53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

قسم ہے تارے کی جبکہ وہ غروب ہوا

وَالنَّجْمِ [قسم ہے ستارے کی ] اِذَا هَوٰى [ جب وہ اترتا (ڈوبتا ) ہے ] ترکیب : آیت ۔ 1 ۔ میں ھوی اور آیت ۔ 3 میں الھوی میں جو فرق ہے اس کو سمجھ لیں ۔ مادہ ” ھ و ی “ کی لغت آیت نمبر ۔ 2:87 ۔ میں دی ہوئی ہے ۔ اس حوالے سے نوٹ کریں کہ یہ مادہ جب باب ضرب سے آتا ہے تو فعل ماضی کا پہلی صیغہ ھوی بنتا ہے جو قاعدے کے مطابق تبدیل ہوکر ھوی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں وہ اترا۔ آیت زیر مطالعہ میں اذا کے ساتھ آیا ہے اس لیے معنی ہیں جب وہ اترتا ہے ۔ یہی مادہ جب باب سمع سے آتا ہے تو اس کے فعل ماضی کا پہلا صیغہ ھوی بنتا ہے اور یہ تبدیلی کے بغیر استعمال ہوتا ہے اس کا مصدر ھوی ہے جو قاعدے کے مطابق تبدیل ہوکر حالت رفع اور جر میں ھوی اور نصب میں ھوی استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے معنی ہیں پسند کرنا ۔ جی چاہنا ۔ اس مصدر پر جب لام تعریف داخل ہوتا ہے تو یہ ھوی سے الھوی ہوجاتا ہے ۔ اب اس پر مختلف قاعدے کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ تبدیل ہوکر الھوی استعمال ہوتا ہے ۔ ھوی اور الھوی میں تمیز لام تعریف کی وجہ سے آسانی سے ہوجاتی ہے کیونکہ لام تعریف فعل پر داخل نہیں ہوتا ۔ نوٹ۔ 1: سورة النجم پہلی سورت ہے جو رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں مجمع عام میں تلاوت فرمائی اور یہ سب سے پہلی سورت ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے سجدہ تلاوت کیا ۔ وہاں پر موجود مسلمانوں بھی آپ ﷺ کی اتباع میں سجدہ کیا اور جتنے کفار و مشرکین موجود تھے وہ سب بھی سجدہ میں گرگئے سوائے ایک شخص کے۔ (معارف القرآن ) نوٹ۔ 2: آیت ۔ 1 ۔ 2 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو رسول اللہ ﷺ کسی غلط فہمی کی بناء پر راستہ سے بھٹکے اور نہ جان بوجھ کر بےراہ ہوئے جس طرح ستارے طلوع سے غروب تک ایک مقرر رفتار سے متعین راستہ پر چلے جاتے ہیں اسی طرح آفتاب نبوت بھی اللہ کے مقرر کیے ہوئے راستہ پر چلتاجارہا ہے ۔ انبیاء (علیہم السلام) آسمان نبوت کے ستارے ہیں جن کی روشنی سے دنیا کی رہنمائی ہوئی ہے اور جس طرح ستاروں کے ڈوبنے کے بعد آفتاب طلوع ہوتا ہے ایسے ہی تمام انبیاء کی تشریف آوری کے بعد آفتاب محمدی طلوع ہوا ۔ پس اگر قدرت نے ان ظاہری ستاروں کا نظام اس قدر محکم بنایا ہے کہ اس میں کسی طرح کے تنزلزل اور اختلال کی گنجائش نہیں تو ظاہر ہے کہ ان باطنی ستاروں اور روحانی آفتاب وماہتاب کا نظام کس قدر مضبوط ومحکم ہوگا جس سے ایک عالم کی ہدایت و سعادت وابستہ ہے (ترجمہ شیخ الہند )
Ayah 53:2

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے

مَا ضَلَّ [ نہیں بھٹکے ] صَاحِبُكُمْ [ تمہارے ساتھی ] وَمَا غَوٰى [ اور نہ وہ بےراہ ہوئے ]
Ayah 53:3

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا

وَمَا يَنْطِقُ [اور وہ نہیں بولتے ] عَنِ الْهَوٰى [ جی چاہنے سے ] نوٹ ۔ 3: آیت ۔ 3 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کریں ، اس کا قطعا کوئی امکان نہیں ہے بلکہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں ۔ اس کا نام قرآن ہے۔ دوسری وہ کہ صرف معنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اس معنی کو اپنے الفاظ میں بیان فرماتے ہیں ۔ اس کا نام حدیث اور سنت ہے۔ پھر حدیث میں جو مضمون اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے کبھی وہ کسی معاملہ کا واضح فیصلہ اور حکم ہوتا ہے ۔ جبکہ کبھی کوئی قاعدہ وکلیہ بتایا جاتا ہے جس سے احکام رسول اللہ ﷺ اپنے اجتہاد سے نکالتے اور بیان کرتے ہیں جس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے مگر رسول اللہ ﷺ اور تمام انبیاء کی یہ خصوصیت ہے کہ اگر ان سے کوئی اجتہادی غلطی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی اس کی اصلاح کردی جاتی ہے اور وہ اپنے غلط اجتہاد پر قائم نہیں رہ سکتے ۔ احادیث میں متعدد واقعات ایسے مذکور ہیں کہ آپ ﷺ نے کوئی حکم دیا پھر بذریعہ وحی اس کی اصلاح کردی جاتی ہے اور وہ اپنے غلط اجتہاد پر قائم نہیں رہ سکتے۔ احادیث میں متعدد واقعات ایسے مذکور ہیں کہ آپ ﷺ نے کوئی حکم دیا پھر بذریعہ وحی اس کو بدلا گیا چونکہ ایسے اجتہادی فیصلوں کا استخراج جس قاعدہ کلیہ سے کیا گیا تھا وہ اللہ کی طرف سے آئے تھے ، اس لیے ایسے احکام کو بھی وحی من اللہ کہا گیا ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 53:4

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ تو ایک وحی ہے جو اُس پر نازل کی جاتی ہے

اِنْ هُوَ [ نہیں ہے یہ (قرآن ) ] اِلَّا وَحْيٌ [ مگر ایک ایسی وحی جو ] يُّوْحٰى [ وحی کی جاتی ہے ]
Ayah 53:5

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے

عَلَّمَهٗ [ تعلیم دی ان کو ] شَدِيْدُ الْقُوٰى [ قوتوں کے شدید ]
Ayah 53:6

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو بڑا صاحب حکمت ہے

ذُوْ مِرَّةٍ ۭ [دائمی حالت والے نے ] فَاسْتَوٰى [ پھر وہ (جبرئیل ) جم گئے ]
Ayah 53:7

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

وہ سامنے آ کھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا

وَهُوَ [ اس حال میں کہ وہ ] بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى [ بلند ترین کنارے پر تھے ]
Ayah 53:8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہو گیا

ثُمَّ دَنَا [ پھر وہ نزدیک ہوئے ] فَتَدَلّٰى [ تو وہ جھکے ]
Ayah 53:9

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا

فَكَانَ [تو وہ تھے ] قَابَ قَوْسَيْنِ [ دو کمانوں کے فاصلے پر ] اَوْ اَدْنٰى [ یا (اس سے ) زیادہ نزدیک ] ق و ب : (ن) قوبا ۔ زمین کو گول دائرے میں کھودنا ۔ قاب ۔ کمان کے ایک کونے سے درمیان میں پکڑے ۔۔ کا فاصلہ زیرمطالعہ آیت ۔ 9 ۔ ق و س : (س) قوسا کمر کا جھک جانا ۔ قوس ۔ کمان ۔ ہر وہ چیز جو کمان کی شکل پر ہے جیسے محراب ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 9 ۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

تب اُس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اُسے پہنچانی تھی

فَاَوْحٰٓى [ تو اس ( اللہ ) نے وحی بھیجی (جبریل کے ذریعے )] اِلٰى عَبْدِهٖ [ اپنے بندے کی طرف ] مَآ [ وہ جو ] اَوْحٰى [ اس نے وحی کی ]
Ayah 53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اُس میں جھوٹ نہ ملایا

مَا كَذَبَ [ جھوٹ نہ جانا ] الْفُؤَادُ [ دل نے ] مَا [ اس کو جو ] رَاٰى [ انھوں (رسول ) نے دیکھا ]
Ayah 53:12

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ [ تو کیا تم لوگ جھگڑتے ہو ان سے ] عَلٰي مَا [ اس پر جو ] يَرٰى [ وہ دیکھتے ہیں ]
Ayah 53:13

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور ایک مرتبہ پھر اُس نے

وَ [ اس حال میں کہ ] لَقَدْ رَاٰهُ [ یقینا وہ دیکھ چکے ہیں ان (جبرئیل کو ] نَزْلَةً [ اترتے ہوئے ] اُخْرٰى [ ایک اور بار ]
Ayah 53:14

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

سدرۃالمنتہیٰ کے پاس اُس کو دیکھا

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى [ رکنے کی جگہ کی بیری کے پاس ]
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے

عِنْدَهَا [ جس کے پاس ] جَنَّةُ الْمَاْوٰى [ ٹھکانے کی جگہ کا باغ ہے ]
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

اُس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا

اِذْ يَغْشَى [ جب چھاتا تھا ] السِّدْرَةَ [ اس بیری پر ] مَا يَغْشٰى [ وہ جو چھاتا تھا ]
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

نگاہ نہ چوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی

مَا زَاغَ الْبَصَرُ [ کج نہیں ہوئی نگاہ ] وَمَا طَغٰى [ اور نہ وہ حد سے بڑھی ]
Ayah 53:18

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

لَقَدْ رَاٰى [ بیشک اس نے دیکھا ہے ] مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ [ اپنے رب کی نشانیوں میں سے ] الْكُبْرٰى [ زیادہ بڑی کو ]
Ayah 53:19

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اِس لات، اور اِس عزیٰ

اَفَرَءَيْتُمُ [ تو کیا تم لوگوں نے (کبھی ) غور کیا ] اللّٰتَ وَالْعُزّٰى [ لات اور عزی پر ]
Ayah 53:20

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟

وَمَنٰوةَ [اور منات پر ] الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى [ جو ایک اور تیسری ہے ]
Ayah 53:21

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے؟

اَلَكُمُ الذَّكَرُ [ کیا تمہارے لیے لڑکا ہے ] وَلَهُ [ اور اس (اللہ ) کے لیے ] الْاُنْثٰى [لڑکی ہے ]
Ayah 53:22

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تو بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی!

تِلْكَ اِذًا [ یہ تو پھر ] قِسْمَةٌ ضِيْزٰى [ بڑی ناانصافی والی تقسیم ہے ] ض ی ز : (ض) ضیزا ۔ حق سے کم دینا ۔ ناانصافی کرنا ۔ ضیزی (یہ دراصل فعلی کے وزن پر ضیزی ہے ۔ یا کی مناسبت سے ض کی ضمہ کو کسرہ میں تبدیل کرکے ضیزی استعمال کرتے ہیں ) زیادہ یا سب سے زیادہ ناانصافی ۔ پھر مجرد بڑی ناانصافی کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 22 ۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے اِن کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں حالانکہ اُن کے رب کی طرف سے اُن کے پاس ہدایت آ چکی ہے

اِنْ هِىَ [ نہیں ہیں یہ ] اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ [ مگر کچھ ایسے نام ] سَمَّيْتُمُوْهَآ [ تم لوگوں نے نام دھرے جن کے ] اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ [ تم نے اور تمہارے آباؤاجداد نے ] مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ [ نہیں اتاری اللہ نے ] بِهَا [ جن کے بارے میں ] مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ [ کوئی بھی سند ] اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ [ وہ لوگ نہیں پیروی کرتے ] اِلَّا الظَّنَّ [ مگر گمان کی ] وَمَا [ اور اس کی جو ] تَهْوَى [ پسند کرتے ہیں ] الْاَنْفُسُ ۚ [ (ان کے ) جی ] وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ [ حالانکہ آچکی ہے ان کے پاس ] مِّنْ رَّبِّهِمُ [ ان کے رب (کی طرف) سے ] الْهُدٰى [ہدایت ]
Ayah 53:24

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لیے وحی حق ہے

اَمْ لِلْاِنْسَانِ [ یا انسان کے لیے ] مَا [ وہ ہے جو ] تَمَــنّٰى [ وہ تمنا کرے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 24 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی تمناؤں کی رہنمائی میں جو چاہے فلسفہ بنا ڈالو، لیکن ضروری نہیں کہ تمہاری ہر تمنا پوری ہو حقیقت اور آرزو میں بڑا فرق ہے جب حقیقت سامنے آئے گی تب دیکھ لوگے کہ جو خیالی محل تم نے تعمیر کیے تھے اس کی بنیاد ریت پر تھی ، تمہارے یہ معبود کسی کے کام آنے والے نہیں بنیں گے ۔ یہاں پر امر ملحوظ رہے کہ جس طرح رہے کہ جس طرح مشرکین نے اپنے دیوتاؤں کے بل پر بہت سی تمنائیں اپنے دلوں میں پال رکھی ہیں اسی طرح یہود ، نصاری اور مسلمانوں نے بھی اپنے دلوں میں بہت سی جھوٹی آرزوئیں پال رکھی ہیں جو محض خواہش نفس سے وجود میں آئی ہیں ۔ قرآن نے اس آیت میں لفظ انسان سے خطاب کرکے بلا استثناء سب کو آگاہی دی ہے کہ تمنائیں جس کا جو جی چاہے پال رکھے ۔ لیکن یہ یاد رکھے کہ کسی کی آرزوؤں کی خاطر نہ حقائق میں تبدیلی ہوگی اور نہ خدا کا قانون کسی کی جانب داری کرے گا ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 53:25

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

دنیا اور آخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے

فَلِلّٰهِ [ تو اللہ ہی کے لیے ہے ] الْاٰخِرَةُ [ (ہر چیز کا ) آخر ] وَالْاُوْلٰى [اور پہل (ابتدائ)]
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے

وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ [ اور کتنے ہی فرشتے ہیں ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ] لَا تُغْـنِيْ [ کام نہیں آتی ] شَفَاعَتُهُمْ [ جن کی شفاعت ] شَـيْــــًٔا [ ذرا سا بھی ] اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ [ مگر اس کے بعد ] اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ [کہ اجازت دے اللہ ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [ جس کے لئے وہ چاہے ] وَيَرْضٰى [ اور راضی ہو ]
Ayah 53:27

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ [ بیشک جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت پر ] لَيُسَمُّوْنَ [ اور یقینا نام رکھتے ہیں ] الْمَلٰۗىِٕكَةَ [ فرشتوں کے ] تَسْمِيَةَ الْاُنْثٰى [ جیسے عورتوں کے نام رکھنا ]
Ayah 53:28

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا

وَمَا لَهُمْ [ حالانکہ ان کے لیے نہیں ہے ] بِهٖ [ اس بارے میں ] مِنْ عِلْمٍ ۭ [ کوئی بھی علم ] اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ [ یہ لوگ پیروی نہیں کرتے ] اِلَّا الظَّنَّ ۚ [ مگر گمان کی ] وَاِنَّ الظَّنَّ [ درآنحالیکہ یقینا گمان ] لَا يُغْنِيْ [ بےنیاز نہیں کرتا ] مِنَ الْحَقِّ [حق سے ] شَـيْــــًٔا [ذرا سا بھی ]
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے، اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے، اُسے اس کے حال پر چھوڑ دو

فَاَعْرِضْ [ تو آپ توجہ ہٹالیں ] عَنْ مَّنْ [ اس سے جس نے ] تَوَلّٰى ڏ [ منہ موڑا ] عَنْ ذِكْرِنَا [ ہماری یاد سے ] وَلَمْ يُرِدْ [ اور اس نے ارادہ کیا ہی نہیں (کسی بات کا) [اِلَّا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : سوائے اس دنیوی زندگی کے ]
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

اِن لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے، یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اُس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ [ یہ ان کے پہنچنے کی جگہ ہے ] مِّنَ الْعِلْمِ ۭ [علم میں سے ] اِنَّ رَبَّكَ [بیشک آپ کا رب ] هُوَ اَعْلَمُ [ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِمَنْ ضَلَّ [ اس کو جو بھٹک گیا ] عَنْ سَبِيْلِهٖ ۙ [ اس کے راستے سے ] وَهُوَ اَعْلَمُ [ اور وہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِمَنِ اهْتَدٰى [اس کو جس نے ہدایت پائی ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 30 ۔ میں ذلک کا اشارہ گزشتہ آیت میں الحیوۃ الدنیا کی طرف ہے ۔ اس طرح آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کا علم دنیوی زندگی تک محدود ہے ۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ علم کی پہنچ دنیوی زندگی تک ہے ۔ کیونکہ علم کی پہنچ تو اس سے آگے بھی ہے ۔ اس لیے یہ کہا گیا ہے کہ علم کے ذریعہ یہ لوگ دنیوی زندگی کی سہولیات حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس سے آگے کا علم حاصل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں ۔ یہی بات سورة روم کی آیت ۔ 7 ۔ میں اس طرح کہی گئی کہ یہ لوگ دنیوی زندگی میں سے کچھ ظاہر کا علم رکھتے ہیں اور اس کے انجام یعنی آخرت سے غفلت برتنے والے ہیں یعنی ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ بھی اور دوسرے لوگ بھی دنیوی زندگی کے انجام کا علم حاصل نہ کریں اور اس سے غافل ہی رہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے توہمات اور تمناؤں کی بنیاد پر انہوں نے جو خیالی محل سجا رکھے ہیں آخرت کا علم انھیں چکنا چور کردیتا ہے اس لیے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے وہ بنکارتے ہیں کہ کہاں ہے بلی ۔ بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی ۔ پھر یہ لوگ اپنے طرز فکر کو منطقی استدلال کا جامہ بھی پہناتے ہیں یعنی اسے Ratioalise بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو چیز ہمارے حواس خمسہ کے دائرے کے اندر ہے اسے تو ماننا چاہیے اور ہم مانتے ہیں ۔ دانشمندی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ تحقیق کرنے کے بعد ایسی چیزوں کو مان لیا جائے لیکن جس چیز کو ہم نے چھوا نہیں ، چکھا نہیں ، سونگھا نہیں ، سنا نہیں ، دیکھا نہیں ، اس پر ہم تحقیق نہیں کرسکتے ۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ ایسی خیالی چیزوں کو ماننے سے انکار کردیا جائے ۔ زمانہ جاہلیت کی اس دانشمندی کو آج کے ترقی یافتہ دور میں سائنٹفک طرز فکر کہتے ہیں ۔ زمانہ جاہلیت میں ” خیالی چیزوں “ کو ماننے والوں کو بطور تضیحک اور استھزاء ” سفھاء “ کہا جاتا تھا ، آج بالکل اسی انداز میں ایسے لوگوں کی سوچ کو غیر سانٹفک قرار دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ جس سانٹفک طرز فکر پر یہ اتنا اتراتے ہیں اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ ایک شخص کو کسی جگہ سے دھواں اٹھتا نظر آتا ہے تو وہ مان لیتا ہے کہ ہاں ! وہاں دھواں ہے لیکن جب ہم اسے بتاتے ہیں کہ وہاں آگ لگی ہوئی ہے، تو وہ بنکارتا ہے کہ کہاں ہے آگ ! کیونکہ آگ نظر نہیں آرہی ہے ، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ دھواں آگ کی علامت ہے ۔ دھویں کا وجود آگ کے وجود کا ثبوت ہے۔ اب ” اسلام کا جائزہ “ کورس میں ” وجود باری تعالیٰ “ کے سبق کو ذہن میں تازہ کریں جس میں آپ کو بتایا جاچکا ہے کس طرح انسان کو بہت کچھ سکھا پڑھا کر اور بہت سی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا گیا ہے ۔ ان میں ایک صلاحیت یہ بھی کہا گیا ہے ۔ اس امتحان گاہ میں انسان کو جو امتحان کا پرچہ ملتا ہے، اس کا پہلا سوال اسی صلاحیت کے استعمال سے متعلق ہے اور یہ سوال لازمی (Compulsory) ہے اسے انسان (Choice) میں چھوڑ نہیں سکتا ۔ اس صلاحیت کو استعمال کرنے سے انکار کو ہمارے دانشمند اور سائنسدان بڑے فخر سے سائنٹفک طرز فکر کہتے ہیں اور قرآن ہمیں بتارہا ہے کہ یہ ہے ان کے پہنچنے کی وہ جگہ جہاں تک وہ لوگ اپنے علم سے پہنچ سکے ہیں ۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور اُن لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے

وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ [ اور اللہ ہی کا ہے جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ ۙ [ اور وہ (بھی ) جو زمین میں ہے ] لِيَجْزِيَ [ نتیجۃ وہ بدلہ دے گا ] الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوْا [ ان کو جنھوں نے برا کیا ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] عَمِلُوْا [ انھوں نے عمل کیا ] وَيَجْزِيَ [اور وہ بدلہ دے گا ] الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا [ان کو جنھوں نے اچھا کیا ] بِالْحُسْنٰى [ بڑی بھلائی سے ]
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں، الا یہ کہ کچھ قصور اُن سے سرزد ہو جائے بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے وہ تمھیں اُس وقت سے خوب جانتا ہے جب اُس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے

اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ [ وہ لوگ جو بچتے ہیں ] كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ [ گناہ کے بڑوں سے ] وَالْفَوَاحِشَ [ اور بےحیائیوں سے ] اِلَّا اللَّمَمَ ۭ [ سوائے چھوٹی موٹی غلطی کرنے کے ] اِنَّ رَبَّكَ [بیشک آپ کا رب ] وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۭ [ مغفرت کو وسعت دینے والا ہے ] هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ [ وہ خوب جاننے والا ہے تم لوگوں کو ] اِذْ اَنْشَاَكُمْ [ جب اس نے بنایا تم لوگوں کو ] مِّنَ الْاَرْضِ [ زمین سے ] وَاِذْ اَنْتُمْ [ اور جب تم لوگ ] اَجِنَّةٌ [ چھپائے گئے تھے ] فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ ۚ [ تمہاری ماؤں کے بیٹوں میں ] فَلَا تُزَكُّوْٓا [ تو تم تزکی (کا چرچا ) مت کرو ] اَنْفُسَكُمْ ۭ [اپنے آپ کا ] هُوَ اَعْلَمُ [ وہ خوب جانتا ہے ] بِمَنِ اتَّقٰى [ اس کو جس نے تقوی اختیا کیا ] ل م م : (ن) لما جمع کرنا ۔ سمیٹنا ۔ وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا [ اور تم لوگ کھاتے ہو میراث کا مال جیسے سمیٹتے ہوئے کھانے کا حق ہے ] 89:19 ۔ لمما چھوٹے گناہ کا ارتکاب کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 32 ۔ نوٹ ۔ 2: آیت 32 میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بتایا ہے کہ وہ اپنی جان کا اتنا علم نہیں رکھتا جتنا اس کے خالق کو ہے، کیونکہ ماں کے پیٹ میں تخلیق کے جو مختلف دور اس پر گزرے ہیں اس کا اسے کوئی علم و شعور حاصل نہیں ہے مگر اس کو بنانے والا خوب جانتا تھا جس کی حکیمانہ تخلیق اس کو بنارہی تھی، اس طرح انسان کو اس کی کم علمی اور عجزوتنبیہ کرکے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جو بھی کوئی نیک کام کرتا ہے وہ اس کا ذاتی کمال نہیں ہے بلکہ اللہ کا بخشا ہوا نعام ہے کام کرنے کے اعضاء وجوارح اس نے بنائے ان میں حرکت کی قوت اس نے بخشی ، دل میں نیک کام کرنے کا داعیہ اس نے دیا پھر اس پر عزم وعمل اسی کی توفیق سے ہوا ۔ اس لیے کسی بڑے سے بڑے متقی و پرہیزگار انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے عمل پر فخر کرے ۔ اور اس عمل کو اپنا کمال قرار دے کر غور میں مبتلا ہو ۔ بی بی زینب بن ابی سلمہ کا نام ان کے والدین نے برہ رکھا تھا ۔ جس کے معنی ہیں نیکوکار ۔ آپ ﷺ نے اس نام سے منع کیا کیونکہ اس میں اپنے نیک ہونے کا دعوی ہے اور نام بدل کے زنیب رکھ دیا ۔ (معاف القرآن ) ۔
Ayah 53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

پھر اے نبیؐ، تم نے اُس شخص کو بھی دیکھا جو راہ خدا سے پھر گیا

اَفَرَءَيْتَ [ تو کیا آپ نے دیکھا ] الَّذِيْ [ اس کو جس نے ] تَوَلّٰى [منہ موڑا ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 33 تا 35 ۔ میں ان لوگوں کے کردار کو ایک تمثیل کے پیرائے میں پیش کیا ہے جو اللہ کی راہ میں کچھ دینے دلانے کا تو حوصلہ نہیں رکھتے ، اور اگر کبھی کچھ دیتے بھی ہیں تو بس ذرا سا لیکن اپنے فرضی معبودوں کی شفاعت اور اپنے خاندانی شرف کے زعم میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے لیے اونچے اونچے مرتبوں کے مدعی ہیں۔ فرمایا کہ کیا انکے پاس علم غیب کی دوربین ہے جس کی مدد سے وہ اپنے مراتب کو دیکھ رہے ہیں ۔ (تدبر قرآن)
Ayah 53:34

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دے کر رک گیا

وَاَعْطٰى [اور اس نے دیا ] قَلِيْلًا [تھوڑا سا ] وَّاَكْدٰى [اور ہاتھ روک لیا ] ک د ی : (ض) کدیا ۔ کسی کو روکنا ۔ دینے میں بخل کرنا ۔ (افعال ) اکداء کسی چیز سے باز رکھنا ۔ روک لینا زیر مطالعہ آیت ۔ 34 ۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے؟

اَعِنْدَهٗ [ کیا اس کے پاس ] عِلْمُ الْغَيْبِ [ غیب کا علم ہے ] فَهُوَ يَرٰى [ تو وہ دیکھتا ہے (غیب کو) ]
Ayah 53:36

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اُسے اُن باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰؑ کے صحیفوں

اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ [ یا اس کو بتایا ہی نہیں گیا ] بِمَا [ اس کے بارے میں جو ] فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى [موسی کے اوراق میں ہے ]
Ayah 53:37

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور اُس ابراہیمؑ کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں جس نے وفا کا حق ادا کر دیا؟

وَاِبْرٰهِيْمَ [ اور ابراہیم کے (بھی) ] الَّذِيْ وَفّيٰٓ [ وہ جنھوں نے حق ادا کردیا ]
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

"یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

اَلَّا تَزِرُ [ (یہ ) کہ نہیں اٹھائے گی ] وَازِرَةٌ [ کوئی اٹھانے والی ] وِّزْرَ اُخْرٰى [ کسی دوسری (جان ) کا بوجھ ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 38 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کا عذاب دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا ۔ نہ کسی کو اس کا اختیار ہوگا کہ وہ دوسرے کا عذاب اپنے سر لے لے ۔ آیت 39 ۔ میں ہے کہ اسی طرح کسی کو یہ بھی حق نہیں کہ دوسرے کے عمل کے بدلے خود عمل کرے، مثلا ایک شخص دوسرے کی طرف سے فرض نماز ادا کردے یا فرضی روزے رکھ لے اور وہ دوسرا اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائے ۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک شخص کے نفلی عمل کا کوئی فائدہ اور ثواب دوسرے شخص کو نہ پہنچ سکے ۔ ایک شخص کی دعا اور صدقہ کا ثواب دوسرے کو پہنچنا نصوص شرعیہ سے ثابت ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے

وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ [ اور (یہ ) کہ نہیں ہے انسان کے لیے ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جو ] سَعٰى [اس نے کوشش کی ] آیت ۔ 39 ۔ کو بعض لوگ معاشیات پر غلط طریقے سے منطبق کرکے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی محنت کی کمائی (Eeamed lncome ) کے سوا کسی چیز کا جائز مالک نہیں ہوسکتا ۔ لیکن یہ بات قرآن مجید کے احکام سے ٹکراتی ہے۔ مثلا قانون وراثت جس کی رو سے ایک شخص کے ترکے میں سے بہت سے افراد حصہ پاتے ہیں درآنحالیکہ یہ میراث ان کی اپنی محنت کی کمائی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح احکام زکوۃ و صدقات ، جن کی رو سے ایک آدمی کے مال کے دوسرے لوگ جائز مالک ہوتے ہیں حالانکہ اس مال کو پیدا کرنے میں ان کی محنت کا کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔ اس لیے قرآن کی کسی ایک آیت کو لے کر اس سے اپنے نتائج نکالنا جو قرآن ہی کی دوسری تعلیمات سے متصادم ہوں ، قرآن کی منشا کے بالکل خلاف ہے۔ بعض دوسرے لوگ اس آیت کو آخرت سے متعلق مان کر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے عمل کے اجر کو دوسرے کی طرف منتقل کرسکے ؟ اس سوال کا جواب اگر نفی میں ہو تو دوسرے کے حق میں دعائے استغفار ، ایصال ثواب ، حج بدل وغیرہ سب ناجائز ہوجاتے ہیں ۔ مگر یہ انتہائی نقطہ نظر اہل اسلام میں سے معتزلہ کے سوا کسی نے اختیار نہیں کیا ۔ جبکہ اہل سنت دوسروں کے حق میں دعائے استغفار کا نافع ہونا بالا اتفاق مانتے ہیں ۔ کیونکہ یہ قرآن سے ثابت ہے۔ البتہ ایصال ثواب میں ان کے درمیان اصولا نہیں بلکہ صرف تفصیلات میں اختلاف ہے، امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ خالص بدنی عبادات مثلا نماز ، روزہ اور تلاوت قرآن وغیرہ کا ثواب دوسرے کو نہیں پہنچ سکتا ، البتہ مالی عبادات مثلا صدقہ یا مالی وبدنی مرکب عبادات مثلا حج کا ثواب دوسرے کو پہنچ سکتا ہے ۔ جبکہ حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ انسان اپنے ہر نیک عمل کا ثواب دوسرے کو بخش سکتا ہے خواہ خالص بدنی ہوں مالی ہوں ، یامالی وبدنی مرکب ہوں ، یہ بات بکثرت احادیث سے ثابت ہے۔ مثلا حضرت عبداللہ بن عمر وبن لعاص فرماتے ہیں کہ ان کے دادا العاص نے زمانہ جاہلیت میں سواونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی ، ان کے چچا ہشام بن العاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کردیے ان کے والد حضرت عمرو بن العاص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں کیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کرلیا تھا تو تم ان کی طرف سے روزہ رکھو یا صدقہ کرو وہ ان کے لیے نافع ہوگا ، ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں اپنے والدین کی خدمت ان کی زندگی میں تو کرتا رہا ، ان کے مرنے کے بعد کیسے کروں ، آپ ﷺ نے فرمایا یہ بھی ان کی خدمت ہی ہے کہ ان کے مرنے کے بعد تو اپنی نماز کے ساتھ ان کے لیے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لیے بھی روزے رکھے، ایک اور حدیث میں حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کا قبرستان پر گزر ہو اور وہ گیارہ مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھ کر اس کا اجر مرنے والوں کو بخش دے تو جتنے مردے ہیں اتنا ہی اجر عطا کردیا جائے گا ۔ ایسی کثیر روایات ہیں جو ایک دوسرے کی تائید کررہی ہیں اور اس امر کی تصریح کررہی ہیں کہ ایصال ثواب نہ صرف ممکن ہے بلکہ ہر طرح کی عبادات اور نیکیوں کے ثواب کا ایصال ہوسکتا ہے البتہ اس ضمن میں یہ بات سمجھ لیں کہ نیک عمل کے دو فائدے ہیں ۔ ایک اس کے وہ نتائج جو عمل کرنے والے کی اپنی روح اور اخلاق پر مترتب ہوتے ہیں ، اور جن کی بنا پر وہ اللہ کے ہاں بھی جزا کا مستحق ہوتا ہے دوسرے اس کا وہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ بطور انعام اسے دیتا ہے ۔ ایصال ثواب کا تعلق پہلی چیز سے نہیں ہے بلکہ صرف دوسری چیز سے ہے اسی لیے اس کو ایصال جزا نہیں بلکہ ایصال ثواب کہا جاتا ہے ۔ (تفہیم القرآن ۔ ج 5 ۔ ص 215 تا 127 سے ماخوذ ) ۔
Ayah 53:40

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی

وَاَنَّ سَعْيَهٗ [ اور یہ کہ اس کی کوشش ] سَوْفَ يُرٰى [ عنقریب دکھائی جائیگی ]