55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 55:1

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

رحمٰن نے

اَلرَّحْمٰنُ [ (وہ ہی ) انتہائی رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 55:2

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

اِس قرآن کی تعلیم دی ہے

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ [جس نے تعلیم دی قرآن کی ]
Ayah 55:3

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اُسی نے انسان کو پیدا کیا

خَلَقَ الْاِنْسَانَ [ اس نے پیدا کیا انسان کو ]
Ayah 55:4

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اور اسے بولنا سکھایا

عَلَّمَهُ [ اس نے سکھایا اس کو ] الْبَيَانَ [ مافی الضمیر واضح کرنا ]
Ayah 55:5

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں

اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ سورج اور چاند ] بِحُسْـبَانٍ [ ایک حساب سے ہیں ]
Ayah 55:6

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں

وَّالنَّجْمُ [ جڑی بوٹیاں ] وَالشَّجَرُ [ اور سارے درخت ] يَسْجُدٰنِ [ سجدہ کرتے ہیں ]
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی

وَالسَّمَاۗءَ [اور اس آسمان کو ] رَفَعَهَا [ اس نے بلند کیا اس کو ] وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ [اور اس نے اتارا اس ترازو (توازن کے معیار ) کو ]
Ayah 55:8

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو

اَلَّا تَطْغَوْا [کہ تم لوگ بےاعتدالی مت کرو ] فِي الْمِيْزَانِ [توازن کے معیار میں ]
Ayah 55:9

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو

وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ [ اور قائم رکھو تولنے کو ] بِالْقِسْطِ [ انصاف سے ] وَلَا تُخْسِرُوا [ اور کمی مت کرو ] الْمِيْزَانَ [ ترازو میں ]
Ayah 55:10

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا

وَالْاَرْضَ [اور اس زمین کو ] وَضَعَهَا [ اور نے رکھا اس کو ] لِلْاَنَامِ [ مخلوق کے لیے ]
Ayah 55:11

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں

فِيْهَا فَاكِهَةٌ ۽ [ اس (زمین ) میں پھل ہے ] وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِ [ اور غلافوں والی کھجوریں ]
Ayah 55:12

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی

وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ [ اور بھوسے والے دانے ] وَالرَّيْحَانُ [ اور خوشبودار پودے ]
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:14

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا

خَلَقَ الْاِنْسَانَ [ اس نے پیدا کیا انسان کو ] مِنْ صَلْصَالٍ [ ایک کھنکتی مٹی سے ] كَالْفَخَّارِ [ جیسے ٹھیکرا ]
Ayah 55:15

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا

وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ [ اور اس نے پیدا کیا جن کو ] مِنْ مَّارِجٍ [ ایک ایسے شعلے سے جو ] مِّنْ نَّارٍ [ آگ سے تھا ]
Ayah 55:16

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ] نوٹ۔ 1: اس سے پہلی سورة القمر میں زیادہ تر مضامین سرکش قوموں پر عذاب آنے کے متعلق تھے ۔ اس لیے ہر عذاب کے ذکر کے بعد لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ایک خاص جملہ بار بار استعمال فرمایا ہے۔ یعنی فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ اور اس کے متصل ایمان و اطاعت کی ترغیب کے لیے دوسرا جملہ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ بار بار لایا گیا ہے ۔ سورة الرحمن میں اس کے مقابل بیشتر مضامین اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بیان میں ہیں ۔ اسی لیے جب کسی نعمت یا نعمتوں کا ذکر فرمایا تو شکر نعمت کی ترغیب کے لیے فرمایا فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۔ اور پوری سورت میں یہ جملہ ۔ 31 مرتبہ لایا گیا ہے ۔ جو بظاہر تکرار معلوم ہوتا ہے اور کسی لفظ یا جملے کا تکرار بھی تاکید کا فائدہ دیتا ہے اس لئے وہ فصاحت و بلاغت کے خلاف نہیں ہے ۔ خصوصا ان دونوں سورتوں میں جن جملوں کی تکرار ہوئی ہے وہ صورت کے اعتبار سے تو تکرار ہے لیکن ہر ایک جملہ ایک نئے مضمون سے متعلق ہونے کی وجہ سے مکرر محض نہیں ہے۔ کیونکہ سورة قمر میں ہر نئے عذاب کے ذکر کے بعد اس کا جملہ دہرایا گیا ہے ۔ اسی طرح سورة رحمن میں ہر نئی نعمت کے بیان کے بعد اس کے جملے کی تکرار کی گئی ہے ۔ اس قسم کی تکرار کو فصحاء وبلغاء عرب کے کلام میں مستحن اور شیریں سمجھتے ہیں ۔ اس کو نثر اور نظم دونوں میں استعمال کرتے ہیں ۔ اور صرف عربی ہی نہیں ، فارسی اور اردو کے مسلم شعراء کے کلام میں بھی اس کی مثالیں پائی جاتی ہیں ۔ (معارف القرآن) اردو کی نظموں میں ایسے جملوں کو ٹیپ کا بند کہتے ہیں ۔ (مرتب) نوٹ۔ 2: تکذبان تثینہ کا صیغہ ہے کیونکہ خطاب جن وانس دونوں سے ہے ۔ گویا جن کا ذکر تصریحا پہلے نہیں ہوا لیکن انام میں وہ شامل ہیں اور آیت ۔ 13 ۔ کے بعد ہی آدمی اور جن کی کیفیت تخلیق بتائی گئی ہے ۔ اور چند آیات کے بعد جن وانس کو تصریحا خطاب کیا گیا ہے۔ یہ قرائن دلالت کرتے ہیں کہ یہاں مخاطب وہ ہی دونوں ہیں ، (ترجمہ شیخ الہند) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے سورة رحمن خود تلاوت فرمائی یا آپ ﷺ کے سامنے یہ سورة پڑھی گئی ۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تم سے ویسا اچھا جواب نہیں سن رہا ہوں جیسا جنوں نے اپنے رب کو دیا تھا ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ وہ کیا جواب تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ پڑھتا تو جن اس کے جواب میں کہتے لا بشیء من نعمۃ ربنا نکذب (ہم اپنے رب کی کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے) (تفہیم القرآن ۔ ج 5، ص 244) نوٹ۔ 3: انام عربی زبان میں خلق کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں انسان اور سب زندہ مخلوقات شامل ہیں ۔ سب جاندار نام ہیں ۔ یہی معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اس آیت سے زمین کو ریاست کی ملکیت بنانے کا حکم نکالتے ہیں وہ ایک فضول بات کہتے ہیں ۔ یہ باہر کے نظریات لا کر قرآن میں زبردستی ٹھونسنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے جس کا ساتھ نہ آیت کے الفاظ دیتے ہیں اور نہ سیاق وسباق ۔ انام صرف انسانی معاشرے کو نہیں کہتے ہیں بلکہ زمین کی دوسری مخلوقات بھی اس میں شامل ہیں ۔ اور زمین کو انام کے لیے وضع کرنے کا یہ مطب نہیں ہے کہ وہ سب کی مشترکہ ملکیت ہو اور سیاق عبارت بھی یہ نہیں بتارہا ہے کہ کلام کا مدعا اس جگہ کوئی معاشی ضابطہ بیان کرنا ہے۔ یہاں تو مقصود دراصل یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو اس طرح بنایا اور تیار کردیا کہ یہ قسم قسم کی زندہ مخلوقات کے لیے رہنے بسنے کے قابل ہوگئی ۔ (تفہیم القرآن ) نوٹ۔ 4: تخلیق انسانی کے ابتدائی مراتب جو قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں ۔ ان کی سلسلہ وار ترتیب مختلف مقامات کی تصریحات کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتی ہے ۔ (1) تراب یعنی مٹی یا خاک ۔ (2) طین یعنی گارا جو مٹی میں پانی ملا کر بنایا جاتا ہے ۔ (3) طین لازب یعنی وہ گارا جس کے اندر کچھ عرصہ بعد لیس پیدا ہوجائے ۔ (4) حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ وہ گارا جس کے اندر بو پیدا ہوجائے ۔ (5) صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ۔ وہ سڑا ہوا گارا جو سوکھنے کے بعد پکی ہوئی مٹی کے ٹھیکرے جیسا ہوجائے۔ (6) بشر ، جو مٹی کی اس آخری صورت سے بنایا گیا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص روح پھونکی جس کو فرشتوں سے سجدہ کرایا گیا ، پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی جیسے ست سے چلائی گئی جس کے لیے دوسرے مقامات پر نطفہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس طرح پہلا انسان مٹی سے بنایا گیا ، پھر تخلیق کے مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے اس کی لبد خاکی نے گوشت پوست کے بشر کی شکل اختیار کی اور آگے اس کی نسل نطفہ سے چلی ، اسی طرح پہلا جن آگ کے شعلے یا لپٹ سے پیدا کیا گیا اور بعد میں اس کی ذریت سے جنوں کی نسل پیدا ہوئی ۔ زندہ بشر بن جانے کے بعد انسانوں کے جسم کو اس مٹی سے کوئی مناسبت باقی نہیں رہی جس سے ان کو پیدا کیا گیا تھا اگرچہ اب بھی ہمارا جسم پورا کا پورا زمین ہی کے اجزاء سے مرکب ہے لیکن ان اجزاء نے گوشت پوست اور خون کی شکل اختیار کرلی ہے ایسا ہی معاملہ جنوں کا بھی ہے ان کو وجود بھی اصلا ایک آتشیں وجود ہی ہے لیکن جس طرح ہم محض تودہ خاک نہیں ہیں اس طرح وہ بھی محض شعلہ آتش نہیں ہیں ۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ جن مجرد روح نہیں ہیں بلکہ ایک خاص نوعیت کے مادی اجسام ہی ہیں ۔ مگر چونکہ وہ خالص آتشیں اجزاء سے مرکب ہیں اس لیے وہ خاکی اجزاء سے بنے ہوئے انسانوں کو نظر نہیں آتے ۔ اس چیز کی طرف سورة الاعراف کی آیت ۔ 27 ۔ میں اشارہ ہے کہ شیطان اور اس کا قبیلہ تم کو ایسی جگہ سے دیکھ رہا ہے جہاں تم ان کو نہیں دیکھتے ۔ اسی طرح جنوں کا سریع الحرکت ہونا ، ان کا باآسانی مختلف شکلیں اختیار کرلینا اور ان مقامات پر غیر محسوس طریقے سے نفوذ کرجانا جہاں خاکی اجزاء سے بنی ہوئی چیزیں نفوذ نہیں کرسکتیں ۔ یہ سب امور اسی وجہ سے ممکن اور قابل فہم ہیں کہ وہ فی الاصل آتشیں مخلوق ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 55:17

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے

رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ [ دونوں مشرقوں کا مالک ] وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ اور دونوں مغربوں کا مالک ] ترجمہ : نوٹ۔ 1: دومشرقوں اور دو مغربوں سے مراد اجاڑے کے چھوٹے سے چھوٹے دن اور گرمی کے بڑے سے بڑے دن کے مشرق ومغرب بھی ہوسکتے ہیں ۔ جاڑے کے سب سے چھوٹے دن میں سورج ایک نہایت تنگ زاویہ بناکر طلوع و غروب ہوتا ہے اس کے برعکس گرمی کے سب سے بڑے دن میں وہ انتہائی وسیع زاویہ بناتے ہوئے نکلتا اور ڈوبتا ہے ۔ ان دونوں کے درمیان ہر روز اس کے طلوع اور غروب ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو مشرقوں اور مغربوں کا رب کہنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس کے حکم سے سورج کے طلوع و غروب اور سال کے دوران میں انکے مسلسل بدلتے رہنے کا یہ نظام قائم ہے ۔ اور اپنی مخلوقات کی پرورش کے لیے اس نے زمین پر سورج کے ڈوبنے اور نکلنے کا یہ حکیمانہ نظام قائم کیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 55:18

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:19

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ [ اس نے رواں کیے دو سمندر ] يَلْتَقِيٰنِ [ وہ دونوں ملتے ہیں ]
Ayah 55:20

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

پھر بھی اُن کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے

بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ [ ان دونوں کے درمیان ایک پردہ (ہوتا ) ہے ] لَّا يَبْغِيٰنِ [(تو) وہ دونوں چڑھائی نہیں کرتے (ایک دوسرے پر )
Ayah 55:21

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:22

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

اِن سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں

يَخْرُجُ مِنْهُمَا [ نکلتے ہیں ان دونوں سے ] اللُّؤْلُؤُ [ موتی ] وَالْمَرْجَانُ [اور مونگے ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 22 میں ہے کہ دونوں سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں معترضین اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ موتی اور مونگے تو صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں پھر یہ کیسے کہا گیا کہ میٹھے اور کھاری دونوں پانیوں سے یہ چیزیں نکلتی ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سمندر میں میٹھا اور کھاری دونوں طرح کا پانی جمع ہوجاتا ہے ۔ اور کچھ عجب نہیں کہ مزید تحقیقات سے یہ ثابت ہو کہ ان چیزوں کی پیدائش سمندر میں اس جگہ ہوتی ہے جہاں اس کی تہ سے میٹھے پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں اور ان کی پیدائش و پرورش میں دونوں طرح کے پانیوں کے اجتماع کو کچھ دخل ہے ۔ بحرین میں جہاں قدیم ترین زمانے سے موتی نکالے جارہے ہیں ، وہاں تو یہ بات ثابت ہے کہ خلیج کی تہ میں میٹھے پانی کے چشمے موجود ہیں ۔ (تفہیم القرآن ) قانون قدرت یہ ہے کہ اشیا کی پیدائش تضادات کے ملاپ سے ہوتی ہے ۔ بچہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے وہ پرورش اگرچہ ماں کے پیٹ میں پاتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ عورت اور مرد دونوں سے وجود میں آتا ہے ۔ اسی طرح موتی شیریں اور کھاری دونوں ہی پانیوں کے ملاپ سے پیدا ہوتے ہیں اگرچہ وہ پرورش کھاری پانی کے اندر ہی پاتے ہوں ۔ ویسے ہمارے نزدیک معترضین کا یہ دعوی بالکل بےبنیاد ہے کہ موتی کھاری پانی نکلتے ہیں ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں موتی (Pearl) پر جو مضمون ہے اس کا ایک اقتباس ہم یہاں درج کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مونگے اور موتی میٹھے پانی سے بھی نکلتے ہیں مضمون نگار لکھتا ہے : ” نصف کرہ شمالی کے منطقہ معتدلہ میں میٹھے پانی کے سیپ کے کیڑے بہت قیمتی موتی پیدا کرتے رہے ہیں ۔ امریکہ کے میٹھے پانی کے موتی زیادہ تر دریائے مسی سی پی سے نکلتے ہیں ۔ سکاٹ لینڈ کے دریاؤں Spey اور Tay اور شمالی ویلز کے دریا Conway سے نکلنے والی موتی کی ایک زمانے میں بہت مانگ رہی ہے ۔ چین میں میٹھے پانی سے موتی نکالنے کی صنعت ایک ہزار سال قبل مسیح سے معروف ہے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 55:23

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:24

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور یہ جہاز اُسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں

وَلَهُ [ اور اس کی ہی (ملکیت ) ہیں ] الْجَوَارِ الْمُنْشَــٰٔتُ [ اوپر اٹھائی ہوئی کشتیاں ] فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ [سمندر میں پہاڑیوں کی مانند ]
Ayah 55:25

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:26

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے

كُلُّ مَنْ [ اس کا ہر ایک جو ] عَلَيْهَا [ اس (زمین ) پر ہے ] فَانٍ [ فنا ہونے والا ہے ] ن ی : (س) فناء ۔ معدوم ہونا ۔ ہلاک ہونا ۔ فان ۔ اسم الفاعل ہے۔ معدوم ہونے والا۔ زیرمطالعہ آیت نمبر ۔ 26 ۔
Ayah 55:27

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے

وَّيَبْقٰى [ اور باقی رہے گا ] وَجْهُ رَبِّكَ [آپ کے رب کا چہرہ جو ] ذُو الْجَلٰلِ [ انتہائی بلند مرتبہ والا ہے ] وَالْاِكْرَامِ [اور بزرگی والا ہے ] ج ل ل : (ض) جلالا ۔ بڑی شان والا ہونا ۔ بلند مرتبہ ہونا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 27 ۔ ترکیب : (آیت ۔ 27) ذو الجلل والاکرام میں ذو کا حالت رفع میں ۔۔ بتارہا ہے کہ یہ فقرہ ربک میں رب کی صفت نہیں ہے بلکہ وجہ کی صفت ہے ۔ اگر رب کی صفت ہوتی تو ذی آتا ۔ جیسا کہ آخری آیت میں آیا ہے۔ (آیت ۔ 29) یسئل کا مفعول اس کے ساتھ ہ کی ضمیر مفعولی ہے جبکہ من فی السموت والارض میں من اس کا فاعل ہے ھو مبتدا ہے ۔ اس کی خبر محذوف ہے جو مشتغل ہوسکتی ہے ۔ فی شان متعلق خبر اور کل یوم ظرف ہے اس لیے کل حالت نصب میں آیا ہے۔ (آیت ۔ 31)
Ayah 55:28

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:29

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے

يَسْـَٔـلُهٗ [ مانگتے ہیں اسی سے ] مَنْ [ وہ سب جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ آسمانوں اور زمین میں ہیں ] كُلَّ يَوْمٍ [ ہر روز ] هُوَ فِيْ شَاْنٍ [ وہ (اپنی عظمت کے مطابق ) کسی کام میں ہے ] نوٹ۔ 3 : آیت ۔ 29 ۔ میں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی ساری مخلوقات اور ان کا ایک ایک فرد اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات مانگتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر حال میں ان کی درخواست پورا کرنے کے لحاظ سے ایک خاص شان میں ہوتے ہیں ۔ پھر آیت ۔ 31 ۔ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ قیامت کے روز درخواستوں اور انکے قبول اور ان پر عمل کا سب سلسلہ بند ہوجائے گا ۔ اس وقت کام صرف ایک رہ جائے گا یعنی حساب وکتاب اور عدل انصاف کے ساتھ فیصلہ ۔ (معارف القرآن )
Ayah 55:30

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:31

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے زمین کے بوجھو، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں

سَنَفْرُغُ [ ہم فارغ ہوجائیں گے ] لَكُمْ [ تمہارے (حساب کتاب کے) لیے ] اَيُّهَا الثَّقَلٰنِ [اے دو بھاری (گروہ ) ] فرغ یفرغ کے بنیادی معنی تو فارغ ہونا ہی ہے البتہ جب یہ لام کے صلہ کے ساتھ فرغ لک آتا ہے تو عربی محاورہ کے مطابق اس میں عموما دھمکی کا مفہوم ہوتا ہے ۔ جیسے اردو میں ہم کہتے ہیں ” میں تمہیں دیکھ لوں گا ۔ یا انگریزی میں کہتے ہیں ۔ I Will See you بظاہر یہ دونوں سادہ سے جملے ہیں لیکن ان میں جو دھمکی شامل ہے اسے دونوں زبانوں کے اہل زبان خوب سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح سافرغ لک کا ترجمہ تو یہی بنے گا کہ میں فارغ ہوجائوں گا تیرے لیے لیکن اس کا اصل مفہوم ہے میں فارغ ہوجاؤں گا تیری خبر لینے کے لیے ۔ ترجمہ میں اس مفہوم کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
Ayah 55:32

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

(پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:33

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہ جن و انس، گر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو نہیں بھاگ سکتے اِس کے لیے بڑا زور چاہیے

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ [ اے انسانوں اور جنوں کے گروہ ] اِنِ اسْتَطَعْتُمْ [ اگر تمہیں استطاعت ہے ] اَنْ تَنْفُذُوْا [ کہ تم لوگ پار نکل جاؤ ] مِنْ اَقْـطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ آسمانوں اور زمینوں کے کناروں سے ] فَانْفُذُوْا ۭ [ تو نکل جا ] لَا تَنْفُذُوْنَ [ تم لوگ نہیں نکل سکوگے ] اِلَّا بِسُلْطٰنٍ [ مگر کسی قوت سے ] نوٹ۔ 4: مِنْ اَقْـطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ میں آسمانوں اور زمین سے مراد ہے کائنات یا بالفاظ دیگر خدا کی خدائی ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی گرفت سے بچ نکلنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔ جس باز پرس کی تمہیں خبردی جارہی ہے اس کا وقت آنے پر تم خواہ کسی جگہ بھی ہو، بہرحال پکڑ لائے جاؤ گے ۔ اس سے بچنے کے لیے تمہیں خدا کی خدائی سے بھاگ نکلنا ہوگا اور اس کابل بوتا تم میں نہیں ہے۔ اگر ایسا گھمنڈ تم اپنے دل میں رکھتے ہو تو اپنا زور لگا کر دیکھ لو ۔ (تفہیم القرآن ) اس زمانے میں جو زمین کی کشش سے باہر نکلنے اور خلا میں سیارات میں پہنچنے کے تجربات ہو رہے ہیں وہ سب ظاہر ہے کہ آسمان کی حدود سے باہر نہیں ہیں بلکہ سطح آسمان سے بہت نیچے ہورہے ہیں ۔ اقطار السموت سے باہر نکل جانیکا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے پار نکلنا تو کجا یہ تو اقطار السموت کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے، بعض سادہ لوح لوگ اس آیت ہی کو خلائی سفروں کے امکان وجواز کے لیے پیش کرنے لگے جو معانی قرآن سے بالکل ناواقف ہونے کی دلیل ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 55:34

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:35

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے

يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا [ بھیجا جائے گا تم دونوں پر ] شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ڏ [ ایک شعلہ کسی آگ سے ] وَّنُحَاسٌ [ اور دھوں (بھی ) ] فَلَا تَنْتَــصِرٰنِ [ پھر تم دونوں بدلہ نہ لے پاؤ گے ] ش و ظ : (ن) شوظا ۔ غصہ کا بھڑک اٹھنا ۔ شواظ ۔ شعلہ جس میں دھوان نہ ہو ۔ آگ یا سورج کی تپش ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 35 ۔
Ayah 55:36

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:37

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا؟

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ [ پھر جب پھٹ جائے گا آسمان ] فَكَانَتْ [ تو وہ ہوجائے گا ] وَرْدَةً [ گلابی ] كَالدِّهَانِ [ جیسے تیل کی تلچھٹ ]
Ayah 55:38

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

اے جن و انس (اُس وقت) تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:39

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

اُس روز کسی انسان اور کسی جن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی

فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔــلُ [ پھر اس دن نہیں پوچھا جائے گا ] عَنْ ذَنْۢبِهٖٓ [ اس کے گناہ کے بارے میں ] اِنْسٌ وَّلَا جَاۗنٌّ [ کسی انسان سے اور نہ کسی جن سے ] نوٹ۔ 1: قیامت کے دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ تم نے فلاں جرم کیا ہے یا نہیں کیونکہ ہو لوگ اپنی نشانی سے پہچانے جائیں گے ۔ مجاہد نے فرمایا کہ فرشتے جو مجرمین کے عذاب پر مامور ہیں ان کو مجرمین سے پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ تم نے یہ جرم کیا ہے یا نہیں ۔ کیونکہ ہر جرم کی ایک خاص نشانی مجرمین کے چہروں سے ظاہر ہوگی ، فرشتے وہ نشانی دیکھ کر ان کو جہنم میں دھکیل دیں گے ۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اس روز مجرمین کی علامت یہ ہوگی کہ چہرے سیاہ آنکھیں نیلگوں اور رنج وغم سے چہرے فق ہوں گے ۔ (معارف القرآن سے ماخوذ) نوٹ۔ 2: جرم کی حقیقی بنیاد قرآن کی نگاہ میں یہ ہے کہ بندہ جو اپنے رب کی نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے اپنے نزدیک یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ نعمتیں کسی کی دی ہوئی نہیں ہیں بلکہ آپ سے آپ اسے مل گئی ہیں یا یہ کہ یہ نعمتیں خدا کا عطیہ نہیں بلکہ اس کی اپنی قابلیت یا خوش نصیبی کا پھل ہیں یا یہ کہ خدا نے خود یہ مہربانیاں اس پر نہیں کی ہیں بلکہ کسی دوسری ہستی نے اس سے کرادی ہیں ۔ یہی وہ غلط تصورات ہیں جن کی بنا پر آدمی خدا سے بےنیاز اور اس کی اطاعت و بندگی سے آزاد ہوکر دنیا میں وہ افعال کرتا ہے جن سے خدا نے منع کیا ہے اور وہ افعال نہیں کرتا جن کا اس نے حکم دیا ہے ۔ اس لحاظ سے ہر جرم اور ہر گناہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احسانات کی تکذیب ہے قطع نظر اس سے کہ کوئی شخص زبان سے ان کا انکار کرتا ہو یا اقرار ۔ مگر جو شخص تکذیب کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ اس کے ذہن کی گہرائیوں میں تکذیب موجود ہوتی ہے وہ اگر کسی بشری کمزوری سے کوئی قصور کر بیٹھتا ہے تو اس پر استغفار کرتا ہے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے یہ چیز اسے مکذبین میں شامل ہونے سے بچالیتی ہے ۔ اس کے سوا باقی تمام مجرم درحقیقت اللہ کی نعمتوں کے منکر ہیں ۔ اس لیے فرمایا کہ جب تم لوگ مجرم کی حیثیت سے گرفتار ہوجائو گے اس وقت ہم دیکھیں گے کہ تم ہمارے کس کس احسان کا انکار کرتے ہو ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 55:40

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]