Ayah 42:3كَذٰلِكَ يُوْحِيْٓ [ اس طرح وحی کرتا ہے ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] وَاِلَى الَّذِيْنَ [ اور ان کی طرف جو ] مِنْ قَبْلِكَ ۙ [ آپ سے پہلے تھے ] اللّٰهُ [اللہ ] الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ [ جو بالادست ہے حکمت والا ہے ]
Ayah 42:4لَهٗ [ اس کا ہی ہے ] مَا فِي السَّمٰوٰتِ [ وہ جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ [ اور جو زمین میں ہے ] وَهُوَ الْعَلِيُّ [ اور وہ بالا تر ہے ] الْعَظِيْمُ [عظمت والا ہے ]
Ayah 42:5تَكَادُ السَّمٰوٰتُ [ قریب ہیں آسمان کہ ] يَتَفَطَّرْنَ [ وہ پھٹ پڑیں ] مِنْ فَوْقِهِنَّ [ اپنے اوپر (اس کے رعب ) سے ] وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ [ اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں ] بِحَمْدِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] وَيَسْتَغْفِرُوْنَ [ اور وہ مغفرت مانگتے ہیں ] لِمَنْ فِي الْاَرْضِ ۭ [ ان کے لئے جو زمین میں ہیں ] اَلَآ اِنَّ اللّٰهَ [ سنو یقینا اللہ ] هُوَ الْغَفُوْرُ [ ہی بخشنے والا ہے ] الرَّحِيْمُ [ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 42:6وَالَّذِيْنَ [ اور جن لوگوں نے ] اتَّخَذُوْا [ بنائے ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [ اس کے علاوہ ] اَوْلِيَاۗءَ [ کچھ کارساز ] اللّٰهُ حَفِيْــظٌ [ اللہ نگرانی کرنے والا ہے ] عَلَيْهِمْ ڮ [ ان لوگوں پر ] وَمَآ اَنْتَ عَلَيْهِمْ [ اور آپ نہیں ہیں ان لوگوں پر ] بِوَكِيْلٍ [ کوئی نگہبان ]
Ayah 42:7وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ [ اور اس طرح ہم نے وحی کیا آپ کی طرف ] قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا [ عربی قرآن ] لِّتُنْذِرَ [ تاکہ آپ خبردار کریں ] اُمَّ الْقُرٰى [ بستیوں کی ماں ( مکہ ) والوں کو ] وَمَنْ حَوْلَهَا [ اور ان کو جو اس کے اردگرد ہیں ] وَتُنْذِرَ [ اور تاکہ آپ خبردار کریں ] يَوْمَ الْجَمْعِ [ جمع کئے جانے کے دن سے ] لَا رَيْبَ [ ذرا بھی شک نہیں ہے ] فِيْهِ ۭ [ جس میں ] فَرِيْقٌ [ تو ایک فریق ] فِي الْجَنَّةِ [ جنت میں ہے ] وَفَرِيْقٌ [ اور ایک فریق ] فِي السَّعِيْرِ [ ہمیشہ جلنے والی آگ میں ہے ]
نوٹ ۔ 1: ام القری کے معنی ہیں ساری بستیوں اور شہروں کی اصل اور بنیاد اور اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے ۔ اس کا نام ام القری اس لئے رکھا گیا کہ یہ شہر ساری دنیا کے شہروں اور بستیوں سے اللہ کے نزدیک اشرف و افضل ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے وقت مکہ مکرمہ کو خطاب کرکے فرمایا کہ تم میرے نزدیک اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے اور ساری زمین سے زیادہ محبوب ہے ۔ اگر مجھے اس زمین سے نکالا نہ جاتا تو میں اپنی مرضی سے کبھی اس زمین کو نہ چھوڑتا ۔ ومن حولھا یعنی مکہ مکرمہ کے آس پاس اس سے مراد آس پاس کے عرب ممالک بھی ہوسکتے ہیں اور پوری زمین کے مشرق ومغرب بھی (معارف القرآن )
Ayah 42:8وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ [ اور اگر چاہتا اللہ ] لَجَعَلَهُمْ [ تو ضرور بناتا ان کو ] اُمَّةً وَّاحِدَةً [ ایک (ہی ) امت ] وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ [ اور لیکن وہ داخل کرتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ [ اپنی رحمت میں ] وَالظّٰلِمُوْنَ [ اور ظلم کرنے والے ] مَا لَهُمْ [ نہیں ہے ان کے لئے ] مِّنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ [ کوئی بھی کارساز اور نہ ہی کوئی مددگار ]
نوٹ ۔ 1: آیت 8 ۔ کے مضمون کا مقصد اہل ایمان کو ان مشکلات کی حقیقت سمجھانا ہے جو تبلیغ دین اور اصلاح خلق کی راہ میں اکثر پیش آتی ہیں ۔ جو لوگ اللہ کی دی ہوئی آزادی انتخاب و ارادہ اور اس کی بنا پر طبائع اور طریقوں کے اختلاف کی حقیقت کو نہیں سمجھتے ، وہ کبھی تو کار اصلاح کی سست رفتاری دیکھ کر مایوس ہونے لگتے ہیں اور کبھی وہ ضرورت سے زیادہ جوش سے کام لے کر اصلاح کے بےجا طریقوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے لئے ایک بڑا اہم مضمون مختصر سے فقروں میں بیان فرمایا گیا ہے ۔ اس دنیا میں اللہ کی حقیقی خلافت اور آخرت میں اس کی جنت کوئی معمولی رحمت نہیں ہے جو ہر طرح کی مخلوق پر ایک رحمت عام کی طرح بانٹ دی جائے ۔ یہ تو ایک خاص اور بہت اونچے درجے کی رحمت ہے جس کے لئے فرشتوں تک کو موزوں نہ سمجھا گیا ۔ اسی لئے انسان کو ایک ذی اختیار مخلوق کی حیثیت سے پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے اپنی زمین کے یہ وسیع ذرائع اس کے تصرف میں دیئے تاکہ یہ اس امتحان سے گزر سکے جس میں کامیاب ہوکر ہی کوئی بندہ اس کی یہ رحمت خاص پانے کے قابل ہوسکتا ہے ۔ یہ رحمت اللہ کی اپنی چیز ہے ۔ اسے وہی لے سکتا ہے جو اللہ کے حضور بندگی پیش کرے ، اس کو اپنا ولی بنائے اور اس کا دامن تھامے ۔ تب اللہ اس کی مدد اور رہنمائی کرتا ہے اور اسے اس امتحان سے بخیریت گزرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے تاکہ وہ اس کی رحمت میں داخل ہوسکے لیکن جو ظالم اللہ سے منہ موڑ لے اور اس کے بجائے دوسروں کو اپنا ولی بنا بیٹھے ، اللہ کو کچھ ضرورت نہیں پڑی ہے کہ وہ زبردستی اس کا ولی بنے ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 42:9اَمِ اتَّخَذُوْا [ یا ان لوگوں نے بنائے ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [ اس کے سوا ] اَوْلِيَاۗءَ ۚ [ کچھ کار ساز ] فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِيُّ [ تو اللہ ہی کار ساز ہے ] وَهُوَ يُـحْيِ [ اور وہ ہی زندہ کرے گا ] الْمَوْتٰى ۡ [ مردوں کو ] وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ اور وہ ہی ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ]
Ayah 42:10وَمَا [ اور وہ ] اخْتَلَفْتُمْ [ تم لوگوں نے اختلاف کیا ] فِيْهِ [ جس میں ] مِنْ شَيْءٍ [ کچھ بھی ] فَحُكْمُهٗٓ [ تو اس کا فیصلہ ] اِلَى اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی طرف ہے ] ذٰلِكُمُ [ یہ ] اللّٰهُ [ اللہ ] رَبِّيْ [ میرا رب ہے ] عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ڰ [ اس پر ہی میں نے بھروسہ کیا ] وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ [ اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ]
Ayah 42:11فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ (وہ) زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والا ہے ] جَعَلَ لَكُمْ [ اس نے بنائے تمہارے لئے ] مِّنْ اَنْفُسِكُمْ [ تمہاری جانوں (جنس) سے ] اَزْوَاجًا [ جوڑے ] وَّمِنَ الْاَنْعَامِ [ اور چوپایوں سے ] اَزْوَاجًا ۚ [ جوڑے ] يَذْرَؤُكُمْ [ وہ پھیلاتا ہے تم لوگوں کو ] فِيْهِ ۭ [ اس (زمین ) میں ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] كَمِثْلِهٖ [ اس کی مثال جیسی (بھی ) ] شَيْءٌ ۚ [ کوئی چیز ] وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ [ اور وہ ہی سننے والا دیکھنے والا ہے ]
نوٹ ۔ 2: لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ (کوئی چیز اس کے مانند جیسی نہیں ہے ) کے متعلق بعض مفسرین کہتے ہیں اس میں لفظ مثل پر کاف (حرف تشبیہ ) کا اضافہ محاورے کے طور پر کیا گیا ہے جس سے مقصود بات میں زور پیدا کرنا ہوتا ہے اور عرب میں یہ طرز بیان رائج ہے ۔ دوسرے حضرات کا قول یہ ہے کہ اس جیسا کوئی نہیں ہے کہنے کے بجائے اس کے مثل جیسا کوئی نہیں کہنے میں مبالغہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ اگر بفرض محال اللہ کا کوئی مثل ہوتا تو اس جیسا بھی کوئی نہیں ہوتا ، کجا کہ خود اللہ جیسا کوئی ہو ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 42:12لَهٗ [ اس کے لئے ہی ہیں ] مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ [ زمین اور آسمانوں کی کنجیاں ] يَبْسُطُ الرِّزْقَ [ وہ کشادہ کرتا ہے روزی کو ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کے لئے جس کے لئے وہ چاہتا ہے ] وَيَقْدِرُ ۭ [ اور وہ ناپ تول کرتا (دیتا ) ہے (جسے چاہے ) ] اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ [ یقینا وہ ہر چیز کا ] عَلِيْمٌ [ علم رکھنے والا ہے ]
Ayah 42:13شَرَعَ لَكُمْ [ اس نے قانون بنایا تمہارے لئے ] مِّنَ الدِّيْنِ [ نظام حیات میں سے ] مَا [ اس کو ] وَصّٰى بِهٖ [ اس نے تاکید کی جس کی ] نُوْحًا [ نوح کو ] وَّالَّذِيْٓ [ اور اس کو (بھی ) جو ] اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ [ ہم نے وحی کیا آپ کی طرف ] وَمَا [ اور اس کو (بھی ) ] وَصَّيْنَا بِهٖٓ [ ہم نے تاکید کی جس کی ] اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم کو ] وَمُوْسٰى [ اور موسیٰ کو ] وَعِيْسٰٓى [ اور عیسیٰ کو ] اَنْ اَقِيْمُوا [ کہ تم لوگ قائم رکھو ] الدِّيْنَ [ اس نظام حیات کو ] وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ۭ [ اور الگ الگ مت ہو اس میں ] كَبُرَ [ بڑی گراں گزری ] عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں پر ] مَا [ وہ (بات) ] تَدْعُوْهُمْ [ آپ بلاتے ہیں ان کو ] اِلَيْهِ ۭ [ جس کی طرف ] اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ [ اللہ چن لیتا ہے ] اِلَيْهِ [ اپنی طرف ] مَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کو جیسے وہ چاہتا ہے ] وَيَهْدِيْٓ [ اور وہ رہنمائی کرتا ہے ] اِلَيْهِ [ اپنی طرف ] مَنْ يُّنِيْبُ [ اس کی جو رجوع کرتا ہے ]
نوٹ ۔ 1: اس سورة کی تمہید میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا گیا تھا کہ تمہیں اسی دین حق کی وحی کی جارہی ہے جس کی وحی تم سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو کی گئی ۔ اب آیت ۔ 13 ۔ میں اسی مضمون کی وضاحت کی جارہی ہے کہ یہ کوئی انوکھا اور اجنبی دین نہیں ہے بلکہ شروع سے لے کر ان آخری نبی تک سب کا دین یہی رہا ہے ۔ انبیاء (علیہم السلام) کا حوالہ یہاں اس طرح دیا ہے کہ پہلے ابتدائی اور آخری کڑی یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کا ذکر فرمایا ۔ پھر بیچ کے انبیاء میں سے تین جلیل القدر نبیوں کا نام خاص طور سے لیا ۔ اس اہتمام کے ساتھ ان کے ذکر کی وجہ یہ ہے کہ انہی تین نبیوں کی پیروی کے مدعی اس وقت قرآن کے سامنے تھے ۔ مشرکین عرب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کے مدعی تھے اور یہود و نصاری بالترتیب حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے ۔ پھر اس ہدایت کا ذکر ہے جوان نبیوں کے واسطہ سے ان کے پیرؤوں کو دی گئی کہ ” الدین “ کو قائم کرو اور اس میں فرق مت کرو۔
الدین پر الف اس طرح کا ہے جس طرح الکتب پر ہے۔ جس طرح الکتب کے معنی اللہ کی کتاب کے ہیں اسی طرح الدین کے معنی اللہ کے دین کے ہیں اور اللہ کا دین شروع سے اسلام ہے۔ (ال عمران ۔ 19) اس دین کی بنیاد توحید پر ہے ۔ اس کے عقائد اور اس کی اساسات شروع سے آخر تک بالکل ایک ہیں ۔ فرق اگر ہوا ہے تو جزئیات شریعت میں ہوا ہے جس کو قرآن نے شرعۃ ومنھاج کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے ۔ (تدبر قرآن)
نوٹ ۔ 2: بعض لوگوں نے دیکھا کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان مشترک ہے، اور شریعتیں ان سب کی مختلف رہی ہیں جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” تم میں سے سب کے لئے ہم نے بنایا شِرْعَةً (ایک دستور) وَّمِنْهَاجًا (ایک راستہ ) ۔ (المائدہ ۔ 48) اس لئے انھوں نے یہ رائے قائم کرلی کہ دین سے مراد شرعی احکام و ضوابط نہیں ہیں بلکہ صرف توحید و آخرت اور کتاب ونبوت کا ماننا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لانا ہے۔ یہ ایک بڑی سطحی رائے ہے جو محض سرسری نگاہ سے دین کی وحدت اور شریعتوں کے اختلاف کو دیکھ کر قائم کرلی گئی ہے ۔ اور یہ ایسی خطرناک رائے ہے کہ اگر اس کی اصلاح نہ کردی جائے تو بات وہاں تک جا پہنچے گی جس میں مبتلا ہوکر سینٹ پال نے دین بلاشریعت کا نظریہ پیش کیا ۔ اس لئے کہ جب شریعت دین سے الگ ایک چیز ہے اور حکم صرف دین کو قائم کرنے کا ہے تو لامحالہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح شریعت کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیں گے اور صرف ایمانیات اور اخلاقی اصولوں کو لے کر بیٹھ جائیں گے ۔ اس لئے ہم خود اللہ کی کتاب سے پوچھ لیتے ہیں کہ جس دین کو قائم کرنے کا یہاں حکم دیا گیا ہے ۔ اس سے مراد صرف ایمانیات اور اخلاقیات ہی ہیں یا شرعی احکام بھی ۔ (یہاں متعدد آیات کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے صاف طور پر واضح ہوجاتا ہے کہ ان احکام کو ماننا اور پابندی کرنا بھی دین ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے دیئے ہیں )
دراصل ساری غلط فہمی صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ سورة المائدہ کی آیت ۔ 48 کو یہ معنی پہنادئیے گئے کہ شریعت چونکہ ہر امت کے لئے الگ تھی اور حکم صرف اس دین کو قائم کرنے کا دیا گیا ہے جو تمام انبیاء کے درمیان مشترک تھا اس لئے اقامت دین کے حکم میں اقامت شریعت شامل نہیں ہے ۔ حالانکہ اس آیت کو اس کے سیاق وسباق (آیات ۔ 41 تا 50) کے ساتھ اگر کوئی پڑھے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جس نبی کی امت کو جو شریعت بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی وہ اس امت کے لئے دین تھی اور اس کے دور نبوت میں اس کی اقامت مطلوب تھی ۔ اس لئے امت محمدیہ کو جو شریعت دی گئی ہے وہ اس دور کے لئے دین ہے اور اس کا قائم کرنا ہی دین کا قائم کرنا ہے ۔ (تفہیم القرآن ۔ ج 4 ص 488 تا 491 سے ماخوذ)
نوٹ ۔ 3: اقامت دین کا حکم دینے کے بعد آخری بات جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمائی وہ یہ ہے کہ دین میں تفرقہ برپا مت کرو ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی دین کے اندر اپنی طرف سے کوئی نرالی بات ایسی نکالے جس کی کوئی معقول گنجائش اس میں نہ ہو اور اصرار کرے کہ اس کی بات کے ماننے ہی پر کفر وایمان کا مدار ہے پھر جو ماننے والے ہوں انھیں لے کر نہ ماننے والوں سے جدا ہوجائے ۔ اس تفرقے کا اس اختلاف رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے جو دین کے احکام کو سمجھنے اور ان سے مسائل مستنبط کرنے میں فطری طور پر اہل علم کے درمیان واقع ہوتا ہے ۔ (تفہیم القرآن) ۔ فروعی مسائل میں جہاں قرآن وحدیث میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہے ۔ وہاں ائمہ مجتہدین کا اپنے اپنے اجتہاد سے کوئی حکم متعین کرلینا۔ اس میں اختلاف رائے ونظر کی بنا پر اختلاف ہونا لازمی ہے ۔ اس کا اس تفرق ممنوعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ایسا اختلاف صحابہ کرام میں خود عہد رسالت سے چلاآیا ہے اور باتفاق فقہاء رحمت ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 42:14وَمَا تَفَرَّقُوْٓا [ اور وہ الگ الگ نہیں ہوئے ] اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا [ مگر اس کے بعد جو ] جَاۗءَهُمُ [ آیا ان کے پاس ] الْعِلْمُ [ علم ] بَغْيًۢا [ سرکشی کرتے ہوئے ] بَيْنَهُمْ ۭ [ آپس میں ] وَلَوْلَا كَلِمَةٌ [ اور اگر نہ ہوتا ایک ایسا فرمان جو ] سَبَقَتْ [ طے ہوا ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف) سے ] اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي [ ایک معین مدت تک کے لئے ] لَّقُضِيَ [ تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ] بَيْنَهُمْ ۭ [ ان کے درمیان ] وَاِنَّ الَّذِيْنَ [ اور بیشک وہ لوگ جو ] اُوْرِثُوا [ وارث بنائے گئے ] الْكِتٰبَ [ کتاب کے ] مِنْۢ بَعْدِهِمْ [ ان لوگوں کے بعد ] لَفِيْ شَكٍّ [ یقینا ایک ایسے شک میں ہیں ] مِّنْهُ [ اس سے ] مُرِيْبٍ [ جو شبہ میں ڈالنے والا ہے ]
Ayah 42:15فَلِذٰلِكَ [ تو اس کے لئے ہی ] فَادْعُ ۚ [ پھر آپ دعوت دیں ] وَاسْتَقِمْ [ اور آپ قائم (ڈٹے ) رہیں ] كَمَآ [اس کی مانند جو ] اُمِرْتَ ۚ [ آپ کو حکم دیا گیا ] وَلَا تَتَّبِعْ [ اور آپ پیروی مت کریں ] اَهْوَاۗءَهُمْ ۭ [ ان کی خواہشات کی ] وَقُلْ [ اور آپ کہیے ] اٰمَنْتُ بِمَآ [ میں ایمان لایا اس پر جو ] اَنْزَلَ اللّٰهُ [ اتاری اللہ نے ] مِنْ كِتٰبٍ ۚ [ کوئی کتاب ] وَاُمِرْتُ [اور مجھے حکم دیا گیا ] لِاَعْدِلَ [ کہ میں انصاف کروں ] بَيْنَكُمْ ۭ [ تمہارے درمیان ] اَللّٰهُ رَبُّنَا [ اللہ ہمارا رب ہے ] وَرَبُّكُمْ ۭ [ اور تمہارا رب ہے ] لَنَآ اَعْمَالُنَا [ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں ] وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۭ[ اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں ] لَا حُجَّةَ [ کوئی بھی بحث و تکرار نہیں ہے ] بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ۭ [ ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ] اَللّٰهُ يَجْمَعُ [ اللہ جمع کرے گا ] بَيْنَنَا ۚ [ ہمارے مابین ] وَاِلَيْهِ [ اور اس کی طرف ہی ] الْمَصِيْرُ [لوٹنا ہے ]
Ayah 42:16وَالَّذِيْنَ يُحَاۗجُّوْنَ [ اور جو لوگ دلیل بازی کرتے ہیں ] فِي اللّٰهِ [ اللہ (کے بارے ) میں ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جو ] اسْتُجِيْبَ [ مان لیا گیا ] لَهٗ [ اس کو ] حُجَّــتُهُمْ [ ان کی دلیل ] دَاحِضَةٌ [ رد ہونے والی ہے ] عِنْدَ رَبِّهِمْ [ ان کے رب کے پاس ] وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ [ اور ان پر ایک غضب ہے ] وَّلَهُمْ [ اور ان کے لئے ] عَذَابٌ شَدِيْدٌ [ ایک شدید عذاب ہے ]
Ayah 42:17اَللّٰهُ الَّذِيْٓ [ اللہ وہ ہے جس نے ] [اَنْزَلَ : اتارا ] [ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ [اس کتاب کو حق کے ساتھ ] وَالْمِيْزَانَ ۭ [ اور ترازو کو ] وَمَا يُدْرِيْكَ [ اور آپ کیا جانتے ہیں ] لَعَلَّ السَّاعَةَ [ شاید وہ گھڑی (قیامت )] قَرِيْبٌ [قریب (ہی ) ہو ]
Ayah 42:18يَسْتَعْجِلُ بِهَا [ جلدی مچاتے ہیں اس کی ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا ۚ [ ایمان نہیں رکھتے اس پر ] وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور جو لوگ ایمان لائے ] مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا ۙ [ (وہ) ڈرنے والے ہیں اس سے ] وَيَعْلَمُوْنَ [ اور وہ جانتے ہیں ] اَنَّهَا [ کہ وہ (قیامت ) ] الْحَقُّ ۭ [ برحق ہے ] اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ [ خبردار ! بیشک جو لوگ ] يُمَارُوْنَ [ جھگڑا کرتے ہیں ] فِي السَّاعَةِ [ اس گھڑی (کے بارے ) میں ] لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ [ (وہ) یقینا ایک دور کی گمراہی میں ہیں ]
Ayah 42:19اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ [ اللہ نرمی کرنے والا ہے ] بِعِبَادِهٖ [ اپنے بندوں پر ] يَرْزُقُ [ وہ روزی دیتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ [ اس کو جسے وہ چاہتا ہے ] وَهُوَ الْقَوِيُّ [ اور وہ ہی قوت والا ہے ] [الْعَزِيْزُ : بالا دست ہے ]
Ayah 42:20مَنْ كَانَ [ جو ہے (کہ ) ] يُرِيْدُ [ وہ چاہتا ہے ] حَرْثَ الْاٰخِرَةِ [ آخرت کی کھیتی کو ] نَزِدْ لَهٗ [ تو ہم زیادہ کرتے ہیں اس کے لئے ] فِيْ حَرْثِهٖ ۚ [اس کی کھیتی میں ] وَمَنْ كَانَ [ اور جو ہے (کہ ) ] يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا [ وہ چاہتا ہے دنیا کی کھیتی کو ] نُؤْتِهٖ [ توہم دیتے ہیں اس کو ] مِنْهَا [ اس میں سے ] وَمَا لَهٗ [ اور نہیں ہے اس کے لئے ] فِي الْاٰخِرَةِ [ آخرت میں ] مِنْ نَّصِيْبٍ [ کوئی بھی حصہ ]
ترکیب : (آیت ۔ 20) کان یرید۔ کو اگر ماضی استمراری مانیں تو آگے نزدلہ بےجوڑ ہوجاتا ہے اور ترجمہ ٹھیک نہیں بنتا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں پر کان فعل ناقص ہے اور من شرطیہ کی وجہ سے اس کا ترجمہ ماضی کے بجائے حال میں ہوگا ۔ (آیت ۔ 24) ۔ یمح اللہ میں دراصل مضارع یمحو ہے جس کی واو گری ہوئی ہے ۔ اس کا ایک امکان یہ ہوسکتا تھا کہ فان یشاء اللہ شرط کا پہلا جواب شرط یختم ہے اور یمحو دوسرا جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا تو واوگرگئی ۔ لیکن ایسی صورت میں آیت کا مفہوم ہوجاتا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو وہ مہرلگا دیتا آپ کے دل پر (لیکن مہرلگائی نہیں ) اور مٹا دیتا باطل کو (لیکن مٹایا نہیں ) یہ مفہوم کئی لحاظ سے غلط ہے۔ اولا یہ کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے ۔ ثانیا یہ کہ آگے ویحق الحق بےجوڑ ہوجاتا ہے ۔ ثالثا یہ کہ ایسی صورت میں یمح کا فاعل اسم ظاہر اللہ لانے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اس کو یمح الباطل آنا چاہیے تھا ۔ اس لئے علی قلبک پر وقف کرتے ہیں اور آگے نیا جملہ مانتے ہیں ۔ ایسی صورت میں کہتے ہیں کہ یمح اللہ اور دراصل یمحو اللہ ہے اور کسی عامل کے بغیر اس کی واوگری ہے ۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے اس مقام پر یمحو کو واو کے بغیر لکھتے ہیں۔ اس طرح آگے ویحق الحق سے اس کا ربط قائم ہوجاتا ہے اور پوری عبارت مربوط ہوجاتی ہے ۔
(نوٹ : مذکورہ بالا بظاہر غیر ضروری طوالت کے حوالے سے طلباء اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں کہ ہمارے بزرگوں نے ایک ایک آیت کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف پر Magnifying Glass (محدب شیشہ ) لگا کر بڑی باریک بینی اور عرق ریزی کے ساتھ آیات کے مفہوم کا تعین کیا ہے ۔ آج کل کچھ لوگ قرآنی آیات کو اپنے من مانے معانی پہنانا چاہتے ہیں ۔ ان کا پہلا حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی نظروں میں بزرگوں کے کام کو بےوقعت قرار دیتے ہیں ۔ جو طلباء محض اللہ کی رضا کے لیے قرآن کا مطالعہ کررہے ہیں انھیں خود کو اس شیطانی حربے سے بچانا ہوگا ۔ )
Ayah 42:21اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا [ کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں ] شَرَعُوْا لَهُمْ [ جنھوں نے قانون بنایا ان کے لیے ] مِّنَ الدِّيْنِ [ دین میں سے ] مَا [ اس کو ] لَمْ يَاْذَنْۢ [ اجازت نہیں دی ] بِهِ [ جس کی ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ نے ] وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ [ اور اگر نہ ہوتا فیصلے کا فرمان ] لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ [ تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ان کے درمیان ] وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ [ اور یقینا ظالم لوگ ] لَهُمْ [ ان کے لیے ہی ہے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 21 میں شرکوا سے مراد شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے ہیں یا جن کی نذرونیاز چڑھاتے ہیں یا جن کے آگے پوجا پاٹ کے مراسم ادا کرتے ہیں بلکہ ان سے مراد وہ انسان ہیں جن کو لوگوں نے شریک فی الحکم ٹھہرالیا ہے جن کے عقائد ، نظریات اور فلسفوں پر لوگ ایمان لاتے ہیں ، جن کے اخلاقی اصولوں اور تہذیب وثفاقت کے معیاروں کو قبول کرتے ہیں ، جن کے مقرر کیے ہوئے قوانین اور ضابطوں کو اپنی زندگی میں اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ گویا یہی وہ شریعت ہے جس کی پیروی ان کو کرنی چاہیے ۔ یہ ایک پورا کا پورا دین ہے جو اللہ کی تشریع کے خلاف اور اس کے اذن کے بغیر ایجاد کرنے والوں نے ایجاد کیا اور ماننے والوں نے مان لیا ۔ یہ ویسا ہی شرک ہے جیسا غیر اللہ کو سجدہ کرنا ۔ اور غیر اللہ سے دعائیں مانگنا شرک ہے ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 42:22تَرَى [آپ دیکھیں گے ] الظّٰلِمِيْنَ [ ظالم لوگوں کو ] مُشْفِقِيْنَ [ ڈرنے والا ہوتے ہوئے ] مِمَّا كَسَبُوْا [ اس سے جو انھوں نے کمائی کی ] وَهُوَ [ حالانکہ وہ ] وَاقِـــعٌۢ بِهِمْ ۭ [ پڑنے والی ہے ان پر ] وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] فِيْ رَوْضٰتِ الْجَـنّٰتِ ۚ [ (وہ لوگ ) جنتوں کے سبزہ زاروں میں ہوں گے ] لَهُمْ مَّا [ ان کے لئے وہ ہے جو ] يَشَاۗءُوْنَ [ وہ لوگ چاہیں گے ] عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ [ اپنے رب کے پاس ] ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ [ یہ ہی (سب سے ) بڑا فضل ہے ]
Ayah 42:23ذٰلِكَ الَّذِيْ [ یہ وہ ہے جس کی ] يُبَشِّرُ اللّٰهُ [ بشارت دیتا ہے اللہ ] عِبَادَهُ الَّذِيْنَ [ اپنے ان بندوں کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ [ اور انھوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ [ میں نہیں مانگتا تم لوگوں سے ] عَلَيْهِ [ اس (تبلیغ کے کام ) پر ] اَجْرًا [ کوئی اجرت ] اِلَّا الْمَوَدَّةَ [ مگر خیر خواہی (مروت ) ] فِي الْقُرْبٰى ۭ [ قرابت (رشتہ داری ) میں ] وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ [ اور جو ارتکاب کرتا ہے ] حَسَنَةً [ کسی نیکی کا ] نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا [ توہم زیادہ کرتے ہیں اس کے لیے اس میں ] حُسْنًا ۭ [ بھلائی کو ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] [شَكُوْرٌ : انتہائی قدر دان ہے ]
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 23 ۔ میں ہے کہ میں اس کام پر تم لوگوں سے کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے رشتہ داری میں مروت کے ۔ اس کی جو تفسیر جمہور مفسرین سے منقول ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ میرا صل حق تو تم پر یہ ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تم اس کا اعتراف کرو اور اپنی صلاح و فلاح کے لئے میری اطاعت کرو، اگر میری نبوت اور رسالت کو تسلیم نہیں کرتے تو نہ سہی مگر میرا ایک انسانی اور خاندانی حق بھی ہے جس کا تم انکار نہیں کرسکتے ۔ تمہارے اکثر قبائل میں میری رشتہ داری ہے اور قرابت کے حقوق اور صلہ رحمی سے تمہیں بھی انکار نہیں ہے ۔ تو میں تم سے اپنی اس خدمت کا کوئی معاوضہ نہیں مانگتا جو میں تمہاری تعلیم و تبلیغ کیلئے کرتا ہوں ، صرف اتنا چاہتا ہوں کہ رشتہ داری کے حقوق کا تو خیال کرو ، بات کا ماننا یا نہ ماننا تمہارے اختیار میں ہے مگر عداوت اور دشمنی سے تو کم از کم یہ قرابت کا تعلق مانع ہونا چاہیے اب یہ بات ظاہر ہے کہ رشتہ داری کے حقوق کی رعایت خود ان کا اپنا فرض تھا ، اس کو کسی خدمت کا معاوضہ نہیں کہا جاسکتا ۔ آیت مذکورہ میں اس کو جو بلفظ استثناء ذکر فرمایا ہے تو یہ استثناء منقطع ہے ۔ (آیت ۔ 2 : 34، نوٹ ۔ 1 ۔ دیکھیں ) ( معارف القرآن)
نوٹ ۔ 3: ایک گروہ اس کا مطلب یہ بیان کرتا ہے کہ میں تم سے اس کام پر کوئی اجر اس کے سوا نہیں چاہتا کہ تم میرے اقارب سے محبت کرو، پھر اس گروہ کے بعض حضرات اقارب سے تمام بنی عبدالمطلب مراد لیتے ہیں اور بعض اسے صرف حضرت علی ؓ اور بی بی فاطمہ ؓ اور ان کی اولاد تک محدود رکھتے ہیں ۔ لیکن متعدد وجوہ کے سبب یہ تفسیر قابل قبول نہیں ہوسکتی ۔ اولا جس وقت مکہ میں سورة شوری نازل ہوئی اس وقت حضرت علی اور بی بی فاطمہ کی شادی تک نہیں ہوئی تھی ، اولاد کا کیا سوال ، اور بنی عبدالمطلب میں سب کے سب نبی کریم ﷺ کا ساتھ نہیں دے رہے تھے بلکہ ان میں سے بعض دشمنوں کے ساتھی تھے جیسے ابولہب ، ثانیا نبی کریم ﷺ کے رشتہ دارصرف بنی عبدالمطلب ہی نہ تھے بلکہ قریش کے تمام گھرانوں میں آپ کی رشتہ داریاں تھیں ۔ اور ان سب گھرانوں میں آپ کے بہترین صحابی بھی تھے اور بدترین دشمن بھی ، یہ کس طرح ممکن تھا کہ ان سب اقرباء میں سے آپ صرف بنی عبدالمطلب کو اپنا رشتہ دار قدردے کر اس مطالبہ محبت کو انہی کیلئے مخصوص رکھتے ۔ ثانیا ایک نبی جس مقام بلند پر کھڑا ہوکر دعوت الی اللہ کی پکار بلند کرتا ہے اس مقام سے اس کار عظیم کا یہ اجر مانگنا کہ تم میرے رشتہ داروں سے محبت کرو، اتنی گری ہوئی بات ہے کہ کوئی صاحب ذوق سلیم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ رابعا یہ بات اور بھی زیادہ بےموقع نظر آتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس تقریر کے مخاطب اہل ایمان نہیں بلکہ کفار ہیں ، اس سلسلہ کلام میں مخالفین سے کوئی اجر طلب کرنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے ۔ اجر تو ان لوگوں سے مانگا جاتا ہے جن کی نگاہ میں اس کام کی کوئی قدر ہے۔ کفار تو اسے جرم سمجھ رہے تھے اور آپ کی جان کے درپے تھے (تفہیم القرآن ) اس لئے اصل مفہوم وہی ہے جو جمہور مفسرین نے بیان کیا ہے اور جس کا خلاصہ نوٹ ۔ 2 ۔ میں دے دیا گیا ہے ۔ (مرتب)
Ayah 42:24اَمْ يَقُوْلُوْنَ [یا وہ لوگ کہتے ہیں ] افْتَرٰى [ اس نے گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا ۚ [ اللہ پر ایک جھوٹ ] فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ [ پھر اگر چاہتا اللہ ] يَخْتِمْ [ تو وہ مہرلگا دیتا ] عَلٰي قَلْبِكَ ۭ [ آپ کے دل پر ] وَيَمْــحُ اللّٰهُ [ اور مٹاتا ہے اللہ ] الْبَاطِلَ [ باطل کو ] وَيُحِقُّ [ اور وہ ثابت کرتا ہے ] الْحَقَّ [ سچائی کو ] بِكَلِمٰتِهٖ ۭ [ اپنے فرمانوں سے ] اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ [ یقینا وہ جاننے والا ہے ] بِذَاتِ الصُّدُوْرِ [ سینوں والی (بات ) کو ]
Ayah 42:25وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہ ہے جو ] يَقْبَلُ التَّوْبَةَ [ قبول کرتا ہے توبہ کو ] عَنْ عِبَادِهٖ [ اپنے بندوں سے ] وَيَعْفُوْا [ اور وہ درگزر کرتا ہے ] عَنِ السَّـيِّاٰتِ [ برائیوں سے ] وَيَعْلَمُ [ اور وہ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تَفْعَلُوْنَ [ تم لوگ کرتے ہو ]
Ayah 42:26وَيَسْتَجِيْبُ [ اور وہ جواب دیتا (قبول کرتا ) ہے ] [الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] وَيَزِيْدُهُمْ [ اور وہ زیادہ دیتا ہے ان کو ] مِّنْ فَضْلِهٖ ۭ [ اپنے فضل سے ] وَالْكٰفِرُوْنَ [ اور انکار کرنے والے ] لَهُمْ [ ان کیلئے ] عَذَابٌ شَدِيْدٌ [ ایک شدید عذاب ہے ]
Ayah 42:27وَلَوْ بَسَطَ اللّٰهُ [ اور اگر کشادہ کردے اللہ ] الرِّزْقَ [ روزی کو ] لِعِبَادِهٖ [ اپنے بندوں کے لئے ] لَبَغَوْا [ تو وہ ضرور سرکشی کریں گے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَلٰكِنْ يُّنَزِّلُ [ اور لیکن وہ اتارتا ہے ] بِقَدَرٍ [ ایک اندازے سے ] مَّا [ اتنی جتنی ] يَشَاۗءُ ۭ [ وہ چاہتا ہے ] اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ [ یقینا وہ اپنے بندوں کی ] خَبِيْرٌۢ [خبر رکھنے والا ہے ] بَصِيْرٌ [ دیکھنے والا ہے ]
نوٹ ۔ 1: جیسے نعتیں ایک خاص اندازہ وحوال کی رعایت سے دی جاتی ہیں (آیت ۔ 27) مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے تحت ہوتا ہے ۔ بندوں کو جو کوئی سختی اور مصیبت پیش آئے اس کا سبب قریب یا بعید بندوں کے ہی بعض اعمال و افعال ہوتے ہیں ۔ جیسے ایک آدمی غذا وغیرہ میں احتیاط نہ کرنے سے بیمار پڑجاتا ہے یا کبھی محلہ یا شہر والے کی بےتدبیری اور حماقت سے پورے محلہ یا شہر کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ یہی حال روحانی اور باطنی بد پرہیزی اور بےتدبیری کا سمجھ لو ۔ گویا دنیا کی ہر مصیبت بندوں کے بعض اعمال ماضیہ کا نتیجہ ہے اور مستقل میں ان کے لئے تنبیہ ہے ۔ اور یہ اس پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بندوں کے بہت سے گناہوں سے درگزر کرتی ہے ۔ (ترجمہ شیخ الہند)
Ayah 42:28وَهُوَ الَّذِيْ [ اور وہ، وہ ہے جو ] يُنَزِّلُ الْغَيْثَ [ اتارتا ہے بارش کو ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جب ] [ قَنَطُوْا : وہ لوگ مایوس ہوئے ] [وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ [ اور وہ پھیلاتا ہے اپنی رحمت کو ] وَهُوَ الْوَلِيُّ [ اور وہ ہی کارساز ہے ] الْحَمِيْدُ [ حمد کیا ہوا ہے ]
Ayah 42:29وَمِنْ اٰيٰتِهٖ [ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنا ] وَمَا [ اور وہ (بھی ) جو ] بَثَّ [ اس نے بکھیرا ] فِيْهِمَا [ ان دونوں میں ] مِنْ دَاۗبَّةٍ ۭ [ چلنے والے جاندار میں سے ] وَهُوَ [اور وہ ] عَلٰي جَمْعِهِمْ [ ان سب کو جمع کرنے پر ] اِذَا يَشَاۗءُ [ جب بھی وہ چاہے گا ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ]
نوٹ ۔ 1: دابۃ لغت میں ہراس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے اختیار سے چلنے اور حرکت کرنے والی ہو ۔ اس آیت میں (آیت ۔ 29) آسمان اور زمین دونوں کی طرف نسبت کرکے (فیہما ) یہ کہا گیا ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی چلنے والی مخلوقات پیدا کی ہیں ۔ زمین پر چلنے والی مخلوقات تو ظاہر ہیں ۔ آسمان میں ان سے مراد ملائکہ بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں میں ایسے جاندار موجود ہوں جو ابھی تک انسان کے علم میں نہیں آسکے ۔ (معارف القرآن)
Ayah 42:30وَمَآ اَصَابَكُمْ [ اور جو آ لگتی ہے تم لوگوں کو ] مِّنْ مُّصِيْبَةٍ [ کوئی بھی آلگنے والی (مصیبت ) ] فَبِمَا [ تو (وہ ) اس سبب سے ہے جو ] كَسَبَتْ [ کمائی کی ] اَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھوں نے ] وَيَعْفُوْا [ اور وہ (اللہ ) درگزر کرتا ہے ] عَنْ كَثِيْرٍ [ بہتوں سے ]
یہ آیت (آیت ۔ 30) ان لوگوں کیلئے مخصوص ہے جن سے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں ۔ انبیاء (علیہم السلام) جو گناہوں سے معصوم ہیں یا نابالغ بچے اور مجنون جن سے کوئی گناہ نہیں ہوتا ، ان کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ اس حکم میں داخل نہیں ۔ اس کے دوسرے اسباب اور حکمتیں ہوتی ہیں ۔ (معارف القرآن )
مزید توضیح کے لئے یہ بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ مومن مخلص پر جو تکلیفیں اور مصیبتیں آتی ہیں وہ سب اس کے گناہوں ، خطاؤں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنتی چلی جاتی ہیں ۔ حدیث میں ہے کہ ” مسلمان کو جو رنج اور دکھ اور فکر اور غم اور تکلیف اور پریشانی بھی پیش آتی ہے حتی کہ ایک کانٹا بھی اس کو اگر چبھتا ہے تو اللہ اس کو اس کی کسی نہ کسی خطا کا کفارہ بنا دیتا ہے ۔ رہے وہ مصائب جو اللہ کی راہ میں اس کا کلمہ بلند کرنے کے لئے مومن برداشت کرتا ہے وہ محض کوتاہیوں کا کفارہ ہی نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے ہاں ترقی درجات کا ذریعہ بھی بنتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 42:31وَمَآ اَنْتُمْ [ اور تم لوگ نہیں ہو ] بِمُعْجِزِيْنَ [ عاجز کرنے والے ] فِي الْاَرْضِ ښ [ زمین میں ] وَمَا لَكُمْ [ اور نہیں ہے تمہارے لئے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مِنْ وَّلِيٍّ [ کوئی بھی کارساز ] وَّلَا نَصِيْرٍ [ اور نہ کوئی مددگار ]
Ayah 42:32وَمِنْ اٰيٰتِهِ [ اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں ] الْجَوَارِ [ کشتیاں ] فِي الْبَحْرِ [ سمندر میں ] كَالْاَعْلَامِ [ پہاڑوں کی مانند ]
Ayah 42:33اِنْ يَّشَاْ [ اگر وہ چاہے ] يُسْكِنِ [ تو وہ ساکن کردے ] الرِّيْحَ [ ہوا کو ] فَيَظْلَلْنَ [ نتیجۃ وہ (کشتیاں) ہوجائیں ] رَوَاكِدَ [ ٹھہری ہوئی ] عَلٰي ظَهْرِهٖ ۭ [ اس (سمندر ) کی پیٹھ پر ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [ یقینا نشانیاں ہیں ] لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ [ہر ایک خوب ثابت قدم رہنے والے ، بہت شکر کرنے والے کے لئے ]
ر ک د : (ن) رکودا ۔ پانی یا ہوا کا ٹھہرنا ۔ راکدۃ ۔ ج : رواکد ، اسم الفاعل ہے ٹھہرنے والی ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 33 ۔
Ayah 42:34اَوْ يُوْبِقْهُنَّ [ یا وہ تباہ کردے ان (کشتیوں ) کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَسَبُوْا [ ان لوگوں نے کمائی کی ] وَيَعْفُ [ اور (چاہے تو ) درگزر کرے ] عَنْ كَثِيْرٍ [ بہتوں سے ]
Ayah 42:35وَّيَعْلَمَ [ اور (تاکہ ) جان لیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يُجَادِلُوْنَ [ مناظرہ کرتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا ۭ [ ہماری نشانیوں میں ] مَا لَهُمْ [(کہ) نہیں ہے ان کے لئے ] مِّنْ مَّحِيْصٍ [ کوئی بھی بچنے کی جگہ ]
Ayah 42:36فَمَآ اُوْتِيْتُمْ [ اور جو دی جاتی ہے تم لوگوں کو ] مِّنْ شَيْءٍ [ کوئی بھی چیز ] فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ [ تو (وہ) دنیوی زندگی کا سامان ہے ] وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ [ اور جو اللہ کے پاس ہے ] خَيْرٌ [(وہ) بہتر ہے ] وَّاَبْقٰى [ اور زیادہ باقی رہنے والا ہے ] لِلَّذِيْنَ [ ان لوگوں کیلئے جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَلٰي رَبِّهِمْ [ اور اپنے رب پر ہی ] يَتَوَكَّلُوْنَ [ جو لوگ بھروسہ کرتے ہیں ]
Ayah 42:37وَالَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ [ اور جو لوگ دور رہتے ہیں ] كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ [ گناہ کے بڑوں سے ] وَالْـفَوَاحِشَ [ اور بےحیاؤں سے ] وَاِذَا مَا [ اور جس وقت ] غَضِبُوْا [ وہ غضبناک ہوتے ہیں ] هُمْ يَغْفِرُوْنَ [ تو وہ لوگ بخش دیتے ہیں ]
نوٹ ۔ 1: یہاں (آیت ۔ 37) برائیوں کے صرف کبائر سے بچنے کا ذکر ہے ۔ اس کی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ انسان خیر وشر کے دو متضاد داعیات کی کشمکش کے اندر امتحان میں ڈالا گیا ہے ۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ اس سے یہ نہیں ہے کہ وہ بالکل معصوم ہوکر زندگی گزارے ۔ اللہ تعالیٰ اس سے صرف یہ چاہتا ہے کہ وہ بڑے بڑے گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرے ۔ اگر وہ بڑی برائیوں سے بچتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی چھوٹی غلطیوں سے درگزر فرمائے گا ۔ دوسری یہ کہ چھوٹی برائیوں سے بچنے کا صحیح طریقہ بھی یہی ہے کہ آدمی بڑی برائیوں سے اجتناب کرے ۔ جو شخص اشرفیوں کی چوری سے اجتناب کرے گا وہ دھیلے اور پیسے کی چوری کرنے والا نہیں بنے گا ۔ اگر اس طرح کی کوئی حرکت اس سے صادر ہوگی بھی تو سہوا ہی ہوگئی ، عمدا نہیں ہوگی ۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 2 جہاں معاف کرنا مناسب ہو معاف کرے ۔ مثلا ایک شخص کی حرکت پر غصہ آیا ۔ اس نے ندامت کے ساتھ اپنے قصور کا اعتراف کرلیا تو معاف کردیا ۔ یہ محمود ہے۔ اور جہاں بدلہ لینا مصلحت ہو، مثلا کوئی خواہ مخواہ چڑھتا ہی چلا آئے یا جواب نہ دینے سے اس کا حوصلہ بڑھتا ہے یا دین کی اہانت اور جماعت مسلمین کی تذلیل ہوتی ہے ، ایسی حالت میں بدلہ لیتے ہیں ، وہ بھی بقدر اس کی زیادتی کے جرم سے زاید سزا نہیں دیتے ۔ (ترجمہ شیخ الہند ) ۔ بی بی عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کیلئے انتقام نہیں لیا ۔ البتہ جب اللہ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کی ہتک کی جاتی تب آپ سزا دیتے تھے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 42:38وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا [ اور جن لوگوں نے جواب دیا (حکم مانا) ] لِرَبِّهِمْ [ اپنے رب کا ] وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۠ [ اور جنھوں نے قائم کی نماز ] وَاَمْرُهُمْ [ اور جن کا معاملہ ] شُوْرٰى [مشورہ کرنا ہے ] بَيْنَهُمْ ۠ [ اپنے درمیان ] وَمِمَّا [ اور اس میں سے جو ] رَزَقْنٰهُمْ [ ہم نے روزی دی ان کو ] يُنْفِقُوْنَ [ وہ لوگ خرچ کرتے ہیں ]
Ayah 42:39وَالَّذِيْنَ اِذَآ [ اور وہ لوگ کہ جب کبھی ] اَصَابَهُمُ [ آلگتی ہے ان کو ] الْبَغْيُ [ زیادتی ] هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ [ تو وہ لوگ بدلہ لیتے ہیں ]
Ayah 42:40وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ [ اور کسی برائی کا بدلہ ] سَيِّئَةٌ [ ایک برائی ہے ] مِّثْلُهَا ۚ [ اس کی جیسی ] فَمَنْ عَفَا [ پھر جس نے معاف کیا ] وَاَصْلَحَ [ اور اصلاح کی ] فَاَجْرُهٗ [ تو اس کا اجر ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [ اللہ پر ہے ] اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ [ یقینا وہ پسند نہیں کرتا ] الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں کو ]