55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 55:41

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ Open ayah 55:41 in the Quran reader

مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا

يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ [ پہنچانے جائیں گے جرم کرنے والے لوگ ] بِسِيْمٰهُمْ [ اپنی علامت سے ] فَيُؤْخَذُ [ پھر اس کو پکڑ جائے گا ] بِالنَّوَاصِيْ [ پیشانیوں سے وَالْاَقْدَامِ [ اور قدموں سے ]
Ayah 55:42

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:42 in the Quran reader

اُس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:43

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ Open ayah 55:43 in the Quran reader

(اُس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ [ یہ وہ جہنم ہے ] يُكَذِّبُ بِهَا [ جھٹلاتے تھے جس کو ] الْمُجْرِمُوْنَ [جرم کرنے والے لوگ ]
Ayah 55:44

یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ Open ayah 55:44 in the Quran reader

اُسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے

يَطُوْفُوْنَ [ وہ لوگ طواف کریں گے ] بَيْنَهَا [ اس (جہنم ) کے ] وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ [ اور ایک انتہائی گرم پانی کے مابین ]
Ayah 55:45

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:45 in the Quran reader

پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:46

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:46 in the Quran reader

اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں

وَلِمَنْ خَافَ [ اور اس کے لیے جو ڈرا ] مَقَامَ رَبِّهٖ [ اپنے رب (کے سامنے ) کھڑے ہونے کے وقت سے ] جَنَّتٰنِ [دو باغ ہیں ]
Ayah 55:47

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:47 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:48

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ Open ayah 55:48 in the Quran reader

ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور

ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ [ (وہ دونوں باغ) ہری بھری شاخوں والے ہیں ] ن ن : (ن ) فنا ۔ کسی چیز کو مزین کرنا ۔ فنان ج : افنان ، ہری بھری شاخ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 48 ۔
Ayah 55:49

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:49 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:50

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ Open ayah 55:50 in the Quran reader

دونوں باغوں میں دو چشمے رواں

فِيْهِمَا عَيْنٰنِ [ ان دونوں میں دو چشمے ہیں ] تَجْرِيٰنِ [ بہتے ہوئے ]
Ayah 55:51

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:51 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:52

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ Open ayah 55:52 in the Quran reader

دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں

فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ [ ان دونوں میں ہر پھل سے ] زَوْجٰنِ [دو جوڑے ہیں ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 52 ۔ میں پھلوں کے دو جوڑے کا ایک مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ دونوں باغوں کے پھلوں کی شان نرالی ہوگی ۔ ایک باغ میں ایک شان کے پھل اس کی شاخوں میں لدے ہوئے ہوں گے۔ دوسرے باغ کے پھلوں کی شان کچھ اور ہی ہوگی ۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر باغ میں ایک قسم کے پھل جانے پہچانے ہوں گے جن سے وہ دنیا میں بھی آشنا تھا ۔ اور دوسری قسم کے پھل نادر ہوں گے جو دنیا میں کبھی اس کے خواب و خیال میں بھی نہ آئے تھے ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 55:53

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:53 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:54

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ Open ayah 55:54 in the Quran reader

جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑ رہی ہوں گی

مُتَّكِــــِٕيْنَ [ ٹیک لگانے والے ہوتے ہیں ] عَلٰي فُرُشٍۢ [ بچھونوں پر ] بَطَاۗىِٕنُهَا [ جن کے استر ] مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ۭ [ چمکیلے ریشم سے ہوں گے ] وَجَنَا الْجَنَّـتَيْنِ [ اور دونوں باغ کے تازہ پھل ] دَانٍ [ نزدیک ہونے والے ہوں گے ] ترکیب : (آیت ۔ 54) ۔ نوٹ کرلیں کہ استبرق کا ہمزہ ، ہمزہ الوصل نہیں ہے بلکہ ہمزۃ القطع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ من استبرق کے بجائے من استبرق آیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس لفظ کا باب استفعال سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایک جامد لفظ ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ غیر عربی لفظ ہے۔ ڈکشنری میں بہرحال یہ مادہ ” ب ر ق “ کے تحت ہی دیا جاتا ہے ۔
Ayah 55:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:56

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

اِن نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں اِن جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہوگا

فِيْهِنَّ [ ان (نعمتوں) میں ] قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ ۙ [ پلک نیچے رکھنے والیاں ہوں گے ] لَمْ يَطْمِثْهُنَّ [ ہاتھ لگایا ہی نہیں جن کو ] اِنْسٌ [ کسی انسان نے ] قَبْلَهُمْ [ ان سے پہلے ] وَلَا جَاۗنٌّ [ اور نہ کسی جن نے ] ط م ث : (ض) طمثا ۔ چھونا ۔ ہاتھ لگانا ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 56 نوٹ۔ 2: آیت ۔ 56 ۔ سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ جنت میں نیک انسانوں کی طرح جن بھی داخل ہوں گے ۔ وہاں جس طرح انسان مردوں کے لیے انسان عورتیں ہوں گی اسی طرح جن مردوں کے لیے جن عورتیں بھی ہوں گی ۔ دونوں کی رفاقت کے لیے انہی کے ہم جنس جوڑے ہوں گے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 55:57

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:58

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی

كَاَنَّهُنَّ [ جیسے کہ وہ (عورتیں )] الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ [ یاقوت اور مونگے ہیں ]
Ayah 55:59

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:60

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے

هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ [ کیا (ہوسکتا ) ہے بھلائی کا بدلہ ] اِلَّا الْاِحْسَانُ [ سوائے بھلائی کے ]
Ayah 55:61

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

پھر اے جن و انس، اپنے رب کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکار کرو گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:62

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

اور اُن دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے

وَمِنْ دُوْنِهِمَا [ اور ان دو (باغ) کے علاوہ ] جَنَّتٰنِ [ دو باغ (اور بھی ) ہیں ]
Ayah 55:63

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:63 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:64

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

گھنے سرسبز و شاداب باغ

مُدْهَاۗمَّتٰنِ [(یہ دونوں باغ) سیاہی مائل سبز ہیں ] د ھ م : (ف ، س) دھما ۔ اچانک آگرنا ، دھم سے آپڑنا ۔ (تفعیل ) تدھیما آگ کا ہانڈی کو سیاہ کرنا ۔ (افعلال ) ادھماما ۔ سیاہی مائل ہوجانا ۔ مدھام ۔ اسم الفاعل ہے۔ سیاہی مائل ہوجانے والا (ایسے گہرے سبز رنگ کیلیے آتا ہے جو سیاہی مائل ہوگیا ہو ) زیرمطالعہ آیت ۔ 64 ۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 46 ۔ میں دو جنتوں کے سوا اب آیت ۔ 62 ۔ میں دو اور جنتوں کا ذکر ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے مذکورہ جنتوں کے ساتھ اشتراک بھی رکھتی ہیں اور بعض اعتبار سے ان سے مختلف بھی ہیں ۔ ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں قسم کی جنتوں کے حقدار ایک ہی قسم کے لوگ ہوں گے یا الگ الگ قسم کے لوگ ۔ آگے سورة واقعہ میں اہل ایمان کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے اصحب المیمنہ اور السابقون ۔ اس وجہ سے قرین قیاس بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ آیت ۔ 46 ۔ میں سابقون یعنی مقربین کی جنت کا ذکر ہے اور اب آیت ۔ 62 ۔ میں اصحب المیمنہ یعنی صالحین کی جنت کا ذکر ہے ۔ ظاہر ہے کہ جس طرح دونوں گروہوں کے مرتبہ میں فرق ہے، اسی طرح دونوں گروہوں کی جنتوں میں بھی فرق ہے۔ (تدبر قرآن )
Ayah 55:65

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:66

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوئے

فِيْهِمَا [ ان دونوں (باغ) میں ] عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ [ بہت ابلنے والے دوچشمے ہیں ] ن ض خ : (ف) نضخا ۔ پانی کا چشمہ سے زور سے پھوٹنا ۔ نضاخ فعال کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بہت پھوٹنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 66 ۔
Ayah 55:67

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:68

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار

فِيْهِمَا [ ان دونوں میں ] فَاكِهَةٌ [ میوے ہیں ] وَّنَخْلٌ [ اور کھجوریں ہیں ] وَّرُمَّانٌ [ اور انار ہیں ]
Ayah 55:69

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:70

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

اِن نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں

فِيْهِنَّ [ ان سب (نعمتوں) میں ] خَيْرٰتٌ حِسَانٌ [خوبصورت نیک اطوار والیاں ہیں ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 70 ۔ میں پہلے خوب سیرت اور خوبصورت بیویوں کا ذکر کیا گیا اس کے بعد آیت ۔ 72 ۔ میں حوروں کا الگ ذکر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ حوریں ان خواتین سے مختلف قسم کی خواتین ہوں گی ۔ اس قیاس کو تقویت اس حدیث سے حاصل ہوتی ہے جس میں بی بی ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں ۔ حضور ﷺ نے جواب دیا کہ دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ابرے (لحاف یا کوٹ کے اوپر والا کپڑا) کو استر پر ہوتی ہے میں نے پوچھا کس بنا پر ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس لیے کہ ان عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں ، روزے رکھے ہیں اور عبادتیں کی ہیٗں۔ (تفہیم القرآن ) نوٹ ۔ 3: عرب جاہلیت کے افسانوں میں جنوں کے دارالسلطنت کا نام عبقر تھا جسے اردو میں ہم پرستان کہتے ہیں ۔ اسی نسبت سے عرب کے لوگ ہر نفیس ونادر چیز کو عبقری کہتے تھے ۔ گویا وہ پرستان کی چیز ہے جس کا مقابلہ اس دنیا کی عام چیزیں نہیں کرسکتیں حتی کہ ان کے محاورے میں ایسے آدمی کو بھی عبقری کہتے ہیں جو غیر معمولی قابلیت کا مالک ہو اور جس سے عجیب و غریب کارنامے صادرہوں ۔ انگریزی میں لفظ (Genius) بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے اور وہ بھی (Genil) سے ماخوذ ہے جو جن کا ہم معنی ہے ۔ جنت کے سروسامان کی غیر معمولی نفاست و خوبی کا تصور دلانے کے لیے آیت ۔ 76 ۔ میں عبقری کا لفظ استعمال کیا گیا ۔ (تفہیم القرآن ) مورخہ 15 شعبان 1430 ھ بمطابق 7 اگست 2009 ء
Ayah 55:71

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:72

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ [رہائش دی ہوئی حوریں ہیں ] فِي الْخِيَامِ [خیموں میں ] خ ی م (ض) خیما کسی جگہ اقامت کرنا ۔ خیمۃ ۔ ج : خیام ۔ اقامت گاہ ۔ ہر ایسا ڈیرہ جو مٹی۔ اینٹ ۔ پتھر وغیرہ سے نہ بنایا گیا ہو ۔ خیمہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 72 ۔
Ayah 55:73

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:74

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:74 in the Quran reader

اِن جنتیوں سے پہلے کبھی انسان یا جن نے اُن کو نہ چھوا ہوگا

لَمْ يَــطْمِثْهُنَّ [ ہاتھ لگایا ہی نہیں جن کو ] اِنْسٌ [ کسی انسان نے ] قَبْلَهُمْ [ ان سے پہلے ] وَلَا جَاۗنٌّ [ اور نہ کسی جن نے ]
Ayah 55:75

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:75 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:76

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ Open ayah 55:76 in the Quran reader

وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے

مُتَّكِــــِٕيْنَ [ ٹیک لگانے والے ہوتے ہوئے ] عَلٰي رَفْرَفٍ خُضْرٍ [ سبز ریشمی مسندوں پر ] وَّعَبْقَرِيٍّ [ اور کچھ نادر ] حِسَانٍ [ خوبصورت (چیزوں ) پر ] رف: رفا ۔ درخت کی شاخوں کا لہلہانہ ۔ رفرف ۔ ریشمی کپڑا جس پر درختوں اور پھولوں کے نقش ونگار بنے ہوتے ہیں اور جس سے فرش ، تکیے اور دوسرا زینت کا سامان تیار کیا جاتا ہے۔ (معارف القرآن ) ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 76
Ayah 55:77

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:77 in the Quran reader

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Ayah 55:78

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ Open ayah 55:78 in the Quran reader

بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام

تَبٰرَكَ [ بابرکت ہوا ] اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ [آپ کے بلند مرتبہ اور بزرگی والے رب کا نام ]