوکنا نہ رہے تو ان کی محبت میں گرفتار ہو کر وہ اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے جی چرانے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ چیز اسے نفاق میں مبتلا کردیتی ہے اور اس طرح ان کے ساتھ دوستی خود اپنے ساتھ دشمنی بن جای ہے۔ ساتھ ہی یہ تنبیہہ بھی فرمائی کہ ان سے چوکنا رہنے کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ بالکل ہی قطع تعلق کرلے بلکہ تا حدِّ امکان اس طرح عفو و درگزر کا معاملہ رکھے کہ ان کی اصلاح بھی ہو اور اپنے کو ان کے ضرر سے مہفوط بھی رکھ سکے۔ سورة تغافن کے بعد دو سورتوں، الطلاق اور التحریم، میں اسی نازک مسئلہ کی مزید وضاحت فرمائی ہے اور نفرت و محبت، دونوں طرح کے حالات میں صہیح رویہ کے حدود معین کردیئے تاکہ کسی بےاعتدالی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ سورة طلاق میں بتایا کہ بیوی سے کسی سبب سے نفرت پیدا ہوجائے تو اس کے معاملہ میں کس طرح حدود اللہ کی پابندی کا اہتمام کرے۔ اور سورة تحریم میں یہ واضح فرمایا ہے کہ محبت میں کس طرح اپنے آپ کو اور ان کو حدود اللہ کا پابند رکھنے کی کوشش کرے۔ (تدبر قرآن ج 8 ۔ ص 429 ۔ 430)
حضرت عبد اللہ بن مسعود نے صراحت فرمائی ہے کہ اس سورة کا نزول سورة بقرہ کی ان آیات کے بعد ہوا ہے جن میں طلاق کے احکام تین مرتبہ دیئے گئے تھے۔ اگرچہ یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ اس کا ٹھیک زمانۂ نزول کیا ہے لیکن روایات سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جب سورة بقرہ کے احکام کو سمجھنے میں لوگ غلطیاں کرنے لگے تب اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے یہ ہدایات نازل فرمائیں۔ ان ہدایات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان ہدایات کو پھر سے ذہن میں تازہ کرلیا جائے جو طلاق اور عدت کے متعلق اس سے پہلے قرآن مجید میں بیان ہوچکی ہیں۔ اس ضمن میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سورة طلاق ان قاعدوں میں سی کسی قاعدے کو منسوخ کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کے لیے نازل نہیں ہوئی ہے بلکہ دو مقاصد کے لیے نازل ہوئی ہے۔ ایک یہ کہ مرد کو طلاق کا جو اختیار دیا گیا ہے اسے استعمال کرنے کے ایسے طریقے بتائے جائیں جن سے حتیٰ الامکان علیحدگی کی نوبت نہ آئے اور اگر آئے تو ایسی حالت میں آئے جبکہ باہمی موافقت کے سارے امکانات ختم ہوچکے ہوں، دوسرا مقصد یہ ہے کہ سورة بقرہ کے احکام کے بعد جو مزید مسائل جواب طلب باقی رہ گئے تھے ان کا جواب دے کر اسلام کے عائلی قانون کے اس شعبہ کی تکمیل کردی جائے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 5 ۔ ص۔ 550 تا 552)
نوٹ۔ 2: جاہلیت میں طلاق کا عام طریقہ یہ رہا ہے کہ جس کو بیوی پر کسی سبب سے غصہ آیا، وہ نتائج و عوقب کا لحاظ کیے بغیر، ایک ہی سانس میں تین ہی نہیں بلکہ ہزاروں طلاقیں دے کر بیوی کو گھر سے نکال دیتا۔ اس طریقہ طلاق میں عورت، مرد، بچوں بلکہ پورے کنبہ کے لیے جو مضرتیں ہیں ان کو پیش نظر رکھ کر ہدایت فرمائی کہ جب طلاق دیے کی نوبت آئے تو وہ عدت کے حساب سے طلاق دے۔ اور عدت کا شمار رکھے۔ اس عدت کا شمار میاں اور بیوی دونوں کے لیے ضروری ہے۔ بیوی کے لیے اس وجہ سے ضروری ہے کہ عدت کے دوران وہ کسی اور مرد کی زوجیت میں نہیں جاسکتی۔ میاں کے لیے اس وجہ سے ضروری ہے کہ عدت کے دوران اگر وہ چاہے تو مراجعت کرلے۔ عدت گزر جانے کے بعد اس کا یہ حق ختم ہوجائے گا۔ علاوہ ازیں اس دوران میں معلوم ہوا کہ بیوی حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل تک ہوجائے گی اور اس دوران میں عورت کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کی ساری ذمہ داری مرد پر ہوگی۔
اس عدت کے دوران نہ تمہیں یہ حق حاصل ہے کہ ان کو گھر سے نکالو اور نہ بیوی کے لیے جائز ہے کہ وہ وہاں سے نکل کھڑی ہوں، بلکہ دونوں یکجا ایک ہی گھر میں رہیں تاکہ باہمی سازگاری اور اصلاح احوال کی کوئی گنجائش ہو تو یہ یکجائی اس میں مددگار ہو۔ طلاق ایک مجبوری کا علاج ہے لیکن جائز چیزوں میں اللہ کے نزدیک یہ سب سے زیادہ مکروہ ہے۔ چناچہ اس نے اپنے بندوں کو اس سے بچانے کے لیے طلاق پر عدت کی شرط عائد کی ہے اور یہ بھی ضروری قرار دیا ہے کہ اس مدت میں میاں بیوی ایک ہی گھر میں رہیں تاکہ دونوں ٹھنڈے دل سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرسکیں کہ آخری قدم اٹھانے سے پہلے اصلاح احوال کا کوئی امکان ہے یا نہیں۔ یہاں گھر سے نکلنے سے مراد وہ نکلنا نہیں ہے جو معمول کے مطابق اپنی ضروریات کے لیے ہوا کرتا ہے، بلکہ وہ نکلنا ہے جو کسی گھر کو خیر باد کہنے کے معنی میں ہوتا ہے۔ (تدبر قرآن۔ ج 8 ۔ ص 435 تا 437)
Ayah 65:2[فَاِذَا بَلَغْنَ : پھر جب وہ خواتین پہنچ جائیں ] [اَجَلَهُنَّ : اپنی مدت کو ] [فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ : تو تم لوگ تھامے رہو ان کو بھلائی کے ساتھ ] [اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ : اور قائم کرو گواہی کو اللہ کے لیے ] [وَّاَشْهِدُوْا : یہ ہے، وہ نصیحت کرتا ہے جس کے ذریعہ ] [ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ : اس کو جو ہے (کہ)] [وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ للّٰهِ : وہ ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور آخری دن پر ] [ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ : یہ ہے، وہ نصیحت کرتا ہے جس کے ذریعہ ] [مَنْ كَان : اس کو جو ہے (کہ)] [يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ : وہ ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور آخری دن پر ] [وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ : اور جو تقوٰی اختیار کرے گا اللہ کا ] [يَجْعَلْ لَهٗ : تو وہ بنا دے گا اس کے لیے ] [مَخْرَجًا : (مشکلات سے) نکلنے کی کوئی جگہ (راستہ)]
(آیت۔ 2) ذو کا تثنیہ حالت رفع میں ذوا۔ اور حالت نصب و جر میں ذوی آتا ہے۔ یہاں یہ اَشْھِدُوْا کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ آیت۔ 177 ۔ کے نوٹ۔ 2 ۔ میں بتایا جا چکا ہے کہ اس کی جمع ذَوُوْ ۔ ذَوِیْ ۔ ذَوِیْ آتی ہے۔ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ میں کَانَ ماضی استمراری کا نہیں ہے بلکہ یہ کَانَ تامۃ ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 2:193، نوٹ۔ 1) مَنْ سابقہ فعل یُوْعَظُ کا مفعول بھی ہے اور کَانَ تامہ کا فاعل بھی ہے اور آگے یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اس کی صفت ہے۔ وَ مَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ کا مَنْ شرطیہ ہے اس لیے یَتَّقْ مجزوم ہے۔ آگے ملانے کے لیے اس کو کسرہ دی گئی ہے۔ آگے یَجْعَلِّ اور یَرْزُقْ جوابِ شرطیہ ہے اس لیے یَتَوَکَّلْ مجزوم ہے فَھُوَ حَسْبُہٗ پورہ جملہ جوابِ شرط ہے اور محدد مجزوم ہے۔
نوٹ۔ 1: عدّتِ طلاق عام حالات میں تین حیض پورے ہیں، جس کا بیان سورة بقرہ میں ہوچکا ہے۔ لیکن وہ عورتیں جن کو عمر زیادہ ہونے یا کسی بیماری کے سبب سے حیض آنا بند ہوچکا ہو یا وہ عورتیں جن کو کم عمری کے سبب سے ابھی حیض آنا شروع نہ ہوا ہو، تو ان کی عدت آیت۔ 4 ۔ میں تین حیض کے بجائے تین مہینے مقرر فرما دی اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل قرار دی ہے چاہے وہ کتنے ہی دنوں میں ہو۔ اس آیت میں اِنِ ارْتَبْتُمْ (اگر تمہیں شک ہو) سے مراد یہ ہے کہ اصل عدت حیض سے شمار ہوتی ہے اور ان عورتوں کا حیض بند ہے تو پھر عدت شمار کیسے ہوگی۔ یہ تردد مراد ہے۔ (معارف القرآن)
نوٹ۔ 2: زیر مطالعہ آیات 2 تا 5 میں تقوٰی کے فضائل و برکات کا بیان آیا ہے۔ اس کا خلاصہ پانچ چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ متقی کے لیے دنیا و آخرت کے مصائب و مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے لیے رزق کے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں جاتا۔ تیسرے یہ کہ اس کے سب کاموں میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے۔ چوتھے یہ کہ اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے۔ پانچویں یہ کہ اس کا اجر بڑھا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ سورة انفال کی ایت۔ 29 ۔ میں تقوے کی یہ برکت بھی بتلائی گئی ہے کہ اس کی وجہ سے حق و باطل کی پہچان آسان ہوجاتی ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 65:3[وَّيَرْزُقْهُ : اور وہ روزی دے گا اس کو ] [مِنْ حَيْثُ : وہاں سے جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا ] [لَا يَحْتَسِبُ : اور جو بھروسہ کرے گا اللہ پر ] [وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ : اور جو بھروسہ کرے گا اللہ پر ] [فَهُوَ حَسْبُهٗ : تو وہ کافی ہوگا اس کو ] [ان اللّٰهَ : یقینا اللہ ] [بَالِغُ اَمْرِهٖ : اپنے کام کا پہنچنے والا (پورا کرنے والا) ہے ] [قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ : بنادیا ہے اللہ نے ] [لِكُلِ شَيْءٍ : ہر چیز کے لیے ] [قَدْرًا : ایک اندازہ ]
Ayah 65:4[وَاڿ: اور وہ عورتیں جو ] [يَىِٕسْنَ : مایوس ہوئیں ] [مِنَ الْمَحِيْضِ : حیض سے ] [مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ : تمہاری عورتوں میں سے ] [ان ارْتَبْتم : (ان کے بارے میں) اگر تم لوگ شک میں ہو ] [فَعِدَّتُهُنَّ : تو (جان لو کہ) ان کی عدّت ] [ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ : تین مہینے ہے ] [وَّاڿ: اور ان کی (بھی) جن کو ] [لَمْ يَحِضْنَ : حیض ہوا ہی نہیں ] [وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ : اور حملوں والیاں ] [اَجَلُهُنَّ : ان کی مدت ہے ] [ان يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ : کہ وہ رکھ دیں اپنا بوجھ (بچہ جَن لیں)] [وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ : اور جو تقوٰی اختیار کرے گا اللہ کا ] [يَجْعَلْ لَهٗ : تو وہ بنا دے گا اس کے لیے ] [مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا : اس کے معاملہ میں آسانی ]
Ayah 65:5[ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ : یہ اللہ کا حکم ہے ] [انزَلَهٗٓ اِلَيْكُمْ : اس نے اتارا اس (حکم) کو تمہاری طرف ] [وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ : اور جو تقوٰی اختیار کرے گا اللہ کا ] [يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّاٰتِهٖ : تو وہ دور کر دے گا اس سے اس کی برائیوں کو ] [وَيُعْظِمْ لَهٗٓ اَجْرًا : اور وہ عظیم کرے گا اس کے لیے اجر کو ]
Ayah 65:6[اَسْكِنُوْهُنَّ : تم لوگ سکونت دو ان خواتین کو ] [مِنْ حَيْثُ سَكَنْتم : وہاں جہاں تم نے سکونت اختیار کی ] [مِّنْ وُّجْدِكُمْ : اپنی صلاحیت میں سے ] [وَلَا تُضَاۗرُّوْهُنَّ : اور تکلیف مت دو ان کو ] [لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْ هِنَّ : تاکہ تم لوگ تنگی کرو ان پر ] [وَان كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ : اور اگر وہ ہوں حمل والیاں ] [فَانفِقُوْا عَلَيْ هِنَّ : تو تم لوگ خرچ کرو ان پر ] [حَتّٰى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ : یہاں تک کہ وہ جَنیں اپنا بچہ ] [فَان اَرْضَعْنَ لَكُمْ : پھر اگر وہ دودھ پلائیں (بچے کو) تمہارے لیے ] [فَاٰتُوْهُنَّ اُجورَهُنَّ : تو تم لوگ دو ان کو ان کی اجرتیں ] [وَاْتمرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ : اور مشورہ کرو آپس میں کسی بھلائی کا ] [وَان تَعَاسَرْتم : اور اگر باہم ضد کرو گے ] [فَسَتُرْضِعُ لَهٗٓ: تو دودھ پلائے گی اس کے لیے ] [اُخْرٰى: کوئی دوسری (عورت)]
Ayah 65:7[لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ : چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا ] [مِّنْ سَعَتِهٖ : اپنی وسعت میں سے ] [وَمَنْ : اور وہ ] [قُدِرَ عَلَيْهِ : کیا گیا جس پر ] [رِزْقُهٗ : اس کے رزق کو ] [فَلْيُنْفِقْ مِمَآ : تو چاہیے کہ وہ خرچ کرے اس میں سے جو ] [اٰتٰىهُ اللّٰهُ : دیا اس کو اللہ نے ] [لَا يُكَلِفُ اللّٰهُ نَفْسًا : ذمہ داری نہیں ڈالتا اللہ کسی جان پر ] [اِلَّا مَآ اٰتٰىهَا : سوائے اس کے جو اس نے دیا اس کو ] [سَيَجْعَلُ اللّٰهُ : بنا دے گا اللہ ] [بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا : تنگی کے بعد آسانی ]
Ayah 65:8[وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ : اور کتنی ہی ہیں بستیوں میں سے ] [عَتَتْ : جنھوں نے سرکشی کی ] [عَنْ اَمْرِ رَبِهَا : اپنے رب کے حکم سے ] [وَرُسُلِهٖ : اور اس کے رسولوں سے ] [فَحَاسَبْنٰهَا : تو ہم نے حساب لیا ان سے ] [حِسَابًا شَدِيْدًا : جیسے سخت حساب لینے کا حق ہے ] [وَّعَذَّبْنٰهَا : اور ہم نے عذاب دیا ان کو ] [عَذَابًا نُّكْرًا : جیسے برا عذاب دینے کا حق ہے ]
Ayah 65:9[فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا : پھر انھوں نے چکھی اپنے کیے کی سزا ] [وَكَان عَاقِبَةُ اَمْرِهَا : اور ہے ان کے کام کا انجام ] [خُسْرًا : گھاٹا ]
Ayah 65:10[اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ : تیار کیا اللہ نے ان کے لیے ] [عَذَابًا شَدِيْدًا : ایک سخت عذاب ] [فَاتَّقُوا اللّٰهَ : تو تقوٰی اختیار کرو ] [يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ڂ الَّذِينَ اٰمَنُوْا : اے خالص عقل والو جو ایمان لائے ] [قَدْ انزَلَ اللّٰهُ : اتار دیا ہے اللہ نے ] [اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف ] [ذِكْرًا : ایک یاددہانی (قرآن)]
ترکیب : (آیت۔ 10) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے دو امکان ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو یٰاُولِی الْاَلْبَابِ سے متعلق مانا جائے ایسی صورت میں اس پر جملہ ختم ہوگا اور قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ سے نیا جملہ شروع ہوگا اور مطلب ہوگا اے وہم و جذبات سے پاک عقل والو جو ایمان لائے ہو۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ پہلا جملہ یٰاُولِی الْاَلْبَاب پر ختم کر کے اَلَّذِیْنَ سے نیا جملہ شروع کیا جائے۔ ایسی صورت میں اَلَّذِیْنَ سے پہلے حرفِ ندا یٰاَیُّھَا محذوف ماننا ہوگا اور مطلب ہوگا اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ نازل کرچکا ہے۔ ترجمہ میں ہم پہلی صورت کو ترجیح دیں گے۔
نوٹ۔ 1: یاولی الالباب کے بعد الذین امنو سے یہ بات نکلتی ہے کہ عقل اور ایمان میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ جو شخص عاقل ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ایمان سے بہرہ ور ہو۔ اگر کوئی شخص ایمان سے بہرہ ور نہیں ہے تو آسمان و زمین کا طول و عرض ناپنے میں وہ خواہ کتنا ہی ماہر ہو لیکن اسکی عقل میں بہت بڑا فتور ہے۔ (تدبر قرآن) ۔ مولانا اصلاحی مرحوم کی اس بات کو سمجھنے کے لیے آیت نمبر۔ 2:179 ۔ کی لغت میں مادہ ” ل ب ب “ کو دوبارہ دیکھ لیں۔ لُبّ جس کی جمع الباب ہے، خالص عقل کو کہتے ہیں، یعنی ایسی عقل جو ہر طرح کے تعصبات، توہمات، جذبات اور اسی دوسری آلائشوں سے پاک ہو۔ ایسی عقل میں اور ایمان میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ لیکن اگر کسی عقل میں مذکورہ آلائشوں میں سے کوئی آلائش یا کچھ آلائشیں داخل ہوجائیں تو پھر ایسی عقل میں فتور واقع ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ذہن میں BLIND SPOTS آجاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اس کی عقل کچھ چیزوں کو سمجھنے میں پوری طرح کام کرتی ہے لیکن کچھ چیزوں کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتی ہے یا اگر سمجھتی ہے تو یہ آلائشیں اسے ان کا اعتراف اور اقرار کرنے سے روک دیتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں اولی العقل کے بجائے ایمان لانے والوں کو اولی الالباب کہا گیا ہے۔ (مرتب)
Ayah 65:11[رَّسُوْلًا : (اور بھیج دیا ہے) ایک ایسا رسول جو ] [يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ : پڑھ کر سناتا ہے تم لوگوں کو ] [اٰيٰتِ اللّٰهِ : اللہ کی آیتیں ] [مُبَيِّنٰتٍ : واضح ہوتے ہوئے ] [لِيُخْرِجَ الَّذِينَ : تاکہ وہ نکالیں ان لوگوں کو جو ] [اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : ایمان لائے اور عمل کیے نیکیوں کے ] [مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ : اندھیروں سے نور کی طرف ] [وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ : اور جو ایمان لائے گا اللہ پر ] [وَيَعْمَلْ صَالِحًا : اور عمل کرے گا نیکی کا ] [يُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ : تو وہ داخل کرے گا اس کو ایسے باغات میں ] [تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا : بہتی ہیں جن کے دامن سے ] [الْانهٰرُ : نہریں ] [خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا : رہنے والے ہوتے ہوئے ان میں سے ہمیشہ ] [قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ : خوبی دی ہے اللہ نے ان کے لیے ] [رِزْقًا : رزق میں ]
(آیت۔ 11) رَسُوْلًا کی نصب کے متعلق ایک رائے یہ ہے کہ اس کو سابقہ آیت میں ذکرا کا بدل مانا جائے۔ ایسی صورت میں مطلب ہوگا کہ وہ ذکر خود رسول ( ﷺ) ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ رسولا کو کسی فعل محذوف کا مفعول مانا جائے۔ ترجمہ میں ہم دوسری رائے کو ترجیح دیں گے اور رسولا سے پہلے وقد ارسل محذوف مانیں گے۔
نوٹ۔ 2: مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ کا مطلب یہ ہے کہ جہانت کی تارکیوں سے علم کی روشنی میں نکال لائے۔ اس ارشاد کی پوری اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب انسان طلاق، عدت اور نفقات کے متعلق دنیا کے دوسرے قدیم اور جدید عائلی قوانین کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس تقابلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کی تبدیلیوں اور نت نئی قانون سازیوں کے باوجود آج تک کسی قوم کو ایسا معقول اور فطری اور معاشرے کے لیے فطری قانون میسر نہیں آسکا جیسا اس کتاب اور اس کے لانے والے رسول نے ڈیڑھ ہزاربرس پہلے ہم کو دیا تھا۔ یہاں اس تقابلی بحث کا موقع نہیں ہے۔ اس کا محض ایک مختصر سا نمونہ ہم نے اپنی کتاب ” حقوق الزوجین “ کے آخری حصّہ میں درج کیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 65:12[اللّٰهُ الَّذِي خَلَقَ : اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیے ] [سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمان ] [وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ : اور زمین سے ان (آسمانوں) جیسی بھی (پیدا کیں)] [يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ : اترتے ہیں تمام احکام ان کے مابین ] [لِتَعْلَمُوْٓا ان اللّٰهَ : تاکہ تم لوگ جان لو کہ اللہ ] [عَلٰي كُلِ شَيْءٍ قَدِيْرٌ: ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ] [وَّان اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ : اور یہ کہ اللہ نے احاطہ یا ہوا ہے ] [بِكُلِ شَيْءٍ عِلْمًا : ہر چیز کا بلحاظ علم کے ]
(آیت۔ 12) مثلھن میں مثل کی نصب بتارہی ہے کہ یہ خلق کا مفعول ہے۔ اس کے ساتھ جمع مؤنث کی ضمیر ھن آئی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ ضمیر الارض کے لیے نہیں ہے بلکہ سبع سموت کے لیے ہے۔
نوٹ۔ 3: مِثْلَھُنَّ (انہی کی مانند) کا مطلب یہ نہیں ہے ہ جتنے آسمان بنائے اتنی ہی زمینیں بھی بنائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے متعدد زمینیں بھی بنائی ہیں۔ وَ مِنَ الْاَرْضِ (اور زمین کی قسم سے) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ زمین جس پر انسان رہتے ہیں، اپنی موجودات کے لیے فرش اور گہوارہ بنی ہوئی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اور زمینیں بھی تیار کر رکھی ہیں جو اپنی اپنی آبادیوں کے لیے فرش اور گہوارہ ہیں بلکہ بعض مقامات پر تو قرآن میں یہ اشارہ بھی کردیا گیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین ہی پر نہیں ہیں بلکہ عالم بالا میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر سورة شورٰی آیت۔ 29 ۔ بالفاظ دیگر آسمان میں یہ جو بیشمار تارے اور سپارے نظر آتے ہیں یہ سب ویران نہیں ہیں بلکہ زمین کی طرح ان میں بھی بکثرت ایسے ہیں جن میں دنیائیں آباد ہیں۔
قدیم مفسرین میں صرف ابن عباس ایک ایسے مفسرین جنھوں نے اس دور میں اس حقیقت کو بیان کیا تھا جب آدمی اس کا تصور تک کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتا تھا کہ کائنات میں اس زمین کے سوا کہیں اور بھی ذی عقل مخلوق بستی ہے۔ آج اس زمانے کے سائنس دانوں تک کو اس کے امر واقعہ ہونے میں شک ہے، کجا کہ چودہ سو برس پہلے کے لوگ اسے باور کرسکتے ۔ اسی لیے ابن عباس عام لوگوں کے سامنے یہ بات کہتے ہوئے ڈرتے تھے۔ ان کی تفسیر یہ ہے۔ ” ان میں سے ہر زمین میں نبی ہے تمہارے نبی جیسا اور آدم ہے تمہارے آدم جیسا اور نوح ہے تمہارے نوح جیسا اور ابراہیم ہے اور تمہارے ابراہیم جیسا اور عیسیٰ ہے تمہارے عیسیٰ جیسا۔ “ امام ذہبی نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے البتہ اسے صرف ایک راوی نے روایت کیا ہے اس لیے یہ ایک شاذ روایت ہے۔ (وجہ ظاہر ہے۔ ابن عباس اسے عام طور پر بیان نہیں کرتے تھے۔ اور اغلباً سننے والے بھی اس قول کو نقل کرنے سے گریز کرتے ہوں گے۔ مرتب) بعض دوسرے علماء نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ علامہ آلوسی اپنی تفسیر میں اس قول پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ” اس کو صحیح ماننے میں نہ عقلاً کوئی چیز مانع ہے نہ شرعاً ۔ مراد یہ ہے کہ ہر زمین میں ایک مخلوق ہی جو ایک اصل کی طرف اسی طرح راجع ہوتی ہے جس طرح بنی آدم ہماری زین میں حضرت آدم کی طرف راجع ہوتے ہیں۔ ہر زمین میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو اپنے ہاں دوسروں کی بہ نسبت اسی طرح ممتاز ہیں جیسے ہمارے ہاں نوح اور ابراہیم ممتاز ہیں۔ “ آگے چل کر علامہ موصوف لکھتے ہیں ” ممکن ہے کہ زمینیں سات سے زیادہ ہوں اور اسی طرح آسمان بھی سات ہی نہ ہوں۔ سات کے عدد پر، جو عدد تام ہے، اکتفا کرنا اس بات کو متلزم نہیں کہ اس سے زائد کی نفی ہو۔ “ پھر بعض احادیث میں ایک ایک آسمان کی درمیانی مسافت جو پانچ پانچ سو برس بیان کی گئی ہے اس کے متعلق علامہ موصوف کہتے ہیں کہ اس سے مراد ٹھیک ٹھیک مسافت کی پیمائش بیان کرنا نہیں ہے بلکہ قصود بات کو اس طرح بیان کرنا ہے کہ وہ لوگوں کی سمجھ سے قریب تر ہو۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے رانڈ کارپوریشن نے فلکی مشاہدات سے ادنازہ لگایا ہے کہ زمین جس گلی کسی میں واقع ہے صرف اسی کے اندر تقریباً ساٹھ کروڑ ایسے سیارے پائے جاتے ہیں جن کے طبعی حالات ہماری زمین سے بہت کچھ ملتے جلتے ہیں اور امکان ہے کہ ان کے اندر بھی جاندار مخلوق آباد ہو۔ اکانومسٹ لندن۔ مورخہ 26 ۔ جولائی 19690 ئ۔ (تفہیم القرآن)
اوپر جس قول کا حوالہ دیا گیا ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ حضرت ابن عباس ایک VISIONARY صحابی تھے۔ ان کے اس VISION کی تصدیق ان کے ایک دوسرے قول سے بھی ہوتی ہے۔ سورة فاتحہ میں رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ میں واحد لفظ عالم کے بجائے جمع عالمین آیا ہے۔ اس کے متعلق ان کا قول ہے کہ اللہ رب ہے اس عالم کا بھی جسے ہم جانتے ہیں اور ان تمام عالموں کا جنھیں ہم نہیں جانتے۔ (مرتب)