Ayah 58:1[قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ : سن لی ہے اللہ نے ][ قَوْلَ الَّتِيْ : اس خاتون کی بات جو ][ تُجَادِلُكَ : حجت کرتی ہے آپ ﷺ سے ][ فِيْ زَوْجِهَا : اپنے جوے (شوہر کے بارے میں)][وَتَشْـتَكِيْٓ: اور وہ شکوہ کرتی ہے ][ اِلَى اللّٰهِ : اللہ سے ][وَاللّٰهُ يَسْمَعُ : اور اللہ سن رہا ہے ][ تَحَاوُرَكُمَا : تم دونوں کے باہمی گفتگو کرنے کو ][ان اللّٰهَ : یقینا اللہ ][ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ: ہمیشہ سننے والا دیکھنے والا ہے ]
Ayah 58:2[الَّذِينَ : وہ لوگ جو ][يُظٰهِرُوْنَ : ماں کہہ بیٹھتے ہیں ][ مِنْكُمْ : تم میں سے ][ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــهِمْ : اپنی عورتوں (بیویوں) میں سے (کسی کو)][ مَا هُنَّ : نہیں ہیں وہ خواتین ][اُمَّهٰتِهِمْ : ان کی مائیں ][ان اُمَّهٰتُهُمْ : نہیں ہیں ان کی مائیں ][اِلَّا اڿ : سوائے ان کے جنھوں نے ][وَلَدْنَهُمْ : جنا ان کو ][ وَانهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ : اور بیشک وہ لوگ یقینا کہتے ہیں ][ مُنْكَرًا : ایک برائی ][ مِّنَ الْقَوْلِ : بات میں سے ][وَزُوْرًا : اور ایک جھوٹ ][وَان اللّٰهَ : بیشک اللہ ][ لَعَفُوٌّ: یقینا ہے انتہا درگزر کرنے والا ][ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ]
Ayah 58:3[وَالَّذِينَ يُظٰهِرُوْنَ : اور جو لوگ ماں کہہ بیٹھتے ہیں ][ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ : اپنی عورتوں میں سے ][ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ : پھر وہ دوبارہ کرتے ہیں ][ لِمَا : وہ جس کے لیے ][ قَالُوْا : انھوں نے کہا تھا ][ فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ : تو ایک گردن کا آزاد کرنا ہے ][ مِّنْ قَبْلِ ان : اس سے پہلے کہ ][يَّـتماۗسَّا : وہ دونوں ایک دوسرے کو چھویں ][ذٰلِكُمْ : یہ (وہ ہے)][ تُوْعَظُوْنَ : تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ][ بِهٖ : جس کے ذریعے سے ][وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ][خَبِيْرٌ: ہمیشہ باخبر ہے ]
نوٹ۔ 1: عرب میں بسا اوقات شوہر اور بیوی میں لڑائی ہوتی تو غصے میں شوہر کہہ دیتا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے ماں کی پیٹھ۔ آج کل بھی بہت سے نادان لوگ بیوی سے لڑ کر اس کو ماں، بہن، بیٹی سے تشبیہ دے بیٹھتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی گویا اب اسے بیوی نہیں بلکہ ان عورتوں کی طرح سمجھتا ہے جو اس کے لیے حرام ہیں۔ اسی فعل کا نام ظہار ہے۔ اہل عرب کے ہاں یہ طلاق سے بھی زیادہ شدید قطع تعلق ہوسکتی تھی مگر ظہار کے بعد رجوع کا کوئی امکان باقی نہ رہتا تھا۔ (تفہیم القرآن ج 5، ص 340) ۔ ان آیات میں ظہار کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ عرب جاہلیت کے اس رواج کو منسوخ کرتا ہے جس کی رو سے ظہارکا فعل نکاح کے رشتے کو توڑ دیتا تھا اور عورت شوہر کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی تھی۔ اسی طرح یہ حکم ان تمام رواجوں کو بھی منسوخ کرتا ہے جو ظہارکو بےمعنی اور بےاثر سمجھتے ہوں اور آدمی کے لیے اس بات کو جائز رکھتے ہوں کہ وہ بیوی کو محرمات سے تشبیہ دے کر بھی اس کے ساتھ حسب سابق میاں بیوی کا تعلق جاری رکھے۔ ان دونوں انتہائوں کے درمیان اسلامی قانون نے جو مؤقف اختیار کیا ہے وہ تین بنیادوں پر قائم ہے۔ ایک یہ کہ ظہار سے نکاح نہیں ٹوٹتا بلکہ عورت بدستور شوہر کی بیوی رہتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ظہار سے عورت وقتی طور پر شوہر کے لیے حرام ہوجاتی ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ حرمت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک شوہر کفارہ ادا نہ کر دے اور یہ کہ صرف کفارہ ہی اس حرمت کو رفع کرسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن ج 5، ص 345)
Ayah 58:4[فَمَنْ : پھر وہ جو ][ لَمْ يَجِدْ : نہ پائے (گردن آزاد کرنے کو)][فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ : تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا ہے (اس کے لیے)][مِنْ قَبْلِ ان : اس سے پہلے کہ ][يَّتماۗسَّا : وہ دونوں ایک دوسرے کو چھویں ][ فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ : پھر وہ جو (اس کی) طاقت نہیں رکھتا ][فَاِطْعَامُ سِـتِّيْنَ مِسْكِيْنًا : تو (اس کے لیے) ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے ][ذٰلِكَ : یہ (اس لیے)][ لِتُؤْمِنُوْا : تاکہ تم لوگ ایمان رکھو ][ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : اللہ پر ار اس کے رسول پر ][ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ : اور یہ اللہ کی (مقرر کردہ ) حدیں ہیں ][وَلِلْكٰفِرِيْنَ : اور (ان کا) انکار کرنے والوں کے لیے ][عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک دردناک عذاب ہے ]
نوٹ۔ 2: یہاں ایک نہایت عملی مثال سے یہ سبق بھی لوگوں کو دیا گیا ہے کہ اگر کسی کو زندگی میں کوئی مشکل پیش آئے تو اس کو نہایت خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے عرض کرے۔ امید ہے کہ اس کی مشکل حل ہونے کی کوئی راہ اللہ تعالیٰ کھول دے گا۔ ل رہے وہ لوگ جو کسی مشکل کو بہانہ بنا کر اسلام کے خلاف پراپیگنڈے کی مہم شروع کردیتے ہیں وہ درحقیقت اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ یاد رکھیں کہ وہ نامراد ہوں گے (تدبر قرآن۔ ج 8، ص 243) ۔ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا یعنی یہ شکوہ و مجادلہ چونکہ خاص اللہ تعالیٰ ہی سے تھا اس وجہ سے وہ مہربانی سے اس کو سنتا رہا۔ چناچہ اس نے اپنی بندی کی مشکل حل کرنے کی راہ کھول دی۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جو لوگ اپنی کوئی مشکل اپنے رب سے عرض کرتے ہیں وہ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو توبہ اور شفقت سے سنتا ہے۔ وہ سمیع وبصیر ہے۔ اور جب وہ سنتا ہے اور ہر چیز کی قدرت بھی رکھتا ہے تو بندہ اس سے مایوس و بدگمان کیوں ہو۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ دنیوی اور مادی مشکلات کی طرح روحانی اور عقلی الجھنوں سے نکلنے کی بھی۔ سب سے کامیاب راہ یہی ہے کہ آدمی اس کو اپنے رب کے آگے پیش کرے بسا اوقات کوئی ایسی علمی و عقلی مشکل پیش آجاتی ہے جس کا حل سمجھ نہیں آتا اور اس سے دہن کے معاملہ میں شکوک پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں آدمی اگر اپنی مشکل اپنے رب کے آگے پیش کرے اور اس سے ہدایت کا طالب ہو تو ان شاء اللہ اس کو شرح صدر حاصل ہوجائے گا بشرطیکہ آدمی صبر کے ساتھ اپنے رب سے استعانت کرتا رہے۔ طالبین حق کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے۔ لیکن جو جلد باز ہوتے ہیں وہ یہ راہ اختیار کرنے کے بجائے یا تو اپنے اوبام اور شکوک کو ہی دین بنا لیتے ہیں یا ان کو دین پر نکتہ چینی کا ذریعہ بنا کر اس کے خلاف محاذ آرائی شروع کردیتے ہیں۔ (تدبر قرآن ج 8، ص 248 ۔ 249)
Ayah 58:5[ان الَّذِينَ يُحَاۗدُّوْنَ : بیشک جو لوگ مخالفت کرتے ہیں ][اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : اللہ اور اس کے رسول کی ][ كُبِتُوْا : وہ نامراد کیے گئے ][ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ : جیسے کہ نامراد کیے گئے وہ لوگ جو ][ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے تھے ][ وَقَدْ انزَلْنَآ : حالانکہ ہم اتار چکے تھے ][ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح نشانیاں ][ وَلِلْكٰفِرِيْنَ : اور انکار کرنے الوں کے لیے ][عَذَابٌ مُّهِيْنٌ: ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے ]
Ayah 58:6[يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ : جس دن اٹھائے گا ان کو اللہ ][جَمِيْعًا : سب کے سب کو ][فَيُنَبِئُهُمْ : پھر وہ جتا دے گا ان کو ][بِمَا عَمِلُوْا : وہ جو انھوں نے عمل کیے ][اَحْصٰىهُ اللّٰهُ : شمار پورا کیا اس کا اللہ نے ][وَنَسُوْهُ : اور یہ لوگ بھول گئے اس کو ][وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : اور اللہ ہر چیز پر ][ شَهِيْدٌ: گواہ ہے ]
نوٹ۔ 1: عرب میں بسا اوقات شوہر اور بیوی میں لڑائی ہوتی تو غصے میں شوہر کہہ دیتا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے ماں کی پیٹھ۔ آج کل بھی بہت سے نادان لوگ بیوی سے لڑ کر اس کو ماں، بہن، بیٹی سے تشبیہ دے بیٹھتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی گویا اب اسے بیوی نہیں بلکہ ان عورتوں کی طرح سمجھتا ہے جو اس کے لیے حرام ہیں۔ اسی فعل کا نام ظہار ہے۔ اہل عرب کے ہاں یہ طلاق سے بھی زیادہ شدید قطع تعلق ہوسکتی تھی مگر ظہار کے بعد رجوع کا کوئی امکان باقی نہ رہتا تھا۔ (تفہیم القرآن ج 5، ص 340) ۔ ان آیات میں ظہار کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ عرب جاہلیت کے اس رواج کو منسوخ کرتا ہے جس کی رو سے ظہارکا فعل نکاح کے رشتے کو توڑ دیتا تھا اور عورت شوہر کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی تھی۔ اسی طرح یہ حکم ان تمام رواجوں کو بھی منسوخ کرتا ہے جو ظہارکو بےمعنی اور بےاثر سمجھتے ہوں اور آدمی کے لیے اس بات کو جائز رکھتے ہوں کہ وہ بیوی کو محرمات سے تشبیہ دے کر بھی اس کے ساتھ حسب سابق میاں بیوی کا تعلق جاری رکھے۔ ان دونوں انتہائوں کے درمیان اسلامی قانون نے جو مؤقف اختیار کیا ہے وہ تین بنیادوں پر قائم ہے۔ ایک یہ کہ ظہار سے نکاح نہیں ٹوٹتا بلکہ عورت بدستور شوہر کی بیوی رہتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ظہار سے عورت وقتی طور پر شوہر کے لیے حرام ہوجاتی ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ حرمت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک شوہر کفارہ ادا نہ کر دے اور یہ کہ صرف کفارہ ہی اس حرمت کو رفع کرسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن ج 5، ص 345)
نوٹ۔ 2: یہاں ایک نہایت عملی مثال سے یہ سبق بھی لوگوں کو دیا گیا ہے کہ اگر کسی کو زندگی میں کوئی مشکل پیش آئے تو اس کو نہایت خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے عرض کرے۔ امید ہے کہ اس کی مشکل حل ہونے کی کوئی راہ اللہ تعالیٰ کھول دے گا۔ رہے وہ لوگ جو کسی مشکل کو بہانہ بنا کر اسلام کے خلاف پراپیگنڈے کی مہم شروع کردیتے ہیں وہ درحقیقت اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ یاد رکھیں کہ وہ نامراد ہوں گے (تدبر قرآن۔ ج 8، ص 243) ۔ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا یعنی یہ شکوہ و مجادلہ چونکہ خاص اللہ تعالیٰ ہی سے تھا اس وجہ سے وہ مہربانی سے اس کو سنتا رہا۔ چناچہ اس نے اپنی بندی کی مشکل حل کرنے کی راہ کھول دی۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جو لوگ اپنی کوئی مشکل اپنے رب سے عرض کرتے ہیں وہ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو توبہ اور شفقت سے سنتا ہے۔ وہ سمیع وبصیر ہے۔ اور جب وہ سنتا ہے اور ہر چیز کی قدرت بھی رکھتا ہے تو بندہ اس سے مایوس و بدگمان کیوں ہو۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ دنیوی اور مادی مشکلات کی طرح روحانی اور عقلی الجھنوں سے نکلنے کی بھی۔ سب سے کامیاب راہ یہی ہے کہ آدمی اس کو اپنے رب کے آگے پیش کرے بسا اوقات کوئی ایسی علمی و عقلی مشکل پیش آجاتی ہے جس کا حل سمجھ نہیں آتا اور اس سے دہن کے معاملہ میں شکوک پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں آدمی اگر اپنی مشکل اپنے رب کے آگے پیش کرے اور اس سے ہدایت کا طالب ہو تو ان شاء اللہ اس کو شرح صدر حاصل ہوجائے گا بشرطیکہ آدمی صبر کے ساتھ اپنے رب سے استعانت کرتا رہے۔ طالبین حق کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے۔ لیکن جو جلد باز ہوتے ہیں وہ یہ راہ اختیار کرنے کے بجائے یا تو اپنے اوبام اور شکوک کو ہی دین بنا لیتے ہیں یا ان کو دین پر نکتہ چینی کا ذریعہ بنا کر اس کے خلاف محاذ آرائی شروع کردیتے ہیں۔ (تدبر قرآن ج 8، ص 248 ۔ 249)
Ayah 58:7[اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور نہیں کیا ][ ان اللّٰهَ يَعْلَمُ : کہ اللہ جانتا ہے ][ مَا فِي السَّمٰوٰتِ : اس کو جو آسمانوں میں ہے ][ وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور اس کو (بھی) جو زمین میں ہے ][ مَا يَكُوْنُ : نہیں ہوتی ][ مِنْ نَّجوٰى ثَلٰثَةٍ : کسی تین کی کوئی بھی سرگوشی ][اِلَّا هُوَ : مگر وہ (اللہ)][ رَابِعُهُمْ : ان کا چوتھا ہوتا ہے ][وَلَا خَمْسَةٍ : اور کسی پانچ کی (سرگوشی)][ اِلَّا هُوَ : مگر وہ (اللہ)][ سَادِسُهُمْ : ان کا چھٹا ہوتا ہے ][ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ : اور نہ اس سے کم کی (سرگوشی)][ وَلَآ اَكْثَرَ : اور نہ زیادہ کی (سرگوشی)][ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ : مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ][ اَيْنَ مَا : جہاں کہیں بھی ][ كَانوْا : وہ لوگ ہوں ][ ثُمَّ يُنَبِئُهُمْ : پھر وہ جتلا دے گا ان کو ][ بِمَا عَمِلُوْا : وہ جو انھوں نے عمل کیا ][ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ][ان اللّٰهَ بِكُلِ شَيْءٍ : بیشک اللہ ہر چیز کا ][ عَلِيْمٌ: علم رکھنے والا ہے ]
Ayah 58:8[اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِينَ : کیا تو نے غور نہیں کیا ان کی طرف جن کو ][ نُهُوْا : منع کیا گیا ][ عَنِ النَّجوٰى: سرگوشی کرنے سے ][ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ : پھر وہ دوبارہ کرتے ہیں ][لِمَا نُهُوْا عَنْهُ : وہی ان کو روکا گیا جس سے ][ وَيَتَنٰجونَ : اور باہم سرگوشیاں کرتے ہیں ][بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَان : گناہ اور زیادتی کے بارے میں ][ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ : اور ان رسول ﷺ کی نافرمانی کے بارے میں ][ وَاِذَا جَاۗءُوْكَ : اور جب یہ لوگ آتے ہیں آپ ﷺ کے پاس ][ حَيَّوْكَ : دعا دیتے (سلام کرتے) ہیں آپ ﷺ کو ][ بِمَا : اس (لفظ) سے ][ لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ : دعا نہیں دی آپ ﷺ کو جس سے اللہ نے ][وَيَقُوْلُوْنَ فِيْٓ انفُسِهِمْ : اور کہتے ہیں اپنے جیوں میں ][ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ : کیوں نہیں عذاب دیتا ہم کو اللہ ][بِمَا نَقُوْلُ : بسبب اس کے جو ہم کہتے ہیں ][ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ : کافی ہے ان کو جہنم ][ يَصْلَوْنَهَا : وہ لوگ کریں گے اس میں ][فَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : تو کتنی بری ہے (وہ) لوٹنے کی جگہ ]
Ayah 58:9[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ][ اِذَا تَنَاجَيْتم : جب کبھی تم لوگ آپس میں سرگوشی کرو ][ فَلَا تَتَـنَاجوا : تو سرگوشی مت کرو ][ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَان : گناہ اور زیادتی کے بارے میں ][ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ : اور ان رسول ﷺ کی نافرمانی کے بارے میں ][ وَتَنَاجوا : اور آپس میں سرگوشی کرو ][ بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى: نیکی اور تقوٰی کے بارے میں ][ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيٓ: اور تقوٰی اختیار کرو اس اللہ کا ][ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : جس کی طرف تم لوگ اکٹھا کیے جائو گے ]
Ayah 58:10[انمَا النَّجوٰى: کانا پھوسی تو بس ][ مِنَ الشَّيْطٰنِ : شیطان (کی طرف) سے ہے ][ لِيَحْزُنَ : تاکہ وہ غمگین کرے ][ الَّذِينَ اٰمَنُوْا : ان لوگوں کو جو ایمان لائے ][وَلَيْسَ بِضَاۗرِّهِمْ : اور وہ نقصان پہنچانے والا نہیں ہے ][ شَـيْـــــًٔا : کچھ بھی ][اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : مگر اللہ کی اجازت سے ][وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر ہی ][فَلْيَتَوَكَّلِ : چاہیے کہ بھروسہ کریں ][الْمُؤْمِنُوْنَ : ایمان لانے والے ]
نوٹ۔ 1 : آیات مذکورہ اگرچہ خاص واقعات کی بناء پر نازل ہوئی ہیں جن کا ذکر شان نزول میں کیا جاتا ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ سبب نزول کچھ بھی ہو، ہدایات قرآنی عام ہوتی ہیں اور ان میں عقائد، عبادات، معاملات اور معاشرت کے متعلق احکام ہوتے ہیں۔ ان آیات میں بھی باہمی سرگوشی اور مشورے کے متعلق ہدایات ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ساری کائنات پر حاوی ہے۔ تم کہیں بھی، کیسا ہی چھپ کر مشورہ کرو، اللہ تعالیٰ اپنے علم اور سمع و بصر کے اعتبار سے تمہارے پاس موجود ہوتا ہے اور تمہاری ہر بات کو دیکھتا، سنتا اور جانتا ہے۔ اگر اس میں کوئی گناہ کرو گے تو سزا سے نہیں بچو گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس جگہ تم تین آدمی جمع ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی اور خفیہ باتیں نہ کیا کرو جب تک دوسرے آدمی نہ آجائیں، کیونکہ اس سے اس کی دل شکنی ہوگی۔ (معارف القرآن)
اس سے معلوم ہوا کہ نجوٰی بجائے خود ممنوع نہیں ہے، بلکہ اس کے جائز یا ناجائز ہونے کا انحصار ان لوگوں کے کردار پر ہی جو ایسی بات کریں، ان حالات پر ہے جن میں ایسی بات کی جائے اور ان باتوں کی نوعیت پر ہے جو اس طریقے سے کی جائیں۔ دو آدمی اگر اس لیے باہم سرگوشی کرتے ہیں کہ کسی جھگڑے کا تصفیہ کرانا ہے یا کسی نیک کام میں حصہ لینا ہے تو یہ کوئی برائی نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 2: یہود اور منافقین کا یہ مشترک رویہ تھا کہ جب وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو السَّامُ علیک کہتے۔ سام کے معنی موت کے ہیں، حضور ﷺ جواب میں فرما دیتے وعلیکم (اور تم لوگوں پر بھی) ۔ وہ لوگ اس بات کو حضور ﷺ کے رسول نہ ہونے کی دلیل سمجھتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہوتے تو جس وقت ہم انہیں اس طریقے سے سلام کرتے ہیں اسی وقت ہم پر عذاب آجاتا ہے۔ اب چونکہ کوئی عذاب نہیں آتا، حالانکہ ہم شب و روز یہ حرکت کرتے رہتے ہیں، اس لیے یہ رسول نہیں ہیں۔ (تفہیم القرآن)
یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ انسان کی غفلت اور سرکشی میں سب سے زیادہ اضافہ اس کے اسی مغالطہ سے ہوتا ہے جو یہاں مذکور ہوا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی شرارتوں پر اس دنیا میں کوئی گرفت نہیں ہو رہی ہے تو وہ مطمئن ہو بیٹھتا ہے کہ اس پر کہیں بھی اور کبھی بھی گرفت نہیں ہوگی۔ یہ ملّا جو ڈراوے سناتے پھر رہے ہیں یہ محض ان کی دھونس ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لیکن یہ محض انسان کی بےبصیرتی ہے۔ اگر اعمال کے نتائج فوراً سامنے آجانے والے ہوتے تو کس کی مجال تھی کہ وہ بدی کی جرأت کرسکتا۔ پھر تو سب ہی صالح اور متقی بن کر رہتے۔ اس دنیا کا اصل بھید تو یہی ہے کہ یہ دارالجزاء نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ دارالجزاء آگے ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 58:11[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ][ اِذَا قِيْلَ لَكُمْ : جب کبھی کہا جائے تم لوگوں سے ][ تَفَسَّحُوْا : تم لوگ کشادگی پیدا کرو ][ فِي الْمَجٰلِسِ : مجلسوں میں ][ فَافْسَحُوْا : تو تم لوگ کشادگی کرو ][يَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ : تو کشادگی کرے گا اللہ تمہارے لیے ][وَاِذَا قِيْلَ انشُزُوْا : اور کبھی کہا جائے اٹھو ][ فَانشُزُوْا : تو اٹھا جائو ][ يَرْفَعِ اللّٰهُ : تو بلند کرے گا اللہ ][ الَّذِينَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ : تو بلند کرے گا اللہ ][ وَالَّذِينَ اُوْتُوا الْعِلْمَ : اور ان کو جنھیں دیا گیا علم ][ دَرَجٰتٍ : درجات کو ][ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اور اللہ اس سے جو تم لوگ کرتے ہو ][خَبِيْرٌ: ہمیشہ باخبر ہے ]
نوٹ۔ 1 : آیت۔ 11 ۔ کا حکم عام مجالس کا ہے جہاں مسلمانوں کا اجتماع ہو کہ جب مجلس میں کچھ لوگ بعد میں آئیں تو مسلمان ان کے لیے جگہ دینے کی کوشش کریں اور سمٹ کر بیٹھ جائیں۔ دوسرا حکم آداب مجالس کے متعلق یہ ہے کہ جب کسی سے کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ جائو تو اسے اٹھ جانا چاہیے۔ اس کے لیے فعل مجہول قیل استعمال فرمایا ہے۔ اس کا ذکر نہیں ہے کہ یہ کہنے والا کون ہے۔ مگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنے والے شخص کو اپنے لیے جگہ کرنے کے واسطے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھانا جائز نہیں۔ اس لیے ظاہر ہے کہ یہ کہنے والا میر مجلس ہوسکتا ہے یا مجلس کا انتظام کرنے والے افراد ہوسکتے ہیں۔ اس طرح آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اگر میر مجلس یا اس کی طرف سے مقرر کردہ منتظمین کسی کو اس کی جگہ سے اٹھ جانے کے لیے کہیں تو ادب مجلس یہ ہے کہ ان سے مزاحمت نہ کرے اور اپنی جگہ سے اٹھ جائے۔ (معارف القرآن)
اس حکم کے ساتھ یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ یہ نہ سمجھو کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں، دوسروں کو جگہ دینے کی خاطر اگر تم حضور ﷺ سے کچھ دور جا بیٹھے تو تمہارا درجہ گرگیا یا اگر مجلس سے تمہیں اٹھ جانے کے لیے کہا گیا تو تمہاری کچھ ذلت ہوگئی۔ بلندیٔ درجات کا اصل ذریعہ ایمان اور علم ہے نہ یہ کہ کس کو مجلس میں حضور ﷺ کے قریب بیٹھنے کا موقعہ ملا اور کون زیادہ دیر تک آپ ﷺ کے پاس بیٹھا۔ (تفہیم القرآن) یہی اصول عام مجالس کے لیے بھی ہے کہ کسی کا مرتبہ اس سے نہیں بڑھتا کہ وہ مجلس میں شریک اہم شخصیات کے کتنے قریب بیٹھا اور کتنی دیر ان سے باتیں کرتا رہا بلکہ اس کے مرتبہ کا انحصار اس پر ہے کہ اپنے کردار اور اپنی شخصیت کے ارتقاء کے لیے اس نے اس مجلس سے کیا حاصل کیا اور کیا سیکھا۔ (مرتب)
Ayah 58:12[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ][ اِذَا نَاجَيْتم الرَّسُوْلَ : جب کبھی تم لوگ سرگوشی کرو ان رسول ﷺ کی ][ فَقَدِّمُوْا : تو پیش کرو ][ بَيْنَ يَدَيْ نَجوٰىكُمْ : اپنی سرگوشی کے سامنے (سے پہلے)][صَدَقَةً : کوئی صدقہ ][ ذٰلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ : یہ بہتر ہے تمہارے لیے ][وَاَطْهَرُ : اور زیادہ پاکیزہ ہے ][فَان لَمْ تَجِدُوْا : پھر اگر تم لوگ نہ پائو (کوئی صدقہ)][ فَان اللّٰهَ : تو بیشک اللہ ][ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : بےانتہا بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 58:13[ءَاَشْفَقْتم : کیا تم لوگ ڈر گئے ][ ان تُقَدِّمُوْا : (اس سے) کہ تم لوگ پیش کرو ][بَيْنَ يَدَيْ نَجوٰىكُمْ : اپنی سرگوشی سے پہلے ][صَدَقٰتٍ : کچھ صدقات ][ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا : پھر جب تم لوگ نہ کرو ][ وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ : اس حال میں کہ معاف کیا اللہ نے تمہیں ][ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : تو قائم کرو نماز کو ][وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ : اور پہنچائو زکوٰۃ کو ][ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی ][وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ: اور اللہ باخبر ہے ][ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اس سے جو تم لوگ کرتے ہو یا کرو گے ]
Ayah 58:14[اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِينَ : کیا تو نے غور کیا ان لوگوں کی طرف جنھوں نے ][تَوَلَوْا قَوْمًا : دوستی کی ایک ایسی قوم سے ][غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ : غضب کیا اللہ نے جس پر ][مَا هُمْ مِّنْكُمْ : وہ لوگ نہیں ہیں تم میں سے ][ وَلَا مِنْهُمْ : اور نہ ان (کافروں) میں سے ][ وَيَحْلِفُوْنَ : اور وہ قسم کھاتے ہیں ][ عَلَي الْكَذِبِ : جھوٹ بات پر ][ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ : اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 14) یہاں تَوَلَّوْا روگردانی کرنے کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ دوست بنانے کے معنی میں ہے۔ استثناء کو چھوڑ کر عام قاعدہ یہ ہے کہ تولی کے ساتھ اگر کوئی مفعول مذکور نہ ہو یا عن کے صلہ کے ساتھ ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ” منہ موڑنا۔ روگردانی کرنا “ اس لیے تولی کے معنی ہیں اس نے منہ موڑا۔ اور تَوَلّٰی عَنْہُ کا مطلب ہے اس نے اس سے منہ موڑا۔ جبکہ دوستی کرنے کے معنی میں اس کا مفعول بنفسہہ آتا ہے۔ جیسے یہاں قَوْمًا بنفسہہ آیا ہے۔ اس لیے اس کے معنی میں دوستی کرنا۔ حَلَفَ کے معنی ہیں قسم کھانا۔ جس کی قسم کھائی جائے اس پر ب کا صلہ آتا ہے۔ حَلَفَ بِاللّٰہِ (اس نے اللہ کی قسم کھائی) ۔ جس کو یقین دلانے کے لیے قسم کھائی جائے اس پر ل کا صلہ آتا ہے۔ حَلَفَ لَہٗ (اس نے اس کے لیے قسم کھائی یعنی یقین دلانے کے لیے) جس بات پر قسم کھائی جائے اس پر علی کا صلہ آتا ہے۔
نوٹ۔ 1 : آیت۔ 14 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے عذاب شدید کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ کے دشمنوں کافروں سے دوستی رکھیں۔ قرآن کریم کی بہت سی دوسری آیات میں موالاتِ کفار کی شدید حرمت و ممانعت کے احکام آئے ہیں لیکن یہ سب احکام دلی اور قلبی دوستی کے متعلق ہیں۔ کفار کے ساتھ حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، ان پر احسان کرنا، خوش اخلاقی سے پیش آنا یا ان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی معاملات کرنا، یہ سب دوستی کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں۔ یہ سب امور کفار کے ساتھ بھی جائز ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام کا کھلا ہوا عمل اس پر شاہد ہے۔ اس مسئلہ میں موالات، مواسات اور معاملات (انسانی تعلقات کی مختلف سطحیں) کے فرق کی پوری تفصیل معارف القرآن، جلد دوم، صفحہ 45 تا 49 میں گزر چکی ہے۔ وہاں مطالعہ کرلیا جائے (معارف القرآن) ۔ مذکور تفصیل کا خلاصہ ان اسباق میں آیت نمبر۔ 3:28، نوٹ۔ 1 ۔ کے تحت دیا ہوا ہے۔ (مرتب)
Ayah 58:15[اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ : تیار کیا اللہ نے ان کے لیے ][ عَذَابًا شَدِيْدًا : ایک سخت عذاب ][انهُمْ : بیشک وہ لوگ !][ سَاۗءَ مَا : بُرا ہے وہ جو ][ كَانوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کیا کرتے ہیں ]
Ayah 58:16[اِتَّخَذُوْٓا : انھوں نے بنایا ][ اَيْمَانهُمْ جُنَّةً : اپنی قسموں کو ایک ڈھال ][ فَصَدُّوْا : پھر وہ رک گئے ][ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ سے ][فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ: تو ان کے لیے ایک ذلیل کرنے ولا عذاب ہے ]
Ayah 58:17[لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ : ہرگز کام نہ آئیں گے ان کے ][ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ : ان کے اموال اور ان کی اولاد ][ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـــــًٔا : اللہ سے کچھ بھی ][اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَارِ : وہ لوگ آگ والے ہیں ][ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ : وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Ayah 58:18[يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ : جس دن اٹھائے گا ان کو اللہ ][جَمِيْعًا : سب کے سب کو ][فَيَحْلِفُوْنَ : پھر وہ لوگ قسم کھائیں گے ][ لَهٗ : اس (اللہ) کے لیے ][كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ : جیسے یہ قسم کھاتے ہیں تمہارے لیے ][ وَيَحْسَبُوْنَ : اور گمان کرتے ہیں ][ انهُمْ عَلٰي شَيْءٍ : کہ وہ لوگ کسی (بڑی) چیز پر ہیں ][ اَلَآ : خبردار ][ انهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ : یہ لوگ ہی جھوٹ کہنے والے ہیں ]
Ayah 58:19[اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ : قابو پایا ان پر ][ الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ][ فَانسٰـىهُمْ : تو اس نے بھلا دی ان لوگوں کو ][ ذِكْرَ اللّٰهِ : اللہ کی یاد ][ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ : وہ لوگ شیطان کا جتھا ہیں ][اَلَآ ان حِزْبَ الشَّيْطٰنِ : سن لو ! یقینا شیطان کا جتھا ][ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : ہی خساری پانے والا ہے ]
Ayah 58:20[ان الَّذِينَ يُحَاۗدُّوْنَ : بیشک جو لوگ مخالفت کرتے ہیں ][ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ: اللہ اور اس کے رسول کی ][ اُولٰۗىِٕكَ فِي الْاَذَلِيْنَ : وہ ذلیل ترین لوگوں میں ہیں ]
Ayah 58:21[كَتَبَ اللّٰهُ : لکھ دیا اللہ نے ][ لَاَغْلِبَنَّ : (کہ) میں لازماً غالب ہوں گا ][ انا وَرُسُلِيْ : میں بھی اور میرے رسول بھی ][ ان اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ: یقینا اللہ قوی ہے بالا دست ہے ]
نوٹ۔ 1 : آیت۔ 21 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کا اعلان فرمایا ہے جو اس نے ازل سے لکھ رکھی ہے کہ جو کشمکش اللہ و رسول اور حزب الشیطان کے درمیان برپا ہوگی اس میں غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں کو حاصل ہوگا۔ جتنے بھی رسول (یہاں نبی اور رسول کے درمیان فرق ملحوظ رہے) دنیا میں آئے، وہ جس قوم کے اندر آئے، اس کے لیے خدا کی عدالت بن کر آئے۔ اس کے بعد اس قوم کا لازماً فیصلہ ہوگیا۔ اگر قوم نے بحیثیت مجموعی اپنے رسول کی تکذیب کردی تو اس کے اندر سے رسول اور اس پر ایمان لانے والے افراد کو الگ کر کے باقی قوم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی عذاب کے ذریعہ سے فنا کردیا۔ قرآن سے رسولوں کی جو تاریخ پیش کی ہے ان میں سے اکثر کو یہی صورت پیش آئی۔ صرف آنحضرت ﷺ کے معاملہ میں ایک دوسری صورت پیـش آئی کہ ہجرت کے بعد آپ ﷺ کو جہاد کا حکم ہوا ار آپ ﷺ کے اعداء نے آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کی تلوار سے شکست کھائی یہاں تک کہ ان کا قلع قمع ہوگیا (تدبر قرآن) ۔ بنی اسرائیل نے اپنے آخری رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور اپنے جانتے میں ان کو پھانسی دے دی۔ ان کا عذاب مؤخر ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی پر امام مہدی کے لشکر سے یہ لوگ شکست کھائیں گے اور ان کا بھی قلع قمع ہوگا۔ (مرتب)
Ayah 58:22[لَا تَجِدُ قَوْمًا : تو نہیں پائے گا کسی ایسی قوم کو جو ][ يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ : ایمان لاتی ہو اللہ پر اور آخری دن پر ][ يُوَاۗدُّوْنَ : خیر خواہی کرتے ہوئے ][ مَنْ : اس کی جس نے ][ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : مخالفت کی اللہ اور اس کے رسول کی ][وَلَوْ كَانوْٓا : اور اگرچہ وہ لوگ ہوں ][ اٰبَاۗءَهُمْ : ان کے باپ دادا ][ اَوْ اَبْنَاۗءَهُمْ : یا ان کے بیٹے ][ اَوْ اِخْوَانهُمْ : یا ان کے بھائی ][ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ : یا ان کی برادری کے ][ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ][ كَتَبَ : اس نے لکھ دیا ][ فِيْ قُلُوْبِهِمُ : جن کے دلوں میں ][الْاِيْمَان : ایمان ][ وَاَيَّدَهُمْ : اور اس نے تائید کی ان کی ][ بِرُوْحٍ : ایک ایسی روح (غیر مادی طاقت) سے جو ][ مِّنْهُ : اس (کی طرف) سے تھی ][وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ : اور وہ داخل کرے گا ان کو ایسے باغات میں ][ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْانهٰرُ : بہتی ہوں گی جن کے دامن سے نہریں ][ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا : ہمیشہ رہنے والے ہوئے ان میں ][ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ : راضی ہوا اللہ ان سے ][ وَرَضُوْا عَنْهُ : اور وہ لوگ راضی ہوئے اس سے ][ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ : وہ لوگ اللہ کا لشکر ہیں ][ اَلَآ ان حِزْبَ اللّٰهِ : سن لو ! اللہ کا لشکر ][هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : ہی مراد پانے والا ہے ]
نوٹ۔ 2 : آیت۔ 22 میں ایک اصولی بات فرمائی گئی ہے کہ دین حق پر ایمان اور اعدائے دین کی محبت دو بالکل متضاد چیزیں ہیں جن کا ایک جگہ اجتماع کسی طرح قابل تصور نہیں ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہاں صرف اصول بیان کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا ہے بلکہ اس امر واقعی کو نمونے کے طور پر پیش فرما دیا کہ جو لوگ سچے مومن تھے انہوں نے فی الواقع سب کی آنکھوں کے سامنے ان تمام رشتوں کو کاٹ پھینکا جو اللہ کے دین کے ساتھ ان کے تعلق میں حائل تھے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو بدر اور احد کے معرکوں میں سارا عرب دیکھ چکا تھا۔ حضرت ابوعبیدہ ؓ نے اپنے والد کو، حضرت مصعب ؓ نے اپنے سگے بھائی کو، حضرت عمر ؓ نے اپنے ماموں کو، حضرت علی ؓ، حضرت حمزہ ؓ اور حضرت عبیدہ بن الحارث نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو قتل کیا۔ جنگ بدر میں حضرت مصعب ؓ کے ایک دوسرے سگے بھائی ابوعزیز کو ایک انصاری پکڑ کر باندھ رہے تھے۔ حضرت مصعب ؓ نے دیکھا تو کہا ذرا مضبوط باندھنا اس کی ماں بہت مالدار ہے۔ اس کی رہائی کے لیے وہ ہت سا فدیہ دے گی۔ ابوعزیز نے کہا تم بھائی ہو کر یہ بات کہہ رہے ہو۔ حضرت مصعب ؓ نے جواب کہ اس وقت تم میرے بھائی نہیں ہو بلکہ یہ انصاری میرا بھائی ہے جو تمہیں گرفتار کر رہا ہے۔ اسی جنگ بدر میں خود نبی ﷺ کے داماد گرفتار ہو کر آئے اور ان کے ساتھ آپ ﷺ کی دامادی کی بنا پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔ اس طرح عالم واقعہ میں دنیا کو یہ دکھایا جا چکا تھا کہ مخلص مسلمان کیسے ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کے دین کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوا کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)