52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 52:1

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے طور کی

وَالطُّوْرِ [ قسم ہے طور کی ] ترکیب : آیات ۔ 1 تا 6 تک جو قسمیں آئی ہیں ان کی ترجمہ کی دوصورتیں ہیں اول یہ کہ ان میں ہر واو کو قسمیہ مانیں ۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا قسم ہے طور کی ۔ قسم ہے ایک لکھی ہوئی کتاب کی۔ اسی طرح آخر تک ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ صرف پہلے واو کو قسمیہ مانیں اور بعد میں آنے والے تمام واو کو عاطفہ مانیں ۔ ان اسماء کو حالت جر میں ہونے کی وجہ سے پہلے واو القسمیہ پر عطف مانے جائیں ۔ ایسی صورت میں ترجمہ ہوگا قسم ہے طور کی اور قسم ہے ایک کھلی کتاب کی ۔ اسی طرح آخر تک دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے ۔ کتب مسطور نکرہ مخصوصہ ہے اور فی رق منشور اس کی خصوصیت ہے۔
Ayah 52:2

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور ایک ایسی کھلی کتاب کی

وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ [ اور ایک ایسی لکھی ہوئی کتاب کی قسم ہے جو ]
Ayah 52:3

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے

فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ [ ایک پھیلائی ہوئی پتلی چیز میں ہے ] رق ق : (ض) رقۃ ۔ پتلا ہونا، نرم ہونا ۔ رق پتلی چیز ، پتلا کاغذ ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 3 ۔
Ayah 52:4

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی

وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ [ اور قسم ہے اس آباد کئے ہوئے گھر کی ]
Ayah 52:5

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی

وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ [ اور قسم ہے اس بلند کی ہوئی چھت کی ]
Ayah 52:6

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور موجزن سمندر کی

وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ [ اور قسم ہے اس جوش دیئے ہوئے سمندر کی ]
Ayah 52:7

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ [ بیشک آپ کے رب کا عذاب ] لَوَاقِعٌ [ یقینا وقوع پذیر ہونے والا ہے ]
Ayah 52:8

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں

مَّا لَهٗ [ نہیں ہے اس کے لیے ] مِنْ دَافِعٍ [ کوئی بھی دفع کرنے والا ]
Ayah 52:9

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

وہ اُس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگائے گا

يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ [ جس دن لہریں لے گا آسمان ] مَوْرًا [ جیسے لہریں لیتے ہیں ] م و ر : (ن) مورا کسی چیز کا تیزی سے ہلنا ۔ کپکپانا۔ ڈھاٹھیں مارنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 9 ۔
Ayah 52:10

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے

وَّتَسِيْرُ [ اور چلیں گے ] الْجِبَالُ [ پہاڑ ] سَيْرًا [ جیسے چلتے ہیں ]
Ayah 52:11

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز اُن جھٹلانے والوں کے لیے

فَوَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ [ پس بربادی ہے اس دن ] لِّلْمُكَذِّبِيْنَ [ جھٹلانے والوں کے لیے ]
Ayah 52:12

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں

الَّذِيْنَ هُمْ [ یہ وہ لوگ ہیں جو ] فِيْ خَوْضٍ [ بےپر کی اڑانے میں ] يَّلْعَبُوْنَ [ کھیلتے ہیں ]
Ayah 52:13

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن انہیں دھکے مار مار کر نار جہنم کی طرف لے چلا جائے گا

يَوْمَ يُدَعُّوْنَ [ جس دن وہ لوگ دھکیلے جائیں گے ] اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ [ جہنم کی آگ کی طرف ] دَعًّا [جیسے دھکیلے جاتے ہیں ] دع ع : دعا ۔ سختی سے ہٹانا ۔ دھکا دینا زیر مطالعہ آیت ۔ 13 ۔
Ayah 52:14

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ "یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

هٰذِهِ النَّارُ [ یہ ہے وہ آگ ] الَّتِيْ [ و ہ ] كُنْتُمْ بِهَا [ تم لوگ جس کو ] تُكَذِّبُوْنَ [جھٹلایا کرتے تھے ] (آیت ۔ 14) النار پر لام تعریف ہے اور یہ ھذہ کی خبر معرفہ ہے جبکہ التی سے تکذبون تک پورا جملہ النار کی صفت ہے ۔
Ayah 52:15

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے؟

اَفَسِحْرٌ ھٰذَآ [ تو کیا جادو ہے یہ ] اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ [ یا تم لوگ بصیرت سے کام نہیں لیتے ]
Ayah 52:16

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

جاؤ اب جھلسو اِس کے اندر، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے یکساں ہے، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے

اِصْلَوْهَا [ تم لوگ جا پڑو اس میں ] فَاصْبِرُوْٓا [ پھر (چاہیے ) صبر کرو ] اَوْ لَا تَصْبِرُوْا ۚ [ یا صبر مت کرو ] سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ ۭ [ برابر ہے تم لوگوں پر ] اِنَّمَا تُجْزَوْنَ [ تم لوگوں کو تو بس بدلہ دیا جاتا ہے ] مَا [ وہ (ہی ) جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ عمل کیا کرتے تھے ] نوٹ ۔ 1: سورة ذاریات میں آخرت کے امکان اس کے وجود اور وقوع کے دلائل دیے جاچکے تھے ۔ اس لیے یہاں ان کا اعادہ نہیں کیا گیا ۔ البتہ آخرت کی شہادت دینے والے چند حقائق و آثار کی قسم کھا کر پورے زور کے ساتھ فرمایا کہ وہ یقینا واقع ہوکر رہے گی ۔ طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم کو اٹھانے اور ایک غالب وقاہر قوم کو گرانیکا فیصلہ کیا گیا ۔ اور یہ فیصلہ قانون طبیعی ( Laws Physical) کی بیناد پر نہیں بلکہ قانون اخلاقی Moral Law اور قانون مکافات عمل (Law of Ratribtion) کی بنیاد پر تھا اس لیے آخرت کے حق میں تاریخی استدلال کے طور پر بطور ایک علامت کے طور پر پیش کیا گیا (تفہیم القرآن) نوٹ ۔ 2 ایک پھیلائی ہوئی پتلی چیز میں لکھی ہوئی کتاب سے شاید لوح محفوظ مراد ہو یا لوگوں کا اعمالنامہ یا قرآن یا تورات یا عام کتب سماویہ مراد ہوں یہ سب احتمالات ہیں ۔ (شیخ الہند)
Ayah 52:17

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

متقی لوگ وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ [ بیشک تقوی اختیار کرنے والے ] فِيْ جَنّٰتٍ [ باغوں میں ] وَّنَعِيْمٍ [ اور ہمیشہ خوشحالی میں ہوں گے ]
Ayah 52:18

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

لطف لے رہے ہوں گے اُن چیزوں سے جو اُن کا رب انہیں دے گا، اور اُن کا رب اُنہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

فٰكِهِيْنَ [ خوش ہونے والے ] بِمَآ [ اس پر جو ] اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۚ [ دیا ان کو ان کے رب نے ] وَوَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ [ اور بچایا ان کو ان کے رب نے ] عَذَابَ الْجَحِيْمِ [آگ کے عذاب سے ]
Ayah 52:19

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا [(کہا جائے گا ) تم لوگ کھاؤ اور پیو ] هَنِيْۗــــًٔـــۢا [ خوشگوار ہوتے ہوئے ] بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ بسبب اس کے جو تم لوگ عمل کیا کرتے تھے ]
Ayah 52:20

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں اُن سے بیاہ دیں گے

مُتَّكِــــِٕيْنَ [ ٹیک لگانے والے ہوتے ہوئے ] عَلٰي سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ ۚ [ قطار لگائے ہوئے تختوں پر ] وَزَوَّجْنٰهُمْ [ اور ہم جوڑے بنادیں گے ان کے ] بِحُوْرٍ عِيْنٍ [ خوبصورت بڑی آنکھوں والیوں سے ]
Ayah 52:21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور جو لوگ ایمان لائے ] وَاتَّبَعَتْهُمْ [ اور پیروی کی جن کی ] ذُرِّيَّــتُهُمْ [ان کی اولاد نے ] بِاِيْمَانٍ [ایمان کے ساتھ ] اَلْحَـقْنَا بِهِمْ [ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ] ذُرِّيَّتَهُمْ [ ان کی اولاد کو ] وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ [ اور حق تلفی نہیں کریں گے ان کو ] مِّنْ عَمَلِهِمْ [ ان کے عمل میں سے ] مِّنْ شَيْءٍ ۭ [ ذرا سا بھی ] كُلُّ امْرِی [ ہر شخص ] بِمَا كَسَبَ [ بسبب اس کے جو اس نے کمائی کی ] رَهِيْنٌ [ گروی رکھا ہوا ہے ] ء ل ت : (ض) التا ۔ کسی کے حق میں کمی کرنا ۔ گھٹانا (متعدی ) کسی چیز کا کم ہوجانا ۔ گھٹنا ۔ (لازم) ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 21 ۔ نوٹ ۔ 1: انسان کا کوئی لطف و سرور بھی بیوی بچوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ۔ اس لیے فرمایا کہ زوجنہم بحور عین یعنی اللہ تعالیٰ جنت میں یہ نعمت بھی اہل ایمان کے لیے مہیا فرمائے گا ۔ اس کے لیے الفاظ وہ استعمال فرمائے ہیں جن سے ہم اس کافی الجملہ تصور کرسکیں اس کی اصل حقیقت تو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ یہ آخرت میں ہی واضح ہوگی ۔ (تدبر قرآن ) نوٹ : آیت ۔ 21 کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مؤمنین کی اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجے میں پہنچا دیں گے ۔ اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص عرض کرے گا اے میرے پروردگار میں نے جو کچھ عمل کیا وہ اپنے لیے اور ان سب کے لیے کیا تھا ۔ تو حق تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا کہ انکو بھی اسی درجہ جنت میں ان کے ساتھ رکھا جائے ۔ ابن کثیر نے روایات مذکورہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ ان روایات سے یہ تو ثابت ہوا کہ آباء صالحین کی برکت سے ان کی اولاد کو فائدہ پہنچے گا ۔ اس کا دوسرا رخ کہ اولاد صالحین کی وجہ سے والدین کو نفع پہنچے یہ بھی حدیث سے ثابت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کا درجہ جنت میں ان کے عمل کی مناسبت سے بہت اونچا کردیں گے ۔ تو وہ پوچھے گا کہ میرے پروردگار مجھے یہ رتبہ کہاں سے مل گیا تو جواب یہ دیا جائے گا کہ تمہاری اولاد نے تمہارے لیے استغفار اور دعا کی اس کا یہ اثر ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 52:22

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

ہم اُن کو ہر طرح کے پھل اور گوشت، جس چیز کو بھی ان کا جی چاہے گا، خوب دیے چلے جائیں گے

وَاَمْدَدْنٰهُمْ [اور ہم دراز کریں گے دنیا ان کو ] بِفَاكِهَةٍ وَّلَحْمٍ [ پھلوں اور گوشت سے ] مِّمَّا [ اس میں سے جو ] يَشْتَهُوْنَ [ ان کا جی چاہے گا ]
Ayah 52:23

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بد کرداری

يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا [ چھینا جھپٹی کریں گے اس میں ] كَاْسًا [ ایک ایسے جام کی ] لَّا لَغْوٌ فِيْهَا [ کوئی بیکار بات نہ ہوگی جس میں ] وَلَا تَاْثِيْمٌ [ اور نہ کوئی الزام تراشی ]
Ayah 52:24

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور اُن کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو انہی کے لیے مخصوص ہوں گے ایسے خوبصورت جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی

وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ [ اور گھومیں پھریں گے ان کے گرد ] غِلْمَانٌ لَّهُمْ [ ان کی خدمت گزار ] كَاَنَّهُمْ [ جیسے کہ وہ ] لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ [ چھپائے ہوئے موتی ہوں ] ترکیب : (آیت ۔ 24) ” ط وف “ ۔ کی لغت آیت نمبر ۔ 2: 125 ۔ میں گزر چکی ہے ۔ اس میں یہ اضافہ کرلیں کہ اس کے مفعول پر جب ب ؛کا صلہ آئے تو مطلب ہوتا ہے کسی جگہ یا مکان کے چاروں طرف چکر لگانا یعنی طواف کرنا ۔ اور جب علی کا صلہ آئے تو مطلب ہوتا ہے کسی کے پاس یا کسی جگہ آنا جانا کرنا ۔ چکر لگانا ۔
Ayah 52:25

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے

وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ اور سامنے ہوگا ان کا کوئی ] عَلٰي بَعْضٍ [ کسی کے ] يَّتَسَاۗءَلُوْنَ [باہم پوچھتے ہوئے ]
Ayah 52:26

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے

قَالُوْٓا اِنَّا كُنَّا [ وہ کہیں گے بیشک ہم تھے ] قَبْلُ [اس سے پہلے ] فِيْٓ اَهْلِنَا [ اپنے گھر والوں میں ] مُشْفِقِيْنَ [ ڈرنے والے ]
Ayah 52:27

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا [ تو احسان کیا اللہ نے ہم پر ] وَوَقٰىنَا [ اور اس نے بچایا ہم کو ] عَذَابَ السَّمُوْمِ [ جھلس دینے والی لو کے عذاب سے ]
Ayah 52:28

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے، وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے

اِنَّا [ بیشک ہم ] كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ ۭ [ اس سے پہلے ہم پکارا کرتے تھے اس کو ] اِنَّهٗ [ یقینا وہ ( ہے کہ ) ] هُوَ الْبَرُّ [ وہی احسان کرنے والا ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] (آیت ۔ 28) ” ب ر ر ‘ ‘ کی لغت آیت نمبر ۔ 2:44 ۔ میں گزر چکی ہے ۔ وہاں بتایا ہے کہ بر اسم الفاعل ہے اب نوٹ کرلیں کہ یہ دراصل بارر ہے عربی کے کچھ الفاظ میں فاعل کے وزن کا الف گرا دیتے ہیں ۔ اس میں بھی بار کا الف گرا ہوا ہے اس لیے یہ برر ہوا ۔ پھر ادغام کرکے بر ہوگیا ۔ جیسے رب مصدر بھی ہے اور اسم الفاعل بھی ۔ جس میں یہ اصلا راب ب ہے ۔ اس کا الف گرا تو یہ رب استعمال ہوتا ہے ۔
Ayah 52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، تم نصیحت کیے جاؤ، اپنے رب کے فضل سے نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون

فَذَكِّرْ [ تو آپ یاد دہانی کراتے رہیں ] فَمَآ اَنْتَ [ پھر آپ نہیں ہیں ] بِنِعْمَتِ رَبِّكَ [ اپنے رب کی نعمت (فضل ) کے سبب سے ] بِكَاهِنٍ [ کوئی کاہن ] وَّلَا مَجْنُوْنٍ [اور نہ کوئی مجنون ] ک ھ ن : (ف) کھانۃ ، غیب کی خبریں بتانا ۔ (ظن و گمان سے) کا ھن غیب کی خبریں بتانے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 29 ۔
Ayah 52:30

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کر رہے ہیں؟

اَمْ يَقُوْلُوْنَ [ یا یہ لوگ کہتے ہیں ] شَاعِرٌ [ (کہ یہ) ایک شاعر ہے ] نَّتَرَبَّصُ بِهٖ [ ہم انتظار کرتے ہیں جس کے بارے میں ] رَيْبَ الْمَنُوْنِ [ گردش زمانہ کا ]
Ayah 52:31

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

اِن سے کہو اچھا انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

قُلْ [آپ کہیے ] تَرَبَّصُوْا [ تم لوگ انتظار کرو ] فَاِنِّىْ مَعَكُمْ [تو میں (بھی ) تمہارے ساتھ ] مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ [ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں ]
Ayah 52:32

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا اِن کی عقلیں اِنہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں؟ یا در حقیقت یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں؟

اَمْ تَاْمُرُهُمْ [ یا حکم دیتی ہیں ان کو ] اَحْلَامُهُمْ [ ان کی عقلیں ] بِھٰذَآ [اس (حرکت ) کا ] اَمْ هُمْ [ یا یہ لوگ ] قَوْمٌ طَاغُوْنَ [ ایک سرکشی کرنے والی قوم ہیں ]
Ayah 52:33

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے

اَمْ يَقُوْلُوْنَ [ یا یہ لوگ کہتے ہیں ] تَـقَوَّلَهٗ ۚ [ اس نے گھڑ لیا اس کو ] بَلْ [ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ ) ] لَّا يُؤْمِنُوْنَ [ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ]
Ayah 52:34

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

اگر یہ اپنے اِس قول میں سچے ہیں تو اِسی شان کا ایک کلام بنا لائیں

فَلْيَاْتُوْا [ پس چاہیے کہ یہ لوگ لائیں ] بِحَدِيْثٍ [ کوئی بات ] مِّثْلِهٖٓ [ اس (قرآن ) کے جیسی ] اِنْ كَانُوْا [ اگر یہ لوگ ہیں ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ] نوٹ۔ 1: سب سے پہلے زیر مطالعہ آیت ۔ 34 ۔ میں نہ صرف قریش کو بلکہ تمام دنیا کے مفکرین کو یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم قرآن کو انسانی کلام سمجھتے ہو تو اس پائے کا کوئی کلام لا کر دکھاؤ جسے کسی انسان نے تصنیف کیا ہو ۔ اس کے بعد تین مرتبہ مکہ میں اور آخری بار مدینہ میں اسے دہرایا گیا ۔ سورة یونس ۔ 38، ھود ۔ 13 بنی اسرائیل ۔ 88، البقرہ ۔ 23 ۔ اس وقت سے آج تک کسی کی یہ جرءت نہیں ہوئی کہ قرآن کے مقابلے میں کسی انسانی تصنیف کو لے آئے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید عربی ادب کا مکمل ترین اور بلند ترین نمونہ ہے ۔ پوری کتاب میں ایک لفظ اور ایک جملہ بھی معیار سے گرا ہوا نہیں ہے ۔ ایک ہی مضمون بار بار بیان ہوا ہے اور ہر مرتبہ پیرائیہ بیان نیا ہے جس سے تکرار کی بدنمائی کہیں پیدا نہیں ہوتی ۔ کلام اتنا مؤثر ہے کہ کوئی زبان داں اسے سن کر متاثر ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا حتی کہ منکر اور مخالف کی روح بھی وجد کرنے لگتی ہے ۔ چودہ سو برس گزرنے کے بعد بھی آج تک یہ کتاب اپنی زبان کے ادب کا سب سے اعلی نمونہ ہے ۔ عربی زبان کی کوئی کتاب اپنی ادبی قدروقیمت میں اس کے قریب بھی نہیں پہنچتی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ کتاب عربی زبان کو اس طرح پکڑ کر بیٹھ گئی ہے کہ چودہ صدیاں گزر جانے پر بھی اس زبان کا معیار فصاحت وہی ہے جو اس کتاب نے قائم کردیا تھا ۔ حالانکہ اتنی مدت میں زبانیں بدل کر کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں ہے جو اتنی طویل مدت تک املاء انشاء محاورے ، قواعد ، زبان اور استعمال الفاظ میں ایک ہی شان پر باقی رہ گئی ہو ، یہ صرف قرآن کی طاقت ہے جس نے عربی زبان کو اپنی جگہ سے ہلنے نہ دیا ۔ اس کا ایک لفظ بھی متروک نہیں ہوا ۔ اس کا ہر محاورہ آج تک عربی ادب میں مستعمل ہے۔ اس کا ادب آج بھی عربی کا معیاری ادب ہے اور تحریر وتقریر میں آج بھی فصیح زبان وہی مانی جاتی ہے ۔ جو چودہ سو برس پہلے قرآن میں استعمال ہوئی تھی ۔ کی دنیا کی کسی زبان میں کوئی انسانی تصنیف اس شان کی ہے۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 52:35

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہو گئے ہیں؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں؟

اَمْ خُلِقُوْا [ یا یہ لوگ پیدا کیے گئے ] مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ [کسی چیز (نطفہ ) کے بغیر ] اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ [ یا یہ لوگ ہی پیدا کرنے والے ہیں ]
Ayah 52:36

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا زمین اور آسمانوں کو اِنہوں نے پیدا کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے

اَمْ خَلَقُوا [ یا انہوں نے پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ[ آسمانوں اور زمین کو ] بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ [ بلکہ یہ یقین نہیں کرتے ]
Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا تیرے رب کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟ یا اُن پر اِنہی کا حکم چلتا ہے؟

اَمْ عِنْدَهُمْ [ یا ان کے پاس ] خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ [ آپ کے رب کے خزانے ہیں ] اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ [ یا یہ لوگ (خزانوں کے ) داروغہ ہیں ]
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا اِن کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں؟ اِن میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ [ یا انکے لیے کوئی ایسی سیڑھی ہے ] يَّسْتَمِعُوْنَ فِيْهِ ۚ [ یہ لوگ کان لگاتے ہیں جس میں ] فَلْيَاْتِ [ تو چاہیے کہ لائے ] مُسْتَمِعُهُمْ [ ان کا کان لگانے والا ] بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ [ کوئی واضح دلیل ]
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اللہ کے لیے تو ہیں بیٹیاں اور تم لوگوں کے لیے ہیں بیٹے؟

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ [ یا اس کے لیے بیٹیاں ہیں ] وَلَكُمُ الْبَنُوْنَ [ اور تم لوگوں کے لیے بیٹے ہیں ]
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا تم اِن سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں؟

اَمْ تَسْـَٔــلُهُمْ [ یا آپ مانگتے ہیں ان سے ] اَجْرًا [ کوئی اجرت ] فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ [ تو یہ لوگ کسی تاوان سے ] مُّثْقَلُوْنَ [ لادے ہوئے ہیں ]