41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 41:1
حٰـمۗ
Ayah 41:2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

یہ خدائے رحمان و رحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے

تَنْزِيْلٌ [ (یہ تدریجا ) اتارنا ہے ] مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ [ رحمان رحیم (کی طرف) سے ]
Ayah 41:3

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی زبان کا قرآن، اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں

كِتٰبٌ [ (یہ ) ایک ایسی کتاب ہے ] فُصِّلَتْ [ کھول کھول کر بتائی گئیں ] اٰيٰتُهٗ [ جس کی آیتیں ] قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا [ عربی قرآن ہوتے ہوئے ] لِّــقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّعْلَمُوْنَ [علم رکھتے ہیں ]
Ayah 41:4

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

بشارت دینے والا اور ڈرا دینے والا مگر اِن لوگوں میں سے اکثر نے اس سے رو گردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے

بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ۚ [ بشارت دینے والی اور خبردار کرنے والی ہوتے ہوئے ] فَاَعْرَضَ [ پھر اعراض کیا ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر نے ] فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ [ نتیجتا وہ لوگ سنتے ہیں ]
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

کہتے ہیں "جس چیز کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں، ہمارے کان بہرے ہو گئے ہیں، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہو گیا ہے تو اپنا کام کر، ہم اپنا کام کیے جائیں گے"

وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا [ اور انہوں نے کہا ہمارے دل ] فِيْٓ اَكِنَّةٍ [ غلافوں میں ہیں ] مِّمَّا [ اس سے ] تَدْعُوْنَآ [ آپ بلاتے ہیں ہم کو ] اِلَيْهِ [ جس کی طرف ] وَفِيْٓ اٰذَانِنَا [ اور ہمارے کانوں میں ] وَقْرٌ [ کچھ گرانی ہے ] وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ [ اور ہمارے درمیان اور آپ کے درمیان ] حِجَابٌ [ ایک حجاب ہے ] فَاعْمَلْ [ تو آپ عمل کریں ] اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ [ بیشک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں ] نوٹ ۔ 1: کفار نے جو اپنے دلوں پر پردے ، کانوں میں بوجھ وغیرہ کا اقرار کیا ، اس سے ظاہر ہے یہ تو مراد نہ تھا کہ ان میں عقل نہیں یا بہرے ہیں ، بلکہ یہ ایک قسم کا استہزاء و تمسخر تھا ۔ مگر استہزاء کا جو جواب رسول اللہ ﷺ کو تلقین کیا گیا وہ یہ تھا کہ ان کے مقابلہ میں کوئی تشدد کی بات نہ کریں بلکہ اپنی تواضع کا اظہار کریں کہ میں خدا نہیں کہ ہر کام کا مالک و مختار ہوں بلکہ تم ہی جیسا ایک انسان ہوں ، فرق صرف اس کا ہے کہ مجھے میرے رب نے وحی بھیج کر ہدایت کی اور میں بھی تمہیں یہی وصیت کرتا ہوں کہ اپنا رخ عبادت و اطاعت میں صرف ایک اللہ کی طرف کرلو اور پچھلے گناہوں سے توبہ کرلو ۔ (معارف القرآن )
Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن سے کہو، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے

قُلْ اِنَّمَآ [ آپ کہئے کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَنَا بَشَرٌ [ میں ایک بشر ہوں ] مِّثْلُكُمْ [ تم لوگوں کے جیسا ] يُوْحٰٓى اِلَيَّ [ (ہاں) وحی کی جاتی ہے میری طرف ] اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ [ کہ تم لوگوں کا الہ تو بس ] اِلٰهٌ وَّاحِدٌ [ ایک ہی الہ ہے ] فَاسْتَقِيْمُوْٓا [ تو تم لوگ سیدھے رہو ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۭ [ اور مغفرت طلب کرو اس سے ] وَوَيْلٌ [اور تباہی ہے ] لِّـلْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں کے لئے ]
Ayah 41:7

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں

الَّذِيْنَ [ (یہ ) وہ لوگ ہیں جو ] لَا يُؤْتُوْنَ [ نہیں پہچاتے ] الزَّكٰوةَ [ زکوۃ ] وَهُمْ [ اور یہ لوگ ] بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ [ آخرت کا ہی انکار کرنے والے ہیں ]
Ayah 41:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جنہوں نے مان لیا اور نیک اعمال کیے، اُن کے لیے یقیناً ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ بیشک جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] لَهُمْ اَجْرٌ [ ان کے لئے اجر ہے ] غَيْرُ مَمْنُوْنٍ [ نہ منقطع ہونے والا ]
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

اے نبیؐ! اِن سے کہو، کیا تم اُس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اُس کا ہمسر ٹھیراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنا دیا؟ وہی تو سارے جہان والوں کا رب ہے

قُلْ اَىِٕنَّكُمْ [ آپ کہئے کیا واقعی تم لوگ ] لَتَكْفُرُوْنَ [ قطعی ناشکری کرتے ہو ] بِالَّذِيْ [ اس (ہستی ) کی جس نے ] خَلَقَ الْاَرْضَ [ پیدا کیا زمین کو ] فِيْ يَوْمَيْنِ [ دو دنوں میں ] وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗٓ [ اور بناتے ہو اس کے لئے ] اَنْدَادًا ۭ[ کچھ ہم پلہ ] ذٰلِكَ [ وہ ] رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کا رب ہے ]
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اُس نے (زمین کو وجود میں لانے کے بعد) اوپر سے اس پر پہاڑ جما دیے اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیا کر دیا یہ سب کام چار دن میں ہو گئے

وَجَعَلَ فِيْهَا [ اور اس نے بنائے اس میں ] رَوَاسِيَ [ کچھ پہاڑ ] مِنْ فَوْقِهَا [اس کے اوپر سے ] وَبٰرَكَ فِيْهَا [ اور اس نے برکت دی اس میں ] وَقَدَّرَ فِيْهَآ [ اور اس نے مقدر کیں اس میں ] اَقْوَاتَهَا [ اس کی روزیاں ] فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ ۭ [ چار دنوں میں ] سَوَاۗءً [ برابر (ضرورت کے مطابق) ہوتے ہوئے ] لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ [ مانگنے والوں کے لئے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 10 ۔ میں فرمایا کہ زمین میں برکتیں رکھیں ۔ یہ اسی برکت کا کرشمہ ہے کہ یہ ہر قسم کی نباتات اگاتی ہے جن کے پھل اور پھول انسان اور دوسری مخلوقات کے کام آتے ہیں ] ۔ یہ اسی کا فیض ہے کہ ایک دانہ انسان بوتا ہے اور زمین سینکڑوں دانوں کی شکل میں اس کا حاصل اس کو واپس کرتی ہے ۔ ایک گٹھلی یا ایک قلم آدمی زمین میں لگاتا ہے اور ایک مدت دراز تک اس کا پھل وہ اور اس کی اولادیں کھاتی رہتیں ہیں ۔ یہ اسی برکت کا ثمرہ ہے کہ انسان اپنی سائنس کے ذریعے سے اس کے جتنے پرت الٹتا جاتا ہے اتنے ہی اس کے اندر سے خزانے پر خزانے نکلتے آرہے ہیں ۔ (تدبر قرآن ) نوٹ ۔ 2: اسی آیت ۔ 10 ۔ میں آگے فرمایا ” یہ سب کام چار دن میں ہوگئے “ اس مقام کی تفسیر میں مفسرین کو یہ زحمت پیش آئی ہے ۔ کہ اگر زمین کی تخلیق کے دو دن اور اس میں پہاڑ جمانے ، برکتیں رکھنے اور سامان خوراک پیدا کرنے کے چار دن تسلیم کئے جائیں تو آگے آسمانوں کی پیدائش دو دنوں میں ہونے کا ذکر آیا ہے ۔ اسے ملا کر آٹھ دن بن جاتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر زمین و آسمان کی تخلیق چھ دنوں میں ہونے کا ذکر آیا ہے ۔ اسی بنا پر قریب قریب تمام مفسرین یہ کہتے ہیں کہ یہ چار دن زمین کی تخلیق کے دو دن سمیت ہیں یعنی دو دن تخلیق زمین کے اور دو دن زمین کے اندر باقی چیزوں کی پیدائش کے ہیں ۔ اس طرح جملہ چار دنوں میں زمین اپنے سروسامان سمیت مکمل ہوگئی ۔ لیکن یہ بات قرآن مجید کے ظاہر الفاظ کے خلاف ہے ۔ زمین کی تخلیق کے دو دن دراصل ان دودنوں سے الگ ہیں جن میں بحیثیت مجموعی پوری کائنات بنی ہے ۔ آگے کی آیات میں زمین اور آسمان ، دونوں کی تخلیق کا یکجا ذکر کیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ نے دو دنوں میں سات آسمان بنادیئے ۔ ان سات آسمانوں سے پوری کائنات مراد ہے جن کا ایک جز ہماری یہ زمین بھی ہے۔ پھر جب کائنات کے دوسرے بیشمار ستاروں اور سیاروں کی طرح یہ زمین بھی ان دودنوں میں مجرد ایک کرے کی شکل اختیار کرچکی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ذی حیات مخلوقات کے لئے تیار کرنا شروع کیا اور چار دنوں میں وہ سروسامان پیدا کردیا جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے ۔ دوسرے ستاروں اور سیاروں میں ان چار دنوں کے اندر کیا کچھ ترقیاتی کام کئے گئے ، ان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کیونکہ نزول قرآن کے دور کا انسان تو درکنار ، اس زمانے کا آدمی بھی ان معلومات کو ہضم کرنے کی استعداد نہیں رکھتا تھا ۔ (تفہیم القرآن ) نوٹ ۔ 2: بیان القرآن میں مولانا اشرف علی تھانوی نے فرمایا کہ یوں تو زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر ، مختصر ومفصل ، قرآن کریم میں سینکڑوں جگہ آیا ہے مگر ان میں ترتیب کا بیان کہ پہلے کیا بنا پیچھے کیا بنا ، یہ غالبا صرف تین آیتوں میں آیا ہے ۔ ایک حم سجدہ کی یہ آیات ، دوسری سورة بقرہ کی آیت ۔ 29 ۔ اور تیسری نازعات کی آیات ۔ 27 تا 33 ۔ سورة بقرہ اور حم سجدہ کی آیات سے زمین کی تخلیق کا آسمان سے مقدم ہونا معلوم ہوتا ہے ۔ اور سورة نازعات کی آیات سے زمین کی تخلیق آسمان کے بعد معلوم ہوتی ہے ۔ مولانا تھانوی نے فرمایا سب آیات پر غور کرنے سے میرے خیال میں تو یہ آتا ہے کہ یوں کہاجاوے کہ اول زمین کا مادہ بنا اور ہنوز اس کی موجودہ ہیئت نہ بنی تھی کہ اسی حالت میں آسمان کا مادہ بنا جو دھویں کی شکل میں تھا اس کے بعد زمین ہئیت موجودہ پر پھیلا دی گئی ۔ پھر اس پر پہاڑ اور درخت وغیرہ پیدا کئے گئے پھر آسمان کے سیال مادہ دخانیہ کے سات آسمان بنا دیئے ۔ امید ہے سب آیتیں اس تقدیر پر منطبق ہواجاویں گی ، (بیان القرآن سورة بقرہ ، رکوع ۔ 3 ۔ منقول از معارف قرآن)
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا اُس نے آسمان اور زمین سے کہا "وجود میں آ جاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو" دونوں نے کہا "ہم آ گئے فرمانبرداروں کی طرح"

ثُمَّ اسْتَوٰٓى [ پھر وہ متوجہ ہوا ] اِلَى السَّمَاۗءِ [ آسمان کی طرف ] وَهِىَ [ اس حال میں کہ وہ ] دُخَانٌ [ دھواں تھا ] فَقَالَ لَهَا [ تو اس نے کہا اس (آسمان ) سے ] وَلِلْاَرْضِ [ اور زمین سے ] ائْتِيَا [ تم دونوں آؤ ] طَوْعًا [ فرمانبردار ہوتے ہوئے ] اَوْ كَرْهًا ۭ [ یا ناپسند کرتے ہوئے ] قَالَتَآ [ ان دونوں نے کہا ] اَتَيْنَا [ ہم دونوں آگئے ] طَاۗىِٕعِيْنَ [ فرمانبردار ہونے والے ہوتے ہوئے ] د خ ن : (س) دخنا ۔ آگ کا دھواں اٹھانا ۔ دخان ، اسم ذات ہے ۔ دھواں ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 11 ۔
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

تب اُس نے دو دن کے اندر سات آسمان بنا دیے، اور ہر آسمان میں اُس کا قانون وحی کر دیا اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کر دیا یہ سب کچھ ایک زبردست علیم ہستی کا منصوبہ ہے

فَقَضٰهُنَّ [ تو اس نے بنایا ان کو ] سَبْعَ سَمٰوَاتٍ [ سات آسمان ] فِيْ يَوْمَيْنِ [ دو دنوں میں ] وَاَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَاۗءٍ [ اور اس نے وحی کیا ہر آسمان میں ] اَمْرَهَا ۭ [ اس کا حکم ] وَزَيَّنَّا [ اور ہم نے زینت دی ] السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا [ دنیوی آسمان کو ] بِمَصَابِيْحَ ڰ [ چراغوں سے ] وَحِفْظًا ۭ [ اور محفوظ کیا ہوا ] ذٰلِكَ [ یہ ] تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ [ علیم بالادست (ہستی ) کا طے شدہ امر ہے ]
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اِن سے کہہ دو کہ میں تم کو اُسی طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا

فَاِنْ اَعْرَضُوْا [پھر اگر وہ لوگ اعراض کریں ] فَقُلْ [ تو آپ کہہ دیں ] اَنْذَرْتُكُمْ [ میں نے خبردار کردیا تمہیں ] صٰعِقَةً [ ایک کڑک (عذاب ) سے ] مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ [ثمود اور عاد کے عذاب جیسے سے ]
Ayah 41:14

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب خدا کے رسول اُن کے پاس آگے اور پیچھے، ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا "ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا، لہٰذا ہم اُس بات کو نہیں مانتے جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو"

اِذْ جَاۗءَتْهُمُ [ جب آئے ان کے پاس ] الرُّسُلُ [ رسول ] مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ [ ان کے آگے سے ] وَمِنْ خَلْفِهِمْ [ اور ان کے پیچھے سے ] اَلَّا تَعْبُدُوْٓا [ کہ تم لوگ بندگی مت کرو ] اِلَّا اللّٰهَ ۭ [ مگر اللہ کی ] قَالُوْا [ انھوں نے کہا ] لَوْ شَاۗءَ رَبُّنَا [ اگر چاہتا ہمارا رب ] لَاَنْزَلَ مَلٰۗىِٕكَةً [ تو وہ ضرور اتارتا کچھ فرشتے ] فَاِنَّا بِمَآ [ تو بیشک ہم اس چیز سے ] اُرْسِلْتُمْ بِهٖ [ تم لوگ بھیجے گئے جس کے ساتھ ] كٰفِرُوْنَ [انکار کرنے والے ہیں ]
Ayah 41:15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے "کون ہے ہم سے زیادہ زور آور" اُن کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے؟ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے

فَاَمَّا عَادٌ [ پس وہ جو عاد تھے ] فَاسْـتَكْبَرُوْا [ تو وہ بڑے بنے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ [ حق کے بغیر ] وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] مَنْ اَشَدُّ مِنَّا [ کون زیادہ سخت ہے ہم سے ] قُوَّةً ۭ [بلحاظ قوت کے ] اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا انہوں نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ [ کہ وہ اللہ جس نے ] خَلَقَهُمْ [ پیدا کیا ان کو ] هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ [ وہ زیادہ سخت ہے ان سے ] قُوَّةً ۭ [ بلحاظ قوت کے ] وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْــحَدُوْنَ [ اور وہ ہماری نشانیوں کا جانتے بوجھتے انکار کرتے تھے ] نوٹ۔ 1: یہاں اسلوب بیان سے واضح ہے کہ عاد اور ثمود کا ذکر محض بطور مثال ہوا ہے ۔ مقصود ان تمام قوموں کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے جو رسولوں کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک ہوئیں ۔ ان قوموں پر جو عذاب آیا وہ شمال کی بادتند ، ژالہ باری اور ہولناک رعد وبرق کا مجموعہ تھا ۔ چناچہ قرآن مجید میں اس کی تعبیر مختلف الفاظ سے ہوئی ہے ۔ یہاں کسی ایک نمایاں وصف کا ذکر کرکے مقصود اس کے تمام لوازم کی طرف اشارہ کرنا ہے ۔ (تدبر قرآن) نوٹ ۔ 2: اصول اسلام اور احادیث سے ثابت ہے کہ کوئی دن یا رات اپنی ذات میں منحوس نہیں ہوتا ۔ قوم عاد پر طوفان باد کے ایام کو نحسات فرمانے کا حال یہ ہے کہ یہ دن ان کی بداعمالیوں کے سبب سے ان کے حق میں منحوس ہوگئے تھے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ دن سب کے لئے منحوس ہوں ( معارف القرآن) ۔ اس لئے اس آیت سے دنوں کے نحس ہونے پر استدلال کرنا درست نہیں ہے (تفہیم القرآن )
Ayah 41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

آخرکار ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی تاکہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے عذاب کا مزا چکھا دیں، اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کن ہے، وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہو گا

فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [ تو ہم نے بھیجا ان پر ] رِيْحًا صَرْصَرًا [ ایک تندوتیز ہوا کو ] فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ [ منحوس دنوں میں ] لِّنُذِيْقَهُمْ [ تاکہ ہم چکھائیں ان کو ] عَذَابَ الْخِــزْيِ [ رسوائی کا عذاب ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ [ دنیوی زندگی میں ] وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ [ اور یقینا آخرت کا عذاب ] اَخْزٰى [ سب سے زیادہ رسواکن ہے ] وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ [ اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی ] ن ح س : (ف) نحسا : (1) افق آسمان کا سرخ ہوکر دھوئیں کی طرح ہوجانا ۔ (اے نحوست کی علامت سمجھا جاتا تھا ) (2) نامبارک ہونا ۔ منحوس ہونا۔ نحس ۔ اسم ذات ہے ۔ منحوسیت ، نحوست ۔ آیت ۔ اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ (بیشک ہم نے بیجھا ان پر ایک تیز ہوا ایک دائمی نحوست کے دن میں ) 54:19 ۔ نحاس ۔ اسم ذات ہے ۔ چنگاری ۔ دھواں ۔ آیت ۔ يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ڏ وَّنُحَاسٌ [ چھوڑے جائیں گے تم دونوں پر شعلے آگ میں سے اور دھوئیں والے ] 55:35 ۔ نحس ۔ صفت ہے ۔ نامبارک ۔ منحوس ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 16 ۔
Ayah 41:17

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

رہے ثمود، تو ان کے سامنے ہم نے راہ راست پیش کی مگر انہوں نے راستہ دیکھنے کے بجائے اندھا بنا رہنا پسند کیا آخر اُن کے کرتوتوں کی بدولت ذلت کا عذاب اُن پر ٹوٹ پڑا

وَاَمَّا ثَمُوْدُ [ اور وہ جو ثمود تھے ] فَهَدَيْنٰهُمْ [ تو ہم نے راہ سجھائی ان کو ] فَاسْتَــحَبُّوا [ پھر انہوں نے پسند کیا ] الْعَمٰى [ اندھا ہونے کو ] عَلَي الْهُدٰى [ ہدایت پر ] فَاَخَذَتْهُمْ [ تو پکڑا ان کو ] صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ [ ذلت والے عذاب کی کڑک نے ] بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ بسبب اس کے جو وہ لوگ کمائی کرتے تھے ]
Ayah 41:18

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور گمراہی و بد عملی سے پرہیز کرتے تھے

وَنَجَّيْنَا [ اور ہم نے رہائی دی ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ] وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ [اور وہ جو تقوی اختیار کرتے تھے ]
Ayah 41:19

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا

وَيَوْمَ يُحْشَرُ [اور جس دن اکٹھا کئے جائیں گے ] اَعْدَاۗءُ اللّٰهِ [اللہ کے دشمن ] اِلَى النَّارِ [ آگ کے طر] فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ [ پھر ان کی صف بندی کی جائے گی ]
Ayah 41:20

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں

حَتّىٰٓ اِذَا مَا [ یہاں تک کہ جب ] جَاۗءُوْهَا [ وہ سب آئیں گے اس (آگ ) کے پاس ] شَهِدَ عَلَيْهِمْ [ تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ] سَمْعُهُمْ [ ان کی سماعت ] وَاَبْصَارُهُمْ [ اور ان کی بصارتیں ] وَجُلُوْدُهُمْ [ اور ان کی کھالیں ] بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [بسبب اس کے جو وہ کرتے تھے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 20 ۔ منجملہ ان بہت سی آیات کے ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالم آخرت محض ایک روحانی عالم نہیں ہوگا بلکہ انسان وہاں دوبارہ اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ کئے جائیں گے جس طرح وہ اب اس دنیا میں ہیں ۔ ان کو جسم بھی وہی دیا جائے گا جس میں اب وہ رہتے ہیں ۔ اور وہ انہی جسموں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جن کے اندر رہ کر وہ دنیا میں کام کرچکے تھے ۔ ظاہر ہے کہ انسان کے اعضاء وہاں اسی صورت میں گواہی دے سکتے ہیں جبکہ وہ وہی اعضاء ہوں جن سے اس نے اپنی پہلی زندگی میں جرم کا ارتکاب کیا تھا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 41:21

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے "تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟"وہ جواب دیں گی "ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو

وَقَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ [ اور وہ سب کہیں گے اپنی کھالوں سے ] لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا ۭ [ کیوں گواہی دی تم نے ہمارے خلاف ] قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا [ وہ کہیں گی ہمیں گویائی دی ] اللّٰهُ الَّذِيْٓ [ اس اللہ نے جس نے ] اَنْــطَقَ كُلَّ شَيْءٍ [ گویائی دی ہر چیز کو ] وَّهُوَ [ اور وہ ہی ہے ] خَلَقَكُمْ [ جس نے پیدا کیا تم کو ] اَوَّلَ مَرَّةٍ [ پہلی مرتبہ ] وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ [ اور اس کی طرف ہی تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ]
Ayah 41:22

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے

وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ [ اور تم لوگ پردہ نہیں کرتے تھے ] اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ [ کہ گواہی دیں گی تمہارے خلاف ] سَمْعُكُمْ [ تمہاری سماعت ] وَلَآ اَبْصَارُكُمْ [ اور نہ ہی تمہاری بصارتیں ] وَلَا جُلُوْدُكُمْ [ اور نہ ہی تمہاری کھالیں ] وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ [ اور لیکن تم نے گمان کیا ] اَنَّ اللّٰهَ [ کہ اللہ ] لَا يَعْلَمُ [ نہیں جانتا ] كَثِيْرًا مِّمَّا [ اس میں سے اکثر کو جو ] تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کرتے ہو ]
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے"

وَذٰلِكُمْ [اور یہ ] ظَنُّكُمُ الَّذِيْ [ تمہارا وہ گمان ہے جو ] ظَنَنْتُمْ [ تم لوگوں نے گمان کیا ] بِرَبِّكُمْ [ اپنے رب کے بارے میں ] اَرْدٰىكُمْ [ اس (گمان) نے ہلاک کیا تم کو ] فَاَصْبَحْتُمْ [ تو تم لوگ ہوگئے ] مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ [ خسارہ پانے والوں میں سے ]
Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہو گی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے تو کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا

فَاِنْ يَّصْبِرُوْا [ پس اگر وہ لوگ صبر کریں (یا نہ کریں ) ] فَالنَّارُ [پھر آگ ] مَثْوًى لَّهُمْ ۭ [ ٹھکانہ ہے ان کے لئے ] وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا [ اور اگر وہ لوگ رضا مندی چاہیں گے ] فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ [ تو وہ نہیں ہوں گے راضی کئے ہوؤں میں سے ]
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کر دکھاتے تھے، آخر کار اُن پر بھی وہی فیصلہ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناً وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے

وَقَيَّضْنَا لَهُمْ [ اور ہم نے تعینات کئے ان کے لئے ] قُرَنَاۗءَ [ کچھ ساتھی ] فَزَيَّنُوْا لَهُمْ [ تو انہوں نے زینت دی ان کے لئے ] مَّا [ اس کو جو ] بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ [ ان کے آگے ہے ] وَمَا خَلْفَهُمْ [ اور اس کو جو ان کے پیچھے ہے ] وَحَقَّ عَلَيْهِمُ [ اور ثابت ہوئی ان پر ] الْقَوْلُ [وہ بات (جو ) ] فِيْٓ اُمَمٍ [ ایسی امتوں میں ہوئی جو ] قَدْ خَلَتْ [ گزر چکی ہیں ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان سے پہلے ] مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۚ [ جنوں اور انسانوں میں سے ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [ بیشک وہ لوگ تھے ] خٰسِرِيْنَ [ خسارہ پانے والے ] ق ی ض (ض) قیضا ۔ ایک چیز کو دوسری کے بدلے میں لینا ۔ (تفعیل ) تقییضا غالب ومستولی کرنا ۔ مسلط کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 25 ۔
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

یہ منکرین حق کہتے ہیں "اِس قرآن کو ہرگز نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو، شاید کہ اس طرح تم غالب آ جاؤ"

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ] لَا تَسْمَعُوْا [ تم لوگ مت سنو ] لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ [ اس قرآن کو ] وَالْـغَوْا فِيْهِ [ اور غل غپاڑہ کرو اس میں ] لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ [ شاید تم لوگ غالب ہوجاؤ ]
Ayah 41:27

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

اِن کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزا چکھا کر رہیں گے اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں ان کا پورا پورا بدلہ اِنہیں دیں گے

فَلَنُذِيْقَنَّ [ تو ہم لازما چکھائیں گے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ ان کو جنھوں نے کفر کیا ] عَذَابًا شَدِيْدًا ۙ [ایک شدید عذاب ] وَّلَنَجْزِيَنَّهُمْ [ اور ہم لازما بدلہ دیں گے ان کو ] اَسْوَاَ الَّذِيْ [ اس کا بدترین جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ وہ عمل کرتے تھے ] نوٹ ۔ 1: اس دنیا میں انسان اپنے اعمال کے اثرات و نتائج کا صحیح اندازہ نہیں کرسکتا ۔ انسان کا ہر عمل ، خواہ وہ نیک ہو یا بد، اپنے اندر متعدی اثرات رکھتا ہے ، اپنی اس صفت کے سبب سے بعض حالات میں انسان کی ایک چھوٹی سی نیکی بڑھتے بڑھتے احد پہاڑ کے برابر ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح ایک رائی کے دانے جیسی برائی آہستہ آہستہ ایک خوفناک جنگل بن جاتی ہے ۔ ا سی حقیقت کی طرف آیت ۔ 27 ۔ میں ارشاد فرمایا کہ ابھی ان نادانوں کو اندازہ نہیں ہے کہ قرآن سے لوگوں کو روک کر اور اس میں گھپلا پیدا کرکے یہ اپنے لئے کیسی بس بھری فصل تیار کررہے ہیں ۔ جب اس کا پورا حاصل ان کے سامنے آئے گا تب وہ اس کا بدترین پہلو (اسوا) دیکھیں گے اور اس وقت انھیں اندازہ ہوگا کہ اپنی تباہی کا کیا سامان کرکے وہ آئے ہیں ۔ (تدبر قرآن) ۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی اُسی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اِن کا گھر ہو گا یہ ہے سزا اِس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے

ذٰلِكَ [ یہ ] جَزَاۗءُ اَعْدَاۗءِ اللّٰهِ [ اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ہے ] النَّارُ ۚ [ جو آگ ] لَهُمْ فِيْهَا [ ان کے لئے ہے اس میں ] دَارُ الْخُلْدِ ۭ [ ہمیشگی کا گھر ] جَزَاۗءًۢ [بدلہ ہوتے ہوئے ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ [ ہماری نشانیوں کا جانتے بوجھتے انکار کرتے تھے ]
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

وہاں یہ کافر کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ذرا ہمیں دکھا دے اُن جنوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں گے تاکہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں"

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ] رَبَّنَآ [اے ہمارے رب ] اَرِنَا [ تو دکھا ہمیں ] الَّذَيْنِ [ ان دونوں کو جنھوں نے ] اَضَلّٰنَا [ گمراہ کیا ہم کو ] مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ [ جنوں اور انسانوں میں سے ] نَجْعَلْهُمَا [ ہم ڈالیں گے ان دونوں کو ] تَحْتَ اَقْدَامِنَا [ اپنے پیروں تلے ] لِيَكُوْنَا [ تاکہ وہ ہوجائیں ] مِنَ الْاَسْفَلِيْنَ [ پست ترین لوگوں میں سے ]
Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ "نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا [ بیشک جنھوں نے کہا ] رَبُّنَا [ ہمارا رب ] اللّٰهُ [اللہ ہے ] ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا [ پھر قائم رہے (اس پر ) ] تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ [ تو اترتے ہیں ان پر ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] اَلَّا تَخَافُوْا [ کہ تم لوگ خوف مت کرو ] وَلَا تَحْزَنُوْا [ اور غمگین مت ہو ] وَاَبْشِرُوْا [ اور بشارت حاصل کرو ] بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ [ اس جنت کی جس کا ] كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ [ تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ] نوٹ ۔ 1: محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے سلسلہ دروس قرآن ” منتخب نصاب “ میں ان آیات کا درس بھی شامل ہے جس میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ان آیات میں مقام ولایت کا بیان ہے ۔ ان کی اس بات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے مذکورہ آیات کے اس پہلو کی وضاحت ، اس کے صغری کبری کے ساتھ جینے کا سلیقہ کورس کے آخری سبق ” مقام ولایت “ میں کی گئی ہے ۔ طلباء اس سبق کو دوبارہ دیکھ لیں ۔ نوٹ ۔ 2: استقامت کا یہ مفہوم کہ ایمان و توحید پر قائم رہے ۔ اس کو چھوڑے نہیں ۔ یہ تفسیر حضرت صدیق اکبر ؓ سے منقول ہے۔ حضرت عثمان غنی ؓ نے استقامت کی تفسیر اخلاص عمل سے فرمائی ہے ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ استقامت یہ ہے کہ تم اللہ کے تمام احکام ، اوامر اور نواہی پر سیدھے جمے رہو ، اس سے ادھر ادھر راہ فرار لومڑیوں کی طرح نہ نکالو ۔ حضرت علی ؓ نے اس کی تعریف ادائے فرائض سے فرمائی ہے۔ اس لئے علماء نے فرمایا کہ استقامت تو ایک لفظ مختصر ہے مگر تمام شرائع اسلامیہ کو جامع ہے (معارف القرآن ) نوٹ ۔ 3: بعض مفسرین نے فرشتوں کے نزول کو موت کے وقت ، یا قبر یا میدان حشر کے لئے مخصوص سمجھا ہے ۔ (تفہیم القرآن ) ۔ حضرت ثابت بنانی نے فرمایا کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ مومن جس وقت اپنی قبر سے اٹھے گا تو دو فرشتے ، جو دنیا میں اسی کے ساتھ رہا کرتے تھے ، وہ ملیں گے اور اس کو کہیں گے کہ تم خوف وغم نہ کروبل کہ جنت کی بشارت سنو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ ان کا کلام سن کر مومن کو اطمینان ہوجائے گا ۔ (معارف القرآن ) آیت زیر مطالعہ میں الحیوۃ الدنیا کے الفاظ سے اس حدیث کی تائید ہوتی ہے ۔ (مرتب ) ابوحیان نے بحرمحیط میں فرمایا کہ میں تو کہتا ہوں کے مومنین پر فرشتوں کا نزول ہر روز ہوتا ہے جس کے آثار و برکات ان کے اعمال میں پائے جاتے ہیں ۔ البتہ مشاہدہ اور ان کے کلام کا سننا ، یہ انھیں مواقع پر ہوگا ۔ (یعنی موت کے وقت قبر اور میدان حشر میں ) (معارف القرآن)
Ayah 41:31

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی، وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی

نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ [ ہم ہیں تمہارے کارساز ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ [ دنیوی زندگی میں اور آخرت میں (بھی) ] وَلَكُمْ فِيْهَا [ اور تمہارے لئے ہے اس (جنت ) میں ] مَا [ وہ جو ] تَشْتَهِيْٓ [ خواہش کریں گے ] اَنْفُسُكُمْ [ تمہارے جی ] وَلَكُمْ فِيْهَا [ اور تمہارے لئے ہے اس میں ] مَا تَدَّعُوْنَ [ وہ جو تم لوگ مانگو گے ]
Ayah 41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

یہ ہے سامان ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے"

نُزُلًا [ ابتدائی مہمان نوازی ہوتے ہوئے ] مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ [ بخشنے والے رحم کرنے والے (کی طرف ) سے ]
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں

وَمَنْ اَحْسَنُ [ اور کون زیادہ اچھا ہے ] قَوْلًا [ بلحاظ بات کرنے کے ] مِّمَّنْ [ اس سے جس نے ] دَعَآ اِلَى اللّٰهِ [ دعوت دی اللہ کی طرف ] وَعَمِلَ صَالِحًـا [ اور عمل کیا نیکی کا ] وَّقَالَ اِنَّنِيْ [ اور کہا کہ میں ] مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداروں میں سے ہوں ] نوٹ ۔ 4: آیت ۔ 33 ۔ میں مومنین کاملین کا دوسرا حصہ احوال ہے کہ وہ خود اپنے ایمان وعمل پر قناعت نہیں کرتے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں ۔ (معارف القرآن ) لیکن کسی خاص مسلک یا فرقہ کی دعوت اس مسلک یا فرقہ کی دعوت ہوگی ، وہ دعوت الی اللہ نہیں ہے ۔ (ڈاکٹر اسرار احمد) پھر اگلی آیت میں دعوت الی اللہ کی خدمت انجام دینے والوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کی برائی کو بھلے طریقے سے دفع کریں ، وہ یہ کہ برائی کا بدلہ نہ لینا اور معاف کردینا تو عمل حسن ہے اور احسن یہ ہے کہ جس نے تمہارے ساتھ برا سلوک کیا تم اس کو معاف بھی کردو اور اس کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرو۔ (معارف القرآن ) ۔ یہ نسخہ ہے تو بڑا کارگر مگر اسے استعمال کرنا کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے ۔ اس کے لئے بڑا عزم ، بڑا حوصلہ اور بڑی قوت برداشت درکار ہے ۔ وقتی طور پر ایک آدمی کسی بدی کے مقابلے میں نیکی برت سکتا ہے ۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ۔ لیکن بدی کا مقابلہ نیکی اور وہ بھی اعلی درجے کی نیکی سے کرتے چلے جانا اور کبھی ایک مرتبہ بھی ضبط کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دینا ، کسی معمولی آدمی کے بس کا کام نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے

وَلَا تَسْتَوِي [ اور برابر نہیں ہوتی ] الْحَسَنَةُ [ بھلائی ] وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ [ اور نہ ہی برائی ] اِدْفَعْ [ تو دفع کر (برائی کو)] بِالَّتِيْ هِىَ [ اس سے جو کہ وہی ] اَحْسَنُ [ سب سے اچھی ہو ] فَاِذَا [ نتیجتا تب ہی ] الَّذِيْ [وہ (کہ ) ] بَيْنَكَ [ تیرے درمیان ] وَبَيْنَهٗ [ اور جس کے درمیان ] عَدَاوَةٌ [ عداوت ہے ] كَاَنَّهٗ [ (ایسا ہوگا ) جیسے کہ وہ ] وَلِيٌّ حَمِيْمٌ [ گرم جوش دوست ہے ]
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں

وَمَا يُلَقّٰىهَآ [ اور نہیں دی جاتی یہ (صفت ) ] اِلَّا الَّذِيْنَ [مگر ان لوگوں کو جو ] صَبَرُوْا ۚ [ ثابت قدم رہے ] وَمَا يُلَقّٰىهَآ [ اور نہیں دی جاتی یہ (صفت) ] اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ [ مگر نصیبے والوں کو ]
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ [ اور اگر اکسائے ہی تجھ کو ] مِنَ الشَّيْطٰنِ [ شیطان (کی طرف ) سے ] نَزْغٌ [ کوئی اکساہٹ ] فَاسْتَعِذْ [ تو پناہ میں آؤ ] بِاللّٰهِ ۭ[ اللہ کی ] اِنَّهٗ [ یقینا وہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اُسی کی عبادت کرنے والے ہو

وَمِنْ اٰيٰتِهِ [ اور اس کی نشانیوں ہی میں سے ہیں ] الَّيْلُ وَالنَّهَارُ [ رات اور دن ] وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۭ [ اور سورج اور چاند ] لَا تَسْجُدُوْا [تم لوگ سجدہ مت کرو ] لِلشَّمْسِ [ سورج کو ] وَلَا لِلْقَمَرِ [ اور نہ ہی چاند کو ] وَاسْجُدُوْا [ اور تم لوگ سجدہ کرو ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [ اس اللہ کو جس نے ] خَلَقَهُنَّ [ پیدا کیا ان کو ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ] اِيَّاهُ [ اس کی ہی ] [تَعْبُدُوْنَ : بندگی کرتے ہو ] نوٹ ۔ 1: سورة کے شروع میں آیات 9 تا 12 میں آسمان و زمین کی پیدائش سے توحید ومعاد پر جو استدلال کیا ہے۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 37 ۔ اسی سے متعلق ہے۔ درمیان میں جو مطالب تنبیہ وتذکر یا تسکین و تسلی کی نوعیت کے آگئے ہیں وہ اسی مدعا کے تحت ہیں، اس لئے ان کے سبب سے کوئی بعد پیدا نہیں ہوا ہے چناچہ اسی پر عطف کرتے ہوئے فرمایا جو خدا آسمان و زمین کا خالق ہے ، اسی خدا کی نشانیوں میں سے یہ رات اور دن ، سورج اور چاند بھی ہیں ۔ (تدبر قرآن ) ۔ سورج اور چاند سے پہلے رات اور دن کا ذکر اس امر پر متنبہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے کہ رات کو سورج کا چھپنا اور چاند کا نکل آنا اور دن کو چاند کا چھپنا اور سورج کا نکل آنا صاف طور پر یہ دلالت کررہا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی خدایا خدا کا مظہر نہیں ہیں بلکہ دونوں ہی مجبور و لاچار بندے ہیں جو خدا کے قانون میں بندھے ہوئے گردش کررہے ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آ کر اپنی ہی بات پر اڑے رہیں تو پروا نہیں، جو فرشتے تیرے رب کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے

فَاِنِ اسْـتَكْبَرُوْا [ پھر اگر وہ لوگ بڑائی دکھائیں ] فَالَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ [ تو جو لوگ آپ کے رب کے پاس ہیں ] يُسَبِّحُوْنَ لَهٗ [ وہ تسبیح کرتے ہیں اس کی ] بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ [ رات اور دن ] وَهُمْ لَا يَسْـَٔــمُوْنَ (السجدہ 11) [ اس حال میں کہ وہ اکتاتے نہیں ہیں ]
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین سونی پڑی ہوئی ہے، پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا، یکایک وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مُردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ [ اور اس کی نشانیوں ہی میں سے ہے ] اَنَّكَ تَرَى [ کہ آپ دیکھتے ہیں ] الْاَرْضَ [ زمین کو ] خَاشِعَةً [ فروتنی کرنے والی حالت میں (بنجر) ] فَاِذَآ اَنْزَلْنَا [ پھر جب ہم اتارتے ہیں ] عَلَيْهَا الْمَاۗءَ [ اس پر پانی ] اهْتَزَّتْ [ تو وہ لہلہاتی ہے ] وَرَبَتْ ۭ [ اور ابھرتی ہے ] اِنَّ الَّذِيْٓ [ بیشک وہ جس نے ] اَحْيَاهَا [ زندہ کیا اس (زمین) کو ] لَمُحْىِ [ یقینا زندہ کرنے والا ہے ] الْمَوْتٰى ۭ [ مردوں کو ] اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ بیشک وہ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ ہر حال میں قدرت رکھنے والا ہے ]
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیات کو الٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے کچھ چھپے ہوئے نہیں ہیں خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ جو قیامت کے روز امن کی حالت میں حاضر ہو گا؟ کرتے رہو جو کچھ تم چاہو، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ [ بیشک جو لوگ کجروی اختیار کرتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا [ ہماری آیتوں میں ] لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا ۭ [ وہ پوشیدہ نہیں ہوتے ہم سے ] اَفَمَنْ [تو کیا وہ جو ] يُّلْقٰى [ ڈالا گیا ] فِي النَّارِ [ آگ میں ] خَيْرٌ [بہتر ہے ] اَمْ مَّنْ [ یا وہ جو ] يَّاْتِيْٓ [ آئے گا ] اٰمِنًا [ امن میں ہونے والا ہوتے ہوئے ] يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [ قیامت کے دن ] اِعْمَلُوْا [ تم لوگ عمل کرو ] مَا شِئْتُمْ ۙ [ جو تم چاہو ] اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ [ بیشک وہ اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ] بَصِيْرٌ [ دیکھنے والا ہے ]