Ayah 51:41وَفِيْ عَادٍ [ اور (ایک نشانی ) عاد میں ] اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ [ جب ہم نے بھیجا ان پر ] الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ [ بےبرکت سخت ہوا (آندھی ) کو ]
Ayah 51:42مَا تَذَرُ [ وہ نہیں چھوڑتی ] مِنْ شَيْءٍ [ کسی بھی چیز کو ] اَتَتْ عَلَيْهِ [ وہ پہنچی جس پر ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] جَعَلَتْهُ [ وہ کردیتی اس کو ] كَالرَّمِيْمِ [ بوسیدہ چیز کی طرح ]
Ayah 51:43وَفِيْ ثَمُوْدَ [اور (ایک نشانی ) ثمود میں ] اِذْ قِيْلَ لَهُمْ [ جب کہا گیا ان لوگوں سے ] تَمَتَّعُوْا [ تم لوگ فائدہ اٹھا لو ] حَتّٰى حِيْنٍ [ ایک وقت تک ]
Ayah 51:44فَعَتَوْا [ پھر انہوں نے سرتابی کی ] عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی حکم سے ] فَاَخَذَتْهُمُ [ پھر پکڑا ان کو ] الصّٰعِقَةُ [ آسمانی بجلی نے ] وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ [اس حال میں کہ وہ دیکھتے تھے ]
Ayah 51:45فَمَا اسْتَطَاعُوْا [ تو وہ لوگ قدرت نہیں رکھتے تھے ] مِنْ قِيَامٍ [ کسی طرح کھڑے ہونے کی ] وَّمَا كَانُوْا [ اور وہ لوگ نہیں تھے ] مُنْتَصِرِيْنَ [ بدلہ لینے والے ]
Ayah 51:46وَقَوْمَ نُوْحٍ [ اور (ہم نے ہلاک کیا ) نوح کی قوم کو ] مِّنْ قَبْلُ ۭ [ اس سے پہلے ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [ یقینا وہ تھے ] قَوْمًا فٰسِقِيْنَ [ایک نافرمانی کرنے والی قوم ]
Ayah 51:47وَالسَّمَاۗءَ [ اور (بغور دیکھ) آسمان کو ] بَنَيْنٰهَا [ ہم نے بنایا اس کو ] بِاَيْىدٍ [ قوت سے ] وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ [اور بیشک ہم یقینا کشادہ کرنے والے ہیں ]
ترکیب : (آیت ۔ 47) ۔ والسماء حالت نصب میں ہے ۔ اس کو مفعول مقدم ماننے کی گنجائش نہیں ہے ، کیونکہ فعل بنینا کے ساتھ ضمیر مفعولی ھا لگی ہوئی ہے ۔ اس لیے اس سے پہلے کسی فعل کو محذوف ماننا بہتر ہے۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ تنظر (بتکلف غور سے دیکھ ) کو محذوف مانا جائے ید (ہاتھ) کی جمع بھی اید آتی ہے۔ (دیکھیں آیت ۔ 2:66، مادہ ” ی دی “ ) جبکہ اید (مضبوطی ، قوت ) بھی حالت جر میں اید ہوجاتا ہے ۔ (دیکھیں آیت ۔ 2 : 87، مادہ ” ء دی “ ) اس فرق کو ظاہر کرنے ظاہر کرنے کے لیے یہاں اس کو دودندانوں سے لکھا جاتا ہے یعنی اید کے بجائے اید لکھتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ ید کی جمع نہیں ہے بلکہ اید حالت جز میں ہے (آیت ۔ 59) یہاں ذنوب نہیں بلکہ ذنوب آیا ہے جو مبالغہ کے وزن فعول پر ہے ۔ (دیکھیں آیت 3:11، مادہ ” ذن ب “ ) فلایستعجلون میں نون کی کسرہ بتارہی ہے کہ یہ نون وقایہ ہے اور لا یستعجلوا فعل نہی ہے۔
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 47 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اس عظیم کائنات کو ہم بس ایک بار بنا کر نہیں رہ گئے ہیں بلکہ ہم اس میں مسلسل توسیع کر رہے ہیں ۔ اور ہر آن میں ہماری تخلیق کے نئے نئے کرشمے رونما ہورہے ہیں ۔ ایسی زبر دست خلاق ہستی کو آخرتم اعادہ خلق سے عاجز کیوں سمجھے ہو ۔ (تفہیم القرآن ) آج کل کے سائنس دان (expandind universe) کی بات کررہے ہیں اس آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ (حافظ احمد یار صاحب )
Ayah 51:48وَالْاَرْضَ [ اور (بغور دیکھ ) زمین کو ] فَرَشْنٰهَا [ ہم نے بچھایا اس کو ] فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ [ توہم کیا ہی اچھا بچھانے والے ہیں ]
Ayah 51:49وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ [ اور ہر چیز میں سے ] خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ [ ہم نے پیدا کیے جوڑے جوڑے ] لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ [شاید تم لوگ یاددہانی حاصل کرو ]
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 49 ۔ آخرت کی بدیہی دلیل ہے ۔ تذکرون کے الفاظ سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز کا جوڑے جوڑے ہونا اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جب اس دنیا کی ہر چیز جوڑا جوڑا ہے اور ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی غایب کو پہنچتی ہے تو ضروری ہے کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہو ، تاکہ اس میں جو خلا نظر آتا ہے وہ اس جوڑے کے ساتھ مل کر بھر جائے ، یہ جوڑا آخرت ہے ۔ آخرت کو مان لینے کے بعد یہ دنیا ایک بامقصد اور باحکمت چیز بن جاتی ہے اور آخرت کو نہ مانیئے تو ایک بالکل باطل اور عبث چیز ہوکر رہ جاتی ہے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 51:50فَفِرُّوْٓا [تو تم لوگ لپکو ] اِلَى اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی طرف ] اِنِّىْ لَكُمْ [ بیشک میں تمہارے لیے ] مِّنْهُ [ اس (کی طرف) سے ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ]
Ayah 51:51وَلَا تَجْعَلُوْا [ اور تم لوگ مت بناؤ ] مَعَ اللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] اِلٰــهًا اٰخَرَ ۭ [ دوسرا الہ ] اِنِّىْ لَكُمْ [ بیشک میں تمہارے لیے ] مِّنْهُ [ اس (کی طرف) سے ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ]
Ayah 51:52كَذٰلِكَ [اسی طرح ] مَآ اَتَى الَّذِيْنَ [ نہیں پہنچا ان کے پاس جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان لوگوں سے پہلے تھے ] مِّنْ رَّسُوْلٍ [ کوئی بھی رسول ] اِلَّا قَالُوْا [مگر (یہ کہ) ان لوگوں نے کہا ] سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ [جادوگر ہے یا مجنون ہے ]
Ayah 51:53اَتَوَاصَوْا [ کیا وہ ایک دوسرے کو وصیت کرگئے ] بِهٖ ۚ [ اس کی ] بَلْ هُمْ [ بلکہ وہ لوگ ] قَوْمٌ طَاغُوْنَ [ ایک سرکشی کرنے والی قوم تھے ]
Ayah 51:54فَتَوَلَّ [پھر آپ بےرخی برتیں ] عَنْهُمْ [ ان لوگوں سے ] فَمَآ اَنْتَ [ تو آپ نہیں ہوں گے ] بِمَلُوْمٍ [ ملامت کیے ہوئے ]
نوٹ ۔ 3 آیت ۔ 54 ۔ میں دین کی تبلیغ کا ایک قاعدہ بیان کی گیا ہے ۔ اس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ۔ ایک داعی جب کسی شخص کے سامنے معقول دلائل کے ساتھ اپنی دعوت صاف صاف پیش کردے اور اس کے شبہات ، اعتراضات اور دلائل کا جواب بھی دے دے تو حق واضح کرنے کا جو فرض اس کے ذمہ تھا اس سے وہ سبکدوش ہوجاتا ہے ۔ وہ شخص نہیں مانتا تو نہ مانے ۔ اب اس کی طرف التفات نہ کرنے پر داعی کو یہ الزام نہیں دیا جاسکتا کہ تم نے ایک شخص کو گمراہی میں مبتلا رہنے دیا ، کیونکہ اب اپنی گمراہی کا وہ شخص خود ذمہ دار ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ ایک داعی جب سمجھانے کا حق ادا کرچکتا ہے اور ان کے اندر جھگڑالو پن کے آثار دیکھ کر ان سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے تو وہ اس کے پیچھے پڑجاتے ہیں اور اس پر الزام رکھتے ہیں کہ ہم آپ سے بات سمجھنے کے لیے بحث کرنا چاہتا ہیں اور آپ ہماری طرف التفات نہیں کرتے ۔ حالانکہ ان کا مقصد بات کو سمجھنا نہیں بلکہ داعی کو بحث میں الجھا کر اس کا وقت ضائع کرنا ہوتا ہے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ ایسے لوگوں کی طرف التفات نہ کرو اور ان سے بےالتفاتی کرنے پر تمہیں کوئی ملامت نہیں کی جاسکتی ۔
Ayah 51:55وَّذَكِّرْ [اور آپ نصیحت کرتے رہیں ] فَاِنَّ الذِّكْرٰى [ تو بیشک نصیحت ] تَنْفَعُ [نفع دیتی ہے ] الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کو ]
آگے آیت ۔ 55 میں تبلیغ دین کا دوسرا قاعدہ بیان کیا گیا ہے ، دعوت حق کا اصل مقصد ان سعید روحوں تک ایمان کی نعمت پہنچانا ہے جو اس نعمت کی قدر شناس ہوں اور اسے خود حاصل کرنا چاہیں ۔ مگر داعی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ معاشرے کے ہزاروں لاکھوں افراد میں وہ سعید روحیں کہاں ہیں ۔ اس لیے اس کا کام یہ ہے کہ اپنی دعوت کا سلسلہ جاری رکھے تاکہ جہاں جہاں ایمان قبول کرنے والے افراد موجود ہوں وہاں اس کی آواز پہنچ جائے انہی کی تلاش اس کا اصل کام ہے اس تلاش میں معاشرے کا فضول عنصر بھی اس کو ملے گا ، اس کی طرف بس اسی وقت تک داعی کو توجہ کرنی چاہیے جب تک اسے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے ۔ یعنی ان کے اندر حق کی تلاش کا جذبہ مفقود ہے، پھر داعی کو اپنا وقت اس جنس کے لوگوں پر ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اس کی تذکیر سے نفع اٹھانے والے لوگ نہیں ہیں ، ایسے لوگوں پر وقت صرف کرنے سے نقصان ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اس سے نفع اٹھانے والے ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 51:56وَمَا خَلَقْتُ [ اور میں نے نہیں پیدا کیا ] الْجِنَّ وَالْاِنْسَ [ جنوں کو اور انسانوں کو ] اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ [ سوائے اس کے کہ وہ بندگی کریں میری ]
نوٹ۔ 4: آیت ۔ 56 ۔ کی مراد یہ ہے کہ ہم نے ان کی تخلیق اس انداز پر کی ہے کہ ان میں عبادت کرنے کی استعداد اور صلاحیت ہو ۔ چناچہ ہر جن وانس کی فطرت میں یہ استعداد قدرتی طور پر موجود ہے ۔ پھر کوئی اس استعداد کو صحیح مصرف میں خرچ کرکے کامیاب ہوتا ہے اور کوئی اس استعداد کو اپنی خواہشات میں ضائع کردیتا ہے ۔ اس کی مثال وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنادیتے ہیں یا مجوسی ۔ (معارف القرآن )
اس آیت میں عبادت کا لفظ محض نماز روزے اور اس نوعیت کی دوسری عبادات کے معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اس کا مطلب یہ لے لیے کہ جن اور انسان صرف نماز پڑھنے ، روزے رکھنے اور تسبیح وتہلیل کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ۔ اگرچہ یہ مفہوم بھی اس میں شامل ہے مگر یہ اس کا پورا مفہوم نہیں ہے۔ اس کا پورا مفہوم یہ ہے کہ جن اور انسان اللہ کے سوا کسی اور کی پرستش اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ہیں ۔ ان کا کام کسی اور کے بنائے ہوئے دین (نظام حیات ) کی پیروی کرنا ، کسی اور کو اپنی قسمتوں کو بگاڑنے اور بنانے والا سمجھنا اور کسی دوسری ہستی کے آگے دعا کے لیے یہ ہاتھ پھیلانا نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن )
ایک اطاعت وہ بھی ہے جو بدرجہ مجبوری اور بےدلی سے کی جاتی ہے ۔ یہ غلامی ہے، بندگی نہیں ہے ، جب کسی ہستی کے احسانات اور اس کی جودوسخا کے احساس سے انسان کے اندر سے ایک جذبہ شکر پھوٹ بہتا ہے ، پھر انسان اس جذبہ میں ڈوب کر اور ہر طرف سے ٹوٹ کر اس ہستی سے محبت کرتا ہے اور اسی جذبے سے پوری دلی آمادگی کے ساتھ دل وجان سے اس کی اطاعت کرتا ہے تو یہ بندگی ہے، یہ عبادت ہے ، عبادت کی یہ استعداد انسان کی فطرت میں lnbuilt ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فطری بیٹری کو چارج کیا جائے اور پھر چارج رکھا جائے ۔ جس طرح سیل فون کو ہم وفقہ وقفہ سے چارجر پر لگاتے رہتے ہیں ۔ نماز ، روزہ ، تسبیح وتہلیل وغیرہ اس بیٹری کے چار جر ہیں ۔
Ayah 51:57مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ [ میں نہیں چاہتا ان سے ] مِّنْ رِّزْقٍ [ کوئی بھی رزق ] وَّمَآ اُرِيْدُ [ اور میں نہیں چاہتا ] اَنْ يُّطْعِمُوْنِ [کہ وہ کھلائیں مجھ کو ]
Ayah 51:58اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] هُوَ الرَّزَّاقُ [ ہی مسلسل رزق دینے والا ہے ] ذُو الْقُوَّةِ [ قوت والا ہے ] الْمَتِيْنُ [ مضبوط ہے ]
Ayah 51:59فَاِنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا [ تو بیشک ان کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ] ذَنُوْبًا [ ایک بھیانک انجام ہے ] مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ [ ان کے ساتھیوں کے بیانک انجام کی مانند ] فَلَا يَسْتَعْجِلُوْنِ [ پس چاہیے کہ یہ لوگ جلدی نہ مانگیں مجھ سے ]
Ayah 51:60فَوَيْلٌ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ تو تباہی ہے ان کے لیے جنھوں نے انکار کیا ] مِنْ يَّوْمِهِمُ الَّذِيْ [ ان کے اس دن سے جس کا ] يُوْعَدُوْنَ [ ان کو وعدہ دیا جاتا ہے ]