Ayah 64:1[يُسَبِحُ للّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ : تسبیح کرتی ہے اللہ کی (ہر) وہ چیز جو آسمانوں میں ہے ] [وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور (بر) وہ چیز جو زمین میں ہے ] [لَهُ الْمُلْكُ : اس کے لیے ہی ساری بادشاہت ہے ] [وَلَهُ الْحَمْدُ : اور اس کے لیے ہی کل حمد ہے ] [وَهُوَ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : اور وہ ہر چیز پر ] [قَدِيْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے ]
Ayah 64:2[هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ : وہ، وہ ہے جس نے پیدا کیا تم کو ] [فَمِنْكُمْ كَافِرٌ: تو تم میں سے کوئی انکار کرنے والا ہے ] [وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ: اور تمہیں سے کوئی ایمان لانے والا ہے ] [وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اور اللہ اس کو جو تم لوگ کرو گے ] [بَصِيْرٌ: دیکھنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 2 ۔ میں فَمِنْکُمْ کا حرف فا تعقیب (یعنی ایک چیز کا دوسرے کے بعد ہونے) پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اول تخلیق و آفرینش میں کوئی کافر نہیں تھا۔ یہ کافرو مومن کی تقسیم بعد میں اس اختیار کے تحت ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بخشا ہے۔ اور اسی کسب و اختیار کی وجہ سے اس پر گناہ و ثواب عائد ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اولاد آدم سب ایک برادری ہے۔ اس برادری کو قطع کرنے اور ایک الگ گردہ بنانے والی چیز صرف کفر ہے۔ اس لیے پوری دنیا میں انسانوں میں گروہ بندی صرف ایمان و کفر کی بناء پر ہوسکتی ہے۔ رنگ، زبان، نسل، خاندان، وطن اور ملک میں سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو انسانی برادری کو مختلف گروہوں میں بانٹ دے۔ رنگ و زبان کے اختلاف کو قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیوں اور انسان کے لیے بہت سے فوائد پر مشتمل ہونے کی بناء پر ایک نعمت تو قرار دیا ہے مگر اس کو بنی آدم میں گروہ بندی کا ذریعہ بنانے کی اجازت نہیں دی۔ کیونکہ ایمان و کفر کی بناء پر دو قوموں کی تقسیم ایک اختیاری امر پر مبنی ہے۔ اگر کوئی شخص ایک قومیت چھوڑ کر دوسری میں شامل ہونا چاہیے، تو بڑی آسانی سے اپنے عقائد بدل کر دوسرے میں شامل ہوسکتا ہے، بخلاف نسب و خاندان یا رنگ بدل دے۔ زبان اور وطن اگرچہ بدلے جاسکتے ہیں مگر زبان و وطن کی بنیاد پر بننے والی قومیں دوسروں کو اپنے اندر جذب کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوتیں خواہ ان کی ہی زبان بولنے لگے اور ان کے وطن میں آباد ہوجائے (معارف القرآن)
Ayah 64:3[خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ : اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] [بِالْحَقِّ : حق (مقصد) کے ساتھ ] [وَصَوَّرَكُمْ : اور اس نے صورت بنائی تم لوگوں کی ] [فَاَحْسَنَ : پھر اس نے حسن دیا ] [صُوَرَكُمْ : تمہاری صورتوں کو ] [وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ : اور اس کی طرف ہی لوٹنا ہے ]
نوٹ۔ 2: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کتب آسمانی نے کبھی انسان کے پیدائشی گنہگار ہونے کا وہ تصور پیش نہیں کیا جسے ڈیڑھ ہزار سال سے عیسائیت نے اپنا بنیادی عقیدہ بنا رکھا ہے۔ آج خود کیتھولک علماء یہ کہنے لگے ہیں کہ بائبل میں اس عقیدے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ چناچہ بائبل کا ایک مشہور جرمن عالم ریورینڈ ہربرٹ ہاگ اپنی کتاب IS ORIGINAL SIN IN SCRIPTURE میں لکھتا ہے کہ ابتدائی دور کے عیسائیوں میں کم از تیسری صدی تک یہ عقیدہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا کہ انسان پیدائشی گنہگار ہے اور جب یہ خیال لوگوں میں پھیلنے لگا تو دو صدیوں تک عیسائی اہل علم اس کی تردید کرتے رہے۔ مگر آخرکار پانچویں صدی میں سینٹ آگسٹائن نے اپنی منطق کے زور سے اس بات کو مسیحیت کے بنیادی عقائد میں شامل کردیا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 64:4[يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : وہ جانتا ہے اس کو جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے ] [وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ : اور وہ جانتا ہے اس کو جو تم لوگ چھپاتے ہو ] [وَمَا تُعْلِنُوْنَ : اور اس کو جو تم لوگ علانیہ کرتے ہو ] [وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : اور اللہ جاننے والا ہے سینوں والی (بات) کو ]
Ayah 64:5[اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا پہنثی نہیں تم لوگوں کے پاس ] [نَبَؤُا الَّذِينَ كَفَرُوْا : ان لوگوں کی خبر جنھوں نے کفر کیا ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ : پھر انھوں نے چکھی اپنے کیے کی سزا ] [وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے ]
Ayah 64:6[ذٰلِكَ بِانهٗ : یہ بسبب اس حقیقت کے کہ ] [كَانتْ تَّاْتِيْهِمْ : آئے تھے ان کے پاس ] [رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ : ان کے رسول واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] [فَقَالُوْٓا : تو وہ کہتے تھے کیا ] [اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا : کچھ بشر ہدایت دیں گے ہم کو ] [فَكَفَرُوْا وَتَوَلَوْا : پھر انھوں نے انکار کیا اور منہ موڑا ] [وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ : اور بےنیازی اختیار کی اللہ نے ] [وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ: اور اللہ ہے (ہی) بےنیاز حمد کیا ہوا ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 6 ۔ یں کافروں کا قول نقل ہوا ہے کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے۔ یہ ان کی تباہی کی اولین اور بنیادی وجہ ہے۔ نوع انسانی کو دنیا میں صحیح راہ عمل اس کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتی تھی کہ اس کا خالق اسے صحیح علم دے۔ اور خالق کی طرف سے علم دیئے جانے کی عملی صورت اس کے سوا کچھ نہ ہوسکتی تھی کہ وہ انسانوں ہی میں سے بعض افراد کو علم عطا کر کے دوسروں تک اسے پہنچانے کی خدمت سپرد کر دے۔ اس غرض کے لیے اس نے انبیاء کو بینات کے ساتھ بھیجا تاکہ لوگوں کے لیے ان کے برحق ہونے میں شک کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ رہے۔ مگر انھوں نے سرے سے یہی ماننے سے انکار کردیا کہ بشر خدا کا رسول ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے ہدایت پانے کی کوئی صورت باقی نہ رہی۔
اس معاملہ میں گمراہ انسانوں کی جہاتل و نادانی کا یہ عجیب کرشمہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ بشر کی رہنمائی قبول کرنے میں تو انھوں نے کبھی تامل نہیں کیا ہے، حتیٰ کہ انہی کی رہنمائی میں لکڑی اور پتھر کے بتوں تک کو معبود بنایا۔ خود انسانوں کو خدا اور خدا کا اوتار اور خدا کا بیٹا تک مان لیا۔ گمراہ کن لیڈروں کی اندھی پیروی میں ایسے ایسے عجیب مسلک اختیار کیے جنھوں نے انسانی تہزیب و تمدن اور اخلاق کو تلپٹ کر کے رکھ دیا۔ مگر جب خدا کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے تو انھوں نے کہا : ” کیا اب بشر ہمیں ہدایت دیں گے۔ “ اس کے معنیٰ یہ تھے کہ بشر اگر گمراہ کرے تو سر آنکھوں پر لیکن اگر وہ راہ راست دکھاتا ہے تو اس کی رہنمائی قابل قبول نہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 64:7[زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوْٓا : یقینی جانا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ] [ان لَّنْ يُّبْعَثُوْا : کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ] [قُلْ بَلٰى: آپ کہیے کیوں نہیں ] [وَرَبِيْ : میرے رب کی قسم ] [لَتُبْعَثُنَّ : تم لوگ لازماً اٹھائے جائو گے ] [ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ : پھر تم لوگوں کو لازماً باخبر کیا جائے گا ] [بِمَا عَمِلْتم : اس سے جو تم نے عمل کیا ] [وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ: اور یہ اللہ پر آسان ہے ]
نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت۔ 7 ۔ میں یہ تیسرا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا ہے کہ اپنے رب کی قسم کھا کر لوگوں سے کہو کہ ضرور ایسا ہو کر رہے گا۔ پہلے سورة یونس کی آیت۔ 53 ۔ میں سورة سبا کی آیت۔ 3 ۔ میں اور اب اس آیت میں۔ سوال یہ ہے کہ ایک منکر آخرت کے لیے اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ اسے آخرت کی خبر قسم کھا کردیں کیا قسم کھائے بغیر دیں۔ وہ جب نہیں مانتا تو اس بنا پر کیسے مان لے گا کہ آپ قسم کھا کر اس سے یہ بات کہہ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مخاطب وہ لوگ تھے جو اپنے علم اور تجربہ کی بنا پر یہ بات خوب جانتے تھے کہ انھوں نے کبھی عمر بھر جھوٹ نہیں بولا۔ اس لیے خواہ زبان سے وہ آپ کے خلاف کیسے بھی بہتان گھڑتے رہے ہوں اپنے دل میں وہ یہ تصور نہیں کرسکتے تھے کہ ایسا سچا انسان کبھی خدا کی قسم کھا کر وہ بات کہہ سکتا ہے جس کے برحق ہونے کا اسے یقین نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ نبی کا مقام ایک فلسفی کے مقام سے بالاتر ہے۔ نبی کی اصلی حیثیت یہ نہیں ہے کہ عقلی استدلال سے وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہو کہ آخرت ہونی چاہیے۔ بلکہ اس کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اس بات کا علم رکھتا ہے کہ آخرت ہوگی اور یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ وہ ضرور ہو کر رہے گی۔ اس لیے ایک نبی ہی قسم کھا کر یہ بات کہہ سکتا ہے اور ایک فلسفی اس پر قسم نہیں کھا سکتا۔ فلسفی اگر صحیح الفکر فلسفی ہو تو وہ ” ہونا چاہیے “ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ” ہے اور یقینا ہے “ کہنا صرف نبی کا کام ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 64:8[فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : پس تم لوگ ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر ] [وَالنُّوْرِ الَّذِيٓ انزَلْنَا : اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ] [وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اور اللہ اس سے جو تم لوگ کرتے ہو ] [خَبِيْرٌ: باخبر ہے ]
Ayah 64:9[يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ : جس دن وہ جمع کرے گا تم لوگوں کو ] [لِيَوْمِ الْجَمْعِ : جمع کیے جانے کے دن کے لیے ] [ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ : وہ نفع نقصان (کے ظہور) کا دن ہوگا ] [وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ : اور ایمان لائے گا اللہ پر ] [وَيَعْمَلْ صَالِحًا : اور عمل کرے گا نیک ] [يُّكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّاٰتِهٖ : تو وہ دور کر دے گا اس سے اس کی برائیوں کو ] [وَيُدْخِلْهُ : اور وہ داخل کرے گا اس کو ] [جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْانهٰرُ : بہتی ہوں گی جن کے دامن میں نہریں ] [خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ : ایک حالت میں رہنے والے ہوتے ہوئے ان میں ] [اَبَدًا : ہمیشہ ہمیش ] [ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : یہ ہی شاندار کامیابی ہے ]
غ ب ن
[غَبْنًا : (ن) ] وَ غَبَنًا کاروبار میں دھوکہ دے کر اپنا پلہ بھاری کرلینا۔ کسی کو نقصان پہنچانا۔
[غَبَنًا : (س) ] وَ غَبْنًا ذہانت کا کم ہونا۔ ضعیف الرائے ہونا۔
(تفاعل) تَغَابُنًا معاملات میں بعض کا بعض کو نقصان پہنچانا۔ کسی کا کسی کے مقابلہ میں غافل یا ضعیف الرائے ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9
نوٹ۔ 2: تغابن غبن سے مشتق ہے جس کے معنیٰ خسارے اور نقصان کے ہیں۔ مالی نقصان کو بھی غبن کہتے ہیں اور رائے اور عقل کے نقصان کو بھی۔ لفظ تغابن کا مطلب ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو اور دوسرا اس کو نقصان پہنچائے یا اس کے نقصان کو ظاہر کرے۔ قیامت کو یوم تغابن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ احادیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے آخرت میں دوگھر پیدا کیے ہیں، ایک جہنم میں دوسرا جنت میں۔ اہل جنت کو جنت میں داخل کرنے سے پہلے ان کا وہ مقام بھی دکھایا جائے گا جو ایمان و عمل نہ ہونے کی صورت میں ان کے لیے مقرر تھا تاکہ اس کو دیکھنے کے بعد جنت کے مقام کی اور زیادہ قدر ان کے دل میں پیدا ہو، اور اللہ تعالیٰ کا مزید شکرگزار ہو۔ اسی طرح اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرنے سے پہلے ان کا جنت کا وہ مقام دکھلایا جائے گا جو ایمان اور عمل صالح کی صورت میں ان کے لیے مقرر تھا تاکہ ان کو اور زیادہ حسرت ہو۔ ان روایات میں یہ بھی ہے کہ پھر جنت میں جو مقامات اہل جہنم کے تھے وہ بھی اہل جنت کو مل جائیں گے اور جہنم میں جو مقامات اہل جنت کے تھے وہ اہل جہنم کے حصے میں آئیں گے۔ اس وقت کفار اور فجار کو اپنے غبن اور خسارے کا احساس ہوگا کہ کیا چھوڑا اور کیا پایا۔
بہت سے ائمۂ تفسیر نے فرمایا کہ اس دن غبن اور خسارے کا احساس صرف کفار اور فجار ہی کو نہیں بلکہ مؤمنین صالحین کو بھی ہوگا کہ کاش ہم عمل اور زیادہ کرتے تاکہ جنت کے مزید درجات حاصل کرتے۔ اس روز ظالم اور بدعمل لوگ اپنی تقصیرات پر حسرت کریں گے اور مومنین نے عمل میں جو کوتاہی کی ہے اس پر ان کو حسرت ہوگی۔ اس طرح قیامت کے روز سبھی اپنی اپنی کوتاہی پر نادم اور عمل کی کمی پر غبن و خسارہ کا احساس کریں گے اس لیے اس کو یوم التغابن کہا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا اور پوری مجلس میں اللہ کا ذکر نہ کیا تو یہ مجلس قیامت کے روز اس کے لیے حسرت بنے گی۔ (معارف القرآن)
Ayah 64:10[وَالَّذِينَ كَفَرُوْا : اور جنھوں نے انکار کیا ] [وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ : اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو ] [اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَارِ : وہ لوگ آگ والے ہیں ] [خٰلِدِيْنَ فِيْهَا : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ] [وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور بہت بری ہے (وہ) لوٹنے کی جگہ ]
Ayah 64:11[مَآ اَصَابَ : نہیں آ لگتی ] [مِنْ مُّصِيْبَةٍ : کوئی بھی آ لگنے والی (مصیبت)] [اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : مگر اللہ کی اجازت سے ] [وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ : اور جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر ] [يَهْدِ قَلْبَهٗ : تو وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو ] [وَاللّٰهُ بِكُلِ شَيْءٍ عَلِيْمٌ: اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 11 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ مصائب کے وقت جو چیز انسان کو راہ راست پر قائم رکھتی ہے اور اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتی، وہ صرف ایمان باللہ ہے۔ جس کے دل میں ایمان نہ ہو وہ آفات کو اتفاقات کا نتیجہ سمجھتا ہے، یا دنیوی طاقتوں کو ان کے لانے اور روکنے میں مؤثر مانتا ہے، یا انھیں ایسی خیالی طاقتوں کا عمل سمجھتا ہے جنھیں انسانی اوہام نے نفع و ضرر پہنچانے پر قادر فرض کرلیا ہے، یا خدا کو فاعل مختار مانتا تو ہے مگر صحیح (پکے) ایمان کے ساتھ نہیں مانتا۔ ان تمام صورتوں میں آدمی کم ظرف ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک خاص حد تک تو وہ مصیبت سہہ لیتا ہے، لیکن اس کے بعد وہ گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ ہر آستانے پر جھک جاتا ہے۔ ہر ذلت قبول کرلیتا ہے۔ ہر غلط کام کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص یہ جانتا اور سچے دل سے مانتا ہو کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اسی کے اذن سے مصیبت آتی اور اسی کے حکم سے ٹل سکتی ہے، اس کے دل کو اللہ تعالیٰ صبر اور تسلیم و رضا کی توفیق دیتا ہے۔ اس کو عزم اور ہمت کے ساتھ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت بخشتا ہے اور بڑی سے بڑی آفت بھی اس کو راہ راست سے بٹانے نہیں پاتی۔ اس طرح ہر مصیبت اس کے لیے نتیجہ کے اعتبار سے سراسر رحمت بن جاتی ہے۔ کیونکہ خواہ وہ اس کا شکار ہو کر رہ جائے یا اس سے بخیریت گزر جائے، دونوں صورتوں میں وہ اپنے رب کی ڈالی ہوئی آزمائش سے کامیاب ہو کر نکلتا ہے۔ اسی چیز کو رسول اللہ ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اللہ اس کے حق میں جو بھی فیصلہ کرتا ہے وہ اس کے لیے اچھا ہی ہوتا ہے۔ مصیبت پڑے تو صبر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ خوشحالی میسر آئے تو شکر کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے اچھا ہی ہوتا ہے۔ یہ بات مومن کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 64:12[وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ : اور تم لوگ اطاعت کرو اللہ کی ] [وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ : اور تم لوگ اطاعت کرو ان رسول کی ] [فَان تَوَلَّيْتم : پھر اگر تم لوگوں نے منہ موڑا ] [فَانمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا : تو ہمارے رسول پر تو بس ] [الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : واضح طور پر پہنچا دینا ہے ]
Ayah 64:13[اللّٰهُ : اللہ (وہ ہے کہ)] [لَآ اِلٰهَ : کوئی بھی اِلٰہ نہیں ] [اِلَّا هُوَ : سوائے اس کے ] [وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر بھی ] [فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ : چاہیے کہ توکل کریں مومن لوگ ]
نوٹ۔ 2: زیر مطالعہ آیات۔ 11 تا 13 ۔ میں جو ہدایات ہمیں دی گئیں ہیں ان کو اب ایک اور پہلو سے سمجھنا ہے۔ اس کے لیے پہلے ایک اصولی بات سمجھ لیں۔ ہماری زندگی میں کچھ حالات و واقعات ہوتے ہیں جو ہم پر ٹپک پڑتے ہیں۔ ان کے واقع ہونے میں نہ تو ہمارا کوئی عمل دخل ہوتا ہے اور نہ ان پر ہمارا کوئی اختیار ہوتا ہے۔ یہ حالات خوشگوار بھی ہوتے ہیں اور ناگوار بھی۔ دوسری طرف ہماری زندگی میں کچھ اعمال ہوتے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ ان اعمال کے ظہور پذیر ہونے میں ہمارے غور و فکر، نیت و ارادہ اور کوشش کا عمل دخل ہوتا ہے۔ ان کو کرنے یا نہ کرنے کا ہم کو اختیار ہوتا ہے، یہ اعمال کامیاب بھی ہوتے ہیں اور ناکام بھی۔ ہماری زندگی کے یہ دو الگ الگ دائرے ہیں، ان کو آپس میں گڈمڈ کردینے کے نتیجے میں ذہن الجھ جاتا ہے اور اکثر ہم غلط نتائج اخذ کرلیتے ہیں۔ اس لیے اس فرق کو ایک مثال سے سمجھ لیں۔
فرض کریں بیرون ملک سے ایک تاجر آئے ہوئے ہیں۔ صبح دس بجے ان سے ملاقات کا وقت طے ہے۔ آپ کو یقین ہے کہ اس ملاقات سے آپ کے کاروبار میں ترقی ہوگی۔ مکمل تیاری کے ساتھ آپ اسی ہوٹل کے لیے روانہ ہوتے ہیں جس میں وہ تاجر ٹھہرا ہوا ہے۔ راستہ میں سڑک پر کوئی حادثہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہے اور آپ بھی اس میں پھنس جاتے ہیں۔ جب راستہ کھلا اور آپ آدھا گھنٹہ تاخیر سے ہوٹل پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ تاجر آپ کا انتظار کر کے کہیں جا چکا ہے۔ یہ آپ پر ٹپک پڑنے والا ایک واقعہ ہے۔ اس پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ تاجر کی پاکستان آمد سے باخبر ہونا، اس سے ملاقات کا وقت حاصل کرنا، مکمل تیاری کے ساتھ ٹھیک وقت پر روانہ ہونا، یہ سب آپ کا اختیاری عمل تھا۔ ٹریفک جام ہونا وارد شدہ تقدیری واقعہ ہے۔ اس تقدیری واقعہ کے وارد ہونے کے بعد رنج و غم میں سارا دن ضائع کریں گے یا خود کو سنبھال کر اس دن کے باقی کام خوش اسلوبی سے سرانجام دیں گے، یہ آپ کا عمل ہوگا، اسکا تقدیر سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
اب آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہم پر وارد ہونے والے تقدیری حالات و واقعات اور ہماری اختیاری سعی و جہد کا دائرہ الگ الگ تو ہے لیکن عموماً یہ ایک دوسرے سے متصل ہوتے ہیں اور زیادہ تر ان کے مابین سبب اور علت CAUSE AND EFFECT کا تعلق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ بےاحتیاطی میں انھیں آپس میں گڈ مڈ کردیتے ہیں۔ اگر تھوڑی سی شعوری کوشش کی جائے تو ان میں فرق کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اس لیے یہ بات کبھی نہ بھولیں کہ ہم پر وارد ہونے والے حالات و واقعات ہماری تقدیر کا حصہ ہیں۔ انھیں وارد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن ان واقعات کے نتیجے میں ہماری زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا تعلق ہمارے عمل سے ہے۔ اس لیے وہ اثرات ہماری تقدیر کا حصہ نہیں ہیں۔ (جینے کا سلیقہ خط و کتابت کورس، حصہ چہارم صفحہ 64 تا 66 سے ماخوذ)
اس حوالے سے اب یہ نوٹ کریں کہ آیت۔ 11 ۔ میں تقدیری معاملات کے لیے ہدایت ہے۔ یہاں پر ایمان باللہ سے مراد ہے اللہ کی ربوبیت پر دل کا جم جانا۔ وہ ہماری پرورش کرنے والا ہے۔ وہ ہماری ضروریات کو ہم سے زیادہ جانتا ہے اور ہم سے بڑھ کر ہمارا خیر خواہ ہے۔ اس کے ہاتھ میں کل خیر ہے۔ اس لیے جو کچھ ہوا ہے اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ جس کے دل م میں یہ یقین ہوگا، اللہ تعالیٰ اس کے دل کو تسلیم و رضا کی ہدایت دے گا۔ جب دل کو یہ ہدایت ملے گی تب بندہ تاجر سے ملاقات نہ ہونے میں اپنی خیر سمجھے گا اور غم و غصہ میں مبتلا ہونے کے بجائے اس دن کے بقیہ کام خوش اسلوبی سے سرانجام دے کہ اس دن کو ضائع ہونے سے بچا لے گا۔ آگے آیات۔ 12 ۔ 13 ۔ میں یہ ہدایات کا تعلق ہمارے عمل کے دائرے سے باہر ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ کوئی بھی کوشش کرتے وقت یہ فکر کرنا لازمی ہے کہ کسی چیز سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے، کیا چیز مباح ہے اور کیا چیز اجر و ثواب کا باعث ہے۔ جس چیز سے منع کیا گیا ہے اس سے بچنا ضروری ہے۔ اطاعت کرنے کا یہی مطلب ہے۔ اس ضمن میں دوسری ہدایت یہ ہے کہ کوشش کے نتیجہ کے لیے بھروسہ اور توکل صرف اللہ پر کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں کوشش کرنے کا تو پابند کیا گیا ہے لیکن اس کے نتیجے کو اللہ تعالیٰ نے کلیۃً اپنے قبضہ میں رکھا ہے۔ نتیجہ پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہماری کوشش کا نتیجہ نکلے گا یا نہیں، کتنا نکلے گا اور کب نکلے گا، یہ سب فیصلے اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ اور چونکہ وہ ہمارا رب ہے اس لیے اس کا ہر فیصلہ ہماری بہتری کے لیے ہوتا ہے۔ دل میں یہ یقین ہوگا تو اللہ تعالیٰ ہمارے دل کو ہدایت دے گا۔
Ayah 64:14[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ] [ان مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ : یقینا تمہارے جوڑوں میں سے اور تمہاری اولادوں میں سے ] [عَدُوًّا لَكُمْ : کچھ دشمن ہیں تمہارے (ایمان) کے لیے ] [فَاحْذَرُوْهُمْ : پس تم لوگ محتاط رہو ان سے ] [وَان تَعْفُوْا : اور اگر تم لوگ درگزر کرو ] [وَتَصْفَحُوْا : اور نظر انداز کرو ] [وَتَغْفِرُوْا : اور معاف کرو ] [فَان اللّٰهَ : تو بیشک الہ (بھی)] [غَفُوْرٌ: بےانتہا معاف کرنے والا ہے ] [رَّحِيْمٌ: ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
نوت۔ 3: آیت۔ 14 ۔ میں ایک بہت بڑی آزمائش سے متنبہ فرمایا ہے۔ یہ بیوی بچوں کی محبت ہے۔ یہ محبت ہے تو ایک فطری چیز لیکن ساتھ ہی یہ انسان کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ اگر آدمی کا علم و ایمان پختہ نہ ہو تو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس پر بیوی بچوں کی محبت اس قدر غالب آجائے کہ وہ خدا کی محبت کو نظر انداز کر بیٹھے حالانکہ یہ چیز اس کے ایمان کو غارت کردینے والی ہے۔ آیت میں لفظ من سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص کے بیوی بچے لازماً اللہ کی راہ سے روکنے والے ہوں۔ بہتوں کے بیوی بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو راہ حق میں مزاحم ہونے کے بجائے معاون ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کے اہل و عیال ایسے نہیں ہیں تو اس کو چاہیے کہ وہ ان سے محتاط رہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ جس کو اس طرح کی آزمائش سے سابقہ پیش آئے اس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی فتنہ میں پڑنے سے تو بچائے اور اپنے قول و عمل سے اپنے اہل و عیال کی اصلاح کی کوشش کرے لیکن جب تک کفر و ایمان کا کوئی سوال پیدا نہ ہو اس وقت تک ان سے قطع تعلق نہ کرے بلکہ عفو و درگزر سے کام لے۔ گویا ان کے ساتھ زندگی تو گزارے لیکن گھل مل کر نہیں بلکہ بچ بچا کر اس طرح کہ خود بھی محفوظ رہے اور ان کی بھی اصلاح ہو۔ (تدبر قرآن)
Ayah 64:15[انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ : تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ] [فِتْنَةٌ: ایک آزمائش ہیں ] [وَاللّٰهُ : اور اللہ (ہے کہ)] [عِنْدَهٗٓ: اس ہی کے پاس ] [اَجْرٌ عَظِيْمٌ: شاندار اجر ہے ]
Ayah 64:16[فَاتَّقُوا اللّٰهَ : پس تم لوگ تقوٰی اختیار کرو اللہ کا ] [مَا : اتنا جو ] [اسْتَطَعْتم : تم صلاحیت رکھتے ہو ] [وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَانفِقُوْا : اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو ] [خَيْرًا لِانفُسِكُمْ : بھلائی ہوتے ہوئے تمہاری اپنی جانوں کے لیے ] [وَمَنْ يُّوْقَ : اور جس کو بچا لیا گیا ] [شُحَّ نَفْسِهٖ : اس کے جی کے لالچ سے ] [فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : تو وہ لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں ]
Ayah 64:17[ان تُقْرِضُوا اللّٰهَ : اگر تم لوگ قرض دو اللہ کو ] [قَرْضًا حَسَنًا : جیسے خوبصورت قرض دینے کا حق ہے ] [يُّضٰعِفْهُ لَكُمْ : تو وہ ضرب دے گا اس کو تمہارے لیے ] [وَيَغْفِرْ لَكُمْ : اور وہ بخش دے گا تم کو ] [وَاللّٰهُ شَكُوْرٌ: اور اللہ انتہائی قدردان ہے ] [حَلِيْمٌ: ہمیسہ تحمل کرنے والا ہے ]
Ayah 64:18[عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ : (وہ) غائب اور موجودہ کا جاننے والا ہے ] [الْعَزِيْزُ : بالادست ہے ] [الْحَكِيْمُ : حکمت والا ہے ]