61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 61:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ غالب اور حکیم ہے

[سَبَّحَ للّٰهِ مَا : تسبیح کرتی ہے اللہ کی (ہر) وہ چیز جو ][ فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ][ وَمَافِي الْاَرْضِ : اور (ہر) وہ چیز جو زمین میں ہے ][ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور وہی بالادست ہے حکمت والا ہے ]
Ayah 61:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم لوگ کیوں کہتے ہو ][ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ : وہ جو تم کرتے نہیں ]
Ayah 61:3

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں

[كَبُرَ : وہ (بات) بڑی ہوئی ][ مَقْتًا : بلحاظ بےزاری کے ][عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے نزدیک ][ ان تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ : کہ تم لوگ وہ کہو جو کرتے نہیں ہو ] ترکیب : (آیت۔ 3) کَبُرَ کا فاعل اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے جو گذشتہ آیت کے فقرے لَمَ تَقُوْلُوْنَ مَالاَ تَفْعَلُوْنَ کے لیے ہے۔ اس کو اسی آیت کے فقرے اَنْ تَقُوْلَوْا مَالَا تَفْعَلُوْنَ کی ضمیر ماننے سے مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن یہ اس لیے درست نہیں ہے کہ ضمیر کا مرجع عموماً ضمیر سے پہلے ہوتا ہے۔ مَقْتًا مفعول نہیں ہے بلکہ تمیز ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 61:4

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں

[ان اللّٰهَ يُحِبُّ : بیشک اللہ پسند کرتا ہے ][ الَّذِينَ يُقَاتِلُوْنَ : ان لوگوں کو جو قتال کرتے ہیں ][ فِيْ سَبِيْلِهٖ : اس کی راہ میں ][ صَفًّا : صف باندھتے ہوئے ][ كَانهُمْ : جیسے کہ وہ لوگ ][ بُنْيَان مَّرْصُوْصٌ: ایک مضبوط کی ہوئی عمارت ہیں ] ر ص ص [رصًّا : (ن) ایک کو دوسرے سے جوڑنا۔ چمٹانا۔][مَرْصُوْصٌ: اسم المفعول ہے جوڑا ہوا۔ چھٹایا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔] (آیت۔ 4) صَفًّا حال ہے۔ نوٹ۔ 1 : صحابہ کرام کی ایک جماعت نے آپس میں مذاکرہ کیا کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل کونسا ہے تو ہم اس پر عمل کریں۔ ان میں سے بعض نے کچھ ایسے الفاظ بھی کہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوجائے تو ہم اپنی جان و مال سب اسی کے لیے قربان کردیں گے۔ انہوں نے چاہا کہ کوئی جا کر رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کرے مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی۔ یہ لوگ اسی حالت پر تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو نام بنام اپنے پاس بلایا جب یہ لوگ حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے پوری سورة صف پڑھ کر سنائی جو اسی وقت آپ پر نازل ہوئی تھی۔ اس سورة نے یہ بھی بتادیا کہ احب الاعمال جہاد فی سبیل اللہ ہے اور ساتھ ہی تنبیہہ کی گئی کہ کسی مومن کے لیے ایسے دعوے کرنا درست نہیں۔ اسے کیا معلوم کہ وقت پر وہ اپنے ارادے کو پورا کرسکے گا یا نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے کام کا دعوٰی کرنا جس کے کرنے کا ارادہ ہی نہ ہو، یہ تو گناہ کبیرہ اور اللہ کی سخت ناراضی کا سبب ہے۔ اور جہاں کرنے کا ارادہ ہو وہاں بھی اپنی قوت و قدرت پر بھروسہ کر کے دعوٰی کرنا ممنوع و مکروہ ہے۔ رہا معاملہ دعوت و تبلیغ کا کہ جو کام آدمی خود نہیں کرتا اس کی نصیحت دوسروں کو کرے، وہ اس آیت کے مفہوم میں تو شامل نہیں۔ اس کے احکام دوسری آیات اور احادیث میں مذکور ہیں۔ جن میں وعظ و نصیحت کرنے والوں کو اس بات پر شرمندہ کیا گیا ہے کہ لگوں کو کسی نیک کام کی دعوت دو اور خود اس پر عمل نہ کرو۔ مقصد یہ ہے کہ جس کام کی طرف لوگوں کو بلاتے ہو خود بھی اس پر عمل کرو۔ لیکن یہ نہیں فرمایا کہ جب خود نہیں کرتے تو دوسروں کو کہنا بھی چھوڑ دو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس نیک کام کو خود کرنے کی ہمت و توفیق نہیں ہے، اس کی طرف دوسروں کو بلائے اور نصیحت کرنے کا سلسلہ نہ چھوڑے۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 2 : اس ارشاد کا ایک مدعا یہ ہے کہ ایک سچے مسلمان کے قول اور عمل میں مطابقت ہونی چاہیے۔ جو کچھ کہے اسے کر کے دکھائے اور کرنے کی نیت یا ہمت نہ ہو تو زبان سے بھی نہ نکالے۔ کہنا کچھ اور کرنا کچھ، یہ انسان کی ان بدترین صفات میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہایت مبغوض ہیں۔ نبی ﷺ نے تصریح فرمائی ہے کہ کسی شخص میں اس صفت کا پایا جانا ان علامات میں سے ہے جو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں، اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو، روزے رکھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعوٰی کرتا ہو۔ یہ کہ جب بولے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو اسی کی خلاف ورزی کرے اور جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ چار صفتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ چاروں پائی جائیں وہ خالص منفق ہے اور جس میں کوئی ایک صفت ان میں سے پائی جائے اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ دے ۔ یہ کہ جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کرے، اور جب بولے تو جھوٹ بولے، اور جب عہد کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے تو پھٹ پڑے یعنی اخلاق و دیانت کی حدیں توڑ ڈالے۔ فقہائے اسلام کا اس بات پر قریب قریب اتفاق ہے کہ کوئی شخص اگر اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد کرے، مثلاً کسی چیز کی نذر مانے، یا بندوں سے کوئی معاہدہ کرے یا کسی سے کوئی وعدہ کرے تو اسے وفا کرنا لازم ہے الایہ کہ وہ کام بجائے خود گناہ ہو جس کا اس نے عہد یا وعدہ کیا ہو۔ گناہ ہونے کی صورت میں وہ کام تو نہیں کرنا چاہیے لیکن اس کی پابندی سے آزاد ہونے کے لیے کفارہ ادا کرنا چاہیے جو سورة مائدہ آیت۔ 89 ۔ میں بیان کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور یاد کرو موسیٰؑ کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم سے کہی تھی "اے میری قوم کے لوگو، تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں؟" پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے، اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا

[وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ : جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے ][ يٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِيْ : اے میری قوم تم لوگ کیوں اذیت دیتے ہو مجھ کو ][ وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ : حالانکہ تم لوگ جان چکے ہو ][ انى رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ : کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف ][ فَلَمَا زَاغُوْٓا : پھر جب وہ لوگ بہکے ][ اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ : تو ٹیڑھا کیا اللہ نے ان کے دلوں کو ][ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي : اور اللہ ہدایت نہیں دیتا ][ الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانی کرنے والی قوم کو ] نوٹ۔ 1 : آیت۔ 5 ۔ میں بتایا گیا ہے کہ یہی روش یہود کی رہی ہے۔ وہ جہاد کے لیے جوش و جذبہ کا اظہار تو کرتے تھے لیکن جب امتحان کا وقت آتا تو پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ تورات کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ایک موقعہ بھی ایسا نہیں گزرا ہے جب انہوں نے خوش دلی کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت کی ہو۔ تو اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان کو سزا یہ دی کہ بار بار کی تنبیہہ اور تذکیر کے بعد بھی جب انہوں نے اپنا رخ سیدھا نہیں کیا تو اللہ نے ان کے دل کو اسی رخ پر کج کردیا جس کو انہوں نے اپنے لیے پسند کیا۔ انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ انسان اسے جس رخ پر لگائے وہ اسی رخ پر لگ جاتی ہے۔ اگر آپ اس کو عقل و فطرت کے خلاف کسی غلط رخ پر موڑیں گے تو ابتدائً وہ اس پر مڑنے سے انکار کرے گی لیکن جب آپ اسے موڑنے پر بضد رہیں گے تو بالآخر وہ اسی سانچہ پر ڈھل جائے گی۔ ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس کی طبیعت کے اسی اصول کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ کسی کو ہدایت پر مجبور کرتا ہے نہ ضلالت پر۔ اس نے انسان کو نیکی اور بدی کا شعور دے کر اسے آزادی بخشی ہے کہ وہ نیکی کی راہ اختیار کرے یا بدی کی۔ اگر وہ نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس کو اس کی توفیق دیتا ہے اور اگر وہ بدی کی راہ پر جانا چاہتا ہے تو وہ اس کو اس کی ڈھیل دیتا ہے جب تک چاہتا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور یاد کرو عیسیٰؑ ابن مریمؑ کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ "اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اُس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا مگر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے

[وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ : اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے ][ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : اے بنی اسرائیل ][ انى رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ : کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف ][مُّصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے اس کی جو میرے سامنے ہے ][ مِنَ التَّوْرٰىةِ : تورات میں سے ][وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ : اور بشارت دینے والا ہوتے ہوئے ایک ایسے رسول کی جو ][ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي : آئے گا میرے بعد ][ اسْمُهٗٓ اَحْمَدُ : جس کا نام احمد ہوگا ][ فَلَمَا جَاۗءَهُمْ : پھر جب وہ آئے اس کے پاس ][ بِالْبَيِّنٰتِ : واضح (نشانیوں) کے ساتھ ][ قَالُوْا هٰذَا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ: تو انھوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے ] نوٹ۔ 2 : آیات۔ 5 ۔ 6 ۔ میں اس فرق کو ملحوظ رکھیے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے انداز خطاب میں نمایاں ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو یٰقَوْمِ سے مخاطب کیا۔ جب کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو یٰبَنِیْ اِسْرَائِ یْلَ سے مخاطب کیا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا قومی تعلق نہ بنی اسرائیل سے تھا نہ کسی اور قوم سے بلکہ آپ عیسیٰ بن مریم تھے۔ قرآن نے اس باریک پہلو کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 3 : جہاں تک ” اس رسول “ کی پیشینگوئی کا تعلق ہے، وہ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ” اس رسول “ کی خوش خبری دی۔ بعض دوسرے انبیاء سے بھی تورات کے مختلف صحیفوں میں پیشینگوئیاں موجود ہیں۔ اہل کتاب ان کا مصداق محمد ﷺ کو مانیں یا نہ مانیں لیکن ایک غیر جانبدار ذہن یہ ماننے پر مجبور ہے کہ محمد ﷺ کے سوا وہ کسی اور پر منطبق نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے جہاں تک آپ ﷺ کی بشارت کا تعلق ہے اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) منفرد نہیں ہیں۔ لیکن ان کو بشارت تین پہلوئوں سے دوسری سابقہ بشارتوں سے بالکل مختلف ہے۔ ایک یہ کہ آپ (علیہ السلام) نے اس بشارت کو ایک ضمنی کام نہیں بلکہ اپنی بعثت کا خاص مقصد اور مشن بتایا۔ دوسرا یہ کہ آپ (علیہ السلام) نے اس کے ظہور کا زمانہ بھی متعین کردیا۔ اس سے پہلے جتنی پیشین گوئیاں رسول اللہ ﷺ یا دوسرے انبیاء کے بارے میں وارد ہوئیں ان میں سے کسی میں بھی اس تصریح کے ساتھ زمانے کا تعین نہیں ہے۔ لیکن اس پیشینگوئی میں یہ تصریح ہے کہ وہ رسول میرے بعد آئے گا۔ تیسرا یہ کہ آپ (علیہ السلام) نے یہ بشارت رسول اللہ ﷺ کے نام کی تصریح کے ساتھ دی ہے۔ (تدبیر قرآن) یہ سب کو معلوم ہے اور خود یہود و نصارٰی کو بھی اس کا اقرار کرنا پڑا ہے کہ تورات اور انجیل میں تحریف ہوئی ہے۔ موجودہ تحریف شدہ انجیل کی بنا پر آج کل کے عیسائی قرآن کی اس خبر کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس کے مفصل جواب کے لیے مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی کتاب اظہار الحق کا مطالعہ کیا جائے جو مذہب عیسائیت کی حقیقت اور انجیل میں تحریفات اور باوجود تحریفات کے اس میں رسول اللہ ﷺ کی بشارتیں موجود ہونے کے متعلق بےنظیر کتاب ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی تھی۔ پھر ترکی، انگریزی وغیرہ میں اس کے ترجمے ہوئے۔ حال ہی میں اس کا اردو ترجمہ دارالعلوم کراچی کے مدرس مولانا اکبر علی صاحب نے کیا ہے جو تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے۔ اس کی تیسری جلد میں صفحہ 192 سے صفحہ 362 تک انہی بشارتوں کی تفصیل موجودہ انجیلوں کے حوالے سے اور شبہات کے جوابات مذکور ہیں۔ (معارف القرآن) اس موضوع پر ایک جامع اور مدلل بحث تفہیم القرآن کی جلد پانچ کے صفحات 461 تا 475 پر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ (مرتب)
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اب بھلا اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جا رہی ہو؟ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا

[وَمَنْ اَظْلَمُ : اور کون زیادہ ظالم ہے ][ مِمَّنِ افْتَرٰى: اس سے جس نے گھڑا ][ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ : اللہ پر جھوٹ ][ وَهُوَ يُدْعٰٓى اِلَى الْاِسْلَامِ : اس حال میں کہ اس کو بلایا جاتا ہے اسلام کی طرف ][وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي : اور اللہ ہدایت نہیں دیتا ][الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے لوگوں کو ]
Ayah 61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پوا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو

[يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا : وہ لوگ ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ بجھا دیں ][ نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ : اللہ کے نور کو اپنے مونہوں (کی پھونکوں) سے ][وَاللّٰهُ مُتم نُوْرِهٖ : حالانکہ اللہ مکمل کرنے والا ہے اپنے نور کو ][وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ : اور اگرچہ کراہیت کریں کفر کرنے والے ]
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو

[هُوَ الَّذِيٓ: وہ، وہ ہے جس نے ][ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ : بھیجا اپنے رسول کو ][ بِالْهُدٰى: اس ہدایت (قرآن) کے ساتھ ][ وَدِيْنِ الْحَقِّ : اور الحق (اللہ) کے ضابطۂ حیات کے ساتھ ][لِيُظْهِرَهٗ : تاکہ وہ (رسول) غالب کردیں اس (دین) کو ][عَلَي الدِّيْنِ : ضابطہ حیات پر ][كُلِهٖ : اس کے کل پر ][وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ : اور اگرچہ کراہیت کریں شرک کرنے والے ] نوٹ۔ 4 : یہ بات نگاہ میں رہے کہ آیات۔ 8 ۔ 9 ۔ 3 ھ میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ اس وقت اسلام صرف شہر مدینہ تک محدود تھا، مسلمانوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی اور پرا عرب اس دین کو مٹانے پر تلا ہوا تھا۔ جنگ احد میں مسلمانوں کو جو زک پہنچی تھی اس کی وجہ سے ان کی ہوا اکھڑ گئی تھی اور گردوپیش کے قبائل ان پر شیر ہوگئے تھے۔ ان حالات میں فرمایا گیا کہ اللہ کا یہ نور کسی کے بجھائے بجھ نہ سکے گا بلکہ پوری طرح روشن ہو کر دنیا بھر میں پھیل کے رہے گا۔ یہ ایک صریح پیشینگوئی ہے جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 61:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچا دے؟

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ : اے لوگو جو ایمان لائے کیا میں رہنمائی کروں تمہاری ][عَلٰي تِجَارَةٍ : ایک ایسی تجارت پر جو ][تُنْجِيْكُمْ : بچائے گی تم لوگوں کو ][مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : ایک دردناک عذاب سے ]
Ayah 61:11

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو

[تُؤْمِنُوْنَ : تم لوگ ایمان لائو گے ][ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : اللہ پر اور اس کے رسول پر ][ وَتُجَاهِدُوْنَ : اور جہاد کرو گے ][فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ میں ][ بِاَمْوَالِكُمْ وَانفُسِكُمْ : اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے ][ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ : یہ بہتر ہوگا تمہارے لیے ][ان كُنْتم تَعْلَمُوْنَ :]
Ayah 61:12

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا یہ ہے بڑی کامیابی

[يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ : تب وہ بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہوں ][وَيُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ : اور داخل کرے گا تم کو ایسے باغات میں ][ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْانهٰرُ : بہتی ہوں گی جن کے دامن میں نہریں ][ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً : اور ایسے پاکیزہ مکانوں میں جو ][ فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ : عدن کے باغات میں ہوں گے ][ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : یہ ہی شاندار کامیابی ہے ]
Ayah 61:13

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح اے نبیؐ، اہل ایمان کو اِس کی بشارت دے دو

[وَّاُخْرٰى: اور (تمھارے لیے) ایک دوسری (نعمت بھی) ہے ][ تُحِبُّوْنَهَا : تم لوگ پسند کرتے ہو جس کو ][ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ : (وہ) نصرت ہے اللہ (کی طرف) سے ][ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ : اور قریبی فتح ہے ][ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ : اور آپ ﷺ بشارت دے دیں مومنوں کو ]
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسیٰ ابن مریمؑ نے حواریوں کو خطاب کر کے کہا تھا: "کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار؟" اور حواریوں نے جواب دیا تھا: "ہم ہیں اللہ کے مددگار" اُس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے تم لوگ ہو جائو ][ انصَارَ اللّٰهِ : اللہ کی مدد کرنے والے ][كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ : جیسے کہ کہا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں کو ][مَنْ انصَارِيْٓ: کون ہیں میری مدد کرنے والے ][ اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف ][ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ : کہا حواریوں نے ][ نَحْنُ انصَارُ اللّٰهِ : ہم ہیں اللہ کی مدد کرنے والے ][فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : تو ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے ][وَكَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ : اور انکار کیا ایک گروہ نے ][ فَاَيَّدْنَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : تو ہم نے تائید کی ان کی جو ایمان لائے ][ عَلٰي عَدُوِّهِمْ : ان کے دشمنوں کے خلاف ][ فَاَصْبَحُوْا : تو وہ لوگ ہوگئے ][ ظٰهِرِيْنَ : غالب آنے والے ] نوٹ۔ 1 : بعض لوگوں کے ذہن میں یہ الجھن پائی جاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قادرِمطلق ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں تو کوئی بندہ آخر اللہ کا مددگار کیسے ہوسکتا ہے۔ دراصل لوگوں کو اللہ کا مددگار اس لیے نہیں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ معاذ اللہ کسی کام کے لیے اپنی کسی مخلوق کی مدد کا محتاج ہے بلکہ یہ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ زندگی کے جس دائرے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایمان یا کفر اور اطاعت یا نافرمانی کی آزادی بخشی ہے۔ اس میں وہ لوگوں کو اپنی قوت قاہرہ سے کام لے کر زبردستی کسی کو مومن اور مطیع نہی بناتا بلکہ اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے ان کو راہ راست دکھانے کے لیے تذکیر و تعلیم کا طریقہ اختیار فرماتا ہے۔ اس تذکیر تعلیم کو جو شخص اپنی آزاد مرضی سے قبول کرلے وہ مومن ہے، جو اس پر عمل کرے وہ مسلم اور عابد ہے، جو خدا ترسی کا رویہ اختیار کرے وہ متقی ہے، جو نیکیوں کی طرف سبقت کرنے لگے وہ محسن ہے اور اس سے مزید ایک قدم آگے بڑھ کے جو اسی تذکیر و تعلیم کے ذریعہ سے بندگان خدا کی اصلاح کے لیے اور کفر و نافرمانی کی جگہ اللہ کی اطاعت کا نظام قائم کرنے کے لیے کام کرنے لگے اسے اللہ تعالیٰ اپنا مددگار قرار دیتا ہے۔ اس طرح یہ مددگاری اس معنی میں ہے کہ یہ لوگ اسی کام میں حصہ لیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ اپنی قوت قاہرہ کے ذریعہ سے کرنے کے بجائے اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)