40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 40:1
حٰمۗ نوٹ ۔ 1: یہاں سے (یعنی سورة المؤمن ) سے سورة احقاف تک سات سورتیں حم سے شروع ہوتی ہیں ۔ ان کو حوامیم کہتے ہیں ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حوامیم دیباج القرآن ہیں ۔ دیباج ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں ۔ مراد اس سے زنیت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک مغز اور خلاصہ ہوتا ہے قرآن کا خلاصہ حوامیم ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شروع دن میں آیۃ الکرسی اور سورة مومن کی پہلی تین آیتیں پڑھ لے وہ اس دن ہر برائی اور تکلیف سے محفوظ رہے گا ۔ (معارف القرآن ) نوٹ۔ 2: کٹ حجتی کا مطلب یہ الٹے سیدھے اعتراضات جرنا ۔ سیاق وسباق سے الگ کرکے کوئی ایک لفظ یا فقرہ لے اڑنا اور اس سے طرح طرح کے نکتے پیدا کرکے شبہات والزامات کی عمارتیں کھڑی کرنا ۔ کلام کے اصل مدعا کو نظر انداز کرکے اس کو غلط معنی بہنانا تاکہ آدمی نہ خود بات کو سمجھے نہ دوسروں کو سمجھنے دے یہ طرز اختلاف صرف وہی لوگ اختیار کرتے ہیں جن کا اختلاف بدنیتی پر مبنی ہوتا ہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 40:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اِس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے، سب کچھ جاننے والا ہے

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [ اس کتاب کا اتارا جانا ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ (کی طرف ) سے ہے ] الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ [ جو بالا دست ہے جو جاننے والا ہے ]
Ayah 40:3

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحب فضل ہے کوئی معبود اس کے سوا نہیں، اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے

غَافِرِ الذَّنْۢبِ [ جو گناہ کو بخشنے والا ہے ] وَقَابِلِ التَّوْبِ [ اور جو توبہ کو قبول کرنے والا ہے ] شَدِيْدِ الْعِقَابِ ۙ [ جو سزا دینے کا سخت ہے ] ذِي الطَّوْلِ ۭ [ جو جود و کرم والا ہے ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ ۭ [ مگر وہ ] اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ [اس کی طرف ہی لوٹنا ہے ]
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی آیات میں جھگڑے نہیں کرتے مگر صرف وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اِس کے بعد دنیا کے ملکوں میں اُن کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے

مَا يُجَادِلُ [ کٹ حجتی نہیں کرتے ] فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی آیات میں ] اِلَّا الَّذِيْنَ [ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ ناشکری کی ] فَلَا يَغْرُرْكَ [ پس چاہیے کہ دھوکہ نہ دے آپ کو ] تَــقَلُّبُهُمْ [ ان لوگوں کا گھومنا پھرنا ] فِي الْبِلَادِ [ شہروں میں ]
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے، اور اُس کے بعد بہت سے دوسرے جتھوں نے بھی یہ کام کیا ہے ہر قوم اپنے رسول پر جھپٹی تاکہ اُسے گرفتار کرے اُن سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ [ جھٹلایا ان سے پہلے ] قَوْمُ نُوْحٍ [ نوح کی قوم نے ] وَّالْاَحْزَابُ [ اور مضبوط جتھوں نے ] مِنْۢ بَعْدِهِمْ ۠ [ ان کے بعد سے ] وَهَمَّتْ [ اور ارادہ کیا ] كُلُّ اُمَّةٍۢ [ ہر ایک امت نے ] بِرَسُوْلِهِمْ [ اپنے رسول کے بارے میں ] لِيَاْخُذُوْهُ [ کہ وہ پکڑیں اس (رسول ) کو ] وَجٰدَلُوْا [ اور کٹ حجتی کریں ] بِالْبَاطِلِ [ باطل کے ذریعہ ] لِيُدْحِضُوْا بِهِ [ تاکہ وہ رد کریں اس سے ] الْحَقَّ [ حق کو ] فَاَخَذْتُهُمْ ۣ [ تو میں نے پکڑا ان لوگوں کو ] فَكَيْفَ كَانَ [ تو کیسا تھا ] عِقَابِ [ میرا سزادینا ]
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اِسی طرح تیرے رب کا یہ فیصلہ بھی اُن سب لوگوں پر چسپاں ہو چکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنم ہونے والے ہیں

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] حَقَّتْ [ ثابت ہوا ] كَلِمَتُ رَبِّكَ [آپ کے رب کا فرمان ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جنھوں نے ] كَفَرُوْٓا [ ناشکری کی ] اَنَّهُمْ [ کہ یہ لوگ ] اَصْحٰبُ النَّارِ [ آگ والے ہیں ]
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش کے گرد و پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: "اے ہمارے رب، تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کر دے اور عذاب دوزخ سے بچا لے اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے

اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ [ وہ جو اٹھاتے ہیں ] الْعَرْشَ [ عرش کو ] وَمَنْ [ اور وہ (بھی ) جو ] حَوْلَهٗ [ اس (عرش ) کے اردگرد ہیں ] يُسَبِّحُوْنَ [ وہ سب تسبیح کرتے ہیں ] بِحَمْدِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] وَيُؤْمِنُوْنَ [اور ایمان رکھتے ہیں ] بِهٖ [ اس (رب ) پر ] وَيَسْتَغْفِرُوْنَ [ اور مغفرت مانگتے ہیں ] لِلَّذِيْنَ [ ان کے لئے جو ] اٰمَنُوْا ۚ [ ایمان لائے ] رَبَّنَا [ (اور دعا کرتے ہیں کہ ) اے ہمارے رب ] وَسِعْتَ [ تو وسیع ہوا ] [كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] رَّحْمَةً [ بلحاظ رحمت کے ] وَّعِلْمًا [ اور بلحاظ علم کے ] فَاغْفِرْ [ پس تو بخش دے ] لِلَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] تَابُوْا [ توبہ کی ] وَاتَّبَعُوْا [ اور پیروی کی ] سَبِيْلَكَ [ تیرے راستے کی ] وَقِهِمْ [ اور تو بچا ان کو ] عَذَابَ الْجَــحِيْمِ [دوزخ کے عذاب سے ] نوٹ ۔ 1: حاملان عرش فرشتے اب چار ہیں اور قیامت کے روز آٹھ ہوجائیں گے اور عرش کے گرد کتنے فرشتے ہیں ان کی تعداد اللہ ہی جانتا ہے ان کو کروبی کہا جاتا ہے ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں ۔ (معارف القرآن) یہ جو فرمایا گیا کہ یہ ملائکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان کا رشتہ ہی وہ اصل رشتہ ہے جس کی وجہ سے عرش کے قریب رہنے والے فرشتوں کو زمین پر بسنے والے ان خاکی انسانوں سے دلچسپی پیدا ہوئی جو انہی کی طرح اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن ) فرشتے دعا اور سفارش تو برابر کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی دعا اور سفارش ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنی بدعقیدگی اور بدعملی سے توبہ کرکے اللہ کے راستے کے پیرو بن جائیں ۔ نہ کہ ان لوگوں کے لئے جو اس کے رسول اللہ ﷺ اور اس کے دین کی مخالفت کریں ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے رب، اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنتوں میں جن کا تو نے اُن سے وعدہ کیا ہے، اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ پہنچا دے) تو بلا شبہ قادر مطلق اور حکیم ہے

رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] وَاَدْخِلْهُمْ [ اور تو داخل کر ان کو ] جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ [ عدن کے ان باغات میں جن کا ] وَعَدْتَّهُمْ [ تو نے وعدہ کیا ان سے ] وَمَنْ [ اور اس کو ( بھی داخل کر ) جو ] صَلَحَ [ نیک ہوا ] مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ [ ان کے آباء اجداد میں سے ] وَاَزْوَاجِهِمْ [ اور ان کی بیویوں میں سے ] وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ [ اور ان کی اولادوں میں سے ] اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ [ بیشک تو ہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور بچا دے اُن کو برائیوں سے جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا دیا اُس پر تو نے بڑا رحم کیا، یہی بڑی کامیابی ہے"

وَقِهِمُ [ اور تو بچا ان کو ] السَّيِّاٰتِ ۭ [برائیوں سے ] وَمَنْ [ اور جس کو ] تَقِ [ تو بچائے گا ] السَّيِّاٰتِ [ برائیوں (کے انجام ) سے ] يَوْمَىِٕذٍ [اس دن ] فَقَدْ رَحِمْتَهٗ ۭ [تو تو نے رحم کیا ہے اس پر ] وَذٰلِكَ [ اور یہ ] هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ہی شاندار کامیابی ہے ]
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ہے، قیامت کے روز اُن کو پکار کر کہا جائے گا "آج تمہیں جتنا شدید غصہ اپنے اوپر آ رہا ہے، اللہ تم پر اُس سے زیادہ غضب ناک اُس وقت ہوتا تھا جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے"

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ] يُنَادَوْنَ [ ان کو پکارا جائے گا (اور کہا جائے گا )] لَمَقْتُ اللّٰهِ [ یقینا اللہ کا بیزار ہونا ] اَكْبَرُ [ زیادہ بڑا ہے ] مِنْ مَّقْتِكُمْ [ تمہارے بیزار ہونے سے ] اَنْفُسَكُمْ [ اپنی جانوں سے ] اِذْ [ (یہ اس لئے کہ ) جب ] تُدْعَوْنَ [ تم لوگوں کو بلایا جاتا تھا ] اِلَى الْاِيْمَانِ [ ایمان لانے کی طرف ] فَتَكْفُرُوْنَ [توتم لوگ انکار کرتے تھے ] نوٹ ۔ 1: دو بار موت سے ایک تو وہ حالت موت مراد ہے جو اس دنیا میں وجود پذیر ہونے سے پہلے انسان پر طاری ہوتی ہے اور دوسری وہ موت ہے جس سے ہر زندہ کو لازما دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ اسی طرح زندگی ایک تو وہ ہے جو اس دنیا میں حاصل ہوتی ہے اور دوسری وہ جو قیامت میں حاصل ہوگی ۔ ( تدبر قرآن )
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، تو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی، اب ہم اپنے قصوروں کا اعتراف کرتے ہیں، کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟"

قَالُوْا [ وہ لوگ کہیں گے ] رَبَّنَآ [ اے ہمارے رب ] اَمَتَّنَا [ تو نے موت دی ہم کو ] اثْنَتَيْنِ [ دو (موتیں ) ] وَاَحْيَيْتَنَا [ اور تو نے زندگی دی ہم کو ] اثْنَتَيْنِ [ دو (زندگیاں ) ] فَاعْتَرَفْنَا [ پس ہم نے اعتراف کیا ] بِذُنُوْبِنَا [ اپنے گناہوں کا ] فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ [ تو کیا نکلنے کی طرف ] مِّنْ سَبِيْلٍ [ کوئی بھی راستہ ہے ]
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

(جواب ملے گا) "یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو، اِس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتے تھے اور جب اُس کے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے تھے اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے"

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗٓ [ یہ بسبب اس حقیقت کے کہ ] اِذَا [ جب کبھی ] دُعِيَ اللّٰهُ [ پکارا گیا اللہ کو ] وَحْدَهٗ [ بلحاظ اس کے واحد ہونے کے ] كَفَرْتُمْ ۚ [ تو تم لوگوں نے انکار کیا ] وَاِنْ يُّشْرَكْ بِهٖ [ اور اگر شرک کیا جاتا تھا اس کے ساتھ ] تُؤْمِنُوْا ۭ [ تو تم لوگ ایمان لاتے ] فَالْحُكْمُ [ تو (اب ) حکم دینا ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کے لئے ہے ] الْعَلِيِّ [ جو بلند ہے ] الْكَبِيْرِ [ جو بڑا ہے ]
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے، مگر (اِن نشانیوں کے مشاہدے سے) سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو

هُوَ [ وہ ] الَّذِيْ [ وہ ہے جو ] يُرِيْكُمْ [ دکھاتا ہے تم لوگوں کو ] اٰيٰتِهٖ [ اپنی نشانیاں ] وَيُنَزِّلُ لَكُمْ [ اور وہ بتدریج اتارتا رہتا ہے تمہارے لئے ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] رِزْقًا ۭ [ کچھ رزق ] وَمَا يَتَذَكَّرُ [ اور نصیحت حاصل نہیں کرتا ] اِلَّا مَنْ [ مگر وہ جو ] يُّنِيْبُ [ متوجہ ہوتا ہے ]
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

(پس اے رجوع کرنے والو) اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو

فَادْعُوا اللّٰهَ [ پس تم لوگ پکارو اللہ کو ] مُخْلِصِيْنَ [ ملاوٹ سے پاک کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَهُ الدِّيْنَ [ اس کے لئے نظام حیات کو ] وَلَوْ كَرِهَ [ اور اگرچہ کراہیت کریں ] الْكٰفِرُوْنَ [ کافر لوگ ]
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ بلند درجوں والا، مالک عرش ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح نازل کر دیتا ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کر دے

رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ [ (وہ) درجات کا بلند کرنے والا ہے ] ذُو الْعَرْشِ ۚ [ جو عرش والا ہے ] يُلْقِي [ وہ ڈالتا ( یعنی اتارتا ) ہے ] الرُّوْحَ [ (دین وایمان کی ) روح کو ] مِنْ اَمْرِهٖ [ اپنے حکم سے ] عَلٰي مَنْ [ اس پر جس پر ] يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖ [ اپنے بندوں میں سے ] لِيُنْذِرَ [ تاکہ وہ خبردار کرے (لوگوں کو)] يَوْمَ التَّلَاقِ [ ملاقات کرنے کے دن سے ] ترکیب : (آیت ۔ 15) فعیل کے وزن پر آنے والی اکثر صفات میں اسم الفاعل کا مفہوم ہوتا ہے جبکہ کچھ صفات میں اسم المفعول کا مفہوم ہوتا ہے جیسے رجیم وغیرہ ۔ کبھی یہ الفاظ اسم الفاعل یا اسم المفعول کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی مجرد صفت کے مفہوم میں ۔ عام طور پر عبارت کے سیاق وسباق سے اس کی تمیز کرلی جاتی ہے لیکن یہاں رفیع الدرجت کے دونوں طرح ترجمے ممکن ہیں اور کئے بھی گئے ہیں ۔ رفیع کو اگر اسم الفاعل مانیں تو ترجمہ ہوگا درجات کا بلند کرنے والا اور اگر رفیع مجرد صفت مانیں تو ترجمہ ہوگا درجات کا بلند یعنی بلند درجات والا ۔ دونوں ترجمے درست ہیں ۔ یہاں پر الروح حضرت جبرئیل امین کے لئے نہیں بلکہ وحی کے لئے آیا ہے ۔ (دیکھیں آیت ۔ 2:87، مادہ ، ” روح “ ) التلاق دراصل لقی سے باب تفاعل کا مصدر تلاق ہے۔ اس پر لام تعریف داخل ہوا تو قاف کی تنوین ختم ہوگئی ۔ نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 15 ۔ میں الروح سے مراد وحی ہے ۔ وحی کو روح سے تعبیر کرنے کی وجہ واضح ہے کہ جس طرح روح سے جسم کو زندگی حاصل ہوتی ہے اسی طرح وحی سے انسان کی عقل اور اس کے دل کو زندگی ، حرارت اور روشنی حاصل ہوتی ہے ۔ حضرت مسیح نے اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے ۔ اس وحی کی کیفیت وماہیت ہر شخص نہیں سمجھ سکتا ۔ اس کو وہی سمجھتا ہے جو اس کو نازل کرتا ہے یا پھر وہ سمجھتا ہے جس کو اس کا تجربہ ہوتا ہے ۔ اس سلسلہ کلام میں یہ بات لانے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ خدا کی بارگاہ تک کسی جن وبشر کی رسائی نہیں ہے کہ وہ اس کے غیب سے واقف ہوسکے ۔ اس کی مرضیات جاننے کا واحد ذریعہ صرف وہ وحی ہے جو وہ اپنے بندوں میں سے اس پر نازل فرماتا ہے جس کو وہ کار خاص (یعنی نبوت و رسالت ) کے لئے انتخاب فرماتا ہے ۔ اس لئے مشرکین نے اپنے زعم کے مطابق غیب کے جاننے کے جو ذرائع ایجاد کر رکھے ہیں وہ بالکل لایعنی ہیں ۔ اللہ کی پسند و ناپسند جاننے کا ذریعہ بس وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر نازل فرماتا ہے۔ (تدبر قرآن )
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

وہ دن جبکہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی بات بھی چھپی ہوئی نہ ہو گی (اُس روز پکار کر پوچھا جائے گا) آج بادشاہی کس کی ہے؟ (سارا عالم پکار اٹھے گا) اللہ واحد قہار کی

يَوْمَ هُمْ [ جس دن سب لوگ ] بٰرِزُوْنَ ڬ [ بےنقاب ہونے والے ہیں ] لَا يَخْـفٰى [ پوشیدہ نہیں ہوگی ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] مِنْهُمْ [ ان لوگوں میں سے ] شَيْءٌ ۭ [ کوئی چیز ] لِمَنِ [کس کے لئے ہے ] الْمُلْكُ [ بادشاہت ] الْيَوْمَ ۭ [ اس دن ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ہے ] الْوَاحِدِ [ جو واحد ہے ] الْقَهَّارِ [ جو زبردست ہے ] (آیت ۔ 16) لَا يَخْـفٰى کا فاعل شیء ہے ۔ سادہ جملہ اس طرح ہوتا ۔ لَا يَخْـفٰى شَيْءٌ ۭ مِنْهُمْ عَلَي اللّٰهِ ۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

(کہا جائے گا) آج ہر متنفس کو اُس کمائی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کی تھی آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے

اَلْيَوْمَ تُجْزٰى [ اس دن بدلہ دیا جائے گا ] كُلُّ نَفْسٍۢ [ ہر جان کو ] بِمَا كَسَبَتْ ۭ [وہ جو اس نے کمائی کی ] لَا ظُلْمَ [ کسی طرح سے کوئی بھی ظلم نہیں ہوگا ] الْيَوْمَ ۭ [ اس دن ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] سَرِيْعُ الْحِسَابِ [ حساب لینے کا تیز ہے ]
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اے نبیؐ، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آ لگا ہے جب کلیجے منہ کو آ رہے ہوں گے اور لوگ چپ چاپ غم کے گھونٹ پیے کھڑے ہونگے ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہو گا اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے

وَاَنْذِرْهُمْ [ اور آپ خبردار کردیں ان لوگوں کو ] يَوْمَ الْاٰزِفَةِ [ قریب ہونے والی (قیامت ) کے دن سے ] اِذِ الْقُلُوْبُ [ جب دل ] لَدَى الْحَـنَاجِرِ [ گلوں کے قریب ہوں گے ] كٰظِمِيْنَ ڛ [ غم وغصہ پینے والے ہوتے ہوئے ] مَا لِلظّٰلِمِيْنَ [ نہیں ہوگا ظلم کرنے والوں کے لئے ] مِنْ حَمِيْمٍ [ کوئی بھی ایسا گرم جوش دوست ] وَّلَا شَفِيْعٍ [ اور نہ کوئی بھی ایسا سفارش کرنے والا ] يُّــطَاعُ [ جس کی تابعداری کی جاتی ہو ] ء ز: (س) ازفا ۔ قریب ہونا ۔ اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ [ قریب ہوئی قریب ہونے والی ] 53:57 ۔ ازفۃ ۔ قریب ہونے والی ۔ مراد ہے قیامت ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18 ۔ ل د ی : فعل استعمال نہیں ہوتا ۔ لدی ۔ لدن کی طرح یہ بھی ظرف ہے اور دونوں قریب المعنی ہیں ۔ اردو میں عام طور پر دونوں کا ترجمہ ” پاس “ کردیتے ہیں ۔ جیسے لدنا (ہمارے پاس ) ۔ لدینا (ہمارے پاس) لیکن لدن میں کسی چیز کا کسی کے قبضہ یا تصرف میں ہونے کا مفہوم ہوتا ہے ۔ جبکہ لدی میں کسی چیز کا کسی کے قریب یا نزدیک ہونا کا مفہوم ہوتا ہے ۔ آیت زیرمطالعہ ۔ 18 ۔ (آیت ۔ 18) القلوب مبتدا ہے اور لدی الحناجر اس کی خبر ہے جبکہ کا ظمین حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ۔ لیکن یہ قلوب کا حال نہیں ہے ورنہ کا ظمۃ آتا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اصھاب القلوب کا حال ہے ۔
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں

يَعْلَمُ [ وہ جانتا ہے ] خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ [ آنکھوں کی خیانت کرنے والی (چوری) کو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] تُخْفِي الصُّدُوْرُ [ چھپاتے ہیں سینے ]
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ ٹھیک ٹھیک بے لاگ فیصلہ کریگا رہے وہ جن کو (یہ مشرکین) اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے

وَاللّٰهُ يَـقْضِيْ [ اور اللہ فیصلہ کرے گا ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق کے ساتھ ] وَالَّذِيْنَ [ اور جن لوگوں کو ] يَدْعُوْنَ [ یہ لوگ پکارتے ہیں ] مِنْ دُوْنِهٖ [ اس کے علاوہ ] لَا يَـقْضُوْنَ [وہ لوگ فیصلہ نہیں کرتے ] بِشَيْءٍ ۭ [ کسی چیز کا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ ہی سننے والا ہے ] الْبَصِيْرُ [ دیکھنے والا ہے ] (آیت ۔ 20) ۔ یدعون کا فاعل اس میں شامل ہم کی ضمیر ہے اور الذین اس کا مفعول مقدم ہے۔
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن زیادہ طاقت ور تھے اور ان سے زیادہ زبردست آثار زمین میں چھوڑ گئے ہیں مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور اُن کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا

اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا [ اور کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَيَنْظُرُوْا [ نتیجتا وہ دیکھتے ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] [عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کا انجام جو ] كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ تھے ان سے پہلے ] كَانُوْا هُمْ [ وہ لوگ تھے ] اَشَدَّ مِنْهُمْ [ ان لوگوں سے زیادہ شدید ] قُوَّةً [ بلحاظ قوت کے ] وَّاٰثَارًا [ اور بلحاظ نشانات (چھوڑنے ) کے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ [ پھر پکڑا ان کو اللہ نے ] بِذُنُوْبِهِمْ ۭ [ بسبب ان کے گناہوں کے ] وَمَا كَانَ لَهُمْ [ اور نہیں ہے ان کے لئے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ سے (ان کو ) ] مِنْ وَّاقٍ [ کوئی بھی بچانے والا ] نوٹ ۔ 1: اثار فی الارض سے مراد تمدنی تعمیراتی ترقیوں کے آثار ہیں (جنھوں آثار قدیمہ کہا جاتا ہے ) دنیا میں انہی آثار کو ہمیشہ قوموں کی عظمت و شوکت کی دلیل سمجھا گیا ہے ۔ لیکن قرآن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اگر قوم ایمان سے عاری ہو تو یہ آثار اس کے زوال کی نشانی ہیں اور بالآخر یہی ان کے قومی وجود کے لئے مقبروں کی صورت میں تبدیل ہوکر رہتے ہیں ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس اُن کے رسول بینات لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا آخر کار اللہ نے ان کو پکڑ لیا، یقیناً وہ بڑی قوت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ [یہ اس لئے کہ ] كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ [ آتے تھے ان کے پاس ] رُسُلُهُمْ [ان کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ [ واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ] فَكَفَرُوْا [ تو انھوں نے انکار کیا ] فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ۭ [ پھر پکڑا ان کو اللہ نے ] اِنَّهٗ قَوِيٌّ [ بیشک وہ قوی ہے ] شَدِيْدُ الْعِقَابِ [ سزا دینے کا سخت ہے ]
Ayah 40:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ کو

وَلَـقَدْ اَرْسَلْنَا [ اور بیشک ہم بھیج چکے ] مُوْسٰى [ موسیٰ کو ] بِاٰيٰتِنَا [ اپنی نشانیوں کیساتھ ] وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ [ اور واضح دلیل کے ساتھ ]
Ayah 40:24

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف اپنے نشانیوں اور نمایاں سندِ ماموریت کے ساتھ بھیجا، مگر انہوں نے کہا "ساحر ہے، کذاب ہے"

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَقَارُوْنَ [ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف ] فَقَالُوْا [ تو انھوں نے کہا ] [سٰحِرٌ كَذَّابٌ: جادوگر ہے پکا جھوٹا ہے ]
Ayah 40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا تو انہوں نے کہا "جو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیاں کو جیتا چھوڑ دو" مگر کافروں کی چال اکارت ہی گئی

[فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ : تو جب وہ (موسی) آئے ان کے پاس ] [بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا : ہمارے پاس سے حق کے ساتھ ] [قَالُوا : تو انہوں نے کہا ] اقْتُلُوْٓا [ تم لوگ قتل کرو ] اَبْنَاۗءَ الَّذِيْنَ [ ان کے بیٹوں کو جو ] اٰمَنُوْا مَعَهٗ [ ایمان لائے ان کے ساتھ ] وَاسْتَحْيُوْا [ اور زندہ رکھو ] نِسَاۗءَهُمْ ۭ [ ان کی عورتوں کو ] وَمَا كَيْدُ الْكٰفِرِيْنَ [ اور نہیں ہے کافروں کی چالبازی ] اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ [ مگر بھٹکنے میں ]
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا "چھوڑو مجھے، میں اِس موسیٰؑ کو قتل کیے دیتا ہوں، اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا"

وَقَالَ فِرْعَوْنُ [ اور کہا فرعون نے ] ذَرُوْنِيْٓ [ تم لوگ چھوڑو مجھ کو ] اَقْتُلْ مُوْسٰى [ تو میں قتل کروں موسیٰ کو ] وَلْيَدْعُ [ اور چاہیے کہ وہ پکارلے ] رَبَّهٗ ۚ [ اپنے رب کو ] اِنِّىْٓ اَخَافُ [ بیشک میں ڈرتا ہوں ] اَنْ يُّبَدِّلَ [ کہ وہ تبدیل کردے ] دِيْنَكُمْ [ تمہارے نظام حیات کو ] اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ [ یا یہ کہ وہ ظاہر کرے ] فِي الْاَرْضِ الْفَسَادَ [ زمین میں نظم کی خرابی کو ]
Ayah 40:27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "میں نے تو ہر اُس متکبر کے مقابلے میں جو یَوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے ر ب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے"

وَقَالَ مُوْسٰٓى [ اور کہا موسیٰ نے ] اِنِّىْ عُذْتُ [ کہ میں نے پناہ لی ] بِرَبِّيْ [ اپنے رب کی ] وَرَبِّكُمْ [ اور تمہارے رب کی ] مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ [ ہر ایسے تکبر کرنے والے سے جو ] لَّا يُؤْمِنُ [ایمان نہیں رکھتا ] بِيَوْمِ الْحِسَابِ [ حساب کے دن پر ]
Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اس موقع پر آل فرعون میں سے ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، بول اٹھا: "کیا تم ایک شخص کو صرف اِس بنا پر قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینات لے آیا اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پر پلٹ پڑے گا لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور ہی آ جائیں گے اللہ کسی شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو

وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ڰ [ اور کہا ایک مومن مرد نے جو ] مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ [ آل فرعون میں سے تھا ] يَكْتُمُ [ وہ چھپاتا تھا ] اِيْمَانَهٗٓ [ اپنے ایمان کو ] اَتَقْتُلُوْنَ [کیا تم لوگ قتل کروگے ] رَجُلًا [ ایک شخص کو ] اَنْ يَّقُوْلَ [کہ وہ کہتا ہے ] رَبِّيَ [ میرا رب ] اللّٰهُ [ اللہ ہے ] وَ [حالانکہ ] قَدْ جَاۗءَكُمْ [ وہ آیا ہے تمہارے پاس ] بِالْبَيِّنٰتِ [ روشن (نشانیوں) کے ساتھ ] مِنْ رَّبِّكُمْ ۭ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] وَاِنْ يَّكُ [ اور اگر وہ ہوگا ] كَاذِبًا [ جھوٹا ] فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ ۚ [تو اس پر ہی ہے اس کا جھوٹ ] وَاِنْ يَّكُ [ اور اگر وہ ہوگا ] صَادِقًا [ سچا ] يُّصِبْكُمْ [ تو آلگے گا تم کو ] بَعْضُ الَّذِيْ [ اس کا کچھ جو ] يَعِدُكُمْ ۭ [ وہ وعدہ کرتا ہے تم سے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَا يَهْدِيْ [ رہنمائی نہیں کرتا ] مَنْ هُوَ [ اس کی جو ہے ] مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ حد سے بڑھنے والا پکا جھوٹا ] نوٹ۔ 1: یہاں سے (آیت ۔ 28 تا 46) ایک بندہ مومن کی بات شروع رہی ہے جو تھے تو شاہی خاندان سے لیکن حق پسند اور خدا ترس آدمی تھے ۔ مدین سے واپسی کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب نبوت کا اعلان کیا تو یہ ان کی دعوت پر ایمان لائے لیکن اپنے ایمان کو انھوں نے ایک عرصہ تک پوشیدہ رکھا ۔ انھوں نے غالبا یہ محسوس کیا کہ اس دور میں ایمان کو پوشیدہ رکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی دعوت کی جو خدمت وہ کرسکتے ہیں وہ خدمت اعلانیہ نہیں کرسکتے ۔ (تدبر قرآن) یہاں یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ گفتگو کے آغاز میں انھوں نے کھل کر یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے ہیں بلکہ ابتداء وہ اسی طرح کلام کرتے رہے کہ وہ بھی فرعون ہی کے گروہ کے ایک آدمی ہیں اور محض اپنی قوم کی بھلائی کے لئے بات کررہے ہیں مگر جب فرعون اور اس کے درباری کسی طرح راہ راست پر آتے نظر نہ آئے تو آخر میں انھوں نے اپنے ایمان کا راز فاش کردیا جیسا کہ پانچویں رکوع میں ان کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم کے لوگو! آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آ گیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کر سکے گا" فرعون نے کہا "میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے اور میں اُسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے"

يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] لَكُمُ [ تمہاری ہی ہے ] الْمُلْكُ [ بادشاہت ] الْيَوْمَ [ آج کے دن ] ظٰهِرِيْنَ [ غالب ہونے والے ہوتے ہوئے ] فِي الْاَرْضِ ۡ [ زمین میں ] فَمَنْ يَّنْصُرُنَا [ تو کون مدد کرے گا ہماری ] مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ [ اللہ کی سختی سے ] اِنْ جَاۗءَنَا ۭ [ اگر وہ آئی ہمارے پاس ] قَالَ فِرْعَوْنُ [ فرعون نے کہا ] مَآ اُرِيْكُمْ [ میں نہیں سمجھا تاتم لوگوں کو ] اِلَّا مَآ [ سوائے اس کے جو ] اَرٰى [ میں سمجھتا ہوں ] وَمَآ اَهْدِيْكُمْ [ اور میں رہنمائی نہیں کرتا تمہاری ] اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ [ مگر بھلائی کے راستے کی ]
Ayah 40:30

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

وہ شخص جو ایمان لایا تھا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آ جائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آ چکا ہے

وَقَالَ الَّذِيْٓ اٰمَنَ [ اور کہا اس نے جو ایمان لایا ] يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ [ کہ میں ڈرتا ہوں تم پر ] مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِ [ مضبوط جتھوں کے دن کی مانند سے ]
Ayah 40:31

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسا دن قوم نوحؑ اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ [ نوح کی قوم کی حالت کی مانند ] وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ [ اور عاد اور ثمود ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کی (حالت کی مانند) جو ] مِنْۢ بَعْدِهِمْ ۭ [ ان کے بعد ہوئے ] وَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ [ اور اللہ ارادہ نہیں کرتا ] ظُلْمًا [ کسی ظلم کا ] لِّلْعِبَادِ [بندوں کے لئے ]
Ayah 40:32

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اے قوم، مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر فریاد و فغاں کا دن نہ آ جائے

وَيٰقَوْمِ [اور اے میری قوم ] اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ [ بیشک میں ڈرتا ہوں تم پر ] يَوْمَ التَّنَادِ [ چیخ پکار کے دن سے ]
Ayah 40:33

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جب تم ایک دوسرے کو پکارو گے اور بھاگے بھاگے پھرو گے، مگر اُس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اُسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا

يَوْمَ تُوَلُّوْنَ [ جس دن تم لوگ بھاگ کھڑے ہوگے ] مُدْبِرِيْنَ ۚ [ پیٹھ دینے والے ہوتے ہوئے ] مَا لَكُمْ [ تمہارے لئے نہیں ہوگا ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ] مِنْ عَاصِمٍ ۚ [ کوئی بھی بچانے والا ] وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ [ اور جس کو بھٹکا دیتا ہے اللہ ] فَمَا لَهٗ [ تو نہیں ہوتا اس کے لئے ] مِنْ هَادٍ [ کوئی بھی ہدایت دینے والا ]
Ayah 40:34

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اس سے پہلے یوسفؑ تمہارے پاس بینات لے کر آئے تھے مگر تم اُن کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے پھر جب اُن کا انتقال ہو گیا تو تم نے کہا اب اُن کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا" اِسی طرح اللہ اُن سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں

وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ يُوْسُفُ [ اور بیشک آچکے ہیں تمہارے پاس یوسف ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] بِالْبَيِّنٰتِ [ کھلی (نشانیوں ) کے ساتھ ] فَمَا زِلْتُمْ [ پھر تم لوگ ہمیشہ رہے ] فِيْ شَكٍّ [ ایک شک میں ] مِّمَّا [اس سے جو ] جَاۗءَكُمْ بِهٖ ۭ [ وہ لائے تمہارے پاس ] حَتّىٰٓ اِذَا هَلَكَ [ یہاں تک کہ جب وہ ہلاک ہوئے ] قُلْتُمْ [ تو تم لوگوں نے کہا ] [لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ : ہرگز نہیں بھیجے گا اللہ ] مِنْۢ بَعْدِهٖ [ ان کے بعد ] رَسُوْلًا ۭ [ کوئی رسول ] كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ [ اس طرح بھٹکاتا ہے اللہ ] مَنْ هُوَ [ اس کو جو ہے ] مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۨ [ حد سے بڑھنے والا شبہ میں پڑنے والا ]
Ayah 40:35

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے اِسی طرح اللہ ہر متکر و جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے

الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ [ جو لوگ کٹ حجتی کرتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی آیتوں میں ] بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ [ کسی ایسی دلیل کے بغیر ] اَتٰىهُمْ ۭ [ جو پہنچی ان کو ] كَبُرَ [ (یہ بات) بڑی ہے ] مَقْتًا [ بلحاظ بیزاری کے ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے نزدیک ] وَعِنْدَ الَّذِيْنَ [اور ان کے نزدیک جو ] اٰمَنُوْا ۭ [ایمان لائے ] كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ [ اس طرح ٹھپہ لگا دیتا ہے اللہ ] عَلٰي كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ [ کسی بھی شبہ کرنے والے تکبر کرنے والے کے دل کے کل پر ]
Ayah 40:36

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

فرعون نے کہا "اے ہامان، میرے لیے ایک بلند عمارت بنا تاکہ میں راستوں تک پہنچ سکوں

وَقَالَ فِرْعَوْنُ [ اور فرعون نے کہا ] يٰهَامٰنُ [اے ہامان ] ابْنِ لِيْ [ تو تعمیر کر میرے لئے ] صَرْحًا [ ایک بلند عمارت ] لَّعَلِّيْٓ اَبْلُغُ [ شاید میں پہنچوں ] الْاَسْبَابَ [ اس سیڑھی تک ]
Ayah 40:37

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

آسمانوں کے راستوں تک، اور موسیٰؑ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں مجھے تو یہ موسیٰؑ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے" اس طرح فرعون کے لیے اس کی بد عملی خوشنما بنا دی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا فرعون کی ساری چال بازی (اُس کی اپنی) تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ [ جو آسمانوں کی سیڑھی ہے ] فَاَطَّلِعَ [ نتیجتا میں جھانکوں ] اِلٰٓى اِلٰهِ مُوْسٰى [ موسیٰ کے الہ کی طرف ] وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٗ [ اور وہ بیشک میں یقینا خیال کرتا ہوں اس کو ] كَاذِبًا ۭ [ جھوٹا ] وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ [ اور اس طرح خوشنما کیا گیا ] لِفِرْعَوْنَ [ فرعون کے لئے ] سُوْۗءُ عَمَلِهٖ [ اس کے عمل کی برائی کو ] وَصُدَّ [ اور وہ روک دیا گیا ] عَنِ السَّبِيْلِ ۭ [راستے سے ] وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ [ اور نہیں تھی فرعون کی چالبازی ] اِلَّا فِيْ تَبَابٍ [ مگر ہلاکت میں ]
Ayah 40:38

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

وہ شخص جو ایمان لایا تھا، بولا "اے میری قوم کے لوگو، میری بات مانو، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں

وَقَالَ الَّذِيْٓ اٰمَنَ [ اور کہا اس نے جو ایمان لایا ] يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] اتَّبِعُوْنِ [ تم لوگ پیروی کرو میری ] اَهْدِكُمْ [ تو میں رہنمائی کروں گا تمہاری ] سَبِيْلَ الرَّشَادِ [ بھلائی کے راستے کی ]
Ayah 40:39

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے قوم، یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے، ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے

يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ ۡ [ یہ دنیوی زندگی ایک سامان ہے (برتنے کا ) ] وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ [ اور یقینا آخرت ] هِىَ دَارُ الْقَرَارِ [ ہی ٹھہرنے کا گھر ہے ]
Ayah 40:40

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو برائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے برائی کی ہو گی اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا

مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً [ جس نے عمل کیا برائی کا ] فَلَا يُجْزٰٓى [ تو اس کو بدلہ نہیں دیا جائے گا ] اِلَّا مِثْلَهَا ۚ [ مگر اس کے جیسا ] [وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا : اور جس نے عمل کیا نیکی کا ] مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى [ مرد یا عورت میں سے ] وَهُوَ [ اس حال میں کہ وہ ] مُؤْمِنٌ [ مومن ہو ] فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ [ تو یہ لوگ داخل ہوں گے ] الْجَنَّةَ [ جنت میں ] يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا [ ان کو رزق دیا جائے گا اس میں ] بِغَيْرِ حِسَابٍ [ کسی حساب کے بغیر ]