41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 41:41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلام نصیحت آیا تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ بیشک جنھوں نے انکار کیا ] بِالذِّكْرِ [ اس نصیحت (قرآن) کا ] لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۚ [ جب وہ آئی ان کے پا س ] وَاِنَّهٗ [ حالانکہ بیشک وہ ] لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌ [ یقینا ایک ایسی بالادست کتاب ہے ]
Ayah 41:42

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے

لَّا يَاْتِيْهِ [ نہیں پہنچے گا جس کے پاس ] الْبَاطِلُ [ باطل ] مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ [ اس کے سامنے سے ] وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ۭ[ اور نہ ہی اس کے پیچھے سے ] تَنْزِيْلٌ [ (یہ ) اتاری ہوئی ہے ] مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ [ ایک حکمت والے حمد کئے ہوئے (کی طرف) سے ]
Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

اے نبیؐ، تم سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں سے نہ کہی جاچکی ہو بے شک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے، اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے

مَا يُقَالُ لَكَ [ نہیں کہا جاتا آپ سے ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جو ] قَدْ قِيْلَ [ کہا گیا ہے ] لِلرُّسُلِ [رسولوں سے ] مِنْ قَبْلِكَ ۭ [ آپ سے پہلے ] اِنَّ رَبَّكَ [بیشک آپ کا رب ] لَذُوْ مَغْفِرَةٍ [یقینا مغفرت کرنے والا ہے ] وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ [ اور دردناک سزا دینے والا ہے ]
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اگر ہم اِس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے "کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی" اِن سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے اُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے اُن کا حال تو ایسا ہے جیسے اُن کو دور سے پکارا جا رہا ہو

وَلَوْ جَعَلْنٰهُ [ اور اگر ہم کردیتے اس کو ] قُرْاٰنًا اَعْجَمِيًّا [ غیر عربی (زبان والا ) قرآن ) لَّـقَالُوْا [ تو یہ ضرور کہتے ] لَوْلَا فُصِّلَتْ [ کیوں نہیں کھول کھول کر بیان کی گئیں ] اٰيٰتُهٗ ڼ[ اس کی آیات ] ءَاَعْجَمِيٌّ [ کیا (کتاب ) غیرعربی ہو ] وَّعَرَبِيٌّ ۭ [ اور (مخاطب) عربی ہوں ] قُلْ [آپ کہہ دیجئے ] هُوَ [ یہ ] لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ ان کے لئے جو ایمان لائے ] هُدًى وَّشِفَاۗءٌ ۭ [ ہدایت ہے اور شفا ہے ] وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ [ اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ] فِيْٓ اٰذَانِهِمْ [ ان کے کانوں میں ] وَقْرٌ [ ایک گرانی ہے ] وَّهُوَ [ اور یہ ] عَلَيْهِمْ عَمًى ۭ [ ان پر ایک اندھا پن ہے ] اُولٰۗىِٕكَ يُنَادَوْنَ [ ان لوگوں کو پکارا جائے گا ] مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ [ ایک دور کی جگہ سے ] نوٹ ۔ 1: قرآن میں تحریف کی دوہی صورتیں ہوسکتی ہیں ۔ اول یہ کہ کوئی اہل باطل کھلے طور پر قرآن میں کوئی کمی وبیشی کرنا چاہیے اس کو من بین یدیہ سے تعبیر فرمایا ۔ دوسرے یہ کہ کوئی شخص بظاہر دعوی ایمان کا کرے مگر چھپ کر تاویلات باطلہ کے ذریعہ قرآن کے معنی میں تحریف کرے ۔ اس کو من خلفہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ۔ الفاظ میں تحریف کی راہ نہ ہونا تو ہر شخص سمجھتا ہے۔ چودہ سو سال سے یہ لاکھوں انسانوں کے سینے میں محفوظ ہے۔ ایک زیر وزبر کی غلطی کسی سے ہوجائے تو لاکھوں مسلمان اس کی غلطی پکڑنے والے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اس کے ساتھ من خلفہ کے الفاظ سے اس طرف اشارہ کردیا کہ قرآن کی حفاظت جو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے ۔ انا لہ لحفظون وہ صرف الفاظ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کے معانی کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ ہی کفیل ہے ۔ اس نے اپنے رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کے ذریعے معانی قرآن اور احکام قرآن کو بھی ایسا محفوظ کردیا کہ کوئی بےدین اس میں تاویلات باطلہ کے ذریعہ تحریف کا ارادہ کرے تو ہر جگہ ہر زمانے میں ہزاروں علماء اس کی تردید کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ (معارف القرآن) نوٹ ۔ 2: ینادون من مکان بعید ۔ یہ ایک تمثیل ہے ۔ جو آدمی کلام کو سمجھتا ہو ، اس کو عرب لوگ کہتے ہیں تم قریب سے سن رہے ہو۔ اور جو کلام کو نہ سمجھے اس کو کہتے ہیں تمہیں دور سے آواز دی جارہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ چونکہ قرآنی ہدایات کو سمجھنے کا ارادہ نہیں رکھتے ان کو ہدایت کی تعلیم دینا ایسا ہے جیسے کسی کو بہت دور سے پکارا جائے۔ (معارف القرآن ) یعنی اس کے کان تک آواز تو پہنچے لیکن اس کی سمجھ میں نہ آئے کہ کیا کہا جارہا ہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اِس سے پہلے ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا اگر تیرے رب نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر دی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى [ اور بیشک ہم دے چکے موسیٰ کو ] الْكِتٰبَ [ وہ کتاب (تورات) ] فَاخْتُلِفَ فِيْهِ ۭ [ پھر اختلاف کیا گیا اس میں ] وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] كَلِمَةٌ [ ایک ایسا فرمان جو ] سَبَقَتْ [ طے ہوا ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب ( کی طرف ) سے ] لَقُضِيَ [ تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ] بَيْنَهُمْ ۭ [ ان کے درمیان ] وَاِنَّهُمْ [ اور بیشک وہ لوگ ] لَفِيْ شَكٍّ [ یقینا ایک ایسے شک میں ہیں ] مِّنْهُ [ اس سے ] مُرِيْبٍ [ جو الجھن میں ڈالنے والا ہے ]
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے اچھا کرے گا، جو بدی کرے گا اس کا وبال اُسی پر ہوگا، اور تیرا رب اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے

مَنْ عَمِلَ [ جس نے عمل کیا ] صَالِحًــا [نیکی کا ] فَلِنَفْسِهٖ [ تو (وہ) اس کے اپنے آپ کے لئے ] وَمَنْ اَسَاۗءَ [ اور جس نے برائی کی ] فَعَلَيْهَا ۭ [ تو (وہ) اس (کی جان) پر ہے ] وَمَا رَبُّكَ [ اور نہیں ہے آپ کا رب ] بِظَلَّامٍ [ کبھی بھی ظلم کرنے والا ] لِّـلْعَبِيْدِ [ بندوں پر ]
Ayah 41:47

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے پھر جس روز وہ اِن لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، "ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے کوئی اِس کی گواہی دینے والا نہیں ہے"

اِلَيْهِ [ اس کی طرف ہی ] يُرَدُّ [ پھیرا (Refer کیا) جاتا ہے ] عِلْمُ السَّاعَةِ ۭ [ اس گھڑی (قیامت ) کا علم ] وَمَا تَخْرُجُ [ اور نہیں نکلتا ] مِنْ ثَمَرٰتٍ [ کوئی بھی پھل ] مِّنْ اَكْمَامِهَا [ اپنے غلافوں میں سے ] وَمَا تَحْمِلُ [ اور نہیں اٹھاتی (حمل) ] مِنْ اُنْثٰى [ کوئی بھی مؤنث ] وَلَا تَضَعُ [ اور نہ وہ جنتی ہے ] اِلَّا بِعِلْمِهٖ ۭ [ مگر اس کے علم سے ] وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ [ اور جس دن وہ پکارے گا ان کو ] اَيْنَ شُرَكَاۗءِيْ ۙ [ کہاں ہیں میرے شریک ] قَالُوْٓا [ تو وہ لوگ کہیں گے ] اٰذَنّٰكَ ۙ [ ہم نے آگاہ کردیا تجھ کو ] مَا مِنَّا [ نہیں ہے ہم میں سے ] مِنْ شَهِيْدٍ [ کوئی بھی گواہ (اقرار کرنے والا ) ] ک م م : (ن) کما ۔ پوشیدہ کرنا ۔ ڈھانکنا ۔ کم ۔ ج : اکمام ، پھل کے خوشوں کا غلاف ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 47 ۔ ءق : ( ض) افقا ۔ کناروں میں جانا ۔ انتہا تک پہنچنا ۔ افق ۔ ج : افاق ۔ کنارہ آسمان کا کنارہ جو زمین سے ملا ہوا نظر آتا ہے ۔ وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى [اور وہ بلند ترین کنارے پر تھے ] 53:7 ۔ اور زیر مطالعہ آیت ۔ 53 ۔ نوٹ ۔ 1: قیامت کا علم اللہ کی طرف پھیر دینے (یرد) کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی پوچھتا ہے کہ قیامت کب آئے گی تو ہر ایک یہی کہتا ہے کہ اللہ جانے کب آئے گی ، یعنی قیامت کے وقوع کی جب بھی بات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہی حوالہ دیا جاتا ہے ، (حافظ احمد یار صاحب )
Ayah 41:48

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اُس وقت وہ سارے معبود اِن سے گم ہو جائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے، اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ اِن کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے

وَضَلَّ عَنْهُمْ [ اور بھٹک گیا ان سے ] مَّا [ وہ جس کو ] كَانُوْا يَدْعُوْنَ [ وہ لوگ پکارا کرتے تھے ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَظَنُّوْا [ اور انہوں نے رائے قائم کی ] مَا لَهُمْ [ (کہ ) نہیں ہے ان کیلئے ] مِّنْ مَّحِيْصٍ [کوئی بھی بچنے کی جگہ ]
Ayah 41:49

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان کبھی بھلائی کی دعا مانگتے نہیں تھکتا، اور جب کوئی آفت اِس پر آ جاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہو جاتا ہے

لَا يَسْـَٔمُ الْاِنْسَانُ [ نہیں اکتاتا انسان ] مِنْ دُعَاۗءِ الْخَيْرِ ۡ [ بھلائی کی دعا (کرنے ) سے ] وَاِنْ مَّسَّهُ [ اور اگر چھو جائے اس کو ] الشَّرُّ [ برائی ] فَيَــــُٔـــوْسٌ [ تو (وہ) انتہائی مایوس ] قَنُوْطٌ [ انتہائی ناامید ہے ]
Ayah 41:50

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

مگر جو ں ہی کہ سخت وقت گزر جانے کے بعد ہم اِسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں، یہ کہتا ہے کہ "میں اِسی کا مستحق ہوں، اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی، لیکن اگر واقعی میں اپنے رب کی طرف پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا" حالانکہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزا چکھائیں گے

وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ [ اور اگر ہم چکھا دیں اس کو ] رَحْمَةً [ کوئی رحمت ] مِّنَّا [ اپنے (پاس) سے ] مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ [ اس برائی کے بعد جس نے ] مَسَّـتْهُ [ چھوا اس کو ] لَيَقُوْلَنَّ [ تو وہ لازما کہے گا ] ھٰذَا لِيْ ۙ [ یہ میری (کاریگری) ہے ] وَمَآ اَظُنُّ [ اور میں نہیں خیال کرتا ] السَّاعَةَ [ اس گھڑی کو ] قَاۗىِٕمَةً ۙ [ قائم ہونے والی ] وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ [ اور اگر مجھ کو لوٹایا گیا ] اِلٰى رَبِّيْٓ [ میرے رب کی طرف ] اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ [ تو بیشک میرے لئے اس کے پاس ] لَــلْحُسْنٰى ۚ [ ضرور (اور ) زیادہ خوبی ہوگی ] فَلَنُنَبِّئَنَّ [ تو ہم لازما جتا دیں گے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ ان کو جنھوں نے کفر کیا ] بِمَا عَمِلُوْا ۡ [ وہ جو انہوں نے عمل کیا ] وَلَــنُذِيْقَنَّهُمْ [ اور ہم لازما چکھائیں گے ان کو ] مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ [ ایک گاڑھے عذاب میں سے ]
Ayah 41:51

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے اور جب اسے کوئی آفت چھو جاتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے

وَاِذَآ اَنْعَمْنَا [ اور جب ہم انعام کرتے ہیں ] عَلَي الْاِنْسَانِ [ انسان پر ] اَعْرَضَ [ تو وہ بےرخی برتتا ہے ] وَنَاٰ [ اور موڑ لیتا ہے ] بِجَانِبِهٖ ۚ [ اپنے پہلو کو ] وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ [ اور جب کبھی چھوتی ہے اس کو برائی ] فَذُوْ دُعَاۗءٍ عَرِيْضٍ [ تو (وہ لمبی ) چوڑی دعا والا ہے ]
Ayah 41:52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور تم اِس کا انکار کرتے رہے تو اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اِس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟

قُلْ اَرَءَيْتُمْ [ آپ کہئے کیا تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ كَانَ [ اگر وہ (قرآن ) ہو ] مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس سے ] ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ [ پھر تم نے انکار کیا اس کا ] مَنْ اَضَلُّ [ تو کون زیادہ گمراہ ہے ] مِمَّنْ هُوَ [اس سے جو کہ وہی ] فِيْ شِقَاقٍۢ بَعِيْدٍ [ دور والی گمراہی میں ہے ]
Ayah 41:53

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ اِن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟

سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا [ ہم دکھائیں گے ان کو اپنی نشانیاں ] فِي الْاٰفَاقِ [ اطراف (عالم ) میں ] وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ [اور ان کے اپنے (اندر) میں ] حَتّٰى يَتَبَيَّنَ [ یہاں تک کہ واضح ہوجائے ] لَهُمْ اَنَّهُ [ ان کے لئے کہ وہ (قرآن) ] الْحَقُّ ۭ [ ہی کل حق ہے ] اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ [ اور کیا کافی نہیں ہوا آپ کا رب ] اَنَّهٗ [ (اس پر ) کہ وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] شَهِيْدٌ [ موقعہ پر موجود ہے ] نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 53 ۔ کے دو مفہوم ہیں اور دونوں ہی اکابر مفسرین نے بیان کیے ہیں ۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اس قرآن کی دعوت تمام گردوپیش کے ممالک پر چھا گئی ہے اور یہ خود اس کے آگے سرنگوں ہیں ۔ اس وقت ان کو پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ آج ان سے کہا جارہا ہے وہ سراسر حق تھا ۔ بعض لوگوں نے اس مفہوم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ محض کسی دعوت کا غالب آجانا اور بڑے بڑے علاقے فتح کرلینا تو اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔ باطل دعوتیں بھی چھا جاتی ہیں اور ان کے پیرو بھی ملک پر ملک فتح کرتے چلے جاتے ہیں ۔ لیکن یہ ایک سطحی اعتراض ہے ۔ نبی کریم ﷺ اور خلفاء راشدین کے دور میں جو فتوحات اسلام کو نصیب ہوئیں وہ اس معنی میں اللہ کی نشانیاں تھیں کہ یہ فتح ممالک دنیا کی دوسری فتوحات کی طرح نہیں تھیں جو ایک قوم کو دوسروں کی جان ومال کی مالک بنادیتی ہیں اور خدا کی زمین ظلم سے بھرجاتی ہے۔ اس کے برعکس یہ فتح اپنے جلو میں ایک عظیم الشان تہذیبی اور تمدنی انقلاب لے کر آئی تھی ۔ جس کے اثرات جہاں جہاں بھی پہنچے انسان کے بہترین جوہر کھلتے چلے گئے ۔ دنیا جن فضائل کو صرف تارک الدنیا درویشوں اور گوشے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے والوں کے اندر ہی دیکھنے کی امید رکھتی تھی اور کبھی یہ سوچ کر بھی نہ سکتی تھی کہ دنیا کا کاروبار چلانے والوں میں بھی وہ پائے جاسکتے ہیں ۔ اس انقلاب نے ان میں فضائل سے معاشرے میں عام انسانوں کو اخلاق اور کردار کے اعتبار سے اتنا اونچا اٹھایا کہ دوسرے معاشروں کے چیدہ لوگ بھی ان کی سطح سے فروتر نظر آنے لگے یہ تھیں وہ نشانیاں جو اسی نسل نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں جسے مخاطب کرکے نبی ﷺ نے پہلی مرتبہ یہ آیت سنائی تھی اور اس کے بعد سے آج تک اللہ تعالیٰ ان نشانیوں کو برابر دکھائے جارہا ہے ۔ مسلمانوں نے اپنے زوال کے دور میں بھی اخلاق کی جس بلندی کا مظاہر ہ کیا ہے اس کی گرد کو بھی وہ لوگ کبھی نہیں پہنچ سکے جو تہذیب وشائستگی کے علمبردار بنے پھرتے ہیں یہ قرآن ہی کی برکت ہے جس نے مسلمانوں میں اتنی انسانیت پیدا کردی ہے کہ وہ کبھی غلبہ پاکر اتنے ظالم نہ بن سکے جتنے غیر مسلم تاریخ کے ہر دور میں پائے گئے ہیں ۔ اسپین میں جب مسلمان صدیوں حکمران رہے اس وقت عیسائیوں کے ساتھ ان کا کیا سلوک تھا اور جب عیسائی وہاں غالب آئے تو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ، ہندوستان میں آٹھ سو برس کے زمانہ حکومت میں مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ کیا برتاؤکیا اور اب ہندو غالب آنے کے بعد ان کے ساتھ کیا برتاؤ کر رہے ہیں ۔ یہودیوں کے ساتھ پچھلے تیرہ سو برس میں مسلمانوں کا رویہ کیا رہا اور اب فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ ان کا کیا رویہ ہے ۔ دوسرا مفہوم اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آفاق ارض وسماء میں بھی اور انسانوں کے اپنے وجود میں بھی لوگوں کو وہ نشانیاں دکھائے گا جن سے ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن ہی برحق ہے ۔ ان چیزوں میں خدا کی نشانیاں اس قدر بیشمار ہیں کہ انسان کبھی ان کا احاطہ نہیں کرسکا ہے ۔ ہر دور میں انسان کے سامنے نئی نئی نشانیاں آتی چلی گئی ہیں اور قیامت تک آتی چلی جائیں گی۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ) ایک نومسلم ڈاکٹر ماریس بکوائے نے ” بائبل ، قرآن اور سائنس “ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ جدید سائنسی معلومات نے بائبل کی بہت سے باتوں کو غلط ثابت کردیا ہے ۔ لیکن آفاق اور انفس کے متعلق قرآن کی باتوں کی یہی سائنسی معلومات یکے بعد دیگرے تصدیق کرتی چلی جارہی ہیں ، اسی حقیقت نے ڈاکٹر صاحب کو یقین دلایا کہ قرآن حق ہے اور اللہ کا کلام ہے ، اور وہ ایمان لے آئے ۔ (مرتب)
Ayah 41:54

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

آگاہ رہو، یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں سن رکھو، وہ ہر چیز پر محیط ہے

اَلَآ اِنَّهُمْ [ سن لو بیشک یہ لوگ ] فِيْ مِرْيَةٍ [ ایک شبہ میں ہیں ] مِّنْ لِّقَاۗءِ رَبِّهِمْ ۭ [ اپنے رب کی ملاقات سے ] اَلَآ اِنَّهٗ [ خبردار یقینا وہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا ] مُّحِيْــطٌ [احاطہ کرنے والا ہے ]