Ayah 56:1[اِذَا : جب ] [وَقَعَتِ : واقع ہونے والی ] [ الْوَاقِعَةُ : واقع ہوجائے ]
ترکیب : (آیات ۔ ایک اور چار) دونوں میں بات اذا سے شروع ہوئی ہے، اس لیے ان کے آگے آنے والے افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں کیا جائے گا ۔
Ayah 56:2[لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا : اس کے واقع ہونے میں ] [ كَاذِبَةٌ: کچھ جھوٹ نہیں ]
Ayah 56:3[خَافِضَةٌ: کسی کو پست کرے ] [رَّافِعَةٌ : کسی کو بلند ]
Ayah 56:4[اِذَا : جب ] [ رُجَّتِ الْاَرْضُ : زمین بھونچال سے ] [ رَجًّا : لرزنے لگے ]
ر ج ج : (ن) رجا حرکت دینا ۔ ہلانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 4 ۔
Ayah 56:5[وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ : اور پہاڑ ٹوٹ کر ] [ بَسًّا : ریزہ ریزہ ہوجائیں ]
ب س س :ـ (ن) بسا ۔ کسی چیز کو پھیلادینا ۔ ریزہ ریزہ کردینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 5 ۔
(آیت ۔ 4 ۔ 5) رج اور بس متعدی اور لازم دونوں معانی میں آتے ہیں ۔ یہاں رجت اور بست فعل مجہول کے واحد مؤنث غائب کے صیغے آئے ہیں ۔ اس لیے یہ افعال متعدی کے معانی میں آئے ہیں۔ الارض اور الجبال فاعل ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ نائب فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہیں ۔
Ayah 56:6[فَكَانَتْ : پھر ] هَبَاۗءً : غبار ہو کر ] مُّنْۢبَثًّا : اڑنے لگیں ]
Ayah 56:7[وَّكُنْتُمْ : اور تم لوگ ] [اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً : تین قسم ہوجاؤ ]
Ayah 56:8[فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ : تو داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ)] [مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ : داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین) میں ہیں ]
Ayah 56:9[وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَةِ ڏ : اور بائیں ہاتھ والے ] [مَآ : کیا (ہوں گے) ] [اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ : بائیں طرف والے ]
شء م : (و) شاما ۔ نحوست ڈالنا ۔ (ک) شامۃ منحوس ہونا ۔ مشمۃ نحوست کی جگہ یا وقت ۔ بایاں پہلو ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 9 ۔
وض ن : (ن) وضنا زرہ ۔ بننا ۔ کسی چیز کو بنتے ہوئے قیمتی بنانا ۔ جیسے زرہ بنتے وقت ہیرے جواہرات ٹانک دینا ۔ کپڑا بنتے ہوئے سونے چاندی کے تار ڈال دینا ۔ موضونۃ اسم المفعول ہے ہر قیمتی بنی ہوئی چیز ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 9 ۔
Ayah 56:10[وَالسّٰبِقُوْنَ : اور سبقت کرنے والے ] [السّٰبِقُوْنَ : سبقت کرنے والوں پر ]
Ayah 56:11[اُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ : وہ لوگ قربت دیئے ہوئے ہوں گے ]
Ayah 56:12[فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ : سدا بہاری کے باغات میں ]
Ayah 56:13[ثُـلَّةٌ: (وہ لوگ) انبوہ کثیر ہوں گے ] [مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگوں میں سے ]
ث ل ل : (ن) ثلا ، کنویں سے مٹی نکالنا ، قوم کو ہلاک کرنا ۔ ثلۃ انسانوں کا بڑا گروہ ۔ انبوہ ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 13 ۔
Ayah 56:14[وَقَلِيْلٌ: اور تھوڑے ہوں گے ] [مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ : آخری لوگوں میں سے ]
Ayah 56:15[عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ : قیمتی جڑاؤ کئے ہوئے تختوں پر ]
Ayah 56:16[مُّتَّكِـــِٕيْنَ عَلَيْهَا : ٹیک لگانے والے ہوتے ہوئے ان پر ] [مُتَقٰبِلِيْنَ : باہم آمنے سامنے ہونے والے ]
Ayah 56:17[يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ : گھومیں پھریں گے ان کے گرد ] [وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ : ہمیشگی دیئے ہوئے لڑکے ]
Ayah 56:18[بِاَكْوَابٍ : جاموں کے ساتھ ] [وَّاَبَارِيْقَ ڏ : اور صراحیوں کے ساتھ ] [وَكَاْسٍ : اور ایسی شراب کے آبخوروں کے ساتھ جو [مِّنْ مَّعِيْنٍ : کسی رواں پانی میں سے ہوگی ]
(آیت ۔ 18) باکواب کی ب پر عطف ہونے کی وجہ سے اباریق ۔ کاس ، فاکھۃ اور لحم حالت جر میں آئے ہیں ۔
Ayah 56:19[لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا : ان کو سردرد نہیں ہوگا اس سے ] [وَلَا يُنْزِفُوْنَ : اور نہ وہ بد مست ہوں گے ]
Ayah 56:20[وَفَاكِهَةٍ : اور کچھ میوہ کے ساتھ ] [مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَ : اس میں سے جو وہ پسند کریں ]
Ayah 56:21[وَلَحْمِ طَيْرٍ : اور پرندوں کے گوشت کے ساتھ ] [مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ : اس میں سے جو ان کا جی چاہے ]
Ayah 56:22[وَحُوْرٌ عِيْنٌ : اور (وہاں ) بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی ]
Ayah 56:23كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُـہ : موتی کی مثالیوں کے جیسے ] [الْمَكْنُوْنِ : ڈھانپے ہوئے (پلکوں میں)]
Ayah 56:24[جَزَاۗءًۢ بِمَا : بدلہ ہوتے ہوئے بسبب اس کے جو ] [كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ عمل کیا کرتے تھے ]
Ayah 56:25[لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا : وہ نہیں سنیں گے اس میں ] [لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا : کوئی واہی تباہی اور نہ الزام تراشی کرنا ]
(آیت ۔ 25 ۔ 26) یہ جملہ منفی ہے اس لیے اس میں الا کوئی اعرابی عمل نہیں کرے گا ۔ لا یسمعون کا مفعول ہونے کی وجہ سے لغوا ، تاثیما حالت نصب میں ہیں ۔ پھر الا نے لا یسمعون کے لا کو قطع کیا تو اب یسمعون کا مثبت مفعول قیلا آیا ہے جبکہ قیلا کا بدل ہونے کی وجہ سے سلما ، سلما حالت نصب میں ہیں ۔
نوٹ ۔ 1: گزشتہ سورتوں میں سورة ق سے لے کر سورة رحمن تک جزاء وسزا سے متعلق ہونے والی بحث کا خلاصہ اس سورة واقعہ میں رکھ دیا گیا ہے پچھلی سورتوں میں آفاق وانفس اور عقل و فطرت کی روشنی میں اس موضوع کے تمام پہلو زیر بحث آئے ہیں اب اس سورة میں دلائل کی وضاحت کے بجائے اصل نتیجہ سے آگاہ کیا گیا ہے کہ قیامت ایک ہونی شدنی بات ہے انسانوں کو لازما ایک ایسے جہاں سے سابقہ پیش آنے والا ہے جس میں عزت وذلت کے پیمانے ان پیمانوں سے بالکل مختلف ہوں گے جو اس جہاں میں معروف ہیں ۔ وہاں عزت و سرفرازی ان کے لیے ہوگی جنھوں نے اس دنیا میں ایمان اور عمل صالح کی کمائی کی ہوگئی وہ مقربین اور اصحاب الیمین کے درجے پائیں گے اور جنت کی تمام کامرانیاں انہی کے حصہ ہوں گی رہے وہ جو اس دنیا کو ہی سب سمجھ بیٹھے اور اسی میں مگن ہوگئے وہ اصحاب الشمال میں ہوں گے اور ان کو دوزخ کے ابدی عذاب سے سابقہ پیش آئے گا ۔ (تدبر قرآن )
نوٹ۔ 2: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مرض وفات میں حضرت عثمان ؓ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے حضرت عثمان ؓ پوچھا آپ کو کیا تکلیف ہے ، تو فرمایا مجھے اپنے گناہوں کی تکلیف ہے ۔ پھر پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ۔ تو فرمایا اپنے رب کی رحمت چاہتا ہوں ۔ پھر حضرت عثمان ؓ نے کہا میں آپ کے لیے کسی طبیب کو بلاتا ہوں ، تو فرمایا مجھے طبیب ہی نے تو بیمار کرڈالا ہے پھر پوچھا آپ کے لیے بیت المال سے کوئی عطیہ بھیج دوں تو فرمایا مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے ۔ حضرت عثمان ؓ نے کہا عطیہ لے لیجے وہ آپ کے بعد آپ کی لڑکیوں کے کام آئے گا تو فرمایا کہ کیا آپ کو میری لڑکیوں کے بارے میں یہ فکر ہے کہ وہ فقروفاقہ میں مبتلا ہوجائیں گی ؟ مگر مجھے یہ فکر اس لیے نہیں کہ میں نے اپنی لڑکیوں کو تاکید کررکھی ہے کہ ہر رات سورة واقعہ پڑھا کریں ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص ہر رات سورة واقعہ پڑھا کرے وہ کبھی فاقہ میں مبتلا نہیں ہوگا ۔ (معارف القرآن )
نوٹ ۔ 3: مفسرین کے درمیان اس میں اختلاف ہے کہ اولین اور آخرین سے مراد کون ہیں ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت سے نبی کریم ﷺ کی بعثت تک جتنی امتیں گزری ہیں وہ اولین ہیں اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد قیامت تک کے لوگ آخرین میں ہیں اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ بعثت محمدی سے پہلے کے لوگوں میں سابقین کی تعداد زیادہ ہوگئی اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد کے لوگوں میں سابقین کم ہوں گے ۔ دوسرا گروہ وہ کہتا ہے کہ یہاں اولین و آخرین سے مراد امت محمدی کے اولین و آخرین ہیں ۔ یعنی اس امت کے ابتدائی دور کے اولین ہیں جن میں سابقین زیادہ ہوں گے اور بعد کے لوگ آخرین ہیں جن میں سابقین کم ہوں گے ۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ اس سے مراد ہر نبی کی امت کے اولین و آخرین ہیں ۔ آیت کے الفاظ ان تینوں مفہوموں کے حامل ہیں ۔ اور بعید نہیں کہ یہ تینوں ہی صحیح ہوں ، کیونکہ درحقیقت ان میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 56:26[اِلَّا قِيْلًا : مگر (سنیں گے) کہا جانا ] [سَلٰمًا سَلٰمًا : سلام سلام ]
Ayah 56:27[وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ڏ : اور داہنی طرف والے ] [مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ : کیا (ہوں گے) داہنے طرف والے ]
نوٹ۔ 1: پیچھے آیت ۔ 8 ۔ 9 ۔ میں لفظ ما آیا ہے اور اب آیت ۔ 27 ۔ میں اس کا اعادہ ہوا ہے اور آگے آیت ۔ 41 میں پھر اعادہ ہوگا ۔ ان میں جو استفہام ہے یہ اظہار شان و عظمت کے لیے بھی آتا ہے اور اظہار نفرت و کراہیت کے لیے بھی ۔ اظہار عظمت کے لیے ہو تو مطلب ہوتا ہے کہ ان کے عالی مقامی کا کیا کہنا ہے اور اظہار نفرت کے لیے ہو تو مطلب ہوتا ہے ان کی بدحالی اور بدانجامی کا کیا پوچھتے ہو ، یہ اسلوب کلام اس صورت میں اختیار کیا جاتاجب صورتحال کی تصویر الفاظ میں کھینچنی ممکن نہ ہو اور صورت واقعہ قیاس و گمان کی رسائی سے اور الفاظ کے احاطہ سے ماوراء ہوں ۔ (تدبر قرآن سے ماخوذ)
Ayah 56:28[فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ : (وہ ہوں گے) کانٹے صاف کیے ہوئے بیری کے درختوں میں ]
خ ض د : (ض) ۔ خضدا۔ درخت کے کانٹے صاف کرنا ۔ مخضود ۔ اسم المفعول ہے ۔ کانٹے صاف کیا ہوا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 28 ۔
Ayah 56:29[وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ : اور تہہ بہ تہہ کیے ہوئے کیلوں میں ]
Ayah 56:30[وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ : اور دراز کیے ہوئے سائے میں ]
Ayah 56:31[وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ : اور جاری کیے ہوئے پانی میں ]
س ک ب : (ن) سکبا ۔ پانی گرانا ۔ جاری کرنا ۔ مسکوب ۔ اسم المفعول ہے ۔ جاری کیا ہوا ، زیر مطالعہ آیت ۔ 31 ۔
Ayah 56:32[وَّفَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ : اور ایسے کثیر میوں میں جو ]
Ayah 56:33[لَّا مَقْطُوْعَةٍ : نہ قطع کیے ہوئے ہوں گے ] [وَّلَا مَمْنُوْعَةٍ : اور نہ منع کیے ہوئے ]
نوٹ۔ 2 لامقطوعۃ ولا ممنوعۃ سے مراد ہے کہ یہ پھل موسمی نہیں ہوں گے کہ موسم گزر جانے کے بعد نہ مل سکیں ۔ ان کی پیداوار کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا بلکہ ہر پھل وہاں ہر موسم میں ملے گا اور لاممنوعۃ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے باغوں کی طرح وہاں کوئی باغ کا مالی یا چوکیدار منع کرنے والا نہ ہوگا ۔ (تفہیم قرآن )
Ayah 56:34[وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ : اور بلند کیے ہوئے بچھونوں میں ]
Ayah 56:35[اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ : بیشک ہم نے اٹھایا ان عورتوں کو ] [اِنْشَاۗءً : جیسے بہترین اٹھان کا حق ہے ]
Ayah 56:36[فَجَــعَلْنٰهُنَّ : پھر ہم نے بنایا ان کو ] [اَبْكَارًا : کنواریاں ]
Ayah 56:37[عُرُبًا : پیار ظاہر کرنے والیاں ] [اَتْرَابًا : ہم عمر ہونے والیاں ]
نوٹ۔:3 آیت ۔ 37 ۔ میں ہم عمر ہونے کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم سن ہوں ۔ دوسرا یہ کہ وہ آپس میں ہم سن ہوں یعنی جنت کی تمام عورتیں ایک ہی عمر کی ہوں ہمیشہ اسی عمر کی رہیں ۔ بعید نہیں کہ یہ دونوں ہی باتیں بیک وقت صحیح ہوں ۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے جسم بالوں سے صاف ہوں گے ۔ مسیں بھیگ رہی ہوں گی مگر داڑھی نہ نکلی ہوگی ۔ گورے چٹے ہوں گے ۔ گٹھے ہوئے بدن ہوں گے ۔ آنکھیں سرمگیں ہوگی ۔ سب کی عمریں ۔ 33 ۔ سال کی ہوں گی ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 56:38[لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ : داہنی طرف والوں کے لیے ]
Ayah 56:39[ثُلَّةٌ : (وہ) انبوہ کثیر ہوں گے ] [مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ : اولین میں سے ]
Ayah 56:40[وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ : اور انبوہ کثیر ہوں گے آخرین میں سے (بھی) ]