Ayah 51:1وَالذّٰرِيٰتِ [ قسم ہے دھواں اڑانے والیوں (ہواؤں ) کی ] ذَرْوًا [ جیسا اڑانے کا حق ہے ]
ترکیب : (آیات ۔ 1 تا 4) ۔ الحملت ۔ الجریت اور المقسمت ۔ یہ سب واو قسمیہ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں ۔ الجریت اسم الفاعل جار کی مونث جاریۃ کی جمع ہے ۔ جس کے لغوی معنی ہیں جاری ہونے والیاں ، پھر یہ کشتی کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں پر اس کا ترجمہ اگر ” کشتیاں “ کیا جائے تو یسرا بےمعنی ہوجائے گا ، اس لیے یہاں اس کا لغوی ترجمہ کرنا بہتر ہے۔
Ayah 51:2فَالْحٰمِلٰتِ [ پھر اٹھانے والیوں کی ] وِقْرًا [ بوجھ (بادل ) کو ]
Ayah 51:3فَالْجٰرِيٰتِ [ پھر چلنے والیوں کی ] يُسْرًا [نرمی ہوتے ہوئے ]
Ayah 51:4فَالْمُقَسِّمٰتِ [ پھر تقسیم کرنے والیوں کی ] اَمْرًا [ ایک حکم کو ]
Ayah 51:5اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] تُوْعَدُوْنَ [ تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے ] لَصَادِقٌ [ (وہ) یقینا سچ ہونے والا ہے ]
Ayah 51:6وَّاِنَّ الدِّيْنَ [ اور بیشک بدلہ ] لَوَاقِــعٌ [یقینا واقع ہونے والا ہے ]
Ayah 51:7وَالسَّمَاۗءِ [قسم ہے آسمان کی ] ذَاتِ الْحُبُكِ [ جو راستوں والا ہے ]
ح ب ک : (ن) حبکا ۔ مضبوط کرنا ، جو لائے کا کپڑے کو عمدہ بننا ۔ حبیک فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ اسم المفعول کے معنی میں ۔ مضبوط کیا ہوا ۔ بنا ہوا۔ حبیکۃ ۔ ج : حبک ۔ حبیک کا مؤنث ہے۔ ریت کے ٹیلے کا راستہ ۔ ستاروں کے درمیان کا راستہ ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 7 ۔
Ayah 51:8اِنَّكُمْ [ یقیناتم لوگ ] لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ [ لازما ایک اختلاف کرنے والی بات میں ہو ]
Ayah 51:9يُّؤْفَكُ [ پھیرا جاتا ہے ] عَنْهُ [ اس (دین ) سے ] مَنْ [ اس کو جو ] اُفِكَ [ ضعیف العقل ہوا ]
(آیت ۔ 9) عنہ میں ہ کی ضمیر قول مختلف کے لیے نہیں ہے ۔ اگر اس کے لیے ہوتی تو یؤفک بہ آتا ۔ ضمیر کے ساتھ عن کا صلہ بتارہا ہے کہ ضمیر اس کے لیے ہے جس کے بارے میں قول یعنی رائے مختلف ہے ، اور وہ الدین ہے۔
Ayah 51:10قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ [ مارے جائیں جھوٹ اڑانے والے ]
(آیت ۔ 10) قتل یہاں خبر یہ نہیں بلکہ دعائیہ ہے ۔ یہ ہم بتا چکے ہیں کہ دعا کی بعض صورتوں میں عربی میں فعل امر کے بجائے ماضی یا مضارع استعمال ہوتا ہے ۔ (دیکھیں آیت ۔ 2:72، نوٹ ۔ 2) ۔
Ayah 51:11الَّذِيْنَ هُمْ [ وہ لوگ کہ وہی ] فِيْ غَمْرَةٍ [ مدہوشی میں ] سَاهُوْنَ [ غافل ہونے والے ہیں ]
س ھ و : (ن) سھوا ۔ دل کا دوسری طرف پھرجانا ۔ غافل ہونا ، بھولنا ، چوک جانا ۔ ساھ ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے ۔ بھولنے والا ۔ غافل ۔ زیر مطالعہ آیت 11 ۔
Ayah 51:12يَسْـَٔـلُوْنَ اَيَّانَ [ پوچھتے ہیں کب ہے ] يَوْمُ الدِّيْنِ [ بدلے کا دن ]
Ayah 51:13يَوْمَ هُمْ عَلَي النَّارِ [ جس دن وہ لوگ آگ پر ] يُفْتَنُوْنَ [ عذاب دیئے جائیں گے ]
Ayah 51:14ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ ۭ [ تم لوگ چکھو اپنے عذاب کو ] ھٰذَا الَّذِيْ [ یہ وہ ہے ] كُنْتُمْ بِهٖ [ تم لوگ جس کی ] تَسْتَعْجِلُوْنَ [ جلدی مچاتے تھے ]
نوٹ۔ 1: پچھلی سورة (ق) میں ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو قرآن کے اس دعوے کو بعید از امکان قرار دیتے تھے کہ لوگ مرنے کے بعد از سر نو زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے ۔ اس سورة میں ایک قدم اور آگے بڑھ کر قرآن کے عذاب کے وعدے (دھمکی ) کو بھی ثابت کیا گیا ہے اور جزاء وسزا (بدلہ ) کو بھی ۔ استدلال کی بنیاد آفاق وانفس کے دلائل پر ہے۔ (تدبر قرآن )
یہاں جن مظاہر کائنات کی قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ غبار اڑانے والی یعنی تیز وتند و ہوائیں جب چلتی ہیں تو بادلوں کو لے کر چلتی ہیں۔ پھر روئے زمین کے مختلف حصوں میں پھیل کر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جہاں جتنا حکم ہوتا ہے، پانی تقسیم کرتی ہیں ۔ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ عذاب کا وعدہ اور جزاء وسزا یقینی ہے ۔ اس قسم کا مطلب یہ ہے کہ جس نظم اور باقاعدگی کے ساتھ بارش کا یہ نظام تمہاری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے وہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ دنیا کوئی بےمقصد اور بےمعنی گھروندا نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس میں ہر کام کسی مقصد اور کسی مصلحت کے لیے ہورہا ہے ۔ اس نظام میں یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ انسان جیسی باشعور اور تمیز و تصرف کے اختیار والی مخلوق کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے اور اس سے کبھی کوئی باز پرس نہ ہو۔
جزاء وسزا کے تصور میں جس طرح بعث بعد الموت کا تصور از خود شامل ہے ، اسی طرح جزاء وسزا کی دلیل کے طور پر جس نظام کائنات کو بطور گواہ پیش کیا گیا ہے اسی طرح بعث بعد الموت کی دلیل بھی اس نظام میں از خود شامل ہے ۔
سورج کی شعاعیں روئے زمین کے ان تمام ذخائر آب پر اثر انداز ہوتی ہیں جن تک ان کی حرارت پہنچتی ہے ۔ اس عمل سے پانی کے بےحدوحساب قطرے اڑ جاتے ہیں اور اپنے مخزن میں باقی نہیں رہتے ۔ مگر وہ فنا نہیں ہوجاتے بلکہ بھاپ بن کر ایک ایک قطرہ ہوا میں محفوظ رہتا ہے ۔ پھر جب خدا کا حکم ہوتا ہے تو یہی ہوا ان قطروں کی بھاپ کو سمیٹ لاتی ہے، اس کو کثیف بادلوں کی شکل میں جمع کرتی ہے ، ان بادلوں کو لے کر روئے زمین کے مختلف حصوں میں پھیل جاتی ہے اور خدا کی طرف سے جو وقت مقرر ہے ٹھیک اسی وقت ایک ایک قطرے کو اسی شکل میں جس میں وہ پہلے تھا زمین پر واپس پہنچا دیتی ہے۔ یہ منظر جو آئے دن انسان کی آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ مرے ہوئے انسان کے اجزاء جسم اللہ تعالیٰ کے ایک اشارے پر جمع ہوسکتے ہیں اور انسان کو اسی شکل میں پھر اٹھا کر کھڑا کیا جاسکتا ہے جس میں وہ پہلے تھا ۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
نوٹ۔ 2: یہ ہم پڑھ چکے ہیں کہ مفعول کے ساتھ ما کا استعمال اسے غیر معین کرتا ہے ، جیسے مثلا ما کا مطلب ہے کوئی سی بھی مثال ۔ (دیکھیں آیت ۔ 2: 26، نوٹ ۔ 1) اسی طرح تمیز کے ساتھ بھی ما کا استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے قلیلا ما کا مطلب ہے بہت ہی تھوڑا ۔ گذشتہ متعدد آیات میں ہم نے اسی لحاظ سے ترجمہ کیا ہے، جیسے الاعراف کی آیات ۔ 3 اور ۔ 10 ۔ وغیرہ ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 17 میں گنجائش ہے کہ قلیلا من الیل ما میں ما کو قلیلا سے متعلق مانا جائے ۔ ایسی صورت میں آیت کا مطلب ہوجاتا ہے کہ رات میں بہت ہی تھوڑا سا سوتے تھے لیکن یہ مفہوم سورة المزمل سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ وہاں ہدایت ہے کہ رات میں قیام کرو سوائے تھوڑی سی (قلیلا) رات کے۔ اس کے آگے قلیلا کی وضاحت ہے کہ آدھی رات یا اس سے کچھ کم یا اس سے کچھ زیادہ ۔ اردو محاورہ میں اس کو یوں سمجھیں کہ لگ بھگ آدھی رات قیام کے لیے اور لگ بھگ آدھی رات یا اس سے کچھ کم یا اس سے کچھ زیادہ ۔ اردو محاروہ میں اس کو یوں سمجھیں کہ لگ بھگ آدھی رات قیام کے لیے اور لگ بھگ آدھی رات سونے کے لیے پسندیدہ ہے یہ مفہوم قلیلا ما سے نہیں بلکہ قلیلا سے ادا ہوتا ہے ۔ اس لیے اس آیت میں ہم نے ما کو زائدہ ماننے کو ترجیح دی ہے ۔
Ayah 51:15اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ [ یقینا پرہیزگار لوگ ] فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ [ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ]
Ayah 51:16اٰخِذِيْنَ [ لینے والے ہوتے ہوئے ] مَآ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۭ [ اس کو جو دے گا ان کو ان کا رب ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [ بیشک یہ لوگ تھے ] قَبْلَ ذٰلِكَ [ اس سے پہلے ] مُحْسِنِيْنَ [ حسن دینے والے (نیکی کو ) ]
Ayah 51:17كَانُوْا [یہ لوگ ] قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا [ رات میں سے تھوڑا سا ] يَهْجَعُوْنَ [ سویا کرتے تھے ]
ھ ج ع : (ف) ھجوعا ۔ رات کو سونا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 17 ۔
(آیت ۔ 17) اس آیت کی مختلف ترکیبیں کی گئی ہیں ۔ سادہ اور عام فہم ترکیب یہ ہے کہ کانوا یھجعون کو ماضی استمراری مانا جائے ۔ ایسی صورت میں مازائدہ ہوگا اور اس کے کوئی معنی نہیں ہوں گے ۔
Ayah 51:18وَبِالْاَسْحَارِ [ اور صبح کے تڑکوں میں ] هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ [ وہ لوگ مغفرت مانگتے تھے ]
نوٹ۔ 3: آیت نمبر۔ 18 ۔ میں ان کی شب بیداری اور عبادت کی غایت بیان ہوئی ہے کہ ان کا آخری کام یہ ہوتا ہے کہ سحر کیوقت اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اس بات کی توقع نہیں رکھتے کہ اس شب بیداری کے صلہ میں ان کو حضور وشہود کا کوئی بڑامقام حاصل ہوگا ۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام میں عبادت اور ریاضت کا مقصود دوسرے مذاہب سے بالکل مختلف ہے۔ دوسرے مذاہب میں عبادت و ریاضت کا اصل مقصود کشف ، مشاہدہ ، تجلی ذات ، ذات خداوندی میں انضمام اور اس قبیل کی دوسری چیزیں ہیں، جوگی، سنیاسی اور راہب جو ریاضتیں کرتے ہیں ان سے ان کے پیش نظر یہی چیزیں ہوتی ہیں ۔ لیکن اسلام میں ریاضت و عبادت کا اصل مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی کی طلب ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز اگر عبادت کے مقصد کی حیثیت حاصل کرلے تو اسلام میں اس عبادت کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ (تدبر قرآن )
Ayah 51:19وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ [ اور ان کے مالوں میں ] حَقٌّ [ حق ہوتا تھا ] لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ [مانگنے والوں کے لیے اور محروم لوگوں کے لیے ]
Ayah 51:20وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ [ اور زمین میں نشانیاں ہیں ] لِّلْمُوْقِنِيْنَ [ یقین کرنے والوں کے لیے ]
Ayah 51:21وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ [ اور تمہاری جانوں میں بھی ] اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ [ تو کیا تم لوگوں کو سجھائی نہیں دیتا ]
Ayah 51:22وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ [ اور آسمانوں میں تمہارا رزق ] وَمَا [ اور وہ (بھی) ہے جس کا ] تُوْعَدُوْنَ [ تم سے وعدہ کیا جاتا ہے ]
Ayah 51:23فَوَرَبِّ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ [ تو زمین و آسمان کے رب کی قسم ہے ] اِنَّهٗ لَحَقٌّ [ کہ یہ (دین ) لازما حق ہے ] مِّثْلَ مَآ اَنَّكُمْ [ اس کے مانند جیسے کہ تم لوگ ] تَنْطِقُوْنَ [ بولتے ہو ]
Ayah 51:24هَلْ اَتٰىكَ [ کیا پہنچی آپ کے پاس ] حَدِيْثُ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ الْمُكْرَمِيْنَ [ ابراہیم کے عزت دیئے ہوئے مہمانوں کی بات ]
ترکیب : ” ض ی‘ ‘ کی لغت میں ہم بتا چکے ہیں کہ ضیف کا لفظ مذکر ، مؤنث ، واحد جمع سب کے لیے آتا ہے اور اس کی جمع ضیوف بھی آتی ہے ۔ یہاں ضیف جمع کے مفہوم میں آیا ہے، اسی لیے اس کی صفت المکرمین جمع میں آئی ہے آگے افعال دخلوا اور قالوا جمع کے صیغے میں آئے ہیں ۔ قالوا کے آگے سلما کی نصب بتارہی ہے کہ یہ قالوا کا مفعول ہے یعنی بات (Tenselndirect) میں جب کہ آگے ، قال کے بعد سلم حالت رفع میں ہے ۔ یہ بات (Direct Tense) میں ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:58، ترکیب )
Ayah 51:25اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ [ جب وہ داخل ہوئے ان پر ] فَقَالُوْا سَلٰمًا ۭ [ تو انہوں نے کہا سلامتی ہو ] قَالَ سَلٰمٌ ۚ [ انھوں (ابراہیم ) نے کہا سلامتی ہے ] قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ [(تم ) اجنبی لوگ ہو ]
Ayah 51:26فَرَاغَ اِلٰٓى اَهْلِهٖ [ پھر وہ آئے اپنے گھر والوں کی طرف ] فَجَاۗءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنٍ [ تو وہ لائے ایک فربہ بچھڑا (تلا ہوا )
Ayah 51:27فَقَرَّبَهٗٓ [ پھر انہوں نے قریب کیا اس کو ] اِلَيْهِمْ [ ان لوگوں کی طرف ] قَالَ [ انہوں نے کہا ] اَلَا تَاْكُلُوْنَ [ کیا تم لوگ کھاتے نہیں ہو ]
Ayah 51:28فَاَوْجَسَ [تو انہوں نے محسوس کیا ] مِنْهُمْ [ ان لوگوں سے ] خِيْفَةً ۭ [ ایک خوف ] قَالُوْا لَا تَخَـفْ ۭ [ ان لوگوں نے کہا آپ مت ڈریں ] وَبَشَّرُوْهُ [ اور ان لوگوں نے بشارت دی ان کو ] بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ [ ایک علم والے لڑکے کی ]
Ayah 51:29فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ [ تو سامنے آئیں ان کی بیوی ] فِيْ صَرَّةٍ [ اونچی آواز میں (بولتی ہوئی ) ] فَصَكَّتْ وَجْهَهَا [ پھر انہوں نے پیٹا اپنے چہرے کو ] وَقَالَتْ [اور کہا ] عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ [ (کیا جنے گی ) بڑھیا بانجھ ]
ص ک ک : (ن) صکا ۔ اپنا سر پیٹنا ۔ کسی کو تھپڑ مارنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 29 ۔
Ayah 51:30قَالُوْا كَذٰلِكِ ۙ [ ان لوگوں نے کہا اسی طرح ] قَالَ رَبُّكِ ۭ [ کہا آپ کے رب نے ] اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ [ بیشک وہ ہی حکمت والا علم والا ہے ]
نوٹ۔ 1: اس سورة میں اب تک جو دعوے مذکور ہیں، اب (آیات 24 تا 46) ان کے حق میں تاریخی شہادت پیش کی جارہی ہے۔
قرآن کا یہ عام اصول ہے کہ وہ عقلی وانفسی دلائل کے پہلو بہ پہلو تاریخی شواہد بھی پیش کرتا ہے تاکہ مخاطب کے سامنے بات اچھی طرح مبرہن بھی ہوجائے اور اگر دلوں کے اندر اثر پذیری کی کچھ رمق ہو تو ان سے لوگ عبرت بھی حاصل کریں ۔ ان شہادتوں میں تین پہلو ملحوظ ہیں ایک یہ کہ جن قوموں کی ہلاکت بیان ہوئی ہے ان کی تباہی میں بادل اور ہوا کے تصرفات کو خاص دخل رہا ہے ۔ اس پہلو سے یہ واقعات گویا ان قسموں کی تصدیق ہیں جو اس سورة کے شروع میں کھائی گئی ہیں، دوسرا یہ کہ ان میں جزا اور سزا دونوں پہلو نمایاں ہوئے ہیں ، جو فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) قوم کے لیے عذاب لے کر آئے تھے وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اولاد کی بشارت لے کر آئے تھے، تیسرا یہ کہ اللہ کی گرفت بالکل بےپناہ ہے، کوئی قوم کتنی ہی زور آور ہو لیکن اللہ تعالیٰ جب اس کو فنا کرنا چاہتا ہے تو چشم زدن میں فنا کردیتا ہے ۔ (تدبر قرآن)
Ayah 51:31قَالَ [ انھوں (ابراہیم ) نے کہا ] فَمَا خَطْبُكُمْ [ پھر تمہارا کیا مدعا ہے ] اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ [ اے بھیجے ہوئے لوگو ]
Ayah 51:32قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ [ ان لوگوں نے کہا بیشک ہم بھیجے گئے ہیں ] اِلٰى قَوْمٍ مُّجْـرِمِيْنَ [ ایک مجرم قوم کی طرف ]
Ayah 51:33لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ [ تاکہ ہم چھوڑیں ان پر ] حِجَارَةً [ کچھ ایسے پتھر جو ] مِّنْ طِيْنٍ [ گارے سے ہوں ]
Ayah 51:34مُّسَوَّمَةً [ نشان لگے ہوئے ] عِنْدَ رَبِّكَ [ آپ کے رب کے پاس ] لِلْمُسْرِفِيْنَ [ حد سے بڑھنے والوں کے لیے ]
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 34 اور 35 کے درمیان یہ قصہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس یہ فرشتے کس طرح حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں پہنچے اور وہ ان ان کے اور قوم لوط کے درمیان کیا کچھ پیش آیا ۔ یہ تفصیلات سورة ہود، الحجر ، اور العنکبوت میں گزر چکی ہیں، یہاں صرف آخری وقت کا ذکر ہے جب اس قوم پر عذاب نازل ہونے والا تھا ۔ (تفہیم القرآن ) فرشتوں کی بات آیت ۔ 34 پر ختم ہوگئی ہے۔ اب آگے کی سرگزشت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ ان کے بعد اس نے انکے ساتھ کیا معاملہ کیا ۔ (تدبر قرآن ) ۔ آیت ۔ 37 ۔ میں نشانی سے مراد بحیرہ مردار ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی ایک عظیم الشان تباہی کے آثار پیش کررہا ہے ۔ (تفہیم القرآن )
نوٹ ۔ 1: آیت 34 میں ہے کہ ایک وقت تک مزے کرلو ۔ اس بارے میں دو رائے ہیں کہ اس سے کون سی مہلت مراد ہے ۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ سورة ہود کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے کہ جب ثمود کے لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کردیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خبردار کردیا گیا کہ تین دن تک مزے کرلو ، اس کے بعد تم پر عذاب آئے گا ۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ بات حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کے آغاز میں اپنی قوم سے فرمائی تھی کہ تم اگر توبہ وایمان کی راہ اختیار نہ کرو گے تو ایک خاص وقت تک ہی عیش کرنے کہ مہلت نصیب ہوسکے گی ۔ اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا ۔ دوسری رائے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ کیونکہ آگے کی آیت میں ہے کہ انھون نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی ، یہ بات بتاتی ہے کہ جس مہلت کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے وہ سرتابی سے پہلے دی گئی تھی اور انہوں نے سرتابی اس تنیبہ کے بعد کی ۔ اس کے برعکس سورة ہود والی آیت میں جس مہلت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ان کی طرف سے آخری اور فیصلہ کن سرتابی کا ارتکاب ہوجانے کے بعد دی گئی تھی ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 51:35فَاَخْرَجْنَا [ پھر ہم نے نکالا ] مَنْ كَانَ فِيْهَا [ اس کو جو تھا اس (بستی ) میں ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں میں سے ]
Ayah 51:36فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا [ توہم نے نہیں پایا اس میں ] غَيْرَ بَيْتٍ [ سوائے ایک گھر کے ] مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ]
Ayah 51:37وَتَرَكْنَا فِيْهَآ اٰيَةً [ اور ہم نے چھوڑی اس میں ایک نشانی ] لِّلَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ [ ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں ] الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ [ دردناک عذاب سے ]
Ayah 51:38وَفِيْ مُوْسٰٓى [ اور (ہم نے چھوڑی ایک نشانی ) موسیٰ میں ] اِذْ اَرْسَلْنٰهُ [ جب ہم نے بھیجا ان کو ] اِلٰى فِرْعَوْنَ [ فرعون کی طرف ] بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ [ ایک واضح دلیل کے ساتھ ]
Ayah 51:39فَتَوَلّٰى [ تو اس (فرعون ) نے منہ موڑا ] بِرُكْنِهٖ [ اپنے سہاروں (لشکر) کے ساتھ ] وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ [ اور اس نے کہا ( یہ ) جادوگر ہے یا مجنون ہے ]
Ayah 51:40فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ [ پھر ہم نے پکڑا اس کو اور اس کے لشکروں کو ] فَنَبَذْنٰهُمْ [ تو ہم نے پھینک دیا ان سب کو ] فِي الْيَمِّ [ پانی میں ] وَهُوَ مُلِيْمٌ [ اس حال میں کہ وہ خود کو ملامت کرنے والا تھا ]