Ayah 50:1قۗ ڗوَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ [ اس عظیم الشان قرآن کی قسم ہے (تم لوگ لازما اٹھائے جاؤگے ) ]
م ج د : (ک) مجادۃ ۔ بزرگی اور عظمت والا ہونا ۔ بڑی شان والا ہونا ۔ مجید ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ بزرگ ، شان والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 1
ترکیب : (آیات ۔ 1 تا 3) قسم کے جواب میں عموما ایک جواب قسم آتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں خدا کی قسم یہ بات یوں ہے یا یہ بات یوں نہیں ہے ۔ یہاں وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ قسم ہے اور اس کا جواب قسم محذوف ہے۔ آگے کی آیات کے پیش نظر حافظ احمد یار صاحب مرحوم نے یہاں لتبعثن (تم لوگ لازما دوبارہ اٹھائے جاؤگے ) کو محذوف مانا ہے۔ ھٰذَا شَيْءٌ عَجِيْبٌ میں ھذا کا اشارہ اسی محذوف جواب قسم کی طرف ہے ۔ ءَاِذَا شرطیہ ہے ۔ مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا شرط ہے۔ اس کا جواب شرط محذوف ہے جو لنبعثن ہے ۔ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ میں ذلک کا اشارہ اسی محذوف جواب شرط کی طرف ہے ۔
Ayah 50:2بَلْ عَجِبُوْٓا [بلکہ ان لوگوں نے حیرت کی ] اَنْ جَاۗءَهُمْ [ کہ آیا ان کے پاس ] مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ [ ایک خبردار کرنے والا ان میں سے ] فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ [ پھر کہا انکار کرنے والوں نے ] ھٰذَا [ یہ (اٹھایا جانا ) ] شَيْءٌ عَجِيْبٌ [ عجیب ہی چیز ہے ]
Ayah 50:3ءَاِذَا مِتْنَا [ کیا جب ہم مردہ ہوجائیں گے ] وَكُنَّا تُرَابًا ۚ [ اور ہم ہوجائیں گے مٹی (تب اٹھائے جائیں گے ) ] ذٰلِكَ [ یہ (اٹھایا جانا) ] رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ [ بہت دور والا لوٹنا ہے ]
Ayah 50:4قَدْ عَلِمْنَا [ ہم جان چکے ہیں ] مَا تَنْقُصُ [ اس کو جو گھٹاتی ہے ] الْاَرْضُ مِنْهُمْ ۚ [ زمین ان (کی لاش ) میں سے ] وَعِنْدَنَا [ اور ہمارے پاس ] كِتٰبٌ حَفِيْظٌ [ محفوظ کرنے والی کتاب ہے ]
وَعِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِيْظٌ کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی علم کے سوا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے ایک دفتر بھی قائم کر رکھا ہے جس میں یہ بھی درج ہے کہ کون شخص زمین کی کس پہنائی میں دفن ہے اور اس کے جسم کے اجزاء کہاں کہاں ہیں اور ہر شخص کے تمام اقوال و افعال بھی اس میں درض ہیں، یہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کا معاملہ جاہلیت کے عربوں کے لیے تو اچنبھے کا ہوسکتا تھا لیکن اس زمانے میں سائنس نے جو انکشافات کیے ہیں ان کو جاننے کے بعد ، اگر کوئی شخص قرآن کے اس دعوے میں شک کرے تو ایسے ہٹ دھرموں کو کوئی بڑی سے بڑی دلیل بھی قائل نہیں کرسکتی ۔ یہ لوگ اس وقت مانیں گے جب ان کے ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے پکڑا دیئے جائیں گے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 50:5بَلْ كَذَّبُوْا [ بلکہ انہوں نے جھٹلایا ] بِالْحَقِّ [ حق کو ] لَمَّا جَاۗءَهُمْ [ جب وہ آیا ان کے پاس ] فَهُمْ [ نتیجۃ وہ لوگ ] فِيْٓ اَمْرٍ مَّرِيْجٍ [ ایک الجھے ہوئے معاملہ میں ہیں ]
Ayah 50:6اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا [ تو کیا انہوں نے دیکھا ہی نہیں ] اِلَى السَّمَاۗءِ فَوْقَهُمْ [ آسمان کی طرف اپنے اوپر ] كَيْفَ بَنَيْنٰهَا [ کیسا ہم نے بنایا اس کو ] وَزَيَّنّٰهَا [ اور سجایا اس کو ] وَمَا لَهَا [ اور نہیں ہیں اس میں ] مِنْ فُرُوْجٍ [ کوئی بھی دراڑیں ]
Ayah 50:7وَالْاَرْضَ [ اور (کیا دیکھتے نہیں ) زمین کو ] مَدَدْنٰهَا [ کیسا ) ہم نے پھیلایا اس کو ] وَاَلْقَيْنَا [ اور ہم نے ڈالے ] فِيْهَا رَوَاسِيَ [ اس میں کچھ پہاڑ ] وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا [ اور ہم نے اگائے اس میں ] مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ [ ہر شاداب جوڑے میں سے ]
(آیات ۔ 7 تا 11) وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا میں مددنا کی ضمیر مفعولی ھا آگئی ہے اس لیے الارض کو اس کا مفعول مقدم ماننے کی گنجائش ختم ہوگئی ۔ اب اس کو کسی فعل محذوف کا مفعول مانا جائے گا جو لم یروا ہوسکتا ہے ۔ اس طرح پورا جملہ یوں ہے۔ اولم یروا الارض کیف مددنھا ۔ ذکری یہاں محلا حالت نصب میں ہے۔ تبصرۃ اور ذکری دونوں کو حال بھی مانا جاسکتا ہے اور انبتنا کا مفعول لہ بھی جنت ۔ حب اور النخل یہ سب فانبتنا کے مفعول ہیں جبکہ رزقا حال ہے۔ احیینا بہ میں ہ کی ضمیر ماء مبرکا کے لیے ہے۔
Ayah 50:8تَبْصِرَةً [ سمجھا نے (دکھا کر سمجھانے ) کے لیے ] وَّذِكْرٰى [اور یاد دہانی کے لیے ] لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ [ ہر متوجہ رہنے والے بندے کے لیے ]
Ayah 50:9وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ [ اور ہم نے اتارا آسمان سے ] مَاۗءً مُّبٰرَكًا [ کچھ برکت دیا ہوا پانی ] فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ [ پھر ہم نے اگائے ان سے ] جَنّٰتٍ [ کچھ باغات ] وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ [ اور کاٹے ہوئے (اناج ) کے دانے ]
Ayah 50:10وَالنَّخْلَ [ اور کھجوریں ] بٰسِقٰتٍ [ لمے تنے والیاں ] لَّهَا طَلْعٌ [ ان کے لیے کونپل ہے ] نَّضِيْدٌ [ تہہ بہ تہہ ]
ب س ق : (ن) بسوقا ۔ درخت کا لمبے تنے کا ہونا ۔ باسق ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ لمبے تنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 10 ۔
Ayah 50:11رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ ۙ [ رزق ہوتے ہوئے بندوں کے لیے ] وَاَحْيَيْنَا بِهٖ [ اور ہم نے زندہ کیا اس (پانی ) سے ] بَلْدَةً مَّيْتًا ۭ [ ایک مردہ بستی کو ] كَذٰلِكَ [اسی طرح ] الْخُرُوْجُ [ (قبروں سے ) نکلنا ہے ]
نوٹ ۔ 1: کسی معتبر روایات سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ سورة کس زمانے میں نازل ہوئی تھی ، مگر مضامین پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانہ نزول مکہ معظمہ کا دوسرا دور ہے ۔ جو نبوت کے تیسرے سال سے شروع ہوکر پانچویں سال تک رہا جب کفار کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کرچکی تھی مگر ابھی ظلم وستم کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔ پوری سورة کا موضوع آخرت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب اپنی دعوت کا اغاز کیا تو لوگوں کو سب سے زیادہ تعجب اس بات پر ہوا کہ مرنے کے بعد انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا ۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ تو بالکل انہونی بات ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہمارا ذرہ ذرہ زمین میں منتشر ہوچکا ہو تو ان پراگندہ اجزاء کو ہزار ہا برس کے بعد پھر سے اکٹھا کرکے ہمارا یہی جسم از سر نوبنا دیا جائے ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تقرار نازل ہوئی ۔ (تفہیم القرآن )
مردوں کے زندہ ہونے کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسانی جسم کے اجزاء مٹنی ہوجاتے ہیں پھر پانی اور ہوا اس کے ذرات کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں ۔ قیامت میں دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ساری دنیا میں بکھرے ہوئے اجزاء کو معلوم رکھنا کہ یہ جز فلاں کا ہے یہ فلاں کا ہے اور پھر ہر ایک کے اجزاء کو الگ الگ جمع کردیناکس کے بس کی بات ہے ۔ قرآن مجید نے اس کا جواب دیا کہ اللہ جانتا ہے کہ مردے کے کس کس حصے کو زمین نے کھالیا ہے ۔ پھر وہ مٹی دنیا جہاں کے جس جس گوشے میں پہنچتی ہے وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہے ۔ وہ جب چاہے گا سب کس یک جگہ جمع کردے گا ۔ ذرا غور کرو کہ اس وقت ہر انسان کا جسم جن اجزاء سے مرکب چلتا پھرتا نظر آتا ہے ، اس میں بھی تو ساری دنیا کے مختلف گوشوں کے اجزاء جمع ہیں ۔ کوئی غذا کی صورت میں کوئی دوا کی صورت میں سارے عالم کے مختلف شہروں اور جنگلوں کے اجزاء ہی تو ہیں جن سے یہ موجودہ جسم مرکب ہوا ہے ۔ اس کے لیے کیا دشوار ہے کہ ان اجزاء کو دنیا میں پھر منتشر کرنے کے بعد ایک جگہ پھر جمع کردے ۔ ماتنقص الارض کی یہ تفسیر حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد ؓ سے منقول ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 50:12كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ [ جھٹلایا لوگوں سے پہلے ] قَوْمُ نُوْحٍ [ نوح کی قوم نے ] وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ [ اور کنویں والوں نے ] وَثَمُوْدُ [اور ثمود نے ]
نوٹ ۔ 1: پورے قرآن مجید میں اصحاب الرس کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے ۔ ایک اس سے پہلے سورة فرقان کی آیت ۔ 38 میں اور دوسرے اب زیر مطالعہ آیت ۔ 12 میں ۔ مگر دونوں جگہ انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کے سلسلے میں صرف ان کا نام ہی لیا گیا ہے ان کے متعلق کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی اور نہ کوئی قابل اعتماد تفصیل کسی روایت میں ملتی ہے ۔ قرآن مجید میں جس طرح ان کی طرف محض ایک اشارہ کرکے چھوڑ دیا گیا ہے اس سے خیال ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے زمانے میں اہل عرب بالعموم اس قوم اور اس کے قصے (کرتوتوں ) سے واقف تھے لیکن بعد میں ان کے متعلق روایات تاریخ میں محفوظ نہ رہ سکیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 50:13وَعَادٌ وَّفِرْعَوْنُ [ اور عاد نے اور فرعون نے ] وَاِخْوَانُ لُوْطٍ [ اور لوط کے بھائیوں (قوم ) نے ]
نوٹ ۔ 12 تا 14 میں آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے ، ان آیات میں عرب اور اس کے گردوپیش کی قوموں کے انجام کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ آخرت کا جو عقیدہ تمام انبیاء پیش کرتے رہے ہیں وہی حقیقت کے عین مطابق ہے کیونکہ اس کا انکار جس قوم نے بھی کیا وہ اپنی تمام تر مادی ترقی کے باوجود شدید اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہوکر رہی اور آخر کار خدا کے عذاب نے اس کے وجود سے دنیا کو پاک کیا ۔ کسی کام سے اگر پے در پے غلط نتائج برآمد ہوتے چلے جائیں تو یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ وہ کام حقیقت سے متصادم ہورہا ہے۔ آیت ۔ 15 میں آخرت کے حق میں علقی استدلال ہے جو شخص خدا کا منکر نہ ہو اور حماقت کی اس حد تک نہ پہنچ گیا ہو کہ اس عظیم کائنات اور اس کے اندر انسان کی پیدائش کو محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دینے لگے ، اس کے لیے یہ مانے بغیر چارہ نہیں ہے کہ خدا ہی نے اس پوری کائنات کو اور ہمیں پیدا کیا ہے ، اس کے بعد اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ قیامت برپا کرنے کے بعد وہی خدا ایک دوسرا نظام عالم نہ بنا سکے گا اور موت کے بعد ہمیں پیدا نہ کرسکے گا ، تو یہ محض ایک خلاف عقل بات کہتا ہے ۔ اس بات کی کوئی معقول بنیاد نہیں ہے کہ اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کو توڑ کر دوبارہ بنا دینے سے وہ عاجز ہوجائے گا۔ (تفہیم القرآن )
نوٹ۔ 2، قیامت کے باب میں نادانوں کو جہاں یہ شبہہ لاحق ہوتا ہے کہ انسان مر کر زمین میں رل مل جانے کے بعد اس کے تمام اجزاء جسم کو فراہم کرنا اور اس کو از نو زندہ کرکے کھڑا کردینا کس کے بس میں ہے، وہیں بہتوں کو یہ شبہ بھی لاحق ہوتا ہے کہ ایک ایک شخص کے خلوت وجلوت کے تمام اقوال و افعال کا ریکارڈ کون رکھ سکتا ہے ۔ یہ دونوں شبہات کو بالکل توام (جڑواں) ہیں اس وجہ سے اوپر آیت ۔ 4، میں ان دونوں کا جواب اجمالی طور پر دیا ہے پھر تفصیل کے ساتھ پہلے شبہ کی تردید فرمائی ہے ۔ اور اب آیات ۔ 16، 18 ۔ میں دوسرے شبہ کا جواب دیا ہے ۔ فرمایا کہ انسان کو ہم نے پیدا کیا ہے اور اس کے اقوال و افعال تو درکنار ، اس کے دل میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو بھی ہم جانتے ہیں پھر فرمایا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اگر وہ ہم کو دیکھ نہیں رہا ہے تو ہم اس سے دور ہیں ۔ ہم ہر شخص کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں، یعنی ہمارا علم اور ہماری قدرت پر شخص کا ہر پہلو سے احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کا ظاہر و باطن ہر لمحہ ہماری نگاہوں میں ہے ۔ پھر اپنے ذاتی علم کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اقوال و افعال کو ریکارڈ کرنے کے لیے یہ اہتمام کیا ہے کہ ہر شخص پر دو ۔ دو فرشتے مامور کر رکھے ہیں (تدبر قرآن)
اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی عدالت میں کسی شخص کو محض اپنے ذاتی علم کی بنا پر سزا نہ دے گا بلکہ عدل کی تمام شرائط پوری کرکے اس کو سزا دے گا ۔ اس لیے دنیا میں ہر شخص کے اقوال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار کرایا جارہا ہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 50:14وَّ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ [ اور گھنے درخت والوں نے ] وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۭ [ اور تبع کی قوم نے ] كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ [ سب نے جھٹلایا رسولوں کو ] فَحَقَّ [ تو سچ ہوئی ] وَعِيْدِ [میری دھمکی ]
Ayah 50:15اَفَعَيِيْنَا [ تو کیا ہم تھک گئے ] بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ ۭ [ پہلی بار پیدا کرنے سے ] بَلْ هُمْ فِيْ لَبْسٍ [ بلکہ یہ لوگ ایک شبہ میں ہیں ] مِّنْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ [ نئے (دوبارہ ) پیدا کرنے سے ]
Ayah 50:16وَلَقَدْ خَلَقْنَا [ اور یقینا ہم نے (ہی ) پیدا کیا ہے ] الْاِنْسَانَ [ انسان کو ] وَنَعْلَمُ [ اور ہم جانتے ہیں ] مَا [ اس (تک ) کو جو ] تُوَسْوِسُ [ وسوسہ ڈالتا ہے ] بِهٖ [ اس (کے ذھن ) میں ] نَفْسُهٗ ښ [ اس کا نفس ] وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ [ اور ہم زیادہ قریب ہیں اس کے ] مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ [ بہ نسبت (اس کی ) شہ رگ کے ]
Ayah 50:17اِذْ يَتَلَقَّى [ جب لے لیتے ہیں ] الْمُتَلَقِّيٰنِ [ دو لینے والے ] عَنِ الْيَمِيْنِ [ دائیں طرف سے ] وَعَنِ الشِّمَالِ [ اور بائیں طرف سے ] قَعِيْدٌ [ (وہ دونوں) ہمیشہ نگران ہیں ]
ترکیب (آیت ۔ 17) یتلقی مادہ ” ل ق ی “ سے باب تفعل کا مضارع ہے اور اس سے پہلے اذ آیا ہے اس لیے قاعدے کے لحاظ سے اس کا ترجمہ ماضی میں ہونا چاہیے تھا (دیکھیں آیت 2:11، نوٹ ۔ 1) لیکن یہاں پر آفاقی صداقت کا بیان ہورہا ہے ۔ اس لیے اس کا ترجمہ حال میں کیا جائے گا ۔ قعید کی رفع بتارہی ہے کہ یہ حال نہیں ہوسکتا بلکہ یہ خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھما محذوف ہے۔ ھما کی ضمیر الم تلقین کے لیے ہے اور چونکہ قعید مذکر مؤنث ، واحد جمع ، سب کے لیے قعید ہی آتا ہے (دیکھیں آیت ۔ 2:127) ، کی لغت میں مادہ ” ق ع د “ اس لیے قعیدان لانے کی ضرورت نہیں ۔
Ayah 50:18مَا يَلْفِظُ [ وہ (انسان ) منہ سے نہیں نکالتا ] مِنْ قَوْلٍ [ کوئی بھی بات ] اِلَّا لَـدَيْهِ [ مگر (یہ کہ ) اس کے پاس ] رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ [ ایک چوکس نگران ہوتا ہے ]
لظ : (ض) لفظ منہ سے پھینکنا ، منہ سے بامعنی آواز نکالنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18 ۔
Ayah 50:19وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ [اور آئی موت کی مدہوشی ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق کے ساتھ ] ذٰلِكَ مَا [ یہ وہ ہے ] كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ [ تو جس سے کنی کتراتا تھا ]
ح ی د : (ض) حیدا کسی چیز سے ہٹنا ۔ پہلو تہی کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 19 ۔
Ayah 50:20وَنُفِخَ [ اور پھونکا جائے گا ] فِي الصُّوْرِ ۭ [ صور میں ] ذٰلِكَ [ (پھر کہا جائے گا ) یہ ہے ] يَوْمُ الْوَعِيْدِ [ وعدہ (عذاب ) کا دن ]
Ayah 50:21وَجَاۗءَتْ كُلُّ نَفْسٍ [ اور آئے گی ہر جان ] مَّعَهَا [ اس کے ساتھ ] سَاۗىِٕقٌ [ ایک ہانکنے والا ] وَّشَهِيْدٌ [ اور ایک گواہ ہوگا ]
Ayah 50:22لَقَدْ كُنْتَ [ یقینا تو رہ چکا ہے ] فِيْ غَفْلَةٍ [ غفلت میں ] مِّنْ ھٰذَا [ اس (دن) سے ] فَكَشَفْنَا [ تو ہم نے کھول دیا ] عَنْكَ غِطَاۗءَكَ [تجھ سے تیرا پردہ ] فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ [ نتیجۃ تیری بصارت آج کے دن ] حَدِيْدٌ [ تیز (Sharp) ہے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 22 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مثال خواب کی سی ہے اور آخرت کی مثال بیداری کی سی ہے ۔ جیسے خواب میں آدمی کی آنکھیں بند ہوتی ہیں اور وہ حقائق کو نہیں دیکھ پاتا ، اسی طرح انسان ان حقائق کو جن کا تعلق عالم آخرت سے ہے ان کو وہ اس دنیا میں آنکھوں سے نہیں دیکھتا ۔ مگر یہ ظاہری آنکھیں بند ہوتے ہی وہ خواب کا عالم ختم ہوجاتا ہے اور بیداری کا عالم شروع ہوتا ہے جس میں وہ سارے حقائق سامنے آجاتے ہیں جن کا علم انسان کو علم وحی کے ذریعہ دیا گیا ہے ۔ اسی لیے بعض علماء نے فرمایا کہ دنیا کی زندگی میں سب انسان سو رہے ہیں ، جب مریں گے اس وقت جاگیں گے (معارف القرآن) علم وحی کی بنیاد پر آخرت کے ان دیکھے حقائق کا یقین کرنا علم الیقین کا مرحلہ ہے اور یہی باعث نجات ہے مرنے کے بعد عین الیقین کے مرحلے کا آغاز ہوتا ہے لیکن یہ مفید نہیں ہے ۔ اسی لیے عالم نزع طاری ہوجانے کے بعد کی دعا قبول نہیں ہوتی ، پھر جب انسانوں کو جنت یا دوزخ میں بھیج دیا جائے گا تو حق الیقین کے مرحلے کا آغاز ہوگا جو دائمی ہے جبکہ علم الیقین اور عین الیقین کے مرحلے عبوری (Transitionary) ہیں ۔
Ayah 50:23و َقَالَ قَرِيْنُهٗ [ اور کہے گا اس کا ہمنشین (فرشتہ )] ھٰذَا مَا [ یہ وہ ہے جو ] لَدَيَّ [ میرے پاس تھا ] عَتِيْدٌ [ تیار (حاضر) ہے ]
Ayah 50:24اَلْقِيَا [ تم دونوں ڈال دو ] فِيْ جَهَنَّمَ [ جہنم میں ] كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ [ ہر ناشکرے مخالف کو ]
ترکیب : (آیت ۔ 24) یہاں القیا تثنیہ کا صیغہ کیوں آیا ہے ۔ گرامر والوں (نحویوں) کا کہنا ہے کہ یہ عربوں کے رواج کے مطابق ہے۔ اونٹ کے بڑے ریوڑ کو چرانے کے لیے عموما تین آدمی جاتے تھے، ان میں سے کسی کو جب اپنے کسی ساتھی کو بلانا ہوتا تھا توعموما وہ تثینہ کے صیغے میں پکارتا تھا کہ دونوں میں سے کوئی بھی سن لے ۔ اس طرح ان کی یہ عادت ہوگئی کہ کسی ایک کو مخاطب کرنے کے لیے وہ تثنیہ کا صیغہ استعمال کرلیتے تھے ، ایک کو دو کے صیغے میں پکارنا عربوں کا محاورہ ہے (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماموخوذ ہے ) اس لحاظ سے یہاں تثنیہ القیا واحد کے مفہوم ہے یعنی تو ڈال دے ۔
عام طور پر مفسریں نے اس کا مخاطب انہی دو فرشتوں کو قرار دیا ہے جن کا ذکر آیت ۔ 21 ۔ میں سائق اور شھید کے الفاظ سے گزر چکا ہے ۔ ان دونوں کو یہ حکم دینے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہی اس کو جن ہم میں ڈالیں بھی ، یہ محض حکم کا بیان ہے ۔ اس کی تعمیل میں وہ مجرم کو جہنم میں جھونکنے والے فرشتوں کے حوالے کردیں گے، البتہ اس سے متعلق زمخشری نے عربی کے ایک مشہور ادیب کا قول نقل کیا ہے کہ فصیح عربی بولنے والے تثنیہ کا صیغہ بعض اوقات تکرار فعل کے مفہوم کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں ۔ اس طرح القیا کا مفہوم اس آیت میں ان کے نزدیک ” ڈال دو ۔ ڈال دو “ ہوگا ۔ اس سے مقصود اظہار غضب اور تاکید حکم ہے۔ (تدبر قرآن) اردو میں تکرار فعل کا رواج زیادہ ہے ۔ جیسے ہم لوگ کہتے ہیں اٹھو اٹھو ۔ چلو چلو ۔ کھاؤ کھاؤ وغیرہ ترجمہ میں ہم جمہور مفسرین کی رائے کو اختیار کریں گے دوسری آراء اس لیے لکھ دیں ہیں کہ کسی طالب علم کی نظر سے اگر کوئی مختلف ترجمہ گزرے تو اس کا ذہن پریشان نہ ہو ۔ عربی اسالیب کے مطابق تینوں طرح کے ترجمے درست مانے جائیں گے ۔ قال قرینہ یہاں دو مرتبہ آیا ہے ۔ پہلے آیت ۔ 23 ۔ میں اس کے بعد آیت ۔ 27 ۔ میں ۔ اکثر مفسرین نے پہلے قرین سے مراد یہ لیا ہے کہ یہ کہنے والا ان دو میں سے کوئی ایک فرشتہ ہوگا جو دنیا میں اس کے اعمال ریکارڈ کرتے تھے ۔ جبکہ دوسرے قرین سے مراد وہ شیطان ہے جو دنیا میں اس کے پیچھے لگا ہوا تھا ۔ ان آیات میں چونکہ قیامت کے واقعات کا ذکر ہے اس لیے ماضی کے صیغوں کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا ۔ (دیکھیں ۔ 2 : 27، نوٹ ۔ 3)
نوٹ۔ 2: آیات 24 تا 26 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات گن گن کر بتادی ہیں جو انسان کو جہنم کا مستحق بنانے والی ہیں ۔ (1) انکار حق اور خدا کی ناشکری (کفار ) ۔ (2) حق اور اہل حق سے عناد (عنید) ۔ (3) بھلائی کے راستے میں سد راہ بننا اور اپنے مال سے خدا اور بندوں کے حقوق ادا نہ کرنا (مناع للخیر ) ۔ (4) اپنے معاملات میں حدود سے تجاوز کرنا اور لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا ۔ (معتد) (5) دین کی صداقتوں پر شک کرنا اور دوسروں کے دلوں میں شکوک ڈالنا (مریب ) ۔ (6) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو خدائی میں شریک ٹھہرانا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 50:25مَّنَّاعٍ لِّــلْخَيْرِ [ (ہر ایک ) بھلائی سے منع کرنے والے کو ] مُعْتَدٍ [ (ہر) حد سے بڑھنے والے کو ] مُّرِيْبِۨ [ (ہر ) شبہہ ڈالنے والے کو ]
Ayah 50:26الَّذِيْ جَعَلَ [ جس نے بنایا ] مَعَ اللّٰهِ [اللہ کے ساتھ ] اِلٰـــهًا اٰخَرَ [ کوئی دوسرا الہ ] فَاَلْقِيٰهُ [ تو تم دونوں ڈال دو اس کو ] فِي الْعَذَابِ الشَّدِيْدِ [ شدید عذاب میں ]
Ayah 50:27قَالَ قَرِيْنُهٗ [ کہے گا اس کا ہم نشین (شیطان ) ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] مَآ اَطْغَيْتُهٗ [ سرکشی پر میں نے نہیں اکسایا اس کو ] وَلٰكِنْ كَانَ [ اور لیکن وہ تھا ] فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ [ ایک دوری والی گمراہی میں ]
Ayah 50:28قَالَ [ وہ (اللہ ) کہے گا ] لَا تَخْتَصِمُوْا [ تم لوگ جھگڑا مت کرو ] لَدَيَّ [ میرے پاس ] وَ [ درآں حالیکہ ] قَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ [ میں آگے بھیج چکا تم لوگوں کی طرف ] بِالْوَعِيْدِ [ وعدہ (عذاب ) کو ]
آیت ۔ 28 ۔ میں قَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ بِالْوَعِيْدِ کا مطلب یہ ہے کہ میں نے متنبہ کردیا تھا کہ جو بہکائے گا وہ بھی سزا پائے گا اور جو بہکے گا اسے بھی خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ میری اس تنبیہ کے باوجود جب تم دونوں اپنے اپنے حصے کا جرم کرنے سے باز نہ آئے تو اب جھگڑا کرنے سے کیا حاصل ہے۔ بہکنے والے کو بہکنے کی اور بہکانے والے کو بہکانے کی سزا تو اب لازما ملنی ہی ہے (تفہیم القرآن )
Ayah 50:29مَا يُبَدَّلُ [ تبدیل نہیں کیا جاتا ] الْقَوْلُ [ بات کو ] لَدَيَّ [میرے پاس ] وَمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] بِظَلَّامٍ [ ذرا بھی ظلم کرنے والا ] لِّلْعَبِيْدِ [ بندوں پر ]
Ayah 50:30يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ [ جس دن ہم کہیں جہنم سے ] هَلِ امْتَلَاْتِ [ کیا تو بھر گئی ] وَتَقُوْلُ [ اور وہ کہے گی ] هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ [کیا کچھ مزید ہے ]
Ayah 50:31وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ [ اور نزدیک کی جائے گی جنت ] لِلْمُتَّقِيْنَ [متقی لوگوں کے لیے ] غَيْرَ بَعِيْدٍ [ دور ہوئے بغیر ]
آیات ۔ 31 تا 33 ، میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات بتادی ہیں جن کی بنا پر کوئی شخص جنت کا مستحق ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں ۔ (1) تقوی (2) رجوع اللہ ۔ (3) اللہ سے اپنے تعلق کی حفاظت (4) اللہ کی دیکھے بغیر اور اس کی رحیمی پر یقین رکھنے کے باوجود اس سے ڈرنا ۔ اور (5) قلب منیب لیے ہوئے اللہ کے ہاں پہنچنا ۔
Ayah 50:32ھٰذَا مَا [ یہ وہ ہے جو ] تُوْعَدُوْنَ [تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا تھا ] لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ [ (یہ ) ہر بار بار رجوع کرنے والے ہمیشہ حفاظت کرنے والے کے لیے ہے ]
نوٹ ۔ 1: اواب کے معنی رجوع ہونے والے کے ہیں مراد وہ شخص ہے جو معاصی (گناہوں) سے اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو حضرت عبید بن عمیر ؓ نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس اور ہر نشست میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھے تو اللہ اس کے وہ سب گناہ معاف فرما دیں گے جو اس مجلس میں سرزد ہوئے ۔ دعا یہ ہے ۔ سبحانک اللہم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک اور حفیظ کے معنی حضرت ابن عباس ؓ سے ھو الحافظ لامر اللہ کے منقول ہیں یعنی جو شخص اللہ کے احکام کو یاد رکھے ۔ (معارف القرآن ) منیب کے معنی ایک طرف رخ کرنے اور بار بار اسی طرف پلٹنے کے ہیں ۔ جیسے قطب نما کی سوئی ہمیشہ قطب ہی کی طرف قلب منیب سے مراد وہ دل ہے جو رنج و راحت اور امید وبیم ، ہر حال میں اپنے رب ہی کی طرف متوجہ رہا ۔ کسی حال میں بھی اپنے رب سے منہ موڑ کر کسی اور سے اس نے لو نہیں لگائی (تدبر قرآن) ۔
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 32 ۔ میں قریش کو وراننگ ہے کہ وہ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ ان کی بڑی قوت و شوکت حاصل ہے اور وہ اپنی جگہ سے ہلائے نہیں جاسکتے ۔ ان سے پہلے کتنی ہی قومیں گزری ہیں جو قوت و عظمت میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا ۔ ان میں سے اگر کچھ ہلاک ہونے سے بچ بھی رہے تو وہ مختلف ملکوں میں کسی جائے پناہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ۔ جب کسی قوم پر تباہی آتی ہے تو اس کا حال یہی ہوتا ہے ، قوم کے کار فرما عناصر ، جو سارے فساد کے ذمہ دار ہوتے ہیں ، وہ تو تباہ ہوجاتے ہیں ، عوام میں سے جو بچ رہتے ہیں وہ قومی جمعیت کے پارہ پارہ ہوجانے کے بعد پراگندہ ہوکر اس طرف کا رخ کرلیتا ہے ۔ جہاں اس کو پناہ ملنے کی توقع ہوتی ہے۔ قرآن میں جن قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں ان میں سے بعض تو پوری کی پوری تباہ ہوگئیں ۔ جیسے قوم نوح ، عاد اور ثمود وغیرہ ، جبکہ بعض قوموں کا حال یہ ہوا کہ ان کے کار فرما عناصر تو تباہ ہوگئے اور ان کے عوام ادھر ادھر پراگندہ ہوگئے ۔
فرعون اور اس کی قوم کی تباہی کی صورت یہی تھی ، اس سے ملتے جلتے حالات ملک سبا میں پیش آئے ۔ بیشمار افراد تو سیلاب کی نذر ہوگئے جو بچ رہے وہ مجبور ہوئے کہ پناہ کی تلاش میں دوسرے علاقوں کا رخ کریں ۔ یہود پر جو تباہیاں آئیں ان کی نوعیت بھی یہی تھی ، جو قتل سے بچے وہ دنیا کے کونے کونے میں آوارہ ہوکر پھرے ، خود ہماری تاریخ میں بھی اس کی نہایت عبرت انگیز مثالیں موجود ہیں ۔ بغداد پر ، قربطہ پر ، دلی پر جو تباہیاں آئیں ان کے احوال تاریخ میں مذکور ہیں ، ان کو پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں صرف قریش ہی کو تنبیہ نہیں ہے بلکہ خود ہمارے لیے بھی اس میں بڑا درس ہے ۔ (تدبر قرآن)
Ayah 50:33مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ [ جو ڈرا رحمن سے ] بِالْغَيْبِ [ بن دیکھے ] وَجَاۗءَ [اور وہ آیا ] بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ [ ایک متوجہ ہونے والے دل کے ساتھ ]
Ayah 50:34ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ ۭ [ تم لوگ ہوجاؤ اس میں سلامتی کے ساتھ ] ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُوْدِ [ یہ ہمیشہ ایک حالت میں رہنے کا دن ہے ]
Ayah 50:35لَهُمْ مَّا [ ان کے لیے ہوگا وہ جو ] يَشَاۗءُوْنَ [ وہ لوگ چاہیں گے ] فِيْهَا [ اس (جنت ) میں ] وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ [ اور ہمارے پاس مزید ہے ]
Ayah 50:36وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ [ اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کیں ان سے پہلے ] مِّنْ قَرْنٍ [ قومیں ] هُمْ [ وہ لوگ ] اَشَدُّ مِنْهُمْ [ ان سے زیادہ سخت تھے ] بَطْشًا [ بلحاظ گرفت کرنے کے ] فَنَقَّبُوْا [ تو انہوں نے بھاگ دوڑ کی ] فِي الْبِلَادِ ۭ [ شہروں میں ] هَلْ [ (کہ ) کیا ] مِنْ مَّحِيْصٍ [ کوئی بھی بچنے کی جگہ ہے ]
Ayah 50:37اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَذِكْرٰى [ یقینا بڑی نصیحت ہے ] لِمَنْ [ اس کے لیے ] كَانَ لَهٗ [ جس کے لیے ہو ] قَلْبٌ [ ایک دل (تفقہہ والا )] اَوْ اَلْقَى [ یا وہ ڈالے (دھرے ) ] السَّمْعَ [ کان (بات پر ) ] وَهُوَ [ اس حال میں کہ وہ ] شَهِيْدٌ [ معائنہ کرنے والا ہو ]
Ayah 50:38وَلَــقَدْ خَلَقْنَا [ اور یقینا ہم نے پیدا کیا ہے ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ آسمانوں کو اور زمین کو ] وَمَا بَيْنَهُمَا [ اور اس کی جو ان دونوں کے درمیان ہے ] فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ڰ [ چھ دنوں میں ] وَّمَا مَسَّنَا [ اور ہم کو نہیں چھوا ] مِنْ لُّغُوْبٍ [ذرا سی بھی تھکان نے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 38 ۔ میں یہود و نصاری پر ایک لطیف طنز ہے جن کی بائبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور ساتویں دن آرام کیا ۔ اگرچہ اب مسیحی پادری اس بات سے شرمانے لگے ہیں اور انھوں نے کتاب مقدس کے اردو ترجمہ میں ” آرام کیا “ کو ” فارغ ہوا “ سے بدل دیا ہے مگر کنگ جیمس کی مستند انگریزی بائبل میں
SEVENTH DAY AND HERESTED ON THE
کے الفاظ صاف موجود ہیں اور یہی الفاظ اس ترجمے میں بھی پائے جاتے ہیں جو 1954 ء میں یہودیوں نے فلڈلیفا سے شائع کیا، عربی ترجمہ میں بھی فاستراح (پھر اس نے استراحت کی ) کے الفاظ ہیں ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 50:39فَاصْبِرْ عَلٰي مَا [ تو آپ صبر کریں اس پر جو ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ لوگ کہتے ہیں ] وَسَبِّــحْ [ اور آپ تسبیح کریں ] بِحَمْدِ رَبِّكَ [ اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ [ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے ] وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ [ اور (اس کے ) غروب کے پہلے ]
نوٹ۔ 2: آیات 39 ۔ 40 ۔ میں وہ ذریعہ بتایا گیا ہے جس سے آدمی کو یہ طاقت حاصل ہوتی ہے کہ دعوت حق کی راہ میں اسے خواہ کیسے ہی دل شکن اور روح فرسا حالات سے سابقہ پیش آئے ، اس کی کوشش کا کوئی نتیجہ نکلتا بھی نظر نہ آئے ، پھر بھی وہ پورے عزم کے ساتھ زندگی بھر کلمہ حق بلند کرنے اور دنیا کو خیر کی طرف بلانے کی جدوجہد جاری رکھے ۔ رب کی حمد اور اس کی تسبیح سے مراد یہاں نماز ہے جس مقام پر بھی قرآن میں حمد و تسبیح کو خاص اوقات کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے وہاں اس سے مراد نماز ہی ہوتی ہے، طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی نماز ہے ، غروب آفتاب سے پہلے دو نمازیں ظہر اور عصر ہیں ، ” رات میں سے “ یعنی رات کے کچھ اوقات میں مغرب اور عشاء ہیں اور تہجد بھی رات کی تسبیح میں شامل ہے ، رہی وہ تسبیح جو مسجدوں سے فارغ ہونے کے بعد کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ، تو اس سے مراد ذکر بعد الصلوۃ بھی ہوسکتا ہے اور فرض کے بعد نوافل ادا کرنا بھی ۔
جو اصحاب قرآن مجید کی اس ہدایت پر عمل کرنا چاہیں وہ مشکوۃ شریف میں باب الذکر بعدالصلوۃ میں سے کوئی ذکر یاد کرلیں اور پھر اس کا التزام کریں ، رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے ذکر سے بہتر اور کون سا ذکر ہوسکتا ہے ۔ مگر یہ خیال رکھیں کہ ذکر سے مقصود چند مخصوص الفاظ کو زبان سے گزار دینا نہیں ہے بلکہ اصل مقصود ان معانی کو ذہن میں تازہ اور مستحکم کرنا ہے جو ان الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں ، اس لیے جو بھی ذکر کیا جائے اس کے معنی اچھی طرح یاد کرلینے چاہئیں اور پھر معنی کے استحضار کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے۔ (تفیہم القرآن)
نوٹ۔ 3: کوئی شخص جب کوئی بات کرتا ہے یا کسی مجلس میں کچھ لوگ آپس میں جو بات کرتے ہیں تو جو شخص وہاں موجود نہیں ہوتا ، اسے جب اس کی اطلاع دی جاتی ہے تو اسے بات کا خلاصہ بتادیا جاتا ہے ۔ اس بنیاد پر وہ کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ فلاں نے کیا کہا ہے یا فلاں مجلس میں کیا بات ہوئی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں بات کے ایک ایک لفظ کے ساتھ آواز کا زیروبم ، چہرے کا اتار چڑھاؤ ، اعضاء وجوارح کی جنبشیں (Body Language) دل میں چھپے ہوئے جذبات ، نیب وغیرہ یہ سب چیزیں اس کے علم میں ہوتی ہیں، اس لیے آیت ۔ 45 میں فرمایا نحن اعلم (ہم سب سے زیادہ جاننے والے ہیں )
مورخہ 5 ۔ ربیع الاول 1430 ء بمطابق 3 ۔ مارچ 2009 ء
Ayah 50:40وَمِنَ الَّيْلِ [ اور رات میں سے ] فَسَبِّحْهُ [ پھر آپ تسبیح کریں اس کی ] وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ [اور سجدوں کے پیچھے (بعد بھی ) ]
ترکیب : (آیت ۔ 40) ادبار یہاں ظرف زمان کے طور پر آیا ہے ، اس لیے حالت نصب میں ہیں ۔ سجد ۔ یسجد کا مصدر بھی سجود آتا ہے جبکہ سجدہ کی جمع بھی سجود آتی ہے ۔ اس لیے دونوں طرح کے ترجمے درست مانے جائیں گے ۔