Ayah 62:1[يُسَـبِحُ للّٰهِ : تسبیح کرتی ہے اللہ کی ] [مَا فِي السَّمٰوٰتِ : (ہر) وہ چیز جو آسمانوں میں ہے ] [وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور (ہر) وہ چیز جو زمین میں ہے ] [الْمَلِكِ : جو بادشاہ ہے ] [الْقُدُّوْسِ : پاک ہے ] [الْعَزِيْزِ : بالادست ہے ] [الْحَكِـيْمِ : حکمت والا ہے ]
ترکیب : (آیت۔ 1) اَلْمَلِکِ سے اَلْحَکِیْمِ تک سارے اسماء لِلّٰہِ کی صفت ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں۔
Ayah 62:2[هُوَ الَّذِي بَعَثَ : وہ، وہ ہے جس نے بھیجا ] [فِي الْاُمِّيّٖنَ : اَن پڑھ لوگوں میں ] [رَسُوْلًا مِّنْهُمْ : ایک ایسا رسول ان میں سے جو ] [يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ : پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیتیں ] [وَيُزَكِّيْهِمْ : اور تزکیہ کرتا ہے ان کا ] [وَيُعَلِمُهُمُ : اور تعلیم دیتا ہے ان کو ] [الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ : اس کتاب (قرآن) کی اور دانائی کی ] [وَان كَانوْا مِنْ قَبْلُ : اور بیشک وہ لوگ تھے اس سے پہلے ] [لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : یقینا ایک کھلی گمراہی میں ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 2 ۔ میں لفظ اُمِّیّٖنَ بنی اسماعیل کے لیے ایک امتیازی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ یہ اصطلاح اگرچہ یہود کی وضع کردہ تھی جس میں ان کے اندر کے مذہبی پندار کی جھلک بھی تھی اور اہل عرب کے لیے ان کا جذبۂ تحقیر بھی نمایاں تھا۔ لیکن بنی اسماعیل چونکہ کتاب و شریعت سے ناآشنا تھے اس لیے بغیر کسی احساس کمتری کے انھوں نے اس لقب کو اپنے لیے خود بھی اختیار کرلیا پھر جب قرآن نے ان کے لیے اور ان کی طرف مبعوث ہونے والے رسول کے لیے اس لفظ کو ایک امتیازی صفت کے طور پر ذکر کیا تو اس کا رتبہ انتہائی بلند ہوگیا اور جن کو اَن پڑھ اور گنوار کہہ کر حقیر ٹھہرایا گیا تھا وہ تمام عالم کی تعلیم و تہذیب پر مامور ہوئے اور جن کو اپنے حامل کتاب و شریعت ہونے پر ناز تھا وہ کَمَئَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا کے مصداق قرار پائے (تدبر قرآن) ۔
لفظ اُمّی کی یہ وضاحت میں نے جب ایک بہت پڑھے لکھے دانشور کے سامنے کی تو وہ چہک کر بولے کہ آج ہم بھی تو اسی گدھے کی مانند ہیں۔ ہم حامل قرآن ہیں لیکن ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ اس میں کیا ہے۔ میں نے کہا آپ کی بات جزوی طور پر تو درست ہے لیکن کلیتاً درست نہیں ہے۔ پوچھا وہ کیسے۔ میں نے کہا کہ اس گدھے کی مثال ہمارے دانشوروں پر تو صادق آتی ہے لیکن ہمارے علماء کرام پر صادق نہیں آتی۔ پھر ان کے مہذب ہونے کی قلعی کھل گئی۔ (مرتب)
Ayah 62:3[وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ : اور کچھ ایسے دوسرے لوگوں میں ان میں سے جو ] [لَمَا يَلْحَقُوْا بِهِمْ : ابھی تک نہیں ملے ان سے ] [وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور وہی بالادست ہے حکمت والا ہے ]
(آیت۔ 3) وَاٰخَرِیْنَ گذشتہ آیت میں فِی الْااُمِّیّٖنَ کے فِیْ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جرّ میں ہے۔
نوٹ۔ 2: آیت۔ 3 ۔ میں آخَرِیْنَ کے عطف میں دو قول ہیں۔ بعض نے اس کو اُمِّیّٖنَ پر عطف قرار دیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بھیجا اللہ نے اپنا رسول امین میں اور ان لوگوں میں جو ابھی ان سے نہیں ملے۔ یہاں ان میں بھیجنے سے مراد ان کے لیے بھیجنا ہے کیونکہ لفظ فی عربی میں اس معنی کے لیے آتا ہے اور بعض نے آخرین کا عطف یُعَلِّمُھُمْ کی ضمیر منصوب پر مانا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ تعلیم دیتے ہیں۔ امین کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو ابھی ان کے ساتھ نہیں ملے۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة جمعہ آپ پر نازل ہوئی اور آپ نے ہمیں سنائی۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جن کا ذکر آخرین کے لفظ سے کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسی پر رکھ دیا اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا کی بلندی پر بھی ہوگا تو ان کی قوم کے کچھ لوگ وہاں سے بھی لے آئیں گے۔ (معارف القرآن)
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ کی رسالت صرف عرب قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کی ان دوسروں قوموں اور نسلوں کے لیے بھی ہے جو ابھی آ کر اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئی ہیں مگر آگے قیامت تک آنے والی ہیں۔ اس میں لفظ مِنْھُمْ (ان میں سے) کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دوسرے لوگ امتیوں میں سے، یعنی دنیا کی غیر اسرائیلی قوموں میں سے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ وہ محمد ﷺ کو ماننے والے ہوں گے جو بعد میں آ کر شامل ہوں گے۔ اس طرح یہ آیت منجملہ ان آیات کے ہے جن میں تصریح کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت تمام نوع انسانی کی طرف ہے اور ابد تک کے لیے ہے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات جہاں اس مضمون کی صراحت کی گئی ہے یہ ہیں۔ الانعام۔ 19 ۔ الاعراف۔ 158 ۔ الانبیائ۔ 107 ۔ الفرقان۔ 1 ۔ سبا۔ 28 ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 62:4[ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ : یہ اللہ کا فضل ہے ] [يُؤْتِيْهِ : وہ دیتا ہے وہ (فضل)] [مَنْ يَّشَاۗءُ : اس کو جسے وہ چاہتا ہے ] [وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : اور اللہ بڑے فضل والا ہے ]
Ayah 62:5[مَثَلُ الَّذِينَ : ان لوگوں کی مثال جن سے ] [حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ : اٹھوائی گئی تورات ] [ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا : پھر انھوں نے نہیں اٹھایا اس کو ] [كَمَثَلِ الْحِمَارِ : اس گدھے کی مثال کی مانند ہے ] [يَحْمِلُ اَسْفَارًا : جو اپنے اوپر لادتا ہے کچھ کتابیں ] [بِئْسَ : کتنی بری ہے ] [مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ : اس قوم کی مثال جنھوں نے ] [كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ : جھٹلایا اللہ کی نشانیوں کو ] [وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي : اور اللہ ہدایت نہیں دیتا ] [الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے لوگوں کو ]
Ayah 62:6[قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ : آپ کہہ دیجئے اے وہ لوگو جو ] [هَادُوْٓا : یہودی ہوئے ] [ان زَعَمْتم : اگر تم کو زعم ہے ] [انكُمْ اَوْلِيَاۗءُ للّٰهِ : کہ تم لوگ دوست ہو اللہ کے ] [مِنْ دُوْنِ النَاسِ : (دوسرے) لوگوں کے بجائے ] [فَتمنَّوُا الْمَوْتَ : تو تم لوگ تمنا کرو موت کی ] [ان كُنْتم صٰدِقِيْنَ : اگر تم لوگ سچ کہنے والے ہو ]
(آیت۔ 6) باب تفعل اور باب تفاعل میں فعل ماضی میں جمع مذکر غائب کا صیغہ اور فعل امر میں جمع مذکر مخاطب کا صیغہ، دونوں ہم شکل ہوجاتے ہیں۔ یہاں فَتَمَنَّوْا باب تفعل سے ہے اور بظاہر اس میں بھی دونوں امکان ہیں لیکن آیت کی عبارت صاف بتارہی ہے کہ یہ فعل ماضی نہیں ہے بلکہ فعل امر ہے۔
Ayah 62:7[وَلَا يَتمنَّوْنَهٗٓ: اور یہ تمنا نہیں کریں گے اس کی ] [اَبَدًۢا : کبھی بھی ] [بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ : بسبب اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے ] [وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ : اور اللہ جاننے والا ہے ظالموں کو ]
Ayah 62:8[قُلْ ان الْمَوْتَ الَّذِي : آپ ﷺ کہیے بیشک وہ موت ] [تَفِرُّوْنَ مِنْهُ : تم لوگ بھاگتے ہو جس سے ] [فَانهٗ مُلٰقِيْكُمْ : تو یقینا وہ ملاقات کرنے والی ہے تم سے ] [ثُمَّ تُرَدُّوْنَ : پھر تم لوگ لوٹائے جائو گے ] [اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ : شہادہ اور غیب کے جاننے والے کی طرف ] [فَيُنَبِئُكُمْ : پھر وہ جتلا دے گا تم کو ] [بِمَا كُنْتم تَعْمَلُوْنَ : وہ، جو تم لوگ کیا کرتے تھے ]
Ayah 62:9[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ] [اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ : جب پکارا جائے نماز کے لیے ] [مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ : جمعہ کے دن میں سے ] [فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ : تو تم لوگ لپکو اللہ کی یاد کی طرف ] [وَ : اور ] [ذَرُوا : تم لوگ چھوڑ دو ] [الْبَيْعَ : سوداگری کو ] [ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ : یہ بہتر ہے تمہارے لیے ] [ان كُنْتم تَعْلَمُوْنَ : اگر تم لوگ جانتے ہو ]
نوٹ۔ 1: جمعہ کے دن کو یوم جمعہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے اجتماع کا دن ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں اس دن کو یوم عروبہ کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے عرب میں کعب بن لوئی نے اس کا نام جمعہ رکھا۔ قریش اس دن جمع ہوتے اور کعب بن لوئی خطبہ دیتے تھے۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پانچ سو ساٹھ سال پہلے کا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے زمانۂ جاہلیت میں بھی بت پرستی سے بچایا اور توحید کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے نبی کریم ﷺ کی بعثت کی خوشخبری بھی لوگوں کو سنائی تھی۔ (معارف القرآن)
اسلام سے پہلے ہفتہ کا ایک دن عبادت کے لیے مخصوص کرنے اور اس کو شعار ملت قرار دینے کا طریقہ اہل کتبا میں موجود تھا۔ یہودیوں نے اس غرض کے لیے سبت (ہفتہ) کا دن مقرر کیا تھا کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دی تھی۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودیوں سے ممتیز کرنے کے لیے اپنا شعار ملت اتوار کا دن قرار دیا۔ اگرچہ اس کا کوئی حکم نہ حضرت عیسیٰ اسی روز قبر سے نکل کر آسامان کی طرف گئے تھے۔ اس بنا پر بعد کے عیسائیوں نے اسے اپنی عبادت کا دن قرار دے لیا اور پھر 321 ء میں رومی سلطنت نے ایک حکم کے ذریعے سے اس کو عام تعطیل کا دن مقرر کردیا۔ اسلام نے ان دونوں ملتوں سے اپنی ملت کو ممیّز کرنے کے لیے یہ دونوں دن چھوڑ کر جمعہ کو اجتماعی عبادت کے لیے اختیار کیا۔
جمعہ کی فرضیت کا حکم نبی ﷺ پر ہجرت سے کچھ پہلے مکہ میں نازل ہوچکا تھا لیکن اس وقت آپ اس پر عمل نہیں کرسکتے تھے کیونکہ مکہ میں کوئی اجتماعی عبادت ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ اس لیے آپ نے ان لوگوں کو جو پہلے ہجرت کر کے مدینہ پہنچ چکے تھے، یہ حکم لکھ بھیجا وہاں جمعہ قائم کریں۔ چناچہ ابتدائی مہاجرین کے سردار حضرت مصعب بن عمیر نے 12 ۔ آدمیوں کے ساتھ مدینہ میں پہلا جمعہ پڑھا۔ اس سے بھی پہلے مدینہ کے انصار نے بطور خود آپ میں یہ طے کیا تھا کہ ہفتہ میں ایک دن مل کر اجتماعی عبادت کریں گے۔ اس غرض کے لیے انھوںنی یہودیوں کے سبت اور عیسائیوں کے اتوار کو چھوڑ کر جمعہ کا دن انتخاب کیا اور پہلا جمعہ حضرت اسعد بن ذرارہ نے بنی بیاضہ کے علاقے میں پڑھا جس میں چالیس آدمی شریک ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد جو اوّلین کام کیے ان میں جمعہ کی اقامت بھی تھی۔
” اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو “۔ ” خریدوفروخت چھوڑ دو “۔ یہ حکم قطعی طور پر نماز جمعہ کے فرض ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اس کی تائید بکثرت احادیث کرتی ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے سخت ترین تاکید کی ہے اور اسے صاف صاف الفاظ میں فرض قرار دیا ہے۔ (ہم یہاں پر صرف ایک حدیث نقل کر رہے ہیں۔ مرتب) ۔ حضور نے فرمایا : آج سے لے کر قیامت تک جمعہ ہم لوگوں پر فرض ہے۔ جو شخص اسے ایک معمولی چیز سمجھ کر یا اس کا حق نہ مان کر اسے چھوڑے، خدا اس کا حال درست نہ کرے، نہ اسے برکت دے۔ خوب سن رکھو اس کی نماز نماز نہیں، اس کا روزہ روزہ نہیں، اس کی کوئی نیکی نیکی نہیں جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے۔ پھر جو توبہ کرلے اللہ اسے معاف فرمانے والا ہے۔ البتہ آپ عورت، بچے، غلام، مریض اور مسافر کو اس فرضیت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ قرآن و حدیث کو انہی تصریحات کی وجہ سے جمعہ کی فرضیت پر پوری امت کا اجماع ہے۔
Ayah 62:10[فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ : پھر جب پوری کرلی جائے نماز ] [فَانتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ : تو تم لوگ منتشر ہو جائو زمین میں ] [وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ : اور تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے (روزی)] [وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا : اور ذکر کرتے رہو اللہ کا کثرت سے ] [لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ : شاید کہ تم لوگ مراد پائو ]
آیت۔ 10 ۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد زمین میں پھیل جانا اور رزق تلاش کرنا ضروری ہے بلکہ یہ ارشاد اجازت کے معنی میں ہے جیسے سورة نساء میں ایک سے زائد نکاح کی اجازت فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ کے الفاظ میں دی گئی ہے۔ یہاں اگرچہ فَانْکِحُوْا فعل امر ہے مگر کسی نے بھی اس کو حکم کے معنی میں نہیں لیا ہے۔ اس سے یہ اصولی مسئلہ نکلتا ہے کہ صیغۂ امر ہمیشہ وجوب ہی کے معنی میں نہیں ہوتا بلکہ کبھی یہ اجازت اور کبھی استحباب کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ یہ بات قرأن سے معلوم ہوتی ہے کہ کہاں یہ حکم کے معنی میں ہے اور کہاں اجازت کے معنی میں اور کہاں اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ کو ایسا کرنا پسند ہے۔ لیکن یہ مراد نہیں ہوتی کہ یہ فعل فرض یا واجب ہے۔
اس مام پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگرچہ یہودیوں کے سبت اور عیسائیوں کے اتوار کیطرح قرآن میں جمعہ کو عام تعطیل کا دن قرار نہیں دیا گیا ہے لیکن اس حقیقت سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کہ جمعہ ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کا شعار ملت ہیں۔ اگر ہفتہ میں کوئی ایک دن عام تعطیل کے لیے مقرر کرنا تمدنی ضرورت ہو تو جس طرح یہودی اس کے لیے فطری طور پر ہفتہ کو اور عیسائی اتوار کو منتخب کرتے ہیں اسی طرح مسلمان اس غرض کے لیے جمعہ کو ہی منتخب کرے گا بلکہ عیسائیوں نے تو دوسرے ایسے ملکوں پر بھی اپنے اتوار کو مسلط کرنے میں تامل نہ یا جہاں عیسائی آبادی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی۔ یہودیوں سے جب فلسطین میں اپنی ریاست قائم کی تو اولین کام جو انھوں نے کیا وہ یہ تھا کہ اتوار کے بجائے ہفتہ کو چھٹی کا دن مقرر کیا۔ تقسیم سے پہلے ہندوستان میں برطانوی ہند اور مسلمان ریاستوں کے درمیان نمایاں فرق یہ نظر آتا تھا کہ ملک کے ایک حصے میں اتوار کی چھٹی ہوتی تھی اور دوسرے حصے میں جمعہ کی۔ البتہ جہاں مسلمانوں کے اندر اسلامی حِس موجود نہیں ہوتی وہاں وہ اپنے ہاتھ میں اقتدار آنے کے بعد بھی اتوار کو سینے سے لگائے رہتے ہیں، جیسا کہ ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں بلکہ اس سے زیادہ جب بےحسی طاری ہوتی ہے تو جمعہ کی چھٹی منسوخ کر کے اتوار کو چھٹی رائج کی جاتی ہے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 5 ۔ ص 493 تا 498 سے ماخوذ) ۔
Ayah 62:11[وَاِذَا رَاَوْا : اور جب وہ دیکھتے ہیں ] تِجَارَةً اَوْ لَهْوَۨا : کوئی تجارت یا تماشہ ] [انفَضُّوْٓا اِلَيْهَا : تو بکھر جاتے ہیں اس کی طرف ] [وَتَرَكُوْكَ قَاۗىِٕمًا : اور چھوڑ جاتے ہیں آپ کو کھڑا ہوا ] [قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ: آپ کہیے جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے ] [مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ : تماشے سے اور تجارت سے ] [وَاللّٰهُ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ : اور اللہ رزق دینے والوں کا بہترین ہے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 11 ۔ میں ان لوگوں کو تنبیہہ کی گئی ہے جو جمعہ کا خطبہ چھوڑ کر تجارتی کام کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ امام ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب نبی کریم ﷺ خطبۂ جمعہ نماز جمعہ کے بعد دیا کرتے تھے جیسا کہ عیدین میں اب بھی یہی معمول ہے۔ ایک جمعہ کے روز یہ واقعہ پیش آیا کہ نماز جمعہ سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک قافلہ مدینہ کے بازار میں پہنچا اور اس کا اعلان ہونے لگا، اس وقت نماز جمعہ سے فراغت ہوچکی تھی، خطبہ ہو رہا تھا۔ بہت سے صحابۂ کرام ؓ بازار چلے گئے اور آپ کے ساتھ تھوڑے سے حضرات رہ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مدینہ میں اشیاء ضرورت کی کمی اور سخت مہنگائی تھی۔ اوّل تو نماز فرض ادا ہوچکی تھی۔ خطبہ کے متعلق یہ معلوم نہ تھا کہ جمعہ میں وہ بھی فرض کا جز ہے، دوسرے اشیاء کی گرانی، ان اسباب کے تحت صحابۂ کرام ؓ سے یہ لغزشہوئی۔ اسی پر عار دلانے اور تنبیہہ کرنے کے لیے آیت مذکورہ نازل ہوئی اور اسی کے سبب سے رسول اللہ ﷺ نے خطبہ کے معاملے میں اپنا طرز بدل دیا کہ نماز جمعہ سے پہلے خطبہ دینے کا معمول بنا لیا اور یہی اب سنت ہے۔ (معارف القرآن بروایت ابن کثیر)