Ayah 59:1[سَبَّحَ للّٰهِ : تسبیح کرتا ہے اللہ کی ][ مَا فِي السَّمٰوٰتِ : وہ جو (کچھ) آسمانوں میں ہے ][ وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور وہ جو (کچھ) زمین میں ہے ][وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور وہ ہی بالادست ہی حکمت والا ہے ]
Ayah 59:2[هُوَ الَّذِيٓ اَخْرَجَ : وہ، وہ ہے جس نے نکالا ][ الَّذِينَ كَفَرُوْا : ان کو جو مکر گئے ][ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ][ مِنْ دِيَارِهِمْ : ان کے گھروں سے ][لِاَوَّلِ الْحَشْرِ : حشر کی پہل کے یے ][مَا ظَنَنْتم : تمہیں گمان نہیں تھا ][ ان يَّخْرُجوا : کہ وہ لوگ نکلیں گے ][ وَظَنُّوْٓا : اور انھیں گمان تھا ][ انهُمْ : کہ وہ (وہ) ہیں ] [مَانعَتُهُمْ : جن کا بچائو کرنے والے ہیں ][ حُصُوْنُهُمْ : ان کے قلعے ][ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ][ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ : تو پہنچا ان کے پاس اللہ[ مِنْ حَيْثُ : وہاں سے جہاں سے ][ لَمْ يَحْتَسِبُوْا : انھیں خیال تک نہ تھا ][وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ : اور اس نے ڈالا ان کے دلوں میں ][ الرُّعْبَ : رعب ][ يُخْرِبُوْنَ : تو وہ لوگ اجاڑتے تھے ][ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ : اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے ][وَاَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ : اور مومنوں کے ہاتھوں سے ][ فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ : تو عبرت حاصل کرو اے بصیرت والو ]
نوٹ۔ 1 : حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ سورة غزوئہ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ مفسرین کا بیان ہے کہ اس میں جن اہل کتاب کے نکالے جانے کا ذکر ہے ان سے مراد بنی نضیر ہی ہیں۔ اس لیے اس سورة کے مضامین کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مدینہ کے یہودیوں کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے کیونکہ اس کے بغیر کوئی آدمی ٹھیک ٹھیک یہ نہیں جان سکتا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مختلف قبائل کے ساتھ جو معاملہ کیا اس کے اسباب کیا تھے۔
عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند تاریخ دنیا میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے ایسی کوئی تحریر نہیں چھوڑی جس سے ان کے ماضی پر روشنی پڑ سکے۔ اور عرب کے باہر کے مؤرخین نے ان کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ دنیا کے یہودی ان کو اپنوں میں شمار نہیں کرتے تھے کیونکہ انہوں نے عبرانی تہذیب، زبان حتیٰ کہ نام تک چھوڑ کر عربیت اختیار کرلی تھی۔ اس لیے عرب کے یہودیوں کی تاریخ کا بیشتر انحصار ان زبانی روایات پر ہے جو اہل عرب میں مشہور تھیں لیکن تاریخ (یعنی فلسطین کی تاریخ) سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ 122 میں رومیوں نے فلسطین سے یہودیوں کو نکال باہر کیا، اس دور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزیں ہوئے تھے۔ بنی قریظہ، بنی نضیر اور بنی قینقاع اسی دور میں آ کر یثرب پر قابض ہوئے۔ یہ لوگ جب مدینہ میں آ کر آباد ہوئے اس وقت کچھ عرب قبائل یہاں رہتے تھے جن کو تقریباً تین صدی بعد 450 میں یمن کے اس سیلاب عظیم کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورة سبا کے دوسرے رکوع میں ہوا ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے قوم سبا کے مختلف قبیلے یمن سے نکل کر عرب کے اطراف میں پھیل جانے پر مجبور ہوئے تھے اس لیے یہ دونوں عرب قبیلے چارو ناچار بنجر زمینوں پر بس گئے۔ پھر ان کا ایک سردار اپنے غسّانی بھائیوں سے مدد مانگنے کے لیے شام گیا اور وہاں سے ایک لشکر لا کر اس نے یہودیوں کا زور توڑ دیا۔ اس طرح اوس اور خزرج کو یثرب پر پورا غلبہ حاصل ہوگیا۔ بنی نضیر اور بنی قریظہ شہر کے باہر جا کر بسنے پر مجبور ہوئے، جبکہ بنی قینقاع شہر کے اندر ہی مقیم رہے۔
عرب میں آباد یہودیوں نے زبان، لباس تہذیب و تمدن، ہر لحاظ سے پوری طرح سے عربیت کا رنگ اختیار کرلیا تھا۔ ان میں اور عام عربوں میں دین کے سوا کوئی فرق باقی نہ رہا تھا۔ لیکن ان ساری باتوں کے باوجود وہ عربوں میں جذب بالکل نہ ہوئے تھے اور انہوں نے پوری شدت کے ساتھ اپنی یہودی عصبیت برقرار رکھی تھی اور معاشی حیثیت سے بھی ان کی پوزیشن عرب قبائل بہ نسبت زیادہ مستحکم تھی جس کی ایک بڑی وجہ ان کا سودی کاروبار تھا۔ یہ حالات تھے جب مدینہ میں اسلام پہنچا۔ پھر رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ وہاں پہنچتے ہی آپ ﷺ نے جو اولین کام کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اوس اور خزرج اور مہاجرین کو ملا کر ایک برادری بنائی اور دوسرا یہ تھا کہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی تھی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا اور بیرونی دشمن کے مقابلے میں یہ سب متحدہ دفاع کریں گے۔ یہ ایک قطعی اور واضح معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوں نے قبول کی تھیں۔ لیکن بہت جلدی انہوں نے رسول اللہ ﷺ ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مخالفانہ روش کا اظہار ـشروع کردیا اور ان کا عناد سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ مگر جب جنگ بدر میں مسلمانوں کو قریش پر فتح حاصل ہوئی تو انہوں نے معاہدے کی کھلی کھلی خلاف ورزی شروع کردی۔ یہودیوں کا پہلا قبیلہ جس نے جنگ بدر کے بعد اپنا معاہدہ توڑ دیا وہ بنی قینقاع تھا۔ یہ لوگ شہر مدینہ میں ایک محلہ میں آباد تھے اور چونکہ یہ وسنہار، لوہار اور ظروف ساز تھے اس لیے ان کے بازار میں اہل مدینہ کو کثرت سے جانا آنا پڑتا تھا۔ آہن گر ہونے کی وجہ سے ان کا بچہ بچہ مسلح تھا اور ان کو اپنی شجاعت پر بڑا ناز تھا۔ ان کو اس بات کا بھی زعم تھا کہ قبیلۂ خزرج ان کا حلیف اور خزرج کا سردار عبد اللہ بن ابی ان کا پشت پناہ ہے۔ چناچہ انہوں نے اپنے بازار میں آنے جانے والے مسلمانوں کو ستانا اور خاص طور سے ان کی عورتوں کو چھیڑنا شروع کردیا۔ اس پر ایک دن جھگڑا ہوگیا جس میں ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہوگیا۔ تو رسول اللہ ﷺ ان کے محلہ میں تشریف لے گئے اور ان کو جمع کر کے ان کو راہ راست پر آنے کی تلقین کی مگر انہوں نے جواب دیا کہ قریش لڑنا نہیں جانتے تھے اس لیے تم نے انہیں مار لیا۔ ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ مرد کیسے ہوتے ہیں۔ یہصاف صاف اعلان جنگ تھا۔ ل چناچہ رسول اللہ ﷺ نے شوال 2 ھ کے آخر میں ان کے محلہ کا محاصرہ کرلیا۔ پندرہ روز بعد انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور ان کے تمام قابل جنگ آدمی گرفتار کرلیے گئے۔ اس وقت عبد اللہ بن ابی نے اسرار کر کے انہیں معافی دلوائی تو انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اپنا مال، اسلحہ اور آلات صنعت چھوڑ کر مدینہ سے نکل جائیں۔
دوسری طرف بنی نضیر کے سردار کعب بن اشرف کو جب جنگ بدر میں قریش کی شکست کی خبر پہنچی تو وہ چیخ اٹھا کہ اب زمین کا پیٹ ہمارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے۔ پھر وہ مکہ گیا اور مقتولین بدر کے لیے مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اکسایا۔ پھر مدینہ واپس آ کر اس نے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفاء کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اظہار عشق کیا گیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ربیع الاوّل 3 ھ میں محمد بن مسلمہ ؓ کو بھیج کر اسے قتل کرا دیا۔ (ضمنی طور پر نوٹ کرلیں کہ یہ واقعہ بھی توہین رسالت کی سزا کے لیے ایک سند ہے۔ الترحیق المنحتوم میں ہے کہ ” اللہ کا یہ دشمن رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی ہجو اور دشمنان اسلام کی مدح کرائی پر اتر آیا “… ” یہی حالات تھے جن سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے کیوں کہ اس سے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔ “ (مرتب)
ان دو سخت اقدامات سے کچھ مدت تک یہودیوں کو مزید شرارت کرنے کی ہمت نہیں ہوئی مگر شوال 3 ھ میں جنگ احد کے موقعہ پر یہودیوں نے معاہدے کی صریح خلاف ورزی اس طرح کی کہ مدینہ کی مدافعت میں مسلمانوں کے ساتھ شریک نہ ہوئے، حالانکہ وہ اس کے پابند تھے۔ پھر جب احد میں مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو ان کی ہمت اور بڑھ گئی۔ یہاں تک کہ بنی نضیر نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی باقاعدہ ایک سازش کی جو عین وقت پر ناکام بنادی گئی۔ اس کے بعد ان کے ساتھ کسی رعایت کا سوال باقی نہ رہا اور ان کو الٹی میٹم دے دیا گیا کہ دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جائیں۔ دوسری طرف عبد اللہ بن ابی نے ان کو پیغام بھیجا کہ میں تمہاری مدد کروں گا۔ تم ہرگز اپنی جگہ نہ چھوڑو۔ اس بھروسے پر انہوں نے یہ جواب بھیجا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے۔ اس پر ربیع الاول 4 ھ میں ان کا محاصرہ کرلیا گیا۔ چند روز کے بعد وہ اس شرط پر مدینہ چھوڑنے کے لیے راضی ہوگئے کہ اسلحہ کے علاوہ جو کچھ بھی وہ اپنے اونٹوں پر لاد کرلے جاسکیں گے چناچہ وہ لوگ خیبر اور شام کی طرف نکل گئے۔ یہی واقعہ ہے جس سے اس سورة میں بحث کی گئی ہے۔ (تفہیم القرآن ج 5، ص 370 تا 379 سے ماخوذ)
نوٹ۔ 2: لِاَوَّلِ الْحَشْرِ کا مطلب یہ ہے کہ ان کا یہ اخراج پہلے حشر کے طور پر ہوا۔ اس کے اندر یہ تنبیہ (یعنی پیشنگوئی) ہے کہ اس کے بعد بھی انہیں خیبر سے بھی نکلنا پڑا۔ اور سب سے بڑا حشر یعنی قیامت کا حشر آگے آنے والا ہے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 3: ان کا اپنے مکانات کو اپنے ہاتھوں خراب کرنا تو اس طرح ہوا کہ اپنے دروازہ، کھڑکیاں ساتھ لے جانے کے لیے اکھاڑے اور مسلمانوں کے ہاتھوں اس طرح ہوا کہ جب یہ قلعہ بند تھے تو قلعہ سے باہر مسلمانوں نے مکانوں اور درختوں کو ویران کیا۔ (معارف القرآن)
Ayah 59:3[وَلَوْلَآ ان : اور اگر نہ ہوتا کہ ][كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ : لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر ][الْجَلَاۗءَ : جلاوطن کیا جانا ][ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا : تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا میں ][وَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ : اور ان کے لیے آخرت میں ][عَذَابُ النَارِ : آگ کا عذاب ہے ]
Ayah 59:4[ذٰلِكَ بِانهُمْ : یہ اس سبب سے کہ انھوں نے ][ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : مخالفت کی اللہ اور اس کے رسول کی ][ وَمَنْ يُّشَاۗقِّ اللّٰهَ : اور جو مخالفت کرے گا اللہ کی ][ فَان اللّٰهَ : (تو وہ یاد رکھے کہ) پھر اللہ ][شَدِيْدُ الْعِقَابِ : سزا دینے کا سخت ہے ]
Ayah 59:5[مَا قَطَعْتم : جو تم لوگوں نے کاٹا ][ مِّنْ لِيْنَةٍ : کوئی بھی کھجور کا درخت ][اَوْ تَرَكْتموْهَا : یا تم نے چھوڑا ان کو ][قَاۗىِٕمَةً : کھڑا ہوا ][عَلٰٓي اُصُوْلِهَا : اپنی جڑوں پر ][فَبِاِذْنِ اللّٰهِ : تو (وہ) اللہ کی اجازت سے تھا ][وَلِيُخْزِيَ الْفٰسِقِيْنَ : اور تاکہ وہ رسوا کرے نافرمانوں کو ]
Ayah 59:6[وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ : اور جو لوٹایا اللہ نے ][عَلٰي رَسُوْلِهٖ : اپنے رسول پر ][مِنْهُمْ : ان لوگوں سے ( لے کر)][ فَمَآ اَوْجَفْتم : تو نہیں دوڑایا تم لوگوں نے ][ عَلَيْهِ : اس پر ][مِنْ خَيْلٍ : کوئی بھی گھوڑا [ وَّلَا رِكَابٍ : اور نہ ہی کوئی اونٹ ][وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِــطُ : اور لیکن اللہ غلبہ دیتا ہے ][رُسُلَهٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ : اپنے رسولوں کو اس پر جس پر وہ چاہتا ہے ][وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ قَدِيْرٌ: اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1 : بنی نضیر کی متروکہ املاک کے متعلق ایک خیال یہ تھا کہ یہ دشمن سے حاصل شدہ مال ہے اس لیے اس کو بھی مال غنیمت کی طرح پانچواں حصہ نکال کے باقی سب فوجیوں میں تقسیم کردیا جائے۔ اس سے کچھ ہی پہلے جنگ بدر کے موقع پر ایسا ہی کیا گیا تھا۔ لیکن دونوں صورتوں میں نمایاں فرق ہونے کی وجہ سے قرآن نے اس رائے کو تسلیم نہیں کیا۔ بدر کے موقع پر مجاہدین کو باقاعدہ جنگ کرنی پڑی تھی جس میں ان کو اپنے اسلحہ اور اونٹ گھوڑے کام میں لانے پڑے تھے۔ جبکہ اس موقع پر اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ دشمن نے مرعوب ہو کر اپنا علاقہ خود خالی کردیا۔ اس لیے اس کے متعلق حکم ہوا کہ اس کی حیثیت مال فَے کی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے دشمنوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے۔ چناچہ یہ کل کا کل اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہوگا یا بالفاظ دیگر اسلامی حکومت کی ملکیت ہوگا۔ فَمَا اَوْ جَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَارِکَابٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ فوجیوں کو مال غنیمت سے جو حصہ دیا جاتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اپنے ذاتی اسلحہ، گھوڑے اور اونٹڑ جنگ میں استعمال کرنے پڑتے تھے۔ یہاں تک کہ اپنا زاد راہ بھی ساتھ رکھنا ہوتا تھا۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔ اس وجہ سے اس زمانے میں دشمن سے جو کچھ حاصل ہوگا، اس کی حیثیت فَے کی ہوگی، خواہ جنگ سے حاصل ہو یا صلح سے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 59:7[مَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ : جو لوٹایا اللہ نے ][عَلٰي رَسُوْلِهٖ : اپنے رسول پر ][ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى: ان بستی والوں سے (لے کر)][ فَللّٰهِ : تو (وہ) اللہ کے لیے ہے ][ وَ لِلرَّسُوْلِ : اور ان رسول کے لیے ہے ][ وَ لِذِي الْقُرْبٰى: اور قرابت والوں کے لیے ہے ][ وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ : اور یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے ][ كَيْ لَا يَكُوْنَ : تاکہ وہ نہ ہوجائے ][ دُوْلَةًۢ: ایک گردش میں رہنے والی چیز ][ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ : تم میں سے غنی لوگوں کے مابین ][وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ : اور وج دیں تم کو یہ رسول ][فَخُذُوْهُ : تو تم لوگ پکڑ لو اس کو ][ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ : اور اس سے وہ روکیں تم کو جس سے ][فَانتَهُوْا : تو تم لوگ رک جائو ][ وَاتَّقُوا اللّٰهَ : اور تقوٰی اختیار کرو اللہ کا ][ان اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : یقینا اللہ گرفت کرنے کا سخت ہے ]
نوٹ۔ 2: مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا۔ یہ حکم اگرچہ مال فَے کی تقسیم کے سلسلہ میں آیا ہے، اور اس سلسلہ کے مناسب کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مال فَے میں مستحقین کے طبقات بیان کردیئے ہیں لیکن ان میں کس کو کتنا دیں، یہ رسول اللہ ﷺ کی صواب دید پر ہے۔ لیکن اس حکم الفاظ عام ہیں اور صرف اموال کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں، بلکہ احکام بھی اس میں داخل ہیں۔ اس لیے عام انداز میں اس حکم کا مفہوم یہ ہے کہ جو کوئی حکم یا مال یا کوئی اور چیز آپ ﷺ کسی کو عطا فرما دیں وہ اس کو لے لے اور اس کے مطابق عمل کے لیے تیار ہوجائے۔ اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے صحابۂ کرام نے رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو مذکورہ بالا آیت کی بناء پر قرآن کا حکم قرار دیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے ایک شخص کو احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے پہنے دیکھا تو حکم دیا کہ یہ کپڑے اتار دو ۔ اس نے کہا کہ آپ اس کے متعلق مجھے قرآن کی کوئی آیت بتاسکتے ہیں جس میں سلے ہوئے کپڑوں کی ممانعت ہو۔ ابن مسعود نے فرمایا ہاں وہ آیت میں بتاتا ہوں۔ پھر یہی آیت پڑھ کر سنا دی۔ امام شافعی نے ایک مرتبہ لوگوں سے کہا میں تمہارے ہر سوال کا جواب قرآن سے دے سکتا ہوں ایک شخص نے کہا کہ ایک محرم (احرام باندھے ہوئے شخص) نے زنبور (تتیتا) کو مار ڈالا، تو اس کا قرآن میں کیا حکم ہے۔ امام شافعی نے یہی آیت تلاوت کر کے حدیث سے اس کا حکم بیان کردیا۔ (معارف القرآن)
Ayah 59:8[لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِينَ : (خصوصاً ) ان ہجرت کرنے والے محتاجوں کے لیے ہے جو ][اُخْرِجوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ : نکالے گئے اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے ][ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانا : تلاش کرتے ہوئے فضل کو اللہ سے اور رضامندی کو ][وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : اور مدد کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی ][اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ : وہ لوگ ہی سچ کہنے والے ہیں ]
نوٹ۔ 3 : آیات نمبر آٹھ، نو اور دس میں فقراء مہاجرین و انصار اور ان کے بعد آنے والے امت کے افراد کا بیان ہے اور ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی آیت میں جو یتیموں، مسکین اور مسافرین کو ان کے فقر و احتیاج کی بنا پر مال فَے کے مستحقین میں شمار کیا گیا ہے، ان آیات میں اس کی مزید تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ اگرچہ اس مال میں تمام ہی فقراء و مساکین ہیں لیکن پھر ان میں یہ حضرات مقدم ہیں جن کی دینی خدمات اور ذاتی اوصاف نمایاں ہوں، ان آیات میں بھی اوّل دو درجے قائم کیے گئے۔ ایک مہاجرین جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کے لیے قربانیاں پیش کیں۔ دوسرے انصارِ مدینہ، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین کی ایسی میزبانی کی جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ تیسرا درجہ ان مسلمانوں کو قرار دیا جو صحابہ کے بعد مشرف با سلام ہوئے جس میں قیامت تک آنے والے مسلمان سب شریک ہیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 59:9[وَالَّذِينَ : اور ان کے لیے ہے جنھوں نے ][ تَبَوَّؤُ : اقامت اختیار کی ][الدَّارَ وَالْاِيْمَان : اس گھر (شہر مدینہ) میں اور ایمان میں ][مِنْ قَبْلِهِمْ : ان (مہاجرین) سے پہلے ][يُحِبُّوْنَ : وہ لوگ محبت کرتے ہیں ][ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ : اس سے جس نے ہجرت کی ان کی طرف ][وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ : اور وہ لوگ نہیں پاتے اپنے سینوں میں ][ حَاجَةً مِّمَآ : کوئی حاجت اس میں سے جو ][ اُوْتُوا : ان (مہاجرین) کو دیا گیا ][ وَيُؤْثِرُوْنَ : اور وہ لوگ ترجیح دیتے ہیں (ان کو)][ عَلٰٓي انفُسِهِمْ : اپنی جانوں پر ][ وَلَوْ كَان بِهِمْ : اور اگرچہ ہو ان پر ][ خَصَاصَةٌ: کوئی محتاجی ][وَمَنْ يُّوْقَ : اور جس کو بچایا گیا ][ شُحَّ نَفْسِهٖ : اس کے جی کے بخل سے ][ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : تو وہ لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں ]
Ayah 59:10[وَالَّذِينَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ : اور ان کے لیے ہے جو آئے ان کے بعد ][ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا : کہتے ہوئے اے ہمارے رب تو بخش دے ہمارے لیے ][ وَلِاِخْوَاننَا الَّذِينَ : اور ہمارے ان بھائیوں کے لیے (گناہ) جنھوں نے ][ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَان : سبقت کی ہم پر ایمان میں ][وَلَا تَجْعَلْ : تو مت بنا ][ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا : ہمارے دلوں میں کوئی کدورت ][ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ][ رَبَّنَآ انكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ : اے ہمارے رب بیشک تو ہی انتہائی نرمی کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
نوٹ۔ 4 : آیت نمبر۔ 10 ۔ تک جو احکام ارشاد ہوئے ہیں ان میں یہ فیصلہ کردیا گیا ہے کہ فَے میں اللہ اور رسول ﷺ اور اقربائے رسول ﷺ اور یتامٰی اور مساکین اور ابن السبیل اور مہاجرین اور انصار اور قیامت تک آنے والی مسلمان نسلوں کے حقوق ہیں۔ قرآن پاک کا یہی اہم قانونی فیصلہ ہے جس کی روشنی میں حضرت عمر نے عراق، شام اور مصر کے مفتوحہ ممالک کی آراضی اور جائیدادوں کا نیا بندوبست کیا۔
یہ ممالک جب فتح ہوئے تو بعض صحابۂ کرام نے، جن میں حضرت زبیر، حضرت بلال، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت سلمان فارسی جیسے بزرگ بھی شامل تھے، اصرار کیا کہ ان آراضی اور جائیدادوں کو ان افواج میں تقسیم کیا جائے جنہوں نے لڑ کر انہیں فتح کیا ہے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ اموالِ فَے کی تعریف میں نہیں آتے کیونکہ ان پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑا کر انہیں جیتا ہے اس لیے مفتوحہ ممالک غنیمت کی تعریف میں آتے ہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں جو علاقے لڑ کر فتح کیے گئے تھے ان میں سے کسی کی آراضی کو آپ ﷺ نے غنیمت کی طرح تقسیم نہیں فرمایا تھا۔ آپ ﷺ کے زمانے کی دو بہترین مثالیں فتح مکہ اور فتح خیبر ہیں ان میں سے مکہ کو تو آپ ﷺ نے جوں کا توں اس کے باشندوں کے حوالہ فرما دیا جبکہ خیبر کے آپ ﷺ نے 36 حصے کیے، ان میں سے 18 حصے اجتماعی ضروریات کے لیے وقف کر کے باقی حصے فوج میں تقسیم فرما دیئے۔ حضور ﷺ کے عمل سے یہ ابت واضح ہوگئی تھی کہ مفتوحہ آراضی کا حکم، اگرچہ وہ لڑ کر ہی فتح ہوئی ہوں، غنیمت کا نہیں ہے۔ پس سنت سے جو بات ثابت تھی کہ لڑ کر فتح کیے جانے والے ممالک کے معاملہ میں امام وقت کو اختیار ہے کہ حالات کے مطابق مناسب فیصلہ کرے۔ مگر حضور ﷺ کے زمانے میں فتوحات کی کثرت نہ ہوئی تھی۔ اس لیے حضرت عمر کے زمانے میں جب بڑے بڑے ممالک فتح ہوئے تو صحابہ کرام کو اس الجھن سے سابقہ پیش آیا کہ بزور شمشیر فتح ہونے والے علاقے غنیمت ہیں یا فَے۔ حضرت بلال کی رائے تھی کہ اس کو فوجیوں کے درمیان مال غنیمت کی طرح تقسیم ہونا چاہیے۔ حضرت زبیر کی رائے تھی کہ اس کو خیبر کی طرح تقسیم کیا جائے۔ دوسری طرف حضرت علی کی رائے تھے کہ ان زمینوں کو ان کے کاشتکاروں کے پاس رہنے دیا جائے تاکہ یہ مسلمانوں کے لیے ذریعہ آمدنی بنیں رہیں۔ حضرت معاذ بن جبل کی رائے تھی کہ تقسیم کرنے سے بڑی بڑی جائیدادیں ان چند لوگوں کے قبضے میں چلی جائیں گی جنہوں نے یہ علاقے فتح کیے ہیں، لیکن آنے والی نسلوں کے لیے کچھ نہ رہے گا، حضرت عمر نے غور و فکر کے بعد یہ رائے قائم کی کہ ان علاقوں کو تقسیم نہ ہونا چاہیے۔ لیکن لوگ مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ آپ ظلم کر رہے ہیں۔ آخرکار حضرت عمر نے مجلس شورٰی کا اجتماع منعقد کیا ہے اور اس کے سامنے یہ معاملہ رکھا۔
حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت عبد اللہ بن عمر، وغیرہ نے حضرت عمر کی رائے سے اتفاق کیا لیکن فیصلہ نہ ہوسکا اور یہ بحث تین دن تک چلتی رہی، آخر میں اس مسئلے کا فیصلہ کردینے والی ہے۔ پھر انہوں نے سورة حشر کی آیات 5 تا 10 تلاوت کی اور ان سے یہ استدلال کیا کہ اللہ کی ان عطا کردہ املاک میں صرف اس زمانے کے لوگوں کا ہی حصہ نہیں ہے بلکہ بعد کے آنے والوں کو بھی اللہ نے ان کے ساتھ شریک کیا ہے۔ پھر یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ اس فَے کو جو سب کے لیے ہے، ہم ان فاتحین میں تقسیم کردیں اور بعد والوں کے لئے کچھ نہ چھوڑیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کی لاَ یَکُوْنَ دُوْلَۃً بَیْنَ الْاَغْنِیَائِ مِنْکُمْ ۔ اگر میں اسے فاتحین میں تقسیم کر دوں تو یہ تمہارے مالداروں ہی میں چکر لگاتا رہے گا اور دوسروں کے لیے کچھ نہ بچے تا۔ یہ دلیل تھی جس نے سب کو مطمئن کردیا۔ اور اس بات پر اجماع ہوگیا کہ ان تمام مفتوحہ علاقوں کو عام مسلمین کے لیے فَے قرار دیا جائے، جو لوگ ان آراضی پر کام کر رہے ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں انہیں رہنے دیا جائے اور ان پر خراج اور جزیہ لگا دیا جائے (تفہیم القرآن۔ ج 5، ص 397 تا 400)
Ayah 59:11[اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے دیکھا نہیں ][ اِلَى الَّذِينَ نَافَقُوْا : ان کی طرف جو دودخے ہوئے ][ يَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانهِمُ الَّذِينَ : وہ لوگ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جو ][ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ : مُکر گئے ابن کتاب میں سے ][ لَىِٕنْ اُخْرِجْتم : بیشک اگر تم لوگ نکالے گئے ][ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ : تو لازماً ہم (بھی) نکلیں گے تمہارے ساتھ ][وَلَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ : اور ہم کہا نہ مانیں گے تمہارے بارے میں ] [اَحَدًا : کسی ایک کا ][اَبَدًا : کبھی بھی ][وَّان قُوْتِلْتم : اور اگر قتال کیا گیا تم لوگوں سے ] [ لَنَنْصُرَنَّكُمْ : تو ہم لازماً مدد کریں گے تمہاری ][وَاللّٰهُ يَشْهَدُ : اور اللہ گواہی دیتا ہے ][انهُمْ لَكٰذِبُوْنَ :” بیشک یہ لوگ یقینا جھوٹ کہنے والے ہیں “]
Ayah 59:12[لَىِٕنْ اُخْرِجوا : بیشک اگر وہ لوگ نکالے گئے ][ لَا يَخْرُجونَ مَعَهُمْ : تو یہ لوگ نہیں نکلیں گے ان کے ساتھ ][ وَلَىِٕنْ قُوْتِلُوْا : اور بیشک اگر ان سے قتال کیا گیا ][لَا يَنْصُرُوْنَهُمْ : تو یہ لوگ مدد نہیں کریں گے ان کی ][ وَلَىِٕنْ نَّصَرُوْهُمْ : اور بیشک اگر یہ مدد کریں گے ان کی ][ لَيُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ : تو یہ لوگ لازماً پھیر دیں گے پیٹھوں کو ][ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ : پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی ]
Ayah 59:13[لَاَانتم اَشَدُّ رَهْبَةً : بیشک تم لوگ زیادہ شدید ہو بلحاظ دہشت کے ][ فِيْ صُدُوْرِهِمْ : ان کے سینوں میں ][ مِّنَ اللّٰهِ : بنسبت اللہ کے ][ ذٰلِكَ بِانهُمْ : یہ اس سبب کے ہے کہ وہ لوگ ][قَوْمٌ : ایک ایسی قوم ہیں جو ][لَّا يَفْقَهُوْنَ : سوچ سمجھ نہیں رکھتے ]
Ayah 59:14[لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيْعًا : وہ لوگ قتال نہیں کریں گے تم سے اکٹھے ہو کر ][ اِلَّا فِيْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ : مگر کچھ مضبوط کی ہوئی (قلعہ بند) بستیوں میں ][ اَوْ مِنْ وَّرَاۗءِ جُدُرٍ : یا دیواروں کے پیچھے سے ][بَاْسُهُمْ بَيْنَهُمْ : ان کی لڑائی ان کے مابین ][شَدِيْدٌ: شدید ہے ][تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا : تو سمجھتا ہے ان کو اکٹھا ][وَّقُلُوْبُهُمْ شَتّٰى: حالانکہ ان کے دل پراگندہ ہیں ][ذٰلِكَ بِانهُمْ قَوْمٌ : یہ اس سبب سے کہ وہ لوگ ایک ایسی قوم ہیں جو ][لَّا يَعقلوْنَ : عقل استعمال نہیں کرتے ]
Ayah 59:15[كَمَثَلِ الَّذِينَ : (ان کی مثال) ان لوگوں کی مثال کی مانند ہے جو ][ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے تھے ][ قَرِيْبًا : قریبی زمانے میں ][ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ : انھوں نے چکھی اپنے کام کی سزا ][وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ : اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے ]
Ayah 59:16[كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ : (اور منافقوں کی مثال) شیطان کی مثال کی مانند ہے ][ اِذْ قَالَ لِلْانسَان : جب اس نے کہا انسان سے ][اكْفُرْ : تو کفر کر ][ فَلَمَا كَفَرَ : پھر جب اس نے کفر کیا ][ قَالَ انى بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ : تو اس نے کہا میں بریٔ الذمہ ہوں تجھ سے ][انىٓ اَخَافُ اللّٰهَ : بیشک میں ڈرتا ہوں اللہ سے ][رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ : جو تمام جہانوں کا رب ہے ]
Ayah 59:17[فَكَان عَاقِبَتَهُمَآ : پس ہے انجام دونوں کا ] [انهُمَا : کہ وہ دونوں ][ فِي النَارِ : آگ میں ہے ][ خَالِدَيْنِ فِيْهَا : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہیں اس میں ][وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِمِيْنَ : اور یہ ظلم کرنے والوں کی جزاء ہے ]
نوٹ۔ 1 : اس پورے رکوع کے انداز بیان سے یہ بات متعرشم ہوتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ نے بنی نضیر کو مدینہ سے نکل جانے کے لیے دس دن کا نوٹس دیا تھا۔ اور ان محاصرہ شروع ہونے میں کئی دن باقی تھے۔ بنی نضیر کو جب یہ نوٹس ملا تو عبد اللہ بن ابی نے ان کو یہ کہلا بھیجا کہ ہم دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کو آئیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کے آگے ہتھیار مت ڈالو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ پس ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ رکوع پہلے نازل ہوا تھا اور پہلا رکوع اس کے بعد نازل ہوا جب بنی نضیر مدینہ سے نکالے جا چکے تھے۔ لیکن قرآن مجید کی ترتیب میں بحکم الٰہی پہلے رکوع کو مقدم اور دوسرے کو مؤخر اس لیے کیا کہ اہم تر مضمون پہلے رکوع میں بیان ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 59:18[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا : اے لوگو جو ایمان لائے ][ اتَّقُوا اللّٰهَ : تم لوگ تقوٰی اختیار کرو اللہ کا ][وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ: اور چاہیے کہ دیکھے ہر ایک جان (شخص)][ مَا قَدَّمَتْ : اس نے کہا آگے بھیجا ][لِغَدٍ : کل کے لیے ][ وَاتَّقُوا اللّٰهَ : اور تم لوگ ڈرو اللہ (کی باز پرس سے)][ان اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ: بیشک اللہ باخبر ہے ][بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اس سے جو تم لوگ کرتے ہو ]
نوٹ۔ 1 : آیت۔ 18 ۔ میں قیامت کا لفظ غد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس کے معنی ہیں آنے والا کل۔ اس میں اشارہ ہے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا نہایت قلیل و مختصر ہے کیونکہ آخرت دائمی ہے جس کی کوئی انتہا اور انقطاع نہیں ہے۔ نیز یہ کہ قیامت دور نہیں بلکہ قریب ہے کیونکہ جب ایک انسان مرجاتا ہے تو اس کی قیامت قائم ہوجاتی ہے اور آخرت کے مقابلہ میں دنیا ایک دن کی مانند ہے۔ حدیث میں ہے کہ اَلدُّنْیَا یَوْمٌ وَلَنَا فِیْہِ صَوْمٌ یعنی ساری دنیا ایک دن ہے اور ہمارے لیے اس (دن) میں روزہ ہے۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
نوٹ۔ 2 : اس آیت میں ایک حکیمانہ نکتہ یہ بھی ہے کہ اس میں ہر شخص کو آپ ہی اپنا محتسب بنایا گیا ہے۔ جب تک کسی شخص میں خود اپنے برے بھلے کی تمیز پیدا نہ ہوجائے، اس کو یہ احساس سرے سے ہوتا ہی نہیں کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ اس کے مستقبل کو سنوارنے والا ہے یا بگاڑنے والا۔ اور جب اس کے اندر یہ حس بیدار ہوجائے تو اسے خود ہی اپنا حساب لگا کر یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنا وقت، اپنا سرمایہ، اپنی محنت، اپنی قابلیتیں اور اپنی کوششیں جس راہ میں خرچ کر رہا ہے وہ اسے جنت کی طرف لے جا رہی ہیں یا جہنم کی طرف۔ یہ دیکھنا اس کے اپنے ہی مفاد کا تقاضہ ہے، نہ دیکھے گا تو آپ اپنا ہی مستقبل خراب کرے گا۔ (تفہیم القرآن)
یہ حقیقت بھی ذہن نشین کرلیں کہ خود احتسابی نہ کرنا دراصل ساری برائیوں کی جڑ ہے۔ جب کوئی شخص خود احتسابی سے کنی کترانا شروع کرتا ہے تو پھر رفتہ رفتہ آخرت اس کے ذہن سے اوجھل ہوجاتی ہے یا اسے بہت دور نظر آتی ہے۔ اس طرح وہ آخرت سے بےپرواہ ہوجاتا ہے۔ جب انسان آخرت سے بےپرواہ ہوجاتا تو پھر وہ اللہ کو بھولنا شروع کرتا ہے۔ زندگی کی گہما گہمی میں اسے اپنا تجربہ، اپنی مہارت، اپنی محنت نظر آتی ہے۔ اسے قدرت کی مداخلت، اپنی غلطی، چانس، بیڈلک، گڈلک، غرضیکہ اسے سب کچھ نظر آتا ہے، اگر نظر نہیں آتا تو فاعل حقیقی یعنی اللہ نظر نہیں آتا۔ اس طرح انسان اللہ کو بھول جاتا ہے۔ اور خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی۔ پھر وہ بھول جاتا ہے کہ اس دنیا میں اس کی کیا حیثیت ہے اور وہ یہاں کیا کرنے کے لیے آیا ہے۔ پھر انسان اپنی غلط حیثیت متعین کر کے خود کو ایک شتر بےمہار سمجھ بیٹھتا ہے۔ اس طرح اس کی سوچ اس کا نظریہ، اس کی سعی، اس کا عمل، غرضیکہ اس کی پوری زندگی ایک غلط رخ پر پڑجاتی ہے۔ پھر جب اسے پیویلین میں واپس بلایا جاتا ہے تو وہ سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ کیا کرنے آئے تھے اور کیا کر چلے۔
Ayah 59:19[وَلَا تَكُوْنُوْا : اور تم لوگ مت ہونا ][ كَالَّذِينَ : ان لوگوں کے جیسے جنھوں نے ][ نَسُوا اللّٰهَ : بھلا دیا اللہ کو ][فَانسٰـىهُمْ : تو اس (اللہ) نے بھلوا دیا ان کو ][ انفُسَهُمْ : ان کا اپنا آپ ][اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ : وہ لوگ ہی نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Ayah 59:20[لَا يَسْتَوِيْٓ: برابر نہیں ہوں گے ][اَصْحٰبُ النَارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ : آگ والے اور جنت والے ][اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ : جنت والے ہی مراد پانے والے ہیں ]
Ayah 59:21[لَوْ انزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ : اگر ہم نازل کرتے اس قرآن کو ][ عَلٰي جبلٍ : کسی پہاڑ پر ][ لَّرَاَيْتَهٗ : تو تو ضرور دیکھتا اس کو ][خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا : جھکنے والا پاش پاش ہونے والا ہوتے ہوئے ][مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ : اللہ کے دبدبہ سے ][ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ : اور یہ مثالیں !][ نَضْرِبُهَا لِلنَاسِ : ہم بیان کرتے ہیں ان کو لوگوں کے لیے ][لَعَلَهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ : شاید وہ غور و فکر کریں ]
Ayah 59:22[هُوَ اللّٰهُ الَّذِي : وہ اللہ وہ ہے (کہ)][ لَآ اِلٰهَ : کوئی اِلٰہ نہیں ][ اِلَّا هُوَ : مگر وہ ][ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ : جو غیب اور شہادہ کا جاننے والا ہے ][هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ : وہی انتہائی رحم کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 59:23[هُوَ اللّٰهُ الَّذِي : وہ اللہ وہ ہے (کہ)][ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ : کوئی اِلٰہ نہیں مگر وہ ][ اَلْمَلِكُ : جو بادشاہ ہے ][الْقُدُّوْسُ : بالکل پاک ہے (اندازوں کی غلطی سے)][السَّلٰمُ : سراپا سلامتی ہے ][الْمُؤْمِنُ : امن دینے والا ہے ][الْمُهَيْمِنُ : حفاظت کرنے والا ہے ][ الْعَزِيْزُ : بالا دست ہے ][ الْجبارُ : زبردست ہے ][الْمُتَكَبِرُ : بڑائی والا ہے ][سُبْحٰنَ اللّٰهِ : پاکیزگی اللہ کی ہے ][عَمَا يُشْرِكُوْنَ : اس سے جو یہ لوگ شریک کرتے ہیں ]
Ayah 59:24[هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ : وہی اللہ پیدا کرنے والا ہے ][ الْبَارِئُ : وجود بخشنے والا ہے ][الْمُصَوِّرُ : صور شگری کرنے والا ہے ][لَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى : اس کے ہی ہیں تمام حسین نام ][ يُسَبِحُ لَهٗ : تسبیح کرتی ہے اس کی ][مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : (ہر) وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے ][وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور وہی بالادست ہے حکمت والا ہے ]