Ayah 60:1[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے تم لوگ مت بنائو ][ عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ : میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو ][ اَوْلِيَاۗءَ : (اپنے) کارساز ][ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ : تم لوگ ڈالتے ہو ان کی طرف (پیغام)][بِالْمَوَدَّةِ : خیر خواہی کے ساتھ ][ وَقَدْ كَفَرُوْا : حالانکہ وہ انکار کرچکے ][ بِمَا جَاۗءَكُمْ : اس کا جو آیا تمہارے پاس ][ مِّنَ الْحَقِّ : الحق میں سے ][ يُخْرِجونَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ : وہ لوگ نکالتے ہیں ان رسول ﷺ کو اور ہم کو بھی ][ان تُؤْمِنُوْا : (اس لیے) کہ تم لوگ ایمان لائے ][بِاللّٰهِ رَبِكُمْ : اللہ پر جو تمہارا رب ہے ][ ان كُنْتم : اگر تم لوگ ہو (کہ)][ خَرَجْتم جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ : تم نکلتے ہو جہاد کرنے کے لیے میری راہ میں ][وَابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِيْ : اور میری رضا کی تلاش کے لیے ][تُسِرُّوْنَ اِلَيْهِمْ : تو (بھی) راز کی بات بتاتے ہو ان کو ][ بِالْمَوَدَّةِ : خیر خواہی کے ساتھ ][وَانا اَعْلَمُ : حالانکہ میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں ][بِمَآ اَخْفَيْتم : اس کو جو تم لوگ چھپاتے ہو ][وَمَآ اَعْلَنْتم : اور اس کو جو تم لوگ اعلانیہ کرتے ہو ][وَمَنْ يَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ : اور جو کرتا ہے اس کام کو تم میں سے [فَقَدْ ضَلَّ : تو وہ بھٹک چکا ہے ][سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ : راستے کے درمیان سے ]
Ayah 60:2[ان يَّثْقَفُوْكُمْ : اگر وہ لوگ قابو پالیں تم پر ][ يَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَاۗءً : تو وہ ہوجائیں گے تمہارے دشمن ][ وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ : اور بڑھائیں گے تمہاری طرف ][اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ : اپنے ہاتھوں کو اور اپنی زبانوں کو ][ بِالسُّوْۗءِ : برائی سے ][ وَوَدُّوْا : اور چاہیں گے (کہ)][ لَوْ تَكْفُرُوْنَ : کاش تم لوگ کفر کرو ]
Ayah 60:3[لَنْ تَنْفَعَكُمْ : ہرگز نفع نہیں دیں گی تم کو ][ اَرْحَامُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ : تمہاری رشتہ داریاں اور نہ تمہاری اولادیں ][يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ][يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ : وہ فیصلہ کرے گا تمہارے مابین ][وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ: اور اللہ اس کو جو تم لوگ کرتے ہو دیکھنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1 : جس واقعہ کے حوالہ سے ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایات دی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ جب قریش نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے مکہ پر حملہ کی تیاریاں شروع کردیں۔ اسی زمانے میں مکہ سے ایک عورت آئی جو پہلے بنی عبد المطلب کی لونڈی تھی پھر آزاد ہو کر گانے بجانے کا کام کرتی تھی۔ اس نے آ کر حضور ﷺ سے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی اور مالی مدد مانگی۔ آپ ﷺ نے بنی عبد المطلب سے اپیل کر کے اس کی حاجت پوری کردی۔ جب وہ مکہ جانے لگی تو حضرت حاطب اسے بعض سردارانِ مکہ کے نام ایک خط دیا کہ اسے ان لوگوں تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اس پر مطلع فرما دیا۔ آپ ﷺ نے حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت مقداد کو حکم دیا کہ جائو، روضۂ خاخ کے مقام پر تم کو ایک عورت ملے گی جس کے پاس مشرکین کے نام حاطب کا ایک خط ہے۔ اس سے وہ خط حاصل کرو۔ یہ حضرات جب وہاں پہنچے تو وہ عورت وہاں موجود تھی۔ انہوں نے اس سے خط مانگا تو اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ انہوں نے کہاخط ہمارے حوالے کر دو ورنہ ہم برہنہ کر کے تیری تلاشی لیں گے۔ تو اس نے اپنی چوٹی سے وہ خط نکال کر انہیں دے دیا۔ وہ لوگ وہ خط حضور ﷺ کی خدمت میں لے ائے۔ اسے کھول کر پڑھا گیا تو اس میں حملے کی اطلاع تھی۔ حضور ﷺ نے حضرت حاطب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں کافر و مرتد نہیں ہوگیا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ میرے اقرباء مکہ میں مقیم ہیں۔ میں قریش کے قبیلے کا آدمی نہیں ہوں۔ بلکہ بعض قریشیوں کی سرپرستی میں وہاں آباد ہوا تھا۔ جن دوسرے مہاجرین کے اہل و عیال مکہ میں ہیں ان کو تو ان کا قبیلہ بچا لے گا لیکن میرا کوئی قبیلہ وہاں نہیں ہے۔ میں نے یہ خط اس خیال سے بھیجا تھا کہ قریش والوں پر میرا ایک احسان رہے اور وہ میرے بال بچوں کو نہ چھیڑیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حاطب کی یہ بات سن کر حاضرین سے فرمایا کہ حاطب نے تم سے سچی بات کہی ہے۔ حضرت عمر نے ان کو قتل کرنے کی اجازت مانگی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے جنگ بدر میں حصہ لیا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رو دیے اور کہا کہ اللہ اور اس کے رسول سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔
اگرچہ ان آیات کے نزول کا موقع حضرت حاطب کا واقعہ ہی تھا لیکن ان میں اللہ تعالیٰ نے انہی کے مقدمہ پر کلام فرمانے کے بجائے تماما ہلِ ایمان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہدایات دی ہیں۔ ان ہدایات اور حضرت حاطب کے واقعات کی روشنی میں کچھ اہم نتائج برآمد ہوتے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں :
1 ۔ قطع نظر اس سے کہ کرنے والے نے کس نیت سے کیا، لیکن یہ فعل بجائے خود ایک جاسوسی کا فعل تھا۔ اور جاسوسی بھی بڑے نازک موقع پر سخت خطرناک نوعیت کی تھی۔ پھر معاملہ شبہ کا بھی نہ تھا بلکہ ملزم کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا خط پکڑا گیا تھا جس کے بعد کسی ثبوت کی حاجت نہ تھی۔ حالات بھی زمانہ جنگ کے تھے مگر اس کے باوجود نبی ﷺ نے حضرت حاطب کو صفائی کا موقع دیئے بغیر نظر بند نہیں کردیا۔ اور صفائی کا موقع بھی ان کو بند کمرے میں نہیں بلکہ کھلی عدالت میں برسرعام دیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ایسے قوانین اور قواعد و ضوابط کی کوئی گنجائش نہیں ہے جن کی رو سے حکام کو یہ حق پہنچتا ہو کہ کسی شخص کو محض اپنے علم یا شبہ کی بنا پر قید کردیں۔ اور بند کمرے میں خفیہ طریقے سے مقدمہ چلانے کا طریقہ بھی اسلام میں نہیں ہے۔
2 ۔ حضرت حاطب کے مقدمہ میں حضرت عمر نے جس رائے کا اظہار کیا وہ ان کے فعل کی ظاہری صورت کے لحاظ سے تھا جس کی بنا پر انہوں نے حضرت حاطب کو منافق اور واجب القتل قرار دیا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان کی رائے کو رد فرما دیا اور اسلامی شریعت کا نکتۂ نظریہ بنایا کہ محض فعل کی ظاہری شکل پر ہی فیصلہ نہیں کردینا چاہیے بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جس شخص سے یہ صادر ہوا ہے اس کی پچھلی زندگی اور مجموعی سیرت کیا شہادت دیتی ہے۔ ایک مخلص مسلمان کی غلطی اور منافق کی غداری میں بڑا فرق ہے۔ محض نوعیت فعل کی بنا پر دونوں کی ایک ہی سزا نہیں ہوسکتی۔ یہ تھا اس مقدمہ میں رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ اور اللہ تعالیٰ نے ان ایات میں اس کی تائید فرمائی۔
3 ۔ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ کسی مسلمان کا کفار کے لیے جاسوسی کر بیٹھنا بجائے خود اس بات کا فیصلہ کردینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ وہ مرتد ہوگیا ہے یا ایمان سے خارج ہے یا منافق ہے۔ ایسا فیصلہ کرنے کے لیے اگر کچھ دوسرے قرائن و شواہد موجود ہوں تو بات الگ ہے ورنہ اپنی جگہ یہ فعل صرف ایک جرم ہے کفر نہیں ہے۔
4 ۔ جاسوس کی سزا کے مسئلہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام شافعی اور بعض دوسرے فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ مسلمان جاسوس کو تعزیر (کوئی سزا) دی جائے گی مگر اس کا قتل جائز نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی کہتے ہیں کہ اسے جسمانی عقوبت اور طویل قید کی سزا دی جائے گی، امام مالک کہتے ہیں اسے قتل کیا جائے گا۔
5 ۔ حدیث مذکور سے اس امر کا جواز بھی نکلتا ہے کہ تفتیش جرم کے لیے اگر ضرورت پڑے تو ملزم مرد ہی نہیں، عورت کے کپڑے بھی اتارے جاسکتے ہیں۔ اگر یہ فعل جائز نہ ہوتا تو تین جلیل القدر صحابی اس کی دھمکی نہیں دے سکتے تھے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 4، ص 422 تا 428 سے ماخوذ)
Ayah 60:4[قَدْ كَانتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ: ہوچکا ہے تمہارے لیے ایک بھلائی والا نمونہ ][ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِينَ مَعَهٗ : ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان لوگوں میں جو ان کے ساتھ تھے ][ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ : جب ان لوگوں نے کہا اپنی قوم سے ][ انا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ : بیشک ہم بیزار ہیں تم لوگوں سے ][ وَمِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اور اس سے جس کی تم بندگی کرتے ہو اللہ کے علاوہ ][ كَفَرْنَا بِكُمْ : ہم نے انکار کیا تمہارا ][ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ : اور ظاہر ہوئی ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ] [ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ : دشمنی اور بغض ][اَبَدًا : ہمیشہ کے لیے ][ حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ : یہاں تک کہ تم لوگ ایمان لائو اللہ پر ][ وَحْدَهٗٓ: بلحاظ اس کے تنہا ہونے کے ][ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ : مگر ابراہیم کا کہنا اپنے والد سے (اسوہ نہیں)][ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ : (کہ) میں لازماً مغفرت مانگوں گا آپ کے لیے ][ وَمَآ اَمْلِكُ لَكَ : حالانکہ میں اختیار نہیں رکھتا آپ کے لیے ][ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ : اللہ سے کچھ بھی ][ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا : اے ہمارے رب تجھ پر ہی ہم نے بھروسہ کیا ][ وَاِلَيْكَ انبْنَا : اور تیری طرف ہی ہم نے رخ کیا ][ وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ : اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے ]
نوٹ۔ 1 : کفار سے ترک موالات کی تاکید کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ ان کا تو سارا خاندان مشرکین کا تھا۔ انہوں نے سب سے بیزاری کا ہی نہیں بلکہ عداوت کا اعلان کردیا اور بتلا دیا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لائو گے اور شرک سے باز نہ آئو گے ہمارے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی دیوار حائل رہے گی۔ (معارف القرآن)
نوٹ۔ 2 : الا قول ابراہیم کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ بات تو قابل تقلید ہے کہ انہوں نے اپنی مشرک قوم سے صاف صاف بیزاری اور قطع تعلق کا اعلان کردیا۔ مگر ان کی یہ بات قابل تقلید نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے مشرک باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کا وعدہ کیا اور عملاً اس کے حق میں دعا کی بھی۔ (یاد رہے کہ یہ دعاء آپ (علیہ السلام) نے فرزند ہونے کی حیثیت اپنے والد کی ہمدردی کے لیے کی اور اللہ تعالیٰ نے ایسی دعا کرنے سے روکا بھی نہیں تھا۔ اب چونکہ معاملہ واضح ہوچکا ہے۔ (مرتب) اس لیے کہ کافروں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا اتنا تعلق بھی اہل ایمان کو نہ رکھنا چاہیے۔ پس کوئی مسلمان اس دلیل سے اپنے کافر عزیزوں کے حق میں دعائے مغفرت کرنے کا مجاز نہیں ہے کہ یہ کام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ اس کام کی پوری تفصیل قرآن مجید میں اس طرح ہے۔ ان کے باپ نے جب ان کو گھر سے نکال دیا تو چلتے وقت انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنے رب سے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کروں گا (مریم۔ 147) ۔ اسی وعدے کی بنا پر انہوں نے دو مرتبہ اس کے حق میں دعا کی۔ ایک دعا کا ذکر سورة ابراہیم آیت۔ 41 میں ہے اور دوسری دعا سورة شعراء کی آیت ۔ 86 میں ہے۔ لیکن بعد میں جب انہیں احساس ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن تھا تو انہوں نے اس سے بیزاری کا اعلان کردیا۔ (التوبہ۔ 114) (تفہیم القرآن)
Ayah 60:5[رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً : اے ہمارے رب تو مت بنا ہم کو ایک آزمائش ][ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنھوں نے کفر کیا ][ وَاغْفِرْ لَنَا : اور تو بخش دے ہمارے لیے (ہمارے گناہ)][ رَبَّنَا : اے ہمارے رب ][ انكَ انتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : بیشک تو ہی بالا دست ہے حکمت والا ہے ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 5 ۔ میں فتنۃ کا لفظ ہدف فتنہ کے معنی میں آیا ہے۔ اس سے مراد کفار کی وہ اذیتیں ہیں جو مسلمانوں کو وہ پہنچا سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تیری توحید کی غیرت میں ان مشرکوں سے اعلان عداوت کردیا اب ان کی طرف سے جو کچھ پیش آئے ہم اس کے لیے سینہ سپر ہیں لیکن ہمارا بھروسہ تیری مدد پر ہے۔ ان کو اتنی ڈھیل نہ دینا کہ وہ ہم کو اپنے مظالم کا تختۂ مشق بنالیں۔ (تدبر قرآن)
Ayah 60:6[لَقَدْ كَان لَكُمْ فِيْهِمْ : یقینا ہوچکا ہے تمہارے لیے ان لوگوں میں ][ اُسْوَةٌ حَسَـنَةٌ: ایک بھلائی والا نمونہ ][ لِمَنْ كَان : اس کے لیے جو ہے (کہ)][ يَرْجوا اللّٰهَ : وہ امید رکھتا ہے اللہ (سے ملنے) کی ][ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ : اور اس آخری دن (کے قائم ہونے) کی ][ وَمَنْ يَّتَوَلَّ : اور جو روگردانی کرے گا ][فَان اللّٰهَ : تو یقینا اللہ ہے ][هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ : (کہ) وہی بےنیاز ہے ہمیشہ حمد کیا ہوا ہے ]
Ayah 60:7[عَسَى اللّٰهُ ان يَجْعَلَ : قریب ہے کہ اللہ پیدا کر دے ][ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ : تمہارے درمیان اور ان کے درمیان جس سے ][ عَادَيْتم : تمہارا جھگڑا ہے ][ مِّنْهُمْ : ان میں سے (کچھ سے)][ مَّوَدَّةً : دوستی ][ وَاللّٰهُ قَدِيْرٌ: اور اللہ قدرت والا ہے ][ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : اور اللہ بےانتہا بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 60:8[لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ : نہیں روکتا تم کو اللہ ][ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ : ان سے جنھوں نے جنگ نہیں کی تم سے ][ فِي الدِّيْنِ : دین (کے بارے) میں ][ وَلَمْ يُخْرِجوكُمْ : اور انھوں نے نہیں نکالا تم کو ][ مِّنْ دِيَارِكُمْ : تمہارے گھروں سے ][ ان : (اس سے) کہ ][ تَبَرُّوْهُمْ : تم لوگ حسن سلوک کرو ان سے ][وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْهِمْ : اور انصاف کا رویہ اختیار کرو ان کی طرف ][ان اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ : بیشک اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو ]
Ayah 60:9[انمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ : اللہ تو بس روکتا ہے تم کو ][ عَنِ الَّذِينَ قٰتَلُوْكُمْ : ان سے جنھوں نے جنگ کی تم سے ][ فِي الدِّيْنِ : دین (کے بارے) میں ][ وَاَخْرَجوكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ : اور تم کو نکالا تمہارے گھروں سے ][ وَظٰهَرُوْا : اور باہم مدد کی ][ عَلٰٓي اِخْرَاجِكُمْ : تم کو نکالنے پر ][ ان : (اس سے) کہ ][ تَوَلَوْهُمْ : تم لوگ دوستی کرو ان سے ][ وَمَنْ يَّتَوَلَهُمْ : اور جو دوستی کرے گا ان سے ][ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ : تو وہ لوگ ہی ظلم کرنے والے ہیں ]
نوٹ۔ 1 : انسانوں کے انسانوں کے ساتھ تعلقات کی چار سطحیں (levels) ہیں غیر مسلموں میں سے کس قسم کے غیر مسلم سے کس سطح کے تعلقات جائز ہیں اور کس سطح کے تعلقات سے روکا گیا ہے، اس کی وضاحت آیت نمبر 3:28 کے نوٹ۔ 1 میں کی جا چکی ہے، اسے دوبارہ دیکھ لیں۔
Ayah 60:10[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ : اے لوگو جو ایمان لائے جب کبھی آئیں تمہارے پاس ][الْمُؤْمِنٰتُ : ایمان لانے والیاں ][ مُهٰجِرٰتٍ : ہجرت کرنے والیاں ہو کر ][ فَامْتَحِنُوْهُنَّ : تو تم لوگ جانچ لیا کرو ان کو ][ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَان هِنَّ : اللہ خوب جاننے والا ہے ان کے ایمان کو ][ فَان عَلِمْتموْهُنَّ : پھر اگر تم لوگ جانو ان کو ][ مُؤْمِنٰتٍ : ایمان لانے والیاں ][ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ : تو واپس مت کرو ان کو ][ اِلَى الْكُفَّارِ : کافروں کی طرف ][لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ : یہ خواتین حلال نہیں ہیں ان کے لیے ][ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ : اور نہ وہ لوگ حلال ہوں گے ان کے لیے ][ وَاٰتُوْهُمْ : اور تم لوگ دے دو ان (کافروں) کو ][ مَآ انفَقُوْا : وہ جو انھوں نے خرچ کیا ][وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ : اور کوئی حرج نہیں ہے تم پر ][ان تَنْكِحُوْهُنَّ : کہ تم لوگ نکاح کرو ان سے ][اِذَآ اٰتَيْتموْهُنَّ : جب کہ تم ادا کرو ان کو ][ اُجورَهُنَّ : ان کی اجرت (مہر)][ وَلَا تمسِكُوْا : اور تم لوگ مت روکے رکھو ][ بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ : کافر عورتوں کے نکاح کو [ وَاسْـَٔــلُوْا مَآ انفَقْتم : اور تم لوگ مانگ لو وہ جو تم نے خرچ کیا ][ وَلْيَسْـَٔــلُوْا مَآ انفَقُوْا : اور چاہیے کہ وہ (کافر) مانگ لیں وہ جو انھوں نے خرچ کیا ][ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ : یہ اللہ کا حکم ہے ][يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ : اور فیصلہ کرتا ہے تمہارے مابین ][ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ : اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے ]
نوٹ۔ 1 : صلح حدیبیہ کے بعدپہلے تو مسلمان مرد مکہ سے بھاگ کر مدینہ آتے رہے اور انہیں معاہدہ کی شرائط کے مطابق واپس کیا جاتا رہا۔ پھر مسلمان عورتوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا سب سے پہلے اُمّ کلثوم ہجرت کر کے مدینہ پہنچیں۔ کفار نے معاہدہ کا حوالہ دے کر ان کی بھی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہوا کہ معاہدے کا اطلاق کیا عورتوں پر بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں بتایا کہ اگر یہ اطمینان کرلیا جائے کہ وہ واقعی ایمان ہی کی خاطر ہجرت کر کے آئیں ہیں تو انہیں واپس نہ کیا جائے عام طور پر مفسرین نے یہی سمجھا ہے کہ معاہدہ عام تھا جس میں عورت مرد سب داخل تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومن عورتوں کی حد تک معاہدہ توڑنے کا فیصلہ فرما دیا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ معاہدہ کی یہ شرط مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ قریش کی طرف سے تھی اور ان کے نمائندے سہیل بن عمرو جو الفاظ لکھوائے تھے وہ یہ تھے۔ ” اور یہ کہ تمہارے پاس ہم میں سے کوئی مرد (رَجُلٌ) آئے، اگرچہ وہ تہارے دین ہی پر ہو، تم اسے ہماری طرف واپس کرو گے۔ معاہدے کے یہ الفاظ بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد والمصالمہ میں نقل ہوئے ہیں۔ اسی بنا پر اُمّ کلثوم کی واپسی کا مطالبہ لے کر ان کے بھائی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان واپس کرنے سے یہ کہہ کر انکار فرمایا تھا کہ ” شرط مردوں کے بارے میں تھی نہ کہ عورتوں کے بارے میں۔ “ اس وقت تک خود قریش کے لوگ بھی اس غلط فہمی میں تھے کہ معاہدے کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہوتا ہے مگر جب حضور ﷺ نے ان کو معاہدے کے الفاظ کی طرف توجہ دلائی تو وہ دم بخود رہ گئے اور انہیں اس فیصلے کو ماننا پڑا۔ (تفہیم القرآن۔ ج 5، ص 434 تا 436 سے ماخوذ) اس طرح اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی توثیق کی گئی ہے لیکن یہ توثیق مشروط ہے۔ صرف ایسی خواتین کو واپس نہ کرنے کا فیصلہ ہے جو حقیقتاً اپنے ایمان کی خاطر ہجرت کر کے آئیں۔ پھر اس فیصلہ پر عمدرآمد کے لیے ہدایات ہیں۔ (مرتب)
نوٹ۔ 2 : حکم یہ ہوا کہ زوجین میں اگر ایک مسلمان اور دوسرا مشرک ہو تو تعلق نکاح قائم نہیں رہتا، پس اگر کسی کافر کی عورت مسلمان ہو کر ” دارالسلام “ میں آجائے تو جو مسلمان اس سے نکاح کرے اس کے ذمہ ہے کہ اس کافر نے جتنا مہر اس عورت پر خرچ کیا تھا، وہ اسے واپس کرے اور اب عورت کا جو مہر قرار پائے وہ جدا اپنے ذمہ رکھے، تب نکاح میں لاسکتا ہے دوسری طرف یہ حکم ہوا کہ جس مسلمان کی عورت کافر رہ گئی ہے وہ اس کو چھوڑ دے۔ پھر جو کافر اس سے نکاح کرے، وہ مسلمان کا خرچ کیا ہوا مہر واپس کرے۔ جب یہ حکم اترا تو مسلمان دینے اور لینے، دونوں کے لیے تیار ہوئے لیکن کافروں نے دینا قبول نہ کیا۔ تب اگلی آیت نازل ہوئی کہ جس مسلمان کی عورت گئی اور کافر اس کا کیا ہوا خرچ واپس نہیں کرتے تو جب کسی کافر کی عوت مسلمانوں کے ہاں آئے تو اس کا جو خرچ دینا تھا وہ کافر کو نہ دیں بلکہ اس مسلمان کو دیں جس کا حق مارا گیا ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند)
Ayah 60:11[وَان فَاتَكُمْ : اور اگر ہاتھ سے نکل جائے ][ شَيْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ : کوئی بھی تمہاری بیویوں میں سے ][ اِلَى الْكُفَّارِ : کافروں کی طرف ][ فَعَاقَبْتم : پھر تم لوگ بدلے (کا موقع پائو کافروں سے)][ فَاٰتُوا الَّذِينَ : تو تم لوگ دو ان کو ][ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ : گئیں جن کی بیویاں [ مِّثْلَ مَآ انفَقُوْا : اس کے جیسا جو انھوں نے خرچ کیا ][وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيٓ: اور تقوٰی اختیار کرو اس اللہ کا ][ انتم بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ : تم لوگ جس پر ایمان رکھنے والے ہو ]
Ayah 60:12[يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ : اے نبی جب کبھی آئیں آپ کے پاس مومن عورتیں ][ يُبَايِعْنَكَ : (کہ) وہ بیعت کرتی ہیں آپ سے ][ عَلٰٓي ان : اس بات پر کہ ][ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَـيْـــــًٔــا : وہ شریک نہیں کریں گی اللہ کے ساتھ کسی چیز کو ][وَّلَا يَسْرِقْنَ : اور وہ چوری نہیں کریں گی ][وَلَا يَزْنِيْنَ : اور وہ زنا نہیں کریں گی ][ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ : اور قتل نہیں کریں گی اپنی اولاد کو ][ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَان : اور وہ نہیں لائیں گی کوئی ایسا بہتان ][يَّفْتَرِيْنَهٗ : انھوں نے گھڑا ہو جس کو ][ بَيْنَ اَيْدِيْ هِنَّ وَاَرْجُلِ هِنَّ : اپنے ہاتھوں اور پیروں کے سامنے ][ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ : اور نافرمانی نہیں کریں گی کسی نیک بات (شریعت) میں ][فَبَايِعْهُنَّ : تو آپ بیعت لیں ان سے ][وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ : اور آپ مغفرت مانگیں ان کے لیے اللہ سے ][ ان اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: بیشک اللہ بےانتہا بخشنے والا ہمیسہ رحم کرنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1 : آیت۔ 12 ۔ میں نبی ﷺ کی اطاعت پر بھی اطاعت فی المعروف کی قید لگائی گئی ہے حالانکہ حضور ﷺ کے بارے میں کسی ادنیٰ شبہ کی گنجائش بھی نہ تھی کہ آپ ﷺ کبھی منکر کا بھی حکم دے سکتے ہیں۔ اس سے خود بخود یہ بات واضح ہوگئی کہ دنیا میں کسی مخلوق کی اطاعت قانونِ خداوندی کے باہر نہیں ہوگی۔ اس قاعدے کو رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا : ” لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِبَۃِ اللّٰہ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ ۔ “ اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت صرف معروف میں ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت کرے، اللہ تعالیٰ اس پر اسی مخلوق کو مسلط کردیتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 60:13[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَوْا قَوْمًا : اے لوگو جو ایمان لائے تم لوگ دوستی مت کرو کسی ایسی قوم سے ][غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ : غضب کیا اللہ نے جن پر ][ قَدْ يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ : وہ لوگ مایوس ہوگئے ہیں آخرت سے ][ كَمَا يَىِٕسَ الْكُفَّارُ : جیسے کہ مایوس ہوئے کافر لوگ ][مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ : قبروں والوں سے ]
نوٹ۔ 2 : آیت۔ 13 ۔ کے آخری حصے کے دو معنی کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ آخرت کی بھلائی اور اس کے خواب سے اسی طرح مایوس ہیں جیسے موت کے بعد کی زندگی سے انکار کرنے والے اس بات سے مایوس ہیں کہ ان کے جو رشتہ دار قبروں میں جا چکے ہیں وہ کبھی پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ یہ معنی صحابہ کرام میں سے حضرت عبد اللہ بن عباس نے بیان کیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ آخرت کی رحمت و مغفرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر ہر خیر سے مایوس ہیں، کیونکہ انہیں مبتلائے عذاب ہونے کا یقین ہوچکا ہے۔ صحابہ کرام میں سے یہ معنی حضرت عبد اللہ بن مسعود نے بیان کیے ہیں۔ (تفہیم القرآن)