48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 48:1

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

اے نبیؐ، ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کر دی

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ [ بیشک ہم نے فیصلہ کیا آپ کے لیے ] فَتْحًا مُّبِيْنًا [ ایک کھلا فیصلہ ] نوٹ۔ ا : اس سورة میں متعدد واقعات کی طرف اشارے ہیں ۔ ان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سورة کے نزول کے وقت کے سیاسی حالات ذہن میں واضح ہوں ۔ اس لیے پہلے ان حالات کو سمجھ لیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ معظمہ تشریف لے گئے ہیں اور وہاں عمرہ ادا فرمایا ہے۔ نبی کا خواب وحی کی اقسام میں سے ایک قسم ہے اور آگے چل کر آیت ۔ 27 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے خود توثیق کردی ہے کہ یہ خواب ہم نے دیکھایا تھا ۔ اس لیے یہ ایک الہی اشارہ تھا جس کی پیروی کرنا ضروری تھا ۔ جبکہ بظاہر اسباب اس ہدایت پر عمل کرنا ممکن نظر نہیں آتا تھا ۔ قریش نے چھ سال سے مسلمانوں کے لیے بیت اللہ کا راستہ بند کر رکھا تھا ۔ اب یہ توقع کیسے کی جاسکتی تھی ۔ کہ وہ آپ اور صحابہ کرام ؓ اجمعین ، کو مکہ میں داخل ہونے دیں گے ۔ عمرے کے احرام باندھ کر جنگی سازوسامان کیساتھ نکلنا خود لڑائی کو دعوت دینا تھا ۔ اور غیر مسلح جانے کا مطلب اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنا تھا ۔ ان حالات میں کوئی شخص یہ نہ سمجھ سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس اشارے پر کیسے عمل کیا جائے ۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے اپنا خواب صحابہ کرام ؓ اجمعین کو سنا کر سفر کی تیاری شروع کردی اور آس پاس کے قبائل میں اعلان کرا دیا کہ جو ہمارے ساتھ چلنا چاہے وہ آجائے ۔ جن لوگوں کی نگاہ ظاہری اسباب پر تھی انہوں نے سمجھا کہ یہ لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں ۔ ان میں سے کوئی آپ کے ساتھ چلنے پر آمادہ نہ ہوا ۔ البتہ چودہ سو صحابہ کرام آپ کیساتھ اس نہایت خطرناک سفر پر جانے کے لیے تیار ہوگئے ۔ ذی القعدہ 6 ھ کے آغاز میں یہ قافلہ مدینہ سے روانہ ہوا قربانی کے لیے ستر اونٹ ساتھ لیے جن کی گردنوں میں ھدی کی علامت کے طور پر قلادے پڑے ہوئے تھے ۔ صرف ایک ایک تلوار رکھ رلی جس کی تمام زائریں حرم کو عرب کے معروف قاعدے کے مطابق اجازت تھی ۔ قریش کے لوگوں کو آپ کے اس اقدام نے سخت پریشانی میں ڈال دیا ، ذی القعدہ کا مہینہ ان مہینوں میں سے تھا جو حج و زیارت کے لیے محترم سمجھے جاتے تھے ، قریش کے لوگ اس الجھن میں پڑگئے کہ اگر ہم اس قافلے پر حملہ کرکے اسے مکہ میں داخل ہونے سے روکتے ہیں تو یہ ایسی غلطی ہوگئی جس سے سارا عرب ہم سے منحرف ہوجائے گا کہ ہم جس سے بھی ناراض ہوں گے اسے بیت اللہ کی زیارت سے اسی طرح روک دیں گے ۔ لیکن اگر ہم اس قافلہ کو اپنے شہر میں داخل ہونے دیتے ہیں تو ہماری ہوا اکھڑ جائے گی ، آخرکار بڑی شش وپنج کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ کسی قیمت پر بھی اس قافلے کو اس شہر میں داخل ہونے نہیں دیں گے ۔ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی کہ قریش نے آپ کا راستہ روکنے کے لیے خالد بن ولید کو دو سو سواروں کا دستہ دے کر آگے بھیج دیا ہے۔ قریش کی چال یہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح چھیڑ چھاڑ کرکے صحابہ کو اشتعال دلایا جائے۔ پھر اگر لڑائی ہوجائے تو مشہور کردیں کہ یہ لوگ دراصل لڑنے کے لیے آئے تھے اور احرام دھوکہ دینے کے لیے باندھ رکھا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ اطلاع پاتے ہی راستہ بدل دیا اور ایک نہایت دشوار گزار راستہ سے حدبیہ کے مقام پر پہنچ گئے جو عین حرم کی سرحد پر واقع ہے ۔ قریش نے یکے بعد دیگرے تین سرداروں کو بھیجا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو واپس جانے پر آمادہ کریں تینوں نے دیکھ لیا کہ یہ لوگ لڑنے کے لیے نہیں بلکہ بیت اللہ کا طواف کرنے کے لیے آئے ہیں تو ان تینوں نے قریش کے سرداروں کو مشورہ دیا کہ وہ ان زائرین حرم کا راستہ نہ روکیں ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے حضرت عثمان ؓ کو ایلچی بنا کر مکہ بھیجا کہ ہم جنگ کے لیے نہیں بلکہ زیارت کے طواف اور قربانی کرکے واپس چلے جائیں گے ، مگر وہ لوگ نہ مانے اور حضرت عثمان کو مکہ ہی میں روک لیا ، اس دوران یہ خبر اڑ گئی کہ حضرت عثمان قتل کردئیے گئے ہیں ۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا کہ مسلمان جنگ کے لیے تیار ہوجائیں چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے تمام ساتھیوں کو جمع کیا اور ان سے اس بات پر بیعت لی کہ اب یہاں سے ہم مرتے دم تک پیچھے نہ ہٹیں گے ۔ یہی وہ بیعت ہے جو بیعت رضوان کے نام سے تاریخ اسلام میں مشہور ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خبر غلط تھی، حضرت عثمان خود بھی واپس آگئے اور قریش کی طرف سے ایک وفد صلح کی بات چیت کرنے کے لیے آیا ۔ طویل گفت و شنید کے بعد جن شرائط پر صلح نامہ لکھا گیا وہ یہ تھیں ۔ (1) دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی ۔ (2) اس دوران جو شخص بھاگ رسول اللہ ﷺ کے پاس جائے گا اسے وہ واپس کردیں گے اور آپ کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس چلا جائے گا اسے وہ واپس نہ کریں گے ۔ (3) قبائل عرب میں سے جو قبیلہ بھی فریقین میں سے کسی ایک کا بھی حلیف بن کر اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے گا اسے اس کا اختیار ہوگا ۔ (4) محمد اللہ ﷺ اس سال واپس جائیں گے اور آئندہ سال وہ عمرے کے لیے آکر تین دن مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں ۔ جس وقت اس معاہدے کی شرائط طے ہورہی تھیں ، مسلمانوں کا پورا لشکر سخت مضطرب تھا ، اس معاہدہ میں سب سے زیادہ دو باتیں لوگوں کو بری طرح کھل رہی تھیں ۔ ایک شرط نمبر 2 ۔ تھی اس کے لیے آپ نے فرمایا کہ جو ہمارے پاس سے بھاگ کر ان کے پاس چلا جائے وہ ہمارے کس کام کا ہے ۔ اللہ اسے ہم سے دور ہی رکھے ، اور جسے ہم واپس کریں گے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی کوئی دوسری صورت پیدا فرما دے گا ۔ دوسری چیز جو لوگوں کے دلوں میں کھٹک رہی تھی وہ چوتھی شرط تھی ، دلوں میں خلش تھی کہ ہم طواف کرنے لیے آئے تھے لیکن اب طواف کے بغیر واپس جانے کی شرط مان رہے ہیں ۔ گویا ہم ناکام واپس جارہے ہیں ۔ آپ نے لوگوں کو سمجھایا کہ خواب میں اسی سال طواف کرنے کی صراحت تو نہ تھی ۔ ان شاء اللہ اگلے سال طواف ہوگا ۔ اس کے بعد جب یہ قافلہ صلح حدیبیہ کو اپنی شکست اور ذلت سمجھتا ہوا مدینہ کی طرف واپس جارہا تھا تو راستہ میں یہ سورة نازل ہوئی جس نے مسلمانوں کو بتایا کہ یہ صلح جس کو وہ شکست سمجھ رہے ہیں دراصل فتح عظیم ہے۔ آپ نے سب کو جمع کرکے یہ سورة تلاوت فرمائی ، اگرچہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سن کر ہی مطمئن ہوگئے تھے، مگر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ اس صلح کے فوائد ایک ایک کرکے کھلتے چلے گئے وہ فوائد یہ تھے، (1) اب تک عربوں کی نگاہ میں مسلمانوں کی حیثیت قبائل عرب کے خلاف خروج کرنے والے ایک گروہ کی تھی اور وہ ان کو برادری سے باہر سمجھتے تھے، قریش نے یہ معاہدہ کرکے اسلامی ریاست کے وجود کو باقاعدہ تسلیم کرلیا اور قبائل عرب کے لیے یہ دروازہ بھی کھول دیا کہ ان دونوں سیاسی طاقتوں میں سے جس کیساتھ چاہیں حلیفانہ معاہدہ کرلیں ۔ مسلمانوں کے لیے زیارت بیت اللہ کا حق تسلیم کرکے قریش نے گویا یہ بھی مان لیا کہ اسلام کوئی بےدینی نہیں ہے اور دوسرے عربوں کی طرح اس کے پیرو بھی حج و عمرہ کے مناسک ادا کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔ اس سے اہل عرب کے دلوں میں وہ نفرت کم ہوگئی جو قریش کے پروپیگنڈا سے اسلام کے خلاف پیدا ہوئی تھی، (3) دس سال کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ہوجانے سے مسلمانوں کو امن میسر آگیا اور انہوں نے عرب میں چاروں طرف پھیل کر تیزی سے اسلام کی اشاعت کی ، صلح حدیبیہ سے پہلے ۔ 19 ۔ سال میں اتنے آدمی مسلمان نہ ہوئے تھے جتنے اس کے بعد دو سال کے اندر ہوگئے ۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور ﷺ کے ساتھ صرف چودہ سو آدمی تھے اور دو سال بعد جب حضور ﷺ نے مکہ پر چڑھائی کی تو دس ہزار کا لشکر آپ کے ساتھ تھا ۔ (4) جنگ بندی کے بعد رسول اللہ ﷺ کو یہ موقع مل گیا کہ اپنے مقبوضات میں اسلامی قوانین کے اجراء سے مسلم معاشرے کو ایک مکمل تہذیب و تمدن بنادیں (5) قریش سے صلح کے بعد جنوب کی طرف سے اطمینان نصیب ہوجانے کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں نے شمال عرب اور وسط عرب کی تمام مخالف طاقتوں کو بآسانی مسخر کرلیا صلح حدیبیہ کے تین ماہ بعد یہودیوں کا سب سے بڑا گڑھ خیبر فتح ہوگیا ۔ اور اس کے بعد تبوک تک کی متعدد یہودی بستیاں اسلام کے زیر نگین آتی چلی گئیں پھر وسط عرب کے وہ تمام قبلیے بھی ، جو قریش اور یہود کے ساتھ گٹھ جوڑ ررکھتے تھے ، ایک ایک کرکے تابع فرمان ہوگئے ۔ اس طرح حدیبیہ کی صلح نے دو ہی سال کے اندر عرب میں قوت کا توازن اتنا بدل دیا کہ اسلام کا غلبہ یقینی ہوگیا اس تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر اس سورة کو پڑھا جائے تو اسے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ (تفیہم القرآن ۔ ج 5 ۔ ص 34 تا 41 سے ماخوذ) نوٹ ۔ 2 صلح حدیبیہ کے سفر میں شامل چودہ سو صحابہ کرام وہ لوگ تھے جن کو سمجھانے والے سمجھاتے رہے کہ موت کے منہ میں مت جاؤ پھر بھی یہ لوگ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر موت کے منہ میں جانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کے جوش وجذبہ کا کیا عالم تھا، پھر ان کا یہ جوش وجذبہ اپنی آخری انتہا کو پہنچ گیا ۔ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی کہ مرتے دم تک پیچھے نہیں ہٹیں گے ، اس کے فورا بعد صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوتا ہے ۔ اس ذہنی اور جذباتی کیفیت میں ان ہتک آمیز شرائط کو تسلیم کرنا اور عمرہ کیے بغیر مدینہ کی طرف واپسی کا سفر اختیار کرنا ایک معجزہ نظر آتا ہے اور بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ کی خصوصی توفیق کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 4 ۔ میں اسی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کے دلوں میں سکینہ نازل کی ۔ (حافظ احمد یار صاحب کی کیسٹ سے ماخوذ ) اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں فیضان محبت عام تو ہے عرفان محبت عام نہیں ۔
Ayah 48:2

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے اور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے

لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ [ تاکہ معاف کرے آپ کے لیے اللہ ] مَا تَقَدَّمَ [ اس کو جو آگے ہوئی ] مِنْ ذَنْۢبِكَ [ آپ کی کمی بیشی میں سے ] وَمَا تَاَخَّرَ [اور اس کو جو پیچھے رہی ] وَيُتِمَّ [ اور تاکہ وہ تمام کرے ] نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ [ اپنی نعمت کو آپ پر ] وَيَهْدِيَكَ [ اور تاکہ وہ رہنمائی کرے آپ کی ] صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا [ ایک سیدھے راستے کی طرف ]
Ayah 48:3

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور تم کو زبردست نصرت بخشے

وَّيَنْصُرَكَ اللّٰهُ [ اور تاکہ مدد کرے آپ کی اللہ ] نَــصْرًا عَزِيْزًا [ ایک زبر دست مدد ] نوٹ ۔ 3 زیر مطالعہ آیت ۔ 6 ۔ میں اللہ کے بارے میں برا گمان کرنے والوں کا ذکر ہے ۔ اس میں منافقین کے ان گمانوں کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آگے آیت ۔ 12 ۔ میں کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اب واپس نہیں لوٹیں گے ۔ یہاں پر منافقین اور منافقات کے ساتھ مشرکین اور مشرکات کا جوڑ اس گہری قلبی وذہنی مماثلت کی بنا پر ہے جو دونوں کے درمیان پائی جاتی ہے ، جس طرح ایک مشرک اپنے رب کی بندگی کا مدعی ہوتے ہوئے دوسرے معبودوں کی پرستش کرتا ہے اسی طرح ایک منافق بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا مدعی ہوتے ہوئے اسلام کے مخالفین سے بھی گٹھ جوڑ رکھتا ہے اور اس کا رویہ وہ ہوتا ہے جس کی نشاندہی سورة محمد کی آیت ۔ 26 ۔ میں کیا گیا ہے ۔ کہ جن لوگوں نے اس کو پسند کیا جو اللہ نے نازل کیا ، ان لوگوں نے کہا کہ بعض معاملات میں ہم تمہارا کہا مانیں گے، اس اشتراک کی بنا پر قرآن نے نفاق کو شرک قرار دیا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 48:4

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں زمین اور آسمانوں کے سب لشکر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ علیم و حکیم ہے

هُوَ الَّذِيْٓ [وہ، وہ ہے جس نے ] اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ [ اتارا سکون کی کیفیت کو ] فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں کے دلوں میں ] لِيَزْدَادُوْٓا [ تاکہ وہ لوگ زیادہ ہوں ] اِيْمَانًا [ بلحاظ ایمان کے ] مَّعَ اِيْمَانِهِمْ ۭ [ اپنے ایمان کے ساتھ ] وَلِلّٰهِ [ اور اللہ ہی کے ہیں ] جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ زمین اور آسمانوں کے سارے لشکر ] وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا [اور اللہ علم والا ہے حکمت والا ہے ]
Ayah 48:5

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

(اُس نے یہ کام اِس لیے کیا ہے) تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لیے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اُن کی برائیاں اُن سے دور کر دے اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے

لِّيُدْخِلَ [ تاکہ وہ داخل کرے ] الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ [ مومن مردوں اور مومن خواتین کو ] جَنّٰتٍ [ایسے باغات میں ] تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ [ بہتی ہیں جن کے نیچے سے نہریں ] خٰلِدِيْنَ فِيْهَا [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ان میں ] وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ [ اور تاکہ وہ دور کردے ان سے ] سَيِّاٰتِهِمْ ۭ [ ان کی برائیوں کو ] وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ [ اور یہ ہے اللہ کے نزدیک ] فَوْزًا عَظِيْمًا [ ایک عظیم کامیابی ]
Ayah 48:6

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور اُن منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آ گئے، اللہ کا غضب ان پر ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم مہیا کر دی جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے

وَّيُعَذِّبَ [ اور تاکہ وہ عذاب دے ] الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ [ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو ] وَالْمُشْرِكِيْنَ وَالْمُشْرِكٰتِ [ اور شرک کرنے والے مردوں کو اور شرک کرنے والی عورتوں کو ] الظَّاۗنِّيْنَ بِاللّٰهِ [ گمان رکھنے والے اللہ کے بارے میں ] ظَنَّ السَّوْءِ ۭ [برائی کا گمان ] عَلَيْهِمْ دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ ۚ [ ان پر برائی کی گردش (آفت ) ہے ] وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ [ اور غضب کیا اللہ نے ان پر ] وَلَعَنَهُمْ [ اور اس نے لعنت کی ان کو ] وَاَعَدَّ لَهُمْ [ اور اس نے تیار کیا ان کے لیے ] جَهَنَّمَ ۭ [ جہنم کو ] وَسَاۗءَتْ [ اور وہ بری ہے ] مَصِيْرًا [بلحاظ لوٹنے کی جگہ کے ]
Ayah 48:7

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے

وَلِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ اور اللہ کے ہیں آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر ] وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا [ اور اللہ بالا دست ہے حکمت والا ہے ]
Ayah 48:8

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

اے نبیؐ، ہم نے تم کو شہادت دینے والا، بشارت دینے والا اور خبردار کر دینے والا بنا کر بھیجا ہے

اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ [بیشک ہم نے بھیجا آپ کو ] شَاهِدًا [ گواہ ہوتے ہوئے ] وَّمُبَشِّرًا [ اور بشارت دینے والا ] وَّنَذِيْرًا [ اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ]
Ayah 48:9

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ اے لوگو، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اُس کا ساتھ دو، اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو

لِّتُؤْمِنُوْا [ تاکہ تم لوگ ایمان لاؤ] بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [ اللہ پر اور اس کے رسول پر ] وَتُعَزِّرُوْهُ [ اور تاکہ تم لوگ تقویت دو ان کو ] وَتُوَقِّرُوْهُ ۭ [ اور تعظیم کرو ان کی ] وَتُسَـبِّحُوْهُ [ اور تاکہ تم لوگ تسبیح کرو اس (اللہ ) کی ] بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا [ صبح وشام ]
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

اے نبیؐ، جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا اب جو اس عہد کو توڑے گا اُس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا، اور جو اُس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا

اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ [ بیشک جو لوگ بیعت کرتے ہیں آپ سے ] اِنَّمَا [ (تو ) کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ ۭ [ وہ لوگ بیعت کرتے ہیں اللہ سے ] يَدُ اللّٰهِ [ اللہ کا ہاتھ ] فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ۚ [ ان کے ہاتھوں کے اوپر (ہوتا ) ہے ] فَمَنْ نَّكَثَ [ پھر جس نے عہد شکنی کی ] فَاِنَّمَا يَنْكُثُ [ تو وہ تو بس عہد شکنی کرتا ہے ] عَلٰي نَفْسِهٖ ۚ [ اپنے آپ کے خلاف ] وَمَنْ اَوْفٰى [ اور جس نے پورا کیا ] بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ [ اس کو اس نے معاہدہ کیا جس پر ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] فَسَيُؤْتِيْهِ [ تو وہ (اللہ ) دے گا اس کو ] ااَجْرًا عَظِيْمًا [ ایک اجر عظیم ] ترکیب : (آیت ۔ 10) یہاں علیہ اللہ آیا ہے جبکہ عربی قاعدے کے مطابق اسے علیہ اللہ ہونا چاہیے تھا ، یہ قرآن مجید کی خصوصیت ہے کہ اس مقام پر اس کو علیہ کے بجائے علیہ پڑھا اور لکھا جاتا ہے ۔ متعدد مقامات پر اس نوعیت کی خصوصیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے بزرگوں کو قرآن مجید جیسا ملا تھا ۔ انہوں نے اسے بالکل اسی طرح ہم تک پہنچایا ہے ۔ اور قرآن مجید میں زبر زیر پیش تک کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ، نوٹ۔ 1 آیت ۔ 10 ۔ کو عام طور پر بیعت رضوان سے متعلق سمجھا گیا ہے ۔ حالانکہ اس کو بیعت رضوان سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ بیعت رضوان کا ذکر آگے آرہا ہے ۔ یہاں سمع و طاعت کی اس عام بیعت کا ذکر ہے ہر ایمان لانے والا رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر کرتا تھا ۔ یہاں اس کی عظمت اور اس کی ذمہ داریاں منافقین کو غیرت دلانے کے لیے بیان کی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت تو کربیٹھے لیکن جب اس کے مطالبات پورے کرنے کا وقت آیا تو منہ چھپاتے پھرتے ہیں ۔ ان پر یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت درحقیقت اللہ تعالیٰ سے معاہدہ ہے۔ اگر کوئی اس کی ذمہ داریوں سے گریز کرتا ہے تو وہ اللہ سے کیے ہوئے معاہدے کو توڑتا ہے جس کا انجام دنیا اور آخرت میں رسوائی ہے۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2: اسی آیت ۔ 10 میں علیہ اللہ کی ضمیر پر جو ضمہ (پیش) ہے اس کی بنا پر بعض مستشرقین نے قرآن کی نحو (گرامر ) پر اعتراض کیا ہے ان بیچاروں کو پتہ نہیں ہے کہ گرامر کی کتابیں قرآن کے اسلوب واعراب کو پرکھنے کے لیے کسوٹی نہیں ہیں بلکہ قرآن گرامر کی کتابوں کو جانچنے کی لیے کسوٹی ہے کیونکہ قرآن قریش کی ٹکسالی زبان کا سب سے اعلی نمونہ ہے اور ہر پہلو سے محفوظ ہے ۔ اس وجہ سے اس کی اگر کوئی گرامر کے خلاف نظر آئے گی تو اسے قرآن کے نقص پر نہیں بلکہ گرامر مرتب کرنے والوں کے نقص پر محمول کریں گے۔ فصیح عربی میں آہنگ وصوت کے تقاضوں کے تحت بھی الفاظ، حروف اور ضمیروں پر ایسے ایسے تصرفات ہوئے ہیں کے اگر کسی شخص کا علم صرف گرامر کی کتابوں ہی تک محدود ہو تو وہ ان کا احاطہ نہیں کرسکتا ۔ قرآن میں متعدد مثالیں ایسی موجود ہیں کہ ضمیر لفظ کے اندر بالکل مدغم ہو کے رہ گئی ہے ۔ اس کی وجہ آہنگ وصوت کے تقاضے کے سوا اور کوئی نہیں ہے ۔ مثلا الاعراف کی آیت ۔ 111 ۔ اَرْجِهْ وَاَخَاهُ اسی طرح سورة نور کی آیت ۔ 52 ۔ يَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ قرآن کی آخری سورتوں میں بہت سی مثالیں ملیں گے کی صرف آہنگ وصوت کے تقاضے سے حروف ، الفاظ اور ضمیروں کی ہیت میں ایسی تبدیلیاں ہوگئی ہیں جن کی گرامر والے کوئی توجیہ نہیں کرپاتے۔ (تدبر قرآن ) اس نوٹ کو سمجھانے یا یوں کہہ لیں کہ ہضم کرانے کی غرض سے ہم آسان عربی گرامر کے پہلے باب ” تمہید “ سے ایک اقتباس نقل کررہے ہیں ۔ زبان پہلے وجود میں آجاتی ہے پھر بعد میں ضرورت پڑنے پر اس کے قواعد (گرامر) مرتب کیے جاتے ہیں ۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پہلے قواعد مرتب کرکے کوئی زبان وجود میں لائی گئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں ، لیکن قواعد معدودے چند کے ہی مرب کئے گئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی زبان کے قواعد اس زبان کے تمام الفاظ پر حاوی نہیں ہوتے بلکہ کچھ نہ کچھ الفاظ ضرور مستثنی ہوتے ہیں ۔ یہ مسئلہ ہر زبان کے ساتھ ہے۔ اس حوالہ سے اس تاریخی حقیقت کو ذہن نشین کرلیں کہ جب غیر عرب لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہونے لگے تو قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لیے نیز اس وقت کی سرکاری زبان ہونے کی وجہ سے ، ان لوگوں کو ضرورت پیش آئی کہ درسی طریقے سے یعنی قواعد (گرامر) کی مدد سے وہ عربی سیکھیں ۔ چناچہ اس وقت عربی گرامر مرتب کی گئی ہے ۔ اس سے پہلے اور خاص طور سے نزول قرآن کے وقت عربی گرامر کا کوئی وجود نہیں تھا ، البتہ قریش کی ٹکسالی زبان سے قریش کا بچہ بچہ واقف تھا ، اگر قرآن میں کوئی بات اس زبان کے اسلوب اور اس کے صوت و آہنگ کے خلاف ہوتی تو وہ لوگ لازما اس کو اچھالتے لیکن اس پہلو سے وہ قرآن کے کسی ایک مقام پر بھی انگلی نہ رکھ سکے، اب مغربی یونیورسٹیوں سے Ph.D کرنے والے ماہرین لسانیات میں سے کوئی اگر قرآن کے کسی مقام کو عربی گرامر کے خلاف قرار دے کر اسے قرآن کا نقص قرار دیتا ہے تو اس کی یہ بات یا تو بدنیتی پر مبنی ہے یا جہالت پر ۔ اس لیے مولانا اصلاحی نے کہا ہے کہ گرامر کی کتابیں قرآن کو پرکھنے کی کسوٹی نہیں ہیں بلکہ قرآن گرامر کی کتابوں کو چانچنے کے لیے کسوٹی ہے۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

اے نبیؐ، بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے اب وہ آ کر ضرور تم سے کہیں گے کہ "ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں" یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں ان سے کہنا "اچھا، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے

سَيَقُوْلُ لَكَ [ کہیں گے آپ سے ] الْمُخَلَّفُوْنَ [ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ ] مِنَ الْاَعْرَابِ [ بدو لوگوں میں سے ] شَغَلَتْنَآ [ مصروف کیا ہم نے ] اَمْوَالُنَا وَاَهْلُوْنَا [ ہمارے اموال اور ہمارے گھر والوں نے ] فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ [ تو آپ مغفرت مانگیں (اللہ سے ) ہمارے لیے ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ لوگ کہیں گے ] بِاَلْسِنَتِهِمْ [ اپنی زبانوں سے ] مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ ۭ [ وہ جو ان کے دلوں میں نہیں ہے ] قُلْ [آپ کہیے ] فَمَنْ يَّمْلِكُ لَكُمْ [ تو کون اختیار رکھتا ہے تمہارے لیے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ سے (بچانے کا ) ] شَـيْـــــًٔا [ ذرا سا بھی ] اِنْ اَرَادَ بِكُمْ [ اگر وہ ارادہ کرے تمہارے بارے میں ] ضَرًّا [ کسی نقصان کا ] اَوْ اَرَادَ بِكُمْ [ یا وہ ارادہ کرے تمہارے لیے ] نَفْعًا ۭ [ کسی نفع کا ] بَلْ كَانَ اللّٰهُ [ بلکہ اللہ ] بِمَا تَعْمَلُوْنَ [ اس سے جو تم لوگ کرتے ہو ] خَبِيْرًا [ باخبر ہے ] (آیت ۔ 11) اھل کی جمع سالم اھلون ، اھلین ، اھلین آتی ہے، یہاں فاعل ہونے کی وجہ سے یہ اھلون ہے ، مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہوا ہے اور نا کی ضمیر اس کا مضاف الیہ ہے۔
Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

(مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آ سکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کیے اور تم سخت بد باطن لوگ ہو"

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ [ بلکہ تم لوگوں نے گمان کیا کہ ] لَّنْ يَّنْقَلِبَ [ ہرگز نہیں پلٹیں گے ] الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ [ یہ رسول اور مومن لوگ ] اِلٰٓى اَهْلِيْهِمْ [ اپنے گھر والوں کی طرف ] اَبَدًا [ کبھی بھی ] وَّزُيِّنَ [ اور سجا دیا گیا ] ذٰلِكَ [ اس (خیال ) کو ] فِيْ قُلُوْبِكُمْ [ تمہارے دلوں میں ] وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ ښ [ اور تم لوگوں نے گمان کیا برائی کا گمان ] وَكُنْتُمْ [ اور تم لوگ تھے ہی ] قَوْمًۢا بُوْرًا [ایک تباہ ہونے والی قوم ]
Ayah 48:13

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے

وَمَنْ لَّمْ يُؤْمِنْۢ [اور جو ایمان لایا ہی نہیں ] بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [ اللہ پر اور اس کے رسول پر ] فَاِنَّآ اَعْتَدْنَا [ تو بیشک ہم نے تیار کیا ] لِلْكٰفِرِيْنَ سَعِيْرًا [ کافروں کے لیے ایک بھڑکتی آگ ]
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے، اور وہ غفور و رحیم ہے

وَلِلّٰهِ [ اور اللہ ہی کی ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ زمین اور آسمانوں کی حکومت ] يَغْفِرُ [ وہ بخش دیتا ہے ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] وَيُعَذِّبُ [ اور وہ عذاب دیتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ [ اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] وَكَانَ اللّٰهُ [ اور اللہ ہے ] غَفُوْرًا [ بےانتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ہمیشہ رحم کرنے والا ]
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں اِن سے صاف کہہ دینا کہ "تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے" یہ کہیں گے کہ "نہیں، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو" (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں

سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ [ کہیں گے پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ ] اِذَا انْــطَلَقْتُمْ [ جب تم لوگ روانہ ہوگے ] اِلٰى مَغَانِمَ [ غنیمت والے مالوں کی طرف ] لِتَاْخُذُوْهَا [ تاکہ تم لوگ حاصل کرو ان کو ] ذَرُوْنَا [ تم لوگ چھوڑو ہم کو ] نَتَّبِعْكُمْ ۚ [ تو تم تمہارے پیچھے (ساتھ ) چلیں گے ] يُرِيْدُوْنَ [ وہ لوگ چاہیں گے ] اَنْ يُّبَدِّلُوْا [ کہ وہ بدل دیں ] كَلٰمَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے فرمان کو ] قُلْ [آپ کہہ دیجئے ] لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا [ تم لوگ ہمارے پیچھے ہرگز نہیں چلو گے ] كَذٰلِكُمْ [ اس طرح ] قَالَ اللّٰهُ [ کہا اللہ نے ] مِنْ قَبْلُ ۚ [ پہلے سے ] فَسَيَقُوْلُوْنَ [ تو وہ کہیں گے ] بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا ۭ [ بلکہ تم لوگ حسد کرتے ہو ہم سے ] بَلْ كَانُوْا [ بلکہ وہ (ایسے ) ہیں ] لَا يَفْقَهُوْنَ [ جو سمجھتے نہیں ہیں ] اِلَّا قَلِيْلًا [مگر تھوڑا سا ]
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

اِن پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ "عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہو جائیں گے اُس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم پھر اُسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا

قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لِّـلْمُخَلَّفِيْنَ [ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگوں سے ] مِنَ الْاَعْرَابِ [ بدو لوگوں میں سے ] سَـتُدْعَوْنَ [ تم لوگ بلائے جاؤگے ] اِلٰى قَوْمٍ [ ایک ایسی قوم کی طرف جو ] اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ [ سخت لڑائی والی ہے ] تُقَاتِلُوْنَهُمْ [ تم لوگ قتال کرو گے ان سے ] اَوْ يُسْلِمُوْنَ ۚ [ یا وہ تابعدار ہوں گے ] فَاِنْ تُطِيْعُوْا [ پھر اگر تم لوگ فرمانبرداری کروگے ] يُؤْتِكُمُ اللّٰهُ [ تو دے گا تمہیں اللہ ] اَجْرًا حَسَـنًا ۚ [ ایک خوبصورت اجر ] وَاِنْ تَتَوَلَّوْا [ اور اگر تم لوگ روگردانی کروگے ] كَمَا [ اس کے مانند جو ] تَوَلَّيْتُمْ [ تم نے روگردانی کی ] مِّنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] يُعَذِّبْكُمْ [ تو وہ عذاب دے گا تم کو ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا [ایک درد ناک عذاب ] نوٹ۔ 1: ان آیات میں اس واقعہ کا ذکر ہے جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد پیش آیا تھا رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کا ارادہ فرمایا تو صرف ان لوگوں کو ساتھ لیا جو سفر حدیبیہ اور بیعت رضوان میں شریک تھے ۔ اس وقت دیہات کے وہ لوگ جو سفر حدیبیہ میں پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے بھی جہاد خیبر میں ساتھ چلنے کا ارادہ کیا ۔ ان کے جواب میں قرآن نے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے کلام یعنی حکم کو بدلنا چاہتے ہیں ۔ اور اس حکم سے مراد غزوہ خیبر اور اس کے مغانم کا صرف اہل حدیبیہ کے ساتھ مخصوص ہونا ہے، مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں تو کہیں اس تخصیص کا ذکر نہیں ہے ۔ پھر اس وعدہ کو کلام اللہ اور قال اللہ کہنا کیسے درست ہوا ، یہ وعدہ وحی غیر متلو کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا تھا ، اسی کو اس جگہ کلام اللہ اور قال اللہ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ احکام قرآن کے علاوہ جو احکام احادیث میں مذکور ہیں وہ بھی اس آیت کی تصریح کے مطابق کلام اللہ اور قول اللہ میں داخل ہیں ۔ رہا یہ معاملہ کہ اس سورة میں تفحا قریبا کے الفاظ موجود ہیں اور باتفاق مفسرین یہاں فتح قریب سے فتح خیبر مراد ہے ، تو اس طرح قرآن میں فتح خیبر کا اور اس کے غنائم کا اہل حدیبیہ کو ملنے کا وعدہ آگیا ، وہی کلام اللہ اور قال اللہ کی مراد ہوسکتے ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں غنیمت کا وعدہ تو ہے مگر اس کا کہیں ذکر نہیں کہ یہ غنیمت اہل حدیبیہ کے ساتھ مخصوص ہوگی اور دوسرے اس میں شریک نہ ہوسکیں گے یہ تخصیص تو بلاشبہ حدیث سے ہی معلوم ہوئی ہے اور وہی کلام اللہ اور قال اللہ کا مصداق ہے۔ بعض حضرات نے سورة توبہ کی آیت ۔ 83 کو اس کا مصداق قرار دیا ہے ۔ وہ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت غزوہ تبوک کے متعلق ہے جو غزوہ خیبر کے بعد 9 ھ میں ہوا ہے (معارف القرآن ) نوٹ ۔ 2: سفر حدیبیہ سے کچھ ہی پہلے غزوہ احزاب (جنگ خندق ) ہوچکا تھا ۔ یہ غزوہ خیبر کے یہودیوں کی تحریک پر ہوا تھا ۔ انہوں نے قریش اور عرب کے تقریبا تمام بڑے بڑے قبیلوں کو اکٹھا کرکے ان کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیا تھا ، اس لشکر کی تعداد تقریبا دس بارہ ہزار تھی اور عرب کی تاریخ میں اس سے پہلے اتنا بڑا لشکر کبھی نہیں بنا تھا ، یہودیوں کے اس تاریخی کارنامے پر ان کو سزا دینا ضروری تھا ۔ صلح حدیبیہ کی بعد صورت حال یہ بن گئی تھی کہ اب اگر مسلمان یہودیوں کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کرتے ہیں تو قریش اور اس کے حلیف قبیلے یہودیوں کی کوئی مدد نہیں کرسکتے تھے، لیکن اگر قریش اور یہودیوں کے درمیان حلیفانہ معاہدہ ہوجاتا تو پھر مسلمان دس سال تک یہودیوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرسکتے تھے اس لیے حدیبیہ سے واپسی کے فورا بعد رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کا فیصلہ کرلیا (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماخوذ)
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

اگر اندھا اور لنگڑا اور مریض جہاد کے لیے نہ آئے تو کوئی حرج نہیں جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور جو منہ پھیرے گا اسے وہ دردناک عذاب دے گا"

لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى [ نہیں ہے اندھے پر ] حَرَجٌ [ کوئی گناہ ] وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ [ اور نہ لنگڑے پر ] حَرَجٌ [ کوئی گناہ ہے ] وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ ۭ [ اور نہ مریض پر کوئی گناہ ہے ] وَمَنْ يُّطِعِ [ اور جو اطاعت کرے گا ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [ اللہ اور اس کے رسول کی ] يُدْخِلْهُ [ تو وہ داخل کرے گا اس کو ] جَنّٰتٍ [ ایسے باغات میں ] تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا [ بہتی ہیں جن کے نیچے سے ] الْاَنْهٰرُ ۚ [ نہریں ] وَمَنْ يَّتَوَلَّ [اور جو روگردانی کرے گا ] يُعَذِّبْهُ [ تو وہ عذاب دے گا اس کو ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا [ ایک دردناک عذاب ]
Ayah 48:18

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

اللہ مومنوں سے خوش ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے ان کے دلوں کا حال اُس کو معلوم تھا، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی

لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ [ بیشک راضی ہوگیا اللہ ] عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ان مومنوں سے ] اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ [ جب وہ بیعت کرتے تھے آپ سے ] تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ اس درخت کے نیچے ] فَعَلِمَ [ تو اس نے جانا ] مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ اس کو جو ان کے دلوں میں تھا ] فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ [ تو اس نے اتاری سکون کیفیت ان پر ] وَاَثَابَهُمْ [ اور اس نے بدلے میں دیا ان کو ] فَتْحًا قَرِيْبًا [ ایک قریبی فتح ]
Ayah 48:19

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سا مال غنیمت انہیں عطا کر دیا جسے وہ (عنقریب) حاصل کریں گے اللہ زبردست اور حکیم ہے

وَّمَغَانِمَ كَثِيْرَةً [ اور بہت سی غنیمتیں کا ] [يَّاْخُذُوْنَهَا ۭ : تم لوگ حاصل کرو گے جن کو ] [وَكَانَ اللّٰهُ : اور اللہ ہے ] [عَزِيْزًا حَكِيْمًا : بالادست حکمت والا ]
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ تم سے بکثرت اموال غنیمت کا وعدہ کرتا ہے جنہیں تم حاصل کرو گے فوری طور پر تو یہ فتح اس نے تمہیں عطا کر دی اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیے، تاکہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے اور اللہ سیدھے راستے کی طرف تمہیں ہدایت بخشے

[وَعَدَكُمُ اللّٰهُ : وعدہ کیا تم لوگوں سے اللہ نے ] [مَغَانِمَ كَثِيْرَةً : بہت سی غنیمتوں کا ] تَاْخُذُوْنَهَا [ تم لوگ حاصل کرو گے جن کو ] فَعَجَّلَ لَكُمْ [ پھر اس نے جلدی کردیا تمہارے لئے ] هٰذِهٖ [ اس (غنیمت ) کو ] وَكَفَّ [ اور اس نے باندھ دیا ] اَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ ۚ [ لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے ] وَلِتَكُوْنَ اٰيَةً [ اور تاکہ یہ (غنیمت ) ہوجائے ایک نشانی ] لِّــلْمُؤْمِنِيْنَ [ ان (سفر حدیبیہ والے ) مومنون کے لئے ] وَيَهْدِيَكُمْ [ اور تاکہ وہ رہنمائی کرے تمہاری ] صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا [ ایک سیدھے راستے کی ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 18 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے اس بیعت کے شرکاء سے اپنی رضا کا اعلان فرما دیا ہے ۔ اسی لیے اس کو بیعت رضوان کہتے ہیں، اس بیعت کے شرکاء کی مثال شرکاء غزوہ بدر کی سی ہے ۔ جیسا ان کے متعلق قرآن وحدیث میں رضائے الہی اور جنت کی بشارتیں ہیں اسی طرح بیعت رضوان کے لیے بھی یہ بشارت آئی ہے۔ شجرہ جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے ۔ ایک ببول کا درخت تھا ۔ مشہور یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کچھ لوگ وہاں چل کرجاتے اور اس درخت کے نیچے نمازیں پڑھتے تھے۔ صحیحین میں ہے کہ حضرت طارق بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے لیے گیا ، راستے میں میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو ایک مقام پر جمع تھے اور نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون سی مسجد ہے ۔ انہوں نے کہا یہ وہ درخت ہے جس کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی ، اس کے بعد میں حضرت سعید بن مسیب کے پاس حاضر ہوا اور ان کو اس واقعہ کی خبر دی ، انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں تھے جو اس بیعت میں شریک تھے ۔ انھوں نے مجھ سے فرمایا کہ جب ہم اگلے سال مکہ مکرمہ حاضر ہوئے تو ہم نے وہ درخت تلاش کیا لیکن ہمیں بھول ہوگئی اور اس کا پتہ نہیں لگا ۔ پھر حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا کہ صحابہ جو خود اس بیعت میں شریک تھے ، ان کو تو پتہ نہیں لگا اور تمہیں وہ معلوم ہوگیا ۔ عجیب بات ہے ، کیا تم ان سے زیادہ واقف ہو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعد میں لوگوں نے محض اپنے تخمینہ اور اندازہ سے کسی درخت کو متعین کرلیا اور اس کے نیچے حاضر ہونا اور نمازیں پڑھنا شروع کردیا ۔ حضرت عمر ؓ کو معلوم تھا کہ یہ وہ درخت نہیں ہے ۔ پھر خطرہ ابتلائے شرک کا لاحق ہوگیا ۔ اس لیے اس درخت کو کٹوا دیا ہو تو کیا بعید ہے۔ مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس آیت میں فتحا قریبا سے مراد فتح خیبر ہے ، خیبر درحقیقت ایک صوبہ کا نام ہے جس میں بہت سی بستیاں اور قلعے اور باغات شامل ہیں ابن اسحاق کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ ذی الحج 6 ھ میں حدیبیہ سے واپس مدینہ تشریف لائے ، محرم 7 ھ میں آپ غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے ۔ اور ماہ صفر 7 ھ میں خیبر فتح ہوا ۔ (معارف القرآن ) نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 20 ۔ میں کف ایدی الناس عنکم کے الفاظ آئے ہیں ۔ یہاں الناس سے مراد قریش ہیں ۔ معاہدہ حدیبیہ میں دونوں فریق یعنی مسلمان اور قریش یہ پابندی قبول کرچکے تھے کہ دس سال تک ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگی اقدام نہیں کریں گے ۔ اس سے مسلمانوں کو یہ فائدہ پہنچا کہ انھیں خیبر کے یہودیوں کے خلاف اقدام کرنے کا اچھا موقع مل گیا اور یہ خیال کرکے کہ اب انکو قریش کی پشت پناہی نہیں حاصل ہوسکے گی ، یہودی بڑی جلدی حوصلہ ہار بیٹھے اس طرح یہ بات ثابت ہوگئی کہ معاہدہ حدیبیہ مسلمانوں کی شکست نہیں بلکہ ایک فتح عظیم اور آئندہ کی فتوحات کا دیباچہ ہے۔
Ayah 48:21

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اِس کے علاوہ دوسرے اور غنیمتوں کا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی تک قادر نہیں ہوئے ہو اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَّاُخْرٰى [ اور کچھ دوسری (غنیمتیں بھی ) ] لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا [ تم لوگوں نے قابوا نہیں پایا جن پر (ابھی ) ] قَدْ اَحَاطَ [ احاطہ کرلیا ہے ] اللّٰهُ بِهَا ۭ [ اللہ نے ان کا ] وَكَانَ اللّٰهُ [ اور اللہ ہے ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرًا [قدرت رکھنے والا ]
Ayah 48:22

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

یہ کافر لوگ اگر اِس وقت تم سے لڑ گئے ہوتے تو یقیناً پیٹھ پھیر جاتے اور کوئی حامی و مددگار نہ پاتے

وَلَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِيْنَ [ اور اگر وہ لوگ جنگ کرتے تم سے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ [ تو وہ ضرور پھیر لیتے پیٹھوں کو ] ثُمَّ لَا يَجِدُوْنَ [ پھر وہ لوگ نہ پاتے ] وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا [ کوئی کارساز اور نہ کوئی مدد گار ]
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آ رہی ہے اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے

سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ [ اللہ کی وہ سنت ہوتے ہوئے جو ] قَدْ خَلَتْ [ گزر چکی ہے ] مِنْ قَبْلُ ښ [ اس سے پہلے ] وَلَنْ تَجِدَ [ اور آپ ہرگز نہیں پائیں گے ] لِسُـنَّةِ اللّٰهِ [ اللہ کی سنت کے لئے ] تَبْدِيْلًا [کوئی تبدیلی کرنا ]
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں اُن کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ اُن سے روک دیے، حالانکہ وہ اُن پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا

وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ [ اور وہ، وہ ہے جس نے روک دیا ] اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ [ ان کے ہاتھوں کو تم سے ] وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ [اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ] بِبَطْنِ مَكَّةَ [ مکہ کے نشیب میں ] مِنْۢ بَعْدِ اَنْ [ اس کے بعد کہ ] اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ [ اس نے غالب کیا تم کو ان پر ] وَكَانَ اللّٰهُ [ اور اللہ ہے ] بِمَا تَعْمَلُوْنَ [ اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ] بَصِيْرًا [ دیکھنے والا ]
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور ہدی کے اونٹوں کو اُن کی قربانی کی جگہ نہ پہنچنے دیا اگر (مکہ میں) ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کر دو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی روکی وہ اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کر لے وہ مومن الگ ہو گئے ہوتے تو (اہل مکہ میں سے) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزا دیتے

هُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا ] وَصَدُّوْكُمْ [ اور روکا تمہیں ] عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ [ مسجد حرام سے ] وَالْهَدْيَ [ اور قربانی کے جانور کو ] مَعْكُوْفًا [ روکا ہوا ہوتے ہوئے ] اَنْ يَّبْلُغَ [ کہ وہ پہنچے ] مَحِلَّهٗ ۭ [ اپنی منزل کو ] وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ [ اگر نہ ہوتے کچھ مومن مرد ] وَنِسَاۗءٌ مُّؤْمِنٰتٌ [ اور مسلمان خواتین ] لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ [ تم لوگوں نے نہیں جانا تھا جن کو ] اَنْ تَـــطَــــُٔوْهُمْ [ کہ (کہیں ) تم روند ڈالوں ان کو ] فَتُصِيْبَكُمْ مِّنْهُمْ [ نتیجۃ آلگے تم کو ان سے ] مَّعَرَّةٌۢ [ کوئی برائی ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ [ بغیر جانے بوجھے ] لِيُدْخِلَ اللّٰهُ [(جنگ نہ ہونے دی ) تاکہ داخل کرے اللہ ] فِيْ رَحْمَتِهٖ [ اپنی رحمت میں ] مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ [ اس کو جس کو وہ چاہے ] لَوْ تَزَيَّلُوْا [ اگر وہ لوگ الگ الگ ہوتے ] لَعَذَّبْنَا [ تو ہم ضرور عذاب دیتے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ [ ان کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا [ ایک درد ناک عذاب ] نوٹ ۔ 1: بطن مکہ سے اشارہ حدیبیہ کی طرف ہے ۔ یہ بالکل مکہ کے دامن میں ہے اس وجہ سے اس کو بطن مکہ سے تعبیر فرمایا اور اس موقع پر جنگ کی نوبت جو نہیں آئی یہ تدبیر الہی کا کرشمہ ہے ۔ حکمت الہی کا تقاضہ یہی ہوا کہ ابھی جنگ نہ ہو اس لیے اس نے دونوں فریقوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے روک دیے (تدبر قرآن ) اس حکمت کا بیان آیت ۔ 25 ۔ میں آیا ہے اور اس کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ مکہ میں اس وقت مسلمان مرد و زن ایسے موجود تھے جنھوں نے یا تو اپنا ایمان چپھا رکھا رتھا یا جن کا ایمان معلوم تھا مگر وہ اپنی بےبسی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے تھے ۔ اس حالت میں اگر جنگ ہوتی تو کفار کے ساتھ یہ مسلمان بھی انجانے میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے جاتے ۔ دوسرا پہلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ قریش کو ایک خونریز جنگ میں شکست دلوا کر مکہ فتح کرانا نہ چاہتا تھا بلکہ اس کے پیش نظر یہ تھا کہ ان کو اس طرح بےبس کردیا جائے کہ ہو کسی مزاحمت کے بغیر مغلوب ہوجائیں اور پھر پورا قبیلہ اسلام قبول کرکے اللہ کی رحمت میں داخل ہوجائے جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر ہوا ۔ (تفیہم القرآن )
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

(یہی وجہ ہے کہ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھا لی تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اُس کے زیادہ حق دار اور اُس کے اہل تھے اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

اِذْ جَعَلَ [ جب بنایا ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ] فِيْ قُلُوْبِهِمُ [ اپنے دلوں میں ] الْحَمِيَّةَ [ رعونت ] حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ [ غلط عقائد کی رعونت ] فَاَنْزَلَ اللّٰهُ [ تو اتارا اللہ نے ] سَكِيْنَتَهٗ [ اپنی سکینت ] عَلٰي رَسُوْلِهٖ [ اپنے رسول پر ] وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ [ اور مومنوں پر ] وَاَلْزَمَهُمْ [ اور اس نے چپکا دیا ان کو ] كَلِمَةَ التَّقْوٰى [ تقوی کی بات پر ] وَكَانُوْٓا اَحَقَّ بِهَا [ اور وہ لوگ زیادہ حق دار تھے اس کے ] وَاَهْلَهَا ۭ [ اور اس کی اہلیت والے تھے ] وَكَانَ اللّٰهُ [ اور اللہ ہے ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا ] عَلِــيْمًا [علم رکھنے والا ]
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

فی الواقع اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھا یا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا انشاءاللہ تم ضرور مسجد حرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہو گے، اپنے سر منڈواؤ گے اور بال ترشواؤ گے، اور تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا وہ اُس بات کو جانتا تھا جسے تم نہ جانتے تھے اس لیے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے اُس نے یہ قریبی فتح تم کو عطا فرما دی

لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ [ بیشک سچ دکھایا اللہ نے ] رَسُوْلَهُ [ اپنے رسول کو ] الرُّءْيَا [ وہ خواب ] بِالْحَقِّ ۚ [ حق کے ساتھ ] لَتَدْخُلُنَّ [ تم لوگ لازما داخل ہوگے ] الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ [ مسجد حرام میں ] اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ [ اگر چاہا اللہ نے ] اٰمِنِيْنَ ۙ [ امن میں ہونے والے ] مُحَلِّقِيْنَ [ مونڈنے والے ہوتے ہوئے ] رُءُوْسَكُمْ [ اپنے سروں کو ] وَمُقَصِّرِيْنَ ۙ [ اور تراشنے والے ہوتے ہوئے ] لَا تَخَافُوْنَ ۭ [ تم لوگ خوف نہیں کروگے ] فَعَلِمَ [ پھر اس نے جانا ] مَا لَمْ تَعْلَمُوْا [ اس کو جو تم لوگ نہیں جانتے تھے ] فَجَــعَلَ [ تو اس نے مقرر کیا ] مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ [ اس کے علاوہ ] فَتْحًا قَرِيْبًا [ ایک قریبی فتح ] نوٹ۔ 1: صحابہ کرام ؓ اجمعین کا یہ عزم عمرہ رسول اللہ ﷺ کے خواب کی بناء پر ہوا تھا جو ایک طرح کی وحی تھی ، جب صلح حدیبیہ مکمل ہوگئی اور یہ بات طے ہوگئی کہ عمرہ ادا کیے بغیر واپس مدینہ جانا ہے تو بعض صحابہ کے دلوں میں یہ خیال آسکتا تھا کہ آپ کا خواب سچا نہیں ہوا دوسری طرف کفار و منافقین تو مسلمانوں کو ضرور طعنہ دیتے کہ تمہارے رسول کا خواب سچا نہیں ہوا ۔ اس کے لیے آیت ۔ 27 ۔ نازل ہوئی (معارف القرآن سے ماخوذ) یہاں مسلمانوں سے وعدہ کرتے ہوئے کہ تم لوگ لازما مسجد حرام میں داخل ہوگے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے ساتھ خود ان شاء اللہ کے الفاظ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ۔ اس کا تعلق دراصل اس پس منظر سے ہے جس میں یہ وعدہ فرمایا گیا ہے ، کفار مکہ کو یہ زعم تھا کہ جس کو ہم عمرہ کرنے دینا چاہیں گے وہ عمرہ کرسکے گا ، اور جب ہم اسے کرنے دیں گے اسی وقت وہ کرسکے گا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ان کی مشیت پر نہیں بلکہ ہماری مشیت پر موقوف ہے ۔ اس سال عمرے کا نہ ہوسکنا اس لیے نہیں ہوا کہ کفار مکہ نے یہ چاہا تھا کہ وہ نہ ہو ۔ بلکہ یہ اس لیے ہوا کہ ہم نے اس کو نہ ہونے دینا چاہا تھا ۔ اور آئندہ اگر ہم چاہیں گے تو یہ عمرہ ہوگا خواہ کفار چاہیں یا نہ چاہیں ۔ اس کے ساتھ ان الفاظ میں یہ معنی بھی پوشیدہ ہیں کہ مسلمان بھی یہ عمرہ اپنے زور سے نہیں کریں گے بلکہ ہماری مشیت سے کریں گے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 48:28

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اُس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اِس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے

هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ [ وہ، وہ ہے جس نے بھیجا ] رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى [ اپنے رسول کو اس ہدایت (قرآن ) کے ساتھ ] وَدِيْنِ الْحَقِّ [ اور الحق (اللہ تعالیٰ ) کے ضابطہ حیات کے ساتھ ] لِيُظْهِرَهٗ [ تاکہ وہ (رسول) غالب کردیں اس (دین ) کو ] عَلَي الدِّيْنِ [ نظام حیات پر ] كُلِّهٖ ۭ [ اس کے کل پر ] وَكَفٰى بِاللّٰهِ [ اور کافی ہے اللہ ] شَهِيْدًا [ بطور معائنہ کرنے والے کے ]
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں تم جب دیکھو گے اُنہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں یہ ہے ان کی صفت توراۃ میں اور انجیل میں اُن کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں اِس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ [ محمد اللہ کے رسول ہیں ] وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ [ اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں ] اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ [ سخت ہیں کافروں پر ] رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ [ رحیم ہیں آپس میں ] تَرٰىهُمْ [ تو دیکھے گا ان کو ] رُكَّعًا سُجَّدًا [ رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] يَّبْتَغُوْنَ [ تلاش کرتے ہوئے ] فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ [ فضل کو اللہ سے ] وَرِضْوَانًا ۡ [ اور ( اس کی ) خوشنودی کو ] سِيْمَاهُمْ [ ان کی علامت (پہچان ) فِيْ وُجُوْهِهِمْ [ ان کے چہروں میں ہے ] مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ [ سجدوں کے اثر سے ] ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ [یہ ان کی مثال ہے ] فِي التَّوْرٰىةِ ٻ[ تورات میں ] وَمَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ ۾ [ اور (یہی ) ان کی مثال ہے انجیل میں ] كَزَرْعٍ [ (وہ لوگ ) ایک ایسی کھیتی کی مانند ہیں جس نے ] اَخْرَجَ شَطْــــَٔهٗ [ نکالا اپنا خوشہ ] فَاٰزَرَهٗ [ پھر اس نے مضبوط کیا اس کو ] فَاسْتَغْلَــظَ [ تو وہ موٹا ہوا ] فَاسْتَوٰى [ پھر جم گیا ] عَلٰي سُوْقِهٖ [ اپنی پنڈلی پر ] يُعْجِبُ [ وہ (کھیتی ) دلکش لگتی ہے ] الزُّرَّاعَ [ کسانوں کو ] لِيَغِيْظَ [ تاکہ وہ (اللہ ) خون کھولائے ] بِهِمُ [ ان لوگوں (والذین معہ ) سے ] الْكُفَّارَ ۭ [ کافروں کا ] وَعَدَ اللّٰهُ [ وعدہ کیا اللہ نے ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ ان لوگوں سے جو ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور جنھوں نے عمل کیے نیکیوں کے ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّغْفِرَةً [ مغفرت کا ] وَّاَجْرًا عَظِيْمًا [ اور اجر عظیم کا ] ترکیب : (آیت ۔ 29) اس آیت میں تین احتمال ہیں ایک یہ کہ فی التورۃ پر وقف کیا جائے ۔ اس طرح مطلب ہوگا کہ اس سے پہلے کی مثالیں تورات میں بیان ہوئی ہیں ۔ اس سے آگے مثلہم فی الانجیل پر وقف نہ کریں بلکہ ملا کر پڑھیں تو معنی یہ ہوں گے کہ انجیل میں صحابہ کی مثال ایک کھیتی (کزرع ) کی مانند ہے ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ فی التورۃ پر وقف نہ ہو بلکہ فی الانجیل پر وقف کیا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ سابقہ نشانیاں تورات اور انجیل دونوں میں ہیں اور آگے کزرع کی مثال کو ایک الگ مثال قرار دیا جائے ۔ تیسرا احتمال یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی جگہ وقف نہ کیا جائے بلکہ ملا کر پڑھا جائے اور لفظ ذلک اگلی مثال کی طرف اشارہ ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ تورات و انجیل دونوں میں صحابہ کی مثال زرع یعنی کھیتی کی دی گئی ہے۔ اگر اس زمانے میں تورات و انجیل اپنی اصلی حالت میں ہوتیں تو ان کو دیکھ کر مراد قرآنی متعین ہوجاتی لیکن ان میں تحریفات کا سلسلہ بیحد وبے شمار رہا ہے اس لیے کوئی یقینی فیصلہ نہیں ہوسکتا مگر اکثر مفسرین نے پہلے احتمال کو ترجیح دی ہے ۔ (معارف القرآن ۔ ج 8 ، ص 93 سے ماخوذ ) ترجمہ میں ہم دوسرے احتمال کو ترجیح دیں گے ۔ فازرہ میں ازر کا مادہ ” ء ز ر “ ہے اور یہ باب مفاعلہ کا ماضی ہے باب افعال کا نہیں ہے ۔ جن مادوں کے فاکلمہ پر ہمزہ ہوتا ہے ، باب مفاعلہ اور باب افعال میں ان کا ماضی ہم شکل ہوجاتا ہے اور ان میں تمیز کرنے کے لیے کوئی پہچان یا قرینہ نہیں ہے اس کے لیے ڈکشنر یہی دیکھنی ہوتی ہے ۔ نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 29 ۔ میں والذین معہ سے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے فضائل کا بیان ہے ۔ اگرچہ اس سے پہلے مخاطب ہو صحابہ ہیں جو حدیبیہ اور بیعت رضوان میں شریک تھے لیکن یہاں الفاظ کے عموم کی وجہ سے سبھی صحابہ کرام ؓ اجمعین شامل ہیں کیونکہ آپ کی صحبت ومعیت سب کو حاصل ہے ۔ اس مقام پر حق تعالیٰ نے صحابہ کرام کے اوصاف و فضائل اور خاص علامات کا ذکر تفصیل کے ساتھ فرمایا ہے ۔ اس میں یہ حکمت بھی ہو تو بعید نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہونے والا نہیں تھا اس لیے قرآن نے ان کے کچھ فضائل اور علامات کا بیان فرما کر مسلمانوں کو ان کے اتباع کی ترغیب و تاکید فرما دی ہے۔ اس مقام پر صحابہ کرام کا پہلا وصف یہ بتایا گیا کہ وہ کفار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں مہربان ہیں، قرآن نے اس وصف کو مقدم بیان فرمایا کیونکہ درحقیقت اس کا حاصل یہ ہے کہ ان کی دوستی اور دشمنی اپنے نفس کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہوتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو ایمان کامل کا اعلی مقام ہے ۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی محبت اور بغض دونوں کو اللہ کی مرضی کے تابع کردے تو اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا ۔ اسی سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ صحابہ کرام کے کفار کے مقابلے پر سخت ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کبھی کسی کافر پر رحم نہیں کرتے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس موقع پر اللہ اور رسول کا حکم کفار پر سختی کرنے کا ہوتا ہے وہاں رشتے ناتے یا دوستی وغیرہ کوئی بھی چیز ان کو اس کام سے نہیں روکتی ۔ جہاں تک کافروں کے ساتھ رحم و کرم کے معاملہ کا تعلق ہے ، تو خود قرآن نے اس کا فیصلہ کردیا ہے کہ جو کفار مسلمانوں کے درپے آزار اور مقابلہ پر نہیں ان کے ساتھ احسان کا سلوک کرنے سے اللہ منع نہیں کرتا ۔ (الممتحنۃ ۔ 8) ۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے بیشمار واقعات ہیں جن میں کفار کے ساتھ احسان و کرم کے معاملات کیے گئے ہیں اور ان کے معاملہ میں عدل و انصاف کو برقرار رکھنا تو اسلام کا عام حکم ہے۔ عین میدان کار زار میں بھی عدل و انصاف کے خلاف کوئی کاروائی جائز نہیں ہے ۔ صحابہ کرام کا دوسرا وصف یہ بیان کیا گیا کہ ان کا عام حال یہ ہے کہ وہ رکوع و سجدہ اور نماز میں مشغول رہتے ہیں ۔ پہلا وصف کمال ایمان کی علامت تھی جبکہ دوسرا وصف کمال عمل کا بیان ہے کیونکہ اعمال میں سب سے افضل نماز ہے ۔ اور نماز ان کا ایسا وظیفہ زندگی (یعنی لائف اسٹائل ) بن گیا ہے کہ نماز اور سجدہ کے مخصوص آثار ان کے چہروں سے نمایاں ہوتے ہیں ۔ ان آثار سے مراد وہ انوار ہیں جو عبدیت اور خشوع و خضوع سے ہر متقی عبادت گزار کے چہرہ پر مشاہدہ کیے جاتے ہیں ۔ خصوصا نماز تہجد کا یہ اثر بہت زیادہ واضح ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص رات میں نماز کی کثرت کرتا ہے ، تو دن میں اس کا چہرہ حسین پر نور نظر آتا ہے۔ صحابہ کرام کا تیسرا وصف ایک تمثیل کے پیرائے میں بیان ہوا ہے کہ وہ ایسے ہیں جیسے کوئی کاشتکار زمین میں بیچ اگائے ، تو اول وہ ایک ضیعف سی سوئی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ، پھر اس میں شاخیں نکلتی ہیں ، پھر وہ اور قوی ہوتا ہے، پھر اس کا مضبوط تنا بن جاتا ہے اسی طرح ایک وقت ایسا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے سوا صرف تین مسلمان تھے ۔ مردوں میں صدیق اکبر ، عورتوں میں بی بی خدیجہ اور بچوں میں حضرت علی ، پھر رفتہ رفتہ ان کی قوت بڑھتی رہی ، یہاں تک کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج میں شریک ہونے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب بتائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین کو ان صفات کے ساتھ مزین فرمایا تاکہ ان کو دیکھ کر کافروں کو غیظ ہو اور وہ حسد کی آگ میں جلیں ۔ اور ان سے مغفرت اور اجر عظیم کے وعدے کا اعلان فرما دیا ۔ اسی لیے امت کا اس پر اجماع ہے کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین سب کے سب عادل وثقہ ہیں ۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں اس کی تصریحات ہیں ، جن میں سے چند آیات تو اسی سورة میں آچکی ہیں ، ان کے علاوہ اور بہت سی آیات میں یہ مضمون مذکور ہے۔ اس کے علاوہ احادیث بھی ہیں ۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ میرے صحابہ کو برا مت کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص اللہ کی راہ میں احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تو وہ ان کے خرچ کیے ہوئے کے ایک مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا اور نہ نصف مد کے برابر ، مد عرب کا ایک پیمانہ ہے جو تقریبا ہمارے آدھے سیر کے برابر ہوتا ہے ۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ اللہ سے ڈرو ۔ اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملہ میں ۔ میرے بعد ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ مت بنائوکیون کہ جس شخص نے ان سے محبت کی تو میری محبت کے ساتھ ان سے محبت کی ۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کے ساتھ ان سے بغض رکھا ۔ اور جس نے ان کو ایذا پہنچائی ، اس نے مجھے پہنچائی ، اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء پہنچائی اور جو اللہ کو ایذاء پہنچانے کا قصد کرے تو قریب ہے کہ اللہ اس کو عذاب میں پکڑلے گا ۔ آیات واحادیث اس کے متعلق بہت ہیں جن کو احقر نے اپنی کتاب مقام صحابہ میں جمع کردیا ہے اور یہ کتاب شائع ہوچکی ہے۔ (معارف القرآن ۔ ج 8 ص 91 تا 97 سے ماخوذ ) مورخہ 3 : صفر 1430 ھ بمطابق 30 جنوری 2009 ء