63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

اے نبیؐ، جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں "ہم گواہی دیتے ہیں کہ آ پ یقیناً اللہ کے رسول ہیں" ہاں، اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اُس کے رسول ہو، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں

[اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ : جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق لوگ ] [قَالُوْا : تو وہ کہتے ہیں (کہ)] [نَشْهَدُ انكَ : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ] [لَرَسُوْلُ اللّٰهِ : یقینا اللہ کے رسول ہیں ] [وَاللّٰهُ يَعْلَمُ : اور اللہ جانتا ہے ] [انكَ لَرَسُوْلُهٗ : کہ آپ یقینا اس کے رسول ہیں ] [وَاللّٰهُ يَشْهَدُ : اور اللہ گواہی دیتا ہے ] [ان الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ : کہ منافق لوگ یقینا جھوٹے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 1) عام قاعدہ یہ ہے کہ اِنَّ جملہ کے شروع میں آتا ہے اور اَنَّ جملہ کے درمیان میں آتا ہے۔ اس کا ایک استثنا ہم پڑھ چکے ہیں کہ قَالَ یا اس کے مشتقات سے شروع ہونے والے جملوں کے درمیان میں اِنَّ آتا ہے لیکن ایسی صورت میں اِنَّ کے معنی ” بیشک “ نہیں بلکہ ” کہ “ ہوتے ہیں، (دیکھیں آیت نمبر۔ 2:25، نوٹ۔ 2) ۔ اب آیت زیر مطالعہ میں اس قاعدے کا دوسرا استثنا آیا ہے۔ اس آیت میں نَشْھَدُ ۔ یَعْلَمْ اور یَشْھَدُ تینوں افعال کے بعد اِنَّ کے بجائے اَنَّ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر پر اگر لام تاکید آ رہا ہو تو پھر جملے کے درمیان میں اَنَّ کے بجائے اِنَّ آتا ہے اور ایسی صورت میں بھی اس کا ترجمہ ” کہ “ ہی کیا جاتا ہے۔ نوٹ۔ 1: جس خاص واقعہ کے بارے میں یہ سورة نازل ہوئی ہے اس کا ذکر کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مدینہ کے منافقین کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے، کیونکہ جو واقعہ اس موقع پر پیس آیا تھا وہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہ تھا، بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا سلسلۂ واقعات تھا۔ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اوس اور خزرج کے قبیلے آپس کی خانہ جنگیوں سے تھک کر ایک شخص کی قیادت پر متفق ہوچکے تھے اور اس کو اپنا بادشاہ بنا کر باقاعدہ اس کی تاجپوشی کرنے والے تھے۔ یہ شخص قبیلہ خزرج کا رئیس عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس صورتحال میں اسلام کا چرچا مدینے پہنچا اور دونوں قبیلوں کے بااثر لوگ مسلمان ہونا شروع ہوگئے۔ اس کے بعد جب حضور ﷺ مدینے پہنچے تو انصار کے ہر گھرانے میں اسلام اتنا پھیل چکا تھا کہ عبد اللہ بن ابی بےبس ہوگیا اور اس کو اپنی سرداری بچانے کے لیے اس کے سوا کوئی صورت نظر نہ آئی کہ خود بھی مسمان ہوجائے۔ چناچہ وہ اپنے ان بہت سے ساتھیوں کے ساتھ، جن میں دونوں قبیلوں کے سردار شامل تھے، داخل اسلام ہوگیا۔ حالانکہ ان سب کے دل جل رہے تھے۔ خاص طور پر عبد اللہ ابن ابی کو اس بات کا سخت غم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔ کئی سال تک اس کا یہ منافقانہ ایمان اور بادشاہت چھن جانے کا یہ غم طرح طرح کے غم دکھاتا رہا۔ 1 ۔ جنگ بدر کے بعد جب بنی قینقاع کی بلااشتعال سرکشی پر رسول اللہ ﷺ نے ان پر چڑھائی کی تو یہ شخص ان کی حمایت پر اٹھ کھڑا ہوا اور حضور ﷺ کی زرہ پکڑ کر کہنے لگا کہ یہ سات سو مردانِ جنگی جو ہر شخص کے قابلے پر میرا ساتھ دیتے رہے ہیں، آپ ایک دن میں انھیں ختم کر ڈالنا چاہتے ہیں۔ خدا کی قسم میں آپ کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ میرے ان حلیفوں کو معاف نہ کردیں۔ 2 ۔ جنگ احد کے موقع پر قریش تین ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر چڑھ آئے تھے اور رسول اللہ ﷺ صرف ایک ہزار آدمی لے کر مدافعت کے لیے نکلے تھے۔ اس وقت یہ منافق تین سو آدمی توڑ لایا اور حضور ﷺ کو صرف سات سو کی جمیعت کے ساتھ تین ہزار دشمنوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اس کے بعد مدینہ کے مسلمانوں کو معلوم ہوگیا کہ یہ شخص قطعی منافق ہے اور اس کے وہ ساتھی بھی پہچان لیے گئے و منافقت میں اس کے شریک کار تھے۔ 3 ۔ پھر 4 ھ میں غزوئہ بنی نضیر پیش آیا۔ اس موقع پر اس شخص نے اور اس کے ساتھیوں نے اور بھی زیادہ کھل کر اسلام کے دشمنوں کی حمایت کی۔ ایک طرف رسول اللہ ﷺ یہودی دشمنوں سے جنگ کی تیاری کر رہے تھے اور دوسری طرف یہ منافقین یہودیوں کو پیغام بھیج رہے تھے کہ ڈٹے رہو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اس خفیہ ساز باز کا راز اللہ تعالیٰ نے کھول دیا جیسا کہ سورة حشر کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔ اس کی اور اس کے ساتھیوں کی اتنی پردہ دری ہوجانے کے باوجود رسول اللہ ﷺ اس کے ساتھ درگزر کا معاملہ فرماتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اوس اور خزرج کے بہت سے سردار اس کے حامی تھے اور مدینہ کی آبادی میں کم از کم ایک تہائی تعداد اس کے ساتھیوں کی موجود تھی، جیسا کہ غزوئہ احد کے موقع پر ظاہر ہوچکا تھا۔ ایسی حالت میں یہ کسی طرح مناسب نہیں تھا کہ باہر کے دشمنوں سے لڑائی کے ساتھ ساتھ اندر کے ان دشمنوں سے بھی جنگ مول لی جائے۔ اسی بنا پر ان کی منافقت کا حال جانتے ہوئے بھی آپ ایک مدت تک ان کے ساتھ ان کے ظاہری دعوائے ایمان کے لحاظ سے معاملہ فرماتے رہے۔ اس سبب سے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو غزوہ بنی مصطلق میں شامل ہونے کا موقع مل گیا اور اس مہم میں دو عظیم فتنے اٹھائے۔ ان میں ایک فتنہ وہ تھا جس کا ذکر سورة نور میں گزر چکا ہے۔ (یعنی بی بی عائشہ پر بہتان لگانے کا فتنہ) اور دوسرا فتنہ یہ ہے جس کا اس سورة میں ذکر کیا گیا ہے۔ بنی مصطلق کو شکست دینے کے بعد لسکر ایک بستی میں ٹھہرا ہوا تھا۔ وہاں کنویں پر پانی بھرنے میں دو صحابیوں کا جھگڑا ہوگیا۔ ان ایک حضرت عمر کے ملازم تھے اور دوسرے ایک انصاری تھے۔ زبانی ترش کلامی سے گزر کر نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی تو دونوں نے اپنے اپنے قبیلوں کو مدد کے لیے پکارا۔ قریب تھا کہ انصار اور مہاجر آپس میں لڑ پڑتے لیکن یہ شور سن کر رسول اللہ ﷺ نکل آئے اور آپ نے فرمایا کہ یہ جاہلیت کی پکار کیسی۔ تم لوگ کہاں اور یہ جاہلیت کی پکار کہاں۔ اسے چھوڑ دو ۔ یہ بری گندی چیز ہے۔ اس پر دونوں طرف سے صالح لوگوں نے آگے بڑھ کر معاملہ رفع دفع کرا دیا۔ اس کے بعد منافقین عبد اللہ بن ابی کے پاس پہنچے۔ اس نے کہا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے۔ تم نے ان لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دی، ان پر اپنے مال تقسیم کیے، اب یہ پھل پھول کر خود ہمارے ہی حریف بن گئے ہیں۔ تم لوگ ان سے ہاتھ روک لو تو یہ چلتے نظر آئیں۔ خدا کی قسم مدینہ واپس پہنچ کر ہم میں سے جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو نکال دے گا۔ اس مجلس میں حضرت زید بن ارقم بھی موجود تھے جو اس وقت ایک کم عمر لڑکے تھے۔ انھوں نے اپنے چچا سے اس کا ذکر کیا۔ ان کے چچا نے جو انصار کے رئیسوں میں سے تھے، جا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کردیا۔ آپ نے عبد اللہ ن ابی کو بلا کر پوچھا تو وہ قسمیں کھانے لگا کہ میں نے یہ باتیں ہرگز نہیں کیں۔ مگر حضور حضرت زید کو بھی جانتے تھے اور عبد اللہ بن ابی کو بھی، اس لیے آپ سمجھ گئے کہ اصل بات کیا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ بات تمام انصار میں پھیل گئی اور ان میں عبد اللہ بن ابی کے خلاف سخت غصہ پیدا ہوگیا۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ آکر رسول اللہ ﷺ سے معافی مانگو لیکن اس نے انکار کردیا۔ یہ تھے وہ حالات جن میں یہ سورت نازل ہوئی۔
Ayah 63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اِس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دنیا کو روکتے ہیں کیسی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں

[اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانهُمْ : انھوں نے بنایا اپنی قسموں کو ] [جُنَّةً : ایک ڈھال ] [فَصَدُّوْا : پھر وہ روکتے ہیں (لوگوں کو)] [عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کے راستہ سے ] [انهُمْ : بیشک وہ لوگ (ہیں کہ)] [سَاۗءَ مَا : برا ہے وہ جو ] [كَانوْا يَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے رہتے ہیں ]
Ayah 63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے

[ذٰلِكَ بِانهُمْ : یہ اس سبب سے ہے کہ یہ لوگ ] [اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا : ایمان لائے پھر انھوں نے انکار کیا ] [فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : تو ٹھپہ لگا دیا گیا ان کے دلوں پر ] [فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ : نتیجۃً وہ سمجھتے نہیں ہیں ]
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اِنہیں دیکھو تو اِن کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیے گئے ہوں ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں یہ پکے دشمن ہیں، ان سے بچ کر رہو، اللہ کی مار ان پر، یہ کدھر الٹے پھرائے جا رہے ہیں

[وَاِذَا رَاَيْتَهُمْ : اور جب کبھی آپ دیکھتے ہیں ان کو ] [تُعْجبكَ اَجسامُهُمْ : تو دلکش لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم ] [وَان يَّقُوْلُوْا : اور اگر وہ لوگ کہتے ہیں (کچھ)] [تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ : تو آپ سنتے ہیں ان کی بات کو ] [كَانهُمْ : جیسے کہ وہ لوگ ] [خُشُبٌ: ایسی موٹی لکڑیاں ہیں جو ] [مُّسَنَّدَةٌ: نیک دی ہوئی ہیں ] [يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ : وہ لوگ گمان کرتے ہیں ہر چنگھاڑ کو ] [عَلَيْهِمْ : اپنے پر ہی (پڑنے والی)] [هُمُ الْعَدُوُّ : وہلوگ ہی دشمن ہیں ] [فَاحْذَرْهُمْ : تو آپ محتاط رہیں ان سے ] [قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ : ہلاک کرے ان کو اللہ ] [انٰى يُؤْفَكُوْنَ : کہاں سے پھیر دیئے جاتے ہیں ] س ن د [سُنُوْدًا : (ن) ] بھروسہ کرنا۔ سہارا لینا۔ (تفصیل) تَسْنِیْدًا مضبوط کرنا۔ سہارا دینا۔ مُسَنَّدٌ اسم المفعول ہے۔ سہارا دیا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 (آیت۔ 4) فعل ماضی کبھی خبریہ کے بجائے دعائیہ بھی ہوتا ہے جیسے یہاں قَاتَلَھُمْ دعائیہ ہے۔ اردو محاورہ کی وجہ سے دعائیہ افعال ماضی کا ترجمہ اردو کے فعل سے کیا جاتا ہے۔ (دیکھیں آیت 2:72، نوٹ۔ 2)
Ayah 63:5

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت کی دعا کرے، تو سر جھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رکتے ہیں

[وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ : اور جب بھی کہا جاتا ہے ان سے ] [تَعَالَوْا : تم لوگ آئو ] [يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ : تو مغفرت مانگیں گے تمہارے لیے ] [رَسُوْلُ اللّٰهِ : اللہ کے رسول ] [لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ : تو وہ لوگ مٹکاتے ہیں اپنے سروں کو ] [وَرَاَيْتَهُمْ يَصُدُّوْنَ : اور آپ دیکھتے ہیں ان کو رکتے ہوئے ] [وَهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ : اس حال میں کہ وہ بڑائی چاہنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 63:6

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

اے نبیؐ، تم چاہے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، ان کے لیے یکساں ہے، اللہ ہرگز انہیں معاف نہ کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا

[سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ : برابر ہے ان پر ] [اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ : خواہ آپ استغفار کریں ان کے لیے ] [اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ : یا آپ استغفار نہ کریں ان کے لیے ] [لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ : ہرگز معاف نہیں کرے گا اللہ ان کے لیے (ان کے گناہوں کو)] [ان اللّٰهَ لَا يَهْدِي : بیشک اللہ ہدایت نہیں دیتا ] [الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانی کرنے والی قوم کو ]
Ayah 63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کر دو تاکہ یہ منتشر ہو جائیں حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں

[هُمُ الَّذِينَ يَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ ہی وہ ہیں جو کہتے ہیں ] [لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ : تم لوگ خرچ مت کرو ان پر جو ] [عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ : اللہ کے رسول کے پاس ہیں ] [حَتّٰى يَنْفَضُّوْا : یہاں تک کہ وہ لوگ منتشر ہوجائیں ] [وَللّٰهِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : حالانکہ اللہ ہی کے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے ] [وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَهُوْنَ : اور لیکن منافق لوگ سمجھتے نہیں ہیں ]
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں

[يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ : وہ لوگ کہتے ہیں بیشک اگر ہم لوٹے ] [اِلَى الْمَدِيْنَةِ : مدینہ کیطرف ] [لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ : تو لازماً نکالے گا زیادہ باعزت ] [مِنْهَا الْاَذَلَّ : اس سے زیادہ ذلیل کو ] [وَللّٰهِ الْعِزَّةُ : حالانکہ اللہ ہی کے لیے ہے کل عزت ] [وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ : اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان لانے والوں کے لیے ] [وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ : اور لیکن منافق لوگ جانتے نہیں ہیں ]
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ : اے لوگو جو ایمان لائے تم لوگوں کو غافل نہ کریں ] [اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ : تمہارے مال اور نہ تمہاری اولادیں ] [عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ : اللہ کی یاد سے ] [وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ : اور جو کرے گا یہ (کام)] [فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : تو وہ لوگ ہی خسارہ پانے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: اب خطاب مومنین سے ہے۔ ان کو اس سے ڈرایا گیا ہے کہ دنیا کی محبت میں ایسے مدہوش نہ ہوجائیں جیسے منافقین ہوگئے۔ دنیا کی سب سے بڑی دو چیزیں ہیں جو انسان کو اللہ سے غافل کرتی ہیں۔ مال اور اولاد۔ اس لیے ان دونوں کا نام لیا گیا، ورنہ مراد اس سے پوری متاع دنیا ہے۔ اور ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ مال و اولاد سے محبت ایک درجہ میں مذموم نہیں، ان کے ساتھ ایک درجہ تک لگاؤ صرف جائز نہیں بلکہ واجب بھی ہوجاتا ہے، مگر اس کی یہ حدِّ فاصل ہر وقت سامنے رہنا چاہیے کہ یہ چیزیں انسان کو اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔ حسن بصری نے فرمایا کہ ذکر سے مراد یہاں تمام اطاعتیں اور تمام عبادتیں ہیں۔ اور یہی قول سب کا جامع ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 63:10

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور اُس وقت وہ کہے کہ "اے میرے رب، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا"

[وَانفِقُوْا : اور تم لوگ خرچ کرو ] [مِنْ مَا رَزَقْنٰكُمْ : اس میں سے جو ہم نے عطا کیا تم کو ] [مِّنْ قَبْلِ ان : اس سے پہلے کہ ] [يَاْتِيَ اَحَدَكُمُ : آپہنچے تم میں کے کسی ایک کو ] [الْمَوْتُ : موت ] [فَيَقُوْلَ رَبِ : نتیجۃً وہ کہے اے میرے رب ] [لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ: کیوں نہ تو نے پیچھے کیا (مہلت دی) مجھ کو ] [اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ : ایک قریبی مدت تک ] [فَاَصَّدَّقَ : نتیجۃً میں صدقہ کرتا ] [وَاَكُنْ : اور (پھر تو) میں ہو جائوں گا ] [مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ : نیکی کرنے والوں میں سے ] ترکیب : (آیت۔ 10) فا سببیہ ہونے کی وجہ سے اَصَّدَّقَ حالت نصب میں آیا ہے۔ آگے اَکُنْ اگر فا سببیہ پر عطف ہوتا تو یہ حالت نصب میں اَکُوْنَ ہوتا۔ لیکن یہ حالت جزم میں اَکُنْ آیا ہے۔ اس لیے اس سے پہلے کوئی شرط والا فعل محذوف مانا جاتا ہے جس کا جواب شرط ہونے کی وجہ سے یہ مجزوم ہے۔ مثلاً وَلَگنْ اَحَرْتَنِیْ کو محذوف مانا جاسکتا ہے۔
Ayah 63:11

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

حالانکہ جب کسی کی مہلت عمل پوری ہونے کا وقت آ جاتا ہے تو اللہ اُس کو ہرگز مزید مہلت نہیں دیتا، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے

[وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ : اور ہرگز پیچھے نہیں کرے گا (مہلت نہیں دے گا) اللہ ] [نَفْسًا : کسی جان کو ] [اِذَا جَاۗءَ اَجَلُهَا : جب آجائے گا اس کا (خاتمے کا) وقت ] [وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ: اور اللہ باخب رہے ] [بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اس سے جو ہم لوگ عمل کرو گے ]