Ayah 54:1اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ قریب ہوئی وہ گھڑی (قیامت ) ] وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [ اور پھٹ گیا چاند ]
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 1 ۔ میں شق قمر کے واقعہ کو قرب قیامت کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ قیامت کو کفار ایک بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے ۔ ان کے خیال میں یہ کس طرح ممکن ہوگا کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہوجائے۔ زمین اور اس کے پہاڑوں وغیرہ کو وہ اٹل اور غیر فانی سمجھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر بتادیا کہ اس کائنات کی کوئی بھی چیز نہ خود مختار ہے اور نہ غیر فانی ہے بلکہ ہر چیز اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا ان کو درہم برہم کردے گا ۔ بعض لوگوں نے کہا ہے یہ قیامت کے دن پیش آنے والے واقعہ کی خبر ہے جس کو ماضی کے صیغے میں اس کی قطعیت کے اظہار کے لیے بیان فرمایا گیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ قیامت میں پیش آنے والے واقعات قرآن میں ماضی کے صیغے میں بیان ہوئے ہیں لیکن اگر یہ معنی لیے جائیں تو مفہوم آگے والی بات سے بےجوڑ ہوجاتا ہے ۔ آگے یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ کوئی سی بھی نشانی دیکھیں گے تو اس میں اعراض ہی کریں گے ۔ اگر چاند کے پھٹنے کا تعلق قیامت سے ہوتا تو اس کے آگے نشانی کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی ، (تدبیر قرآن) ۔
اعتراض کرنے والے ایک اعتراض یہ کرتے ہیں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کہ چاند جیسے عظیم کرے کے دوٹکڑے پھٹ کر الگ ہوجائی اور سینکڑوں میل کے فاصلے تک ایک دوسرے سے دور جانے کے بعد پھر باہم جڑ جائیں قدیم زمانے میں تو شاید یہ اعتراض چل سکتا تھا لیکن موجودہ دور میں سیاروں کی ساخت کے متعلق انسان کو جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کی بنا پر یہ بات بالکل ممکن ہے کہ ایک کرہ اپنے اندر کی آتش فشانی کے باعث پھٹ جائے اور اس زبر دست انفجار سے اس کے دوٹکڑے دور تک چلے جائیں اور پھر اپنے مرکز مقناطیسی قوت کے سبب سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ آملیں ۔ (تفہیم القرآن )
دوسرا عام شبہہ یہ کیا جاتا ہے کہ اگر ایسا عظیم الشان واقعہ پیش آیا ہوتا تو پوری دنیا کی تاریخوں میں اس کا ذکر ہوتا ۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ مکہ میں رات کے وقت پیش آیا ہے۔ اس وقت بہت سے ممالک میں تو دن ہوگا ۔ اور بعض ممالک میں نصف شب یا آخر شب ہوگی جب عام دنیا سوئی ہوئی ہوتی ہے اور جاگنے والے بھی تو ہر وقت چاند کو نہیں تکتے رہتے پھر یہ تھوڑی دیر کا قصہ تھا ۔ اس لیے دنیا کی عام تاریخوں میں مذکور نہ ہونے سے اس کی تکذیب نہیں ہوسکتی ۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی مشہور اور مستند ” تاریخ فرشتہ “ میں اس کا ذکر موجود ہے کہ ہندوستان کی ریاست مالیہار کے راجہ نے یہ واقعہ بچشم خود دیکھا تھا اور اپنے روزنامچہ میں لکھوا دیا تھا ۔ اور یہ واقعہ اس کے مسلمان ہونے کا سبب بنا، مزید یہ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس واقعہ کے وقت منی میں موجود تھے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ دیکھ کر کفار قریش کہنے لگے کہ یہ جادو ہے تم پر جادو کردیا گیا ہے ۔ اس لیے باہر سے آنے والے مسافروں کا انتظار کرو کہ انہوں نے بھی یہ دیکھا ہے کہ نہیں ۔ پھر باہر سے آنے والے مسافروں سے ، جو ہر طرف سے آئے تھے۔ انہوں نے تحقیق کی سب نے اعتراف کیا کہ ہم نے چاند کو دوٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ (معارف القرآن)
Ayah 54:2وَاِنْ يَّرَوْا [اور اگر وہ لوگ دیکھتے ہیں ] اٰيَةً [ کوئی نشانی ] يُّعْرِضُوْا [ تو وہ بےرخی برتتے ہیں ] وَيَقُوْلُوْا [اور کہتے ہیں ] سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ [ (یہ ) ہمیشہ ہونے والا جادو ہے ]
Ayah 54:3وَكَذَّبُوْا [ اور انھوں نے جھٹلایا ] وَاتَّبَعُوْٓا [اور پیروی کی ] اَهْوَاۗءَهُمْ [ اپنی خواہشات کی ] وَكُلُّ اَمْرٍ [ اور ہر معاملہ ] مُّسْتَقِرٌّ [ قرار پانے والا ہے ]
Ayah 54:4وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ [ اور بیشک آچکی ہے ان کے پاس ] مِّنَ الْاَنْۢبَاۗءِ [ خبروں میں سے ] مَا [ وہ ] فِيْهِ [ جس میں ] مُزْدَجَرٌ [ ایک روکی ہوئی بات (نصیحت آمیز جھڑکی ) ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 4) جاء کا فاعل ما ہے ۔ فیہ کی ضمیر ما کی ضمیر عائد ہے ۔ مزدجر کا مادہ ” ز ج د “ ہے یہ باب افتعال سے اسم المفعول ہے اور مبتدا مؤخر نکرہ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو موجود ہوسکتی ہے۔ جبکہ فیہ قائم مقام خبر مقدم ہے ۔
Ayah 54:5حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ [ جو سمجھ میں آنے والی دانائی ہے ] فَمَا تُغْنِ [ تو بےپرواہ نہیں کرتے ] النُّذُرُ [خبردار کرنے والے ]
(آیت ۔ 5) النذر، نذیر کی جمع مکسر ہے۔ اس لحاظ سے فعل واحد مؤنث تغن آیا ہے ۔ یہاں کوئی ایسا عامل نہیں ہے جس کی وجہ سے تغن کو منصوب یا مجزوم مانا جاسکے ۔ اس لیے یہ مضارع معروف تغنی ہی ہے ۔ اس آیت میں اس کی یا کو گرا کر لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔
Ayah 54:6فَتَوَلَّ [تو آپ منہ پھیر لیں ] عَنْهُمْ ۘ [ ان لوگوں سے ] يَوْمَ يَدْعُ [ جس دن پکارے گا ] الدَّاعِ [ وہ پکارنے والا ] اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍ [ ایک ناگوار چیز کی طرف ]
(آیت ۔ 6) اسی طرح سے یدع اور الداع دراصل یدعو اور الداعی ہیں ۔ یہاں پر ان کی واو ار یا کو گرا کر لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے ۔
Ayah 54:7خُشَّعًا [ اس حال میں کہ جھکنے والی ہوں گی ] اَبْصَارُهُمْ [ ان کی آنکھیں ] يَخْرُجُوْنَ [ وہ لوگ نکلیں گے ] مِنَ الْاَجْدَاثِ [ قبروں میں سے ] كَاَنَّهُمْ [ جسے کہ وہ ] جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ [پھیلنے والی ٹڈی دل ہیں ]
(آیت ۔ 7) ۔ خشع جمع مکسر ہے ۔ اسم الفاعل خاشع کی ، حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور اس نے فعل کی طرح عمل کیا ہے (دیکھیں آیت ۔ 2:54، نوٹ ۔ 1) ابصارہم اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔
Ayah 54:8مُّهْطِعِيْنَ [ دوڑنے والے ہوتے ہوئے ] اِلَى الدَّاعِ ۭ [ اس پکارنے والے کی طرف ] يَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ [ کہیں گے کافر لوگ ] ھٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ [ یہ ایک سخت دن ہے ]
Ayah 54:9كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ [ جھٹلایا ان لوگوں سے پہلے ] قَوْمُ نُوْحٍ [نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ] فَكَذَّبُوْا [ تو انہوں نے جھٹلایا ] عَبْدَنَا [ ہمارے بندے کو ] وَقَالُوْا [ اور کہا ] مَجْنُوْنٌ [ (یہ ) دیوانہ ہے ] وَّازْدُجِرَ [ اور جھڑکا گیا اس کو ]
Ayah 54:10فَدَعَا رَبَّهٗٓ [ تو انہوں نے پکارا اپنے رب کو ] اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ [ کہ میں مغلوب ہوں ] فَانْتَصِرْ [ پس تو بدلہ لے ]
Ayah 54:11فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَاۗءِ [ تو ہم نے کھولے آسمان کے دروازے ] بِمَاۗءٍ مُّنْهَمِرٍ [برسنے والے پانی کے ساتھ ]
ھ م ر : (ن) ھمرا پانی گرانا ۔ (انفعال ) انھمارا پانی کا گرنا ۔ برسنا ۔ پانی کا بہنا ۔ (انفعال ) انھمارا ۔ پانی کا گرنا ۔ برسنا ۔ پانی کا بہنا ۔ منھمر اسم الفاعل ہے۔ برسنے والا ۔ بہنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 11 ۔
Ayah 54:12وَّفَجَّــرْنَا [ اور ہم نے پھاڑ کر بہایا ] الْاَرْضَ [زمین کو ] عُيُوْنًا [ بطور چشموں کے ] فَالْتَقَى الْمَاۗءُ [ پھر مل گیا وہ پانی ] عَلٰٓي اَمْرٍ [ ایک ایسے معاملہ پر جو ] قَدْ قُدِرَ [ اندازہ (مقرر) کیا جاچکا تھا ]
Ayah 54:13وَحَمَلْنٰهُ [ اور ہم نے سوار کیا ان کو ] عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ [ ایک تختوں اور میخوں والی (کشتی ) پر ]
د س ر : دسرا ۔ نیزہ مارنا ۔ زور سے گھسانا ۔ کیل ٹھونکنا ۔ دسار ۔ ج : دسر میخ ۔ کیل ۔ زیر مطالہ آیت نمبر ۔ 13 ۔
Ayah 54:14تَجْرِيْ [ وہ چلتی تھی ] بِاَعْيُنِنَا ۚ [ ہماری آنکھوں کے سامنے ] جَزَاۗءً [ بدلہ ہوتے ہوئے ] لِّمَنْ [ اس کے لیے جس کا ] كَانَ كُفِرَ [ انکار کیا جاتا تھا ]
Ayah 54:15وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ [ اور بیشک ہم نے چھوڑ دیا ہے اس کو ] اٰيَةً [ بطور ایک نشانی کے ] فَهَلْ [ تو کیا ] مِنْ مُّدَّكِرٍ [ کوئی بھی یاد دہانی حاصل کرنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: آیت 15 ۔ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم نے اس عقوبت کو (یعنی طوفان نوح کو ) ایک نشان عبرت بنا کر چھوڑ دیا ۔ لیکن ہمارے نزدیک زیادہ قابل ترجیح معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کو نشان عبرت بنادیا گیا ۔ ایک بلند و بالا پہاڑ پر اس کا موجود ہونا، ہزاروں برس تک لوگوں کو خدا کے غضب سے خبردار کرتا رہا ۔ مسلمانوں کی فتح عراق کے زمانے میں یہ کشتی جودی پر موجود تھی اور ابتدائی دور کے اہل اسلام نے اسے دیکھا تھا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 54:16فَكَيْفَ كَانَ [ تو کیسا تھا ] عَذَابِيْ [ میرا عذاب ] وَنُذُرِ [ اور میرا خبردار کرنا ]
Ayah 54:17وَلَقَدْ يَسَّرْنَا [ اور بیشک ہم نے آسان کردیا ہے ] الْقُرْاٰنَ [قرآن کو ] لِلذِّكْرِ [ یاد دہانی کے لئے ] فَهَلْ [ تو کیا ] مِنْ مُّدَّكِرٍ [ کوئی بھی یاددہانی حاصل کرنے والا ہے ]
نوٹ۔ 2: لفظ ذکر یہاں (آیت ۔ 17) وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ یعنی تعلیم ، تذکیر ، آگاہی ، تنبیہ ، نصیحت ، موعظت ، حصول عبرت اور اتمام حجت ، یہ سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں ، یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ قرآن مجید ہمارے اوپر کوئی چیز خارج سے نہیں لادتا بلکہ ہماری فطرت اور عقل میں اللہ تعالیٰ نے علم و معرفت کے جو خزانے ودیعت کیے ہیں اور جن سے ہم غافل ہیں انہی کو ہمارے سامنے اجاگر کرتا ہے اور ان سے بہرہ مند ہونے کی دعوت دیتا ہے ۔ (تدبر قرآن ) ۔
اسلام کا جائزہ خط و کتابت کورس کے حصہ اول میں ہم بتا چکے ہیں کہ اصول یہ ہے کہ پہلے بچے کو کچھ سکھاتے پڑھاتے ہیں ، پھر اس کا امتحان لیتے ہیں اسی اصول کے تحت انسان کو جو کچھ لکھا پڑھاکر دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا جاتا ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی معرفت توحید اور نیکی وبدی کا شعور سرفہرست ہیں ۔ البتہ اس دنیا میں آکر انسان انھیں بھول جاتا ہے ۔ یعنی وہ باتیں انسان کے شعور سے اتر کر تحت الشعور میں چلی جاتی ہیں ۔ اسی لیے انسان کو یاد دہانی کی ضرورت ہے تاکہ اس کے بھولے ہوئے اسباق اس کے تحت الشعور سے ابھر کر اس کے شعور میں آجائیں ۔ اس لحاظ سے یہ کائنات اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید کی یاددہانی ہے۔ جبکہ قرآن مجید عقائد اور اعمال کے لیے ایک جامع اور مکمل یاد دہانی ہے۔ اور انسان کو اس کے بھولے ہوئے اسباق یاد دلاتا ہے جن سے مسلح کرکے اسے اس امتحان گاہ میں بھیجا گیا ہے ۔ اسی لحاظ سے اس کائنات اور اس کی ہرچیز کو ایۃ (نشانی ) کہا گیا ہے اور قرآن مجید کے جملوں اور فقروں کو بھی آیت کہا گیا ہے کیونکہ کسی انجانی بات کا علم دنیا نشانی کا کام (Function) نہیں ہے بلکہ نشانی کا کام یہ ہے یہ وہ اس بھولی ہوئی چیز کی یاد دلا دے جس کی وہ نشانی ہے شارجہ سے آئے ہوئے میرے ایک دوست نے مجھے ایک گھڑی تحفہ میں دی تھی ۔ میری نظر جب بھی اس گھڑی پر پڑتی ہے تو وہ دوست مجھے یاد آجاتا ہے اس دوست کی یاد دہانی حاصل کرنے کے لیے مجھے نہ تو کسی منطقی استدلال کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ کوئی فیثا غورث کی تھیورم حال کرنی پڑتی ہے۔ بس ایک نشانی نے اس کام کو میرے لیے انتہائی آسان بنادیا ہے ۔ (مرتب )
ذکر کے معنی یاد کرنے اور حفظ کرنے کے بھی آتے ہیں اور کسی کلام سے نصیحت و عبرت حاصل کرنے کے بھی ۔ یہ دونوں معنی یہاں مراد ہوسکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو حفظ کرنے کے لیے آسان کردیا ہے ۔ یہ بات اس سے پہلے کسی کتاب کو حاصل نہیں ہوئی کہ تورات ، زبور یا انجیل کو زبانی یاد ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے آسان کرنے کا اثر ہے کہ مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچے پورا قرآن حفظ کرلیتے ہیں ، اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ قرآن کریم نے اپنے مضامین عبرت و نصیحت کو ایسا آسان کرکے بیان کیا ہے کہ بڑے سے بڑا عالم ، فلسفی اور حکیم جس طرح ان سے فائدہ اٹھا تا ہے ۔ اسی طرح ایک عام آدمی جس کو علوم سے کوئی مناسبت نہ ہو ، وہ بھی مضامین قرآن کو سمجھ کر ان سے متاثر ہوتا ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 54:18كَذَّبَتْ عَادٌ [ جھٹلایا عاد نے ] فَكَيْفَ كَانَ [ تو کیسا تھا ] عَذَابِيْ وَنُذُرِ [ میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ]
Ayah 54:19اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [ بیشک ہم نے بھیجی ان لوگوں پر ] رِيْحًا صَرْصَرًا [ ایک تیز وتند ہوا ] فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ [ ہمیشگی والے نحوست کے دن میں ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 19 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ تندہوا ایسی نہیں تھی کہ چند جھونکے آئے اور گزر گئے ۔ بلکہ وہ ایسے دن شروع ہوئی جس کی نحوست کئی روز تک مسلسل جاری رہی ۔ سوہ حم السجدہ کی آیت ۔ 16 ۔ میں ایام نحسات (نحوست والے دنوں ) کے الفاظ آئے ہیں ۔ اور سورة الحاقہ کی آیت ۔ 7 ۔ میں فرمایا گیا ہے کہ ہوا کا یہ طوفان مسلسل سات رات اور آٹھ دن جاری رہا ۔ مشہور یہ ہے کہ جس دن یہ عذاب شروع ہوا وہ بدھ کا دن تھا ۔ اسی سے لوگوں میں یہ خیال پھیل گیا کہ بدھ کا دن منحوس ہے اور کوئی کام اس دن شروع نہ کرنا چاہیے ۔ لیکن علما نے اس خیال کی تردید کی ہے۔ محقق مناوی کہتے ہیں کہ بد فالی کے خیالی سے بدھ کے دن کو منحوس سمجھ کر چھوڑنا اور نجومیوں کے سے اعتقادات اس باب میں رکھنا حرام ، سخت حرام ہے کیونکہ سارے دن اللہ کے ہیں کوئی دن بذات خود نہ نفع دینے والا ہے اور نہ نقصان ۔ علامہ آلوسی کہتے ہیں کہ سارے دن یکساں ہیں رات دن میں کوئی گھڑی ایسی نہیں ہے جو کسی کے لیے اچھی ، کسی کے لیے بری نہ ہو ۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کسی کے لیے موافق اور کسی لیے ناموافق حالات پیدا کرتا رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 54:20تَنْزِعُ النَّاسَ ۙ [ جو اکھاڑتی تھی لوگوں کو ] كَاَنَّهُمْ [جیسے کہ وہ لوگ ] اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ [اکھڑ جانے والے کھجور کے تنے ہوں ]
ق ع ر : (ف) قعرا ۔ درخت کو جڑ سے اکھاڑنا ۔ (انفعال ) انقعارا ۔ اکھڑ جانا ۔ مرجانا ۔ منقعر ۔ اسم الفاعل ہے۔ اکھڑ جانے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 20 ۔
Ayah 54:21فَكَيْفَ كَانَ [ تو کیسا تھا ] عَذَابِيْ وَنُذُرِ [میرا عذاب اور میرا ڈرانا ]
Ayah 54:22وَلَقَدْ يَسَّرْنَا [ اور بیشک ہم نے آسان کردیا ہے ] الْقُرْاٰنَ [قرآن کو ] لِلذِّكْرِ [ یاد دہانی کے لئے ] فَهَلْ [ تو کیا ] مِنْ مُّدَّكِرٍ [ کوئی بھی یاد دہانی حاصل کرنے والا ہے ]
Ayah 54:23كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ [ جھٹلایا ثمود نے ] بِالنُّذُرِ [خبردار کرنے والوں کو ]
Ayah 54:24فَقَالُوْٓا [ تو انہوں نے کہا ] اَبَشَرًا [ کیا ایک ایسا بشر ] مِّنَّا [ ہم میں سے ] وَاحِدًا [ جو تنہا ہے ] نَّتَّبِعُهٗٓ ۙ [ ہم پیروی کریں گے اس کی ] اِنَّآ اِذًا [ بیشک تب تو ہم ] لَّفِيْ ضَلٰلٍ [یقینا گمراہی میں ] وَّسُعُرٍ [ اور دیوانگی میں ہیں ]
Ayah 54:25ءَاُلْقِيَ [ کی ڈالا گیا ] الذِّكْرُ [ اس نصیحت کو ] عَلَيْهِ [ اس پر ] مِنْۢ بَيْنِنَا [ ہمارے درمیان سے ] بَلْ هُوَ [ بلکہ وہ ] كَذَّابٌ [ انتہائی جھوٹا ہے ] اَشِرٌ [ خود پسند ہے ]
ء ش ر : (س) اشرا ۔ مغرور ہونا ۔ اترانا ۔ اشر ۔ صفت ہے۔ اترانے والا ۔ خود پسند ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 25 ۔
Ayah 54:26سَيَعْلَمُوْنَ [ وہ لوگ جان لیں گے ] غَدًا [ کل کو ] مَّنِ الْكَذَّابُ [کون انتہائی جھوٹا ہے ] الْاَشِرُ [خود پسند ہے ]
Ayah 54:27اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ [ بیشک ہم اونٹنی کو بھیجنے والے ہیں ] فِتْنَةً [ بطور ایک کسوٹی کے ] لَّهُمْ [ ان کے لیے ] فَارْتَقِبْهُمْ [ تو آپ انتظار کریں ان کا ] وَاصْطَبِرْ [ اور ثابت قدم رہیں ]
Ayah 54:28وَنَبِّئْهُمْ [ آپ جتا دیں ان کو ] اَنَّ الْمَاۗءَ [ کہ یہ پانی ] قِسْمَةٌۢ [ بانٹ ہے ] بَيْنَهُمْ ۚ [ ان کے درمیان ] كُلُّ شِرْبٍ [ہر پینے کی باری پر ] مُّحْتَضَرٌ [ حاضر کرنے کا وقت ہے ]
Ayah 54:29فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ [ پھر ان لوگوں نے پکارا اپنے ساتھی کو ] فَتَعَاطٰى [ تو اس نے ہاتھ بڑھایا (ہتھیار لینے کو )] فَعَقَرَ [ پھر اس نے ٹانگیں کاٹ دیں ]
Ayah 54:30فَكَيْفَ كَانَ [ تو کیسا تھا ] عَذَابِيْ وَنُذُرِ [ میرا عذاب اور میرا ڈرانا ]
Ayah 54:31اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [ بیشک ہم نے بھیجی ان پر ] صَيْحَةً وَّاحِدَةً [ ایک ہی چنگھاڑ ] فَكَانُوْا [ تو وہ لوگ تھے ] كَهَشِيْمِ الْمُحْتَظِرِ [ باڑھ بنانے والے کی توڑی ہوئی ٹہنی کی مانند ]
Ayah 54:32وَلَقَدْ يَسَّرْنَا [ اور بیشک ہم نے آسان کردیا ہے ] الْقُرْاٰنَ [قرآن کو ] لِلذِّكْرِ [ یاد دہانی کے لئے ] فَهَلْ [ تو کیا ] مِنْ مُّدَّكِرٍ [ کوئی بھی یاددہانی حاصل کرنے والا ہے ]
Ayah 54:33كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۢ [ جھٹلایا لوط کی قوم نے ] بِالنُّذُرِ [خبردار کرنے والوں کو ]
Ayah 54:34اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [ بیشک ہم نے بھیجی ان پر ] حَاصِبًا [ کنکریاں مارنے والی تند ہوا ] اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ۭ [ سوائے لوط کے پیروکاروں کے ] نَجَّيْنٰهُمْ [ ہم نے نجات دی ان کو ] بِسَحَرٍ [ صبح تڑکے ]
Ayah 54:35نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا ۭ [ نعمت ہوتے ہوئے ہمارے پاس سے ] كَذٰلِكَ نَجْزِيْ [ اس طرح ہم جزاء دیتے ہیں ] مَنْ شَكَرَ [ اس کو جس نے شکر ادا کیا ]
Ayah 54:36وَلَقَدْ اَنْذَرَهُمْ [ اور بیشک اس (لوط) نے خبردار کردیا تھا ] بَطْشَتَنَا [ ہماری پکڑ سے ] فَتَـمَارَوْا [ تو انہوں نے شک کیا ] بِالنُّذُرِ [ ڈرانے کے بارے میں ]
Ayah 54:37وَلَقَدْ رَاوَدُوْهُ [ اور بیشک وہ لوگ پھسلا (چکے ) ان کو ] عَنْ ضَيْفِهٖ [ ان کے مہمانوں کے بارے میں ] فَطَمَسْـنَآ [ تو ہم نے مٹا دیں ] اَعْيُنَهُمْ [ ان کی آنکھیں ] فَذُوْقُوْا [ نتیجۃ (اب ) تم لوگ چکھو ] عَذَابِيْ وَنُذُرِ [ میرے عذاب کو اور میرے خبردار کرنے کو ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 37 ۔ میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے، اسکی تفصیل سورة ہود کی آیات 77 تا 83 میں اور سورة حجر کی آیات 61 تا 74 میں گزر چکی ہے۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا ۔ ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا تو حضرت لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مہمان ان کے حوالے کردیں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر زبردستی مہمانوں کو نکالنے کی کوشش کی ، یکایک ان کی آنکھیں اندھی ہوگئیں ۔ پھر فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ اور ان کے گھر والے صبح ہونے سے پہلے اس بستی سے نکل جائیں ۔
بائبل میں بھی یہ واقعہ اسی طرح بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں ” تب وہ اس مرد (یعنی لوط ) پر پل پڑے اور نزدیک آئے تاکہ کواڑ توڑ ڈالیں ۔ لیکن ان مردوں (یعنی فرشتوں ) نے ہاتھ بڑھا کر حضرت لوط (علیہ السلام) کو گھر میں کھینچ لیا اور دروازہ بند کردیا اور ان مردوں کو جو گھر کے دروازے پر تھے اندھا کردیا سو وہ دروازہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے “۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 54:38وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ [ اور بیشک صبح کو آچکا ہے ان کے پاس ] بُكْرَةً [ سویرے سویرے ] عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ [ قرار پانے والا عذاب ]
Ayah 54:39فَذُوْقُوْا [ تو اب چکھو ] عَذَابِيْ وَنُذُرِ [ میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ]
Ayah 54:40وَلَقَدْ يَسَّرْنَا [ اور بیشک ہم نے آسان کردیا ہے ] الْقُرْاٰنَ [قرآن کو ] لِلذِّكْرِ [ یاد دہانی کے لئے ] فَهَلْ [ تو کیا ] مِنْ مُّدَّكِرٍ [ کوئی بھی یاددہانی حاصل کرنے والا ہے ]