43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 43:1
حٰـمۗ
Ayah 43:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے اِس واضح کتاب کی

وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ [ قسم ہے اس واضح کردینے والی کتاب کی ]
Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اِسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اِسے سمجھو

اِنَّا جَعَلْنٰهُ [ بیشک ہم نے بنایا اس (کتاب مبین ) کو ] قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا [ عربی قرآن ] لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ [ شاید کہ تم لوگ عقل سے کام لو ]
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور در حقیقت یہ ام الکتاب میں ثبت ہے، ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب

وَاِنَّهٗ [ اور بیشک وہ (قرآن ) ] فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِ [ کتاب کی ماں (ماسٹر کاپی ) میں ہے ] لَدَيْنَا [ ہمارے پاس ] لَعَلِيٌّ [ یقینا (وہ قرآن ) بلند رتبہ ہے ] حَكِيْمٌ [ پر حکمت ہے ] نوٹ ۔ 1: ام الکتب سے مراد وہ اصل کتاب ہے جس سے تمام انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی کتابیں ماخوذ ہیں ۔ اسی کو سورة واقعہ میں کتاب مکنون (پوشیدہ اور محفوظ کتاب ) کہا گیا ہے اور سورة بروج میں اس کے لئے لوح محفوظ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں یعنی ایسی لوح جس کا لکھا مٹ نہیں سکتا اور جو ہر قسم کی دراندازی سے محفوظ ہے ۔ (تفہیم القرآن ) یہاں قرآن کو علی حکیم کہا گیا ہے ۔ پچھلی سورة میں یہی صفت آیت ۔ 51 ۔ میں اللہ تعالیٰ کے لئے آئی ہے اور وحی و قرآن کے بیان ہی کے سلسلہ میں آئی ہے ۔ ظاہر ہے کہ ہر کلام اپنے صاحب کلام کی صفات کا آئینہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ چونکہ علی حکیم ہے اس وجہ سے اس کا کلام بھی علی حکیم ہے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا چھوڑ دیں صرف اِس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو؟

اَفَنَضْرِبُ [ تو کیا ہم روک لیں گے ] عَنْكُمُ [ تم لوگوں سے ] الذِّكْرَ [ اس نصیحت کو ] صَفْحًا [ دیکھی ان دیکھی کرتے ہوئے ] اَنْ كُنْتُمْ [ (محض اس لئے ) کہ تم لوگ ] قَوْمًا مُّسْرِفِيْنَ [ ایک حد سے تجاوز کرنے والی قوم ہو ]
Ayah 43:6

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں

وَكَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِيٍّ [ اور ہم نے بھیجے کتنے ہی نبی ] فِي الْاَوَّلِيْنَ [ پہلوں میں ]
Ayah 43:7

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی اُن کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اُس کا مذاق نہ اڑایا ہو

وَمَا يَاْتِيْهِمْ [ اور نہیں پہنچا ان کے پاس ] مِّنْ نَّبِيٍّ [ کوئی بھی نبی ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ وہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے ]
Ayah 43:8

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر جو لوگ اِن سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے اُنہیں ہم نے ہلاک کر دیا، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں

فَاَهْلَكْنَآ [ تو ہم نے ہلاک کیا ] اَشَدَّ مِنْهُمْ [ ان میں سے زیادہ سخت کو ] بَطْشًا [ بلحاظ گرفت کرنے کے ] وَّمَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِيْنَ [ اور گزر چکی اگلے لوگوں کی مثال ]
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اگر تم اِن لوگوں سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اُسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ [ اور اگر آپ پوچھیں ان سے ] مَّنْ خَلَقَ [ کس نے پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ آسمانوں اور زمین کو ] لَيَقُوْلُنَّ [ تو وہ سب لازما کہیں گے ] خَلَقَهُنَّ [ پیدا کیا ان سب کو ] الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ [ اس بالا دست باخبر نے ]
Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

وہی نا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دیے تاکہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو

الَّذِيْ [ جس نے ] جَعَلَ [ بنایا ] لَكُمُ الْاَرْضَ [ تمہارے لئے زمین کو ] مَهْدًا [ ایک بچھونا ] وَّجَعَلَ لَكُمْ فِيْهَا [ اور اس نے بنائے تمہارے لئے اس (زمین ) میں ] سُبُلًا [ کچھ راستے ] لَّعَلَّكُمْ [ شاید کہ تم لوگ ] تَهْتَدُوْنَ [ راہ پاؤ]
Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھایا، اِسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کیے جاؤ گے

وَالَّذِيْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاۗءِ [ اور جس نے اتارا آسمان سے ] مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ ۚ [ کچھ پانی ایک اندازے سے ] فَاَنْشَرْنَا بِهٖ [ پھر ہم نے زندہ کیا اس سے ] بَلْدَةً مَّيْتًا ۚ [ ایک مردہ بستی کو ] كَذٰلِكَ تُخْـرَجُوْنَ [ اسی طرح تم لوگ نکالے جاؤگے ]
Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے، اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا تاکہ تم اُن کی پشت پر چڑھو

وَالَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ [ اور جس نے بنائے جوڑے ] كُلَّهَا [ ان سے سب کے ] وَجَعَلَ لَكُمْ [ اور اس نے بنایا تمہارے لئے ] مِّنَ الْفُلْكِ [ کشتیوں میں سے ] وَالْاَنْعَامِ [ اور چوپایوں میں سے ] مَا [ اس کو جس پر ] تَرْكَبُوْنَ [تم لوگ سوار ہوتے ہو ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 12 ۔ میں جوڑوں سے مراد صرف نوع انسانی کے زن ومرد اور حیوانات و نباتات کے نرومادہ ہی نہیں ہیں بلکہ دوسری بیشمار چیزیں بھی ہیں جن کو خالق نے ایک دوسرے کا جوڑ بنایا ہے اور جن کے اختلاط یا امتزاج سے دنیا میں نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں ۔ مثلابجلی میں منفی اور مثبت بجلیاں ایک دوسرے کا جوڑ ہیں اور ان کی باہمی کشش ہی دنیا میں عجیب عجیب کرشموں کا موجب بن رہی ہے ۔ یہ اور دوسرے ان گنت جوڑے جو قسم قسم کی مخلوقات کے اندر اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں ، ان کی ساخت اور ان کی باہمی مناسبتوں اور ان کے تعامل کی گوناگوں شکلوں اور ان کے ملنے سے پیدا ہونے والے نتائج پر اگر انسان غور کرے تو اس کا دل یہ گواہی دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ سارا کارخانہ عالم کسی ایک زبردست صانع حکیم کا بنایا ہوا ہے اور اسی کی تدبیر سے چل رہا ہے ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 43:13

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو اور کہو کہ "پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اِن چیزوں کو مسخر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے

لِتَسْتَوٗا [ تاکہ تم لوگ جم کر بیٹھو ] عَلٰي ظُهُوْرِهٖ [ ان کی پیٹھوں پر ] ثُمَّ [ پھر ] تَذْكُرُوْا [ تاکہ تم لوگ یاد کرو ] نِعْمَةَ رَبِّكُمْ [ اپنے رب کی نعمت کو ] اِذَا اسْـتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ [ جب تم لوگ بیٹھ جاؤ ان پر ] وَتَـقُوْلُوْا [اور تاکہ تم لوگ کہو ] سُبْحٰنَ الَّذِيْ [ پاکیزگی اس کی ہے جس نے ] سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا [ مطیع کیا ہمارے لئے اس کو ] وَمَا كُنَّا لَهٗ [ اور ہم نہیں تھے اس کو ] مُقْرِنِيْنَ [ باندھنے والے (قابوپانے والے ) ] نوٹ۔ 2: انسان کی سواریاں دو قسم کی ہیں ۔ ایک وہ جنھیں انسان اپنی صنعت وحرفت سے بناتا ہے اور دوسرے وہ حیوانات جن کی تخلیق میں انسانی صنعت کا کوئی دخل نہیں ۔ کشتیوں سے سواریوں کی پہلی قسم مراد ہے اور چوپایوں سے دوسری قسم ، مقصد یہ ہے کہ انسانی استعمال کی تمام سواریاں ، خواہ ان کی تیاری میں انسانی صنعت کو دخل ہو یا نہ ہو ، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں ، چوپایوں کا نعمت ہونا تو بالکل ظاہر ہے ۔ اسی طرح وہ سواریاں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعت ہیں جن کی تیاری میں انسانی صنعت کو دخل ہے۔ ہوائی جہاز سے لے کر معمولی سائیکل تک اگرچہ انسان نے خود بنائی ہیں لیکن ان کی صنعت کے طریقے سمجھانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے ؟ وہ قادر مطلق ہی تو ہے جس نے انسانی دماغ کو وہ صلاحیت عطاکی ہے جو لوہے کو موم بنا کر رکھ دیتی ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی صنعت میں جو خام مواد پیدا ہوتا ہے ۔ وہ اور اس کے خواص و آثار تو براہ راست اللہ تعالیٰ کی ہی تخلیق ہیں ۔ ایک کافر اور مومن میں درحقیقت یہی فرق ہے کہ کائنات کی نعمتوں کو دونوں استعمال کرتے ہیں لیکن کافر انھیں غفلت سے استعمال کرتا ہے اور مومن اللہ کے انعامات کو مستحضر کرکے اپنا سرنیاز اس کے حضور جھکا دیتا ہے ۔ اسی مقصد سے قرآن وحدیث میں مختلف کاموں کی انجام دہی کے وقت دعائیں تلقین کی گئی ہیں اور اگر انسان اپنی روز مرہ زندگی میں اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ان دعائوں کو اپنا معمول بنالے تو اس کا ہر مباح کام بھی عبادت بن جاتا ہے ۔ یہ دعائیں ” حصن حصین “ اور ” مناجات مقبول “ میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ یہاں سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا سے لَمُنْقَلِبُوْنَ تک سواری پر بیٹھ کر پڑھنے کی دعا ہے ۔ چناچہ متعدد روایات میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ سواری پر بیٹھتے وقت یہ کلمات پڑھا کرتے تھے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 43:14

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے"

وَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا [ اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ہی ] لَمُنْقَلِبُوْنَ [یقینا پلٹنے والے ہیں ]
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

(یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی) اِن لوگوں نے اُس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا ڈالا، حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے

وَجَعَلُوْا [ اور انہوں نے بنایا ] لَهٗ [ اس کے لیے ] مِنْ عِبَادِهٖ [ اس کے بندوں میں سے ] جُزْءًا ۭ [ ایک ٹکڑا (ایک اولاد) ] اِنَّ الْاِنْسَانَ [ بیشک انسان ] لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ [ یقینا کھلا کھلا انتہائی ناشکرا ہے ]
Ayah 43:16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا؟

اَمِ اتَّخَذَ [ یا اس نے بنایا ] مِمَّا يَخْلُقُ [ اس میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے ] بَنٰتٍ [کچھ بیٹیاں ] وَّاَصْفٰىكُمْ [ اور اس نے چن لیا تم کو ] بِالْبَنِيْنَ [ بیٹوں کے لئے ]
Ayah 43:17

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس خدائے رحمان کی طرف منسوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

وَاِذَا بُشِّرَ [ اور جب بشارت دی جاتی ہے ] اَحَدُهُمْ [ ان کے کسی ایک کو ] بِمَا ضَرَبَ [ اس کی جو اس نے بیان کیا ] لِلرَّحْمٰنِ [ رحمان کے لئے ] مَثَلًا [بطور مثال کے ] ظَلَّ [ تو ہوجاتا ہے ] وَجْهُهٗ [اس کا چہرہ ] مُسْوَدًّا [ سیاہ پڑنے والا ] وَّهُوَ كَظِيْمٌ [ اس حال میں کہ وہ غم زدہ ہے ]
Ayah 43:18

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کر سکتی؟

اَوَمَنْ [ اور کیا وہ (اولاد ) جس کی ] يُّنَشَّؤُا [ پرورش کی جاتی ہے ] فِي الْحِلْيَةِ [ زیور میں ] وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ [ اور وہ حجت بازی میں ] غَيْرُ مُبِيْنٍ [وضاحت کے بغیر ہے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 18 ۔ میں اس احساس کی تعبی رہے جو لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر اہل عرب کے دل میں پیدا ہوتا ۔ وہ اس سوچ میں پڑجاتے کہ کیا وہ وجود میں آئی ہے جو زیوروں میں پلتی ہے ( یعنی شمشیر زنی نہیں کرتی ) اور مفاخرت کے مقابلوں میں بےزبان ہے اور عرب جاہلیت میں ان دونوں ہی چیزوں کے رسیا تھے ۔ ان کے ہاں آئے دن جنگیں بھی برپا ہوتیں اور مفاخرت کے مقابلے بھی ہوتے رہتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ عورت ان دونوں میں ہی میدانوں میں فروتر تھی ۔ اس وجہ سے اہل عرب کی نگاہوں میں اس کی کچھ زیادہ اہمیت نہ تھی ۔ اور یہ بات کچھ اہل عرب کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے ۔ اس زمانے میں بھی عورت کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ نمائش کی مجالس ہی میں ہوئی ہے ۔ مبازرت اور مفاخرت کے اعتبار سے تو آج بھی وہ وہیں ہے جہاں عرب جاہلیت کے دور میں تھی ، یہ امر یہاں اچھی طرح ملحوظ رہے کہ عورت پر یہ تبصرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ان اہل عرب کی طرف سے ہے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ۔ (تدبر قرآن ) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ مافی الضمیر کو قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کے برابر قادر نہیں ہوتی ، لیکن یہ حکم اکثریت کے اعتبار سے ہے ۔ لہذا اگر کچھ عورتیں سلیقہ گفتار کی مالک ہوں اور اس معاملہ میں مردوں سے بھی بڑھ جائیں تو اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ حکم اکثریت پر لگتا ہے ۔ (معارف القرآن ) ۔
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

انہوں نے فرشتوں کو، جو خدائے رحمان کے خاص بندے ہیں، عورتیں قرار دے لیا کیا اُن کے جسم کی ساخت اِنہوں نے دیکھی ہے؟ اِن کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی

وَجَعَلُوا [ اور انھوں نے بنایا ] الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ [ ان فرشتوں کو جو کہ ] هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ [ رحمان کے بندے ہی ہیں ] اِنَاثًا ۭ [ مؤنث ] اَشَهِدُوْا [ کیا وہ موقعہ پر موجود تھے ] خَلْقَهُمْ ۭ [ ان کے پیدا کیے جانے کے ] سَـتُكْتَبُ [ لکھ لی جائے گی ] شَهَادَتُهُمْ [ ان کی گواہی ] وَيُسْــَٔــلُوْنَ [ اور اس سے پوچھ گچھ کی جائے گی ] نوٹ ۔ 2: مشرکین یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارا فرشتوں کو پوجنا اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کو ان کی عبادت کرنا پسند ہے اگر یہ چیز اسکو پسند نہ ہوتی تو اس کی قدرت میں تو سب کچھ ہے ۔ وہ اس کو روک دیتا اور ہم ان کی عبادت نہ کرپاتے ۔ جواب میں فرمایا کہ اس بارے میں ان کو کوئی علم نہیں ہے یہ محض اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں ۔ خدا کی پسند یا ناپسند کو جاننے کا یہ ذریعہ نہیں ہے کہ کسی شخص یا گروہ کو کسی برائی کو کرنے کی ڈھیل ملی ہوئی ہے ۔ اگر یہ دلیل ہر چور اور ہر بدمعاش اپنی بدمعاشی کے جواز میں پیش کرسکتا ہے ۔ خدا کی پسند اور ناپسند کے جاننے کا باوثوق ذریعہ اس کی کتابیں اور اس کے نبیوں کی تعلیمات ہیں ۔ تو کیا اس قرآن سے پہلے ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے جس کو وہ سند میں پیش کرسکتے ہوں ۔ اگر ایسا نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے تو آخر وہ کس سند پر یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں اس کو خدا کی تائید حاصل ہے ۔ (تدبر قرآن)
Ayah 43:20

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں "اگر خدائے رحمٰن چاہتا (کہ ہم اُن کی عبادت نہ کریں) تو ہم کبھی اُن کو نہ پوجتے" یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے، محض تیر تکے لڑاتے ہیں

وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] لَوْ شَاۗءَ الرَّحْمٰنُ [ اگر چاہتا رحمان ] مَا عَبَدْنٰهُمْ ۭ [ تو ہم بندگی نہ کرتے ان کی ] مَا لَهُمْ [ نہیں ہے ان کے لئے ] بِذٰلِكَ [ اس کے بارے میں ] مِنْ عِلْمٍ ۤ [ کوئی بھی علم ] اِنْ هُمْ اِلَّا [ نہیں ہیں وہ مگر ] يَخْرُصُوْنَ [ اٹکل لگاتے ہیں ]
Ayah 43:21

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے اِس سے پہلے کوئی کتاب اِن کو دی تھی جس کی سند (اپنی اِس ملائکہ پرستی کے لیے) یہ اپنے پاس رکھتے ہوں؟

اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ [ یا ہم نے دی ان کو ] كِتٰبًا [ کوئی کتاب ] مِّنْ قَبْلِهٖ [ اس (قرآن ) سے پہلے ] فَهُمْ بِهٖ [ تو وہ اس سے ] مُسْتَمْسِكُوْنَ [ چمٹنے والے ہیں ]
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں

بَلْ قَالُـوْٓا [ بلکہ انہوں نے کہا ] اِنَّا وَجَدْنَآ [ بیشک ہم نے پایا ] اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ [ اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر ] وَّ اِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ [ اور بیشک ہم ان کے نقوش قدم پر ہی ] مُّهْتَدُوْنَ [ ہدایت پانے والے ہیں ]
Ayah 43:23

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اِسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا، اُس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں

وَكَذٰلِكَ مَآ اَرْسَلْنَا [ اور اسی طرح ہم نے بھیجا ] مِنْ قَبْلِكَ فِيْ قَرْيَةٍ [ آپ سے پہلے کسی بستی میں ] مِّنْ نَّذِيْرٍ [ کوئی بھی خبردار کرنے والا ] اِلَّا [ مگر یہ کہ ] قَالَ مُتْرَفُوْهَآ ۙ [ کہا اس کے خوشحال لوگوں نے ] اِنَّا وَجَدْنَآ [ بیشک ہم نے پایا ] اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ [ اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر ] وَّاِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ [ اور بیشک ہم ان کے نقوش قدم پر ہی ] مُّقْتَدُوْنَ [ پیروی کرنے والے ہیں ]
Ayah 43:24

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

ہر نبی نے ان سے پوچھا، کیا تم اُسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں اُس راستے سے زیادہ صحیح راستہ تمہیں بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لیے تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کے کافر ہیں

قٰلَ [کہا (منذر نے ) ] اَوَلَوْ [ تو کیا اگر ] جِئْتُكُمْ [ میں لاؤں تمہارے پاس ] بِاَهْدٰى مِمَّا [ اس سے زیادہ ہدایت والی ] وَجَدْتُّمْ عَلَيْهِ [ تم لوگ پاتے ہو جس پر ] اٰبَاۗءَكُمْ ۭ [ اپنے آباء و اجداد کو ] قَالُـوْٓا اِنَّا بِمَآ [ ان لوگوں نے کہا بیشک ہم اس کا ] اُرْسِلْتُمْ بِهٖ [ تم لوگ بھیجے گئے جس کے ساتھ ] كٰفِرُوْنَ [ انکار کرنے والے ہیں ]
Ayah 43:25

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اُن کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا

فَانْتَقَمْنَا [ تو ہم نے انتقام لیا ] مِنْهُمْ [ ان سے ] فَانْـظُرْ [تو آپ دیکھیں ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ [ جھٹلانے والوں کا انجام ]
Ayah 43:26

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ "تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا اُن سے کوئی تعق نہیں

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ [ اور جب کہا ابراہیم نے ] لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖٓ [ اپنے والد سے اور اپنی قوم سے ] اِنَّنِيْ بَرَاۗءٌ [ یقینا میں بیزار ہوں ] مِّمَّا [ اس سے جس کی ] تَعْبُدُوْنَ [ تم لوگ بندگی کرتے ہو ] نوٹ ۔ 1: گذشتہ آیات میں باری تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ مشرکین عرب کے پاس اپنے شرک پر سوائے اپنے باپ دادوں کی رسوم کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور یہ ظاہر ہے کہ واضح عقلی اور نقلی دلیلوں کی موجودگی میں محض باپ دادوں کی تقلید پر اصرار کرنا حق و انصاف سے کس قدر بعید ہے ۔ اب ان آیات (26 تا 28) میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اگر اپنے آباء و اجداد ہی کے راستے پر چلنا چاہتے ہو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے راستے پر کیوں نہیں چلتے جن کے ساتھ نسبی وابستگی کو تم خود اپنے لئے سرمایہ فخر سمجھتے ہو ۔ وہ نہ صرف توحید کے قائل تھے بلکہ ان کا طرز عمل یہ بتاتا ہے کہ کھلے ہوئے عقلی اور نقلی دلائل کی موجودگی میں محض باپ دادوں کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے ۔ ان کی ساری قوم اپنے آباء و اجداد کی اتباع میں شرک میں مبتلا تھی ، لیکن انہوں نے اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی قوم سے بیزاری کا اظہار کیا ، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ محض اپنے عقیدے اور عمل کا درست کرلینا کافی نہیں ہے ، بلکہ غلط عقائد و اعمال سے اپنی براءت کا اظہار بھی ضروری ہے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 43:27

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

میرا تعلق صرف اُس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہنمائی کرے گا"

اِلَّا الَّذِيْ [ سوائے اس کے جس نے ] فَطَرَنِيْ [وجود بخشا مجھ کو ] فَاِنَّهٗ [ تو یقینا وہ ] سَيَهْدِيْنِ [ ہدایت دے گا مجھ کو ]
Ayah 43:28

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اِس کی طرف رجوع کریں

وَجَعَلَهَا [ اور انہوں نے بنایا اس (اعلان براءت ) کو ] كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً [ ایک باقی رہنے والی بات (روایت ) ] فِيْ عَقِبِهٖ [ اپنے پچھلوں (اولاد) میں ] لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [ شاید (تاکہ ) وہ لوگ لوٹیں ]
Ayah 43:29

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

(اس کے باوجود جب یہ لوگ دوسروں کی بندگی کرنے لگے تو میں نے ان کو مٹا نہیں دیا) بلکہ میں اِنہیں اور اِن کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا یہاں تک کہ اِن کے پاس حق، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا

بَلْ مَتَّعْتُ [ بلکہ میں نے فائدہ اٹھانے دیا ] هٰٓؤُلَاۗءِ وَاٰبَاۗءَهُمْ [ ان لوگوں کو اور ان کے آباء و اجداد کو ] حَتّٰى جَاۗءَهُمُ [ یہاں تک کہ آیا ان کے پاس ] الْحَقُّ [ یہ حق (قرآن) ] وَرَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ [ اور ایک واضح کرنے والا رسول ]
Ayah 43:30

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

مگر جب وہ حق اِن کے پاس آیا تو اِنہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں

وَلَمَّا جَاۗءَهُمُ [ اور جب آیا ان کے پاس ] الْحَقُّ [ یہ حق ] قَالُوْا [ تو انہوں نے کہا ] ھٰذَا سِحْـرٌ [ یہ جادو ہے ] وَّاِنَّا بِهٖ [ اور بیشک ہم اس کا ] كٰفِرُوْنَ [ انکار کرنے والے ہیں ]
Ayah 43:31

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

کہتے ہیں، یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا؟

وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] لَوْلَا [ کیوں نہیں ] نُزِّلَ [اتارا جاتا ] ھٰذَا الْقُرْاٰنُ [ اس قرآن کو ] عَلٰي رَجُلٍ [ کسی ایسے مرد پر جو ] مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ [ ان دو بستیوں میں سے ] عَظِيْمٍ [ عظیم ہے ]
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کیے ہیں، اور اِن میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور تیرے رب کی رحمت اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (اِن کے رئیس) سمیٹ رہے ہیں

اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ [ کیا یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ] رَحْمَتَ رَبِّكَ ۭ [ آپ کے رب کی رحمت کو ] نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ [ ہم نے ہی تقسیم کیا ان کے مابین ] مَّعِيْشَتَهُمْ [ ان کی روزی کو ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ اس دنیوی زندگی میں ] وَرَفَعْنَا [ اور ہم نے بلند کیا ] بَعْضَهُمْ [ ان کے کسی کو ] فَوْقَ بَعْضٍ [ کسی کے اوپر ] دَرَجٰتٍ [ بلحاظ درجات کے ] لِّيَتَّخِذَ [ تاکہ بنائے ] بَعْضُهُمْ [ ان کا کوئی ] بَعْضًا [ کسی کو ] سُخْرِيًّا ۭ [ کام آنے والا ] وَرَحْمَتُ رَبِّكَ [ اور آپ کے رب کی رحمت ] خَيْرٌ [ زیادہ بھلی ہے ] مِّمَّا [ اس سے جو ] يَجْمَعُوْنَ [ یہ لوگ جمع کرتے ہیں ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 32 ۔ کے حوالہ سے یہ امر واضح رہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لئے بنائی ہے ۔ اس وجہ سے اس کا نظام اس نے اس طرح کا رکھا ہے کہ اس میں ہر شخص دوسروں کا محتاج بھی ہے اور محتاج الیہ بھی ۔ یہاں کوئی شخص بھی دوسروں سے مستغنی نہیں اور کوئی شخص بھی ایسا نہیں کہ معاشرہ میں کسی نہ کسی پہلو سے اس کو افادیت نہ ہو ، خالق کائنات نے ہر شخص کو ایک ہی درجے کی صلاحیت ، ایک ہی طرح کا ذوق اور ایک ہی حیثیت کے وسائل و ذرائع کے ساتھ نہیں پیدا کیا بلکہ ان اعتبارات سے لوگوں کے درمیان تفاوت رکھا ہے ۔ یہ تفاوت معاشرہ کی تشکیل اس طرح کرتا ہے کہ اس میں ایک طرف عالم ، مصنف ، محقق اور حکمران بھی پیدا ہوتے ہیں ، دوسری طرف مزدور ، حاضر خدمت رہنے والے خاد م ، گلیاں اور نالیاں صاف کرنے والے خاکروب بھی اس میں پیدا ہوتے ہیں ، یہ سارے طبقات معاشرہ کی تشکیل کے لئے ناگزیر ہیں ۔ ان سب کی خدمت کی نوعیت الگ ہے مگر ان میں سے کوئی عنصر بھی نہ حقیر ہے اور نہ ان میں سے کسی کو نظر انداز کیا جسا سکتا ہے ۔ دنیا کو درجات و مراتب کے اس فرق کے ساتھ اللہ تعالیٰ امتحان کررہا ہے کہ جو لوگ اعلیٰ صلاحیتوں اور بہتر وسائل کے امین بنائے گئے ہیں وہ ان کو پاکر غرور ، خود سری اور اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا اس کے شکر گزارو فرمانبردار اور اس کی خلق کے غمگسار ہوتے ہیں اسی طرح وہ ان لوگوں کو بھی دیکھ رہا ہے جو فروتر اور کمتر وسائل کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنے فرائض کو پہچاننے اور اپنے خالق سے ڈرنے والے اور اپنی خودداری کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں یا اپنے فرائض چھوڑ کر حاکموں اور افسروں کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں ۔ اگر پہلی صورت وجود میں آتی ہے تو اعلی اور ادنی کے صالح تعاون سے صالح معاشرہ اور صالح تمدن وجود میں آتا ہے اور اس کے تمام اجزاء بلا امتیاز ، بالا امتیاز اعلی وادنی اس دنیا میں بھی عزت پاتے ہیں اور آخرت میں بھی ہر ایک اپنی اپنی حسن نیت کے مطابق صلہ پائے گا ۔ اگر دوسری شکل ہوتی ہے تو معاشرہ کا نظام بتدریج مائل بہ فساد ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اور بالآخر فنا ہوجاتا ہے اور آخرت مٰں بھی اس کے تمام چھوٹے بڑے عناصر اپنی اپنی غفلت کے مطابق عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اس زمانے میں جو لوگ دنیا سے طبقات کے وجود کو ختم کرنا چاہتے ہیں وہ اس ارادے میں اس وقت کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک وہ لوگوں کو ذہنی ، طبعی اور عملی صلاحیتوں کے اعتبار سے مساوی درجہ کا بنانے میں کامیاب نہ ہوجائیں اور یہ چیز محال ہے ۔ اور اگر وہ اس محال کو ممکن بنانے میں کامیاب ہوگئے یعنی انہوں نے پوری قوم کو ذہنی ومادی قوتوں کے اعتبار سے ایک درجہ پر کردیا تو اسی دن باہمی تعاون کی بنیاد ختم ہوجائے گی اور قوم میں انار کی پھیل جائے گی ، جب ہر شخص لینن اور اسٹالن بننے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرلے گا تو آخر وہ لینن یا ماؤکا ڈررائیور یا ان کے جوتوں پر پالش کرنے والا خدمت گار کیوں بنے گا ۔ پھر ہر شخص خداوند ہی بننے کی کوشش کرے گا اور اتنے خداؤں کی کشمکش میں دنیا کا جو حشر ہوگا اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 43:33

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے تو خدائے رحمان سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیں

وَلَوْلَآ [ اور اگر نہ ہوتا ] اَنْ يَّكُوْنَ [ کہ ہوجائیں گے ] النَّاسُ [ لوگ ] اُمَّةً وَّاحِدَةً [ ایک (ہی ) امت ] لَّجَعَلْنَا [ تو ہم ضرور بناتے ] لِمَنْ يَّكْفُرُ [ اس کے لئے جو انکار کرتا ہے ] بِالرَّحْمٰنِ [ رحمان کا ] لِبُيُوْتِهِمْ [ ان کے گھروں کے لئے ] سُقُفًا [ چھتوں کو ] مِّنْ فِضَّةٍ [ چاندی سے ] وَّمَعَارِجَ [ اور سیڑھیوں کو (بھی ) ] عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَ [ جس پر وہ لوگ چڑھتے ہیں ]
Ayah 43:34

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور اُن کے دروازے، اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں

وَلِبُيُوْتِهِمْ [ اور ان کے گھروں کیلئے ] اَبْوَابًا وَّسُرُرًا [ دروازوں اور تختوں کو (بھی ) ] عَلَيْهَا يَتَّكِـــــُٔـوْنَ [ جس پر یہ لوگ ٹیک لگا کر بیٹھتے ہیں ]
Ayah 43:35

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

سب چاندی اور سونے کے بنوا دیتے یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے، اور آخرت تیرے رب کے ہا ں صرف متقین کے لیے ہے

وَزُخْرُفًا ۭ [ اور سونے کا (بھی کردیتے ) ] وَاِنْ كُلُّ ذٰلِكَ [ اور نہیں یہ سب کچھ ] لَمَّا [ مگر ] مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ [ اس دنیوی زندگی کا سامان ] وَالْاٰخِرَةُ [اور آخرت ] عِنْدَ رَبِّكَ [ آپ کے رب کے پاس ] لِلْمُتَّقِيْنَ [ تقوی اختیار کرنے والوں کیلئے ہے ]
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے

وَمَنْ يَّعْشُ [ اور جو جی چراتا ہے ] عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ [رحمان کے ذکر سے ] نُـقَيِّضْ لَهٗ [ تو ہم تعینات کرتے ہیں اس لئے ] شَيْطٰنًا [ ایک شیطان کو ] فَهُوَ لَهٗ [ پھر وہ اس کا ہی ] قَرِيْنٌ [ساتھی ہے ] نوٹ ۔ 2: آیات ۔ 36 ۔ 37 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی نصیحت یعنی قرآن اور وحی سے جان بوجھ کر اعراض کرے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو دنیا میں اس کے ساتھ لگا رہتا ہے اور اسے نیکیوں سے روک کر برائیوں پر ابھارتا رہتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی یاد سے اعراض کی اتنی سزا دنیا میں ہی میں مل جاتی ہے کہ انسان کی صحبت خراب ہوجاتی ہے اور شیاطین ، خواہ انسانوں میں سے ہوں یا جنات میں سے ، اس کو بھلائیوں سے دور اور برائیوں سے قریب کرتے رہتے ہیں ۔ وہ کام سارے گمراہی کے کرتا ہے مگر سمجھتا یہ ہے کہ بہت اچھا کررہا ہے ۔ (معارف القرآن)
Ayah 43:37

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

یہ شیاطین ایسے لوگو ں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں

وَاِنَّهُمْ [ اور بیشک وہ سب (شیطان ) ] لَيَصُدُّوْنَهُمْ [ یقینا روکتے ہیں ان سب (جی چرانے والوں ) کو ] عَنِ السَّبِيْلِ [ اصل راہ سے ] وَيَحْسَبُوْنَ [ اور وہ (جی چرانے والے ) لوگ گمان کرتے ہیں ] اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ [ کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ]
Ayah 43:38

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا، "کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بُعد ہوتا، تُو تو بد ترین ساتھی نکلا"

حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءَنَا [ یہاں تک کہ جب وہ آئے گا ہمارے پاس ] قَالَ يٰلَيْتَ [ تو کہے گا اے کاش ] بَيْنِيْ وَبَيْنَكَ [ میرے درمیان اور تیرے درمیان ] بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ [ دو مشرقوں (یعنی مشرق ومغرب ) کی دوری ہوتی ] فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ [ تو کتنا برا ہے ساتھی ] نوٹ ۔ 1: عربی میں کبھی کبھی دو متعلقہ چیزوں میں سے کسی ایک کا تثنیہ بول کے دونوں چیزیں مراد لیتے ہیں ۔ جیسے قمران کا مطلب ہے چاند اور سورج ۔ بصران کا مطلب ہے بصر ہ اور کوفہ ۔ اسی طرح مشرقان کا مطلب ہے مشرق اور مغرب ۔ آیت ۔ 38 ۔ کے ترجمہ میں اسی کو ظاہر کیا گیا ہے۔
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اُس وقت اِن لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کر چکے تو آج یہ بات تمہارے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیاطین عذاب میں مشترک ہیں

وَلَنْ يَّنْفَعَكُمُ [ اور ہرگز نفع نہیں دے گی تم کو ] الْيَوْمَ [ آج کے دن ] اِذْ ظَّلَمْتُمْ [ جبکہ تم سب نے ظلم کیا ] اَنَّكُمْ [ (یہ بات ) کہ تم سب ] فِي الْعَذَابِ [ عذاب میں ] [مُشْتَرِكُوْنَ : شریک ہونے والے ہو ]
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

اب کیا اے نبیؐ، تم بہروں کو سناؤ گے؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاؤ گے؟

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ [ تو کیا آپ سنائیں گے ] الصُّمَّ [ بہروں کو ] اَوْ تَهْدِي [ یا آپ راہ سجھائیں گے ] الْعُمْيَ [اندھوں کو ] وَمَنْ كَانَ [ اور اس کو جو ہو ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [ کھلی گمراہی میں ]