39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [اس کتاب کا نازل کرنا ] مِنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف) سے ہے ] الْعَزِيْزِ [جو بالادست ہے ] الْحَكِيْمِ [جو حکمت والا ہے ] ۔
Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

(اے محمدؐ) یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے، لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو دین کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ [بیشک ہم نے نازل کیا ] اِلَيْكَ الْكِتٰبَ [آپ ﷺ کی طرف اس کتاب کو ] بِالْحَقِّ [کل حق کے ساتھ ] فَاعْبُدِ اللّٰهَ [تو آپ ﷺ بندگی کریں اللہ کی ] مُخْلِصًا [خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَّهُ الدِّيْنَ [اس کے لئے دین کو ] ۔
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

خبردار، دین خالص اللہ کا حق ہے رہے وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں (اور اپنے اِس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں، اللہ یقیناً اُن کے درمیان اُن تمام باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو

اَلَا [خبردار !] لِلّٰهِ [اللہ کے لئے ہی ] الدِّيْنُ الْخَالِصُ ۭ [خالص دین ہے ] وَالَّذِيْنَ [اور جن لوگوں نے ] اتَّخَذُوْا [بنائے ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [اس کے علاوہ ] اَوْلِيَاۗءَ ۘ [کچھ کارساز ] مَا نَعْبُدُ [(وہ لوگ کہتے ہیں) ہم بندگی نہیں کرتے ] هُمْ [ان لوگوں کی ] اِلَّا [سوائے اس کے کہ ] لِيُقَرِّبُوْنَآ [تاکہ وہ لوگ قریب کردیں ہم کو ] اِلَى اللّٰهِ [اللہ کی طرف ] زُلْفٰى ۭ [بلحاظ زیادہ قریب ہونے کے ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ [فیصلہ کرے گا ان کے درمیان ] فِيْ مَا [اس (کے بارے) میں ] هُمْ فِيْهِ [یہ لوگ جس میں ] يَخْتَلِفُوْنَ ڛ [اختلاف کرتے ہیں ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَا يَهْدِيْ [ہدایت نہیں دیتا ] مَنْ [اس کو جو (کہ)] هُوَ كٰذِبٌ[وہ جھوٹا ہو ] كَفَّارٌ [بار بار ناشکری کرنے والا ہو ] ۔
Ayah 39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا برگزیدہ کر لیتا، پاک ہے وہ اس سے (کہ کوئی اُس کا بیٹا ہو)، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ [اگر ارادہ کرتا اللہ ] اَنْ يَّتَّخِذَ [کہ وہ بنائے ] وَلَدًا [کوئی اولاد ] لَّاصْطَفٰى [تو وہ چن لیتا ] مِمَّا [اس میں سے جو ] يَخْلُقُ [وہ پیدا کرتا ہے ] مَا [اس کو جسے ] يَشَاۗءُ ۙ [وہ چاہتا ] سُبْحٰنَهٗ ۭ [(لیکن) اس کی پاکیزگی ہے ] هُوَ اللّٰهُ [وہی اللہ ہے ] الْوَاحِدُ [جو واحد ہے ] الْقَهَّارُ [جو قہار ہے ] ۔
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے وہی دن پر رات اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے اُسی نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخر کر رکھا ہے کہ ہر ایک ایک وقت مقرر تک چلے جا رہا ہے جان رکھو، وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے

خَلَقَ [اس نے پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [آسمانوں کو اور زمین کو ] بِالْحَـقِّ ۚ [حق کے ساتھ ] يُكَوِّرُ [وہ لپیٹتا ہے ] الَّيْلَ عَلَي النَّهَارِ [رات کو دن پر ] وَيُكَوِّرُ [اور وہ لپیٹتا ہے ] النَّهَارَ عَلَي الَّيْلِ [دن کو رات پر ] وَسَخَّرَ [اور اس نے مسخر کیا ] الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ [سورج کو اور چاند کو ] كُلٌّ يَّجْرِيْ [سب رواں دواں ہیں ] لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ [ایک معین مدت کے لئے ] اَلَا [سن لو !] هُوَ الْعَزِيْزُ [وہ ہی بالادست ہے ] الْغَفَّارُ [بار بار بخشنے والا ہے ] ۔ ک و ر (ن) کورا سر پر پگڑی باندھنا۔ کسی چیز کو پگڑی کی طرح اوپر تلے گھما کر لپیٹنا۔ (تفعیل) تکویرا کثرت سے لپیٹنا۔ وقفہ وقفہ سے لپیٹنے رہنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اُسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر وہی ہے جس نے اُس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نر و مادہ پیدا کیے وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے یہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے، بادشاہی اسی کی ہے، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے، پھر تم کدھر سے پھرائے جا رہے ہو؟

خَلَقَكُمْ [اس نے پیدا کیا تم لوگوں کو ] مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ [ایک تنہا جان سے ] ثُمَّ جَعَلَ [پھر اس نے بنایا ] مِنْهَا [اس (جان) سے ] زَوْجَهَا [اس کا جوڑا ] وَاَنْزَلَ لَكُمْ [اور اس نے اتارے تمہارے لئے ] مِّنَ الْاَنْعَامِ [مویشیوں میں سے ] ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۭ [آٹھ جوڑے ] يَخْلُقُكُمْ [وہ پیدا کرتا ہے تم لوگوں کو ] فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ [تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ] خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ [ایک (طرح) پیدا کرنے کے بعد ایک (دوسری طرح) پیدا کرنا ] فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ۭ [تین اندھیروں میں ] ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [یہ اللہ ] رَبُّكُمْ [تم لوگوں کی پرورش کرنے والا ہے ] لَهُ الْمُلْكُ ۭ [اس کو ہی بادشاہت ہے ] لَآ اِلٰهَ [کوئی الٰہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ ۚ [مگر وہی ] فَاَنّٰى [تو کہاں سے ] تُصْرَفُوْنَ [تم لوگ پھیرے جاتے ہو ] ۔ نوٹ۔ 1: متعدد آیات قرآن اس پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اعمال کا حساب گنتی سے نہیں بلکہ وزن سے ہوتا ہے۔ اور یہاں الا للہ الدین الخالص نے بتلا دیا کہ اللہ کے نزدیک اعمال کی قدر اور وزن بقدر اخلاص ہوتا ہے۔ اخلاصِ کامل یہ ہے کہ اللہ کے سوا نہ کسی کو نفع و نقصان کا مالک سمجھے، نہ اپنے کاموں میں کسی غیر اللہ کو متصرف جانے، نہ کسی طاعت و عبادت میں غیر اللہ کا اپنے تصور میں دھیان آنے دے۔ غیر اختیار وساوس کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ صحابہ کرام جو مسلمانوں کی صفتِ اول ہیں ان کے اعمال وریاضات کی تعداد کچھ زیادہ نظر نہ آئے گی۔ مگر اس کے باوجود ان کا ایک ادنیٰ عمل باقی امت کے بڑے سے بڑے اعمال سے فائق ہونے کی وجہ ان کا کمال اخلاص ہی تو ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں بعض اوقات کوئی صدقہ و خیرات کرتاہوں یا کسی پر احسان کرتاہوں جس میں میری نیت اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کی بھی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ لوگ میری تعریف وثنا کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں فرماتے، جس میں کسی غیر کو شریک کیا گیا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت بطور استدلال تلاوت فرمائی الا للہ الدین الخالص۔ (معارف القرآن)
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کر و تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا آخرکار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے

اِنْ تَكْفُرُوْا [اگر تم لوگ ناشکری کرتے ہو ] فَاِنَّ اللّٰهَ [تو بیشک اللہ ] غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۣ [بے نیاز ہے تم لوگوں سے ] وَلَا يَرْضٰى [اور وہ پسند نہیں کرتا ] لِعِبَادِهِ [اپنے بندوں کے لئے ] الْكُفْرَ ۚ [ناشکری کرنے کو ] وَاِنْ تَشْكُرُوْا [اور اگر تم لوگ شکر کرتے ہو ] يَرْضَهُ [تو وہ پسند کرے گا اس کو ] لَكُمْ ۭ [تمہارے لئے ] وَلَا تَزِرُ [اور نہیں اٹھائے گی ] وَازِرَةٌ [کوئی اٹھانے والی (جان)] وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ [کسی دوسری کا بوجھ ] ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ [پھر تم لوگوں کے رب کی طرف ہی ] مَّرْجِعُكُمْ [تم سب کا لوٹنا ہے ] فَيُنَبِّئُكُمْ [پھر وہ جتلا دے گا تم سب کو ] بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۭ [وہ جو تم لوگ کرتے تھے ] اِنَّهٗ عَلِـيْمٌۢ [بیشک وہ جاننے والا ہے ] بِذَاتِ الصُّدُوْرِ [سینوں والی (بات) کو ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 7 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا۔ اس حوالہ سے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضادوسری چیز ہے۔ دنیا میں کوئی کام بھی اللہ کی مشیت کے خلاف نہیں ہوسکتا، مگر اس کی رضا کے خلاف بہت سے کام ہوسکتے ہیں اور رات دن ہوتے رہتے ہیں۔ مثلا ظالموں کا حکمراں ہونا یا چوروں اور ڈاکوؤں کا پایا جانا۔ یہ اسی لئے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بنائے ہوئے نظام میں اشرار کے وجود اور برائیوں کے ظہور کی گنجائش رکھی ہے۔ یہ سب کچھ بر بنائے مشیت ہے۔ لیکن مشیت کے تحت کسی فعل کا صدور یہ معنی نہیں رکھتا کہ اللہ کی رضا بھی اس کو حاصل ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ ایک شخص اگر حرام کے ہی ذریعہ سے اپنا رزق ھاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ اسی ذریعہ سے اس کو رزق دے دیتا ہے۔ یہ اس کی مشیت ہے مگر مشیت کے تحت چور یا ڈاکو یا رشوت خور کو رزق دینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چوری، ڈاکے اور رشوت کو اللہ پسند بھی کرتا ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ یہاں فرمارہا ہے کہ تم کفر کرنا چاہتے ہو تو کرو۔ اس سے روک کر ہم تمہیں زبردستی مومون نہیں بنائیں گے مگر ہمیں یہ پسند نہیں ہے کیونکہ یہ تمہارے ہی لیے نقصان دہ ہے، ہماری خدائی کا اس سے کچھ بھی نہیں بگڑتا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتا ہے پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اُس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھیراتا ہے تاکہ اُس کی راہ سے گمراہ کرے (اے نبیؐ) اُس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لطف اٹھا لے، یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے

وَاِذَا مَسَّ [اور جب کبھی چھوتی ہے ] الْاِنْسَانَ ضُرٌّ [انسان کو کوئی تکلیف ] دَعَا رَبَّهٗ [تو وہ پکارتا ہے اپنے رب کو ] مُنِيْبًا [متوجہ ہونے والا ہوتے ہوئے ] اِلَيْهِ [اس کی طرف ] ثُمَّ اِذَا [پھر جب ] خَوَّلَهٗ [وہ عطا کرتا ہے اس کو ] نِعْمَةً [کوئی نعمت ] مِّنْهُ [اپنی طرف سے ] نَسِيَ [تو وہ بھول جاتا ہے ] مَا [اس کو جو ] كَانَ يَدْعُوْٓا [وہ پکارتا رہتا تھا ] اِلَيْهِ [اس کی طرف ] مِنْ قَبْلُ [اس سے پہلے ] وَجَعَلَ لِلّٰهِ [اور وہ بناتا ہے اللہ کے لئے ] اَنْدَادًا [کچھ ہم پلہ ] لِّيُضِلَّ [تاکہ وہ بہکائے (کسی کو)] عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭ [اس کی راہ سے ] قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] تَمَــتَّعْ [تو فائدہ اٹھالے ] بِكُفْرِكَ [اپنے انکار کرنے سے ] قَلِيْلًا ڰ [تھورا سا ] اِنَّكَ [بیشک تو ] مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ [آگ والوں میں سے ہے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت 8 میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ انسان کی فطرت کے اندر ایک خدا کے سوا کسی اور الٰہ کا کوئی شعور نہیں ہے۔ اس وجہ سے جب اس پر کسی مشکل کی حالت طاری ہوتی ہے تو ہ اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس سے دعا و فریاد کرتا ہے۔ لیکن جب اس کی مصیبت دور ہوجاتی ہے تو وہ مصیبت کو بھی بھول جاتا ہے اور خدا سے بھی بےنیاز ہوجاتا ہے۔ اور خدا کی بخشی ہوئی نعمت کو یا تو اپنے فرضی دیویوں اور دیوتاؤں سے منسوب کرتا ہے یا اپنی تدبیر اور اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ قرار دیتا ہے۔ اس طرح خود شریک خدا بن جاتا ہے۔ (تدبر قرآن) ۔ اور صرف خود گمراہ ہونے پر اکتفا نہیں کرتابل کہ دوسروں بھی یہ کہہ کر گمراہ کرتا ہے کہ جو آفت مجھ پر آئی تھی وہ فلاں حضرت یا فلاں بزرگ یا فلاں دیوی یا دیوتا کے صدقے ٹل گئی۔ اس سے دوسرے بہت سے لوگ بھی ان معبودانِ غیر اللہ کے معتقد بن جاتے ہیں اور ہر جاہل اپنے اسی طرح کے تجربات بیان کر کرکے عوام کو اس گمراہی میں بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

(کیا اِس شخص کی روش بہتر ہے یا اُس شخص کی) جو مطیع فرمان ہے، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے؟ اِن سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں

اَمَّنْ [یا وہ جو ہے (کہ)] هُوَ قَانِتٌ [وہ فرمانبرداری کرنے والا ہے ] اٰنَاۗءَ الَّيْلِ [رات کی گھڑیوں میں ] سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا [سجدہ کرنے والا اور قیام کرنے والا ہوتے ہوئے ] يَّحْذَرُ [وہ ڈرتا ہے ] الْاٰخِرَةَ [آخرت سے ] وَيَرْجُوْا [اور وہ امید رکھتا ہے ] رَحْمَةَ رَبِّهٖ ۭ [اپنے رب کی رحمت کی ] قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] هَلْ يَسْتَوِي [کیا برابر ہوں گے ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو ] يَعْلَمُوْنَ [علم رکھتے ہیں ] وَالَّذِيْنَ [اور وہ جو ] لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ [لا علم ہوتے ہیں ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَتَذَكَّرُ [نصیحت پکڑتے ہیں ] اُولُوا الْاَلْبَابِ [خالص (غیر متعصب) عقل والے ] ۔ نوٹ۔ 3: آیت ۔ 9 سے معلوم ہوا کہ رات کے نوافل و عبادت دن کے نوافل سے افضل ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مومن کے لئے لازم ہے کہ وہ خوف اور امید کے درمیان میں رہے۔ اپنے عمل میں کوتاہیوں پر نظر کرکے عذاب سے ڈرتا رہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار رہے۔ دنیا میں بالکل بےخوف ہونا یا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مطلقا مایوس ہونا، یہ دونوں قرآن میں کفار کی حالتیں بتائی گئی ہیں۔ (تفسیر نعیمی) نوٹ۔ 4: ایک اہم بات یہ نوٹ کرلیں کہ آیت 8 اور 9 میں دو اسم کے انسانوں کے درمیان مقابلہ کیا گیا ہے۔ ایک وہ جو کسی سخت وقت پڑنے پر تو اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور عام حالات میں غیر اللہ کی بندگی کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے وہ جنھوں نے اللہ کی ہی بندگی کو اپنا مستقل طریقہ بنا لیا ہے اور راتوں کی تنہائی میں ان کا عبادت کرنا ان کے خلوص کی دلیل ہے۔ پہلے گروہ والوں کو اللہ تعالیٰ بےعلم قرار دیتا ہے خواہ انھوں نے بڑے بڑے کتب خانے ہی کیوں نہ چاٹ رکھے ہوں۔ اور دوسرے گروہ کو وہ عالم قرار دیتا ہے خواہ وہ بالکل ہی اَن پڑھ ہوں کیونکہ اصل چیز حقیقت کا علم اور اس کے مطابق عمل ہے اور اسی پر انسان کی فلاح کا انحصار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دونوں آخر یکساں کیسے ہوسکتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

(اے نبیؐ) کہو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے ڈرو جن لوگوں نے اِس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے اور خدا کی زمین وسیع ہے، صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا

قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے (یعنی میرا پیغام پہنچا دیجئے)] يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ [اے میرے وہ بندوں جو ] اٰمَنُوا [ایمان لائے ] اتَّقُوْا [تم لوگ تقوی اختیار کرو ] رَبَّكُمْ ۭ [اپنے رب کا ] لِلَّذِيْنَ [ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ] اَحْسَنُوْا [بھلائی کی ] فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا [اس دنیا میں ] حَسَـنَةٌ ۭ [ایک بھلائی ہے ] وَاَرْضُ اللّٰهِ [اور اللہ کی زمین ] وَاسِعَةٌ ۭ [وسیع ہے ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُوَفَّى [پورا پورا دیا جاتا ہے ] الصّٰبِرُوْنَ [ثابت قدم رہنے والوں کو ] اَجْرَهُمْ [ان کا اجر ] بِغَيْرِ حِسَابٍ [کسی حساب کے بغیر ] ۔ نوٹ۔ 1: امام مالک آیت ۔ 10 میں صابرین سے مراد وہ لوگ لیتے ہیں جو دنیا کے مصائب اور رنج وغم پر صبر کرنے والے ہیں۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ صابرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو گناہوں سے اپنے نفس کو روکیں۔ قرطبی فرماتے ہیں کہ لفظ صابر جب کسی دوسرے لفظ کے بغیر بولا جاتا ہے تو اس سے مراد یہی ہوتا ہے کہ جو اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھنے کی مشقت پر صبر کرے۔ اور مصیبت پر صبر کرنے والے کے لئے جب لفظ صابر بولاجاتا ہے تو صابر علیٰ کذا کے الفاظ بولے جاتے ہیں یعنی فلاں مصیبت پر صبر کرنے والا۔ (معارف القرآن) اس کا مطلب یہ ہے کہ امام مالک نے اس آیت میں لفظ صابرین کے بعد علیٰ کذا کو محذوف مانا ہے۔ (مرتب)
Ayah 39:11

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

(اے نبیؐ) اِن سے کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُس کی بندگی کروں

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنِّىْٓ اُمِرْتُ [کہ مجھے حکم دیا گیا ] اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ [کہ میں بندگی کروں اللہ کی ] مُخْلِصًا [خالص کرنے والا ہوتے ہوئے ] لَّهُ الدِّيْنَ [اس کے لئے دین کو ] ۔
Ayah 39:12

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں

وَاُمِرْتُ [اور مجھے حکم دیا گیا ] لِاَنْ اَكُوْنَ [کہ میں ہوجاؤں ] اَوَّلَ الْمُسْلِمِيْنَ [فرمانبرداری کرنے والوں کا پہلا ] ۔
Ayah 39:13

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنِّىْٓ اَخَافُ [کہ میں ڈرتا ہوں ] اِنْ عَصَيْتُ [اگر میں نافرمانی کروں ] رَبِّيْ [اپنے رب کی ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ایک عظیم دن کے عذاب سے ] ۔
Ayah 39:14

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُسی کی بندگی کروں گا

قُلِ [آپ ﷺ کہیے ] اللّٰهَ [اللہ کی ہی ] اَعْبُدُ [میں بندگی کرتا ہوں ] مُخْلِصًا [خالص کرنے والا ہوتے ہوئے ] لَّهٗ [اس کے لئے ] دِيْنِيْ [اپنے دین کو ] ۔
Ayah 39:15

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تم اُس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو کہو، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈال دیا خوب سن رکھو، یہی کھلا دیوالہ ہے

فَاعْبُدُوْا [تو تم لوگ بندگی کرو ] مَا [اس کی جس کی ] شِئْتُمْ [تم چاہو ] مِّنْ دُوْنِهٖ ۭ [اس کے علاوہ ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ [یقینا گھاٹا پانے والے ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ ہیں جنہوں نے ] خَسِرُوْٓا [گھاٹے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [اپنی جانوں کو ] وَاَهْلِيْهِمْ [اور اپنے گھر والوں کو ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [قیامت کے دن ] اَلَا ذٰلِكَ هُوَ [خبردار یہ ہی ] الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ [کھلا ہوا انتہائی گھاٹا ہے ] ۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

اُن پر آگ کی چھتریاں اوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، پس اے میرے بندو، میرے غضب سے بچو

لَهُمْ [ان کے لئے ] مِّنْ فَوْقِهِمْ [ان کے اوپر سے ] ظُلَــلٌ [کچھ سائبان ہیں ] مِّنَ النَّارِ [آگ میں سے ] وَمِنْ تَحْتِهِمْ [اور ان کے نیچے سے ] ظُلَــلٌ ۭ [کچھ سائبان ہیں ] ذٰلِكَ [یہ ہے ] يُخَــوِّفُ اللّٰهُ [ڈراتا ہے اللہ ] بِهٖ [جس سے ] عِبَادَهٗ ۭ [اپنے بندوں کو ] يٰعِبَادِ [اے میرے بندوں ] فَاتَّقُوْنِ [تو تم لوگ تقویٰ اختیار کرو میرا ] ۔
Ayah 39:17

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو

وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا [اور وہ لوگ جو بچے ] الطَّاغُوْتَ [سرکشی کے سرغنوں سے ] اَنْ يَّعْبُدُوْهَا [کہ وہ لوگ بندگی کریں ان کی ] وَاَنَابُوْٓا [اور انھوں نے رخ کیا ] اِلَى اللّٰهِ [اللہ کی طرف ] لَهُمُ [ان کے لئے ہی ] [الْبُشْرٰى ۚ : وہ بڑی خوشخبری ہے ] فَبَشِّرْ [تو آپ ﷺ خوشخبری دے دیں ] عِبَادِ [میرے بندوں کو ] ۔
Ayah 39:18

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں

الَّذِيْنَ [ان کو جو ] يَسْتَمِعُوْنَ [دھیان سے سنتے ہیں ] الْقَوْلَ [بات کو ] فَيَتَّبِعُوْنَ [پھر پیروی کرتے ہیں ] اَحْسَنَهٗ ۭ [اس کے بہترین کی ] اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [یہ وہ لوگ ہیں ] هَدٰىهُمُ اللّٰهُ [ہدایت دی جن کو اللہ نے ] وَاُولٰۗىِٕكَ هُمْ [اور یہ لوگ ہی ] اُولُوا الْاَلْبَابِ [خالص عقل والے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 18 کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ہر آواز کے پیچھے نہیں لگ جاتے بلکہ ہر ایک کی بات سن کر اس پر غور کرتے ہیں اور جو حق بات ہوتی ہے اسے قبول کرلیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ بات کو سن کر غلط معنی پہنانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اس کے اچھے اور بہتر پہلو کو اختیار کرتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

(اے نبیؐ) اُس شخص کو کون بچا سکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہو؟ کیا تم اُسے بچا سکتے ہو جو آگ میں گر چکا ہو؟

اَفَمَنْ [تو کیا وہ ] حَقَّ [ثابت ہوا ] عَلَيْهِ [جس پر ] كَلِمَةُ الْعَذَابِ ۭ [عذاب کا فرمان ] اَفَاَنْتَ [تو کیا آپ ﷺ ] تُنْقِذُ [چھڑا لیں گے ] مَنْ فِي النَّارِ [اس کو جو آگ میں ہے ] ۔
Ayah 39:20

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے اُن کے لیے بلند عمارتیں ہیں منزل پر منزل بنی ہوئی، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا

لٰكِنِ الَّذِيْنَ [لیکن وہ لوگ جنہوں نے ] اتَّــقَوْا رَبَّهُمْ [تقوی اختیار کیا اپنے رب کا ] لَهُمْ غُرَفٌ [ان کے لئے بالاخانے ہیں ] مِّنْ فَوْقِهَا [ان کے اوپر سے ] [غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ ۙ : سجے سجائے بالاضانے میں ] تَجْرِيْ [بہتی ہیں ] مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ڛ [جن کے نیچے سے نہریں ] وَعْدَ اللّٰهِ ۭ[(وعدہ ہوا) جیسا اللہ کے وعدے کا حق ہے ] لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ [خلاف نہیں کرتا اللہ ] الْمِيْعَادَ [وعدے کے ] ۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں، پھر آخرکار اللہ اُن کو بھس بنا دیتا ہے در حقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے

اَلَمْ تَرَ [کیا تو نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ [کہ اللہ نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً [آسمان سے کچھ پانی ] فَسَلَكَهٗ [پھر اس نے چلایا اس (پانی) کو ] يَنَابِيْعَ [بطور چشموں کے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ [پھر وہ نکالتا ہے اس سے ] زَرْعًا [ایک کھیتی ] مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ [مختلف ہوتے ہوئے اس کے رنگ ] ثُمَّ يَهِيْجُ [پھر وہ مرجھاتی ہے ] فَتَرٰىهُ [تو تو دیکھتا ہے اس کو ] مُصْفَرًّا [پپلی پڑتے ہوئے ] ثُمَّ يَجْعَلُهٗ [پھر وہ کردیتا ہے اس کو ] حُطَامًا ۭ [ریزہ ریزہ ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَذِكْرٰى [نصیحت ہے ] لِاُولِي الْاَلْبَابِ [خالص عقل والوں کے لئے ] ۔ ہ ـ ی ج (ض) ھیجا (1) جوش میں آنا۔ ہیجان پیدا ہونا۔ چڑھنا۔ (2) کھیتی یا گھاس کا مرجھاجانا۔ سوکھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 21 ۔ ترکیب : آیت 21 لفظ ھاج ۔ یھیجُ دو معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں دونوں معانی لینے کی گنجائش ہے۔ اس لئے دونوں طرح سے ترجمے درست مانے جائیں گے۔ مَبنیۃٌ اسم المفعول ہے یعنی بنایا ہوا۔ ” یہاں یہ لفظ آراست وپیراست (Furnished) کے مفہوم میں ہے۔ عربی میں بنی الدار جس طرح مکان بنانے کے مفہوم میں آتا ہے، اسی طرح مکان آراستہ کرنے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ “ (تدبر قرآن) ۔ آیت 23 ۔ کتٰبا۔ متشابھا اور مثانی کے الفاظ کو احسن الدیث کا حال مانا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کو اس کی صفت نہیں مان سکتے کیونکہ احسن الحدث معرفہ ہے اور یہ الفاظ نکرہ ہیں، البتہ ان کو اس کا بدل مانا جاسکتا ہے، کیونکہ بدل کا اعراب تو اس کے اعراب کے مطابق ہونا ضروری ہے جس کا وہ بدل ہے لیکن معرفہ۔ نکرہ میں مطابقت لازمی نہیں ہے۔ ہم نے ان مترجمین کی رائے کو ترجیح دی ہے جنھون نے کتٰباً کو احسن کا بدل اور نکرہ مخصوصہ مانا ہے۔ جبکہ متشابھاً اور مثانیَ کو کتٰباً کی خصوصیت مانا ہے۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا؟) تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

اَفَمَنْ [تو کیا وہ ] شَرَحَ اللّٰهُ [کشادہ کیا اللہ نے ] صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ [جس کا سینہ اسلام کے لئے ] فَهُوَ عَلٰي نُوْرٍ [پھر وہ اہک روشنی میں ہے ] مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ [اپنے رب (کی طرف) سے (وہ سنگدلوں کے برابر ہوجائے گا ] فَوَيْلٌ [تو تباہی ہے ] لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ [(ان کی) جن کے دل سخت ہونے والے ہیں ] مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کی یاد سے (ہٹ کر ] اُولٰۗىِٕكَ [یہ لوگ ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [ایک کھلی گمراہی میں ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر کا مطلب پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب نور ایمان انسان کے قلب میں داخل ہوتا ہے تو اس کا قلب وسیع ہوجاتا ہے (جس سے احکامِ الٰہیہ کو سمجھنا اور عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے) ۔ ہم نے عرض کیا کہ اس کی علامت کیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف راغب ہونا اور دھوکے کے گھر یعنی دنیا (کے لذائذ اور زینت) سے دور رہنا اور موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کرنا۔ (معارف القرآن)
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے

اَللّٰهُ نَزَّلَ [اللہ نے بتدریج اتارا ] اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ [کلام کے بہترین کو ] كِتٰبًا [جو ایک ایسی کتاب ہے ] مُّتَشَابِهًا [(جس کے اجزاء) باہم ملتے چلتے ہیں ] مَّثَانِيَ ڰ [(جس کے مضامین ) دہرائے گئے ہیں ] تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ [لرز اٹھتی ہیں اس سے ] جُلُوْدُ الَّذِيْنَ [ان کی کھالیں جو ] يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ [ڈرتے ہیں اپنے رب سے ] ثُمَّ تَلِيْنُ [پھر نرم پڑتی ہیں ] جُلُوْدُهُمْ [ان کی کھالیں ] وَقُلُوْبُهُمْ [اور ان کے دل ] اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ [اللہ کی یاد کی طرف ] ذٰلِكَ [یہ (بہترین کلام)] هُدَى اللّٰهِ [اللہ کی ہدایت ہے ] يَهْدِيْ بِهٖ [وہ ہدایت دیتا ہے اس کے ذریعہ ] مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ [اسے جس کو وہ چاہتا ہے ] وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ [اور جس کو بھٹکا دے اللہ ] فَمَا لَهٗ [تو نہیں ہے اس کے لئے ] مِنْ هَادٍ [کوئی بھی رہنمائی کرنے والا ] ۔ ق ش ع ر افعلالا اقشعار ڈر یا سردی سے رونگھٹے کھڑے ہوجانا۔ لرزنا۔ کانپ اٹھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

اب اُس شخص کی بد حالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے

اَفَمَنْ [تو کیا وہ جو ] يَّتَّـقِيْ [روکتا ہے ] بِوَجْهِهٖ [اپنے چہرے سے ] سُوْۗءَ الْعَذَابِ [عذاب کی برائی کو ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [قیامت کے دن ] وَقِيْلَ [اور کہا جائے گا ] لِلظّٰلِمِيْنَ [ظالموں سے ] ذُوْقُوْا [تم لوگ چکھو ] مَا [اس کو جو ] كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ [تم کمائی کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: کسی چوٹ یا مار کو آدمی اپنے منہ اس وقت لیتا ہے جب وہ بالکل بےبس ہو۔ ورنہ جب تک وہ مدافعت پر کچھ بھی قادر ہوتا ہے، وہ اپنے جسم کے ہر حصے پر چوٹ کھاتارہتا ہے مگر منہ پر مار نہیں پڑنے دیتا۔ اس لئے آیت 24 میں اس شخص کی انتہائی بےبسی کی تصویر یہ کہہ کر کھینچ دی گئی کہ وہ سخت مار اپنے منہ پر لے گا۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: ضرب مثل کے معنی حکمت وموعظت کی باتیں تمثیل کے اسلوب میں پیش کرنا ہے۔ تمثیل کا اسلوب حقائق کی تعلیم و تفہیم کے لئے سب سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے، بالخصوص ان حقا ائق کی تعلیم کے لئے جن کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہو۔ اس وجہ سے انبیاء (علیہم السلام) اس صنف کلام سے بہت زیادہ کام لیتے ہیں۔ تورات، انجیل، زبور، سب امثال سے معمور ہیں۔ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے صحیفہء حکمت کا تو نام ہی امثال ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 39:25

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ اسی طرح جھٹلا چکے ہیں آخر اُن پر عذاب ایسے رخ سے آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ جا سکتا تھا

كَذَّبَ الَّذِيْنَ [جھٹلایا انھوں نے جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ان سے پہلے تھے ] فَاَتٰىهُمُ [تو پہنچا ان کے پاس ] الْعَذَابُ [عذاب ] مِنْ حَيْثُ [جہاں سے ] لَا يَشْعُرُوْنَ [ان کو شعور (بھی ) نہیں تھا ] ۔
Ayah 39:26

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، اور آخرت کا عذاب تو اس سے شدید تر ہے، کاش یہ لوگ جانتے

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ [پھر چکھائی ان کو اللہ نے ] الْخِــزْيَ [رسوائی ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ [دنیوی زندگی میں ] وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ [اور یقینا آخرت کا عذاب ] اَكْبَرُ ۘ [سب سے بڑا ہے ] لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ [کاش یہ لوگ جانتے ہوتے ] ۔
Ayah 39:27

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں

وَلَــقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ [اور بیشک ہم نے بیان کیا ہے لوگوں کے لئے ] فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ [اس قرآن میں ] مِنْ كُلِّ مَثَلٍ [ہر ایک مثال سے ] لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ [شاید کہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں ] ۔
Ayah 39:28

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے، جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے، تاکہ یہ برے انجام سے بچیں

قُرْاٰنًا [(ہم نے اتارا) ایک ایسا قرآن ] عَرَبِيًّا [جو عربی (زبان) والا ہے ] غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ [جو پیچیدگی والا نہیں ہے ] لَّعَلَّهُمْ يَتَّـقُوْنَ [شاید کہ یہ لوگ تقوی اختیار کریں ] ۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیت میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے کیا ان دونوں کا حال یکساں ہو سکتاہے؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا [بیان کی اللہ نے مثال ] رَّجُلًا [ایک ایسے مرد کی ] فِيْهِ [جس میں (شریک ہیں)] شُرَكَاۗءُ مُتَشٰكِسُوْنَ [باہم مخالفت کرنے والے کچھ شرکاء ] وَرَجُلًا [اور ایک ایسے مرد کی ] سَلَمًا [جو پورا کا پورا ہے ] لِّرَجُلٍ ۭ [ایک مرد کے لئے ] هَلْ يَسْتَوِيٰنِ [کیا یہ دونوں برابر ہیں ] مَثَلًا ۭ [بلحاظ مثال کے ] اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ [(حجت تمام ہوئی) اللہ کا شکر ہے ] بَلْ اَكْثَرُهُمْ [بلکہ ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتے نہیں ہیں ] ۔ ش ک س (س) شکسا بدمزاج ہونا۔ (تفاعل) تشاکسا ایک دوسرے کی مخالفت کرنا۔ متشاکس اسم الفاعل ہے۔ باہم مخالفت کرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 29 ۔ نوٹ۔ 3: آیت 29 کی مثال میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور توحید کے فرق اور انسان کی زندگی پر دونوں کے اثرات کو اس طرح کھول کر بیان فرمادیا کہ اس سے زیادہ مختصر الفاظ میں اتنا بڑا مضمون اتنے مؤثر طریقے سے سمجھا دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ بات ہر آدمی تسلیم کرے گا کہ جس شخص کے بہت سے آقا ہوں اور ہر ایک اس کو اپنی طرف کھینچ رہا ہو اور وہ مالک بھی بد مزاج ہوں کہ جس کے حکم کی تعمیل میں کوئی کسر رہ جائے وہ سزادینے پر تُل جائیں ایسے شخص کی زندگی لامحالہ سخت عذاب میں ہوگی۔ اس کے برعکس وہ شخص بڑے آرام سے رہے گا جو بس ایک ہی آقا کا غلام ہو اور کسی دوسرے کی خدمت ورضاجوئی اسے نہ کرنی پڑے۔ یہ ایسی سیدھی سی بات ہے جسے سمجھنے کے لئے کسی بڑے غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد کسی شخص کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ انسان کے لئے جو امن و اطمینان ایک خدا کی بندگی میں ہے وہ بہت سے خداؤں کی بندگی میں سے کبھی بھی میسر نہیں آسکتا۔ (تفہیم القرآن) وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتاہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
Ayah 39:30

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

(اے نبیؐ) تمہیں بھی مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا ہے

اِنَّكَ مَيِّتٌ [بیشک آپ ﷺ مردہ ہوں گے ] وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ [اور بیشک یہ لوگ (بھی) مردہ ہوں گے ] ۔
Ayah 39:31

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

آخرکار قیامت کے روز تم سب اپنے رب کے حضور اپنا اپنا مقدمہ پیش کرو گے

ثُمَّ اِنَّكُمْ [پھر یقینا تم لوگ ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن ] عِنْدَ رَبِّكُمْ [اپنے رب کے پاس ] تَخْتَصِمُوْنَ [جھگڑو کے ] ۔ نوٹ۔ 4: حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہاں آیت 31 لفظ اِنَّکُمْ میں مومن وکافر اور مسلمان ظالم ومظلوم سب داخل ہیں۔ یہ سب اپنے اپنے مقدمات اپنے رب کی عدالت میں پیش کریں گے اور اللہ تعالیٰ ظالم سے مظلوم کا حق دلوائیں گے، وہ کافر ہو یا مومن۔ اور اس ادائیگی حقوق کی صورت یہ ہوگی کہ اگر ظالم کے پاس کچھ اعمال صالحہ ہیں تو بمقدارِ ظلم یہ اعمال اس سے لے کر مظلوم کو دے دیئے جائیں گے اور اس کے پاس حسنات نہیں ہیں تو مظلوم کے گناہوں کو اس سے لے کر ظالم پر ڈال دیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوگا وہ مرد اور اس کی بیوی کا ہوگا۔ اور بخدا کہ وہاں زبان نہیں بولے گی بلکہ عورت کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ اپنے شوہر پر کیا کیا عیب لگایا کرتی تھی اور طرح مرد کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ کس طرح اپنی بیوی کو تکلیف و ایذا پہنچایا کرتا تھا ۔ اس کے بعد ہر آدمی کے سامنے اس کے نوکر چاکر لائے جائیں گے۔ ان کی شکایات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر عام بازار کے لوگ جن سے اس کے معاملات رہے تھے، وہ پیش ہوں گے اگر اس نے ان میں سے کسی پر ظلم کیا ہے تو اس کا حق دلوایا جائے گا۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ مظلوموں کے حقوق میں ظالم کے اعمال دینے کا جو ذکر آیا ہے، اس سے مراد ایمان کے علاوہ دوسرے اعمال ہیں، کیونکہ جتنے مظالم ہیں وہ سب عملی گناہ ہیں، کفر نہیں ہیں اور عملی گناہوں کی سزا محدود ہوگی۔ جبکہ ایمان ایک غیر محدود عمل ہے۔ اس کی جزا بھی غیر محدود یعنی ہمیشہ جنت میں رہنا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب ظالم کے اعمال صالحہ مظلوموں کو دے کر ختم ہوجائیں گے، صرف ایمان رہ جائے گا تو ایمان سلب نہیں کیا جائے گا بلکہ مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال کر حقوق کی ادائیگی کی جائے گی، جس کے نتیجہ میں گناہوں کا عذاب بھگتنے کے بعد بالآخر وہ جنت میں داخل ہوگا اور پھر اس کا یہ حال دائمی ہوگا۔ (معارف القرآن)
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

پھر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اُسے جھٹلا دیا کیا ایسے کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟

فَمَنْ اَظْلَمُ [تو کون زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنْ [اس سے جس نے ] كَذَبَ عَلَي اللّٰهِ [جھوٹ کہا اللہ پر ] وَكَذَّبَ [اور اس نے جھٹلایا ] بِالصِّدْقِ [سچائی کو ] اِذْ جَاۗءَهٗ ۭ [جب وہ آئی اس کے پاس ] اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ [کیا نہیں ہے جہنم میں ] مَثْوًى [مستقل قیام گاہ ] لِّلْكٰفِرِيْنَ [انکار کرنے والوں کے لئے ] ۔
Ayah 39:33

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں

وَالَّذِيْ [اور وہ جو ] جَاۗءَ بِالصِّدْقِ [آیا سچائی کے ساتھ ] وَصَدَّقَ بِهٖٓ [اور اس نے تصدیق کی اس کی ] اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ] هُمُ الْمُتَّـقُوْنَ [ہی متقی ہیں ] ۔
Ayah 39:34

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

انہیں اپنے رب کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا

لَهُمْ [ان کے لئے ہے ] مَّا [وہ جو ] يَشَاۗءُوْنَ [وہ لوگ چاہیں گے ] عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ [اپنے رب کے پاس ] ذٰلِكَ [یہ ] جَزَاۗءُ الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کاروں کی جزا ہے ] نوٹ۔ 1: آیت 34 میں فی الجنۃ نہیں بلکہعند ربھم کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اپنے رب کے ہاں تو بندہ مرنے کے بعد ہی پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے آیت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں پہنچ کر ہی نہیں بلکہ مرنے کے وقت سے دخول جنت تک کے زمانے میں بھی مومن صالح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہی رہے گا۔ وہ عذاب برزخ سے، روز قیامت کی سختیوں سے، حساب کی سخت گیری سے، میدان حشر کی رسوائی سے، اپنی کوتاہیوں اور قصوروں پر مواخذہ سے لازمابچنا چاہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کی یہ ساری خواہشات پوری فرمائے گا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 39:35

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ جو بد ترین اعمال انہوں نے کیے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کر دے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے اُن کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے

لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ [تاکہ دور کر دے اللہ ان سے ] اَسْوَاَ الَّذِيْ [اس کے برے سے برے کو جو ] عَمِلُوْا [انھوں نے عمل کئے ] وَيَجْزِيَهُمْ [اور وہ بدلے میں ان کو دے گا ] اَجْرَهُمْ [ان کی اجرت ] بِاَحْسَنِ الَّذِيْ [اس کے بہترین سے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [وہ لوگ عمل کرتے تھے ] ۔
Ayah 39:36

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

(اے نبیؐ) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟ یہ لوگ اُس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں حالانکہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اُسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں

اَلَيْسَ اللّٰهُ [کیا اللہ ] بِكَافٍ [کفایت کرنے والا نہیں ہے ] عَبْدَهٗ ۭ [اپنے بندے کی ] وَيُخَوِّفُوْنَكَ [اور یہ لوگ ڈراتے ہیں آپ ﷺ کو ] بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ [ان سے جو اس (اللہ) کے علاوہ ہیں ] وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ [اور جس کو بھٹکا دے اللہ ] فَمَا لَهٗ [تو نہیں ہے اس کے لئے ] مِنْ هَادٍ [کوئی بھی رہنمائی کرنے والا ] ۔
Ayah 39:37

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جسے وہ ہدایت دے اُسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں، کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے؟

وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ [اور جس کو ہدایت دے اللہ ] فَمَا لَهٗ [تو نہیں ہے اس کے لئے ] مِنْ مُّضِلٍّ ۭ [کوئی بھی بھٹکانے والا ] اَلَيْسَ اللّٰهُ [کیا اللہ ] بِعَزِيْزٍ [بالادست ] ذِي انْتِقَامٍ [بدلہ لینے والا نہیں ہے ] ۔
Ayah 39:38

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اِن لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے اِن سے کہو، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، مجھے اُس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اُسی پر بھروسہ کرتے ہیں

وَلَىِٕنْ [اور بیشک اگر ] سَاَلْــتَهُمْ [آپ ﷺ پوچھیں گے ان سے ] مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] لَيَقُوْلُنَّ [تو وہ لازما کہیں گے ] اللّٰهُ ۭ [اللہ نے ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اَفَرَءَيْتُمْ [تو کیا تم لوگوں نے غور کیا ] مَّا [ان چیزوں پر جن کو ] تَدْعُوْنَ [تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ (کہ)] اِنْ اَرَادَنِيَ [اگر ارادہ کرے میرے لئے ] اللّٰهُ [اللہ ] بِضُرٍّ [کسی تکلیف کا ] هَلْ هُنَّ [تو کیا وہ سب (چیزیں)] كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖٓ [اس کی (ڈالی ہوئی) تکلیف کو کھولنے والی ہیں ] اَوْ اَرَادَنِيْ بِرَحْمَةٍ [یا وہ ارادہ کرے میرے لئے کسی رحمت کا ] هَلْ هُنَّ [کیا وہ سب ] مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ ۭ [اس کی رحمت کو روکنے والی ہیں ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] حَسْبِيَ اللّٰهُ ۭ [کافی ہے مجھ کو اللہ ] عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ [اس پر ہی بھروسہ کرتے ہیں ] الْمُتَوَكِّلُوْنَ [بھروسہ کرنے والے ] ۔
Ayah 39:39

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

ان سے صاف کہو کہ "اے میری قوم کے لوگو، تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا [اے میری قوم تم لوگ عمل کرو ] عَلٰي مَكَانَتِكُمْ [اپنی جگہ پر ] اِنِّىْ عَامِلٌ ۚ [بیشک میں عمل کرنے والا ہوں ] فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ [تو عنقریب تم لوگ جان لو گے ] ۔
Ayah 39:40

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں"

مَنْ [اس کو ] يَّاْتِيْهِ [پہنچے گا جس کے پاس ] عَذَابٌ [ایک ایسا عذاب جو ] يُّخْزِيْهِ [رسوا کرے گا اس کو ] وَيَحِلُّ عَلَيْهِ [اور اترے گا اس پر ] عَذَابٌ مُّقِيْمٌ [ایک ٹھہرنے والا عذاب ] ۔