Ayah 44:2وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ [ قسم ہے اس واضح کرنے والی کتاب کی ]
Ayah 44:3اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ [ بیشک ہم نے اتارا اس کو ] فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ [ ایک برکت دی ہوئی رات میں ] اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ [ خبردار کرنے والے ]
نوٹ ۔ 1: مبارک رات میں قرآن کے نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوح محفوظ سے پورا قرآن سماء دنیا پر اسی رات میں نازل کردیا گیا تھا پھر 23 سال کی مدت میں تھوڑا تھوڑا رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتا رہا ۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر سال جتنا قرآن نازل ہونا مقدر ہوتا تھا اتناہی شب قدر میں لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل کردیا جاتا تھا ۔ (معارف القرآن )
لیلۃ مبارکۃ سے مراد ظاہر ہے کہ لیلۃ القدر ہے ۔ سورة قدر میں یہ تصریح موجود ہے کہ اسی رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن اتارا ۔ یہ لیلۃ القدر لازما رمضان شریف کی ہی کوئی رات ہوسکتی ہے۔ اس لئے کہ قرآن میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ رمضان ہی کے مہینہ میں قرآن نازل ہوا ۔ (البقرہ ۔ 185) رہا یہ سوال کہ یہ رمضان کی کون سی رات ہے تو روایات کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرے کی کوئی رات ہے ۔ ان تصریحات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوجاتی ہے کہ اس سے شعبان یا کسی اور مہینہ کی کوئی رات مراد لینے کی گنجائش نہیں ہے ۔ (تدبرالقرآن ) ۔
Ayah 44:4فِيْهَا يُفْرَقُ [ اس (رات) میں جدا جدا کیے جاتے ہیں ] كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ [ تمام حکمت والے کام ]
Ayah 44:5اَمْرًا [ حکم ہوتے ہوئے ] مِّنْ عِنْدِنَا ۭ [ ہمارے پاس سے ] اِنَّا كُنَّا [ بیشک ہم ہیں ] مُرْسِلِيْنَ [ بھیجنے والے ]
Ayah 44:6رَحْمَةً [ رحمت ہوتے ہوئے ] مِّنْ رَّبِّكَ ۭ [ آپ کے رب (کی طرف) سے ] اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ [بیشک وہی ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 44:7رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ جو زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] وَمَا بَيْنَهُمَا ۘ [ اور اس کا جو ان کے درمیان ہے ] اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ [ اگر تم لوگ یقین کرنے والے ہو ]
Ayah 44:8لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ [ کوئی الہ نہیں ہے مگر وہ ] يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۭ [ وہ (ہی ) زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے ] رَبُّكُمْ [ (وہ ہی ) تمہارا رب ہے ] وَرَبُّ اٰبَاۗىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ [ اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا رب ہے ]
Ayah 44:9بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ [ بلکہ وہ لوگ کسی شک میں ] [يَّلْعَبُوْنَ : کھیلتے ہیں ]
Ayah 44:10فَارْتَـقِبْ [پس تو انتظار کر ] يَوْمَ [ اس دن کا (کہ ) ] تَاْتِي السَّمَاۗءُ [ لائے گا آسمان ] بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ [ ایک واضح دھواں ]
نوٹ۔ 2 آیات ۔ 10 تا 16 کی تفسیر میں اختلاف ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی رائے ہے کہ جب قریش کے لوگ اسلام قبول کرنے سے انکار اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہی چلے گئے تو مکہ میں شدید قحط پڑا کہ لوگ ہڈیاں اور چمڑا تک کھا گئے ، اس زمانے میں حالت یہ تھی کہ جو شخص آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے بھوک کی شدت میں بس دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا ۔ آخر کار ابوسفیان نے حضور ﷺ سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ اس مصیبت کو دور کردے ۔ یہی زمانہ تھا جب قریش کے لوگ کہنے لگے تھے کہ خدایا ہم پر سے یہ عذاب دور کردے تو ہم ایمان لے آئیں گے ۔ اسی واقعہ کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے اور بڑی گرفت سے مراد وہ ضرب ہے جو جنگ بدر کے روز قریش کو لگائی گئی ۔ متعدد اکابر مفسرین نے بھی عبدا للہ بن مسعود ؓ کی رائے کو اختیار کیا ہے ۔
دوسری طرف ابن عباس ؓ اور دیگر صحابہ کرام کی رائے ہے کہ ان آیات میں قیامت کے قریب زمانے کا ذکر ہے اور دھواں جس کی خبر دی گئی ہے ، اسی زمانے میں زمین پر چھائے گا ، مزید تقویت اس تفسیر کو ان روایات سے ملتی ہے جن میں رسول اللہ ﷺ نے دھویں کو علامات قیامت میں شمار کیا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ دھواں جب چھائے گا تو مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہوگا اور کافر کی نس نس میں وہ بھرجائے گا ۔
ان دونوں تفسیروں کا تعارض ان آیات پر غور کرنے سے باآسانی رفع ہوسکتا ہے ۔ یہ امر واقعہ ہے کہ مکہ میں سخت قحط رونما ہوا تھا جس سے کفار بہت کچھ ڈھیلے پڑگئے تھے اور انہوں نے اسے رفع کرانے کے لیے حضور ﷺ سے دعا کی درخواست کی تھی ، اس واقعہ کی طرف قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اشارے کیے گئے ہیں ۔ پھر کفار کا یہ کہنا کہ ” پروردگار عذاب ٹال دے ہم ایمان لاتے ہیں ، “ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ” ان کی غفلت کہاں دور ہوتی ہے جبکہ ان کے پاس رسول مبین آگیا پھر بھی یہ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے ، پھر یہ فرمانا کہ ” ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں تم لوگ پھر وہی کروگے “ یہ ساری باتیں اسی صورت میں راست آسکتی ہیں جبکہ واقعہ حضور ﷺ ہی کے زمانے کا ہو۔ اس لیے اس حد تک تو ابن مسعود ؓ کی تفسیر ہی صحیح معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا یہ حصہ صحیح نہیں معلوم ہوتا کہ دھواں بھی اسی زمانے میں ظاہر ہوا تھا ۔ اور اس کی شکل یہ تھی کہ بھوک کی شدت میں لوگ جب آسمان کی طرف دیکھتے تو دھواں دھواں نظر آتا تھا ۔ یہ بات قرآن مجید کے ظاہر الفاظ سے بھی مطابقت نہیں رکھتی اور احادیث کے بھی خلاف ہے ۔ قرآن میں یہ کہاں کہا گیا ہے کہ آسمان دھواں لیے ہوئے آگیا اور لوگوں پر چھا گیا ، وہاں تو کہا گیا ہے کہ اس دن کا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا ، بعد کی آیات کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو اس ارشاد کا صاف مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تم نہ رسول کے سمجھانے سے مانتے ہو نہ قحط کی تنبیہ سے ہی ہوش میں آتے ہو تو پھر انتظار کرو، پس جہاں تک دھویں کا تعلق ہے ، اس کے بارے میں صحیح بات یہی ہے کہ وہ قحط کے زمانے کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ بلکہ علامات قیامت میں سے ہے۔ (تفہیم القرآن )
جب علامت قیامت کے طور پر دھواں چھائے گا تو اس کی حقیقی شکل کیا ہوگی ، یہ بات صرف اللہ جانتا ہے لیکن ایک امکانی بات پھر بھی کہی جاسکتی ہے کہ قیامت کے قریب آسمان اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹنا شروع ہوجائے گا کیوں کہ ابتدا وہ دھواں ہی تھا جیسے قرآن مجید میں ہے کہ ” پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف اس حال میں کہ وہ دھواں تھا ۔ “ (41:11)
Ayah 44:11يَّغْشَى النَّاسَ ۭ [ وہ چھائے گا لوگوں پر ] ھٰذَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ یہ ایک درد ناک عذاب ہے ]
Ayah 44:12رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] اكْشِفْ عَنَّا [ تو ہٹا دے ہم سے ] الْعَذَابَ [ اس عذاب کو ] اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ [ بیشک ہم ایمان لانے والے ہیں ]
Ayah 44:13اَنّٰى لَهُمُ [ کہاں سے ہوگی ان کیلئے ] الذِّكْرٰى [ بڑی نصیحت ] وَ [ اس حال میں کہ ] قَدْ جَاۗءَهُمْ [ آچکے ان کے پاس ] رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ [ واضح کرنے والے رسول ]
Ayah 44:14ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ [ پھر ان لوگوں نے روگردانی کی ان سے ] وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ [ اور انہوں نے سکھایا ہوا ہے ] مَّجْنُوْنٌ [ دیوانہ ہے ]
Ayah 44:15اِنَّا [ بیشک ہم ] كَاشِفُوا الْعَذَابِ [ اس عذاب کو ہٹانے والے ہیں ] قَلِيْلًا [ تھوڑا سا ] اِنَّكُمْ عَاۗىِٕدُوْنَ [ بیشک تم لوگ دوبارہ (وہی ) کرنے والے ہو ]
Ayah 44:16يَوْمَ نَبْطِشُ [ جس دن ہم پکڑیں گے ] الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى ۚ [ سب سے بڑی پکڑ ] اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ [ بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں ]
Ayah 44:17وَلَقَدْ فَتَنَّا [ اور بیشک ہم آزما چکے ] قَبْلَهُمْ [ ان لوگوں سے پہلے ] قَوْمَ فِرْعَوْنَ [ فرعون کو قوم کو ] وَجَاۗءَهُمْ [ اور آئے ان کے پاس ] رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ [ایک معزز رسول ]
ر ھ و : (ن) رھوا ، سمندر کا سکون پذیر ہونا ، ساکن ہونا، زیر مطالعہ آیت ۔ 24 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 18) اس آیت میں دو امکانات ہیں اول یہ کہ ادوا (فعل امر) کا مخاطب اس میں شامل انتم کی ضمیر کو مانا جائے ایسی صورت میں عباد اللہ اس کا مفعول ہوگا اور ترجمہ ہوگا ” کہ تم لوگ واپس کرو میری طرف اللہ کے بندوں کو “۔ دوسری صورت یہ ہے کہ عباد اللہ کو منادی مضاف مانا جائے ۔ یعنی اے اللہ کے بندو ۔ ایسی صورت میں یہ ادوا کا مخاطب ہوگا اور مفعول کو محذوف مانا جائے گا ۔ اس طرح ترجمہ ہوگا ” کہ واپس کرو میری طرف اے اللہ کے بندو “ یعنی اے اللہ کے بندو ! اللہ کے حقوق ادا کرو ۔ لیکن قرآن مجید میں تین مقامات پر (الاعراف ۔ 105 ۔ طہ ۔ 47 ۔ الشعراء ۔ 17) ارسل معنا بنی اسرائیل کے الفاظ آئے ہیں اس لیے ترجمہ میں عموما پہلی صورت کو ترجیح دی گئی ہے ۔
(آیت ۔ 19) یہاں بھی اتیکم میں دو امکانات ہیں ۔ ایک یہ کہ اتی کو اتی ۔ یاتی سے واحد متکلم کا صیغہ مانا جائے ۔ ایسی صورت میں ترجمہ ہوگا ،” میں لاتا ہوں یا لاؤں گا “ دوسری صورت یہ ہے کہ اتی کو اسم الفاعل اتی مانا جائے جس کی تنوین مضاف ہونے کی وجہ سے گری ہوئی ہے ۔ ایسی صورت میں ترجمہ ہوگا ،” میں لانے والا ہوں “ ۔ قرآن مجید کے دیگر مقامات پر تفصیلات کا مطالعہ کرنے سے یہ صورتحال سامنے آتی ہے کہ موسیٰ کو واضح سند یعنی معجزات سے مسلح کرکے فرعون کے دربار میں بھیجا گیا تھا ۔ وہ یہ اطلاع دینے نہیں آئے تھے کہ مجھے اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور اگر تمہیں سند یعنی پروانہ تقریری چاہیے تو وہ میں لے آؤں گا یا لانے والا ہوں ۔ اس لیے قابل ترجیح بات یہ ہے کہ اتی کو واحد متکلم کا صیغہ مانا جائے اور مضارع کے مفہوم کو زمانہ حال کے ساتھ مخصوص کیا جائے کہ ” میں لاتا ہوں یعنی پیش کرتا ہوں۔ “
نوٹ ۔ 1: قریش اور قوم فرعون کے حالات میں مشابہت کی طرف قرآن نے جگہ جگہ اشارے کیے ہیں ۔ یہاں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آج جس طرح کے امتحان میں ہم نے قریش کو ڈالا ہے اسی طرح کے امتحان میں ہم نے اس سے پہلے قوم فرعون کو بھی ڈالا تھا ۔ جس طرح ان کو سامان عیش کی فروانی حاصل ہے اسی طرح ان کو بھی دولت ونعمت کی کثرت عطاہوئی تھی ، پھر جس طرح ان کی طرف ایک معزز رسول انذار اور اتمام حجت کے لئے آیا تھا اسی طرح ان کی طرف بھی ایک باعزت رسول آیا ہے ۔ اس لیے جو انجام ان کا ہوا تھا وہی انجام لازم ان کا بھی ہونا ہے اگر انھوں نے بھی انہی کی روش اختیار کی ۔ (تدبر قرآن)
اس حوالہ سے اب یہ بات بھی سمجھ لیں کہ کچھ لوگوں کو قرآن میں تکرار (Repetiton) کی شکایت کی وجہ کیا ہے قرآن مجید کے کسی خطبہ میں جو بات سمجھانی مقصود ہوتی ہے ، اس کے حق میں ہر خطبہ میں جہاں اور دلائل دیئے گئے ہیں وہیں تاریخی شواہد بھی پیش کیے گئے ہیں ۔ جن لوگوں کا زہن موضوع کلام سے ان تاریخی واقعات کا ربط قائم نہیں کرپاتا ان کی طبیعت پر مختلف اقوام کا بار بار ذکر کرنا گراں گزرتا ہے،
Ayah 44:18اَنْ [ (اس پیغام کے ساتھ ) کہ )] اَدُّوْٓا اِلَيَّ [ تم لوگ واپس کر ومیری طرف ] عِبَادَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے بندوں کو ] اِنِّىْ لَكُمْ [ بیشک میں تمہارے لئے ] رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ [ ایک امانتد ار رسول ہوں ]
Ayah 44:19وَّاَنْ لَّا تَعْلُوْا [ اور یہ کہ سرکشی مت کرو ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے خلاف ] اِنِّىْٓ اٰتِيْكُمْ [ بیشک میں لایا ہوں تمہارے پاس ] بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ [ ایک واضح سند ]
Ayah 44:20وَاِنِّىْ عُذْتُ [ اور بیشک میں پناہ میں آتاہوں ] بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ [ میرے رب اور تمہارے رب کی ] اَنْ تَرْجُمُوْنِ [ کہ تم لوگ سنگسار کرو مجھ کو ]
Ayah 44:21وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ [ اور اگر تم لوگ بات نہیں مانتے میری ] فَاعْتَزِلُوْنِ [ تو کنارہ کش ہوجاؤ مجھ سے ]
Ayah 44:22فَدَعَا رَبَّهٗٓ [ پھر انہوں نے دعا (فریاد) کی اپنے رب سے ] اَنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ [ کہ یہ لوگ ] قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ [ جرم کرنے والے لوگ ہیں ]
Ayah 44:23فَاَسْرِ [ تو آپ لے کر نکلیں ] بِعِبَادِيْ [ میرے بندوں کو ] لَيْلًا [ رات کے وقت ] اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ [ بیشک تم لوگ پیچھا کیے جانے والے ہو ]
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 23 ۔ میں بعبادی کے لفظ کا مطلب ہے وہ تمام بندے جو ایمان لائے ہیں ۔ ان میں بنی اسرائیل بھی تھے اور مصر کے وہ قبطی باشندے بھی جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد تک مسلمانوں میں شامل ہوچکے تھے اور وہ لوگ بھی جنھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نشانیاں دیکھ کر اور آپ کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر اہل مصر میں سے ایمان قبول کیا تھا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 44:24وَاتْرُكِ الْبَحْرَ [ اور آپ چھوڑ دیں سمندر کو ] رَهْوًا ۭ [ ساکن ہونے کی حالت میں ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ لوگ ] جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ [ غرق کیے جانے والے لشکر ہیں ]
Ayah 44:25كَمْ تَرَكُوْا [ کتنے ہی (بہت سے ) انہوں نے چھوڑے ] مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ [ باغات اور چشمے ]
Ayah 44:26وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍ [ اور کھیتیاں اور باعزت ٹھہرنے کی جگہ ]
Ayah 44:27وَّنَعْمَةٍ [اور نعمت ] كَانُوْا فِيْهَا [ وہ لوگ تھے جس میں ] فٰكِهِيْنَ [ ہنسنے ہنسانے والے ]
Ayah 44:28كَذٰلِكَ ۣ [ اسی طرح ہوا ] وَاَوْرَثْنٰهَا [ اور ہم نے وارث بنایا ان (چیزوں ) کا ] قَوْمًا اٰخَرِيْنَ [ دوسرے لوگوں کو ]
نوٹ ۔ 3: یہاں آیت ۔ 28 ۔ میں اور ثنھا میں ھا کی ضمیر ان ہی چیزوں کے لیے ہے جو فرعون اور اس کے درباریوں کے تصرف میں تھیں ۔ ان کے لیے فرمایا کہ ہم نے ان کا وارث دوسرے لوگوں کو بنایا ۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصریوں ہی میں سے دوسرے لوگ ان پر قابض ہوئے ۔ الشعراء کی آیت ۔ 59 ۔ میں الفاظ آئے ہیں اور ثنا بنی اسراء یل اس کے نوٹ ۔ 2 ۔ میں وضاحت کی جا چکی ہے کہ وہاں ھا کی ضمیر ان ہی چیزوں کے لیے نہیں بلکہ ان چیزوں کے لیے ہے اور اسی نوٹ میں ضمائر کے مفہوم میں اس قسم کی تبدیلی کی سند کے طور پر سورة مائدہ کی آیت ۔ 102 کا حوالہ بھی دیا جاچکا ہے ۔
Ayah 44:29فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ [ تو نہیں روئے ان پر ] السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ [ زمین و آسمان ] وَمَا كَانُوْا [ اور نہ وہ تھے ] مُنْظَرِيْنَ [ مہلت دیے جانے والے ]
Ayah 44:30وَلَــقَدْ نَجَّيْنَا [اور بیشک ہم نجات دے چکے ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کو ] مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ [ اس ذلیل کرنے والے عذاب سے ]
Ayah 44:31مِنْ فِرْعَوْنَ ۭ [ جو فرعون (کی طرف ) سے تھا ] اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا [ بیشک وہ ایک سرکشی کرنے والا تھا ] مِّنَ الْمُسْرِفِيْنَ [ حد سے گزرنے والوں میں سے ]
Ayah 44:32وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ [ اور بیشک ہم نے چنا تھا ان کو ] عَلٰي عِلْمٍ [ ایک علم (کی بنیاد) پر ] عَلَي الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہاں والوں پر (سے ) ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 32 ۔ میں علی علم کے الفاظ سے تاریخ کے اس فلسفہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں قوموں کا عزل ونصب (معزول ہونا اور منصب پر فائض ہونا ) اتفاقی واقعات کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی کسوٹی پر جانچ کر جس قوم کو اہل پاتا ہے اس کو منتخب کرتا ہے اور جس کو نااہل پاتا ہے اس کو رد کردیتا ہے ۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو معزول ہوئے ہیں وہ دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنی نالائقی پر سر پیٹیں اور جو اقتدار پر آئے وہ فخر و غرور میں مبتلا ہونے کے بجائے اللہ کے شکر گزار ہوں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی فکر کریں ۔ اس دنیا کے عروج و زوال کا سارا نقشہ اللہ تعالیٰ مرتب کرتا ہے اور اس کی بنیاد تمام تر قوموں کے اخلاق و کردار پر ہوتی ہے (تدبر قرآن)
Ayah 44:33وَاٰتَيْنٰهُمْ [ اور ہم نے دیا ان کو ] مِّنَ الْاٰيٰتِ [ نشانیوں میں سے ] مَا [ وہ ] فِيْهِ [ جس میں ] بَلٰۗــــــؤٌا مُّبِيْنٌ [ کھلی آزمائش تھی ]
Ayah 44:34اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ [ بیشک یہ لوگ ] لَيَقُوْلُوْنَ [ یقینا کہتے ہیں ]
Ayah 44:35اِنْ هِىَ [ نہیں ہے یہ (انجام) ] اِلَّا [ سوائے ] مَوْتَـتُنَا الْاُوْلٰى [ ہمارے پہلی بار مرنے کے ] وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِيْنَ [اور ہم نہیں ہیں دوبارہ اٹھائے جانے والے ]
Ayah 44:36فَاْتُوْا [ تو تم لوگ لے آؤ ] بِاٰبَاۗىِٕنَآ [ ہمارے باپ دادا کو ] اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ [ اگر تم لوگ سچے ہو ]
Ayah 44:37اَهُمْ خَيْرٌ [ کیا یہ لوگ بہتر ہیں ] اَمْ قَوْمُ تُبَّــعٍ ۙ [ یا تبع کی قوم ] وَّالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ] اَهْلَكْنٰهُمْ ۡ [ ہم نے ہلاک کیا ان کو ] اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ [ بیشک وہ لوگ مجرم تھے ]
نوٹ ۔ 2 قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تبع تھا ۔ یہ لوگ قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے ۔ 115 قبل مسیح میں ان کو سبا کے ملک (یعنی یمن ) پر غلبہ حاصل ہوا اور 300 ء تک یہ لوگ حکمران رہے ۔ عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے عام رہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 44:38وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ اور ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] وَمَا بَيْنَهُمَا [ اور اس کے جوان دونوں کے درمیان ہے ] لٰعِبِيْنَ [کھیلنے والا ہوتے ہوئے ]
Ayah 44:39مَا خَلَقْنٰهُمَآ [ ہم نے نہیں پیدا کیا دونوں کو ] اِلَّا بِالْحَقِّ [ مگر حق کے ساتھ ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ [ اور لیکن ان کی اکثریت ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ جانتی نہیں ہے ]
Ayah 44:40اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ [ بیشک فیصلے کا دن ] مِيْقَاتُهُمْ [ ان کا طے شدہ وقت ہے ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے لیے ]