42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی

وَلَمَنِ انْتَصَرَ [ اور بیشک جس نے بدلہ لیا ] بَعْدَ ظُلْمِهٖ [ اپنے پر ظلم کیے جانے کے بعد ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ہیں کہ ] مَا عَلَيْهِمْ [ جن پر نہیں ہے ] مِّنْ سَبِيْلٍ [ کوئی بھی الزام ]
Ayah 42:42

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے

اِنَّمَا السَّبِيْلُ [ الزام تو بس ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر ہے جو ] يَظْلِمُوْنَ [ ظلم کرتے ہیں ] النَّاسَ [ لوگوں پر ] وَيَبْغُوْنَ [ اور سرکشی (دھونس دھاندلی ) کرتے ہیں ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ [ حق کے بغیر ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں کہ ] لَهُمْ [ جن کے لئے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک دردناک عذاب ہے ]
Ayah 42:43

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے، تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے

وَلَمَنْ صَبَرَ [ اور بیشک جس نے صبر کیا ] وَغَفَرَ [ اور بخش دیا ] اِنَّ ذٰلِكَ [ تو بیشک یہ ] لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ [ یقینا معاملات کی ثابت قدمی میں سے ہے ]
Ayah 42:44

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

جس کو اللہ ہی گمراہی میں پھینک دے اُس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ہے تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟

وَمَنْ يُّضْلِلِ [ اور جس کو بھٹکا دے ] اللّٰهُ [ اللہ ] فَمَا لَهٗ [ تو نہیں ہے اس کے لئے ] مِنْ وَّلِيٍّ [ کوئی بھی کارساز ] مِّنْۢ بَعْدِهٖ ۭ [ اس کے بعد سے ] وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ [ اور آپ دیکھیں گے ظالموں کو ] لَمَّا [جب ] رَاَوُا [ وہ لوگ دیکھیں گے ] الْعَذَابَ [ عذاب کو ] يَقُوْلُوْنَ [ تو کہیں گے ] هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ [ کیا لوٹانے (کے کسی امکان) کی طرف ] مِّنْ سَبِيْلٍ [ کوئی بھی راہ ہے ]
Ayah 42:45

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن آنکھیوں سے دیکھیں گے اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے

وَتَرٰىهُمْ [ اور آپ دیکھیں گے ان کو ] يُعْرَضُوْنَ [ کہ وہ پیش کیے جاتے ہیں ] عَلَيْهَا [ اس (آگ ) پر ] خٰشِعِيْنَ [ عاجزی کرنے والے ہوتے ہوئے ] مِنَ الذُّلِّ [ تابعداری سے ] يَنْظُرُوْنَ [ دیکھتے ہوئے ] مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ ۭ [ پوشیدہ پلک (کن انکھیوں ) سے ] وَقَالَ الَّذِيْنَ [ اور کہیں گے وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ [ یقینا خسارہ پانے والے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ] خَسِرُوْٓا [ خسارے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنی جانوں کو ] وَاَهْلِيْهِمْ [ اور اپنے گھر والوں کو ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [ قیامت کے دن ] اَلَآ [ سن لو ] اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ [ یقینا ظالم لوگ ] فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ [ ایک دائمی عذاب میں ہیں ]
Ayah 42:46

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لیے بچاؤ کی کوئی سبیل نہیں

وَمَا كَانَ لَهُمْ [ اور نہیں ہیں ان کے لئے ] مِّنْ اَوْلِيَاۗءَ [ کوئی بھی ایسے کارساز ] يَنْصُرُوْنَهُمْ [ جو مدد کریں گے ان کی ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے سوا ] وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ [ اور جس کو بھٹکا دے اللہ ] فَمَا لَهٗ [ تو اس کے لئے نہیں ہے ] مِنْ سَبِيْلٍ [ کوئی بھی راہ ]
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

مان لو اپنے رب کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہو گا

اِسْتَجِيْبُوْا [ تم لوگ جواب دو (کہا مانو)] لِرَبِّكُمْ [ اپنے رب کا ] مِّنْ قَبْلِ اَنْ [ اس سے پہلے کہ ] يَّاْتِيَ [ آئے ] يَوْمٌ [ ایک ایسا دن ] لَّا مَرَدَّ [ لوٹانے کا کوئی بھی امکان نہیں ہے ] لَهٗ [ جس کو ] مِنَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ (کی طرف) سے ] مَا لَكُمْ [ تمہارے لئے نہیں ہوگی ] مِّنْ مَّلْجَاٍ [ کوئی بھی پناہ گاہ ] يَّوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] وَّمَا لَكُمْ [ اور تمہارے لئے نہیں ہوگا ] مِّنْ نَّكِيْرٍ [ کوئی بھی عدم عرفان (مکرنا ) ]
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے نبیؐ، ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے تم پر تو صرف بات پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس پر پھول جاتا ہے، اور اگر اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا کسی مصیبت کی شکل میں اُس پر الٹ پڑتا ہے تو سخت ناشکرا بن جاتا ہے

فَاِنْ اَعْرَضُوْا [ پھر اگر وہ لوگ اعراض کریں ] فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ [ تو ہم نے نہیں بھیجا آپ کو ] عَلَيْهِمْ [ان پر ] حَفِيْظًا ۭ [ بطور نگہبان ] اِنْ عَلَيْكَ [ نہیں ہے آپ پر (ذمہ داری ) ] اِلَّا الْبَلٰــغُ ۭ [ سوائے پہنچا دینے کے ] وَاِنَّآ اِذَآ [ اور بیشک جب کبھی ] اَذَقْنَا [ ہم چکھاتے ہیں ] الْاِنْسَانَ [انسان کو ] مِنَّا [ اپنے (پاس ) سے ] رَحْمَةً [ کوئی رحمت ] فَرِحَ [تو وہ خوش ہوتا ہے ] بِهَا ۚ [ اس سے ] وَاِنْ تُصِبْهُمْ [ اور اگر آلگتی ہے ان کو ] سَيِّئَةٌۢ [ کوئی برائی ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] قَدَّمَتْ [ آگے بھیجا ] اَيْدِيْهِمْ [ ان کے ھاتھوں نے ] فَاِنَّ الْاِنْسَانَ [ تو یقینا انسان ] كَفُوْرٌ [ انتہائی ناشکرا ہے ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 48 ۔ میں انسان سے مراد وہ چھچھورے اور کم ظرف لوگ ہیں جنھوں دنیا کا کچھ رزق مل گیا تو اس پر پھولے نہیں سماتے اور سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو سن کر نہیں دیتے ۔ لیکن اگر کسی وقت اپنے ہی کرتوتوں کی بدولت ان کی شامت آجاتی ہے تو قسمت کو رونا شروع کردیتے ہیں اور ان ساری نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو اللہ نے انھیں دی ہیں اور کبھی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ جس حالت میں وہ مبتلا ہوئے ہیں اس میں ان کا اپنا کیا قصور ہے۔ اس طرح نہ خوشحالی ان کی اصلاح میں مدد گار ہوتی ہے اور نہ بدحالی ہی انھیں سبق دے کر راہ راست پر لاسکتی ہے۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 42:49

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے

لِلّٰهِ [ اللہ ہی کے لئے ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ] يَخْلُقُ [وہ پیدا کرتا ہے ] مَا يَشَاۗءُ ۭ [ جو وہ چاہتا ہے ] يَهَبُ [ وہ عطا کرتا ہے ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کو جس کے لئے وہ چاہتا ہے ] اِنَاثًا [ مؤنث (بیٹیاں) ] وَّيَهَبُ [ اور وہ عطا کرتا ہے ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کو جس کے لیے وہ چاہتا ہے ] الذُّكُوْرَ [ مذکر (بیٹے ) ]
Ayah 42:50

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے

اَوْ يُزَوِّجُهُمْ [ یا وہ ملا کردیتا ہے ان کو ] ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا ۚ [ مذکر اور مؤنث (بیٹے اور بیٹیاں ) ] وَيَجْعَلُ [ اور وہ بناتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] عَــقِـيْمًا ۭ [ بانجھ ] اِنَّهٗ عَلِيْمٌ [ بیشک وہ جاننے والا ہے ] قَدِيْرٌ [ قدرت والا ہے ]
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے روبرو بات کرے اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ [ اور (ممکن) نہیں ہے کسی بشر کے لئے ] اَنْ يُّكَلِّمَهُ [ کہ کلام کرے اس سے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اِلَّا وَحْيًا [ مگر وحی ہوتے ہوئے ] اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ [ یا پردے کے پیچھے سے ] اَوْ يُرْسِلَ [ یا (یہ کہ ) وہ بھیجے ] رَسُوْلًا [ کوئی پیغامبر (فرشتہ ) ] فَيُوْحِيَ [ نتیجتا وہ وحی کرے ] بِاِذْنِهٖ [ اس کی اجازت سے ] مَا يَشَاۗءُ ۭ [ وہ، جو وہ چاہتا ہے ] اِنَّهٗ عَلِيٌّ [ بیشک وہ بالاتر ہے ] حَكِيْمٌ [حکمت والا ہے ]
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اِسی طرح (اے محمدؐ) ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر اُس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ [ ہم نے وحی کی آپ کی طرف ] رُوْحًا [ ایک جانفز چیز (قرآن ) ] مِّنْ اَمْرِنَا ۭ [ اپنے حکم سے ] مَا كُنْتَ تَدْرِيْ [ آپ نہیں جانتے تھے ] مَا الْكِتٰبُ [ کیا ہے کتاب ] وَلَا الْاِيْمَانُ [ اور نہ (کیا ہے ) ایمان ] وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ [ اور لیکن ہم نے بنایا اس (قرآن ) کو ] نُوْرًا [ ایک ایسا نور ] نَّهْدِيْ بِهٖ [ ہم ہدایت دیتے ہیں جس سے ] مَنْ نَّشَاۗءُ [ اس کو جس کو ہم چاہتے ہیں ] مِنْ عِبَادِنَا ۭ [ اپنے بندوں میں سے ] وَاِنَّكَ [ اور بیشک آپ ] لَـــتَهْدِيْٓ [ یقینا رہنمائی کرتے ہیں ] [اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : ایک سیدھے راستے کی طرف ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 52 ۔ میں وکذلک اوحینا سے مراد محض آخری طریقہ نہیں ہے بلکہ وہ تینوں طریقے ہیں جو اوپر کی آیت میں مذکور ہوئے ہیں ۔ یہ بات قرآن اور حدیث دونوں سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو ان تینوں طریقوں سے ہدایات دی گئی ہیں۔ چناچہ احادیث میں آپ کے بہت سے خوابوں کا ذکر ملتا ہے جن میں آپ کو کوئی تعلیم دی گئی یا کسی بات پر مطلع کیا گیا اور قرآن مجید میں بھی آپ کے ایک خواب کا صراحت کے ساتھ ذکر آیا ہے ۔ (الفتح ۔ 27) اس کے علاوہ متعدد احادیث میں یہ ذکر بھی آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ فلاں بات میرے دل میں ڈالی گئی ہے، یہ مجھے یہ بتایا گیا ہے ، یا مجھے یہ حکم دیا گیا ہے ، یا مجھے اس سے منع کیا گیا ہے ۔ ایسی تمام چیزیں وحی کی پہلی قسم سے تعلق رکھتی ہیں اور احادیث قدسیہ بھی زیادہ تر اسی قبیل سے ہیں ۔ معراج کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ کو وحی کی دوسری قسم سے بھی مشرف فرمایا گیا ۔ متعدد احادیث میں آپ کو نماز کا حکم دیئے جانے اور آپ کا اس پر بار بار عرض معروض کرنے کا ذکر جس طرح آیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اللہ اور بندے ﷺ کے درمیان ویسا ہی مکالمہ ہوا تھا جیسا دامن طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوا ۔ رہی تیسری قسم تو اس سے متعلق خود قرآن شہادت دیتا ہے کہ اسے جبریل امین کے ذریعہ سے رسول اللہ ﷺ تک پہنچایا گیا ۔ (تفہیم القرآن ) نوٹ ۔ 2: جہاں تک کتاب کا تعلق ہے اس سے تو نبی کریم ﷺ ناآشنا تھے اس لئے کہ آپ امی تھے ۔ لیکن ایمان سے آشنائی کی جو نفی کی گئی ہے یہ اس کی تفصیلات کے اعتبار سے ہے۔ یعنی آپ ایمان کے تمام لوازم ومقتضیات سے ناآشنا تھے ، ورنہ انبیاء (علیہم السلام) تو وحی سے بھی اپنی فطرت سلیم کی روشنی سے بہر ہ ور ہوتے ہیں ۔ اس وجہ سے اجمالی ایمان ان کے اندر موجود ہوتا ہے جو وحی کی روشنی سے جگمگا کر آفتاب کی طرح ایک عالم کو منور کردیتا ہے ۔ فطرت کی روشنی اور وحی کی روشنی میں نسبت چونکہ ذرہ اور آفتاب کی ہے اس وجہ سے اس کے مقابل میں اس کی نفی کی گئی ہے لیکن وہ اسی آفتاب تاباں کا ایک ذرہ (تدبر قرآن ) یکم ذیقعد 1429 ھ بمطابق 31: اکتوبر 2008 ء
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

اُس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے خبردار رہو، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيْ [ اس اللہ کے راستے کی طرف ] لَهٗ [ جس کا ہی ہے ] مَا فِي السَّمٰوٰتِ [ اور جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ [ اور وہ جو زمین میں ہے ] اَلَآ [ سن لو ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ ہی کی طرف ] تَصِيْرُ [ لوٹتے ہیں ] الْاُمُوْرُ [ سارے معاملات ]