46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 46:1
حٰـمۗ نوٹ ۔ 1: سورة الاحقاف کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ قرآن محمد ﷺ کا کلام نہیں ہوسکتا بلکہ یہ اللہ کا ہی کلام ہے ۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے اس پس منظر کو سمجھنا ہوگا جس میں سورة نازل ہوئی ۔ یہ سورة 10 نبوی کے آخر یا 11 نبوی کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی ۔ 10 نبوی حیات طیبہ میں انتہائی سختی کا سال تھا ۔ تین سال سے حضور ﷺ اپنے خاندان اور اپنے اصحاب کے ساتھ شعیب ابی طالب میں محصور تھے ، یہ محاصرہ اس سال ٹوٹا ہی تھا کہ حضرت ابو طالب وفات پاگئے جو دس سال سے آپ ﷺ کے لیے ڈھال بنے ہوئے تھے ۔ اس سانحے پر مشکل ایک مہینہ گزرا تھا کہ بی بی خدیجہ ؓ بھی انتقال فرما گئیں جن کی ذات آغازنبوت سے ہی آپ کے لیے وجہ سکون و تسلی بنی رہی تھی ، ان پے درپے صدموں کی وجہ سے حضور ﷺ اس سال کو عام الحزن فرمایا کرتے تھے ۔ اس کے بعد کفار مکہ پہلے سے زیادہ آپ کو تنگ کرنے لگے اور آپ کا گھر سے نکلنا بھی مشکل ہوگیا ، آخرکار آپ ﷺ اس ارادے سے طائف تشریف لے گئے کہ اگر ہو لوگ اسلام نہ قبول کریں تو وہ آپ کو اپنے ہاں چین سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع دے دیں ، مگر انہوں نے آپ کی کوئی بات نہیں مانی اور آپ کو نوٹس دے دیا کہ وہ شہر سے نکل جائیں ۔ اور اپنے ہاں کے لفنگوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا ۔ وہ دور تک آپ پر آوازے کستے اور پتھر مارتے رہے ۔ یہاں تک کہ آپ زخموں سے چور ہوگئے ۔ اس حالت میں آپ طائف کے باہر ایک باغ کی دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے اور اپنے رب سے عرض کیا : ” خداوندا میں تیرے ہی حضور اپنی بےبسی اور بےچارگی اور لوگوں کی نگاہ میں اپنی بےقدری کا شکوہ کرتاہوں ۔ اے ارحم الراحمین ، تو سارے ہی کمزوروں کا رب ہے اور میرا رب بھی تو ہی ہے ۔ مجھے کس کے حوالے کررہا ہے ۔ کیا کسی بیگانے کے حوالے جو مجھ پر سے درشتی سے پیش آئے ۔ یا کسی دشمن کے حوالے جو مجھ پر قابو پالے، اگر تم مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی مصیبت کی پرواہ نہیں مگر تیری طرف سے عافیت مجھے نصیب ہوجائے تو اس میں میرے لئے زیادہ کشادگی ہے، میں پناہ مانگتا ہوں تیری ذات کے اس نور کی جو اندھیرے میں اجالا اور دنیا اور آخرت کے معاملات کو درست کرتا ہے ۔ مجھے اس سے بچا لے کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہو یا میں تیرے عتاب کا مستحق ہوجائوں ۔ تیری مرضی پر راضی ہوں ، یہاں تک کہ تم مجھ سے راضی ہوجائے ۔ کوئی زور اور طاقت تیرے بغیر نہیں ۔ اس کے بعد چند روز نخلہ کے مقام پر ٹھہر گئے ، پریشان تھے کہ اب کیسے مکہ واپس جاؤں ۔ طائف میں جو کچھ گزری ہے اس کی خبریں وہاں پہنچ چکی ہوں گی ، اس کے بعد تو کفار پہلے سے بھی زیادہ دلیر ہوجائیں گے ۔ یہ حالات تھے جن میں یہ سورة نازل ہوئی ۔ جو شخص بھی ان حالات کو نظر میں رکھے گا اور اس سورة کو بغور پڑھے گا اسے کوئی شبہہ نہیں رہے گا کہ یہ محمد ﷺ کا کلام نہیں ہے بلکہ اس کا نزول اللہ کی طرف سے ہی ہے کیونکہ اول سے آخر تک پوری سورة میں کہیں ان انسانی جذبات وت اثرات کا ایک ادنی شائبہ تک نہیں پایا جاتا جو ان حالات میں گزرنے والے انسان کے اندر فطری طور پر پیدا ہوتے ہیں ۔ اگر یہ محمد ﷺ کا کلام ہوتا جنھیں پے در پے صدمات اور مصائب کے بےپناہ ہجوم اور طائف کے تازہ ترین چرکے نے خستہ حالی کی انتہا کو پہنچا دیا تھا تو اس سورة میں کہیں تو ان کیفیات کا عکس نظر آتا جو اس وقت آپ کے دل پر گزر رہیں تھیں ، ہم نے حضور ﷺ کی جو دعانقل کی ہے ، اسے دیکھیے ، وہ آپ کا اپنا کلام ہے ، اس کا لفظ لفظ ان کیفیات سے لبریز ہے مگر یہ سورة جو اسی زمانے اور انہی حالات میں آپ ہی کی زبان مبارک سے ادا ہوئی ہے ، ان کے ہر اثر سے خالی ہے ۔ (تفہیم القرآن ج 4 ۔ ص۔ 596 تا 598 سے ماخوذ)
Ayah 46:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [ اس کتاب کا اتارنا ] مِنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف ) سے ہے ] الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ [ جو بالا دست ہے حکمت والا ہے ]
Ayah 46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے مگر یہ کافر لوگ اُس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ ہم نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو ] وَمَا بَيْنَهُمَآ [ اور جو ان کے درمیان ہے ] اِلَّا بِالْحَـقِّ [ مگر حق (مقصد) کے ساتھ ] وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ [ اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ ] وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ] عَمَّآ [ اس سے جس سے ] اُنْذِرُوْا [ ان کو خبردار کیا گیا ] مُعْرِضُوْنَ [ اعراض کرنے والے ہیں ]
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن سے کہو، "کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو؟ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصہ ہے اِس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ (اِن عقائد کے ثبوت میں) تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو"

قُلْ [ آپ کہیے ] اَرَءَيْتُمْ [ کیا تم لوگوں نے غور کیا ] مَّا [ان پر جن کو ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے سوا ] اَرُوْنِيْ [ تم لوگ دکھاؤ مجھ کو ] مَاذَا [ کیا کچھ ] خَلَقُوْا [ انہوں نے پیدا کیا ] مِنَ الْاَرْضِ [ زمین سے ] اَمْ لَــهُمْ شِرْكٌ [ یا ان کے لیے کوئی شراکت ہے ] فِي السَّمٰوٰتِ ۭ [ آسمانوں میں ] اِيْتُوْنِيْ [ تم لوگ لاؤ میرے پاس ] بِكِتٰبٍ [ کوئی کتاب ] مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ [ اس سے پہلے کی ] اَوْ اَثٰرَةٍ [ یا (لاؤ) کچھ بچے ہوئے حصہ ] مِّنْ عِلْمٍ [ کسی علم سے ] اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ [ اگر تم لوگ سچ کہنے والے ہو ] نوٹ۔ 2: اثارۃ اس روایت کو کہتے ہیں جو باپ دادا سے منقول ہوتی چلی آرہی ہو ، اس کے ساتھ من علم کی قید اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ اس روایت کی بنیاد محض وہم و گمان پر نہیں بلکہ علم پر ہو ، یہ بات واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ علم یا تو اس کی کتابوں کے ذریعے سے خلق کو منتقل ہوا ہے مثلا تورات ، و انجیل وغیرہ یا روایات و آثار کے ذریعے مثلا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کی تعلیمات بعد والوں کو روایات ہی کے ذریعہ سے پہنچیں ، ان ذرئع سے جو علم منتقل ہوا اسمیں کہیں شرک کے حق میں کوئی شائبہ نہیں ہے ۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے متعلق جو روایات تورات ، و انجیل یا دوسرے صحیفوں میں نقل ہوئی ہیں ان میں بھی شرک کا کوئی جرثومہ نہیں ہے مشرکین عرب اپنے باپ دادا کے طریقہ پر ہونے کے مدعی ضرور تھے لیکن یہ ثابت کرنے سے قاصر رہے کہ ان کے باپ دادا کے طریقہ کی بنیاد کس شرعی یا عقلی دلیل پر تھی ۔ (تدبر قرآن)
Ayah 46:5

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں

وَمَنْ اَضَلُّ [ اور کون زیادہ گمراہ ہے ] مِمَّنْ [ اس سے جو ] يَّدْعُوْا [ پکارتا ہے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے سوا ] مَنْ [ اس کو جو ] لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ [ جواب نہیں دیتا اس کو ] اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن تک ] وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ [ اور وہ ان کی دعا سے ] غٰفِلُوْنَ [ غافل ہیں ]
Ayah 46:6

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے

وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ [ اور جب اکٹھا کیا جائے گا لوگوں کو ] كَانُوْا [ تو وہ لوگ ہوں گے ] لَهُمْ اَعْدَاۗءً [ ان کے دشمن ] وَّكَانُوْا [ اور وہ ہوں گے ] بِعِبَادَتِهِمْ [ ان کی عبادت کا ] كٰفِرِيْنَ [ انکار کرنے والے ]
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آ جاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ [ اور جب کبھی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] اٰيٰتُنَا [ ہماری آیتیں ] بَيِّنٰتٍ [ واضح ہوتے ہوئے ] قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ] لِلْحَقِّ [ اس حق (قرآن ) کے لئے ] لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۙ [ جب وہ آیا ان کے پاس ] ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ [ یہ ایک کھلا جادو ہے ]
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو، "اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے"

اَمْ يَقُوْلُوْنَ [ یا (پھر) وہ کہتے ہیں ] افْتَرٰىهُ ۭ [ اس نے گھڑا اس کو ] قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ [ آپ کہیے اگر میں گھڑا اس کو ] فَلَا تَمْلِكُوْنَ [ تو تم لوگ اختیار نہیں رکھتے ہو ] لِيْ [ میرے بارے میں ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ] شَيْـــــًٔا ۭ [ کسی چیز کا ] هُوَ اَعْلَمُ [ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِمَا [ اس (بات ) کو ] تُفِيْضُوْنَ [ تم لوگ چرچا کرتے ہو ] فِيْهِ ۭ [ جس کا ] كَفٰى بِهٖ [ وہ کافی ہے ] شَهِيْدًۢا [ بطور گواہ کے ] بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۭ [ میرے درمیان اور تمہارے درمیان ] وَهُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ [ اور وہ ہی بےانتہا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

اِن سے کہو، "میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا، میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کر دینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں"

قُلْ مَا كُنْتُ [ آپ کہیے میں نہیں ہوں ] بِدْعًا [ کوئی نیا نویلا ] مِّنَ الرُّسُلِ [ رسولوں میں سے ] وَمَآ اَدْرِيْ [ اور میں نہیں جانتا ] مَا يُفْعَلُ [ کیا کیا جائے گا ] بِيْ [ میرے ساتھ ] وَلَا بِكُمْ ۭ [ اور نہ تمہارے ساتھ (کیے جانے کو ) ] اِنْ اَتَّبِــعُ [ میں پیروی نہیں کرتا ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جو ] يُوْحٰٓى اِلَيَّ [ وحی کیا گیا میری طرف ] وَمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ مگر ایک واضح خبردار کرنے والا ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 9 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ میں نہیں جانتا بجز اس کے جو مجھ پر وحی کی جائے ۔ امور غیبیہ کا علم مجھے صرف وحی کے ذریعہ ہوسکتا ہے ۔ جس معاملے کے متعلق وحی سے مجھے علم نہ ہو ، خواہ وہ میری ذات سے متعلق ہو یا امت کے مومن وکافر لوگوں سے اور خواہ وہ معاملہ دنیا کا ہو یا آخرت کا اس کی مجھے کچھ خبر نہیں ۔ امور غیبیہ کے متعلق میں جو کچھ کہتا ہوں وہ سب وحی الہی سے کہتا ہوں ۔ تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ میرا اعتقاد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور دنیا و آخرت میں پیش آنے والے اہم معاملات سے آپ کو بذریعہ وحی باخبر نہیں کردیا گیا ۔ رہا اشخاص و افراد کے جزوی شخصی حالات و معاملات کہ زید کل کیا کام کرے گا اور اس کے کام کا انجام کیا ہوگا ، عمر اور بکر اپنے اپنے گھروں میں کیا کررہے ہیں یا کریں گے ، ایسے و امور غیبیہ کا علم نہ کوئی کمال ہے نہ ان کے نہ ہونے سے کمال نبوت میں کوئی فرق آتا ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کے متعلق تقاضائے ادب یہ ہے کہ یوں نہ کہا جائے کہ آپ غیب نہیں جانتے تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو امور غیب کا بہت بڑا علم دیا تھا جو انبیاء میں سے کسی دوسرے کو نہیں ملا، (معارف القرآن )
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

اے نبیؐ، ان سے کہو "کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم نے اِس کا انکار کر دیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا)؟ اور اِس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا"

قُلْ اَرَءَيْتُمْ [ آپ کہیے کیا تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ كَانَ [ اگر یہ (قرآن ) ہوا ] مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس سے ] وَكَفَرْتُمْ بِهٖ [ اور انکار کیا تم نے اس کا ] وَ [حالانکہ ] شَهِدَ [ گواہی دی ] شَاهِدٌ [ ایک گواہی دینے والے نے ] مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل میں سے ] عَلٰي مِثْلِهٖ [ اس کے جیسی (کتاب ) پر ] فَاٰمَنَ [ پھر وہ ایمان لایا ] وَاسْـتَكْبَرْتُمْ ۭ [ اور تم نے (پھر بھی ) اکڑ دکھائی ] اِنَّ اللّٰهَ [ (تو) یقینا اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْــقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والی قوم کو ] نوٹ۔ 2: مفسرین کے ایک بڑے گروہ نے آیت ۔ 10 میں گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو لیا ہے جو مدینہ میں ایمان لائے تھے اس لیے ان مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت مدنی ہے۔ اس تفسیر کی بنیاد حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا یہ بیان ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ (بخاری ۔ مسلم ۔ نسائی ) مگر دوسری طرف کچھ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت عبداللہ بن سلام ؓ کے بارے میں نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ پوری سورة مکی ہے ۔ ابن جریر طبری کا کہنا ہے کہ اوپر سے سارا سلسلہ کلام مشرکین مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے چلا آرہا ہے اور آگے بھی سارا خطاب انہی سے ہے اس سیاق وسباق میں یکایک مدینہ میں نازل ہونے والی ایک آیت کا آجانا قابل تصور نہیں ہے ۔ جن مفسرین نے اس دوسرے قول کو قبول کیا ہے وہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت کو رد نہیں کرتے بلکہ ان کا خیال یہ ہے کہ یہ آیت چونکہ عبداللہ بن سلام ؓ کے ایمان لانے پر بھی چسپاں ہوتی ہے اس لئے حضرت سعد ؓ نے قدماء کی عادت کے مطابق یہ فرما دیا کہ یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب وہ ایمان لائے اس وقت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قبول ایمان پر یہ پوری طرح چسپاں ہوتی ہے ۔ اس کے بعد یہ سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ اس گواہ سے مراد کون ہے ، بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ لیکن بعد کا یہ فقرہ کہ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے اس تفسیر کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتا ۔ زیادہ صحیح بات وہی معلوم ہوتی ہے جو ابن کثیر نے بیان کی ہے کہ یہاں گواہ سے مراد کوئی خاص شخص نہیں بلکہ بنی اسرائیل کا ایک عام آدمی ہے ۔ آیت کا مدعا یہ ہے کہ قرآن جو تعلیم پیش کررہا ہے یہ کوئی انوکھی چیز نہیں ہے ۔ اس سے پہلے یہی تعلیمات اسی طرح وحی کے ذریعہ بنی اسرائیل کے سامنے کتب آسمانی کی شکل میں آچکی ہیں اور انا کا ایک عام آدمی ان کو مان چکا ہے ۔ اس لیے تم لوگ یہ دعوی نہیں کرسکتے کہ وحی اور تعلیمات ناقابل فہم چیزیں ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ تمہارا گھمنڈ ایمان لانے میں مانع ہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے انکار کیا ] لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ ان کے لئے جو ایمان لائے ] لَوْ كَانَ خَيْرًا [ اگر یہ ہوتا تو بہتر ] مَّا سَبَقُوْنَآ [ تو یہ لوگ آگے نہ نکلتے ہم سے ] اِلَيْهِ ۭ [ اس کی طرف ] وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ [ اور جب انھوں نے ہدایت نہیں پائی اس کے ذریعہ ] فَسَيَقُوْلُوْنَ [ تو وہ لوگ کہیں گے ] ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ [ یہ ایک بہت پرانا بہتان ہے ]
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے

وَمِنْ قَبْلِهٖ [ اور اس (کتاب ) سے پہلے ] كِتٰبُ مُوْسٰٓى [ موسیٰ کی کتاب تھی ] اِمَامًا وَّرَحْمَةً ۭ [ امام اور رحمت ہوتے ہوئے ] وَھٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ [ اور یہ ایک (اس کی ) تصدیق کرنے والی کتاب ہے ] لِّسَانًا عَرَبِيًّا [ عربی زبان میں ہوتے ہوئے ] لِّيُنْذِرَ [ تاکہ یہ ( کتاب ) خبردار کرے ] الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ڰ [ ان کو جنھوں نے ظلم کیا ] وَبُشْرٰى [ اور بشارت ہوتے ہوئے ] لِلْمُحْسِـنِيْنَ [خوب کاروں کیلئے ]
Ayah 46:13

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر اُس پر جم گئے، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا [ بیشک جن لوگوں نے کہا ] رَبُّنَا اللّٰهُ [ ہمارا رب اللہ ہے ] ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا [ پھر وہ قائم رہے ( اس پر) ] فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ [ تو کوئی خوف نہیں ہے ان پر ] وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ [ اور نہ ہو وہ لوگ غمگین ہوں گے ]
Ayah 46:14

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

ایسے سب لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں

اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ [ یہ لوگ جنت والے ہیں ] خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ] جَزَاۗءًۢ [ بدلہ ہوتے ہوئے ] بِمَا [ اس کا جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ کرتے تھے ]
Ayah 46:15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک بر تاؤ کرے اُس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا "اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سُکھ دے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں"

وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ [ اور ہم نے تاکید کی انسان کو ] بِوَالِدَيْهِ [ اپنے والدین سے ] اِحْسٰـنًا ۭ [ حسن سلوک کرنے کی ] حَمَلَتْهُ [ اس کا (حمل ) اٹھایا ] اُمُّهٗ [اس کی ماں نے ] كُرْهًا [تکلیف دہ ہوتے ہوئے ] وَّوَضَعَتْهُ [ اور اس نے جنا اس کو ] كُرْهًا ۭ [ تکلیف دہ ہوتے ہوئے ] وَحَمْلُهٗ [اور اس کا (حمل) اٹھانا ] وَفِصٰلُهٗ [ اور اس کا (دودھ ) چھڑانا ] ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا ۭ[ تیس مہینے ہیں ] حَتّىٰٓ اِذَا بَلَغَ [ یہاں تک کہ وہ پہنچے ] اَشُدَّهٗ [اپنی پختگی کو ] وَبَلَـغَ [ اور وہ پہنچے ] اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۙ [ چالیس سال کو ] قَالَ [ (تو) وہ کہے ] رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ [ اے میرے رب تو میرے دل میں ڈال دے ] اَنْ اَشْكُرَ [ کہ میں شکر ادا کروں ] نِعْمَتَكَ الَّتِيْٓ [ تیری اس نعمت کا جو ] اَنْعَمْتَ عَلَيَّ [ تو نے انعام کی مجھ پر ] وَعَلٰي وَالِدَيَّ [اور میرے والدین پر ] وَاَنْ اَعْمَلَ [ اور یہ کہ میں عمل کروں ] صَالِحًا [ایسی نیکی کا ] تَرْضٰىهُ [ تو پسند کرے جس کو ] وَاَصْلِحْ [ اور تو اصلاح کردے ] لِيْ [ میرے لیے ] فِيْ ذُرِّيَّتِيْ ڝ [ میرے اولاد میں ] اِنِّىْ تُبْتُ [ بیشک میں نے رجوع کیا (توبہ کی) ] اِلَيْكَ [تیری طرف ] وَاِنِّىْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ [ اور بیشک میں فرمانبرداروں میں سے ہوں ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 15 میں فرمایا کہ ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت کی ہے یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر بھی ودیعت فرمائی ہے اور اسی کی تعلیم تمام انبیاء اور اس کے نیک بندوں نے بھی دی ہے یہ حقیقت تمام مذاہب وادیان میں ابتدا سے مسلم رہی ہے کہ خدا کے بعد انسان پر سب سے بڑا حق اس کے ماں باپ ہی کا ہے بلکہ یہ کہنا بھی بےجا نہیں ہے کہ جہاں تک شعور میں آنے کا تعلق ہے ، ماں باپ کا حق سب سے پہلے شعور میں آتا ہے ، پھر اسی حق کے شعور سے انسان خدا اور اس کے حقوق کے شعور تک ترقی کرتا ہے ۔ جب تک انسان بچہ رہتا ہے اس وقت تک وہ سب کچھ ماں باپ ہی کو سمجھتا ہے ۔ لیکن جب وہ سن رشد کو پہنچتا ہے تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اصلی منعم وہ پروردگار ہے جس نے ماں باپ کو بھی وجود بخشا ہے۔ اس طرح وہ ماں باپ کی انگلی پکڑ کر خدا تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے اندر ماں باپ کے حق کا شعور بیدار ہوتا ہے ۔ اور یہی دو حق انسان پر سب سے بڑے ہیں اور پھر انہی دو حق سے بہت سے حقوق کی شاخیں پھوٹتی ہیں ۔ (تدبر قرآن)
Ayah 46:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ [ ہم قبول کرتے ہیں جن سے ] اَحْسَنَ مَا [ اس کے بہترین کو جو ] عَمِلُوْا [ ان لوگوں نے عمل کیا ] وَنَتَجَاوَزُ [ اور ہم درگزر کرتے ہیں ] عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ [ ان کی برائیوں سے ] فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ ۭ [ (وہ لوگ ) جنت والوں میں ہیں ] وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ [ اس سچائی کا وعدہ ہوتے ہوئے جو ] كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ [ ان سے وعدہ کیا جاتا تھا ]
Ayah 46:17

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا "اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اٹھ کر نہ آیا)" ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں "ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے" مگر وہ کہتا ہے "یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"

وَالَّذِيْ قَالَ [ اور وہ جس نے کہا ] لِوَالِدَيْهِ [ اپنے والدین سے ] اُفٍّ لَّكُمَآ [تم دونوں پر افسوس ہے ] اَتَعِدٰنِنِيْٓ [ کیا تم دونوں مجھے دھمکی دیتے ہو ] اَنْ اُخْرَجَ [ کہ مجھ کو نکالا جائے گا ] وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ [ حالانکہ گزر چکی ہیں قومیں ] مِنْ قَبْلِيْ ۚ [ مجھ سے پہلے ] وَهُمَا يَسْتَغِيْثٰنِ اللّٰهَ [ اور وہ دونوں فریاد کرتے ہیں اللہ سے ] وَيْلَكَ [ (پھر بیٹے سے کہتے ہیں ) بربادی ہے تیرے لیے ] اٰمِنْ ڰ [ تو ایمان لا ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [ یقینا اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ ښ [ سچ ہے ] فَيَقُوْلُ [ تو وہ کہتا ہے ] مَا ھٰذَآ اِلَّآ [ نہیں ہیں یہ مگر ] اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ [ پہلے لوگوں کے افسانے ]
Ayah 46:18

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہے اِن سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اِسی قماش کے) ہو گزرے ہیں اُنہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے بے شک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] حَقَّ عَلَيْهِمُ [ ثابت ہوئی جن پر ] الْقَوْلُ [ وہ (عذاب کی ) بات ] فِيْٓ اُمَمٍ [ (وہ ) ایسی قوموں میں ہیں جو ] قَدْ خَلَتْ [ گزرچکی ہیں ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان سے پہلے ] مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۭ [ جنوں اور انسانوں میں سے ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [ بیشک وہ لوگ تھے ] خٰسِرِيْنَ [خسارہ پانے والے ]
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا

وَلِكُلٍّ [ اور سب کے ] دَرَجٰتٌ [ کچھ درجے ہیں ] مِّمَّا عَمِلُوْا ۚ [اس میں سے جو ان لوگوں نے عمل کیا ] وَلِيُوَفِّيَهُمْ [ اور تاکہ وہ (اللہ ) پورا پورا دے ان کو ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال (کا بدلہ ) ] وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ [ اور ان لوگوں پر ظلم (حق تلفی ) نہیں کیا جائے گا ] نوٹ ۔ 1: آیت 19 میں وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ نہ اچھے لوگوں کی نیکیاں ضائع ہوں گی نہ برے لوگوں کو ان کی واقعی برائی سے بڑھ کر سزا دی جائے گی ۔ نیک آدمی اگر اپنے اجر سے محروم رہ جائے یا اپنے استحقاق سے کم اجر پائے تو یہ بھی ظلم ہے اور برا آدمی اپنے کئے سزا نہ پائے یا جتنا قصور اس نے کیا ہے اس سے زیادہ سزا پائے تو یہ بھی ظلم ہے۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لا کھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا: "تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُن کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا"

وَيَوْمَ يُعْرَضُ [ اور جس دن پیش کیے جائیں گے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ] عَلَي النَّارِ ۭ [ آگ پر ] اَذْهَبْتُمْ [ (تو کہا جائے گا ) تم لوگ لے گئے ] طَيِّبٰتِكُمْ [ اپنی پاکیزہ (چیزوں) کو ] فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا [ اپنی دنیوی زندگی میں ] وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا ۚ [ اور تم لوگوں نے فائدہ اٹھایا ان سے ] فَالْيَوْمَ تُجْـزَوْنَ [ پس آج تم لوگوں کو بدلہ دیا جائے گا ] عَذَابَ الْهُوْنِ [ ذلت کے عذاب کا ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَسْـتَكْبِرُوْنَ [ تم لوگ بڑے بنے پھرتے تھے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ [ حق کے بغیر ] وَبِمَا [ اور بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ [ تم لوگ نافرمانی کرتے رہتے تھے ] نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 20 ۔ میں ہے کہ کفار سے کہا جائے گا کہ تم نے کچھ اچھے کام اگر دنیا میں کیے تھے تو اس کا بدلہ بھی تمہیں دنیا میں دیا جاچکا ہے اب آخرت میں تمہارا کوئی حصہ باقی نہیں رہا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے نیک اعمال جو ایمان نہ لانے کی وجہ سے اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ، آخرت میں تو ان کی کوئی قیمت نہیں مگر دنیا میں اللہ تعالیٰ ان کا بدلہ اس کو دیتے ہیں ۔ (معارف القرآن)
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

ذرا اِنہیں عاد کے بھائی (ہودؑ) کا قصہ سناؤ جبکہ اُس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا اور ایسے خبردار کرنے والے اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے کہ "اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے"

وَاذْكُرْ [ اور آپ یاد کریں ] اَخَا عَادٍ ۭ [ عاد کے بھائی (ہود) کو ] اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ [ جب انہوں نے خبردار کیا اپنی قوم کو ] بِالْاَحْقَافِ [ احقاف (کے علاقے ) میں ] وَقَدْ خَلَتِ [ حالانکہ گزر چکے تھے ] النُّذُرُ [خبردار کرنے ] مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ [ ان کے آگے (والے علاقے ) سے ] وَمِنْ خَلْفِهٖٓ [ اور ان کے پیچھے (والے علاقے ) سے ] اَلَّا تَعْبُدُوْٓا [ کہ تم بندگی مت کرو (کسی کی) ] اِلَّا اللّٰهَ ۭ [ سوائے اللہ کے ] اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ [ بیشک میں ڈرتا ہوں تم لوگوں پر ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم دن کے عذاب سے ] ح ق: (ن) حقوفا ہرن کا ریت کے تودہ میں بیٹھنا ۔ حقف ، ج : احقاف ۔ ریت کالمبا اور بیچ دار تودہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 21 ۔ نوٹ۔ 1: چونکہ سرداران قریش اپنی بڑائی کا زعم رکھتے تھے اور اپنی ثروت پر پھولے نہ سماتے تھے ۔ اس لیے یہاں انکو قوم عاد کا قصہ سنایا جارہا ہے جس کے متعلق عرب میں مشہور تھا کہ قدیم زمانے میں وہ اس سرزمین کی سب سے زیادہ طاقتور قوم تھی۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 46:22

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

انہوں نے کہا "کیا تو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے؟ اچھا تو لے آ اپنا وہ عذاب جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے"

قَالُوْٓا اَجِئْتَـنَا [ ان لوگوں نے کہا کیا تو آیا ہمارے پا س ] لِتَاْفِكَنَا [ تاکہ تو پھیر دے ہم کو ] عَنْ اٰلِهَتِنَا ۚ [ ہمارے خداؤں سے ] فَاْتِنَا [ پس تو لے آ ] بِمَا [ اس چیز کو جس کا ] تَعِدُنَآ [ تو وعدہ کرتا ہے ہم سے ] اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ اگر تو سچ کہنے والوں میں سے ]
Ayah 46:23

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

اُس نے کہا کہ "اِس کا علم تو اللہ کو ہے، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو"

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ [ انہوں نے کہا (اس کا) پورا علم تو بس ] عِنْدَ اللّٰهِ ڮ [ اللہ کے پاس ہے ] وَاُبَلِّغُكُمْ [ اور میں پہنچاتا ہوں تم لوگوں کو ] مَّآ [ اس چیز کو ] اُرْسِلْتُ بِهٖ [ میں بھیجا گیا جس کے ساتھ ] وَلٰكِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ [ اور لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگوں کو ] قَوْمًا [ایک ایسی قوم (کہ) ] تَجْـهَلُوْنَ [ تم لوگ نادانی کرتے ہو ]
Ayah 46:24

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے "یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا" "نہیں، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آ رہا ہے

فَلَمَّا رَاَوْهُ [ پھر جب ان لوگوں نے دیکھا اس (عذاب ) کو ] عَارِضًا [ بادل ہوتے ہوئے ] مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَــتِهِمْ ۙ [ ان کی وادیوں کے سامنے آنے والا ہوتے ہوئے ] قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ [ تو انھوں نے کہا یہ ایک بادل ہے ] مُّمْطِرُنَا ۭ [ (بارش ) برسانے والا ہے ہم پر ] بَلْ هُوَ [ بلکہ وہ ] مَا [ وہ ہے ] اسْـتَعْــجَلْتُمْ بِهٖ ۭ [ تم جلدی مچاتے تھے جس کی ] رِيْحٌ [ (یہ) ایک ایسی ہوا ہے ] فِيْهَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ [جس میں ایک دردناک عذاب ہے ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 26 ۔ میں ایک اہم حقیقت بیان کی گئی ہے اللہ کی آیات ہی وہ چیز ہیں جو انسان کو حقیقت کا صیحح فہم و ادراک بخشتی ہیں یہ فہم و ادراک انسان کو حاصل ہو تو وہ آنکھوں سے ٹھیک دیکھتا ہے، کانوں سے ٹھیک سنتا ہے ، دل و دماغ سے ٹھیک سوچتا ہے اور صحیح فیصلے کرتا ہے ۔ لیکن جب وہ آیات الہی کو ماننے سے انکار کردیتا ہے تو آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اسے نگاہ حق شناس نصیب نہیں ہوتی ، کان رکھتے ہوئے بھی وہ ہر کلمہ نصیحت کے لیے بہرا ہوتا ہے اور دل و دماغ کی جو نعمتیں خدا نے اسے دی ہیں ان سے الٹی سوچتا اور ایک سے ایک غلط نتیجہ اخذ کرتا چلا جاتا ہے ۔ (تفیہم القرآن )
Ayah 46:25

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا" آخرکار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں

تُدَمِّرُ [ وہ ہلاک کرتی ہے ] كُلَّ شَيْءٍۢ [ ہرچیز کو ] بِاَمْرِ رَبِّهَا [ اپنے رب کے حکم سے ] فَاَصْبَحُوْا لَا يُرٰٓى [ پھر وہ ہوگئے (ایسے کہ کوئی ایک بھی ) نہیں دیکھا جاتا ] اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ ۭ [ سوائے ان کے ٹھکانوں کے ] كَذٰلِكَ نَجْزِي [ اس طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ] الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ [ جرم کرنے والی قوم کو ]
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آ گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ [ اور بیشک ہم اختیار دے چکے ان کو ] فِيْمَآ [ اس میں ] اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ [ ہم نے اختیار نہیں دیا تم کو جس میں ] وَجَعَلْنَا لَهُمْ [ اور ہم نے بنائے (دیئے ) انکے لیے ] سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً ڮ [ سماعت اور بصارت اور دل ] فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ [ پھر کام نہ آئے ان کے ] سَمْعُهُمْ [ ان کی سماعت ] وَلَآ اَبْصَارُهُمْ [ اور نہ ان کی بصارتیں ] وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ [ اور نہ ان کے دل ] مِّنْ شَيْءٍ [ کسی بھی چیز میں ] اِذْ كَانُوْا يَجْـحَدُوْنَ ۙ[جب وہ جانتے بوجھتے انکار کرتے تھے ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی نشانیوں کا ] وَحَاقَ بِهِمْ [ اور گھیرے میں لے لیا ان کو ] مَّا [ اس چیز نے ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ وہ لوگ جس کا مذاق اڑاتے تھے ]
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

تمہارے گرد و پیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے اُن کو سمجھایا، شاید کہ وہ باز آ جائیں

وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا [ اور بیشک ہم ہلاک کرچکے ] مَا حَوْلَكُمْ [ اس کو جو تمہارے اردگرد ہیں ] مِّنَ الْقُرٰى [بستیوں میں سے ] وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ [ اور ہم نے بار بار بیان کیا آیتوں کو ] لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [ شاید وہ لوگ لوٹ آئیں ]
Ayah 46:28

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُن کے جھوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے

فَلَوْلَا نَــصَرَهُمُ [ تو کیوں نہیں مدد کی ان کی ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں نے جن کو ] اتَّخَذُوْا [ان لوگوں نے بنایا ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] قُرْبَانًا [ قربت حاصل کرنے کے لیے ] اٰلِهَةً ۭ [ معبود ] بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ ۚ [ بلکہ وہ سب گم ہوگئے ان سے ] وَذٰلِكَ اِفْكُهُمْ [اور یہ ان کا جھوٹ تھا ] وَمَا [ اور وہ (بھی ) جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [ یہ گھڑتے تھے ]
Ayah 46:29

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

(اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے

وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ [ اور جب ہم نے پھیرا آپ کی طرف ] نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ [ ایک ٹولی کو جنوں میں سے ] يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ [سنتے ہوئے قرآن کو ] فَلَمَّا حَضَرُوْهُ [ پھر جب وہ سامنے آئے اس (قرآن پڑھنے ) کے ] قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ [ تو انہوں نے کہا چپ چاپ سنو ] فَلَمَّا قُضِيَ [ پھر جب وہ (قرآن پڑھنا ) پورا کیا گیا ] وَلَّوْا [ تو وہ سب واپس لوٹے ] اِلٰى قَوْمِهِمْ [ اپنی قوم کی طرف ] مُّنْذِرِيْنَ [خبردار کرنے والے ہوتے ہوئے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 29 ۔ کی تفسیر میں جور وایات متعدد صحابہ کرام اور دوسرے بزرگوں سے منقول ہیں وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جنوں کی پہلی حاضری کا یہ واقعہ ، جس کا اس آیت میں ذکر ہے بطن نخلہ میں پیش آیا تھا ۔ وہاں عشاء یا فجر یا تہجد کی نماز میں آپ قرآن تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا اور وہ آپ کی قرات سننے کے لیے ٹھہر گیا ۔ اس کے ساتھ تمام روایات اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس موقعہ پر جن حضور ﷺ کے سامنے نہیں آئے تھے ، نہ آپ نے ان کی آمد کو محسوس کیا تھا بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے آپ کو ان کے آنے اور قرآن سننے کی خبر دی معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد جنوں کے پے درپے وفود حضور ﷺ کے پاس حاضر ہونے لگے اور آپ سے ان کی رودررو ملاقاتیں ہوتی رہیں ، اس بارے میں جو روایات کتب حدیث میں منقول ہیں ان کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں کم از کم چھ وفد آئے تھے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 46:30

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

انہوں نے جا کر کہا، "اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف

قَالُوْا يٰقَوْمَنَآ [انہوں نے کہا اے ہمارے قوم ] اِنَّا سَمِعْنَا [ بیشک ہم نے سنا ] كِتٰبًا [ ایک ایسی کتاب کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کی گئی ] مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى [ موسیٰ کے بعد ] مُصَدِّقًا [تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے ] لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ [ اس کی جو اس کے سامنے (پہلے ) ہے ] يَهْدِيْٓ [ (وہ) رہنمائی کرتی ہے ] اِلَى الْحَـقِّ [ حق کی طرف ] وَاِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْـتَقِيْمٍ [اور ایک سیدھے راستے کی طرف ] نوٹ ۔ 2: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضور ﷺ جنات کے بھی اسی طرح رسول ہیں ۔ جس طرح ہمارے لیے ہیں ۔ اس کا جواب نفی میں دینا ممکن نہیں ہے کیونکہ آگے آیت ۔ 31 میں جنوں کا یہ قول موجود ہے کہ ” اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لاؤ۔ دوسری طرف رسولوں کے باب میں سنت الہی تو یہ رہی ہے کہ وہ اسی قوم کے اندر سے مبعوث ہوئے جس کی دعوت پر وہ مامور ہوئے ۔ اسی قوم کی زبان میں انھوں نے دعوت پیش کی اور قوم ہی کے اندر انہوں نے زندگی گزاری ۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی ہے کہ جب جنوں اور انسانوں کی خلقت دو متضاد عناصر سے ہوئی ہے تو لازما دونوں کی سرشت اور مزاج ، دونوں کی معاشرتی اور تمدنی ضروریات اور دونوں کے احکام وشرائع میں بڑا فرق ہوگا ۔ اس لیے ان میں اگر مشترک ہوسکتے ہیں تو توحید ، معاد اور خیر وشر کے بنیادی کلمات ہی ہوسکتے ہیں ۔ باقی امور الگ الگ ہوں گے، اس وجہ سے قرآن ان کی رہنمائی ، عقائد اور اخلاقی کلیات کی حد تک کرسکتا ہے ۔ کیونکہ جہاں تک کلیات دین کا تعلق ہے وہ نہ صرف انسانوں اور جنوں کے درمیان بلکہ فرشتوں کے درمیان بھی مشترک ہیں ، جس طرح داود کے نغمات حمد میں پرندے اور پہاڑ ان کی ہمنوائی کرتے تھے ، اسی طرح جنوں کے صالحین کی اس پارٹی نے قرآن سنا تو عش عش کر اٹھی اور انھوں نے اپنی قوم کو بھی توحید و آخرت پر ایمان لانے اور خدا کے عذاب سے ڈرتے رہنے کی دعوت دی ، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن کی بنیادی دعوت انسانوں اور جنوں دونوں کے لیے یکساں ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ حضور ﷺ جنوں کے لیے بھی اسی طرح رسول تھے جس طرح انسانوں کے لیے تھے ، جن لوگوں نے یہ بات کہی ہے ان کی بات اس سنت الہی کے خلاف ہے جو قرآن میں رسالت سے متعلق نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے ۔ (تدبر قرآن ج 7، ص 380 تا 382 سے ماخوذ )
Ayah 46:31

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچا دے گا"

يٰقَوْمَنَآ اَجِيْبُوْا [ اے ہماری قوم تم لوگ کہا مانو ] دَاعِيَ اللّٰهِ [ اللہ کی دعوت دینے والے کا ] وَاٰمِنُوْا بِهٖ [ اور تم لوگ ایمان لاؤ اس پر ] يَغْفِرْ لَكُمْ [ تو وہ (اللہ ) بخش دے گا تمہارے لیے ] مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ [ تمہارے گناہوں میں سے ] وَيُجِرْكُمْ [اور وہ امان دے گا تم کو ] مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ [ ایک درد ناک عذاب سے ]
Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کر دے، اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچا لیں ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑ ے ہوئے ہیں

وَمَنْ لَّا يُجِبْ [ اور جو کہا نہیں مانے گا ] دَاعِيَ اللّٰهِ [ اللہ کی دعوت دینے والے کا ] فَلَيْسَ [ تو وہ نہیں ہے ] بِمُعْجِزٍ [ عاجز کرنے والا ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَلَيْسَ لَهٗ [ اور نہیں ہیں اس کے لیے ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [ اس (اللہ ) کے سوا ] اَوْلِيَاۗءُ ۭ [ کچھ کار ساز لوگ ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] فِيْ ضَلٰـلٍ مُّبِيْنٍ [ کھلی گمراہی میں ہیں ]
Ayah 46:33

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

اور کیا اِن لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جلا اٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے

اَوَلَمْ يَرَوْا [ کیا ان لوگوں نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ [ کہ وہ اللہ جس نے ] خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] وَلَمْ يَعْيَ [ اور وہ نہیں تھکا ] بِخَلْقِهِنَّ [ان کو پیدا کرنے سے ] بِقٰدِرٍ [ قادر (نہیں ) ہے ] عَلٰٓي اَنْ [ اس پر کہ ] يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ [ وہ زندہ کرے مردوں کو ] بَلٰٓي اِنَّهٗ [ کیوں نہیں یقینا وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ [ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ] ع ی ی : (س) ۔ عیاء کام کرنے سے عاجز ہونا ، تھک جانا ، زیر مطالعہ آیت ۔ 33 ۔ نوٹ۔ 1: اس سورة کے شروع میں وہ پس منظر واضح کیا گیا ہے جس میں یہ سورة نازل ہوئی تھی ، ان حالات و واقعات کو ذہن میں تازہ کریں اور پھر سوچیں کہ جب یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ پر گزر گیا تو اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے رہا ہے کہ صبر کریں جیسا کہ اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا اور آپ جلدی نہ کریں ۔ تب کچھ اندازہ ہوگا کہ کس درجہ کا صبر اور عزم اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے، خصوصا ان لوگوں سے جو کار انبیاء یعنی دعوت و تبلیغ کا کام سرانجام دے رہے ہیں ، پھر یہ اندازہ ہوجائے گا کہ کسی دینی جماعت کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ان کی جلد بازی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ شارٹ کٹ اختیار کرلیتے ہیں ۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم کے کیسٹ سے ماخوذ)
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"

وَيَوْمَ يُعْرَضُ [ اور جس دن پیش کیے جائیں گے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ] عَلَي النَّارِ ۭ[ آگ پر ] اَلَيْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ ۭ [ (تو پوچھا جائے گا) کیا یہ برحق نہیں ہے ] قَالُوْا بَلٰي وَرَبِّنَا ۭ [ وہ کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم ] قَالَ [ کہے گا (ان کا رب) ] فَذُوْقُوا الْعَذَابَ [ تو (اب) چکھو عذاب کو ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ [ تم لوگ انکار کرتے تھے ]
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو اِنہیں یوں معلوم ہو گا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے بات پہنچا دی گئی، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہو گا؟

فَاصْبِرْ [ پس آپ صبر کریں ] كَمَا صَبَرَ [ اس کے جیسا جو صبر کیا ] اُولُوا الْعَزْمِ [ عزم والوں نے ] مِنَ الرُّسُلِ [ رسولوں میں سے ] وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ ۭ [ اور آپ جلدی نہ کریں ان کیلئے ] كَاَنَّهُمْ [ جیسے کہ وہ لوگ (سمجھیں گے ) ] يَوْمَ يَرَوْنَ [ جس دن دیکھیں گے ] مَا يُوْعَدُوْنَ ۙ [ اس کو جوان سے وعدہ کیا جاتا ہے ] لَمْ يَلْبَثُوْٓا [ (کہ ) وہ نہیں ٹھہرے (دنیا میں ) ] اِلَّا سَاعَةً [ مگر ایک گھڑی بھر ] مِّنْ نَّهَارٍ ۭ [ ایک دن میں سے ] بَلٰــغٌ ۚ [(یہ ) پہنچا دینا ہے ] فَهَلْ يُهْلَكُ [ پھر کیا (کون ) ہلاک کیا جائے گا ] اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ [ سوائے نافرمانی کرنے والی قوم کے ]