Ayah 47:1اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ جن لوگوں نے انکار کیا ] وَصَدُّوْا [ اور وہ لوگ رکے رہے ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ سے ] اَضَلَّ [ تو وہ (اللہ) ضائع کرے گا ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ]
ترکیب : جس طرح لفظ ” من “ اصلا موصولہ ہے لیکن کبھی یہ شرطیہ ہوتا ہے اسی طرح الذی اور الذین میں بھی کبھی شرط کا مفہوم ہوتا ہے جیسے آیات ایک اور دو میں ہے کہ جو لوگ یہ کام کریں گے (شرط) تو ان کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ ہوگا (جواب شرط) اس لیے ان میں ماضی کا ترجمہ حال یا مستقبل میں کرنے کی گنجائش ہے۔ آیت ۔ 3 ۔ میں آفاقی صداقت کا بیان ہے۔ اس لیے ماضی کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔ (دیکھیں آیت 2:49، نوٹ ۔ 2)
Ayah 47:2وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کیے نیکیوں کے ] وَاٰمَنُوْا بِمَا [ اور ایمان لائے اس پر جو ] نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ [نازل کیا گیا محمد پر ] وَّهُوَ الْحَقُّ [ جبکہ وہ ہی حق ہے ] مِنْ رَّبِّهِمْ ۙ[ ان کے رب (کی جانب ) سے ] كَفَّرَ عَنْهُمْ [ تو وہ (اللہ ) دور کرے گا ان سے ] سَـيِّاٰتِهِمْ [ ان کی برائیوں کو ] وَاَصْلَحَ [ اور وہ اصلاح کرے گا ] بَالَهُمْ [انکی حالت کی ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 2 میں صرف یہ نہیں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے ان کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ ہوگا ، بلکہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی ہے کہ اس چیز پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر اتاری گئی ، پھر مزید تصریح یہ ہے کہ اب خدا کی طرف سے حق یہی ہے۔ اس تصریح کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اس دور میں ایک گروہ ان لوگوں کا بھی پیدا ہوگیا تھا جو کفر اور اسلام دونوں کے درمیان سمجھوتے کی باتیں کرنے لگا تھا کہ مسلمانوں کو کچھ گنجائش دوسروں کے لئے بھی تسلیم کرنی چاہیے ۔ (یہ گروہ آج بھی موجود ہے۔ مرتب) ۔ اہل کتاب میں بھی ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جو کہتا تھا کہ مومن تو ہم بھی ہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائے ، اس قسم کے رجحانات کی بیخ کنی قرآن نے پچھلی سورتوں میں بھی کی ہے اور یہاں بھی مذکورہ بالاتصریح نے اسی رجحان پر ضرب لگائی ہے کہ اب ایمان و ہدایت کا واحد راستہ وہی ہے جس کی دعوت محمد ﷺ دے رہے ہیں ، اس سے ہٹ کر کوئی راہ نہیں ہے۔ (تدبر قرآن )
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 2 قرآن مجید کی پہلی آیت ہے جس میں قوانین جنگ کے متعلق ابتدائی ہدایات دی گئی ہیں ۔ اس سے جو احکام نکلتے ہیں اور اس کے مطابق محمد ﷺ اور صحابہ کرام ؓ نے جس طرح عمل کیا ہے اور اس سے جو استنباطات کیے گئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔
(1) جنگ میں مسلمانوں کی فوج کا اصل ہدف دشمن کی جنگی طاقت کو توڑنا ، اس سے توجہ ہٹا کر دشمن کے آدمیوں کو گرفتار کرنے میں نہ لگ جانا چاہیے ۔ قیدی پکڑنے کی طرف توجہ اس وقت کرنی چاہیے جب دشمن کا اچھی طرح قلع قمع کردیا جائے اور میدان جنگ میں اس کے کچھ آدمی باقی رہ جائیں ۔
(2) جنگ میں جو لوگ گرفتار ہوں ان کے بارے میں فرمایا کہ تمہیں اختیار ہے، خواہ ان پر احسان کردیا ان سے فدیہ کا معاملہ کرلو۔ اس سے عام قانون یہ نکلتا ہے جنگی قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے ۔
(3) مگر چونکہ اس آیت میں قتل کی صاف ممانعت بھی نہیں کی گئی ہے اس لیے محمد ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کا منشایہ سمجھا اور اسی پر عمل بھی فرمایا کہ اگر کوئی خاص وجہ ایسی ہو جس کی بنا پر اسلامی حکومت بعض قیدیوں کو قتل کرنا ضروری سمجھے تو ایسا کیا جاسکتا ہے ۔ یہ عام قاعدہ نہٰں ہے بلکہ عام قاعدے میں ایک استثناء ہے جسے بضرورت ہی استعمال کیا جائے گا ۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر کے ستر قیدیوں میں سے صرف دو کو ، جنگ احد کے قیدیوں میں سے صرف ایک کو اور جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے صرف ایک کو قتل کرایا ، فتح مکہ کے بعد آپ نے تمام اہل مکہ میں سے صرف چند خاص اشخاص کے متعلق حکم دیا تھا کہ ان میں سے جو بھی پکڑا جائے وہ قتل کردیا جائے ۔ ان مستثنیات کے علاوہ حضور ﷺ کا عام طریقہ اسیران جنگ کو قتل کرنے کا کبھی نہیں رہا اور یہی عمل خلفاء راشدین کا بھی تھا ۔
(4) جنگی قیدیوں کے بارے میں احسان کرنے یا فدیہ کا معاملہ کرنے کا حکم ہے احسان میں چار چیزیں شامل ہیں ، ایک یہ کہ قید کی حالت میں ان سے اچھا برتاؤ کیا جائے ۔ دوسرے یہ کہ قتل یا دائمی قید کے بجائے انکو غلام بنا کر افراد مسلمین کے حوالے کردیا جائے ۔ تیسرے یہ کہ جزیہ لگا کر ان کو ذمی بنالیا جائے ۔ چوتھے یہ کہ ان کو بلامعاوضہ رہا کردیا جائے ۔ جبکہ فدیہ کا معاملہ کرنے کی تین صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ مالی معاوضہ لے کر انھیں چھوڑا جائے ۔ دوسرے یہ کہ رہائی کی شرط کے طور پر کوئی خدمت لینے کے بعد چھوڑ دیا جائے ۔
تیسرے یہ کہ اپنے ان آدمیوں سے جو دشمن کے قبضہ میں ہوں ، ان کا تبادلہ کرلیا جائے ، ان سب مختلف صورتوں پر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ اجمعین نے مختلف اوقات میں حسب موقع عمل فرمایا ہے ۔
(5) رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ اجمعین کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ ایک جنگی قیدی جب تک حکومت کی قید میں رہے اس کی غذا لباس اور علاج حکومت کے ذمہ ہے ۔ قیدیوں کو بھوکا ننگا رکھنے یا ان کو عذاب دینے کا کوئی جواز اسلامی شریعت میں نہیں ہے ۔ (6) قیدیوں کے معاملے میں اسلام نے یہ شکل رکھی ہی نہیں ہے کہ ان کو ہمیشہ قید رکھا جائے اور حکومت ان سے جبری محنت لیتی رہ کے ۔ اس سلسلہ میں یہ بات جان لینی چاہیے کہ جو شخص قید میں آنے سے پہلے اسلام قبول کرچکا ہو اور پھر کسی طرح گرفتار ہوجائے ، وہ تو آزاد کردیا جائے گا مگر جو شخص قید ہونے کے بعد اسلام قبول کرے تو یہ اسلام اس کے لیے آزادی کا سبب نہیں بن سکتا ۔ یہ بات معقول ہے ۔ اگر ہمارا قانون یہ ہوتا کہ جو شخص بھی گرفتار ہونے کے بعد اسلام قبول کرے گا تو آخر وہ کون سا نادان قیدی ہوتا جو کلمہ پڑھ کر رہائی نہ حاصل کرلیتا ۔
(7) قیدیوں کے ساتھ احسان کی تیسری صورت یہ ہے کہ جزیہ لگا کر ان کو ذمی رعایا بنالیا جائے ۔ اس طریقے پر بنالعمومم ان حالات میں عمل کیا گیا ہے جب قید ہونے والے لوگ جس علاقے کے باشندے ہوں وہ اسلامی مملکت میں شامل ہوچکا ہو ، مثال کے طور پر رسول اللہ ﷺ نے اہل خیبر کے معاملہ میں یہ طریقہ اختیار فرمایا تھا ۔ پھر حضرت عمر نے عراق اور دوسرے علاقوں کی فتح کے بعد بڑے پیمانے پر اس کی پیروی کی ۔
(8) مالی معاوضہ لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کی مثال صرف جنگ بدر کے موقع پر ملتی ہے۔ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے دور میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور فقہائے اسلام نے اس کو بالعموم ناپسند کیا ہے لیکن ایسا کرنا مطلقا ممنوع نہیں ہے۔
(9) قیدیوں کے تبادلے کی متعدد مثالیں ہم کو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ملتی ہیں ۔ فقہا تبادلہ اسیران کو جائز رکھتے ہیں ۔ البتہ اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ جو قیدی مسلمان ہوجائے اسے تبادلہ میں کفار کے حوالہ نہ کیا جائے ۔
اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے اسیران جنگ کے معاملہ میں ایک ایسا وسیع ضابطہ بنایا ہے جس کے اندر ہر زمانے اور ہر طرح کے حالات میں اس مسئلے سے عہدہ برا ہونے کی گنجائش ہے۔ جو لوگ اس آیت کا بس یہ مطلب لیتے ہیں کہ جنگی قیدیوں کو یا بطور احسان چھوڑ دیا جائے یا فدیہ لے کر رہا کردیا جائے ، وہ نہیں جانتے کہ یہ معاملہ کتنے مختلف پہلو رکھتا ہے اور مختلف زمانوں میں وہ کتنے مسائل پیدا کرتا رہا ہے اور آئندہ کرسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن ۔ ج 5، ص 12 تا 18 سے ماخوذ )
Ayah 47:3ذٰلِكَ بِاَنَّ [ یہ اس سبب سے کہ ] الَّذِيْنَ كَفَرُوا [ جن لوگوں نے انکار کیا ] اتَّبَعُوا [وہ لوگ پیروی کرتے ہیں ] الْبَاطِلَ [ باطل کی ] وَاَنَّ [ اور (یہ ) کہ ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوا [ جو لوگ ایمان لائے ] اتَّبَعُوا [ وہ پیروی کرتے ہیں ] الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۭ [ حق کی اپنے رب (کی طرف) سے ] كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ [ اس طرح بیان کرتا ہے اللہ ] لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ [ لوگوں کے لیے انکی مثالیں ]
Ayah 47:4فَاِذَا لَقِيْتُمُ [ پھر جب کبھی آمنے سامنے ہو تم لوگ ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ ان کے جنھوں نے کفر کیا ] فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۭ [ تو (مارو ) جیسا گردنیں مارنے کا حق ہے ] حَتّىٰٓ اِذَآ [ یہاں تک کہ جب ] اَثْخَنْتُمُوْهُمْ [ تم لوگ خوب خونریزی کرلو ان کی ] فَشُدُّوا [ تو تم لوگ مضبوط کرو ] الْوَثَاقَ ڎ [ جکڑنے کو ] فَاِمَّا [ پھر یا تو ] مَنًّـۢا بَعْدُ [ (چھوڑو ) احسان کرتے ہوئے اس کے بعد ] وَاِمَّا فِدَاۗءً [ اور یا بدلہ میں کچھ لینے کے لیے ] حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ [ یہاں تک کہ رکھ دے جنگ ] اَوْزَارَهَاڃ [ اپنے بوجھ (ہتھیار ) ] ذٰ۩لِكَ ړ [یہ ہے ] وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ [ اور اگر چاہتا اللہ ] لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ [ تو وہ یقینا بدلہ لیتا ان سے ] وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ [ اور لیکن (بدلہ نہیں لیا) تاکہ وہ آزمائے ] بَعْضَكُمْ [تمہارے کسی کو ] بِبَعْـضٍ ۭ [ کسی سے ] وَالَّذِيْنَ قُتِلُوْا [ اور جو لوگ قتل کیے گئے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] فَلَنْ يُّضِلَّ [ تو وہ (اللہ ) ہرگز ضائع نہیں کرے گا ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ]
Ayah 47:5سَيَهْدِيْهِمْ [ وہ رہنمائی کرے گا ان کی ] وَيُصْلِحُ [ اور وہ اصلاح کرے گا ] بَالَهُمْ [ ان کی حالت کو ]
Ayah 47:6وَيُدْخِلُهُمُ [اور وہ داخل کرے گا ان کو ] الْجَــنَّةَ [ اس جنت میں ] عَرَّفَهَا [ اس نے خوشبو میں بسایا جس کو ] لَهُمْ [ ان کے لیے ]
Ayah 47:7يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا [ اے لوگو ! جو ایمان لائے ] اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ [ اگر تم لوگ مدد کروگے اللہ کی ] يَنْصُرْكُمْ [ تو وہ مدد کرے گا تمہاری ] وَيُثَبِّتْ [ اور وہ جما دے گا ] اَقْدَامَكُمْ [ تمہارے قد موں کو ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 7 کی تفسیر میں حضرت شاہ صاحب (یعنی شاہ عبدالقادر ) لکھتے ہیں کہ اللہ چاہے تو خود ہی کافروں کو مسلمان کرڈالے ، پر یہ منظور نہیں ہے ۔ جانچنا منظور ہے۔ سو بندہ کی طرف سے کمر باندھنا اور اللہ کی طرف ہے کام بنانا ۔ (ترجمہ شیخ الہند سے منقول ) مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی راہ میں پہلا قدم وہ اٹھائیں ۔ اگر انہوں نے یہ قدم اٹھا لیا تو اس کے بعد اس کی شانیں ظاہر ہوں گی ۔ ان کے لیے اس کی مدد نہیں نازل ہوتی جو گھروں میں بیٹھے اس کا انتظار کرتے ہیں بلکہ ان کے لیے نازل ہوتی ہے جو اپنے آپ کو میدان میں ڈال دیتے ہیں ۔ (تدبر قرآن ]
Ayah 47:8وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور جنھوں نے انکار کیا ] فَتَعْسًا [ تو (وہ لازم کرے گا ) ہلاک ہونے کو ] لَّهُمْ [ ان کے لیے ] وَاَضَلَّ [ اور وہ ضائع کرے گا ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ]
ت ع س : (ف) تعسا ، ٹھوکر کھا کر گرنا پھر اٹھ نہ سکنا ، پستی میں گر کر ٹوٹ جانا ۔ پھر زیادہ تر ہلاک ہونیکے معنی میں آتا ہے ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 8 ۔
Ayah 47:9ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ [ یہ اس سبب سے کہ انہوں نے ] كَرِهُوْا مَآ [ ناپسند کیا اس کو جو ] اَنْزَلَ اللّٰهُ [ نازل کیا اللہ نے ] فَاَحْبَطَ [ تو اس نے اکارت کردیئے ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال ]
Ayah 47:10اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا [ تو کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَيَنْظُرُوْا [ نتیجۃ (تاکہ ) وہ دیکھتے ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کا انجام جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ ان سے پہلے تھے ] دَمَّرَ اللّٰهُ [ ہلاکت ڈالی اللہ نے ] عَلَيْهِمْ ۡ [ ان پر ] وَلِلْكٰفِرِيْنَ [ اور انکار کرنے والوں کے لیے ] اَمْثَالُهَا [ اس (انجام ) کے جیسی (چیزیں ) ہیں ]
Ayah 47:11ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ [ یہ اس سبب سے کہ اللہ ] مَوْلَى [ بگڑی بنانے والا ہے ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ ان کی جو ایمان لائے ] وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ [ اور یہ کہ کافر لوگ ] لَا مَوْلٰى [ کوئی بگڑی بنانے والا نہیں ہے ] لَهُمْ [ان کے لیے ]
نوٹ۔ 2: لفظ مولی بہت سے معانی کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔ ایک معنی کارساز کی ہیں جو یہاں مراد ہیں ۔ ایک معنی مالک کے ہیں ۔ قرآن میں دوسری جگہ (سورہ یونس ۔ 30) کفار کے بارے میں آیا ہے ” اور وہ لوٹائے جائیں گے اللہ کی طرف جو ان کا حقیقی آقا ہے “ ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کو کفار کے لیے بھی مولی قرار دیا ہے کیونکہ مولی کے معنی مالک کے (بھی ) ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مالکیت عام ہے۔ مومن کافر کوئی اس سے خارج نہیں ۔ (معارف القرآن )
Ayah 47:12اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ [ یقینا اللہ داخل کرے گا ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ ان کو جو ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور جنھوں نے عمل کیے نیکیوں کے ] جَنّٰتٍ [ ایسے باغات میں ] تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا [ بہتی ہیں جن کے نیچے سے ] الْاَنْهٰرُ ۭ [ نہریں ] وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور جنھوں نے کفر کیا ] يَتَمَتَّعُوْنَ [ وہ فائدہ اٹھاتے ہیں ] وَيَاْكُلُوْنَ [ اور کھاتے ہیں ] كَمَا تَاْكُلُ [ جیسے کھاتے ہیں ] الْاَنْعَامُ [چوپائے ] وَ [ اس حال میں کہ ] النَّارُ [ آگ ] مَثْوًى [ ٹھکانہ ہے ] لَّهُمْ [ان کے لیے ]
نوٹ۔ 3: جس طرح جانور کھاتا ہے اور کچھ نہیں سوچتا کہ یہ رزق کہاں سے آیا ہے ، کس کا پیدا کیا ہوا ہے اور اس رزق کے ساتھ میرے اوپر رازق کے کیا حقوق عائد ہوتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی بس کھائے جارہے ہیں ۔ چرنے چگنے (روٹی ، کپڑا ، مکان ) سے آگے انھیں کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 47:13وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ [ اور کتنی ہی بستیاں ہیں ] هِىَ اَشَدُّ [ جو زیادہ شدید تھیں ] قُوَّةً [بلحاظ قوت کے ] مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ [ آپ کی اس بستی سے جس نے ] اَخْرَجَتْكَ ۚ [ نکالا آپ کو ] اَهْلَكْنٰهُمْ [ ہم نے ہلاک کیا ان (بستی والوں ) کو ] فَلَا نَاصِرَ [ تو کوئی بھی مدد کرنے والا نہ تھا ] [لَهُمْ : ان کے لیے ]
Ayah 47:14اَفَمَنْ كَانَ [ تو کیا وہ جو تھا ] عَلٰي بَيِّنَةٍ [ ایک واضح (ہدایت ) پر ] مِّنْ رَّبِّهٖ [ اپنے رب (کی طرف) سے ] كَمَنْ [ اس کے جیسا ہوگا ] زُيِّنَ لَهٗ [ سجایا گیا جس کے لیے ] سُوْۗءُ عَمَلِهٖ [ اس کے عمل کی برائی کو ] وَاتَّبَعُوْٓا [ اور انہوں نے پیروی کی ] اَهْوَاۗءَهُمْ [ اپنی خواہشات کی ]
Ayah 47:15مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ [ اس جنت کی مثال جس کا ] وُعِدَ [وعدہ کیا گیا ] الْمُتَّقُوْنَ ۭ [ متقی لوگوں سے ] فِيْهَآ اَنْهٰرٌ [اس میں کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ مَّاۗءٍ [ ایسے پانی سے جو ] غَيْرِ اٰسِنٍ ۚ [ بدبودار ہونے والا نہیں ہے ] وَاَنْهٰرٌ [ اور کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ لَّبَنٍ [ ایسے دودھ سے ] لَّمْ يَتَغَيَّرْ [بدلا ہی نہیں ] طَعْمُهٗ ۚ [ جس کا ذائقہ ] وَاَنْهٰرٌ [ اور کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ خَمْرٍ [ ایسی شراب سے جو ] لَّذَّةٍ [ لذت ہے ] لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ [ پینے والوں کے لئے ] وَاَنْهٰرٌ [ اور کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ عَسَلٍ [ ایسی شہد سے جو ] مُّصَفًّى ۭ [آمیزش سے پاک کی ہوئی ہے ] وَلَهُمْ فِيْهَا [ اور ان کے لیے اس میں ہیں ] مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ [ تمام پھلوں میں سے ] وَمَغْفِرَةٌ [ اور مغفرت ہے ] مِّنْ رَّبِّهِمْ ۭ [ ان کے رب کی طرف سے ] كَمَنْ [ (کیا وہ ) اس کے جیسا ہوگا ] هُوَ [جو ] خَالِدٌ [ہمیشہ رہنے والا ہے ] فِي النَّارِ [آگ میں ] وَسُقُوْا [اور جن لوگوں کو پلایا جائے گا ] مَاۗءً حَمِيْمًا [کھولتا پانی ] فَقَطَّعَ [ تو وہ کاٹ دے گا ] اَمْعَاۗءَهُمْ [ ان کی انتڑیوں کو ]
ء س ن ـ: (س) ۔ اسنا پانی کا بدبودار ہونا ۔ اسن ، اسم الفاعل ہے ۔ بدبودار ہونے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 15
ع س ل : (ن، ض) عسلا ۔ کھانے میں شہد ملانا ۔ شہد کھلانا ۔ عسل ۔ اسم ذات ہے شہد ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 15
نوٹ ۔ : آیت ۔ 15 ۔ میں جنت میں چار چیزوں کی نہروں کا ذکر ہے اس میں سے دودھ کے لئے حدیث میں تشریح آئی ہے کہ ” وہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا دودھ نہ ہوگا ۔ “ شراب کے لیے حدیث میں ہے کہ اس شراب کو ” انسانوں نے اپنے قدموں سے روند کر نہ نچوڑا ہوگا ۔ “ یعنی وہ پھلوں کو سڑا کر اور قدموں سے روند کر کشید کی ہوئی نہ ہوگی ۔ اور شہد کے لیے ہے کہ ” وہ مکھیوں کے پیٹ سے نکلا ہوا شہد نہ ہوگا ۔ “ یعنی پانی کی طرح یہ چیزیں بھی چشموں سے نکل کر نہروں میں بہیں گی ۔ (تفہیم القرآن ) ۔
Ayah 47:16وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّسْتَمِعُ [ کان دھرتی ہیں ] اِلَيْكَ ۚ [ آپ کی طرف ] حَتّىٰٓ اِذَا خَرَجُوْا [ یہاں تک کہ جب وہ نکلتے ہیں ] مِنْ عِنْدِكَ [ آپ کے پاس سے ] قَالُوْا [ تو کہتے ہیں ] لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ [ ان سے جن کو دیا گیا علم ] مَاذَا قَالَ [ انہوں نے کیا فرمایا ] اٰنِفًا ۣ[ ابھی ابھی ] اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] طَبَعَ اللّٰهُ [ چھاپ لگا دی اللہ نے ] عَلٰي قُلُوْبِهِمْ [ جن کے دلوں پر ] وَاتَّبَعُوْٓا [اور ان لوگوں نے پیروی کی ] اَهْوَاۗءَهُمْ [ اپنی خواہشات کی ]
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 16 میں نبی کریم ﷺ کو منافقین سے خبردار کیا گیا ہے فرمایا ایک گروہ ایسا ہے جو تمہاری بات سننے کے لیے کان تو لگاتا ہے لیکن سنتا سمجھتا کچھ بھی نہیں ۔ جب یہ تمہارے پاس سے جاتے ہیں تو مجلس کے دوسرے اصحاب علم سے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی انہوں نے کیا فرمایا ۔ اس سوال سے وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ لوگ محض سادہ لوحی کے سبب سے انکی ہر بات پر سرتسلیم خم کردیتے ہو ، ہم تو ان کی باتیں بہت توجہ سے سنتے ہیں لیکن ان کی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔ واضح رہے کہ یہ طریقہ کسی کی عمدہ سے عمدہ بات کو مشتبہ بنا دینے کے لیے ایک نہایت کارگر طریقہ ہے (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 2: علامات قیامت کی ابتداء خود خاتم النبیین ﷺ کی بعثت سے ہوجاتی ہے کیونکہ ختم نبوت بھی قرب قیامت کی علامت ہے اسی طرح شق قمر کے معجزے کو بھی قرآن میں اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ (54:1) کے ساتھ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ یہ بھی علامات قیامت میں سے ہے ۔ یہ تو علامات ابتدائیہ ہیں جو خود نزول قرآن کے وقت میں ظاہر ہوچکی تھیں ۔ دوسری علامات کا ذکر احادیث میں ہے۔ (معارف القرآن)
نوٹ۔ 3: اسلام نے جو اخلاق انسان کو سکھائے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ بندہ اپنے رب کی بندگی میں کتنی ہی کوشش کرتا رہا ہو، اسے کبھی یہ زعم نہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ مجھے کرنا چاہیے تھا میں نے کردیا ہے ۔ بلکہ اسے ہمیشہ یہی سمجھنا چاہیے کہ میرے مالک کا مجھ پر جو حق تھا وہ میں ادا نہیں کرسکا ۔ اور ہر وقت اپنے قصور کا اعتراف کرکے اپنی کمی کوتاہی کے لیے مغفرت مانگتا رہے۔ یہی اصل روح ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی کہ ” اے نبی اپنے قصور کی معافی مانگو ۔ “ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ بنی ﷺ نے فی الواقع کوئی قصور کیا تھا بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمام بندگان خدا سے بڑھ کر جو بندہ اپنے رب کی بندگی بجا لانے والا تھا ، اس کا منصب بھی یہ نہ تھا کہ اپنے کارنامے پر فخر کا کوئی شائبہ تک اس کے دل میں راہ پائے۔ اسی کیفیت کا اثر تھا جس کے تحت نبی کریم ﷺ بکثرت استغفار فرماتے رہتے تھے۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 47:17وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا [ اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی ] زَادَهُمْ [ اس (اللہ ) نے زیادہ کیا ان کو ] هُدًى [ بلحاظ ہدایت کے ] وَّاٰتٰىهُمْ [ اور اس نے دیا ان کو ] تَقْوٰىهُمْ [ان کا تقوی ]
Ayah 47:18فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ [ تو یہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] اِلَّا السَّاعَةَ [ سوائے اس گھڑی (قیامت ) کے ] اَنْ تَاْتِيَهُمْ [ کہ ہو پہنچے ان کے پاس ] بَغْتَةً ۚ [ اچانک ] فَقَدْ جَاۗءَ [تو آچکی ہیں ] اَشْرَاطُهَا ۚ [ ان کی علامتیں ] فَاَنّٰى لَهُمْ [ تو کہاں سے ہوگی ان کیلئے ] اِذَا [ (اس وقت ) جبکہ ] جَاۗءَتْهُمْ [ وہ (گھڑی ) آئے گی ان کے پاس ] ذِكْرٰىهُمْ [ ان کی نصیحت ]
ش ر ط : (ن، ض) شرطا ۔ شرط لگانا ۔ (س) شرط کسی مشکل کام میں پڑنا ۔ کسی چیز پر پہچان کے لیے نشان لگانا ۔ شرط ۔ ہرچیز کی ابتدا ، علامت ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18
Ayah 47:19فَاعْلَمْ [ تو آپ جان لیں ] اَنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی بھی الہ نہیں ہے ] اِلَّا اللّٰهُ [ سوائے اللہ کے ] وَاسْتَغْفِرْ [ اور آپ مغفرت مانگیں ] لِذَنْۢبِكَ [ اپنے گناہ کے لئے ] وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ [ اور ایمان لانے والوں کے لیے ] وَالْمُؤْمِنٰتِ ۭ [ اور ایمان لانے والیوں کے لیے ] وَاللّٰهُ يَعْلَمُ [ اور اللہ جانتا ہے ] مُتَقَلَّبَكُمْ [ تم لوگوں کے گھومنے پھرنے کی جگہ کو ] وَمَثْوٰىكُمْ [ اور تمہارے ٹھکانے کو ]
Ayah 47:20وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے ] لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ ۚ [ کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت ] فَاِذَآ اُنْزِلَتْ [ پھر جب اتاری گئی ] سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ [ ایک محکم کی ہوئی سورت ] وَّذُكِرَ فِيْهَا [ اور ذکر کیا گیا اس میں ] الْقِتَالُ ۙ [ جنگ کا ] رَاَيْتَ الَّذِيْنَ [ تو آپ نے دیکھا ان کو ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ جن کے دلوں میں ] مَّرَضٌ [ ایک روگ ہے ] يَّنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ [ (کہ ) وہ دیکھتے ہیں آپ کی طرف ] نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ [ اس کی نظر جس پر ڈھائی گئی (غشی )] مِنَ الْمَوْتِ ۭ [ موت (کے خوف ) سے ] فَاَوْلٰى [ تو قریب ہے (تباہی ) ] لَهُمْ [ ان کے لیے ]
ترکیب : (آیت ۔ 20 ) اولی افعل تفضیل ہے جس کے معنی ہیں زیادہ نزدیک ۔ زیادہ قریب لیکن یہ دھمکی کا کلمہ بھی ہے۔ (دیکھیں آیت ۔ 2:64 ، مادہ ” ول ی “ ) یہاں یہ دھمکی کے معنی میں آیا ہے ۔
نوٹ ۔ 1: منافقوں میں ایک گروہ ان لوگوں کا بھی تھا جو قریش اور یہود کو یہ اطمنان دلاتے رہتے تھے کہ ہم اگر چہ مسلمانوں میں شامل ہیں لیکن بعض معاملات میں ہم آپ ہی لوگوں کاس اتھ دیتے رہیں گے ۔ یہ لوگ اپنی منافقانہ پالیسی پر پردہ ڈالنے میں اسوقت تک کامیاب رہے جب تک جنگ کامر حلہ نہیں آیا تھا لیکن جب یہ مرحلہ سر پر آگیا تو ان کے لیے چھپنے کا موقع باقی نہیں رہا ۔ چناچہ اپنے نفاق پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے ان لوگوں نے یہ وسوسہ اندازی شروع کردی کہ ہم بھائیوں بھائیوں کے اندر خون ریزی پسند نہیں کرے ۔ بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اور قریش اور اس ملک کے دوسرے عناصر سب مل جل کر صلح اور محبت کے ساتھ رہیں ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو مصلح اور امن پسند کہتے تھے ۔ ان کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر آیت ۔ 22 میں فرمایا کہ یہ راہ جو تم نے اختیار کی ہے وہ امن اور صلح کی راہ نہیں ہے بلکہ یہ اسی فساد اور برادر کشی کی طرف تمہاری واپسی ہے جس میں تم پہلے مبتلاء رہے ہو ۔ امن اور اخوت کی راہ یہ ہے کہ سب ایک الہ کے بندے اور ایک آدم کی اولاد کی حیثیت سے زندگی بسر کریں اور اس نظام زندگی کو اپنائیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت آدم کی وحدت کے عقیدے پر قائم ہے ۔ یہ چیز اس جاہلی نظام زندگی کو پر قرار رکھنے سے حاصل نہیں ہوگی جس میں قبیلہ قبیلہ کا خدا بھی جدا ہے اور ہر ایک کا باوا آدم بھی الگ الگ ہے۔ (تدبر قرآن )
Ayah 47:21طَاعَةٌ [(اصل مطلوب ہے ) اطاعت کرنا ] وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ ۣ [ اور بھلی بات کہنا ] فَاِذَا [ پھر جب کبھی ] عَزَمَ الْاَمْرُ ۣ [ پختہ ارادہ کرلے وہ معاملہ (یعنی جنگ کا فیصلہ ہوجائے ) ] فَلَوْ صَدَقُوا [ تو اگر یہ لوگ سچ کردکھاتے ] اللّٰهَ [اللہ کو ] لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ [ تو یقینا بہتر ہوتا انکے لیے ]
(آیت ۔ 21 ) طَاعَةٌ وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ خبریں ہیں ان سے پہلے ان کا مبتدا محذوف ہے جو المطلوب ہوسکتا ہے ۔ عزم فعل متعدی ہے جس کے معنی ہیں پکا ارادہ کرنا ۔ یہاں الامر اس کے فاعل کے طور پر آیا ہے۔ اس لیے لفظی ترجمہ بنتا ہے ۔ اس معاملہ نے پکا ارادہ کیا ۔ لیکن مفہوم فعل لازم کے معنی میں لیا جاتا ہے یعنی وہ معاملہ پکا ہوا یا پختہ ہوا۔
Ayah 47:22فَهَلْ عَسَيْتُمْ [ پھر تم لوگوں سے کیا ہوسکتا ہے ] اِنْ تَوَلَّيْتُمْ [ اگر تم لوگ روگردانی کرو (جہاد سے )] اَنْ [(سوائے اس کے ) کہ ] تُفْسِدُوْا [ تم لوگ حقوق و فرائض کا توازن بگاڑو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَتُـقَطِّعُوْٓا [ اور ٹکڑے ٹکڑے کرڈالو ] اَرْحَامَكُمْ [ اپنی رشتہ داریوں کو ]
نوٹ۔ 2: اسلام نے رشتہ داری کے حقوق پورے کرنے کی بڑی تاکید کی ہے ۔ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص صلہ رحمی کرے گا اللہ اس کو اپنے قریب کرے گا اور جو رشتہ قرابت قطع کرے گا اللہ اس کو قطع کردے گا ۔ اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ ؓ نے اسی آیت کا حوالہ دیا کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص چاہتا ہو کہ اس کی عمر زیادہ ہو اور رزق میں برکت ہوا سے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں جو صرف برابر کا بدلہ دے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب دوسری طرف سے قطع تعلق کا معاملہ کیا جائے تو یہ ملانے اور جوڑنے کا کام کرے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 47:23اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] لَعَنَهُمُ اللّٰهُ [ لعنت کی جن اللہ نے ] فَاَصَمَّهُمْ [ پھر اس نے بہرا کردیا ان کو ] وَاَعْمٰٓى اَبْصَارَهُمْ [اور اندھی کردیں ان کی بصارتیں ]
Ayah 47:24اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ [ تو کیا یہ لوگ غور وفکر نہیں کرتے ] الْقُرْاٰنَ [ قرآن میں ] اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ [ یا کچھ دلوں پر ] اَقْفَالُهَا [ ان کے تالے ہیں ۔
نوٹ۔ 1: دلوں کو زندہ رکھنے والی چیز قرآن ہے بشرطیکہ اس کو سمجھ کر اس پر غور فکر کیا جائے ۔ لیکن ناقدرے لوگ اس پر غور نہیں کرتے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دلوں پر جو زنگ لگتے ہیں وہ اس طرح ان کے دلوں پر چڑھ جاتی ہیں جس طرح تالوں سے دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔ اقفالھا سے مراد وہ چیزیں ہیں جو دلوں کو روگ یازنگ کی طرح لگتی ہیں ۔ دنیا کی محبت ، موت کا ڈر ، بخل ، کینہ ، حسد ، نفاق اور اس قبیل کی دوسری چیزیں اس کے نمایاں اجزاء ہیں اور قساوت یعنی دل کی سختی بھی اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوجاتی ہے۔ ان بیماریوں کا علاج قرآن کو سننا اور سمجھنا ہے لیکن ایسے لوگوں کو قرآن ہی سے وحشت ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 47:25اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا [بیشک جو لوگ واپس لوٹے ] عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ [ اپنی پیٹھوں پر ] مِّنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جب ] تَبَيَّنَ لَهُمُ [ واضح ہوئی ان کے لیے ] الْهُدَى ۙ [ہدایت ] الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ [ شیطان نے خوشنما بنایا ] لَهُمْ ۭ [ ان کے لیے (منافقت کو ) ] وَاَمْلٰى [ اور اس نے لمبی چوڑی امید دلائی ] لَهُمْ [ ان لوگوں کے لیے ]
Ayah 47:26ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ [ یہ اس سبب سے کہ انھوں (منافقوں ) نے ] قَالُوْا لِلَّذِيْنَ [ کہا ان لوگوں سے جنھوں نے ] كَرِهُوْا مَا [ ناپسند کیا اس کو جو ] نَزَّلَ اللّٰهُ [ نازل کیا اللہ نے ] سَنُطِيْعُكُمْ [ (کہ ) ہم کہنا مانیں گے تم لوگوں کا ] فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ښ [بعض معاملات میں ] وَاللّٰهُ يَعْلَمُ [ اور اللہ جانتا ہے ] اِسْرَارَهُمْ [ ان کے چھپانے کو ]
Ayah 47:27فَكَيْفَ [تو کیسا ہوگا ] اِذَا تَوَفَّتْهُمُ [ جب روح قبض کریں گے ان کی ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] يَضْرِبُوْنَ [ مارتے ہوئے ] وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ [ ان کے چہروں کو اور ان کی پیٹھوں کو ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 27 ۔ بھی ان آیات میں سے ہے جو عذاب برزخ یعنی عذاب قبر کی تصریح کرتی ہیں ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت ہی کفار و منافقین پر عذاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ عذاب اس سزا سے مختلف چیز ہے جو قیامت میں ان کے مقدمے کا فیصلہ ہونے کے بعد انکو دی جائے گی ، (تفیہم القرآن )
Ayah 47:28ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ [ یہ اس سبب ہے کہ انہوں نے ] اتَّبَعُوْا مَآ [پیروی کی اس کی جس نے ] اَسْخَـــطَ اللّٰهَ [ ناراض کیا اللہ کو ] وَكَرِهُوْا [ اور انہوں نے ناپسند کیا ] رِضْوَانَهٗ [ اس کی رضامندی کو ] فَاَحْبَــطَ اَعْمَالَهُمْ [ تو اس نے اکارت کردئیے ان کے اعمال ]
Ayah 47:29اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ [ یا انہوں نے گمان کیا ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ [ جن کے دلوں میں ایک روگ ہے ] اَنْ لَّنْ يُّخْرِجَ اللّٰهُ [ کہ ہرگز نہیں نکالے گا اللہ ] اَضْغَانَهُمْ [ ان کے کینوں کو ]
ض غ ن : (س) ضغنا ۔ دل میں دشمنی چھپانا ۔ کینہ رکھنا ۔ ضغن ج : اضغان ۔ اسم ذات ہے۔ کینہ ۔ بغض ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 29 ۔
Ayah 47:30وَلَوْ نَشَاۗءُ [ اور اگر ہم چاہتے ] لَاَرَيْنٰكَهُمْ [ تو آپ کو ہم ضرور دکھاتے وہ لوگ ] فَلَعَرَفْتَهُمْ [ تو آپ پہچان لیتے ان کو ] بِسِيْمٰهُمْ ۭ [ ان (کے چہروں ) کی علامات سے ] وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ [ اور آپ لازما پہنچان لیں گے ان کو ] فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ ۭ [ بات کرنے کے انداز سے ] وَاللّٰهُ يَعْلَمُ [ اور اللہ جانتا ہے ] اَعْمَالَكُمْ [ تمہارے اعمال کو ]
ل ح ن : (ف) لحنا ۔ بات کو اس کے مستعمل اسلوب سے پھیر دینا ۔ کنایہ میں بات کرنا ۔ لحن کنایہ ۔ طرز گفتگو ۔ لہجہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 30 ۔
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 30 ۔ میں ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم منافقین آپ کو دکھادیں ۔ اس مضمون کو حرف لو سے بیان کیا ہے جس کا استعمال ایسی شرط کے لیے ہوتا ہے جس کا وقوع نہ ہوا ہو ۔ اس لئے اس آیت کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اگر ہم چاہتے تو ہر منافق کو شخصی طور پر متعین کر کے آپ کو بتا دیتے ۔ مگر ہم نے حکمت اور مصلحت سے ان کو اس طرح رسوا کرنا پسند نہیں کیا تاکہ یہ ضابطہ قائم رہے کہ تمام امور کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے اور قلبی مضمرات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے البتہ آپ کو ایسی بصیرت ہم نے دے دی ہے کہ آپ منافق کو اس کے کلام سے پہچان لیں ۔ اور بعض احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ منافقین کی ایک جماعت کا آپ کو شخصی طور پر علم دے دیا گیا تھا ۔ جیسا کہ مسند احمد میں عقبہ بن عمر ؓ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک خطبہ میں خاص خاص منافقین کے نام لے کر انکو مجلس سے اٹھا دیا ۔ اس میں ۔ 36 ۔ آدمیوں کے نام شمار کیے گئے ہیں ۔ (معارف القرآن )
پڑھے کم بولے زیادہ قسم کے کچھ دانشور مذکورہ احادیث کو زیر مطالعہ آیت ۔ 30 ۔ کے خلاف قرار دیتے اور وہ بھی لفظ کو اپنی دلیل کی بنیاد بناتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ اگر ہم چاہتے تو بتا دیتے لیکن بتایا نہیں تو پھر کوئی راوی اگر کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو منافقوں کے نام معلوم تھے تو یہ بات قرآن کے خلاف ہے ۔ حالانکہ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کچھ منافقوں کو تو آپ نے ان کی علامتوں سے پہچان لیا ہے اور باقیوں کو ان کے لحن القول سے لازما پہچان لیں گے ۔ اب اگر اپنے اس علم کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ان کے نام لے کر منافق قرار دیا تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ۔ آخر اللہ کے رسول تھے کوئی دانشور تو نہیں تھے۔ یہ تو خیر جواب آں غزل ہے۔ اب صحیح بات سمجھ لیں ۔
ان دانشوروں کو یا تو سورة محمد کے زمانہ نزول کا علم نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ دانستہ اس سے اغماض برت رہے ہیں تاکہ عام مسلمانوں کی لاعلمی سے فائدہ اٹھا کر احادیث پر انکے ایمان کو متزلزل کرسکیں ۔ یہ سورت ہجرت مدینہ کے فورا بعد نازل ہوئی ہے ۔ (معارف القرآن ) یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اس وقت نازل ہوئی جب جنگ کا حکم تو دیا جاچکا تھا (البقرۃ ۔ 190) مگر ابھی جنگ عملا شروع ہوئی نہ تھی ۔ (تفہیم القرآن ) ۔ جنگ بدر رمضان 2 ھ کا واقعہ ہے ۔ اس طرح اس سورة کا زمانہ نزول 1 ھ کے آخر یا 2 ھ کے شروع کا زمانہ بنتا ہے۔ جبکہ ۔ 36 ۔ آدمیوں کا نام لے کر انکو مجلس سے اٹھ جانے کا حکم دینے کا واقعہ جنگ تبوک سے واپسی پر پیش آیا ۔ جنگ تبوک 9 ھ میں ہوئی تھی ۔ اب اگر 2 ھ میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے نام نہیں بتائے تھے اور سات سال کے بعد 9 ھ میں اس وقت کے منافقوں کے نام بتا دیئے تو اس میں قرآن کے خلاف کیا بات ہے ۔ آیت زیر مطالعہ میں اللہ تعالیٰ نے یہی تو فرمایا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو بتا دیتے لیکن ابھی بتایا نہیں ہے۔ قرآن میں یہ کہاں لکھا ہے کہ کبھی بھی نہیں بتائیں گے۔ ” آرزو کی ایک جماعت نے اہل کتاب میں سے کہ کاش وہ لوگ گمراہ کردیں تم لوگوں کو ۔ اور وہ گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے آپ کو اس حال میں کہ وہ لوگ شعور نہیں رکھتے ۔ “ (ال عمران ۔ 69)
Ayah 47:31وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ [ اور ہم لازما آزمائیں گے تم لوگوں کو ] حَتّٰى نَعْلَمَ [ یہاں تک کہ ہم جان لیں (ظاہر کردیں ) ] الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ [ مجاہدوں کو تم میں سے ] وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ [ اور ثابت قدم رہنے والوں کو ] وَنَبْلُوَا۟ [ اور ہم جانچیں گے ] اَخْبَارَكُمْ [ تمہاری حالتوں کو ]
Ayah 47:32اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ] وَصَدُّوْا [اور وہ رکے رہے ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ سے ] وَشَاۗقُّوا [ اور انھوں نے مخالفت کی ] الرَّسُوْلَ [ ان رسول کی ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جب ] تَـبَيَّنَ لَهُمُ [واضح ہوئی انکے لئے ] الْهُدٰى ۙ [ ہدایت ] لَنْ يَّضُرُّوا [وہ لوگ ہرگز نقصان نہیں پہنچائیں گے ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] شَـيْــــًٔا ۭ [ کچھ بھی ] وَسَيُحْبِطُ [ اور وہ اکارت کرے گا ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ]
Ayah 47:33يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا [ اے لوگو ! جو ایمان لائے ] اَطِيْعُوا اللّٰهَ [ تم لوگ اطاعت کرو اللہ کی ] وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ [اور اطاعت کرو ان رسول کی ] وَلَا تُبْطِلُوْٓا [ اور تم لوگ غارت مت کرو ] اَعْمَالَكُمْ [اپنے اعمال کو ]
Ayah 47:34اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ] وَصَدُّوْا [اور وہ رکے رہے ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ سے ] ثُمَّ مَاتُوْا [پھر وہ مرگئے ] وَهُمْ [ اس حال میں کہ وہ لوگ ] كُفَّارٌ [ انکار کرنے والے تھے ] فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ [ تو ہرگز مغفرت نہیں کرے گا اللہ ] لَهُمْ [ان لوگوں کی ]
Ayah 47:35فَلَا تَهِنُوْا [ تو تم لوگ ہمت مت ہارو ] وَتَدْعُوْٓا [ اور نہ بلاؤ ] اِلَى السَّلْمِ ڰ [ صلح کی طرف ] وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ڰ [ اور تم لوگ غالب ہو ] وَاللّٰهُ مَعَكُمْ [ اور اللہ تمہارے ساتھ ہے ] وَلَنْ يَّتِرَكُمْ [ اور وہ ہرگز حق تلفی نہیں کرے گا تمہاری ] اَعْمَالَكُمْ [تمہارے اعمال میں ]
نوٹ ۔ ا : آیت ۔ 35 ۔ میں کفار کو صلح کی دعوت دینے کی ممانعت کی گئی ہے جبکہ سورة انفال کی آیت ۔ 61 ۔ میں ہے کہ اگر کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی مائل ہوجائیے جس سے صلح کی اجازت معلوم ہوتی ہے ۔ اس لیے بغض حضرات نے فرمایا کہ اجازت والی آیت اس شرط کے ساتھ ہے کہ کفار کی طرف سے صلح جوئی کی اجازت معلوم ہوتی ہے ۔ اس لیے بعض حضرات نے فرمایا کہ اجازت والی آیت اس شرط کے ساتھ ہے کہ کفار کی طرف سے صلح جوئی کی ابتدا ہو اور اس آیت میں جس کو منع کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے صلح کی درخواست کی جائے ۔ اس لیے دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔ مگر صحیح یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے ابتداء صلح کرلینا بھی جائز ہے جبکہ اس میں مسلمانوں کی مصلحت دیکھی جائے ۔ اس آیت کے شروع میں فلا تھنوا کہہ کر اس طرف اشارہ کردیا کہ ممنوع وہ صلح ہے جس کا منشاء بزدلی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے فرار ہو۔ (معارف القرآن )
Ayah 47:36اِنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا [ دینوی زندگی تو بس ] لَعِبٌ وَّلَهْوٌ ۭ [ کھیل اور تماشہ ہے ] وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا [ اور اگر تم لوگ ایمان لاؤ اور تقوی اختیار کرو ] يُؤْتِكُمْ [ تو وہ دے گا تم لوگوں کو ] اُجُوْرَكُمْ [ تمہاری اجرتیں ] وَلَا يَسْـَٔــلْكُمْ [ اور وہ نہیں مانگے گا تم سے ] اَمْوَالَكُمْ [ تمہارے مال ]
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 36 ۔ میں وَلَا يَسْـَٔــلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرتا ۔ مگر پورے قرآن میں زکوۃ و صدقات کے احکام اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے بیشمار مواقع آئے ہیں ۔ اور خود اس آیت کے بعد اگلی آیت میں انفاق فی سبیل اللہ کی تاکید آرہی ہے۔ اس لیے بظاہر ان دونوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے بعض حضرات نے لایسئلکم کا یہ مفہوم قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے اموال اپنے نفع کے لیے نہیں مانگتا بلکہ تمہارے ہی فائدے کے لیے مانگتا ہے ۔ اس کی نظیر الذاریات کی آیت ۔ 57 ہے۔ جس میں ہے کہ ہم اپنے لیے کوئی بھی رزق نہیں چاہتے ۔ اور بعض حضرات نے اس کا مفہوم یہ قرار دیا کہ لا یسئلکم سے مراد پورا مال طلب کرنا ہے۔ اس کا قرینہ اگلی آیت ہے جس میں فرمایا ان یسئلکم فیحفکم کیونکہ اخفاء کے معنی مبالغہ کرنے اور کسی کام میں آخر تک پہنچ جانے کے ہیں ۔ اس دوسری آیت کا مفہوم سب کے نزدیک یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے پورے اموال طلب کرتا تو تم بخل کرنے لگتے اور اس حکم کی تعمیل تمہیں ناگوار ہوتی یہاں تک کہ ادائیگی کے وقت تمہاری یہ ناگواری ظاہر ہوجاتی ۔ اس طرح دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مالی فرائض تم پر عائد کیے ہیں وہ خود تمہارے ہی فائدے کے لیے ہیں اور پھر ان فرائض میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہارے مال کا اتنا تھوڑا سا جزوفرض کیا ہے جو کسی طرح بار خاطر نہ ہونا چاہیے ۔ زکوۃ میں چالیسواں حصہ ، زمین کی پیداوار میں دسواں یا بیسوں حصہ ، سو بکریوں میں ایک بکری ، تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پورے اموال تو طلب نہیں کیے بلکہ اس قدر قلیل طلب فرمایا ہے ۔ اس لیے تمہارا فرض ہے کہ اس کو خوشی سے ادا کیا کرو ۔ (معارف القرآن )
Ayah 47:37اِنْ يَّسْـَٔــلْكُمُوْهَا [ اگر وہ مانگے تم سے اس (مال ) کو ] فَيُحْفِكُمْ [ پھر وہ اصرار کرے تم سے ] تَبْخَلُوْا [ تو تم لوگ کنجوسی کروگے ] وَيُخْرِجْ [ اور وہ نکالے گا ] اَضْغَانَكُمْ [تمہارے بغض کو ]
Ayah 47:38هٰٓاَنْتُمْ [ ہاں ہاں تم لوگ تو ] هٰٓؤُلَاۗءِ [ وہ لوگ ہو ] تُدْعَوْنَ [ جن کو دعوت دی جاتی ہے ] لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ [ کہ خرچ کرو اللہ کی راہ میں ] فَمِنْكُمْ مَّنْ [ تو تم میں وہ بھی ہے جو ] يَّبْخَلُ ۚ [ کنجوسی کرتا ہے ] وَمَنْ يَّبْخَلْ [ اور جو کنجوسی کرتا ہے ] فَاِنَّمَا يَبْخَلُ [ تو وہ تو بس کنجوسی کرتا ہے ] عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ [ اپنی جان سے ] وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ [ اور اللہ ہی بےنیاز ہے ] وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ ۚ [ اور تم لوگ محتاج ہو ] وَاِنْ تَتَوَلَّوْا [ اور اگر تم لوگ منہ موڑو گے ] يَسْتَبْدِلْ [ تو وہ بدلے میں ہے ] قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ [ کسی قوم کو تمہارے علاوہ ] ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا [ پھر وہ لوگ نہ ہوں گے ] اَمْثَالَكُمْ [تمہارے جیسے ]