45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 45:1
حٰـمۗ
Ayah 45:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اِس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [ اس کتاب کا اتارنا ] مِنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف ) سے ہے ] الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ [ جو بالا دست ہے حکمت والا ہے ] ترکیب : آیت ۔ 3 میں لایت ، ان کا اسم ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے، فی السموت والارض قائم مقام خبر ہے کیونکہ خبر محذوف ہے جو کہ موجود یا ثابت ہوسکتی ہے جبکہ آیات ۔ 4 ۔ 5 ۔ میں ایت مبتدا مؤخر نکرہ ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہیں آیت ۔ 5 ۔ میں واختلاف اور تصریف کی جر سابقہ آیت میں فی خلقکم کی فی پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے ۔ اسی طرح سے ما انزل اللہ میں ما بھی اسی فی پر عطف ہے اور محلا حالت جر میں ہے ۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بے شمار نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے

اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ بیشک آسمانوں اور زمین میں ] لَاٰيٰتٍ [ یقینا نشانیاں ہیں ] لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کے لیے ] نوٹ۔ 1: کائنات کی مختلف نشانیاں بیان فرما کر ایک جگہ یہ فرمایا ہے کہ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں دوسری جگہ فرمایا کہ یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور تیسری جگہ ہے کہ عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان نشانیوں سے پورا فائدہ تو وہی اٹھا سکتے ہیں جو ایمان لے آئیں ، دوسرے نمبر یہ ان لوگوں کے لیے مفید ہوسکتی ہیں ، جو فورا ایمان نہ لائیں لیکن ان کے دل میں یقین پیدا ہوجائے کہ یہ چیزیں توحید پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ یہ یقین کسی نہ کسی دن ایمان کا سبب بن سکتا ہے اور تیسرے درجے میں ان لوگوں کے لئے مفید ہیں جو کم از کم عقل سلیم رکھتے ہوں اور ان میں بصیرت کے ساتھ غور کریں ، کیونکہ عقل و بصیرت کے ساتھ جب بھی ان نشانیوں پر غور کیا جائے گا تو یقین اور ایمان ضرور پیدا ہوگا ، ہاں جو لوگ عقل سلیم نہ رکھتے ہوں یا ان معاملات میں عقل کو تکلیف دینا بھی گوارہ نہ کریں ان کے سامنے ہزار دلائل پیش کرنا بھی ناکافی ہے۔ (معارف القرآن ) اس سے ایک بڑی اہم حقیقت یہ واضح ہوئی کہ قرآن کی دعوت جبر یا تحکم پر مبنی نہیں ہے بلکہ تمام تر آفاق وانفس کے واضح دلائل اور عقل و فطرت کی بینات پر مبنی ہے ۔ جو لوگ ان کو نہیں مانتے ان کے نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ مخفی ہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے نفس کی خواہشوں کے خلاف پاتے ہیں اس وجہ سے ان سے گریز کرتے ہیں (تدبر قرآن )
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری اپنی پیدائش میں، اور اُن حیوانات میں جن کو اللہ (زمین میں) پھیلا رہا ہے، بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو یقین لانے والے ہیں

وَفِيْ خَلْقِكُمْ [ اور تمہارے پیدا کرنے میں ] وَمَا [ اور اس میں جو ] يَبُثُّ [ وہ بکھیرتا ہے ] مِنْ دَاۗبَّةٍ [ جاندار میں سے ] اٰيٰتٌ [ نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لیے جو ] يُّوْقِنُوْنَ [ یقین کرتے ہیں ]
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں، اور اُس رزق میں جسے اللہ آسمان سے نازل فرماتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جِلا اٹھاتا ہے، اور ہواؤں کی گردش میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ [اور رات اور دن کے آنے جانے میں ] وَمَآ [ اور اس میں جو ] اَنْزَلَ اللّٰهُ [ اتارا اللہ نے ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مِنْ رِّزْقٍ [ رزق میں سے (پانی )] فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ [ پھر اس نے زندہ کیا اس سے زمین کو ] بَعْدَ مَوْتِهَا [ اس کے مردہ ہونے کے بعد ] وَتَــصْرِيْفِ الرِّيٰحِ [ اور ہواؤں کے بار بار گھمانے پھرانے میں ] اٰيٰتٌ [نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّعْقِلُوْنَ [ عقل استعمال کرتے ہیں ]
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم تمہارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں اب آخر اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے

تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ [ یہ اللہ کی آیتیں ہیں ] نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ [ ہم انھیں پڑھ کر سناتے ہیں آپ کو ] بِالْحَقِّ ۚ [ حق کے ساتھ ] فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ [ پھر کون سی بات پر ] بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ [ اللہ اور اس کی نشانیوں کے بعد ] يُؤْمِنُوْنَ [ یہ لوگ ایمان لائیں گے ]
Ayah 45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

تباہی ہے ہر اُس جھوٹے بد اعمال شخص کے لیے

وَيْلٌ [ تباہی ہے ] للِّكُلِّ اَفَّاكٍ [ ہر ایک بہتان باز ] اَثِيْمٍ [ پکے گنہار کے لئے ] نوٹ۔ 1: افاک کے معنی ہیں حقائق کی قلب ماہیت کردینے والا یعنی خدا کی آیات اور اس کی نشانیاں تو کسی اور حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہوں لیکن وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بندگی میں اس حقیقت کو بالکل بدل دے ، اس کے مصداق اول تو قریش کے مشرکین تھے لیکن اس کے عام مصداق میں ہر دور کے وہ محرفین دین شامل ہیں جو اللہ کی آیات اور اس کے احکام میں اپنی خواہشات کے تحت تحریف کے مرتکب ہوئے یا ہورہے ہیں ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 45:8

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں، اور وہ اُن کو سنتا ہے، پھر پورے استکبار کے ساتھ اپنے کفر پر اِس طرح اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے اُن کو سنا ہی نہیں ایسے شخص کو درد ناک عذاب کا مژدہ سنا دو

يَّسْمَعُ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ وہ سنتا ہے اللہ کی آیات کو ] تُتْلٰى عَلَيْهِ [ جو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں اس کو ] ثُمَّ يُصِرُّ [ پھر وہ اڑتا ہے (کفر پر ) ] مُسْتَكْبِرًا [ بڑا بنتے ہوئے ] كَاَنْ [ جیسے کہ ] لَّمْ يَسْمَعْهَا ۚ [ اس نے سنا ہی نہ تھا ان کو ] فَبَشِّرْهُ [ تو آپ بشارت دیں اس کو ] بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ [ ایک درد ناک عذاب کی ] ترکیب : آیت ۔ 8 ۔ میں کان دراصل کان ہی ہے ۔ ان ۔ ان ۔ لکن وغیر ہ کے بعد فعل نہیں آتا ، اسم ہی آتا ہے اور یہ اپنے اسم کو نصب دیتے ہیں ۔ لیکن اگر ان کو خفیف کرلیں جیسے ان ، ان لکن وغیرہ تو پھر یہ عامل نہیں رہتے ، یعنی اپنے اسم کو نصب نہیں دیتے۔ اس لئے ان کے بعد فعل بھی آسکتا ہے لیکن معانی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ، نوٹ۔ 2: آیت ۔ 8 میں مستکبرین کا وہ رویہ بیان ہوا ہے جو وہ اس وقت اختیار کرتے جب نبی کریم ﷺ بذات خود ان کو قرآن سنانے کی کوشش فرماتے ۔ آیت ۔ 9 ۔ میں ان کا وہ رویہ بیان ہوا ہے جو وہ اس وقت اختیار کرتے جب قرآن کی کوئی بات ان کو کسی اور واسطہ سے پہنچتی یہ امر ملحوظ رہے کہ نزول قرآن کے زمانہ میں قریش کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو غیر جانبدارانہ ذہن کے ساتھ قرآن کی آیتیں سنتے اور ان سے متاثر بھی ہوتے ۔ اس طرح کے لوگ ان آیتوں کو اپنے سرداروں کے علم میں لاتے تاکہ ان کی رائے معلوم کریں ، ان کے سردار تاڑ جاتے کہ لوگ ان آیات سے متاثر ہورہے ہیں اس اثر سے لوگوں کو بچانے کے لیے وہ یہ تو نہیں کرسکتے تھے کہ دلیل سے قائل کردیں ، واحد تدبیر یہی تھی کہ قرآن کی بات کا مذاق اڑائیں تاکہ کسی پر اس کا کوئی اثر نہ ہونے پائے اس قسم کی حرکت اگرچہ کچھ زیادہ کارگر نہیں ہوتی تاہم وقتی طور پر کمزور رائے کے لوگ غلط فہمیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں یہ حربہ ہر دور کے شیاطین حق کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ (تدبر قرآن )
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

ہماری آیات میں سے کوئی بات جب اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اُن کا مذاق بنا لیتا ہے ایسے سب لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے

وَاِذَا عَلِمَ [ اور جب کبھی وہ جان لیتا ہے ] مِنْ اٰيٰتِنَا شَيْئَۨا [ ہماری آیات میں سے کوئی چیز ] اتَّخَذَهَا [ تو وہ بناتا اس کو ] هُزُوًا ۭ [ مذاق کا ذریعہ ] اُولٰۗىِٕكَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [ جن کے لئے ] عَذَابٌ مُّهِيْنٌ [ ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے ]
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

اُن کے آگے جہنم ہے جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز اُن کے کسی کام نہ آئے گی، نہ اُن کے وہ سرپرست ہی اُن کے لیے کچھ کر سکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے اُن کے لیے بڑا عذاب ہے

مِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ [ ان کے پیچھے ] جَهَنَّمُ ۚ [ جہنم ہے ] وَلَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ [ اور کام نہ آئے گا ان کے ] مَّا كَسَبُوْا [ وہ جو انھوں نے کمایا ] شَيْـــــًٔا [ کچھ بھی ] وَّلَا مَا [ اور نہ ہی وہ جن کو ] اتَّخَذُوْا [ انھوں نے بنایا ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] اَوْلِيَاۗءَ ۚ [ کارساز ] وَلَهُمْ [ اور ان کے لئے ] عَذَابٌ عَظِيْمٌ [ ایک عظیم عذاب ہے ]
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا

ھٰذَا هُدًى ۚ [ یہ (قرآن) ہدایت ہے ] وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ] بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی آیات کا ] لَهُمْ عَذَابٌ [ ان کے لئے ایک ایسا عذاب ہے ] مِّنْ رِّجْزٍ [ گندگی میں سے ] اَلِيْمٌ [ جو دردناک ہے ] آیت ۔ 11 ۔ الیم کی رفع بتارہی ہے کہ یہ عذاب کی صفت یا بدل ہے۔ اگر یہ الیم ہوتا تو پھر یہ رجز کی صفت ہوتی ۔
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں اُس میں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار ہو

اَللّٰهُ الَّذِيْ [ اللہ وہ ہے جس نے ] سَخَّرَ لَكُمُ [ مطیع کیا تمہارے لیے ] الْبَحْرَ [سمندر کو ] لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْهِ [ تاکہ چلیں کشتیاں اس میں ] بِاَمْرِهٖ [ اس کے حکم سے ] وَلِتَبْتَغُوْا [ اور تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] مِنْ فَضْلِهٖ [ اس کے فضل میں سے ] وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ [ اور شاید کہ تم لوگ شکر ادا کرو ]
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کچھ اپنے پاس سے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں

وَسَخَّرَ لَكُمْ [ اور اس نے مطیع کیا تمہارے لئے ] مَّا فِي السَّمٰوٰتِ [ اس کو جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ [ اور اس کو جو زمین میں ہے ] جَمِيْعًا [ سب کے سب کو ] مِّنْهُ ۭ [ اپنے ( فضل) سے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [ یقینا نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کیلئے ] يَّتَفَكَّرُوْنَ [ جو سوچ بچار کرتے ہیں ]
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

اے نبیؐ، ایمان لانے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے برے دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے، اُن کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تاکہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے

قُلْ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ آپ کہہ دیجئے ان سے جو ایمان لائے ] يَغْفِرُوْا [ وہ درگزر کریں ] لِلَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ [ ان سے جو امید نہیں رکھتے ] اَيَّامَ اللّٰهِ [ اللہ کی (گرفت کرنے کے ) دنوں کی ] لِيَجْزِيَ [تاکہ وہ بدلہ دے ] قَوْمًۢا [ایک قوم کو ] بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [بسبب اس کے جو وہ کمائی کرتے تھے ] نوٹ۔ 3: آیت ۔ 14 ۔ میں ایام اللہ کے الفاظ آئے ہیں عربی محاورے میں ایسے مواقع پر ایام سے مراد وہ دن ہوتے ہیں جس میں اہم تاریخی واقعات پیش آئے ہوں ، یہاں ایام اللہ سے مراد کسی قوم کے وہ برے دن ہیں جب اللہ کا غضب ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو تباہ کر دے ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو منسوخ قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکم اس وقت کیلئے تھا جب مسلمانوں کو جنگ کی اجازت نہ تھی پھر جب اس کی اجازت آگئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا ۔ لیکن یہ رائے درست نہیں ہے ۔ درگزر کا لفظ اس معنی میں کبھی نہیں بولا جاتا کہ جب آدمی بدلہ لینے پر قادر نہ ہو تو درگزر کرے، بلکہ اس موقع پر صبر ، تحمل اور برداشت کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ۔ ان الفاظ کو چھوڑ کر جب یہاں درگزر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو اس سے مفہوم نکلتا ہے کہ اہل ایمان انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود بدلہ لینے سے پرہیز کریں ۔ اس حکم کا کوئی تعارض ان آیات سے نہیں ہے جن میں مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی ہے ۔ جنگ کی اجازت کا تعلق اس حالت سے ہے جب مسلمانوں کی حکومت کسی کافر قوم کے خلاف باقاعدہ کاروائی کرنے کی معقول وجہ پائے ۔ اور درگزر کرنے کا حکم ان عام حالات کے لیے ہے جن میں اہل ایمان کو خدا سے بےخوف لوگوں کے ساتھ کسی طرح سے سابقہ پیش آئے اور وہ انھیں اپنی زبان یا قلم یا اپنے برتاو سے ان کو اذیت دیں ۔ اس حکم کا مقصود یہ ہے کہ مسلمان اپنے مقام بلند سے نیچے اتر کر ان پست اخلاق لوگوں سے الجھنے اور ان کو جواب دینے پر نہ اتر آئیں ۔ جب تک شرافت اور معقولیت کے ساتھ کسی الزام یا اعتراض کا جواب دینا یا کسی زیادتی کی مدافعت کرنا ممکن ہو ، اس سے پرہیز نہ کیا جائے ۔ مگر جہاں بات ان حدود سے گرتی نظر آئے تو معاملہ اللہ کے سپرد کردیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا، اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا پھر جانا تو سب کو اپنے رب ہی کی طرف ہے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا [ جس نے عمل کیا کسی نیکی کا ] فَلِنَفْسِهٖ ۚ [ تو (وہ) اس کی اپنی جان کے لئے ہے ] وَمَنْ اَسَاۗءَ [ اور جس نے برا کیا ] فَعَلَيْهَا ۡ [ تو (وہ) اس پر (وبال ) ہے ] ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ [ پھر تمہارے رب کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [ تم سب لوٹائے جاؤگے ]
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اِس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی اُن کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا [ اور بیشک ہم دے چکے ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کو ] الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ [ کتاب اور حکومت اور نبوت ] وَرَزَقْنٰهُمْ [ اور ہم نے روزی دی ان کو ] مِّنَ الطَّيِّبٰتِ [ پاکیز ہ (چیزوں ) میں سے ] وَفَضَّلْنٰهُمْ [ اور ہم نے فضلیت دی ان کو ] عَلَي الْعٰلَمِيْنَ [ سارے جہانوں پر ]
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور دین کے معاملہ میں اُنہیں واضح ہدایات دے دیں پھر جو اختلاف اُن کے درمیان رو نما ہوا وہ (نا واقفیت کی وجہ سے نہیں بلکہ) علم آ جانے کے بعد ہوا اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے اللہ قیامت کے روز اُن معاملات کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

وَاٰتَيْنٰهُمْ [ اور ہم نے دین ان کو ] بَيِّنٰتٍ [ روشن (نشانیاں ) ] مِّنَ الْاَمْرِ ۚ [ ان معاملہ (یعنی دین ) میں سے ] فَمَا اخْتَلَفُوْٓا [ تو انھوں نے اختلاف نہیں کیا ] اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ [ مگر اس کے بعد سے ] مَا جَاۗءَهُمُ [ (کہ ) جو آیا ان کے پاس ] الْعِلْمُ ۙ [ علم ] بَغْيًۢا [ سرکشی کرتے ہوئے ] بَيْنَهُمْ ۭ [ اپنے درمیان ] اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ [ بیشک آپ کا رب فیصلہ کرے گا ] بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [ ان کے درمیان قیامت کے دن ] فِيْمَا [ اس میں ] كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ [ وہ لوگ جس میں اختلاف کرتے تھے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 17 ۔ سے ایک نہایت اہم حقیقت یہ واضح ہوئی کی دین کی کسی بات کے سمجھنے میں اختلاف رائے ہونا نہ کوئی تعجب کی بات ہے اور نہ یہ دین اور اہل دین کے لیے کوئی نقصان دہ چیز ہے۔ اہل علم میں اس طرح کا اختلاف ہوا ہے اور ہوسکتا ہے ۔ لیکن اس اختلاف کی محرک اگر باہمی چشمک اور رقابت ہے اور ایک دوسرے کو زک پہنچانے اور پچھاڑنے کی خواہش ہے تو یہ چیز بلاشبہ سارے دین کا تیا پانچا کرکے رکھ دیتی ہے ۔ اسی نوعیت کے اختلاف نے اہل کتاب کو اللہ کی روشنی سے محروم کیا اور اسی قسم کے اختلافات نے مسلمانوں کو تباہی میں ڈالا ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

اس کے بعد اب اے نبیؐ، ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ [ پھر ہم نے رکھا آپ کو ] عَلٰي شَرِيْعَةٍ [ ایک ضابطہ پر ] مِّنَ الْاَمْرِ [ اس معاملہ (دین ) میں سے ] فَاتَّبِعْهَا [ تو آپ پیروی کریں اس کی ] وَلَا تَتَّبِعْ [ اور آپ پیروی مت کریں ] اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ [ ان کی خواہشات کی جو ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ]
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آ سکتے ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے

اِنَّهُمْ [بیشک یہ لوگ ] لَنْ يُّغْنُوْا عَنْكَ [ ہرگز کام نہ آئیں گے آپ کے ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ (کے سامنے ) سے ] شَيْـــــًٔا ۭ [ کچھ بھی ] وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ [ اور بیشک ظالم لوگ ] بَعْضُهُمْ [ ان کا کوئی ] اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۚ [ کسی کا کارساز ہے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ [ متقی لوگوں کا کارساز ہے ]
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت اُن لوگوں کے لیے جو یقین لائیں

ھٰذَا بَصَاۗىِٕرُ [ یہ سمجھ میں آنے والی دلیلیں ہیں ] لِلنَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ [ اور ہدایت اور رحمت ہے ] لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ [ایسے لوگوں کے لیے جو یقین کرتے ہیں ]
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں

اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ [ یا ان لوگوں نے گمان گیا جنھوں نے ] اجْتَرَحُوا [ڈٹ کے کمائیں ] السَّيِّاٰتِ [ برائیاں ] اَنْ نَّجْعَلَهُمْ [ کہ ہم بنادیں گے ان کو ] كَالَّذِيْنَ [ ان لوگوں کے جیسا ] اٰمَنُوْا [ جو ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ [ اور عمل کیے نیکیوں کے ] سَوَاۗءً [ برابر ہوتے ہوئے ] مَّحْيَاهُمْ [ ان کا عرصہ حیات ] وَمَمَاتُهُمْ ۭ [ اور ان عرصہ موت ] سَاۗءَ [ برا ہے ] مَا يَحْكُمُوْنَ [ وہ جو یہ لوگ حکم لگاتے ہیں ]
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے لوگوں پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا

وَخَلَقَ اللّٰهُ [ اور پیدا کیا اللہ نے ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ آسمانوں اور زمین کو ] بِالْحَقِّ [ حق کے ساتھ ] وَلِتُجْزٰى [اور تاکہ بدلہ دیا جائے ] كُلُّ نَفْسٍۢ [ ہر جان کو ] بِمَا كَسَبَتْ [ اس کا جو اس نے کمایا ] وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ [ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ]
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

پھر کیا تم نے کبھی اُس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اُسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟

اَفَرَءَيْتَ [ تو کیا آپ نے دیکھا ] مَنِ اتَّخَذَ [ اس کو جس نے بنایا ] اِلٰــهَهٗ [ اپنا الہ ] هَوٰىهُ [ اپنی خواہش کو ] وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ [ اور بھٹکا دیا اس کو اللہ نے ] عَلٰي عِلْمٍ [ ایک علم کے باوجود ] وَّخَتَمَ [ اور اس نے مہر لگا دی ] عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ [ اس کی سماعت اور اس کے دل پر ] وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ [ اور اس نے بنایا اس کی بصارت پر ] غِشٰوَةً ۭ [ ایک پردہ ] فَمَنْ يَّهْدِيْهِ [ تو کون اس کی راہنمائی کرے گا ] مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے بعد ] اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے ] نوٹ۔ 1: یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا خدایا معبود نہیں کہتا مگر اس آیت (نمبر ۔ 23) نے بتادیا کہ عبادت درحقیقت اطاعت کا نام ہے جو شخص اللہ کی اطاعت کے مقابلے میں کسی دوسرے کی اطاعت اختیار کرے تو وہ ہی اس کا معبود ہے ۔ اللہ نے جس کو حرام کہا ہے وہ اس میں اللہ کا حکم ماننے کے بجائے اپنے نفس کی پیروی کرے تو چاہے وہ زبان سے اپنے نفس کو اپنا معبود نہ کہے مگر حقیقتا وہی اس کا معبود ہوا ۔ جس نے اپنی خواہشات کو ہی اپنا امام بنالیا اور ان کے پیچھے چلنے لگا تو گویا یہ خواہشات ہی اس کا بت ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آسمان کے نیچے دنیا میں جتنے معبودوں کی عبادت کی گئی ہے ان میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض ” ہوی “ ہے یعنی خواہش نفسانی ۔ (معارف القرآن )
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ "زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردش ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو" در حقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کوئی علم نہیں ہے یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں

وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] مَا هِىَ [ نہیں ہے یہ ] اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا [سوائے ہماری اس دنیوی زندگی کے ] نَمُوْتُ وَنَحْيَا [ ہم (خود ہی ) مرتے ہیں اور ہم زندہ رہتے ہیں ] وَمَا يُهْلِكُنَآ [ اور نہیں ہلاک کرتا ہم کو (کوئی ) ] اِلَّا الدَّهْرُ ۚ [ سوائے اس زمانے کے ] وَمَا لَهُمْ [ اور نہیں ہے ان کے لئے ] بِذٰلِكَ [ اس کے بارے میں ] مِنْ عِلْمٍ ۚ [ کوئی بھی علم ] اِنْ هُمْ [ نہیں ہیں یہ لوگ ] اِلَّا [ مگر (یہ کہ ) ] يَظُنُّوْنَ [ گمان کرتے ہیں ] د ھ ر : (ف) دھرا کسی کو کوئی بات پہنچنا ۔ دھر ، مدت دراز ۔ لمبا زمانہ ۔ اصل میں دھر مدت عالم کو کہتے ہیں یعنی ابتدا آفرینش سے لے کر اس کے اختتام تک کا عرصہ لا تسبوا الدھر فان اللہ ھو الدھر ] تم لوگ زمانہ کو برا مت کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے ‘] مفردات القرآن ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 24 ۔ نوٹ۔ 2: (آیت ۔ 24) یہ قول کہ ہمیں گردش روز گار ہلاک کرتی ہے ۔ جس طرح ایک درخت اگتا ہے اپنی پختگی کو پہنچتا ہے اور ایک دن سوکھ کر فنا ہوجاتا ہے اسی طرح ہم بھی پیدا ہوتے ہیں پھر گردش روز گار کے کسی تھپیڑے سے یا تو بچپن یا جوانی ہی میں فنا ہوجاتے ہیں یا بڑھاپے کو پہنچ کر مرجاتے ہیں (جسے تمام پودے بھی پختگی کو نہیں پہنچتے ) لیکن ان کا یہ قول انکار خدا کے معنی میں نہیں تھا بلکہ اس سے وہ قرآن کے اس فلسفہ تاریخ کی نفی کرنا چاہتے تھے جو قرآن نے نہایت تفصیل کے ساتھ سنایا ہے کہ پچھلی قومیں اپنے عقائد و اعمال کے فساد کے نتیجے میں تباہ ہوئیں ۔ یہ اندازہ (وارننگ ) چونکہ بالکل مبنی پر حقیقت تھا اس وجہ سے قریش کے وہ لوگ اس سے متاثر ہوئے جن کے اندر کچھ عاقبت اندیشی تھی ۔ اس طرح کے لوگوں کو مطمئن رکھنے کے لئے قریش کے لیڈروں نے یہ فلسفہ تراشا کہ ہماری طرح خدا کو ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ایک شخص کا پیدا ہونا ۔ جوان ہونا پھر بوڑھا ہوکر مرجانے کا کوئی تعلق اعمال و عقائد سے نہیں ہے۔ اسی طرح سے قوموں اور تہذیبوں کے عروج و زوال کا کوئی تعلق ان کے عقائد و اعمال سے نہیں ہے۔ یہ بس ایک وہم ہے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ جاہلی فلسفہ اب نابود ہوچکا ہے ۔ اس زمانے میں بھی ذہنوں پر یہی فلسفہ مسلط ہے اور ان لوگوں کے ذہنوں پر مسلط ہے جو قرآن کے حامل اور اسلام پر عامل ہونے کے مدعی ہیں (تدبر قرآن سے ماخوذ) کفار و مشرکین زمانے کی گردش ہی کو ساری کائنات اور ان کے سارے حالات کی علت قرار دیتے ہیں ، حالانکہ درحقیقت یہ سب افعال اللہ تعالیٰ کی قدرت و ارادے سے ہوتے ہیں ۔ اس لئے احادیث میں دہر یا زمانے کو برا کہنے کی ممانعت آئی ہے ۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دہر کو برا نہ کہو کیونکہ دہر درحقیقت اللہ ہی ہے ۔ مراد یہ ہے کہ یہ جاہل جس کام کا دہر کا کام کہتے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی قوت و قدرت کا کام ہے ۔ دہر کوئی چیز نہیں ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دھر اللہ تعالیٰ کے ناموں سے کوئی نام ہو کیونکہ یہاں مجاز اللہ کو دھر کہا گیا ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو اِن کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ [ اور جب کبھی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] اٰيٰتُنَا [ ہماری آئتیں ] بَيِّنٰتٍ [ واضح ہوتے ہوئے ] مَّا كَانَ حُجَّـــتَهُمْ [ تو نہیں ہوتی ان کی حجت ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] قَالُوا [ کہ وہ کہتے ہیں ] ائْتُوْا بِاٰبَاۗىِٕنَآ [ تم لوگ لاؤ ہمارے باپ دادا کو ] اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ [ اگر تم لوگ سچے ہو ]
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

قُلِ اللّٰهُ [ آپ کہیے اللہ ہی ] يُحْيِيْكُمْ [ زندگی دیتا ہے تم لوگوں کو ] ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ [ پھر وہ موت دیتا ہے تمہیں ] ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ [ پھر وہ جمع کرے گا تم سب کو ] اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن کی طرف ] لَا رَيْبَ فِيْهِ [ کوئی بھی شک نہیں ہے جس میں ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ [ اور لیکن لوگوں کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ جانتے نہیں ہیں ]
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، اور جس روز قیامت کی گھڑی آ کھڑی ہو گی اُس دن باطل پرست خسارے میں پڑ جائیں گے

وَلِلّٰهِ [ اور اللہ ہی کے لئے ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ آسمانوں اور زمین کی حکومت ] وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ [ اور جس دن قائم ہوگی وہ گھڑی (قیامت ) يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ [ گھاٹے میں رہیں گے باطل کرنے والے ]
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامۂ اعمال دیکھے اُن سے کہا جائے گا: "آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے

وَتَرٰى [ اور آپ دیکھیں گے ] كُلَّ اُمَّةٍ [ ہر امت کو ] جَاثِيَةً ۣ [ گھٹنوں کے بل گرنے والی حالت میں ] كُلُّ اُمَّةٍ [ ہر امت ] تُدْعٰٓى [ بلائی جائے گی ] اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ [ اپنی کتاب (نامہ اعمال) کی طرف ] اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ [ آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا ] مَا [ وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کرتے تھے ]
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اُسے ہم لکھواتے جا رہے تھے"

ھٰذَا كِتٰبُنَا [ یہ ہماری کتاب (ریکارڈ) ہے ] يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ [ یہ واضح کرکے بیان کرتی ہے تم لوگوں پر (اعمال کو ) ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق کے ساتھ ] اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ [ بیشک ہم لکھوا لیتے تھے ] مَا [ اس کو جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کرتے تھے ] نوٹ۔ 1: لکھوانے کی صرف یہی ایک ممکن صورت نہیں ہے کہ کاغذ پر قلم سے لکھوا یا جائے ۔ انسانی اقوال و افعال کو ثبت کرنے اور دوبارہ ان کو بالکل اسی شکل میں پیش کردینے کی متعدد دوسری صورتیں اسی دنیا میں خود انسان دریافت کرچکا ہے اب یہ کون جان سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح انسان کو ایک ایک بات ، اس کی حرکات و سکنات ، اس کی نیتوں ، ارادوں ، خواہشات میں سے ہر مخفی سے مخفی شے کو ثبت کر ارہا ہے اور کس طرح وہ ہر آدمی ، ہر گروہ اور ہر قوم کا پورا کارنامہ حیات بےکم وکاست اس کے سامنے لا کے رکھے گا ۔ (تفہیم القرآن ) انسان کو سوچنا چاہیے کہ فضا میں ہمارے تمام اقوال و افعال کو ریکارڈ کرنے ، یہاں تک کہ ذہن میں گزرے ہوئے ہر خیال اور دل میں آئی ہوئی ہر بات کو محفوظ کرلینے کے نظام کا کسی ایسی جگہ موجود ہونا ممکن ہے جو ایک دھماکے سے پھٹ کرمنتشر ہونے والے اجزاء میں سے ایک جز ہے ، جس کو زمین کہا جاتا ہے ۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی بات اور ہے ورنہ ہر نارمل انسان کی عقل کا جواب ایک ہی ہوگا کہ ایسے نظام کا خود بخود وجود میں آنا ممکن نہیں ہے ۔ یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے کہ کسی پریس میں دھماکہ ہو اور ایک ڈکشنری خود بخود وجود میں آجائے ۔ یہ نظام تو اپنی زبان حال سے بول رہا ہے کہ وہ ایک علیم اور قدیر ہستی کا کارنامہ ہے۔ جس انسان کی عقل اس حقیقت کا ادراک کرلے ، اس کی عقل پھر اس کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ قائم کرنے والے نے یہ نظام کیوں قائم کیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اتنی علیم وقدیر ہستی کا قائم کردہ یہ انتظام بلاوجہ نہیں ہوسکتا ۔ اس کا کوئی مقصود ضرور ہے ۔ جب انسان اس کے مقصد پر غور کرتا ہے تو اس کی عقل تسلیم کرلیتی ہے کہ اس زمین پر عارضی زندگی کے بعد یقینا ایک زندگی ہے ۔ اس زندگی میں ہر شخص کیلئے رہائشی علاقے کا تعین ، کہ کس قسم کی آب وہوا کے علاقے میں اس کو رکھا جائے ، اس کے لیے کس طرح کے روٹی ، کپڑے ، مکان کا انتظام کیا جائے ، کس طرح کے پاس پڑوس (معاشرہ ) میں اس کو جگہ دی جائے اور اس معاشرہ میں اس کا سوشل اسٹیٹس کیا ہو ، اس زندگی میں اس طرح کے تمام معاملات کا فیصلہ اس دنیا کے افکار ، اقوال اور اعمال کی بنیاد پر ہونا ہے اس لئے ان کو ریکارڈ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اسلام کے نظریہ آخرت کا یہ وہ بنیادی خاکہ ہے جہاں تک انسانی عقل ازخود پہنچ سکتی ہے البتہ اس سے آگے تفصیلات کے لئے انسانی عقل علم وحی کی محتاج ہے۔ کیونکہ عقل کی پہنچ صرف ان حقائق تک ہے جو انسان کے حواس خمسہ کے دائرے کے اندر ہیں ، اس کائنات کے وہ حقائق جو اس دائرے کے باہر ہیں وہ انسانی عقل کی پہنچ کے بھی باہر ہیں ۔ اسی لئے اللہ نے علم وحی کا انتظام کیا ۔
Ayah 45:30

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے تھے اور نیک عمل کرتے رہے تھے انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہی صریح کامیابی ہے

فَاَمَّا الَّذِيْنَ [ تو وہ جو لوگ ہیں جو ] اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا [ ایمان لائے اور انہوں نے عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیکیوں کے ] فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ [ تو داخل کرے گا ان کو ان کا رب ] فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ [ اپنی رحمت میں ] ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ [ یہ ہی کھلی کامیابی ہے ]
Ayah 45:31

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا اُن سے کہا جائے گا "کیا میری آیات تم کو نہیں سنائی جاتی تھیں؟ مگر تم نے تکبر کیا اور مجرم بن کر رہے

وَاَمَّا الَّذِيْنَ [ اور وہ جو لوگ ہیں جنھوں نے ] كَفَرُوْا ۣ [ انکار کیا ] اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ [ تو کیا تم کو پڑھ کر سنائی نہ جاتی تھیں میری آیات ] فَاسْتَكْبَرْتُمْ [ پھر تم بڑے بنے ] وَكُنْتُمْ [ اور تم لوگ تھے ہی ] قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ [ ایک جرم کرنے والی قوم ]
Ayah 45:32

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے"

وَاِذَا قِيْلَ [ اور جب کہا جاتا ہے ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [ کہ اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ [ حق ہے ] وَّالسَّاعَةُ [ اور وہ گھڑی (آنی ہے ) ] لَا رَيْبَ فِيْهَا [ کسی قسم کا کوئی بھی شک نہیں ہے اس میں ] قُلْتُمْ [ تو تم لوگ کہتے ہو ] مَّا نَدْرِيْ [ ہم نہیں جانتے ] مَا السَّاعَةُ ۙ [ کیا ہے وہ گھڑی ] اِنْ نَّظُنُّ [ ہم نہیں گمان کرتے ] اِلَّا ظَنًّا [ مگر کچھ گمان کرنا ] وَّمَا نَحْنُ [ اور ہم نہیں ہیں ] بِمُسْتَيْقِنِيْنَ [ یقین حاصل کرنے والے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 32 ۔ سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جہاں تک گمان کا تعلق ہے یہ منکرین بھی اپنے دل میں رکھتے ہیں لیکن ان کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو اس کا پورا یقین ہوجائے گا تب ہو مانیں گے ۔ اس یقین کے لئے ان کا (منکرین قریش کا ) مطالبہ یہ تھا کہ ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے دکھادو ۔ (آج کل کے سائنسدانوں اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ جو چیز عملی تجربہ سے تصدیق کے قابل (Practically Verifiable) نہیں ہے ہم اس کو نہیں مانتے ۔ مرتب) ظاہر ہے کہ ایک احمقانہ مطالبہ تھا (اور آج بھی ہے ) اس کے معنی یہ ہوئے کہ انسان صرف اسی چیز کو مانے جو اس نے آنکھوں سے دیکھی ہو ، اس کے علاوہ کسی بات پر بھی یقین نہ کرے خواہ اس کے حق میں کتنے ہی واضح عقلی و اخلاقی دلائل موجود ہوں اگر انسان اس حد تک سفاہت پر اتر آئے تو پھر عقل ایک بالکل مہمل چیز بن کر رہ جاتی ہے اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ انسان اپنے اندر عقل کے وجود کو بھی تسلیم نہ کرے ۔ اس لیے کہ عقل کو بھی نہ اس نے دیکھا ہے نہ چھوا ہے حقیقت یہ ہے کہ اہم اور دوررس نتائج رکھنے والے امور میں ظن غالب کی رہنمائی کافی ہے ۔ ایک عظیم بند جس میں شگاف پڑنے سے پورا شہر خطر ہ میں پڑسکتا ہو ، ہماری توجہ کا طالب اسی وقت نہیں ہوگا جب اس میں شگاف پڑجائے ۔ بلکہ عاقل لوگ اس طرح کے معاملات میں بہت پہلے سے چوکنا رہتے ہیں ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 45:33

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اُس وقت اُن پر ان کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں گی اور وہ اُسی چیز کے پھیر میں آ جائیں گے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

وَبَدَا لَهُمْ [ اور ظاہر ہوئیں ان کیلئے ] سَيِّاٰتُ مَا [ اس کی برائیاں جو ] عَمِلُوْا [ ان لوگوں نے عمل کیے ] وَحَاقَ بِهِمْ [ اور چھا گیا ان پر ] مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ وہ جس کا یہ لوگ مذاق اڑاتے تھے ]
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ "آج ہم بھی اُسی طرح تمہیں بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم اِس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے تمہارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے

وَقِيْلَ [ اور کہا جائے گا ] الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ [ آج ہم بھلا دیں گے تم لوگوں کو ] كَمَا نَسِيْتُمْ [ اس کی مانند جو تم نے بھلایا ] لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا [ اپنے اس دن کی ملاقات کو ] وَمَاْوٰىكُمُ [ اور تمہارا ٹھکانہ ] النَّارُ [ آگ ہے ] وَمَا لَكُمْ [ اور نہیں ہے تمہارے لیے ] مِّنْ نّٰصِرِيْنَ [ کوئی بھی مدد کرنے والا ]
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا لہٰذا آج نہ یہ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے رب کو راضی کرو"

ذٰلِكُمْ [ یہ ] بِاَنَّكُمُ [ اس سبب سے ہے کہ تم لوگوں نے ] اتَّخَذْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ بنایا اللہ نے نشانیوں کو ] هُزُوًا [ مذاق کا نشانہ ] وَّغَرَّتْكُمُ [ اور فریب دیا تم کو ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۚ [ دنیوی زندگی نے ] فَالْيَوْمَ [ تو آج ] لَا يُخْرَجُوْنَ مِنْهَا [ وہ لوگ نہیں نکالے جائیں گے اس سے ] وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ [ اور نہ وہ لوگ منائے جائیں گے ]
Ayah 45:36

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین اور آسمانوں کا مالک اور سارے جہان والوں کا پروردگار ہے

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ [ پس اللہ ہی کے لیے تمام شکروسپاس ہے ] رَبِّ السَّمٰوٰتِ [ جو آسمانوں کا مالک ہے ] وَرَبِّ الْاَرْضِ [ اور جو زمین کا مالک ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے ]
Ayah 45:37

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں میں بڑائی اُسی کے لیے ہے اور وہی زبردست اور دانا ہے

وَلَهُ الْكِبْرِيَاۗءُ [ اور اس کے لیے ہی ساری بڑائی ہے ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۠ [ آسمانوں اور زمین میں ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَـكِيْمُ [ اور وہ ہی بالا دست ہے حکمت والا ہے ]