40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 40:41

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اے قوم، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تو تم لوگوں کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم لوگ مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو!

وَيٰقَوْمِ مَالِيْٓ [ اور میری قوم مجھے کیا ] اَدْعُوْكُمْ [میں تو بلاتا ہوں تم کو ] اِلَى النَّجٰوةِ [ نجات کی طرف ] وَتَدْعُوْنَنِيْٓ [ اس حال میں کہ تم لوگ بلاتے ہو مجھ کو ] اِلَى النَّارِ [ آگ کی طرف ]
Ayah 40:42

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ اُن ہستیوں کو شریک ٹھیراؤں جنہیں میں نہیں جانتا، حالانکہ میں تمہیں اُس زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلا رہا ہوں

تَدْعُوْنَنِيْ [تم لوگ بلاتے ہو مجھ کو ] لِاَكْفُرَ [ کہ میں ناشکری کروں ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] وَاُشْرِكَ بِهٖ [ اور شریک کروں اس کے ساتھ ] مَا [ اس کو ] لَيْسَ لِيْ [ نہیں ہے میرے لئے ] بِهٖ [ جس کے بارے میں ] عِلْمٌ ۡ [ کوئی علم ] وَّاَنَا اَدْعُوْكُمْ [ حالانکہ میں بلاتا ہوں تم کو ] اِلَى الْعَزِيْزِ الْغَفَّارِ [ بالا دست بہت بخشنے والے کی طرف ]
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

نہیں، حق یہ ہے اور اِس کے خلاف نہیں ہو سکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اُن کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے نہ آخرت میں، اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے، اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں

لَا جَرَمَ [ کوئی شک نہیں ] اَنَّمَا [ کہ وہ ] تَدْعُوْنَنِيْٓ [ تم لوگ بلاتے ہو مجھ کو ] اِلَيْهِ [ جس کی طرف ] لَيْسَ لَهٗ [ نہیں ہے اس کے لئے ] دَعْوَةٌ [ کوئی دعوت ] فِي الدُّنْيَا [ دنیا میں ] وَلَا فِي الْاٰخِرَةِ [ اور نہ آخرت میں ] وَاَنَّ مَرَدَّنَآ [ اور یہ کہ ہماری لوٹانے کی جگہ ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ہے ] [وَاَنَّ الْمُسْرِفِيْنَ : اور یہ کہ حد سے بڑھنے والے ] [هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ [ ہی آگ والے ہیں ]
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اُسے یاد کرو گے اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے"

فَسَتَذْكُرُوْنَ [ تو تم لوگ یاد کروگے ] مَآ اَقُوْلُ [ اس کو جو میں کہتا ہوں ] لَكُمْ ۭ [ تم سے ] وَاُفَوِّضُ [اور میں سپرد کرتا ہوں ] اَمْرِيْٓ [ اپنا معاملہ ] اِلَى اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی طرف ] اِنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌۢ [ بیشک اللہ دیکھنے والا ہے ] بِالْعِبَادِ [بندوں کو ] و ض : ثلاثی مجرد سے فعل نہیں استعمال ہوتا ۔ (تفعیل ) تفویضا ۔ کوئی معاملہ کسی کے سپرد کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 44 ۔
Ayah 40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

آخرکار اُن لوگوں نے جو بری سے بری چالیں اُس مومن کے خلاف چلیں، اللہ نے اُن سب سے اُس کو بچا لیا، اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر میں آ گئے

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ [ تو بچایا اس کو اللہ نے ] سَيِّاٰتِ مَا [ اس کی برائیوں سے جو ] مَكَرُوْا [ انہوں نے خفیہ تدبیر کی ] وَحَاقَ [ اور گھیرے میں لیا ] بِاٰلِ فِرْعَوْنَ [ فرعون کے پیروکاروں کو ] سُوْۗءُ الْعَذَابِ [ عذاب کی برائی نے ]
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں، اور جب قیامت کی گھڑی آ جائے گی تو حکم ہو گا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو

اَلنَّارُ [ جو آگ ہے ] يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا [ وہ لوگ پیش کیے جاتے ہیں اس پر ] غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا ۚ [ صبح وشام ] وَيَوْمَ [ اور جس دن ] تَـقُوْمُ السَّاعَةُ ۣ [ قائم ہوگی وہ گھڑی (قیامت ) ] اَدْخِلُوْٓا [(کہاجائے گا) داخل کرو ] اٰلَ فِرْعَوْنَ [ فرعونیوں کو ] اَشَدَّ الْعَذَابِ [عذاب کے زیادہ شدید میں ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 46 اس عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے جس کا ذکر بکثرت احادیث میں عذاب قبر کے عنوان سے آیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں یہاں عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر فرما رہا ہے ۔ ایک کم تر درجے کا عذاب جو قیامت آنے سے پہلے ال فرعون کو دیا جارہا ہے اور وہ یہ ہے کہ انھیں صبح وشام دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہتے ہیں ۔ پھر جب قیامت آجائے گی تو انھیں اسی دوزخ میں جھونک دیا جائے گا اور یہ معاملہ صرف فرعونیوں کے ساتھ خاص نہیں ہے ۔ تمام مجرموں کو موت کی ساعت سے لے کر قیامت تک وہ انجام بد نظر آتارہتا ہے جو ان کا انتظار کررہا ہے اور تمام نیک لوگوں کو وہ نیک انجام دکھایا جاتا ہے جو اللہ نے ان کیلئے مہیا کر رکھا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص بھی مرتا ہے اسے صبح وشام اس کی آخری قیام گاہ دکھائی جاتی رہتی ہے، خواہ وہ جنتی ہو یا دوزخی ۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ تجھے قیامت کے روز دوبارہ اٹھا کر اپنے حضور بلائے گا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 40:47

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

پھر ذرا خیال کرو اُس وقت کا جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ "ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچا لو گے؟"

وَاِذْ يَتَـحَاۗجُّوْنَ [ اور جب وہ لوگ آپس میں تکرار کریں گے ] فِي النَّارِ [ آگ میں ] فَيَقُوْلُ الضُّعَفٰۗؤُا [ تو کہیں گے کمزور لوگ ] لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا [ ان لوگوں سے جو بڑے بنے ] اِنَّا كُنَّا [ کہ ہم (تو) تھے ] لَكُمْ تَبَعًا [ تمہارے تابع ] فَهَلْ اَنْتُمْ [ تو کیا تم لوگ ] مُّغْنُوْنَ عَنَّا [ بےنیاز کرنے والے ہو ہم کو ] نَصِيْبًا [ کسی حصے سے ] مِّنَ النَّارِ [ آگ میں سے ]
Ayah 40:48

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے "ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے"

قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا [ کہیں گے وہ لوگ جو بڑے بنے ] اِنَّا كُلٌّ فِيْهَآ ۙ [ کہ ہم سب کے سب اس میں ہیں ] اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ [ بیشک اللہ فیصلہ کرچکا ہے ] بَيْنَ الْعِبَادِ [بندوں کے درمیان ]
Ayah 40:49

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے "اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں بس ایک دن کی تخفیف کر دے"

وَقَالَ الَّذِيْنَ فِي النَّارِ [ اور کہیں گے وہ لوگ جو آگ میں ہوں گے ] لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ [ جہنم کے داروغوں سے ] ادْعُوْا رَبَّكُمْ [ تم لوگ پکارو اپنے رب کو ] يُخَفِّفْ عَنَّا [ وہ ہلکا کردے ہم سے ] يَوْمًا [ کسی دن ] مِّنَ الْعَذَابِ [ اس عذاب میں سے ]
Ayah 40:50

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ پوچھیں گے "کیا تمہارے پاس تمہارے رسول بینات لے کر نہیں آتے رہے تھے؟" وہ کہیں گے "ہاں"جہنم کے اہل کار بولیں گے: "پھر تو تم ہی دعا کرو، اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے"

قَالُوْٓا [ وہ کہیں گے ] اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِيْكُمْ [ کیا نہیں آیا کرتے تھے تمہارے پاس ] رُسُلُكُمْ [ تمہارے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ ۭ [ واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] قَالُوْا بَلٰى ۭ [ وہ کہیں گے کیوں نہیں ] قَالُوْا فَادْعُوْا ۚ [ (داروغے ) کہیں گے پھر تم لوگ پکارو ] وَمَا دُعٰۗـؤُا الْكٰفِرِيْنَ [ اور نہیں ہوتی کافروں کی پکار ] اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ [ مگر بھٹکنے میں ]
Ayah 40:51

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے،

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا [ بیشک ہم یقینا مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی ] وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور ان کی جو ایمان لائے ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ اس دنیوی زندگی میں ] وَيَوْمَ يَقُوْمُ [ اور جس دن کھڑے ہوں گے ] الْاَشْهَادُ [ گواہی دینے والے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 51 ۔ میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے رسولوں اور مؤمنین کی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی مدد کرے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ مدد مخالفین اور دشمنوں سے مقابلہ کے لئے ہے۔ اکثر انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق تو اس کا وقوع ظاہر ہے ۔ مگر بعض انبیاء (علیہم السلام) جیسے یحیٰ اور زکریا اور شعیب وغیرہ کو قوم نے شہید کردیا ۔ بعض کو وطن چھوڑکر دوسری جگہ ہجرت کرنا پڑی ۔ ان کے متعلق شبہ ہوسکتا ہے ۔ ابن کثیر نے اس کا جواب دیا ہے کہ اس آیت میں نصرت سے مراد انتصار یعنی دشمنوں سے انتقام لینا ہے ، خواہ ان کی موجودگی میں ان ہی کے ہاتھوں سے ہو یا ان کی وفات کے بعد ۔ یہ معنی تمام انبیاء و مومنین پر بلا کسی استثناء کے صادق ہیں ۔ جن لوگوں نے اپنے انبیاء کو قتل کیا ، وہ لوگ کیسے کیسے عذابوں میں گرفتار کرکے رسوا کئے گئے ۔ اس سے تاریخ لبریز ہے ۔ (معارف القرآن ) اس نصرت کے معنی لازما یہی نہیں ہیں کہ ہر زمانے میں اللہ کے ہر نبی اور اس کے پیروں کو سیاسی غلبہ ہی حاصل ہو ۔ اس غلبہ کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں سے ایک سیاسی غلبہ بھی ہے۔ جہاں اس نوعیت کا غلبہ اللہ کے نبیوں کو حاصل نہیں ہوا ، وہاں بھی ان کا اخلاقی تفوق ثابت ہوکر رہا ہے جن قوموں نے ان کی دی ہوئی ہدایت کے خلاف راستہ اختیار کیا وہ آخرکار برباد ہوکر رہیں ۔ جہالت اور گمراہی کے جو فلسفے بھی لوگوں نے گھڑے اور زندگی میں جو بھی غلط اطوار زبردستی رائج کئے گئے وہ سب کچھ مدت تک زور دکھانے کے بعد آخر کار اپنی موت آپ مرگئے۔ مگر جن حقائق کو ہزارہا برس سے اللہ کے نبی صداقت کی حیثیت سے پیش کرتے رہے ہیں وہ آج بھی اٹل ہیں ۔ (تفہیم القرآن ج 4، ص 313)
Ayah 40:52

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور اُن پر لعنت پڑے گی اور بد ترین ٹھکانا اُن کے حصے میں آئے گا

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ [ جس دن نفع نہیں دے گا ] الظّٰلِمِيْنَ [ ظالموں کو ] مَعْذِرَتُهُمْ [ ان کا معذرت پیش کرنا ] وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ [ اور ان کے لئے لعنت ہے ] وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ [اور ان کے لئے اس ( آخری ) گھر کی برائی ہے ]
Ayah 40:53

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

آخر دیکھ لو کہ موسیٰؑ کی ہم نے رہنمائی کی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنا دیا

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى [ اور بیشک ہم دے چکے موسیٰ کو ] الْهُدٰى [ وہ ہدایت نامہ ] وَاَوْرَثْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ اور ہم نے وارث بنایا بنی اسرائیل کو ] الْكِتٰبَ [ اس کتاب کا ]
Ayah 40:54

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ہدایت و نصیحت تھی

هُدًى وَّذِكْرٰى [ہدایت اور نصیحت ہوتے ہوئے ] لِاُولِي الْاَلْبَابِ [ خالص عقل والوں کے لئے ]
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، صبر کرو، اللہ کا وعدہ بر حق ہے، اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو

فَاصْبِرْ [ پس آپ ثابت قدم رہیں ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ [ بیشک اللہ کا وعدہ پکا ہے ] وَّاسْتَـغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ [ اور آپ مغفرت چاہیں اپنی (کمال صبر میں) کمی بیشی کی ] وَسَبِّحْ [ اور آپ تسبیح کریں ] بِحَمْدِ رَبِّكَ [ اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ [ شام کو اور صبح کو ] نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 55 میں جس سیاق وسباق میں لذنبک کا لفظ آیا ہے ۔ اس پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس مقام پر ذنب سے مراد صبر میں کمی کی وہ کیفیت ہے جو شدید مخالفت کے اس ماحول میں خاص طور پر اپنے ساتھیوں کی مظلومی دیکھ دیکھ کر ، نبی کریم اللہ ﷺ میں پیدا ہورہی تھی ۔ آپ چاہتے تھے کہ کوئی معجزہ ایسا دیکھا دیا جائے جس سے کفار قائل ہوجائیں اور مخالفت کا یہ طوفان ٹھنڈا ہوجائے یہ خواہش بجائے خود کوئی گناہ نہ تھی جس پر کسی توبہ و استغفار کی حاجت ہوتی ۔ لیکن جس مقام بلند پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو سرفراز فرمایا تھا اس کے لحاظ سے صبر میں یہ تھوڑی سی کمی بھی اللہ تعالیٰ کو آپ کے مرتبہ سے فروتر نظر آئی ۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ اس کمزوری پر اپنے رب سے معافی مانگو اور چٹان کی طرح اپنے مؤقف پر ڈٹے رہو ۔ (تفہیم القرآن ) یہاں ایک تدبیر بھی ارشاد ہوئی ہے اس صبر و استقامت کے حصول کی جو اس وعدے کے ظہور کے لئے لازمی شرط ہے جس کا ذکر آیت ۔ 51 ۔ میں آیا ہے تدبیر یہ ہے کہ اپنے رب سے استغفار اور اس کی حمد و تسبیح کرتے رہو ۔ یہ بات اس کے محل میں واضح ہوچکی ہے کہ حصول استقامت کے لئے کامیابی کا وسیلہ استغفار اور نماز ہے ۔ اور یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ اس طرح کے خطابات میں نبی کریم ﷺ شخصا مخاطب نہیں ہوتے بلکہ امت کے وکیل کی حیثیت سے مخاطب ہوتے ہیں ۔ جو لوگ خطاب کی اس نوعیت اور اس کی بلاغت سے اچھی طرح آشنا نہیں ہوتے ان کو رسول اللہ ﷺ کی طرف ذنب کے لفظ کی نسبت سے وحشت ہوتی ہے۔ (تدبیر قرآن )
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند و حجت کے بغیر جو اُن کے پاس آئی ہو، اللہ کی آیات میں جھگڑے کر رہے ہیں اُن کے دلوں میں کبر بھرا ہوا ہے، مگر وہ اُس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جس کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں بس اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ [ بیشک جو لوگ کٹ حجتی کرتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں میں ] بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ [ کسی ایسی دلیل کے بغیر جو ] اَتٰىهُمْ ۙ [ پہنچی ان کے پاس ] اِنْ فِيْ صُدُوْرِهِمْ [ نہیں ہے ان کے سینوں میں ] اِلَّا كِبْرٌ [ مگر ایک بڑائی ] مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ ۚ [ نہیں ہیں وہ اس کو پہنچنے والے ] فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭ [ تو آپ پناہ مانگیں اللہ کی ] اِنَّهٗ [بیشک وہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ہی سننے والا ہے ] الْبَصِيْرُ [دیکھنے والا ہے ]
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ یقینا زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنا ] اَكْبَرُ [ زیادہ بڑا ہے ] مِنْ خَلْقِ النَّاسِ [ لوگوں کو پیدا کرنے سے ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ [ اور لیکن لوگوں کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ جانتے نہیں ہیں ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 57 ۔ میں امکان آخرت کی دلیل ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر انسان عقل سے کام لے تو اس کے لئے یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں ہے جس خدا نے یہ عظیم الشان کائنات بنائی ہے اس لئے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کوئی دشوار کام نہیں ہے ۔ اس سے آگے آیت ۔ 58 ۔ میں وجوب آخرت کی دلیل ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آخرت ہونی چاہیے ۔ اس کا ہونا نہیں بلکہ نہ ہونا عقل اور انصاف کے خلاف ہے۔ کوئی معقول آدمی اس بات کو کیسے مان سکتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں اندھوں کی طرح جیتے ہیں اور اپنے برے اخلاق و اعمال سے زمین کو فساد سے بھر دیتے ہیں وہ کوئی برا انجام نہ دیکھیں اور جو لوگ دنیا میں آنکھیں کھول کر چلتے ہیں اور ایمان لاکر نیک عمل کرتے ہیں وہ کوئی اچھا نتیجہ دیکھنے سے محروم رہ جائیں ۔ یہ بات اگر صریحا عقل اور انصاف کے خلاف ہے تو پھر انکار آخرت کا عقیدہ بھی عقل اور انصاف کے خلاف ہی ہونا چاہیے ۔
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہو جائے اور ایماندار و صالح اور بد کار برابر ٹھیریں مگر تم لوگ کم ہی کچھ سمجھتے ہو

وَمَا يَسْتَوِي [ اور برابر نہیں ہوتا ] الْاَعْمٰى [ اندھا ] وَالْبَصِيْرُ ڏ [اور بصارت والا ] وَالَّذِيْنَ [ اور (نہ ) وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] وَلَا الْمُسِيْۗءُ ۭ [ اور نہ ہی برا کرنے والا ] قَلِيْلًا مَّا [ بہت ہی تھوڑی سی ] تَتَذَكَّرُوْنَ [ تم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہو ]
Ayah 40:59

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ نہیں مانتے

اِنَّ السَّاعَةَ [ بیشک وہ گھڑی (قیامت ) ] لَاٰتِيَةٌ [ یقینا آنے والی ہے ] لَّا رَيْبَ فِيْهَا [ کوئی بھی شک نہیں ہے اس میں ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ [ اور لیکن لوگوں کی اکثریت ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتی ] پھر آگے آیت ۔ 59 ۔ میں وقوع آخرت کا قطعی حکم لگا دیا گیا ۔ کیونکہ عقلی استدلال سے جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ بس اسی قدر کہ آخرت ہوسکتی ہے اور اس کو ہونا چاہیے ۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ آخرت یقینا ہوگی اور ہوکر رہے گی ، یہ صرف اس ہستی کے کہنے کی بات ہے جسے معلوم ہے کہ آخرت ہوگی اور وہ ہستی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔ کہ قیاس و استدلال کے بجائے خالص علم پر کسی نظام حیات (یعنی دین ) کی بنیاد اگر قائم ہوسکتی ہے تو وہ صرف وحی الہی کے ذریعہ ہی سے ہوسکتی ہے۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 40:60

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

تمہارا رب کہتا ہے "مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے"

وَقَالَ رَبُّكُمُ [ اور کہا تم لوگوں کے رب نے ] ادْعُوْنِيْٓ [ تم لوگ پکارو مجھ کو ] اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ [ میں جواب دوں گا تم لوگوں کو ] اِنَّ الَّذِيْنَ [ یقینا جو لوگ ] يَسْتَكْبِرُوْنَ [ بڑے بنتے ہیں ] عَنْ عِبَادَتِيْ [ میری عبادت سے ] سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ [ وہ لوگ داخل ہوں گے جہنم میں ] دٰخِرِيْنَ [ حقیر ہونے والے ہوتے ہوئے ] نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 60 ۔ کی روح کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ آدمی دعا صرف اس ہستی سے مانگتا ہے جس کو وہ سمیع وبصیر اور فوق الفطری اقتدار (Supernatural powers) کا مالک سمجھتا ہے ۔ دعا مانگنے کا محرک دراصل آدمی کا یہ اندرونی احسان ہوتا ہے کہ عالم اسباب کے تحت فطری ذرائع اور وسائل اس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں اس لئے کسی فوق الفطری اقتدار کی مالک ہستی سے رجوع کرنا ناگزیز ہے۔ اس ہستی کو آدمی بن دیکھے ، ہر وقت ، ہر جگہ اور ہر حال میں پکارتا ہے، بآواز بلند بھی ، چپکے چپکے بھی اور دل ہی دل میں بھی ، یہ اس عقیدے کی بنا پر ہوتا ہے کہ وہ ہستی اس کو ہر جگہ ہرحال میں دیکھ رہی ہے۔ اس کے دل کی بات بھی سن رہی ہے اور اس کو ایسی قدرت حاصل ہے کہ اسے پکارنے والا جہاں بھی ہو وہ اس کی مدد کو پہنچ سکتی ہے ۔ دعا کی اس حقیقت کو جان لینے کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ جو شخص اللہ کے سوا کسی اور ہستی کو مدد کے لئے پکارتا ہے وہ درحقیقت قطعی اور خالص شرک کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ وہ اس ہستی کے اندر ان صفات کا اعتقاد رکھتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی ہی صفات ہیں ۔ دوسری بات یہ ذہن نشین کریں کہ پہلے فقرے میں جس چیز کو دعا کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اسی کو دوسرے فقرے میں عبادت کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ دعا عین عبادت ہے۔ پھر دعا نہ مانگنے والوں کے لئے فرمایا کہ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا سے منہ موڑنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی تکبر میں مبتلا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے ۔ اس مقام پر پہنچ کر وہ مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے جو بہت سے ذہنوں میں اکثر الجھن پیدا کرتا ہے ۔ کچھ لوگ دعا کے معاملے میں اس طرح سوچتے ہیں کہ جب تقدیر کی برائی اور بھلائی اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ اپنی حکمت و مصلحت سے جو فیصلہ کرچکا وہی ہونا ہے تو پھر ہمارے دعا مانگنے کا حاصل کیا ہے ۔ یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے اور اس باطل خیال میں مبتلا رہتے ہوئے اگر آدمی دعا مانگے بھی تو اس کی دعا میں کوئی روح باقی نہیں رہتی ۔ قرآن مجید کی یہ آیت اس غلط فہمی کو دو طریقوں سے رفع کرتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں فرما رہا ہے ۔ کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قضا اور تقدیر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ باندھ دیے ہوں ۔ بندے تو بلاشبہ اللہ کے فیصلوں کو ٹالنے یا بدلنے کی طاقت نہیں رکھتے مگر اللہ تعالیٰ خود یہ طاقت ضرور رکھتا ہے کہ کسی بندے کی دعائیں سن کر وہ اپنا فیصلہ بدل دے ، دوسری بات یہ ہے کہ دعا خواہ قبول ہو یا نہ ہو ، بہرحال ایک بہت بڑے فائدے سے وہ کسی صورت میں بھی خالی نہیں ہوتی کیونکہ دعا بجائے خود عبادت ہے جس کے اجر سے بندہ کسی حال میں بھی محروم نہ رہے گا ، قطع نظر اس سے کہ وہ چیز اس کو عطا کی جائے یا نہ کی جائے جس کے لئے اس نے دعا کی تھی ۔ نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں ہمیں ان مضامین کی وضاحت مل جاتی ہے ۔ (یہاں ہم صرف چند احادیث نقل کررہے ہیں ۔ مرتب) نبی کریم ﷺ نے فرمایا قضا کو کوئی چیز نہیں ٹال سکتی مگر دعا یعنی اللہ کے فیصلے کو بدل دینے کی طاقت کسی میں نہیں ہے ۔ مگر اللہ خود اپنا فیصلہ بدل سکتا ہے جب بندہ اس سے دعا مانگے ۔ 2 ۔ ایک مسلمان جب بھی کوئی دعا مانگتا ہے ، بشرطیکہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں قبول فرماتا ہے ۔ یا تو اس کی وہ دعا قبول کرلی جاتی ہے یا اسے آخرت میں اجر دینے کے لئے محفوظ رکھ لیا جاتا ہے یا اسی درجہ کی کسی آفت کو اس پر آنے سے روک دیا جاتا ہے۔ 3 ۔ دعا بہرحال نافع ہے ان بلاؤں کے معاملہ میں جو نازل ہوچکی ہیں اور ان کے معاملہ میں بھی جو نازل نہیں ہوئیں ۔ پس اے بندگان خد تم ضرور دعا مانگا کرو۔ 4 ۔ تم میں سے ہر شخص کو اپنی ہر حاجت خدا سے مانگنی چاہیے حتی کہ اس کی جوتی کا تسمہ بھی اگر ٹوٹ جائے تو خدا سے دعا کرے ۔ اس لئے کہ کسی بھی معاملہ میں ہماری کوئی تدبیر خدا کی توفیق و تائید کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے تدبیر کے ساتھ دعا بھی ضروری ہے۔ (تفہیم القرآن ۔ ج 4 ص 418 تا 422 سے ماخوذ)
Ayah 40:61

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں سکون حاصل کرو، اور دن کو روشن کیا حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے

اَللّٰهُ الَّذِيْ [ اللہ وہ ہے جس نے ] جَعَلَ لَكُمُ [ بنایا تمہارے لئے ] الَّيْلَ [ رات کو ] لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ [ تاکہ تم لوگ سکون حاصل کرو اس میں ] وَالنَّهَارَ [ اور (بنایا ) دن کو ] مُبْصِرًا ۭ [ بیان کرنے والا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَذُوْ فَضْلٍ [ یقینا (بڑے ) فضل والا ہے ] عَلَي النَّاسِ [ لوگوں پر ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ [ اور لیکن لوگوں کی اکثریت ] لَا يَشْكُرُوْنَ [شکر نہیں کرتی ]
Ayah 40:62

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

وہی اللہ (جس نے تمہارے لیے یہ کچھ کیا ہے) تمہارا رب ہے ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کدھر سے بہکائے جا رہے ہو؟

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [ یہ اللہ ] رَبُّكُمْ [ تم لوگوں کا پرورش کرنے والا ہے ] خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۘ [ جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ 5 [ مگر وہ ] فَاَنّٰى [ تو کہاں سے ] تُؤْفَكُوْنَ [ تم لوگ پھیر دیئے جاتے ہو ]
Ayah 40:63

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اِسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے

كَذٰلِكَ يُؤْفَكُ [ اس طرح پھیر دیا جاتا ہے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] كَانُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ [ اللہ کی نشانیوں کا جانتے بوجھتے انکار کیا کرتے تھے ]
Ayah 40:64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنا دیا جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی ہی عمدہ بنائی جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا وہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے بے حساب برکتوں والا ہے وہ کائنات کا رب

اَللّٰهُ الَّذِيْ [ اللہ وہ ہے جس نے ] جَعَلَ لَكُمُ [ بنایا تمہارے لئے ] الْاَرْضَ قَرَارًا [ زمین کو قرار ] وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً [ اور آسمان کو بلندی ] وَّصَوَّرَكُمْ [ اور اس نے شکل دی تم لوگوں کو ] فَاَحْسَنَ [ پھر اس نے حسن دیا ] صُوَرَكُمْ [ تمہاری صورتوں کو ] وَرَزَقَكُمْ [ اور اس نے روزی دی تمہیں ] مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ۭ [ پاکیزہ (چیزوں ) میں سے ] ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [ یہ اللہ ] رَبُّكُمْ ښ [ تمہارا پروردگار ہے ] فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ [ تو بابرکت ہوا اللہ ] [رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ : جو تمام جہانوں کا رب ہے ]
Ayah 40:65

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہی زندہ ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں اُسی کو تم پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے

هُوَ الْـحَيُّ [وہ ہی (حقیقتا ) زندہ ہے ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ [ مگر وہ ] فَادْعُوْهُ [ تو تم لوگ پکارو اس کو ] مُخْلِصِيْنَ [ خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَهُ الدِّيْنَ ۭ[ اس کے لئے دین کو ] اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ [ تمام شکر و سپاس اللہ کے لئے ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا رب ہے ]
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ مجھے تو اُن ہستیوں کی عبادت سے منع کر دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو (میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں) جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے بینات آ چکی ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے آگے سرِ تسلیم خم کر دوں

قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] اِنِّىْ نُهِيْتُ [ کہ مجھ کو منع کیا گیا ] اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ [ کہ میں بندگی کروں ان کی جن کو ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] لَمَّا [ جب (کہ ) ] جَاۗءَنِيَ [ آئیں میرے پاس ] الْبَيِّنٰتُ [واضح (نشانیاں) ] مِنْ رَّبِّيْ ۡ [ میرے رب سے ] وَاُمِرْتُ [ اور مجھ کو حکم دیا گیا ] اَنْ اُسْلِمَ [ کہ میں تابعداری کروں ] لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب کی ]
Ayah 40:67

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تاکہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جاؤ، پھر اور بڑھاتا ہے تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقرر وقت تک پہنچ جاؤ، اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو

هُوَ الَّذِيْ [ وہ، وہ ہے جس نے ] خَلَقَكُمْ [ پیدا کیا تم لوگوں کو ] مِّنْ تُرَابٍ [ ایک مٹی سے ] ثُمَّ مِنْ نُّــطْفَةٍ [ پھر ایک بوند سے ] ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ [ پھر ایک لوتھڑے سے ] ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ [ پھر وہ نکالتا ہے تم کو ] طِفْلًا [ ایک بچے ( کی صورت دیتے ہوئے ) ] ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا [ تاکہ پھر تم لوگ پہنچو ] اَشُدَّكُمْ [ اپنی پختگی کو ] ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا [ تاکہ پھر تم لوگ ہوجاؤ] شُيُوْخًا ۚ [ بوڑھے ] وَمِنْكُمْ مَّنْ [ اور تم میں وہ بھی ہے جس کو ] يُّتَوَفّٰى [ وفات دی جاتی ہے ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَلِتَبْلُغُوْٓا [ اور تاکہ تم لوگ پہنچو ] اَجَلًا مُّسَمًّى [ ایک معین مدت کو ] وَّلَعَلَّكُمْ [ اور شاید کہ تم لوگ ] تَعْقِلُوْنَ [ عقل استعمال کرو ]
Ayah 40:68

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی ہے زندگی دینے والا، اور وہی موت دینے والا ہے وہ جس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے، بس ایک حکم دیتا ہے کہ وہ ہو جائے اور وہ ہو جاتی ہے

هُوَ الَّذِيْ [وہ، وہ ہے جو ] يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۚ [ زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے ] فَاِذَا قَضٰٓى [ تو جب بھی وہ فیصلہ کرتا ہے ] اَمْرًا [ کسی کام کا ] فَاِنَّمَا [ تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَـقُوْلُ لَهٗ [ وہ کہتا ہے اس سے ] كُنْ [ تو ہوجا ] فَيَكُوْنُ [ تو وہ ہوجاتا ہے ] نوٹ ۔ 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر ہے جن کے لئے کٹر سے کٹر مشرک بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہ کام صرف اللہ ہی کرسکتا ہے ۔ ان میں سے کسی کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ ان کے دیوی دیوتا یا بزرگ و اولیاء میں سے کوئی یہ کام کرسکتا ہے ۔ اس حقیقت کا منطقی تقاضہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے صرف اسی کو پکارا جائے اور صرف اسی سے مانگا جائے۔ اس حقیقت کو مانتے ہوئے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو وہی پکارے گا جس کی عقل الٹی پھیر دی گئی ہو ۔ (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماخوذ)
Ayah 40:69

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں، کہاں سے وہ پھرائے جا رہے ہیں؟

اَلَمْ تَرَ [ کیا آپ نے غور نہیں کیا ] اِلَى الَّذِيْنَ [ان کی طرف جو ] يُجَادِلُوْنَ [ مناظرہ کرتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی آیات میں ] اَنّٰى [ (کہ) کہاں سے ] يُصْرَفُوْنَ [ وہ لوگ ہٹائے جاتے ہیں ]
Ayah 40:70

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

یہ لوگ جو اِس کتاب کو اور اُن ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں؟عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا

الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا [ جنھوں نے جھٹلایا ] بِالْكِتٰبِ [ اس کتاب کو ] وَبِمَآ [ اور اس کو ] اَرْسَلْنَا بِهٖ [ ہم نے بھیجا جس کے ساتھ ] رُسُلَنَا ڕ [ اپنے رسولوں کو ] فَسَوْفَ [ تو عنقریب ] يَعْلَمُوْنَ [ وہ لوگ جان لیں گے ]
Ayah 40:71

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے، اور زنجیریں، جن سے پکڑ کر

اِذِ الْاَغْلٰلُ [ جب طوق ] فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ [ ان کی گردنوں میں ہوں گے ] وَالسَّلٰسِلُ ۭ [ اور زنجیریں ] يُسْحَبُوْنَ [ وہ لوگ گھسیٹے جائیں گے ] س ل س ل : (رباعی ) سلسلۃ ۔ ایک چیز کو دوسری چیز سے جوڑنا ۔ سلسلۃ ۔ ج : سلاسل ، زنجیر ۔ آیت ۔ ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا [ ایک ایسی زنجیر میں جس کی لمبائی ستر بازو ہیں ] 69:32، اور۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 71 ۔
Ayah 40:72

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

وہ کھولتے ہوئے پانی کی طرف کھینچے جائیں گے اور پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیے جائیں گے

فِي الْحَمِيْمِ ڏ [ گرم (پانی) میں ] ثُمَّ فِي النَّارِ [ پھر آگ میں ] يُسْجَرُوْنَ [ جھونکے جائیں گے ] س ج ر : (ن) سجرا ۔ تنور میں ایندھن ڈال کے اسے گرم کرنا ۔ (1) ڈالنا ۔ جھونکنا ۔ (2) بھڑکانا ۔ جوش دینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 72 ۔ مسجور ۔ اسم المفعول ہے۔ جوش دیا ہوا ۔ آیت ۔ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ [ قسم ہے جوش دیئے ہوئے سمندر کی ] 52:6 ۔ (تفعیل ) تسجیرا [خوب بھڑکانا ۔ خوب جوش دینا ۔ آیت ۔ وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ [اور جب سمندروں کو خوب جوش دیا جائے گا ] 81:6 ۔
Ayah 40:73

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر اُن سے پوچھا جائے گا کہ اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ دوسرے خدا جن کو تم شریک کرتے تھے؟

ثُمَّ قِيْلَ لَهُمْ [ پھر کہا جائے گا ان سے ] اَيْنَ [ کہاں ہے ] مَا [ وہ جس کو ] كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ [ تم لوگ شریک کیا کرتے تھے ]
Ayah 40:74

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے "کھوئے گئے وہ ہم سے، بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے" اِس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کر دے گا

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے سوا ] قَالُوْا [ وہ لوگ کہیں گے ] ضَلُّوْا [ وہ سب بھٹک گئے (گم ہوگئے ) ] عَنَّا [ہم سے ] بَلْ لَّمْ نَكُنْ [ بلکہ ہم تھے ہی نہیں ] نَّدْعُوْا [ (کہ ) ہم پکارتے تھے ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] شَـيْـــــًٔا ۭ [ کسی چیز کو ] كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ [ اسی طرح بھٹکا دیتا ہے اللہ ] الْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کو ]
Ayah 40:75

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

اُن سے کہا جائے گا "یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم زمین میں غیر حق پر مگن تھے اور پھر اُس پر اتراتے تھے

ذٰلِكُمْ [ یہ ] بِمَا [ اس سبب سے ہے جو ] كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ [ تم لوگ شاداں پھیرا کرتے تھے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ [ حق کے بغیر ] وَبِمَا [ اور اس سبب سے ہے جو ] كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ [ تم لوگ اٹھلایا کرتے تھے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 75 ۔ میں تفرحون کے معنی ہیں خوش ہونا۔ مسرور ہونا ۔ جبکہ تمرحون کے معنی ہیں اترانا ۔ فخر و غرور میں مبتلا ہونا، مرح تو مطلقا حرام ہے اور فرح میں یہ تفصیل ہے کہ مال و دولت کے نشہ میں خدا کو بھول کر گناہوں پر خوش ہونا، یہ تو ناجائز ہے۔ اور فرح کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ دنیا کی نعمتوں اور راحتوں کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھ کر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا ۔ یہ جائز بلکہ مستحب ہے ۔ اس آیت میں مرح کے ساتھ کوئی قید نہیں لگائی گئی کیونکہ یہ مطلقا سبب عذاب ہے ۔ جبکہ فرح کے ساتھ بغیر الحق کی قید لگا کر بتادیا کہ ناحق اور ناجائز لذتوں پر خوش ہونا حرام ہے اور حق و جائز نعمتوں پر بطور شکر کے خوش ہونا عبادت اور ثواب ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 40:76

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا"

اُدْخُلُوْٓا [ تم سب داخل ہو ] اَبْوَابَ جَهَنَّمَ [ جہنم کے دروازوں میں ] خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ] فَبِئْسَ [ تو کیا ہی بری ہے ] مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ [بڑا بننے والوں کی قیام گاہ ]
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، صبر کرو، اللہ کا وعدہ برحق ہے اب خواہ ہم تمہارے سامنے ہی اِن کو اُن برے نتائج کا کوئی حصہ دکھا دیں جن سے ہم اِنہیں ڈرا رہے ہیں، یا (اُس سے پہلے) تمہیں دنیا سے اٹھا لیں، پلٹ کر آنا تو اِنہیں ہماری ہی طرف ہے

فَاصْبِرْ [ تو آپ ڈٹے رہیں ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [ یقینا اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ ۚ [ بڑا پکا ہے ] فَاِمَّا [ پھر اگر ] نُرِيَنَّكَ [ ہم دکھا ہی دیں آپ کو ] بَعْضَ الَّذِيْ [ اس کا کچھ جس سے ] نَعِدُهُمْ [ ہم ڈراتے ہیں ان کو ] اَوْ نَتَـوَفَّيَنَّكَ [ یا ہم وفات ہی دیں آپ کو ] فَاِلَيْنَا [ تو ہماری طرف ہی ] يُرْجَعُوْنَ [ یہ سب لوٹائے جائیں گے ] نوٹ ۔ 2: آیت 77 ۔ میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ ان کی حرکتوں پر صبر کرو ۔ جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے ۔ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو وہ لازما ظہور میں آکر رہے گا ، یا تو تمہاری زندگی میں ہی اس کا کچھ حصہ ظہور میں آئے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو بالاخر انھیں ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے تو ہم آخرت میں ان کو اس کا مزا چکھائیں گے ۔ (تدبر قرآن ) اس آیت معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس کے منتظر تھے کہ کافروں کو عذاب ملے ، کافروں کے عذاب کا انتظار شان رحمۃ للعالمین کے منافی ہے ۔ لیکن جب مجرموں کو سزا دینے سے مقصد مظلوموں کو تسلی دینا ہو تو مجرموں کو سزا دینا شفقت ورحمت کے منافی نہیں ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اے نبیؐ، تم سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کر دیا گیا اور اُس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑ گئے

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [ اور بیشک ہم بھیج چکے ] رُسُلًا [ کچھ رسول ] مِّنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] مِنْهُمْ مَّنْ [ ان میں وہ بھی ہیں جن کو ] قَصَصْنَا عَلَيْكَ [ ہم نے بیان کیا آپ پر ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جن کو ] لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ ۭ [ ہم نے نہیں بیان کیا آپ پر ] وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ [ اور نہیں تھا کسی رسول کے لئے ] اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ [ کہ وہ لائے کوئی نشانی (معجزہ ) ] اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ [ مگر اللہ کی اجازت سے ] فَاِذَا جَاۗءَ اَمْرُ اللّٰهِ [ پھر جب آئے گا اللہ کا حکم ] قُضِيَ بِالْحَقِّ [ تو فیصلہ کیا جائے گا حق کے ساتھ ] وَخَسِرَ [ اور گھاٹے میں رہیں گے ] هُنَالِكَ [ وہاں ] الْمُبْطِلُوْنَ [باطل کرنے والے ]
Ayah 40:79

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ

اَللّٰهُ الَّذِيْ [ اللہ وہ ہے جس نے ] جَعَلَ لَكُمُ [ بنائے تمہارے لئے ] الْاَنْعَامَ [ چوپائے ] لِتَرْكَبُوْا [ تاکہ تم لوگ سواری کرو ] مِنْهَا [ ان میں سے (بعض پر) ] وَمِنْهَا [ اور ان (ہی) میں سے ] تَاْكُلُوْنَ [تم لوگ کھاتے ہو ]
Ayah 40:80

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں وہ اس کام بھی آتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو وہاں تم اُن پر پہنچ سکو اُن پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو

وَلَكُمْ فِيْهَا [ اور تمہارے لئے ان میں ] مَنَافِعُ [کچھ فائدے ہیں ] وَلِتَبْلُغُوْا [ اور تاکہ تم لوگ پہنچو ] عَلَيْهَا [ ان پر (سوار ہوکر ) ] حَاجَةً [ کسی ایسی ضرورت کو جو ] [فِيْ صُدُوْرِكُمْ : تمہارے سینوں میں ہے ] وَعَلَيْهَا وَعَلَي الْفُلْكِ [ اور ان پر اور کشتیوں پر ] تُحْمَلُوْنَ [ تم لوگ سوار کیے جاتے ہو ]