49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] لَا تُـقَدِّمُوْا [ تم لوگ آگے مت کرو (اپنی رائے کو ) ] بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے ] وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ [ اور اللہ ( کے غضب ) سے ڈرو ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ [ سننے والا جاننے والا ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 1) ۔ بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ میں یدی دراصل بین کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالت جر میں تثنیہ کا صیغہ یدین تھا ۔ یہ آگے لفظ اللہ کا مضاف بن رہا ہے اس لیے نون اعرابی گرا تو یدی باقی بچا ۔ آگے ملانے کے لیے ی کو کسرہ دی گئی ہے ۔ اس حوالے سے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ تثنیہ کے صیغے کی یائے ساکن کو آگے ملانے کی کے لیے کسرہ دیتے ہیں جبکہ یائے متکلم (جو ساکن ہی ہوتی ہے ) کو آگے ملانے کے لیے فتح دیتے ہیں ۔ (دیکھیں آیت ۔ 2:40، ترکیب) یہی وجہ ہے کہ فی کتابی الذی کا مطلب ہے میری اس کتاب میں جو ، جبکہ فی کتابی الذی کا مطلب ہے ان دونوں کتابوں میں جو ۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] لَا تَرْفَعُوْٓا [ تم لوگ بلند مت کرو ] اَصْوَاتَكُمْ [ اپنی آوازوں کو ] فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ [ ان نبی کی آواز کے اوپر ] وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ [ اور اونچا مت بولو ان کے لیے بات میں ] كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ [ جیسے تمہارے کسی کا اونچا بولنا ] لِبَعْضٍ [ کسی کے لیے ] اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ [ کہیں اکارت جائیں تمہارے اعمال ] وَ [اس حال میں کہ ] اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ [ تم لوگ شعور نہ رکھتے ہو ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 2:26، نوٹ ۔ 2 میں ہم نے تفسیر حقانی سے فاسق کے تین درجے نقل کیے ہیں اس میں پہلا درجہ یہ ہے کہ آدمی نافرمانی کو برا سمجھتا ہے لیکن بشری تقاضے کے تحت کبھی نافرمانی کا ارتکاب ہوجاتا ہے ۔ اس لحاظ سے ہم نے فاسق کا ترجمہ احتیاط نہ کرنے والے اور فسوق کا ترجمہ غیر محتاط رویوں سے کیا ہے ۔ نوٹ ۔ 2: اس سے پہلی دوسورتوں میں جہاد کے احکام تھے جس سے اصلاح عالم و آفاق مقصود ہے ۔ اس سورت میں اصلاح نفس کے احکام مذکور ہیں ، خصوصا وہ احکام جو آداب معاشرت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ (معارف القرآن ۔ خلاصہ تفسیر سے ماخوذ) یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ قرآن میں احکام و ہدایات کا نزول حالات کے تقاضوں کے تحت ہوا ہے تاکہ لوگوں پر ان کی صحیح قدر و قیمت واضح ہوسکے ۔ چناچہ یہ سورة بھی ایسے حالات میں نازل ہوئی ہے جب نئے نئے اسلام میں داخل ہونے والوں کی طرف سے بعض باتیں ایسی سامنے آئی جن سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ نہ تو رسول کے مقام و مرتبہ سے واقف ہیں اور نہ اسلامی معاشرے میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں ۔ چناچہ اس سورة میں ضروری ہدایات دے دی گئیں جو ضروری تھیں ، ان ہدایات کا تعلق تمام تر نبی ﷺ اور مسلمانوں کے باہمی حقوق سے ہے۔ کفار کا معاملہ اس میں زیر بحث نہیں آیا ۔ (تدبر قرآن ) نوٹ۔ 3: ان آیات میں خطاب اگرچہ عام ہے لیکن جن لوگوں کا رویہ اس سورة میں زیر بحث آیا ہے وہ اطراف مدینہ کے بدوی قبائل ہیں جو اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت سے متاثر ہوکر مسلمانوں میں شامل ہوگئے تھے لیکن یہ لوگ اسلام کو سمجھ کر نہیں بلکہ اس سے مرعوب ہوکر اس میں داخل ہوئے اور مرکز سے بےتعلق رہنے کی وجہ سے ان کی تربیت بھی نہیں ہوئی تھی ، اس لیے ان کے اندر ایک غلط قسم کا پندار تھا کہ انھوں نے کسی جنگ کے بغیر نبی ﷺ کی اطاعت کرلی جو آپ پر ان کا ایک احسان ہے ۔ اس پندار کا اثر یہ تھا کہ ان کا سردار جب مدینہ آتے تو رسول ﷺ سے اس انداز سے بات کرتے گویا وہ اسلام کے بڑے مربی و محسن ہیں ۔ بغیر اس کے کہ کسی معاملہ میں آپ ان کی رائے دریافت کریں آگے بڑھ بڑھ کر خود ہی مشورے دینے کی کوشش کرتے ۔ ان میں ہر ایک آپ کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتا اور اس غرض کے لیے وہ اپنے حریفوں سے متعلق بعض اوقات ایسی خبریں بھی آپ کو پہنچاتے جو غلط فہمی پیدا کرنے والی ہوتیں ، یہ حالات تھے جن میں یہ سورة نازل ہوئی ۔ واضح رہے کہ یہاں رسول ﷺ کو رائے دینے کی ممانعت نہیں ہے ۔ آپ صحابہ سے ان کی رائے معلوم بھی فرماتے اور صحابہ اپنے رائے پیش بھی کرتے تھے۔ یہاں ممانعت اس بات کی ہے کہ کوئی شخص اللہ کے رسول کو مجرد ایک لیڈر سمجھ کر اور اپنے آپ کو ان سے زیادہ مدبر خیال کرکے رسول ﷺ کو اپنی رائے سے متاثر کرنے اور اپنی رائے کو رسول ﷺ کی بات پر مقدم کرنے کی کوشش نہ کرے ۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو وہ رسول کے مقام و مرتبہ سے بیخبر ہے۔ اللہ کا رسول اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کرتا ہے اللہ کی ہدایت کے تحت کرتا ہے ۔ اگر کوئی ان کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنے کی جسارت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی رائے کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر مقدم کرنا چاہتا ہے ۔ ہمارے زمانے میں یہ تنبیہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اسلام کی خدمت کے دعوے کے ساتھ اسکی اقدار کو مسخ اور اس کے قوانین میں تحریف کررہے ہیں ۔ ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جس شکل میں اسلام دیا ہے اس شکل میں وہ اس دور میں نہیں چل سکتا ۔ ضروری ہے کہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق اس کی اصلاح کی جائے ایک شخص بہت سے کام اپنی دانست میں دین کے کام سمجھ کر دین ہی کی خدمت کے لیے کرتا ہے لیکن اس کے اندر یہ پندار سمایا ہوا ہو کہ وہ اللہ کے دین پر کوئی احسان کر رہا ہے اور اس زعم میں وہ اللہ کے رسول کے مقام و مرتبہ کا احترام نہ کرے تو اس کے سارے اعمال اکارت ہو کے رہ جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے ۔ اس کے ہاں شرف قبولیت صرف انہی لوگوں کے اعمال کو حاصل ہوگا جو اس کے دین کی خدمت صرف اس کی رضا کے لیے اور ٹھیک ٹھیک اس کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق انجام دیں گے ، اس کے ساتھ ہی دل سے اس حقیقت کا اعترف کرتے رہیں گے کہ یہ خدمت انجام دے کر انھوں نے اللہ و رسول پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اللہ کا احسان خود ان کے اوپر ہوا ہے کہ اس نے ان کو اپنے دین کی خدمت کی توفیق عطا کی ، (تدبر قرآن) نوٹ۔ 4: آیت ۔ 7 سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میں کوئی فاسق بھی ہوسکتا ہے اور یہ اس متفق علیہ ضابطہ کے خلاف ہے کہ صحابہ کرام سب کے سب ثقہ ہیں اور ان کی خبر و شہادت پر کوئی گرفت نہیں کی جاسکتی ۔ علامہ آلوسی نے روح المعانی میں فرمایا کہ اس معاملہ میں حق بات وہ ہے جس کی طرف جمہور علماء گئے ہیں کہ صحابہ کرام معصوم نہیں ان سے گناہ کبیرہ بھی سرزد ہوسکتا ہے جو فسق ہے اور اس گناہ کے وقت ان سے وہی معاملہ کیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہیں یعنی شرعی سزا دی جائے گی ، اہل سنت والجماعت کا عقیدہ نصوص قرآن وسنت کی بنا پر یہ ہے کہ صحابی سے گناہ تو ہوسکتا ہے مگر کوئی صحابی ایسا نہیں جو گناہ سے توبہ کرکے پاک نہ ہوگیا ہو ، قرآن نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا فیصلہ صادر فرما دیا ہے ۔ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ (التوبہ ۔ 100) اور رضائے الہی گناہوں کی معافی کے بغیر نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کا اعلان صرف انہی کے لیے فرمایا ہے جن کے متعلق وہ جانتا ہے کہ ان کی وفات موجبات رضا پر ہوگی ۔ (معارف القرآن )
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ رسول خدا کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے، اُن کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم

اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ [ بیشک جو لوگ نیچی رکھتے ہیں ] اَصْوَاتَهُمْ [ اپنی آوازوں کو ] عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ [ اللہ کے رسول کے پاس ] اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] امْتَحَنَ اللّٰهُ [ امتحان لے لیا اللہ نے ] قُلُوْبَهُمْ [ جن کے دلوں کا ] لِلتَّقْوٰى ۭ [تقوی کے لیے ] لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ [ ان کے لیے مغفرت ہے ] وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ [ اور اجر عظیم ہے ] م ح ن : (ف) محنا ۔ آزمانا۔ (افتعال ) امتحانا ۔ اہتمام سے آزمانا ۔ امتحان لینا ، ٹیسٹ کرنا ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 3 ۔ امتحن ۔ فعل امر ہے ۔ تو امتحان لے ۔ تو جانچ لے ۔ آیت ۔ اِذَا جَاۗءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ [ جب آئیں تمہارے پاس مومن خواتین ہجرت کرنے والی ہوتے ہوئے تو تم لوگ جانچ لوان کو ] 60:10 ۔
Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

اے نبیؐ، جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں

اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ [ بیشک جو لوگ پکارتے ہیں آپ کو ] مِنْ وَّرَاۗءِ الْحُـجُرٰتِ [ کمروں کے پیچھے سے ] اَكْثَرُهُمْ [ان کے اکثر ] لَا يَعْقِلُوْنَ [ عقل نہیں کرتے ]
Ayah 49:5

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لیے بہتر تھا، اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے

وَلَوْ اَنَّهُمْ [ اور اگر یہ کہ وہ لوگ ] صَبَرُوْا حَتّٰى [ صبر کرتے یہاں تک کہ ] تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ [ آپ نکلتے ان کی طرف ] لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ۭ [ تو یقینا بہتر ہوتا ان کے لیے ] وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ [ اور اللہ بےانتہا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْٓا [ایمان لائے ] اِنْ جَاۗءَكُمْ [ اگر آئے تمہارے پاس ] فَاسِقٌۢ [ کوئی احتیاط نہ کرنے والا ] بِنَبَاٍ [کسی خبر کے ساتھ ] فَتَبَيَّنُوْٓا [ تو تحقیق کرلو ] اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا [ کہیں تم لوگ جالگو کسی قوم کو ] بِجَــهَالَةٍ [ غلط خیالات کے سبب سے ] فَتُصْبِحُوْا [ نتیجۃ تم لوگ ہوجاؤ] عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ [ اس پر جو تم لوگوں نے کیا ] نٰدِمِيْنَ [پشیمان ہونے والے ]
Ayah 49:7

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کرے تو تم خود ہی مشکلات میں مبتلا ہو جاؤ مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے لیے دل پسند بنا دیا، اور کفر و فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کر دیا

وَاعْلَمُوْٓا [ تم لوگ جان لو ] اَنَّ فِيْكُمْ [ کہ تم لوگوں (کے درمیان ) میں ] رَسُوْلَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے رسول ہیں ] لَوْ يُطِيْعُكُمْ [ اگر وہ کہا مانیں تمہارا ] فِيْ كَثِيْرٍ [اکثر میں ] مِّنَ الْاَمْرِ [ معاملات میں سے ] لَعَنِتُّمْ [ تو ضرور تم لوگ مشکل میں پڑوگے ] وَلٰكِنَّ اللّٰهَ [ اور لیکن اللہ نے ] حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ [ پیارا بنایا تمہارے لیے ایمان کو ] وَزَيَّنَهٗ [ اور اس نے سجادیا اس کو ] فِيْ قُلُوْبِكُمْ [تمہارے دلوں میں ] وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ [ اور اس نے ناگوار کردیا تمہارے لیے ] الْكُفْرَ [کفر کو ] وَالْفُسُوْقَ [ اور غیر محتاط رویوں کو ] وَالْعِصْيَانَ ۭ[ اور نافرمانی کو ] اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ [ یہ لوگ ہی نیک راہ پر چلنے والے ہیں ]
Ayah 49:8

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راست رو ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ [ فضل ہوتے ہوئے اللہ (کی طرف) سے ] وَنِعْمَةً ۭ [اور نعمت ہوتے ہوئے ] وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ [ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ]
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ [ اور اگر کوئی دو جماعت ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں میں سے ] اقْتَتَلُوْا [ آپس میں لڑ پڑیں ] فَاَصْلِحُوْا [ تو تم لوگ صلح کراؤ] بَيْنَهُمَا ۚ [ ان دونوں کے درمیان ] فَاِنْۢ بَغَتْ [ پھر اگر سرکشی کرے ] اِحْدٰىهُمَا [ ان دونوں کی کوئی ایک ] عَلَي الْاُخْرٰى [ دوسری پر ] فَقَاتِلُوا [تو تم جنگ کرو ] الَّتِيْ [ اس سے جس نے ] تَبْغِيْ [ سرکشی کی ] حَتّٰى تَفِيْۗءَ [ یہاں تک کہ وہ پلٹ آئے ] اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ [ اللہ کے حکم کی طرف ] فَاِنْ فَاۗءَتْ [ پھر اگر وہ پلٹ آئے ] فَاَصْلِحُوْا [تو (پھر ) صلح کراؤ] بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ [ ان دونوں کے درمیان برابری سے ] وَاَقْسِطُوْا ۭ [ اور حق کی مطابق کرو ] اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ [ بیشک اللہ پسند کرتا ہے ] الْمُقْسِطِيْنَ [ حق کے مطابق کرنے والوں کو ]
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ سارے ایمان لانے والے ] اِخْوَةٌ [بھائی ہیں ] فَاَصْلِحُوْا [ توصلح کراؤ] بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ ۚ [ اپنے دونوں بھائی کے درمیان ] وَاتَّقُوا اللّٰهَ [ اور تقوی اختیار کرو اللہ کا ] لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ [ شاید تم لوگوں پر رحم کیا جائے ]
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] لَا يَسْخَرْ [ مذاق نہ کرے ] قَوْمٌ [ کوئی گروہ ] مِّنْ قَوْمٍ [ کسی (دوسرے ) گروہ سے ] عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا [ ہوسکتا ہے کہ وہ ہوں ] خَيْرًا [ بہتر ] مِّنْهُمْ [ ان سے ] وَلَا نِسَاۗءٌ [ اور نہ ہی (مذاق کریں ) عورتیں ] مِّنْ نِّسَاۗءٍ [ (دوسری ) عورتوں سے ] عَسٰٓى اَنْ يَّكُنَّ [ ہوسکتا ہے کہ وہ ہوں ] خَيْرًا [ بہتر ] مِّنْهُنَّ ۚ [ ان سے ] وَلَا تَلْمِزُوْٓا [اور تم لوگ نکتہ مت کرو ] اَنْفُسَكُمْ [ اپنوں کی ] وَلَا تَنَابَزُوْا [ اور شرمندہ مت کرو (اپنوں کو ) ] بِالْاَلْقَابِ ۭ [ دوسرے ناموں (لقب ) سے ] بِئْسَ الِاسْمُ [ کتنا برا ہے نام ] الْفُسُوْقُ [ فسوق کا ] بَعْدَ الْاِيْمَانِ ۚ [ ایمان کے بعد ] وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ [اور جس نے توبہ کی ہی نہیں ] فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ [ تو وہ لوگ ہی ظلم کرنے والے ہیں ] ن ب ز : (ض) نبزا کسی کو شرمندہ کرنا ۔ برا لقب دینا ۔ (تفاعل) تنابزا ایک دوسرے کو شرمندہ کرنا ۔ لقب دینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 11 ۔ ل ق ب : ( س) لقبا ۔ اصلی نام کے علاوہ دوسرا نام رکھنا ۔ لقب رکھنا ۔ لقب ۔ ج : القاب ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ اصلی نام کے علاوہ دوسرا نام ۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوا [ایمان لائے ] اجْتَنِبُوْا [تم لوگ بچو ] كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۡ [ بہت زیادہ گمان کرنے سے ] اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ [ بیشک گمان کے بعض ] اِثْمٌ [ گناہ ہیں ] وَّلَا تَجَسَّسُوْا [ اور تجسس مت کرو ] وَلَا يَغْتَبْ [ اور غیبت نہ کرے ] بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ۭ [ تم میں کا کوئی کسی کی ] اَيُحِبُّ [ کیا پسند کرتا ہے ] اَحَدُكُمْ [ تمہارا کوئی ایک ] اَنْ يَّاْكُلَ [ کہ وہ کھائے ] لَحْمَ اَخِيْهِ [ اپنے بھائی کا گوشت ] مَيْتًا [ اس حال میں کہ (وہ بھائی ) مردہ ہو ] فَكَرِهْتُمُوْهُ ۭ [ تو تم نے کراہیت کی اس سے ] وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ [ اور تقوی اختیار کرو اللہ کا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] تَوَّابٌ [ بار بار توبہ قبول کرنے والا ] رَّحِيْمٌ [ رحم کرنے والا ہے ] ج س س : (ن) جسا ۔ نبض کو چھو کر صحت کی کیفیت معلوم کرنا ۔ کسی چیز کو ٹٹول کے اس کی کیفیت معلوم کرنا ۔ (تفعل ) تجسسا بتکلف کسی اندرونی حالات معلوم کرنے کی ٹوہ میں لگنا ۔ تجسس کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 12 ۔ نوٹ۔ 1: مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ زیادتی کرنے والے کو زیادتی کرنے دیں اور جس پر زیادتی کی جارہی ہو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں یا الٹا زیادتی کرنے والے کا ساتھ دیں ۔ بلکہ ان کا فرض یہ ہے کہ اگر لڑنے والے فریقین میں صلح کرانے کی تمام تر کوششیں ناکام ہوجائیں تو پھر یہ دیکھیں کہ حق پر کون ہے۔ جو حق پر ہو اس کا ساتھ دیں اور زیادتی کرنے والے سے لڑیں ۔ اس لڑائی کا چونکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس لیے یہ جہاد کے حکم میں ہے اس کا شمار اس فتنے میں نہیں ہے جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس میں کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہے اور بیٹھ جانے والا کھڑا رہنے والے سے بہتر ہے ۔ کیونکہ اس فتنے سے مراد مسلمانوں کی وہ باہمی لڑائی ہے جس میں فریقین طلب دنیا کے لیے لڑ رہے ہوں اور دونوں میں سے کوئی بھی حق پر نہ ہو۔ یہ لڑائی جو زیادتی کرنے والے مقابلے میں برسرحق گروہ کی حمایت کے لیے لڑی جائے وہ فتنہ میں حصہ لینا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہے تمام فقہاء کا اس کے وجوب پر اتفاق ہے۔ (تفہیم القرآن ) تفیء الی امر اللہ، سے مراد اس فیصلے کے آگے جھکنا ہے جو مصالحت کرانے والوں نے فریقین کے سامنے رکھا ہے ۔ اگر کوئی فریق اس مصالحت سے گریز اختیار کررہا ہے تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے جھکنے سے گریز اختیار کررہا ہے اس لیے کہ اس صورتحال سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسی بات کا حکم دیا ہے ۔ اور جب اللہ نے اس کا حکم دیا ہے تو اس کی حیثیت امر اللہ کی ہے ۔ اب اس زمانے میں یہ پیچیدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ بہت سی چھوٹی بڑی مسلمان حکومتیں الگ الگ قائم ہوگئی ہیں ۔ ان کے درمیان اگر جنگ چھڑ جائے تو دوسری مسلمان حکومتوں کے لیے اس سے بالکل الگ تھلگ رہنا تو جائز نہیں ہے مصالحت کی کوشش ہر ایک کو کرنی ہوگی ۔ البتہ مداخلت کا معاملہ صورت حال پر منحصر ہے جس کا تعلق وقت کے سیاسی تقاضوں سے ہے اگر مداخلت سے مزید بین الملی یا بین الاقوامی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو عملی مداخلت سے تو گزیز اختیار کیا جائے گا لیکن مصالحت کی جدوجہد سے گریز کسی صورت میں جائز نہیں ہے ۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2: شیطان نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے جو فتنے ایجاد کیے ہیں ان میں ایک بہت بڑا فتنہ خاندان ، برادری اور کنبہ قبیلہ کے شرف و امتیاز کا فتنہ ہے اور بہت کم ایسے خوش نصیب نکلتے ہیں جو خود کو اس فتنہ سے محفوظ رکھ سکیں ۔ جو لوگ اس فتنہ میں مبتلا ہوتے ہیں وہ دوسروں کو اپنے مقابلہ میں حقیر خیال کرتے ہیں جس کا اظہار ان کے قول ، فعل اور رویہ سے ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ یہ چیزیں پختہ ہوکر ان کے ہاں روایت کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں بلکہ جہاں بس چلتا ہے وہاں وہ ان کو مذہب کا درجہ بھی دے دیتے ہیں ، چناچہ ہندوؤں میں برہمنوں نے، یہود میں بنی لاوی نے اور عربوں میں قریش نے اسی تقدس کا ایک ایسا مقام اپنے لیے پیدا کرلیا جس کو چیلنچ کرنا دوسروں کے لیے ممکن نہیں رہ گیا یہی حال ہر قوم کا ہوا ہے اور مساوات انسانی کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود آج بھی یہی حال ہے ۔ یہاں تک کہ مسلمان جو اس فتنہ کی بیخ کنی کے لیے برپا کیے گئے تھے وہ بھی آج نہ جانے کتنی برادریوں ، قبیلوں اور قوموں میں تقسیم ہیں اور ہر ایک ہمچومن دیگرے نیست کے نشہ سے سرشار ہے ، جس کا اظہار ہر قوم و قبیلہ کے عوام و خواص کے بیانات اور نعروں سے ہوتا ہے جس سے فطری طور پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت و کدورت پیدا ہوتی ہے جو عداوت اور بغض کی شکل اختیار کرکے بالآ خون خرابے تک پہنچ جاتی ہے ، یہاں قرآن نے مسلمانوں کو اسی آفت سے محفوظ رہنے کی ہدایت کی ہے کہ ہم کو اللہ نے تاریکی سے نکال کر ایمان کی روشنی بخشی ہے ۔ تمہارا معاشرہ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ کی اساس پر قائم ہے ۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحماء بینہم بنائے گئے ہو تو اپنے دوسرے بھائیوں کو اپنے طنز اور حقارت آمیز الفاظ کا ہدف بنا کر اس معاشرہ کا حلیہ مسخ مت کرو۔ (تدبر قرآن) نوٹ ۔ 3: غیبت کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کے پیٹھ پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کہے جو اگر اسے معلوم ہو تو اس کو ناگوار گزرے ، یہ تعریف خود رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ آپ کی دوسری نظیروں سے استفادہ کرکے فقہاء نے غیبت کی مندرجہ ذیل صورتیں جائز قرار دی ہیں ۔ (1) ظالم کے خلاف مظلوم کی شکایت اس شخص کے سامنے جس سے وہ یہ توقع رکھتا ہو کہ وہ ظلم کو رفع کرنے کے لیے کچھ کرسکتا ہے ۔ (2) اصلاح کی نیت سے کسی کی برائیوں کا ذکر ایسے لوگوں کے سامنے جن سے یہ امید ہو کہ وہ اصلاح کرنے کے لیے کچھ کرسکیں گے ۔ (3) فتوی مانگنے کی غرض سے کسی مفتی کے سامنے صورت واقعہ بیان کرنا جس میں کسی کے کسی غلط فعل کا ذکر آجائے ۔ (4) کسی کو کسی کے شر سے خبردار کرنا تاکہ وہ اس کے نقصان سے بچ سکے۔ مثلا کوئی شخص کہیں شادی کا رشتہ کرنا چاہتا ہو یا کسی کے پڑوس میں مکان لینا چاہتا ہو یا کسی سے شرکت کا معاملہ کرنا چاہتا ہو اور آپ سے مشورہ لے تو آپ کے لیے واجب ہے کہ اس کا عیب وصواب اسے بتادیں تاکہ ناواقفیت میں وہ دھوکا نہ کھائے ۔ (5) جو لوگ کسی برے لقب سے اس قدر مشہور ہوچکے ہوں کہ وہ اس لقب کے علاوہ کسی اور لقب سے پہچانے نہ جاسکیں ، ان کے لیے وہ لقب استعمال کرنا بغرض تعریف (پہچان کرانا) نہ کہ بغرض تنقیص ۔ مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ پیٹھ پیچھے کسی کی بدگوئی کرنا مطلقا حرام ہے۔ یہ بدگوئی اگر سچی ہو تو غیبت ہے، جھوٹی ہو تو بہتان ہے اور دو آدمیوں کو لڑانے کے لیے ہو تو چغلی ہے۔ شریعت ان تینوں چیزوں کو حرام کرتی ہے۔ اسلامی معاشرے میں ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ اگر اس کے سامنے کسی شخص پر جھوٹی تہمت لگائی جارہی ہو تو وہ اس کو خاموشی سے نہ سنے بلکہ اس کی تردید کرے اور اگر کسی جائز شرعی ضرورت کے بغیر کسی کی سچی برائی بیان کی جارہی ہے تو اس گناہ کا ارتکاب کرنے والے کو اللہ سے ڈرانے اور اس سے باز رہنے کی تلقین کرے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی حمایت ایسے موقع پر نہیں کرتا جہاں اس کی تذلیل کی جارہی ہو اور اس کی عزت پر حملہ کیا جارہا ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حمایت ایسے موقع پر نہیں کرتا جہاں وہ اللہ کی مدد کا خواہاں ہو، اور اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی حمایت ایسے موقع پر کرتا ہے جہاں اس کی عزت پر حملہ کیا جارہا ہو اور اس کی تذلیل و توہین کی جارہی ہو تو اللہ عزوجل اس کی مدد ایسے موقع پر کرتا ہے جہاں وہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کی مدد کرے ۔ رہا غیبت کرنے والا ، تو جس وقت بھی اسے احساس ہوجائے کہ وہ اس گناہ کا ارتکاب کررہا ہے یا کرچکا ہے، تو اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ اللہ سے توبہ کرے اور اس حرام فعل سے رک جائے ۔ اس کے بعد دوسرا فرض اس پر یہ ہے کہ حتی الامکان اس کی تلافی کرے ۔ اگر اس نے کسی مرے ہوئے آدمی کی غیبت کی ہو تو اس کے حق میں کثرت سے دعائے مغرفت کرے ۔ اگر کسی زندہ آدمی کی غیبت کی ہو اور وہ خلاف واقعہ بھی ہو تو ان لوگوں کے سامنے اس کی تردید کرے جن کے سامنے وہ یہ بہتان تراشی کرچکا ہے اور اگر سچی غیبت کی ہو تو آئندہ پھر کبھی اس کی برائی نہ کرے اور اس شخص سے معافی مانگے جس کی اس نے برائی کی تھی ، علماء کا ایک گروہ کہتا ہے کہ معافی صرف اس صورت میں مانگنی چاہیے جبکہ اس شخص کو اس کا علم ہوچکا ہو ۔ ورنہ صرف توبہ پر اکتفا کرنا چاہیے ۔ (تفہیم القرآن ۔ ج 5 ۔ ص 90 تا 94 سے ماخوذ) حضرت میمون نے فرمایا کہ میں نے ایک روز خواب میں دیکھا کہ ایک زنگی کر مردہ جسم ہے اور کوئی کہنے والا مجھے مخاطب کرکے یہ کہہ رہا ہے کہ اس کو کھاؤ میں نے کہا کہ اللہ کے بندے میں اس کو کیوں کھاؤں ۔ تو اس نے کہا اس لیے کہ تو نے فلاں شخص کے زنگی غلام کی غیبت کی ہے ۔ میں نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے تو اس کے متعلق کوئی اچھی یا بری بات کی ہی نہیں۔ تو اس نے کہا کہ ہاں ، لیکن تو نے اس کی غیبت سنی تو ہے ۔ اس خواب کے بعد حضرت میمون کا حال یہ ہوگیا کہ نہ خود کبھی کسی کی غیبت کرتے اور نہ کسی کو اپنی مجلس میں کسی کی غیبت کرنے دیتے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [ اے لوگو ] اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ [ بیشک ہم نے پیدا کیا تم لوگوں کو ] مِّنْ ذَكَرٍ [ ایک مرد سے ] وَّاُنْثٰى [اور ایک عورت سے ] وَجَعَلْنٰكُمْ [ اور ہم نے بنایا تم لوگوں کو ] شُعُوْبًا [ قومیں ] وَّقَبَاۗىِٕلَ [ اور قبیلے ] لِتَعَارَفُوْا ۭ [ تاکہ تم لوگ ایک دوسرے کو پہچانو ] اِنَّ اَكْرَمَكُمْ [ بیشک تم لوگو کا زیادہ باعزت ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے نزدیک ] اَتْقٰىكُمْ ۭ [ تم لوگوں کا زیادہ پرہیزگار ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ [ جاننے والا ہے باخبر ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 13) لتعارفوا میں تعارفوا باب تفاعل سے ماضی کا صیغہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ماضی پر لام کی نہیں آتا ۔ اس لیے یہ اصلا مضارع میں تتعارفون ہے جس کی ایک تا گرا دینا جائز ہے۔ جس کی وجہ سے یہ تعارفون ہوا ۔ پھر لام کی داخل ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا تو تعارفوا ہوگیا ۔ نوٹ ۔ 1: پچھلی آیات میں اہل ایمان کو خطاب کرکے وہ ہدایات دی گئی تھیں جو مسلم معاشرے کو خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہیں ۔ اب آیت ۔ 13 ۔ میں پوری نوع انسانی کو خطاب کرکے اس عظیم گمراہی کی اصلاح کی گئی ہے جو دنیا میں ہمیشہ عالمگیر فساد کا موجب بنی ہے یعنی رنگ ، نسل ، زبان ، وطن اور قومیت کا تعصب ۔ قدیم زمانے سے آج تک ہر دور میں انسان بالعموم انسانیت کو نظر انداز کرکے اپنے گرد کچھ چھوٹے چھوٹے دائرے کھینچتا رہا ہے جن کے اندر پیدا ہونے والوں کو اس نے اپنا اور باہر پیدا ہونے والوں کو غیر قرار دیا ہے ۔ یہ دائرے کسی عقلی اور اخلاقی بنیاد پر نہیں بلکہ اتفاقی پیدائش کی بنیاد پر کھینچے گئے ہیں ۔ پھر ان بنیادوں پر اپنے اور غیر کی جو تمیز قائم کی گئی ہے وہ صرف اس حد تک محدود نہیں رہی کہ اپنوں کے ساتھ زیادہ محبت اور زیادہ تعاون ہو بلکہ اس تمیز نے نفرت و عداوت ، تحقیر و تذلیل اور ظلم وستم کی بدترین شکلیں اختیار کی ہیں ۔ افریقہ اور امریکہ میں سیاہ فام لوگوں پر جو ظلم ڈھائے گئے ان کو آج بیسویں صدی میں بھی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے ۔ یورپ کے لوگوں نے امریکہ میں گھس کر ریڈ انڈین لوگوں کی جس طرح نسل کشی کی اور ایشیا اور افریقہ کی کمزور قوموں کے ساتھ جو برتاؤ کیا اس کی تہہ میں یہی تصور کارفرما ہے کہ اپنے وطن اور اپنی قوم سے باہر پیدا ہونے والوں کی جان ومال اور آبرو ان پر مباح ہے اور انھیں حق پہنچتا ہے کہ ان کو لوٹیں ، غلام بنائیں اور ضرورت پڑے تو صفحہ ہستی سے مٹا دیں ۔ مغربی اقوام کی قوم پرستی اور نسلی برتری کے تصور نے پچھلی جنگ عظیم میں جو کرشمے دکھائے ہیں انھیں نگاہ میں رکھا جائے تو بآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کتنی عظیم اور تباہ کن گمراہی ہے جس کی اصلاح کے لیے قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی ہے ۔ اس مختصر سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین نہایت اہم اصولی حقیقتیں بیان فرمائی ہیں ۔ ایک یہ کہ ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے تمہاری پوری نوع وجود میں آئی ہے ۔ اور آج تمہاری جتنی نسلیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں وہ درحقیقت ایک ابتدائی نسل کی شاخیں ہیں جو ایک ماں اور ایک باپ سے شروع ہوئی تھی۔ اس سلسلہ تخلیق میں کسی جگہ بھی اس تفرقے اور اونچ نیچ کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے جس کے زعم باطل میں تم مبتلا ہو ۔ دوسرے یہ کہ اصل کے اعتبار سے ایک ہونے کے باوجود تمہارا قبیلوں اور قوموں میں تقسیم ہوجانا ایک فطری امر تھا نسل بڑھنے کے ساتھ ناگزیر تھا کہ بیشمار خاندان بنیں اور پھر خاندانوں سے قبائل اور اقوام وجود میں آئیں اسی طرح زمین کے مختلف خطوں میں آباد ہونے کے بعد رنگ ، خدوخال ، زبانیں اور طرز بود وباش بھی لامحالہ مختلف ہوجانے تھے ۔ مگر اس فطری فرق واختلاف کا تقاضہ یہ ہرگز نہ تھا کہ اس کی بنیاد پر اونچ نیچ اور برتر وکمتر کے امتیاز قائم کیے جائیں ۔ خالق نے جس وجہ سے انسانی گروہوں کو اقوام اور قبائل کی شکل میں مرتب کیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ان کے درمیان باہمی تعارف اور تعاون کی فطری صورت یہی ہے ۔ اسی طریقے سے وہ زندگی کے معاملات میں ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے ہیں ۔ یہ محض شیطانی جہالت ہے جس نے اس باہمی تعارف و تعاون کے ذریعے کو باہمی تفاخر اور تنافر کا ذریعہ بنادیا اور پھر نوبت ظلم وعدوان تک پہنچا دی ۔ تیسرے یہ کہ انسان اور انسان کے درمیان فضیلت اور برتری کی کوئی بنیاد اگر ہے اور ہوسکتی ہے تو وہ صرف اخلاقی فضیلت ہے، ایک شخص برائیوں سے بچنے والا اور نیکی و پاکیزگی کی راہ پر چلنے والا ہے ، وہ اپنی ذاتی خوبی کی بنا پر قابل قدر ہے خواہ وہ کسی نسل ، کسی قوم یا کسی ملک سے تعلق رکھتا ہو ۔ اور جس کا حال اس کے برعکس ہو وہ بہر حال ایک کمتر درجے کا انسان ہے چاہے وہ کالا ہو یا گورا مشرق میں پیدا ہو اہو یا مغرب میں ۔ یہی حقائق جو قرآں کی ایک مختصر سی آیت میں بیان کیے گئے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنے مختلف ارشادات میں زیادہ کھول کر بیان فرمایا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ نے فرمایا کہ لوگوں تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوئے ہیں ۔ ایک نیک اور پرہیزگار جو اللہ کی نگا ہ میں عزت والا ہے ۔ دوسرا فاجر اور شقی ، جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے ورنہ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ایک تقریر میں آپ نے فرمایا کہ لوگو خبردار رہو تم سب کا خدا ایک ہے ۔ کسی عرب کو کسی عجمی پر اور عجمی کو کسی عرب پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے مگر تقوی کے اعتبار سے ۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گا رہو ۔ ایک اور حدیث میں آپ کا ارشاد ہے کہ لوگ اپنے آباؤ و اجداد پر فخر کرنا چھوڑ دیں ورنہ وہ اللہ کی نگاہ میں ایک حقیر کیڑے سے زیادہ حقیر ہوں گے ۔ یہ تعلیمات صرف الفاظ کی حد تک ہی محدود نہیں رہی ہیں بلکہ اسلام نے ان کے مطابق اہل ایمان کی ایک عالمگیر برادری عملا قائم کرکے دکھا دی ۔ اسلام کے مخالفین تک کو یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ انسانی مساوات کے اصول کو جس کامیابی کے ساتھ مسلم معاشرے میں عملی شکل دی گئی اس کی کوئی نظیر دنیا کے کسی دین اور کسی نظام میں نہیں پائی جاتی ، نہ کبھی پائی گئی ہے ، صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس نے روئے زمین کے تمام گوشوں میں پھیلی ہوئی بیشمار نسلوں اور قوموں کو ملا کر ایک امت بنادیا ہے۔ (تفہیم القرآن ۔ ج 5 ۔ ص 95 تا 99 سے ماخوذ )
Ayah 49:14

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

یہ بدوی کہتے ہیں کہ "ہم ایمان لائے" اِن سے کہو، تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ "ہم مطیع ہو گئے" ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا، یقیناً اللہ بڑا در گزر کرنے والا اور رحیم ہے

قَالَتِ الْاَعْرَابُ [ کہا بدو لوگوں نے ] اٰمَنَّا ۭ [ ہم ایمان لائے ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّمْ تُؤْمِنُوْا [ تم لوگ ایمان نہیں لائے ] وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا [ اور لیکن (بلکہ ) تم لوگ (یوں ) کہو ] اَسْلَمْنَا [ ہم فرمانبردار ہوئے ] وَلَمَّا يَدْخُلِ [ اور ابھی تک داخل نہیں ہوا ] الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ [ ایمان تمہارے دلوں میں ] وَاِنْ تُطِيْعُوا [ اور اگر تم لوگ اطاعت کروگے ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [ اللہ اور اس کے رسول کی ] لَا يَـلِتْكُمْ [ تو وہ کم نہیں کرے گا تمہارے لیے ] مِّنْ اَعْمَالِكُمْ [ تمہارے اعمال میں سے ] شَـيْـــــًٔا ۭ [ کچھ بھی ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] ل ی ت : (ض) لیتا ۔ کسی سے کسی چیز کو پھیر دینا ۔ روک لینا ، حق سے کم دینا ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 14 ۔ لیت ۔ یہ حرف تمنی ہے۔ گذشتہ کوتاہی پر اظہار تاسف کے لیے آتا ہے ۔ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا [ اے کاش میں ہوتا ایک مٹی ] ۔ 78:40 ۔ (آیت ۔ 14) لما یہاں پر جازم مضارع کے طور پر آیا ہے اس لیے یہ لما یدخل ہے جسے آگے ملانے کے لیے لام کو کسرہ دی گئی ہے ۔ یہ لم یدخل سے مختلف ہے ۔ لم یدخل کا مطلب ہے داخل ہوا ہی نہیں ۔ جبکہ لما یدخل کے معنی ہیں ابھی تک داخل نہیں ہوا ۔ لایلتکم بھی دراصل مضارع لا یلیتکم ہے ۔ جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا تو یا گرگئی اور لایلت استعمال ہوا ۔ نوٹ ۔ 2 : آیت ۔ 14 ۔ میں اسلام کے لغوی معنی مراد ہیں، اصلاحی معنی مراد نہیں ہیں ۔ اصطلاحی ایمان اور اصطلاحی اسلام اگر چہ معنی و مفہوم کے اعتبار سے الگ الگ ہیں ، کہ ایمان اصطلاح شرع میں تصدیق قلبی کا نام ہے اور اسلام نام ہے اعمال ظاہر ہ میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کا لیکن شریعت میں تصدیق قلبی اس وقت تک قابل اعتبار نہیں جب تک اس کا اثر اعمال و افعال تک نہ پہنچ جائے ۔ اسی طرح اسلام اگرچہ اعمال ظاہرہ کا نام ہے لیکن شریعت میں اس وقت معتبر نہیں جب تک کہ دل میں تصدیق نہ آجائے ورنہ وہ نفاق ہے ۔ اس لحاظ سے اسلام اور ایمان مبدا (ابتدا ہونے کی جگہ ) اور منتہی (انتہا تک پہنچنے کی جگہ ) کے اعتبار سے تو الگ الگ ہیں کہ ایمان باطن اور قلب سے شروع ہو کر ظاہرا اعمال تک پہنچتا ہے اور اسلام افعال ظاہرہ سے شروع ہو کر باطن کی تصدیق تک پہنچتا ہے مگر مصداق کے اعتبار سے یہ دونوں لازم وملزوم ہیں کہ ایمان اسلام کے بغیر اور اسلام ایمان کے بغیر معتبر نہیں ۔ شریعت میں یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص مسلم تو ہو مومن نہ ہو یا مومن ہو مسلم نہ ہو ۔ مگر یہ کلام اصطلاحی ایمان واسلام میں ہے۔ لغوی معنی کے اعتبار سے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص مسلم ہو مومن نہ ہو جیسا کہ تمام منافقین کا یہی حال تھا ۔ (معارف القرآن )
Ayah 49:15

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے لوگ ہیں

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ [ کچھ نہیں سوائے اس کے وہ ایمان لانے والے جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [ اللہ اور اس کے رسول پر ] ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا [ پھر وہ شبہہ میں پڑے ہی نہیں ] وَجٰهَدُوْا [اور انہوں نے جدوجہد کی ] بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ [ اپنے مالوں اور اپنی جانوں (وقت اور صلاحیت ) سے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی راہ میں ] اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ [یہ لوگ ہی سچ کہنے والے ہیں ] نوٹ۔ 3: آیت ۔ 15 پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہاں وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ مومنین کے عدم تذبذب کی شہادت کے طور پر آیا ہے ایک شخص اگر ایک نصب العین کے لیے جان ومال کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا تو یہ ایک ناقابل انکار شہادت اس بات کی ہے کہ اس کو اپنے نـصب العین کی صداقت پر پورا یقین ہے ۔ اور اگر وہ اس کی خاطر نہ مال قربان کرنے پر تیار ہے نہ اپنی جان کو کسی خطرے میں ڈالنے کا حوصلہ رکھتا ہے ، تو وہ اپنے نصب العین کے عشق میں کتنی ہی لاف زنی کرے لیکن اس کا عمل گواہی دے رہا ہے کہ وہ اس کے باب میں ابھی مبتلائے شک میں ہے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن (مدعیان ایمان) سے کہو، کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے

قُلْ [ آپ کہیے ] اَتُعَلِّمُوْنَ [ کیا تم لوگ علم دیتے ہو ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] بِدِيْنِكُمْ ۭ [ اپنے دین کے بارے میں ] وَاللّٰهُ يَعْلَمُ [ حالانکہ اللہ جانتا ہے ] مَا فِي السَّمٰوٰتِ [ اس کو جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ [ اور اس کو زمین میں ہے ] وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ [ اور اللہ ہر چیز کو ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 49:17

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ اِنہوں نے اسلام قبول کر لیا اِن سے کہو اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم واقعی اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو

يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ [ یہ لوگ احسان رکھتے ہیں آپ پر ] اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ [کہ وہ لوگ فرمانبردار ہوئے ] قُلْ لَّا تَمُنُّوْا [آپ کہیے تم لوگ احسان مت رکھو ] عَلَيَّ [مجھ پر ] اِسْلَامَكُمْ ۚ [ اپنے فرمانبردار ہونے کا ] بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ [ بلکہ اللہ احسان رکھتا ہے ] عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ [ تم پر کہ اس نے ہدایت دی تم کو ] لِلْاِيْمَانِ [ ایمان لانے کی ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [سچ کہنے والے ]
Ayah 49:18

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اس کی نگاہ میں ہے

اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ [ یقینا اللہ جانتا ہے ] غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ آسمانوں اور زمین کے غیب کو ] وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ [ اور اللہ دیکھنے والا ہے ] بِمَا تَعْمَلُوْنَ [اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ]