Ayah 57:1[سَبَّحَ لِلّٰهِ : تسیبح کرتی ہے اللہ کی ][مَا : (ہر) وہ چیز جو ][فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : آسمانوں اور زمین میں ہے ][وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور وہی بالا دست ہے حکمت والا ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 1) سبح فعل ماضی ہے۔ لیکن یہاں یہ ایک آفاقی صداقت بیان کررہا ہے اس لیے اس کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:49، نوٹ ۔ 2 ۔ )
نوٹ ۔ 1: یہ سورة سابق سورة الواقعہ کی مثنی ہے ۔ (یعنی یہ دونوں سورتیں جڑواں بہنیں ہیں ) اگرچہ دونوں میں مکی اور مدنی ہونے کے اعتبار سے زمانی اور مکانی بعد (دوری) ہے لیکن معنوی اعتبار سے دونوں میں بہت زیادہ ربط ہے ۔ سابقہ سورة میں یہ اصولی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ جزاء وسزا کا دن لازما آکے رہے گا اور اس دن لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی سابقون اولون ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال ، اس سورة میں مسلمانوں کو سابقین اولین کی صف میں اپنی جگہ بنانے پر ابھارا گیا ہے ۔ (تدبر قرآن ) اس مقصد کے لیے سب سے پہلے (آیات زیر مطالعہ میں ) اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں تاکہ سامعین کو اچھی طرح یہ احساس ہوجائے کہ کس عظیم ہستی کی طرف سے ان کو مخاطب کیا جارہا ہے۔ اس کے بعد سلسلہ وار مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ (تفہیم القرآن ) ۔
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 1 ۔ میں وھوالعزیز الحکیم آیا ہے ۔ لفظ ھو پہلے لانے سے حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ وہ عزیز اور حکیم ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک وہی ایسی ہستی ہے جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ۔ عزیز کے معنی ہیں ایسی زبردست اور قادر وقاہر ہستی جس کے اختیارات پر کوئی تحدید (Limitation) نہ ہو ۔ اور حکیم کے معنی ہیں کہ ہو ہستی جو کچھ بھی کرتی ہے حکمت اور دانائی کے ساتھ کرتی ہے ۔
اس مقام پر ایک لطیف نکتہ اور بھی ہے جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے قرآن مجید میں کم ہی مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کے ساتھ قوی ، مقتدر ، جبار اور ذوانتقام جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، اور یہ صرف ان مواقع پر ہوا ہے جہاں سلسلہ کلام اس بات کا متقاضی تھا کہ ظالموں اور نافرمانوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا جائے ۔ اس طرح کے گنتی کے چند مقامات کو چھوڑ کر باقی جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے عزیز کا لفظ استعمال کیا گیا ہے وہاں اس کے ساتھ حکیم ، علیم ، رحیم ، غفور ، وہاب اور حمید میں سے کوئی لفظ ضرور لایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی ہستی ایسی ہو جسے بےپناہ طاقت حاصل ہو مگر اس کے ساتھ وہ نادان ، بےرحم ، بخیل اور بدسیرت ہو تو اس کے اقتدار کا نتیجہ ظلم کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا ، اسی لیے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کے ساتھ اس کے حکیم ، علیم ، رحیم ، غفور، وہاب یا حمید ہونے کا ذکر لازما کیا گیا ہے تاکہ انسان یہ جان لے کہ جو خدا اس کائنات پر فرمانروائی کررہا ہے وہ ایک طرف تو کامل اقتدار رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ہی تمام قابل تعریف صفات و کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں۔
قرآن کے اس بیان کی پوری اہمیت وہ لوگ زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو حاکمیت (Sovereignty) کے مسئلہ پر فلسفہ سیاست اور فلسفہ قانون کی بحثوں سے واقف ہیں ۔ کسی غیر محدود اقتدار کا تصور کرتے ہی انسانی عقل لازما یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ایسا اقتدار جس کو بھی حاصل ہو اسے ہر نقص سے پاک اور علم و حکمت میں کامل ہونا چاہیے ۔ کیونکہ اگر اس اقتدار کا حامل نادان ، جاہل ، بےرحم اور بدخو ہو تو اس کی حاکمیت سراسر ظلم وفسادہوگی ، اس لیے جن فلسفیوں نے کسی انسانی ادارے یا انسانوں کے مجموعے کو حاکمیت کا حامل قرار دیا ہے، ان کو یہ فرض کرنا پڑا ہے کہ وہ غلطی سے پاک ہوگا ۔ مگر ظاہر ہے کہ نہ تو غیر محدود حاکمیت فی الواقع کسی انسانی اقتدار کو حاصل ہوسکتی ہے اور نہی ہی یہ ممکن ہے کہ کوئی پارلیمنٹ یا قوم یاپارٹی اپنے محدود اختیار کو بےعیب طریقے سے استعمال کرسکے ۔ کیونکہ ایسی حکمت جس میں نادانی کا شائبہ نہ ہو اور ایسا علم جو تمام متعلقہ حقائق پر حاوی ہو سرے سے پوری نوع انسانی ہی کو حاصل نہیں ہے ، کجا کہ وہ کسی ادارے یا قوم کو نصیب ہوجائے ۔ ان حقائق کو نگاہ میں رکھ کر اگر کوئی غور کرے تو اسے محسوس ہوگا کہ قرآن اپنے اس بیان میں درحقیقت حاکمیت کا بالکل صحیح تصور پیش کررہا ہے ۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 57:2[لَهٗ : اسی کے لئے ہے ][مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ : آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ][يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۚ : وہ زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے ][وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : اور وہ ہر چیز پر ][قَدِيْرٌ: قادر ہے ]
Ayah 57:3[هُوَ الْاَوَّلُ : وہ سب سے پہلا ہے ][وَالْاٰخِرُ : اور آخری ہے ][وَالظَّاهِرُ : اور ظاہر ہونے والا ہے ][وَالْبَاطِنُ ۚ : اور پوشیدہ رہنے والا ہے ][وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ : اور وہ ہر چیز پر ][عَلِيْمٌ : علم رکھنے والا ہے ]
(آیت ۔ 3) الا ول مادہ ” ء و ل “ سے افعل تفضیل میں افعل کے وزن پر اول بنتا ہے جو اول استعمال ہوتا ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:49، مادہ ، ء و ل) اس لیے اس کے معنی ہیں سب سے پہلا ۔ جبکہ الاخر افعل و تفضیل نہیں ہے، ورنہ افعل کے وزن پر یہ اخر ہوتا ۔ اس لیے یہ فاعل کے وزن پر اسم الفاعل اخر ہے ۔ جس کے معنی ہیں پیچھے ہونے والا یا پیچھے رہنے والا ۔ یہ مفہوم اردو میں عموما لفظ آخری سے ادا ہوتا ہے۔
نوٹ ۔ 3: آیت ۔ 3 ۔ کی تفسیر اور اول و آخر اور ظاہر و باطن کے معانی میں مفسرین حضرات کے دس سے زیادہ اقول منقول ہیں ، جن میں کوئی تعارض نہیں ، سبھی کی گنجائش ہے۔ لفظ اول کے معنی تو متعین ہیں، یعنی وجود کے اعتبار سے تمام موجودات کے فنا ہونے کے بعد بھی وہ باقی رہے ۔ جیسا کہ سورة القصص کی آیت ۔ 88 ۔ میں ہے کہ ہرچیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے ۔ اور فنا سے مراد عام ہے خواہ عدم وجود واقع ہوجائے جیسے قیامت کے روز عام مخلوقات فنا ہوجائیں گی ، یا فنا کا وقوع نہ ہو مگر اس کا فنا اور عدم وجود ممکن ہو اور جس کے موجود ہونے کے وقت بھی اسے فانی کہہ سکتے ہوں، اس کی مثال جنت و دوزخ اور ان میں داخل ہونے والے اچھے برے انسان ہیں۔ ان کا وجود فنا نہیں ہوگا مگر فنا ہونے کے امکان سے پھر بھی خالی نہ ہوں گے ۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس پر کسی مفہوم سے نہ پہلے کبھی عدم طاری ہوا اور نہ آئندہ کبھی اس کا امکان ہے۔ اس لیے اس کو آخر کہہ سکتے ہیں ۔ اور ظاہر کا مطلب ہے کہ اس کی حکمت و قدرت کے مظاہر دنیا کے ہر ہر ذرہ میں نمایاں ہیں ۔ اس لحاظ سے اس عالم میں اس سے زیادہ کوئی چیز ظاہر نہیں ہے ۔ اور اپنی ذات کی حقیقت کے اعتبار سے وہ باطن ہے کیونکہ اس کی حقیقت تک کسی عقل و خیال کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 57:4[هُوَ الَّذِيْ : وہ، وہ ہے جس نے ][ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ : پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ][فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ : چھ دنوں میں ][ثُمَّ اسْـتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ ۭ : پھر وہ متمکن ہوا عرش پر ][يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے ][مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ : اس کو جو گھستا ہے زمین میں ][وَمَا يَخْــرُجُ مِنْهَا : اور اس کو جو نکلتا ہے اس سے ][وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ : اور اس کو جو اترتا ہے آسمان سے ][وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ : اور اس کو جو چڑھتا ہے اس میں ][وَهُوَ مَعَكُمْ : اور وہ تمہارے ساتھ ہے ][اَيْنَ مَا : جہاں کہیں بھی ][كُنْتُمْ : تم لوگ ہو ][وَاللّٰهُ بِمَا ت : اور اللہ اس کو جو ][تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو یا کروگے ][بَصِيْرٌ: دیکھنے والا ہے ]
(آیت ۔ 4) عربی میں این کو غیر معین کرنے کے لیے جب اس کے ساتھ ما استعمال کرتے ہیں (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:26، نوٹ ۔ 1) تو عام طور پر اسے ملا کر اینما لکھتے ہیں ۔ اور قرآن مجید میں بھی یہ اسی طرح ملا کر اینما آیا ہے۔ لیکن چند آیات میں این سے ما کو الگ کرکے این ما لکھا گیا ہے ۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے، جبکہ عام عربی میں اس کو اس طرح لکھنا غلط مانا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں صورتحال یہ ہے کہ جن آیات میں اینما ہے وہاں این ما لکھنا غلط ہے اور جن آیات میں این ما آیا ہے وہاں اینما لکھنا غلط ہے ۔ یہ اصول قرآن مجید کو تحریف سے محفوظ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2: 61 نوٹ ۔ 1)
Ayah 57:5[لَهٗ : اس کے لیے ہی ہے ] [مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ] [وَاِلَى اللّٰهِ : اور اللہ کی طرف ہی ] [ تُرْجَعُ : لوٹائے جاتے ہیں ] [ الْاُمُوْرُ : سارے معاملات ]
Ayah 57:6[يُوْلِجُ الَّيْلَ : وہ گھساتا ہے رات کو ] [ فِي النَّهَارِ : دن میں ] [ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ : اور وہ گھساتا ہے دن کو ] [ فِي الَّيْلِ ۭ : رات میں ] [وَهُوَ عَلِيْمٌۢ : اور وہ جاننے والا ہے ] [بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں والی (بات) کو ]
Ayah 57:7[اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : تم لوگ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر ] [ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا : اور خرچ کرو اس میں سے ] [ جَعَلَكُمْ : اس نے بنایا تم لوگوں کو ] [ مُّسْتَخْلَفِيْنَ : جانشین کیا ہوا ] [ فِيْهِ ۭ : جس میں ] [فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ : پھر جو لوگ ایمان لائے تم میں سے ] [ وَاَنْفَقُوْا : اور انہوں نے خرچ کیا ] [ لَهُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ: ان کے لیے ایک بڑا اجر ہے ]
Ayah 57:8[وَمَا لَكُمْ : اور تم لوگوں کو کیا (ہوگیا) ہے ] [ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۚ : تم لوگ ایمان نہیں لاتے اللہ پر ] [وَالرَّسُوْلُ : حالانکہ یہ رسول ] [ يَدْعُوْكُمْ : دعوت دیتے ہیں تم کو ] [ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ : کہ تم لوگ ایمان لاؤ اپنے رب پر ] [وَقَدْ اَخَذَ : اس حال میں کہ وہ لے چکے ہیں ] [ مِيْثَاقَكُمْ : تم سے پختہ عہد ] [ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اگر تم لوگ ایمان لانے والے ہو ]
Ayah 57:9[هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ : وہ، وہ ہے جو اتارتا ہے ] [ عَلٰي عَبْدِهٖٓ: اپنے بندے پر ] [ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح آیات ] [ لِّيُخْرِجَكُمْ : تاکہ وہ (اللہ) نکالے تم کو ] [ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۭ : اندھیروں سے روشنی کی طرف ] [وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ : اور بیشک اللہ تم لوگوں پر ] [ لَرَءُوْفٌ: یقینا انتہائی شفقت کرنے و الا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 57:10[وَمَا لَكُمْ : اور تمہیں کیا (ہوگیا) ہے ] [ اَلَّا تُنْفِقُوْا : کہ تم لوگ خرچ نہیں کرتے ] [ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ میں ] [ وَلِلّٰهِ : حالانکہ اللہ ہی کے لیے ہے ] [ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : آسمانوں اور زمین ( کی میتوں) کا ترکہ ] [لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ : برابر نہیں ہیں تم میں سے ] [ مَّنْ : وہ لوگ جنہوں نے ] [ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ : خرچ کیا اس فتح سے پہلے ] [وَقٰتَلَ ۭ : اور قتال کیا ] [اُولٰۗىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً : یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں بلحاظ درجے کے ] [ مِّنَ الَّذِيْنَ : ان لوگوں سے جنہوں نے ] [ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ : خرچ کیا اس کے بعد ] [ وَقٰتَلُوْا ۭ : اور قتال کیا ] [وَكُلًّا : اور سب سے ] [ وَّعَدَ اللّٰهُ : وعدہ کیا اللہ نے ] [ الْحُسْنٰى ۭ : اچھائی کا ] [وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اور اللہ اس سے جو تم لوگ کرتے ہو ] [ خَبِيْرٌ: باخبر ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 10) من یہاں پر جمع کے معنی میں آیا ہے لیکن کیونکہ یہ اصلا واحد لفظ ہے اس لیے فعل انفق اور قاتل واحد کے صیغے میں لا کر لفظی رعایت کی گئی ہے (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2 ۔ 8، نوٹ ۔ 1) وعد کے دو مفعول آتے ہیں ۔ کسی سے وعدہ کیا اور یا کس چیز کا وعدہ کیا ۔ یہاں کلا اس کا مفعول اول مقدم ہے اور الحسنی اس کا مفعول ثانی ہے۔ من بعد دراصل من بعد ذالک ہے۔ مضاف الیہ محذوف ہونے کی وجہ سے مضاف بعد حالت رفع میں آیا ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:25، نوٹ ۔ 3)
نوٹ۔ 1: امنوا کا خطاب اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن آگے قرائن سے واضح ہوجائے گا کہ روئے سخن دراصل ایسے مسلمانوں کی طرف ہے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کا اقرار تو کرلیا ہے لیکن جب ایمان تقاضے انفاق اور قتال کی صورت میں سامنے آئے تو اس کا حق ادا نہیں کرپا رہے تھے ۔ ظاہر ہے کہ یہاں فعل امنوا اپنے کامل اور حقیقی معنی میں ہے جیسے سورة النساء کی آیت ۔ 136 میں ہے۔ کہ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو تم لوگ ایمان لاؤ (تدبر قرآن ) ظاہر ہے کہ سورة النساء کی آیت میں اہل ایمان سے مطالبہ یہ ہے کہ ایمان کے ابتدائی مرحلے یعنی زبانی اقرار سے تو تم گزر چکے ۔ اب ایمان کے بلند درجات کو عبور کرتے ہوئے دلی تصدیق کے مرحلے تک رسائی حاصل کرو ۔ آیت زیر مطالعہ میں بھی یہی مطالبہ ہے اور اس کے ساتھ یہ رہنمائی بھی ہے کہ ایمان بلند درجات عبور کرنے کا اہم ذریعہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی راہ میں اپنا مال اور اپنی جان خرچ کرے ۔ (مرتب)
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 10 میں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے ۔ میراث اصل میں اس ملکیت کو کہتے ہیں جو پچھلے مالک کے انتقال کے بعد زندہ رہنے والے وارثوں کو ملا کرتی ہے اور یہ ملکیت جبری ہوتی ہے کہ مرنے والا چاہے یا نہ چاہے ، جو وارث ہوتا ہے ملکیت اس کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ یہاں میراث کے لفظ میں حکمت یہ ہے کہ تم لوگ چاہو یا نہ چاہو آج تم جس جس چیز کے مالک سمجھے جاتے ہو وہ سب بالآخر اللہ تعالیٰ کی ملکیت خاصہ میں منتقل ہوجائے گی ، اس لیے اس وقت جبکہ تمہیں ظاہری ملکیت حاصل ہے اگر تم اس میں سے کچھ اللہ کے نام خرچ کردو گے تو اس کا بدل تمہیں آخرت میں مل جائے گا ۔ اس طرح گویا اللہ کی راہ میں خرچ کی ہوئی چیز کی ملکیت تمہارے لیے دائمی ہوجائے گی ۔
بی بی عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک روز ہم نے ایک بکری ذبح کی جس کا اکثرحصہ تقسیم کردیا ، صرف ایک دستی گھر کے لیے رکھ لی ۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ اس بکری میں سے کیا باقی رہا ۔ میں نے عرض کیا کہ ایک دستی باقی رہ گئی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ساری بکری باقی رہ گئی ہے صرف یہ دستی باقی نہیں رہی ۔ کیونکہ ساری بکری اللہ کی راہ میں خرچ کردی گئی ہو ۔ وہ اللہ کے یہاں تمہارے لیے باقی رہے گی اور یہ دستی جو اپنے کھانے کے لیے رکھی ہے ، یہ یہیں فنا ہوجائے گی ۔ (معارف القرآن )
نوٹ ۔ 3: اکثر مفسرین نے الفتح سے مراد فتح مکہ لیا ہے ۔ جبکہ کچھ مفسرین اس سے مراد صلح حدیبیہ لیتے ہیں ۔ اس رائے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت خالدبن ولید ؓ کا حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے جھگڑا ہوگیا ، اس میں خالد ؓ نے عبدالرحمن سے کہا تم لوگ اپنی پچھلی خدمات کی بنا پر ہم سے دون کی لیتے ہو ۔ یہ بات جب نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اگر تم لوگ احد کے برابر سونا بھی خرچ کرو تو ان لوگوں کے اعمال کو نہ پہنچ سکوگے ۔ اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اس آیت الفتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے ، کیونکہ حضرت خالد اسی صلح کے بعد ایمان لائے تھے اور فتح مکہ میں شریک تھے ۔
لیکن اس خاص موقع پر الفتح سے مراد خواہ صلح حدیبیہ لی جائے یا فتح مکہ بہرحال اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ درجات کا یہ فرق بس اسی ایک فتح پر ختم ہوگیا ۔ بلکہ اصولا اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب کبھی اسلام پر ایسا کوئی وقت آجائے جب کفار کا پلڑہ بہت بھاری ہو اور بظاہر اسلام کے غلبہ کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے ہوں اس وقت جو لوگ اسلام کی حمایت میں جان (وقت اور صلاحیت ) اور مال خرچ کریں گے ان کے مرتبے کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو کفر واسلام کی کشمکش کا فیصلہ اسلام کے حق میں ہونے کے بعد قربانیاں دیں گے ۔ (تفہیم القرآن ) یہ بات بہت واضح ہے کہ اللہ نے ہم کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے مکی دور میں پیدا کیا ہے ۔ یاران نکتہ داں کے لیے یہ ایک (LifeTimeOpportunity) ہے جو بڑھ کے خود اٹھالے ہاتھ میں اسی کا ہے (مرتب )
Ayah 57:11[مَنْ ذَا الَّذِيْ : کون ہے وہ جو ] [ يُقْرِضُ اللّٰهَ : قرض دے اللہ کو ] [ قَرْضًا حَسَنًا : ایک خوبصورت قرضہ ] [ فَيُضٰعِفَهٗ : نتیجۃً وہ کئی گنا کرے اس (قرض) کو ] [ لَهٗ : اس (قرض دینے والے) کے لیے ] [ وَلَهٗٓ: اور اس کے لیے ] [ اَجْرٌ كَرِيْمٌ: ایک باعزت اجر ہے ]
(آیت ۔ 11) من ذا دراصل من ذالک ہے یعنی کون ہے وہ فیضعفہ کا فاسببیہ ہے اس لیے یضعف حالت نصب میں ہے۔
Ayah 57:12[يَوْمَ تَرَى: جس دن آپ دیکھیں گے ][ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ : مومن مردں اور مومن عورتوں کو ][ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ : دوڑتا ہوگا ان کا نور ][ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ : ان کے آگے ][ وَبِاَيْمَانِهِمْ : اور ان کے دائیں طرف ][ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ : تمہاری بشارت ہے آج کے دن ][ جَنّٰتٌ: ایسے باغات ][ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ][ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ : جن کے دامن میں نہریں ][ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ: ہمیشہ رہنے والے اس میں ][ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : یہ ہی شاندار کامیابی ہے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 12 ۔ اور بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ میدان حشر میں نور صرف مومنین صالحین کو ملے گا وہاں روشنی جو کچھ بھی ہوگی وہ صالح عقیدے اور صالح عمل کی ہوگی ۔ جس شخص کا عمل جتنا تابندہ ہوگا اس کے نور کی روشنی اتنی ہی زیادہ تیز ہوگی ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی کا نور اتنا تیز ہوگا کہ مدینہ سے عدن تک پہنچ رہا ہوگا ۔ کسی کا نور مدینہ سے صنعاء تک اور کسی کا اس سے کم یہاں تک کہ کوئی مومن ایسا بھی ہوگا جس کا نور اس کے قدموں سے آگے نہ بڑھے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ جس کی ذات سے دنیا میں جتنی بھلائی پھیلی ہوگی اس کا نور اتنا ہی تیز ہوگا ۔ اور دنیا میں جہاں تک اس کی بھلائی پہنچی ہوگی ، میدان حشر میں اتنی مسافت تک اس کے نور کی شعاعیں دوڑ رہی ہوگی ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 57:13[يَوْمَ يَقُوْلُ : جس دن کہیں گے ][ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ : منافق مرد اور منافق عورتیں ][ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا : ان لوگوں سے جو ایمان لائے ][ انْظُرُوْنَا : تم لوگ رعایت کرو ہماری ][ نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ ۚ: تو ہم حصہ حاصل کرلیں گے تمہارے نور سے ][ قِيْلَ ارْجِعُوْا : کہا جائے گا تم لوگ لوٹ جاؤ ][ وَرَاۗءَكُمْ : اپنے پیچھے کی طرف ][ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ۭ: پھر تلاش کرو نور کو ][ فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ : پھر بنادی جائے گی ان کے درمیان ][ بِسُوْرٍ : ایک دیوار ][ لَّهٗ بَابٌ ۭ: جس کا ایک دروازہ ہوگا ][ بَاطِنُهٗ : اس کا باطن ہوگا ][ فِيْهِ الرَّحْمَةُ : جس میں رحمت ہوگی ][ وَظَاهِرُهٗ : اور اس کا ظاہر ایسا ہوگا ][ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ : جس کے سامنے سے عذاب ہوگا ]
نوٹ۔ 2 ـ: آیت کے سیاق وسباق پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روشنی اسی انفاق کے فیض سے حاصل ہوگی جس کی دعوت گزشتہ آیت ۔ 10 ۔ 11 ۔ میں دی گئی ہے ۔ نیز آیت ۔ 9 ۔ میں یہ جو ہے کہ اللہ تعالیٰ آیت بینت اتارتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالے تو یہاں آیت بینت سے اشارہ خاص طور پر ان قرآنی آیات کی طرف ہے جو انفاق کی عظمت اور اہمیت واضح کرنے کے لیے نازل ہوئیں ، کیونکہ اسی انفاق سے نفاق کی جڑ کٹتی ہے اور وہ نور حکمت عطا ہوتا ہے جو اس دنیا کی تاریکیوں میں بھی انسان کی رہنمائی کرتا ہے اور آخرت میں بھی یہ رہنمائی کرے گا (تدبر قرآن سے ماخوذ) واضح رہے کہ دین کی خاطر بندہ چاہے مال خرچ کرے یا اپنا وقت ۔ علم ، صلاحیت یا ذاتی مثال سے رہنمائی کرے ، سب انفاق میں شامل ہیں ۔ داتی رہنمائی کے انفاق ہونے کی متعلق آراء مختلف ہوسکتی ہیں ۔ لیکن اس کے شفاعت حسنہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔ اور انفاق کی طرح شفاعت حسنہ بھی انشاء اللہ نور کے حصول کا ذریعہ بنے گی ۔ ذاتی رہنمائی کرنے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک صاحب عمرہ سے واپس آئے تو ان کے دوست نے ان کو مبارک باد دی ۔ انھوں نے کہا اللہ تعالیٰ قبول کرے تو یہ مبارک بادی رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے کیونکہ میں تو آپ ﷺ کی طرف سے عمرہ کرنے گیا تھا ۔ ان کے دوست نے کہا کہ اگلے ماہ میں بھی عمرہ کرنے جارہا ہوں لیکن سوچا تھا کہ یہ عمرہ میں اپنے مرحوم والدین کی طرف سے کروں گا ۔ انہوں نے اپنے دوست کو سمجھایا کہ تم عمرہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کرو ۔ اس کے بعد اللہ سے دعا کرو کہ میرے مرحوم والدین اور خاندان کے تمام مرحومین کو اس کا ثواب بخش دے ۔ اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ تمہارے حساب کے ساتھ خاندان کے تمام مرحومین کے حساب میں بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عمرہ کرنے ثواب لکھ دیا جائے گا ۔ اس کے بعد ان صاحب کے حلقہ میں تین یا چار افراد اس طرح عمرہ کرچکے ہیں۔ اس طرح یا کسی اور انداز میں ذاتی مثال سے تبلیغ کرنے کا عمل بھی انشاء اللہ میدان حشر میں نور میں اضافے کا سبب بنے گا ۔ (مرتب ) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص قرآن کی ایک آیت بھی تلاوت کرے گا ، تو وہ آیت اس کے لیے قیامت کے روز نور ہوگی ۔ ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا کہ مجھ پر درود بھیجنا پل صراط پر نور کا سبب بنے گا ، ایک اور حدیث میں ہے کہ حج و عمرہ کے احرام سے فارغ ہونے کے لیے جو سرمنڈایا جاتا ہے تو اس میں سے جو بال زمین پر گرتا ہے وہ قیامت کے روز نور ہوگا ۔ میدان حشر میں نور وظلمت کے اسباب سے متعلق بارہ احادیث معارف القرآن کی جلد ہشتم کے صفحہ ۔ 308 ۔ 309 پر دی ہوئی ہیں ۔ ان میں سے صرف تین نقل کی گئی ہیں ۔
نوٹ ۔ 3: ایک حدیث میں ہے کہ پھر تم لوگ قبروں سے میدان حشر کی طرف منتقل کیے جاؤ گے جس میں مختلف مراحل ہوں گے ۔ ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ اللہ کے حکم سے کچھ چہرے سفید اور روشن کردیئے جائیں گے اور کچھ چہرے سیاہ ۔ پھر ایک مرحلہ پر میدان حشر میں جمع ہونے والے سب لوگوں پر جن میں مومن اور کافر سب شامل ہوں گے، ایک شدید ظلمت اور اندھیری طاری ہوجائے گی کسی کو کچھ نظر نہ آئے گا ، اس کے بعد نور تقسیم کیا جائے گا ۔ ہر مومن کو نور عطا کیا جائے گا اور کفار و منافقین کو نور نہ دیا جائے گا ۔ مگر ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ پل صراط کے پاس اللہ تعالیٰ ہر مومن کو نور عطا فرمادیں گے اور ہر منافق کو بھی ۔ مگر جب یہ پل صراط پر پہنچ جائیں گے تو منافقین کا نور سلب کرلیا جائے گا ۔ تفسیر مظہری میں ان دونوں احادیث کی تطبیق اس طرح کی گئی ہے کہ وہ منافقین جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھے ان کو تو شروع ہی سے کفار کی طرح کوئی نور نہیں ملے گا ۔ اور وہ منافقین جو اس امت میں بعد میں پیدا ہوئے جن کو منافقین کا نام اس لیے نہیں دیا جاسکے گا کہ وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا اور اب کسی کے بارے میں یہ حکم نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ دل سے مومن نہیں ، صرف زبان کا اقرار ہے ، یہی وجہ ہے کہ امت میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو منافق کہے لیکن اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے، اس لیے جو لوگ اللہ کے علم میں منافق ہوں گے ، ان کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا کہ شروع میں ان کو نور دے دیا جائے گا اور بعد میں سلب کرلیا جائے گا ۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 57:14[يُنَادُوْنَهُمْ : وہ منافق لوگ آواز دیں گے ان مومن کو ][ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ۭ: کای ہم نہیں تھے تم لوگوں کے ساتھ ][ قَالُوْا بَلٰى: وہ لوگ کہیں گے کیوں نہیں ][ وَلٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ : اور لیکن تم لوگوں نے فتنہ میں ڈالا ][ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ : اپنی جانوں کو اور انتظار میں رہے ][ وَارْتَبْتُمْ : اور شبہ میں رہے ][ وَغَرَّتْكُمُ : اور فرریب دیا تم لوگوں کو ][ الْاَمَانِيُّ : آرزوں نے ][ حَتّٰى جَاۗءَ اَمْرُ اللّٰهِ : یہاں تک کہ آن پہنچا اللہ کا حکم ][ وَغَرَّكُمْ : اور فریب دیا تم لوگوں کو ] [ بِاللّٰهِ : اللہ کے بارے ][ الْغَرُوْرُ : اس انتہائی دھوکے باز نے ]
ترکیب : (آیت ۔ 16) یان دراصل مضارع یانی ہے ۔ لم داخل ہونے کی وجہ سے مضارع مجزوم ہوا تو ” ی “ گرگئی ۔ ان کی وجہ سے تخشع مضارع منصوب آیا ہے ۔ لایکونوا سے نون اعرابی کا گرا ہونا بتارہا ہے کہ یہ بھی ان پر عطف ہونے کی وجہ سے مضارع منصوب ہے۔ یعنی اصل مفہوم یہ ہے کہ اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ۙ وَلَا يَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ ۔
Ayah 57:15[فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ : تو اس دن نہیں لی جائے گی تم لوگوں سے ][ فِدْيَةٌ: بدلے میں کوئی چیز ][ وَّلَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ: اور نہ ان سے جنہوں نے کھلا انکار کیا ][ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ ۭ: تم سب کا ٹھکانہ یہ آگ ہے ][ هِىَ مَوْلٰىكُمْ ۭ: یہ اب تمہاری کرتا دھرتا ہے ][ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : کتنی بری ہے یہ لوٹنے کی جگہ ]
Ayah 57:16[اَلَمْ يَاْنِ : کیا (ابھی) وقت نہیں آیا ] [لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : ان کے لیے جو ایمان لائے ] [ اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ : کہ جھک جائیں ان کے دل ] [ لِذِكْرِ اللّٰهِ : اللہ کے ذکر کے لیے ] [ وَمَا نَزَلَ : اور اس کے لیے جو نازل ہوا ] [ مِنَ الْحَقِّ ۙ : الحق میں سے ] [وَلَا يَكُوْنُوْا : اور (کیا وقت نہیں آیا کہ) وہ لوگ نہ ہوں ] [ كَالَّذِيْنَ : ان کے جیسے جن کو ] [ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ : دی گئی کتاب اس سے پہلے ] [ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْاَمَدُ : پھر طویل ہوئی ان پر مدت ] [ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ ۭ : پھر سخت ہوگئے ان کے دل ] [وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ : اور ان میں سے اکثر ] [ فٰسِقُوْنَ : نافرمانی کرنے والے ہیں ]
نوٹ ۔ 1: خشوع قلب سے مراد دل کا نرم ہونا اور وعظ و نصیحت کو قبول کرنا ہے ۔ اور قرآن کے لیے خشوع یہ ہے کہ اس کے احکام ، اوامر ونواعی کی اطاعت کے لیے تیار ہوجائے اور اس پر عمل کرنے میں کسی سستی اور کمزوری کو راہ نہ دے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض مومنین کے قلوب میں عمل کے اعتبار سے کچھ سستی معلوم کی تو اس پر یہ آیت (نمبر ۔ 16) نازل ہوئی ۔ امام اعمش نے فرمایا کہ مدینہ پہنچنے کے بعد صحابہ کرام کو کچھ معاشی سہولتیں اور آرام ملا تو بعض حضرات میں عمل کی جدوجہد ، جون کی عادت تھی ، اس میں کچھ کمی اور سستی پائی گئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں مومنین کو مکمل خشوع اور عمل صالح کے لیے مستعد رہنے کی تعلیم ہے اور خشوع قلب ہی پر تمام اعمال کا مدار ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سب سے پہلے جو چیز لوگوں سے اٹھائی جائے گی وہ خشوع ہے۔ (معارف القرآن )
نوٹ۔ 2: دل کی نرمی اگر وقتی ہو تو اس کے لیے خشوع قلب کی اصطلاع ہے لیکن کسی کی شخصیت میں یہ دل کی نرمی اگر مستقل صفت بن جائے تو اس کے لیے قرآن کی اصطلاح ہے ” ر ء فۃ “۔ اور اس صفت کی حامل شخصیت کو رءوف کہتے ہیں ۔ قرآن میں یہ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر آیا ہے ۔ صرف ایک جگہ ، سورة التوبہ ۔ 128، یہ لفظ رسول اللہ ﷺ کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ انگریزی میں اس کو (empathy) کہتے ہیں جو ( Sympathy) (ہمدردی ) سے بلند تردرجہ کی خوبی مانی جاتی ہے ۔ (اپنی شخصیت میں اس خوبی کو اجاگر کرنے کے خواہشمند اصحاب اس کو مزید وضاحت جینے کا سیلقہ کورس میں دیکھ لیں )
اس حوالے سے اب یہ بات سمجھ لیں کہ ایمان لانے کے بعد عمل صالح کے تقاضوں کو طوعا اوکرھا پورا کرنا اسلام کا بنیادی تقاضا ہے ۔ لیکن اس کے آگے دلی آمادگی ، جذبے ، شوق اور پھر لگن کے ساتھ ان تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے درجہ بدرجہ ترقی کرکے درجہ احسان تک پہنچنے پر آمادہ کرنے کے لیے جو عوامل انسان کے لیے مہمیز کا کام کرتے ہیں ۔ ان میں سے دو بنیادی عوامل کا یہاں ذکر ہے۔ پہلا ہے رقت قلبی جو اوپر ہم سمجھ چکے ۔ دوسرا ہے اسلام کے نظریہ آخرت کو دل و دماغ میں حاضر رکھنا ۔ اس کا ذکر آیت ۔ 17 میں ہے کہ آئے دن تمہاری آنکھوں کے سامنے اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو اور اس حقیقت کو دل و دماغ میں حاضر رکھو کہ اس طرح اللہ تمہیں بھی دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر تم ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے اپنے اس انجام تک پہنچو گے جس کی خبر انبیاء ورسل دیتے آئے ہیں ۔ یہ دونوں عوامل جب مہمیز لگاتے ہیں تو انسان عمل صالح کے اس مرحلہ میں داخل ہوتا ہے جو صالح لوگوں میں سے کچھ کی زندگی میں عموما سب سے آخر میں آتا ہے ۔ اور وہ ہے اللہ کی راہ میں اپنی جان (یعنی وقت اور صلاحت ) اور مال خرچ کرنا ۔ اور جب کوئی بندہ اپنے ظروف و احوال میں رہتے ہوئے اپنے مقدور پھر دعوت و تبلیغ کی جدوجہد یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں لگ جاتا ہے تو ہو صالحین کے زمرے سے ترقی کرکے شہداء کے زمرے میں شامل ہوجاتا ہے ۔
پھر یہ جہاد پارٹی ڈسپلن کے پریشر کے تحت نہ ہو ، نہ دیکھا دیکھی ہو ، نہ ہسکا ہوری ہو، بلکہ اللہ کے بندوں کو آگ کے گڑھے کی طرف بڑھتے دیکھ کر اور اپنے مسلمان بھائیوں کے اخروی انجام کو خطروں میں گھرا دیکھ کر دل میں جو کسک اور ٹیس اٹھتی ہے ، اس کے تحت وہ دعوت و تبلیغ میں اپنی جان اور اپنا مال کھپائے تو اخلاص کی پہلی شرط پوری ہوجائے گی ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اس جدوجہد کے عوض نہ پارٹی میں واعلی عہدوں کی تمنا ہو اور نہ کسی داد وہش کی آرزو ہو ، بلکہ اس کا اجر صرف اللہ سے مطلوب ہو اور آخرت میں مطلوب ہو ۔ جہاد مع النفس کرتے ہوئے بندہ جب اپنے جہاد فی سبیل اللہ کی نیت اور اعمال کے اخلاص میں درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے اس کے تکمیلی مرحلہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ شہدا کے زمرے سے ترقی کرکے صدیقین کے زمرے میں شامل ہوجاتا ہے ۔ یہ وہ بلندترین درجہ سے جہاں تک بندہ اپنے کسب سے رسائی حاصل کرسکتا ہے ۔ کیونکہ اس سے اوپر انبیاء (علیہم السلام) کا زمرہ ہے جس کا دروازہ بندہوچکا ہے لیکن جب یہ دروازہ کھلا ہوا تھا اس وقت بھی یہ رتبہ کسبی نہیں تھا بلکہ وہبی تھا۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بلند درجات تو دور کی بات ہے ، خود ہدایت بھی کسبی نہیں بلکہ وہبی ہے ۔ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ (اے نبی ﷺ ) بیشک آپ ﷺ ہدایت نہیں دیتے جس کو آپ چاہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے ۔ القصص ۔ 56) اس لیے جو کچھ بھی ہے سب وہبی ہے ۔ یہ اس کی دین ہے جس کو پروردگار دے ۔ لاریب فیہ یقینا دین تو اللہ ہی کی ہے لیکن عند الطلب ہے، بن مانگے نہیں ملتی سوائے نبوت کے جو بن مانگے ملتی تھی آیت لیس للانسان الا ما سعی [ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے سوائے اس کے جو اس نے کوشش کی ۔ النجم ۔ 39) اس لیے یہ رویہ درست نہیں ہے کہ سب کچھ اللہ کے حوالے کرکے انسان خود کو عمل سے فارغ کرلے ۔ درست طرز عمل یہ ہے کہ جس چیز کی طلب ہو انسان اس کے لیے کوشش کرے ، پھر کوشش کا نتیجہ اللہ کے حوالے کرے ، پھر جو نتیجہ نکلے اسے اپنا کارنامہ نہ سمجھے کیونکہ کوشش کا نتیجہ اللہ کی دین ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طلب اور سعی بندے کا کسب ہے اور نتیجہ اللہ کی دین ہے ۔
Ayah 57:17[اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ : تم لوگ جان لو کہ اللہ ] [يُـحْيِ الْاَرْضَ : زندہ کرتا ہے زمین کو ] [ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ : اس کی موت کے بعد ] [قَدْ بَيَّنَّا : ہم واضح کرچکے ] [ لَكُمُ الْاٰيٰتِ : تم لوگوں کے لیے نشانیوں کو ] [ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ : شاید تم لوگ عقل (استعمال) کرو ]
Ayah 57:18[اِنَّ الْمُصَّدِّقِيْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ : بیشک صدقہ کرنے والے اور صدقہ کرنے والیاں ] [ وَاَقْرَضُوا اللّٰهَ : اور (جو بھی) قرض دے اللہ کو ] [ قَرْضًا حَسَنًا : کوئی (بھی) خوبصورت قرضہ ] [ يُّضٰعَفُ لَهُمْ : تو اس کو کئی گنا کیا جائے گا ان کے لیے ] [ وَلَهُمْ اَجْرٌ كَرِيْمٌ: اور ان کے لیے ایک عزت والا اجر ہے ]
(آیت ۔ 18) المصدقین اصل میں باب تفعل کا اسم الفاعل المتصدفین ہے۔ قاعدے کے مطابق تا کو ص میں تبدیل کرکے ادغام کردیا گیا ہے ۔ اقرضوا سے پہلے من محذوف ہے ، یضعف کا نائب فاعل اس میں شامل ضمیر ھو جو قرضا حسنا کے لیے ہے۔
Ayah 57:19[وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور جو لوگ ایمان لائے ] [ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖٓ: اللہ اور اس کے رسولوں پر ] [ اُولٰۗىِٕكَ : ان لوگوں (میں سے)] هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ ڰ وَالشُّهَدَاۗءُ : ہی صدیقین اور شہداء ہیں ] [عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ : اپنے رب کے پاس ] [لَهُمْ اَجْرُهُمْ : ان کے لیے ان کا اجر ہے ] [ وَنُوْرُهُمْ ۭ : اور ان کا نور ہے ] [وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور جنہوں نے انکار کیا ] [ وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ : اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو ] [ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ : وہ لوگ دوزخ والے ہیں ]
Ayah 57:20[اِعْلَمُوْٓا : تم لوگ جان لو ] [ اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا : کہ دنیوی زندگی تو بس ] [ لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ: کھیل کود ہے اور تماشہ ہے اور زینت ہے ] [ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ : اور فخر کرنا ہے آپس میں ] [ وَتَكَاثُرٌ: اور ایک دوسرے پر کثرت حاصل کرنا ہے ] [ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ : مال اور اولاد میں ] [كَمَثَلِ غَيْثٍ : (نیز دنیوی زندگی) کسی بارش کی مثال کی طرح ہے ] [ اَعْجَبَ : دلکش لگا ] [ الْكُفَّارَ : کسان کو ] [ نَبَاتُهٗ : جس کا سبزہ ] [ ثُمَّ يَهِيْجُ : پھر وہ زور پر آتا ہے ] [ فَتَرٰىهُ : تو تو دیکھتا ہے اس کو ] [ مُصْفَرًّا : پیلا پڑتے ہوئے ] [ ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭ: پرھ وہ ہوجاتا ہے روندا ہوا ] [وَفِي الْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں ] [ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ : شدید عذاب ہے ] [وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ : اور مغفرت ہے اللہ ( کی طرف) سے ] [ وَرِضْوَانٌ ۭ : اور (اس کی) رضا مندی ہے ] [وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ : اور دنیوی زندگی (کچھ) نہیں ہے ] [ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ : سوائے دھوکے کے سامان کے ]
(آیت ۔ 20) کمثل غیث کا تعلق الحیوۃ الدنیا سے ہے ۔ یعنی انما الحیوۃ الدنیا کمثل غیث ۔
Ayah 57:21سَابِقُوْٓا : تم لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو ] [ اِلٰى مَغْفِرَةٍ : ایک ایسی مغفرت کی طرف جو ] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ : تمہارے رب ( کی طرف ) سے ہے ] [ وَجَنَّةٍ : اور ایک ایسی جنت کی طرف ][ عَرْضُهَا : جس کی وسعت ][ كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ: زمین و آسمان کی وسعت کی طرح ][ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ : جو تیار کی گئی ان کے لیے جو ][ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ۭ: ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ][ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ : یہ اللہ کا فضل ہے ][ يُؤْتِيْهِ : وہ دیتا ہے اسے ][ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ: اس کو جسے وہ چاہتا ہے ][ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : اور اللہ بڑے فضل والا ہے ]
Ayah 57:22[مَآ اَصَابَ : نہیں آ لگتی ][ مِنْ مُّصِيْبَةٍ : کوئی بھی آ لگنے والی ][ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ : زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں ][ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ : سوائے اس کے کہ وہ ایک کتاب میں ہے ][ مِّنْ قَبْلِ اَنْ : اس سے پہلے کہ ][ نَّبْرَاَهَا ۭ: ہم وجود بخشتے ہیں اس کو ][ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ : بیشک یہ اللہ پر ][ يَسِيْرٌ: آسان ]
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 22 ۔ میں ایک حقیقت کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ہر انسان پر اچھے یا برے ، جو بھی حالات وارد ہوتے ہیں وہ سب اللہ کے اذن سے ہوتے ہیں ۔ اس کے اذن کے بغیر پتہ بھی جنبش نہیں کرسکتا ۔ پھر اگلی آیت میں بتایا کہ تم سے کوئی چیز جاتی رہے تو مایوس مت ہو اور کچھ مل جائے تو اتراؤ مت ۔ یہاں پر یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ کسی چیز کے جاتے رہنے پر افسوس ہونا اور کچھ مل جانے پر خوش ہونا بشری تقاضے ہیں اور اسلام میں اس کی ممانعت نہیں ہے ۔ آیت ۔ 23 ۔ میں جس طرز عمل سے روکا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان فطری افسوس کو پال پوس کر بڑھائے اور اپنے اوپر طاری رکھے تاکہ دوسروں کی ہمدردیاں حاصل کرتا رہے ۔ یافطری خوشی بڑھا چڑھا کر اس کی نمائش کرتا رہے تاکہ دوسروں کے دلوں میں حسرت اور حسد پیدا ہو۔ اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ غم اور خوشی کے جذبات کو کنٹرول کرکے ایک حد کے اندر رکھے اور ان پر قابو پانے کی کوشش کرے تاکہ زندگی کے روز مرہ کے معمولات میں زیادہ خلل واقع نہ ہو ۔ کسی عزیز کے انتقال سے بڑھ کر اور کیا سانحہ ہوسکتا ہے ۔ اس میں سوگ منانے کی اجازت ہے لیکن سینہ کو بی اور بین کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اور سوگ کی اجازت بھی تین دن سے زیادہ کی نہیں ہے۔ اسلام کا یہ تقاضہ پورا کرنا انسان کے لیے آسان ہوجاتا ہے وہ یہ بات یاد رکھے کہ مجھے جو نقصان پہنچا ہے تو میرے رب کے اذن سے پہنچا ہے اور اس کے ہاتھ میں کل خیر ہے (ال عمران ۔ 26) اس لیے اس میں میری کوئی بھلائی ہے جو میں نہیں جانتا ۔ وہ جانتا اسی طرح خوشی کے وقت یہ یاد رکھے کہ مجھے کچھ ملا ہے تو یہ میرے رب کی دین ہے ۔ اس میں میرا کوئی کارنامہ نہیں ہے ۔
اللہ کے ہاتھ میں کل خیر ہونے کا مطلب اس مثال سے سمجھیں کہ مالی اپنے لگائے ہوئے پودے کو پانی بھی دیتا ہے کھاد بھی ڈالتا ہے لیکن اس میں گوڈی بھی کرتا ہے ، اس کے سائے تلے پروان چڑھنے والی جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ کر اس سے جدا بھی کرتا ہے اور خود پودے کی تراش خراش بھی کرتا رہتا ہے مالی کے کسی کام سے پودے کو راحت محسوس ہوتی ہے کسی کام سے تکلیف ہوتی ہے لیکن مالی کے ہاتھ میں کل خیر ہے ۔ وہ جو کچھ بھی کرتا صرف پودے کی فلاح کے پیش نظر کرتا ہے۔ مالی جانتا ہے کہ پودے کے حق میں کیا خیر ہے اور کیا شر لیکن پودا نہیں جانتا ۔
Ayah 57:23[ لِّكَيْلَا تَاْسَوْا : تاکہ تم لوگ مایوس نہ ہو ][ عَلٰي مَا : اس پر جو ][ فَاتَكُمْ : نکل گیا تم سے ][ وَلَا تَفْرَحُوْا : اور نہ اتراؤ ][ بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭ: اس پر جو اس نے دیا تم کو ][ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ : اور اللہ پسند نہیں کرتا ][ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِۨ: سب اکڑنے والے فخر کرنے والوں کو ]
Ayah 57:24الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ : وہ لوگ جو کنجوسی کرتے ہیں ][ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ : اور ترغیب دیتے ہیں لوگوں کو ][ بِالْبُخْلِ : کنجوسی کی ][ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ : اور جو روگردانی کرتا ہے ][ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو یقینا اللہ ][ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ : ہی بےنیاز ہے حمد کیا ہوا ہے ]
Ayah 57:25[لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا : بیشک ہم بھیج چکے اپنے رسولوں کو ][ بِالْبَيِّنٰتِ : واضح نشانیوں کے ساتھ ][ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ : اور ہم نے اتارا ان کے ساتھ ][ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ : الکتاب اور وزن کرنے کا پیمانہ ][ لِيَقُوْمَ النَّاسُ : تاکہ قائم رہیں ][ بِالْقِسْطِ ۚ: انصاف پر ][ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ : اور ہم نے اتارا لوہا ][ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ: جس میں شدید سختی ہے ][ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ : اور فائدے ہیں لوگوں کے لیے ][ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ : اور تاکہ جان لے اللہ ][ مَنْ يَّنْصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ : کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی ][ بِالْغَيْبِ ۭ: غائبانہ ][ اِنَّ اللّٰهَ : یقینا اللہ ][ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ: قوی ہے بالادست ہے
نوٹ۔ 2 آیت ۔ 25 ۔ میں پیغمبروں کو بھیجنے اور اس کے ساتھ کتاب اور میزان اتارنے کا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ لوگ انصاف پر قائم رہیں ۔ اس کے بعد ایک تیسری چیز یعنی لوہے کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ یہ بھی درحقیقت اسی عدل و انصاف کی تکمیل کے لیے ہے جو پیغمبر اور کتاب کے نازل کرنے کا مقصد ہے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اللہ کے احکام پر عمل کرنے اور باہمی حقوق و فرائض کا توازن برقرار رکھنے کے لیے واضح دلائل دیتے ہیں ۔ وعظ و نصیحت کرتے ہیں اور نہ کرنے کی صورت میں آخرت کے عذاب سے ڈراتے ہیں لیکن کچھ سرکش عناصر نہ کسی دلیل کو مانتے ہیں نہ اللہ کی ہدایت کے مطابق عمل کرنے تیار ہوتے ہیں انکو اگر آزاد چھوڑ دیا جائے تو یہ عدل و انصاف کے نظام میں خلل انداز کرتے رہیں گے ۔ ایسے لوگوں کو قابو میں رکھنا لوہے اور تلوار کا کام ہے جو حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن کریم نے دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے دو چیزوں کو تو اصل قرار دیا ہے یعنی کتاب اور میزان ، جبکہ حدید کا ذکر آخر میں فرمایا ہے ۔ اس میں اشارہ ہے کہ اقامت عدل و انصاف کے لیے لوہے کا استعمال بدرجہ مجبوری ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ خلق خدا کی اصلاح اور ان کو انصاف پر قائم رکھنا دراصل ذہنوں کی تربیت اور تعلیم سے ہوتا ہے ۔ جبکہ حکومت کا زور اس کام کے لیے نہیں ہے بلکہ راستہ سے روکاوٹ دور کرنے کے لیے ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 57:26[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا : اور بیشک ہم بھیج چکے ][ نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ : نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو ][وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا : اور ہم نے رکھ دیا ان دونوں کی اولاد میں ][ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ : نبوت اور کتاب ][فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ : تو ان میں سے ہدایت پانے والے (بھی) ہیں ][وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ : اور اکثر ان میں سے ][ فٰسِقُوْنَ : نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Ayah 57:27[ثُمَّ قَفَّيْنَا : پھر ہم نے پیچھے بھیجا ][ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ : ان کے نقوش قدم پر ] [بِرُسُلِنَا : اپنے رسولوں کو ][ وَقَفَّيْنَا : اور ہم نے پیچھے بھیجا ][ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ : عیسیٰ ابن مریم کو ][ وَاٰتَيْنٰهُ الْانجِيْلَ : اور ہم نے دی ان کو انجیل ][وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِينَ : اور ہم نے رکھ دیا ان کے دلوں میں جنھوں نے ][اتَّبَعُوْهُ : پیروی کی ان کی ][ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً : نرمی اور مہربانی ][وَرَهْبَانيَّةَۨ: اور ترک دنیا کو !][ ابْتَدَعُوْهَا : انھوں نے ایجاد کیا اس (بدعت) کو ][ مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ : ہم نے فرض نہیں کیا تھا اسے ان پر ][اِلَّا ابْتِغَاۗءَ رِضْوَان اللّٰهِ : (انھوں نے ایجاد نہیں کیا اسے) مگر اللہ کی رضا کی جستجو کے لیے ][ فَمَا رَعَوْهَا : پھر انھوں نے نباہا نہیں اس (بدعت ) کو ][ حَقَّ رِعَايَــتِهَا : جیسا اس کو نباہنے کا حق ہے ][ فَاٰتَيْنَا : تو ہم نے دیا ][ الَّذِينَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ : ان کو جو ایمان لائے ان میں سے ][اَجْرَهُمْ : ان کا اجر ][ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ : اور اکثر ان میں سے ][ فٰسِقُوْنَ : نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Ayah 57:28[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا : اے لوگو جو ایمان لائے ][ اتَّقُوا اللّٰهَ : تم لوگ تقویٰ اختیار کرو اللہ کا ][ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ : اور ایمان لائو اس کے رسول پر ][ يُؤْتِكُمْ : تو وہ دے گا تم لوگوں کو ][ كِفْلَيْنِ : دو حصّے ][ مِنْ رَّحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں سے ][ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُوْرًا : اور وہ بنائے گا تمہارے لیے ایک ایسا نور ][ تمشُوْنَ بِهٖ : تم لوگ چلو (پھرو) گے جس کے ساتھ ][ وَيَغْفِرْ لَكُمْ : اور وہ بخش دے گا تمہارے لیے (گناہوں کو)][وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: اور اللہ بےانتہا بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1 : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے رئیس لوگوں نے انجیل سے کھلی بغاوت شروع کردی۔ عیسائی علماء نے انھیں روکا تو ان کو قتل کردیا گیا۔ جو بچ رہے انھوں نے دیکھا کہ اگر ہم ان لوگوں میں مل جل کر رہے تو ہمارا بھی دین برباد ہوگا، اس لیے ان لوگوں نے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی کہ اب دنیا کی جائز لذتیں اور آرام بھی چھوڑ دیں۔ کسی جنگل یا پہاڑ میں بسر کریں یا خانہ بدوشوں کی زندگی گزاریں۔ ان کا یہ طریقہ چونکہ حالات سے مجبور ہو کر اپنے دین کی حفاظت کے لیے تھا اس لیے اصلاً یہ کوئی مذموم چیز نہ تھی۔ البتہ اللہ کی رضاجوئی کے لیے کسی چیز کو اپنے اوپر لازم کرلینے کے بعد اس میں کوتاہی یا خلاف ورزی کرنا گناہ ہے۔ جیسے نذر اور منت کا حکم ہے، جو کسی پر واجب نہیں ہے۔ لیکن جب کوئی شخص اللہ کے لیے کوئی منت مان لیتا ہے تو پھر اس کی پابندی واجب اور خلاف ورزی گناہ ہوجاتی ہے، مگر بعد میں رہبانیت اختیار کرنے والے بعض لوگوں نے رہبانیت ہی کو دنیا طلبی اور عیش و عشرت کا ذریعہ بنا لیا۔ کیونکہ عوام الناس ایسے لوگوں کے معتقد ہوئے تو تحائف اور نذرانے آنے لگے اور لوگوں کا ان کی طرف رجوع ہوا تو فواحش کی نوبت آنے لگی۔ آیت۔ 27 ۔ میں ایسے ہی لوگوں پر نکیر کی گئی ہے۔ (اور رہبانیت کا حق ادا کرنے والوں کے لیے ان کے اجر کا اعلان کیا گیا ہے۔ مرتب)
صحیح بات یہ ہے کہ رہبانیت کے چند درجے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی حلال یا مباح چیز کو اعتقادًا یا عملاً حرام قرار دے دے۔ یہ تو دین کی تحریف ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے رہبانیت قطعاً حرام ہے۔ المائدہ کی آیت۔ 87 ۔ میں اسی کی ممانعت ہے کہ اس کو حرام مت کرو جس کو اللہ نے حلال کیا ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ کسی مباح کام کے کرنے کو حرام قرار نہیں دیتا لیکن کسی دنیوی یا دینی ضرورت کی وجہ سے اس کو چھوڑنے کی پا بندی کرتا ہے۔ جیسے کسی بیماری کے خطرہ سے کسی مباح چیز سے پرہیز کرے۔ اور دینی ضرورت جیسے جھوٹ، غیبت وغیرہ سے بچنے کے لیے کوئی شخص لوگوں سے اختلاط (یعنی ملنا جلنا) چھوڑ دے۔ اس ترک کی پابندی علاج اور دوا کے طور پر اس وقت تک کرے جب تک یہ رذیلہ (یعنی نفس کی کمزوری) دور نہ ہوجائے۔ جیسے صوفیائے کرام مبتدی کو کم کھانے، کم سونے اور کم میل جول کی تاکید کرتے ہیں کہ یہ نفس کے ساتھ ایک مجاہدہ ہوتا ہے اسے اعتدال پر لانے کے لیے۔ جب نفس پر قابو ہوجاتا ہے کہ ناجائز تک پہنچنے کا خطرہ نہ رہے تو یہ پرہیز چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ دراصل رہبانیت نہیں بلکہ تقویٰ ہے جو دین میں مطلوب ہے اور صحابہ و تابعین اور ائمہ دین سے ثابت ہے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ کسی مباح کو حرام تو قرار نہیں دیتا مگر اس کے استعمال کو چھوڑنا ثواب اور افضل جان کر اس سے پرہیز کرتا ہے۔ یہ غلوفی الدین ہے جس سے احادیث کثیرہ میں منع کیا گیا ہے۔ اور جس حدیث میں ہے کہ اسلام میں رہبانیت نہیں، اس سے مراد ایسا ہی ترک مباحات ہے کہ ان کے ترک کو افضل اور ثواب سمجھے۔ (معارف قرآن، جلد ہشتم، صفحہ 326 تا 329 سے ماخوذ)
نوٹ۔ 2 آیت ۔ 28 ۔ کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ یہاں خطاب ان لوگوں سے ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اب محمد ﷺ پر ایمان لائو، اس پر تمہیں دوہرا اجر ملے گا، دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہ خطاب محمد ﷺ پر ایمان لانے والوں سے ہے۔ ان سے ارشاد ہو رہا ہے کہ تم محض زبان سے آپ ﷺ کی نبوت کا اقرار کر کے نہ رہ جائو بلکہ ایمان لانے کا حق ادا کرو۔ اس پر تمہیں دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اسلام قبول کرنے کا اور دوسرا اسلام میں اخلاص اختیار کرنے کا۔ پہلی تفسیر کی تائید القصص کی آیات 52 تا 54 سے ہوتی ہے۔ (جس میں ہے کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ قرآن پر ایمان لاتے ہیں انھیں ان کا اجر دو مرتبہ دیا جائے گا) دوسری تفسیر کی تائید سورة سبا کی آیت۔ 37 ۔ کرتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ مومنین صالحین کے لیے دوگنا اجر ہے۔ دلیل کے اعتبار سے دونوں تفسیروں کا وزن برابر ہے۔ لیکن اس سورة کا پورا مضمون دوسری تفسیر کی تائید کرتا ہے۔ اس سورت میں شروع سے وہی لوگ مخاطب ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کر کے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور پوری سورت میں انھیں کو دعوت دی گئی ہے کہ اخلاص کے ساتھ ایمان لانے کا حق ادا کریں۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 3 پھر آیت۔ 28 ۔ میں ہے کہ اللہ کے تقویٰ اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کا حق ادا کرو گے تو اللہ تمہیں ایسا نور عطا کرے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں علم و بصیرت کا وہ نور عطا فرمائے گا جس کی روشنی میں تم کو قدم قدم پر صاف نظر آتا رہے گا کہ زندگی کے مختلف معاملات میں جاہلیت کی ٹیٹرھی راہوں کے جنگل میں اسلام کی سیدھی راہ کون سی ہے اور آخرت میں وہ نور بخشے گا جس کا ذکر آیت۔ 12 ۔ میں گزر چکا ہے۔ (تفہیم القرآن)