39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 39:41

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

(اے نبیؐ) ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کر دی ہے اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لیے کرے گا اور جو بھٹکے گا اُس کے بھٹکنے کا وبال اُسی پر ہوگا، تم اُن کے ذمہ دار نہیں ہو

اِنَّآ اَنْزَلْنَا [بیشک ہم نے اتارا ] عَلَيْكَ الْكِتٰبَ [آپ ﷺ پر اس کتاب کو ] لِلنَّاسِ بِالْحَـقِّ ۚ [لوگوں کے لئے حق کے ساتھ ] فَمَنِ اهْتَدٰى [پس جس نے ہدایت پائی ] فَلِنَفْسِهٖ ۚ [تو (اس نے ہدایت پائی) اپنے لئے ] وَمَنْ ضَلَّ [اور جو بھٹکا ] فَاِنَّمَا [تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَضِلُّ [وہ بھٹکتا ہے ] عَلَيْهَا ۚ [اپنے آپ پر ] وَمَآ اَنْتَ عَلَيْهِمْ [اور آپ ﷺ ان پر ] بِوَكِيْلٍ [کوئی نگران نہیں ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص چاہتاہو کہ سب انسانوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے، اسے چاہیے کہ اللہ پر توکل کرے۔ اور جو شخص چاہتاہو کہ سب سے بڑھ کر غنی ہوجائے اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ بھروسہ رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے اور جو شخص چاہتاہو کہ سب سے زیادہ عزت والا ہوجائے، اسے چاہیے کہ اللہ عز وجل سے ڈرے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں

اَللّٰهُ يَتَوَفَّى [اللہ پورا پورا لے لیتا ہے ] الْاَنْفُسَ [جانوں کو ] حِيْنَ مَوْتِهَا [ان کی موت کے وقت ] وَالَّتِيْ [اور اس کو (بھی) جو ] لَمْ تَمُتْ [نہیں مری ] فِيْ مَنَامِهَا ۚ [اس کے سونے کے وقت میں ] فَيُمْسِكُ الَّتِيْ [پھر وہ تھام لیتا ہے اس کو ] قَضٰى عَلَيْهَا [فیصلہ کردیا جس پر ] الْمَوْتَ [موت کا ] وَيُرْسِلُ [اور وہ بھیج دیتا ہے ] الْاُخْرٰٓى [دوسری کو ] اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ [ایک مقررہ مدت کی طرف ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ [بیشک اس میں یقینا نشانیاں ہیں ] لِّــقَوْمٍ [ایسی قوم کے لئے جو ] يَّتَفَكَّرُوْنَ [غور و فکر کرتے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: قبض روح کے معنی اس کا تعلق بدن انسانی سے قطع کردینے کے ہیں۔ کبھی یہ ظاہراً و باطناً بالکل منقطع کردیا جاتا ہے۔ اسی کا نام موت ہے اور کبھی صرف ظاہراً منقطع کیا جاتا ہے اور باطناً باقی رہتا ہے، جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ حس اور حرکت ارادی، جو ظاہری علامت زندگی ہے، وہ منقطع کردی جاتی اور باطناً تعلق روح کا جسم کے ساتھ باقی رہتا ہے جس سے وہ سانس لیتا ہے اور زندہ رہتا ہے۔ موت اور نیند کا یہ فرق حضرت علی کے قول کے مطابق ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ سونے کے وقت انسان کی روح اس کے بدن سے نکل جاتی ہے مگر ایک شعاع روح کی بدن میں رہتی ہے جس سے وہ زندہ رہتا ہے۔ اور فرمایا کہ نیند کی حالت میں جو روح انسان کے بدن سے نکلتی تو بیداری کے وقت آنکھ جھپکنے سے بھی کم وقت میں بدن میں واپس آجاتی ہے۔ (معارف القرآن) اس میں غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ مثلا یہ کہ جس طرح خلق اور تدبیر تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے، اسی طرح زندگی اور موت بھی تمام تر اسی کے اختیار میں ہے۔ اور یہ کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا کوئی دور دراز والی بات نہیں ہ۔ ے اس دنیا میں ہر روز موت اور موت کے بعد اٹھنے کا ریہرسل ہر شخص کے ساتھ ہورہا ہے۔ بشرطیکہ آدمی اس کو دیکھنے کے لئے دیدئہ بینا رکھتا ہو۔ (تدبر قرآن)
Ayah 39:43

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا اُس خدا کو چھوڑ کر اِن لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟ ان سے کہو، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ اُن کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں؟

اَمِ اتَّخَذُوْا [یا ان لوگوں نے بنائے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] شُفَعَاۗءَ ۭ [کچھ سفارش کرنے والے ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اَوَلَوْ كَانُوْا [کیا اگر وہ لوگ ہوں (کہ)] لَا يَمْلِكُوْنَ [اختیار نہ رکھتے ہوں ] شَـيْـــــًٔا [کسی چیز کا ] وَّلَا يَعْقِلُوْنَ [اور نہ عقل استعمال کرتے ہوں ] ۔
Ayah 39:44

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

کہو، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے پھر اُسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو

قُلْ لِّلّٰهِ [آپ ﷺ کہیے اللہ ہی کی ہے ] الشَّفَاعَةُ [کل سفارش ] جَمِيْعًا ۭ [ساری کی ساری ] لَهٗ [اس کی ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ] ثُمَّ اِلَيْهِ [پھر اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔
Ayah 39:45

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں، اور جب اُس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں

وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ [اور جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ کا ] وَحْدَهُ [اس کے واحد ہوتے ہوئے ] اشْمَاَزَّتْ [تو سکڑ جاتے ہیں ] قُلُوْبُ الَّذِيْنَ [ان کے دل جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ ۚ [ایمان نہیں رکھتے آخرت پر ] وَاِذَا ذُكِرَ [اور جب ذکر کیا جاتا ہے ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں کا جو ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [اس کے علاوہ ہیں ] اِذَا هُمْ [جب ہی وہ لوگ ] يَسْتَبْشِرُوْنَ [خوشیاں مناتے ہیں ] ۔ ش م ء ز افعلالا اشمئزازا کراہیت سے چہرہ کا سکڑ جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 45 ۔ نوٹ۔ 2: آیت 45 میں جو بات کہی گئی ہے وہ قریب قریب ساری دنیا کے مشرکانہ ذوق رکھنے والے لوگوں میں مشترک ہے، حتی کہ مسلمانوں میں بھی جن بد قسمتوں کو یہ بیماری لگ گئی ہے وہ بھی اس عیب سے خالی نہیں ہیں۔ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ اکیلے اللہ کا ذکر کیجئے تو چہرے بگڑنے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں ضرور یہ شخص بزرگوں اور اولیاء کو نہیں مانتا، تبھی تو اللہ ہی اللہ کی باتیں کئے جاتا ہے۔ اور اگر دوسروں کا ذکر کیا جائے تو ان کے دلوں کی کلی کھل اٹھتی ہے۔ اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اصل میں دلچسپی اور محبت کس سے ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 39:46

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

کہو، خدایا! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، حاضر و غائب کے جاننے والے، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

قُلِ [آپ ﷺ کہیے ] اللّٰهُمَّ [اے اللہ ] فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [اے زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والے ] عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ [اے شہادہ اور غیب کے جاننے والے ] اَنْتَ تَحْكُمُ [تو ہی فیصلہ کرے گا ] بَيْنَ عِبَادِكَ [اپنے بندوں کے درمیان ] فِيْ مَا [اس میں ] كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ [یہ لوگ اختلاف کرتے تھے جس میں ] ۔
Ayah 39:47

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اگر اِن ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو، اور اتنی ہی اور بھی، تو یہ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے

وَلَوْ اَنَّ [اور اگر (ہوتا) کہ ] لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا [ان کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ] مَا فِي الْاَرْضِ [وہ جو زمین میں ہے ] جَمِيْعًا [کل کا کل ] وَّمِثْلَهٗ [اور اس کے جیسا ] مَعَهٗ [اس کے ساتھ ] لَافْتَدَوْا [تو وہ لوگ ضرور خود کو چھڑاتے ] بِهٖ [اس کے بدلے ] مِنْ سُوْۗءِ الْعَذَابِ [عذاب کی برائی سے ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [قیامت کے دن ] وَبَدَا لَهُمْ [اور ظاہر ہوا ان کے لئے ] مِّنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف) سے ] مَا [وہ جو ] لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْنَ [وہ لوگ گمان (تک) نہیں کرتے تھے ] ۔
Ayah 39:48

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

وہاں اپنی کمائی کے سارے برے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں

وَبَدَا لَهُمْ [اور ظاہر ہوئیں ان کے لئے ] سَيِّاٰتُ مَا [اس کی برائیاں جو ] كَسَبُوْا [انھوں نے کمائی کی ] وَحَاقَ بِهِمْ [اور گھیرے میں لے لیا ان کو ] مَّا [اس نے ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [جو وہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے ] ۔
Ayah 39:49

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

فَاِذَا مَسَّ [پھر جب کبھی چھوتی ہے ] الْاِنْسَانَ ضُرٌّ [انسان کو کوئی تکلیف ] دَعَانَا ۡ [تو وہ پکارتا ہے ہم کو ] ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ [پھر جب ہم عطا کرتے ہیں اس کو ] نِعْمَةً مِّنَّا ۙ [کوئی نعمت اپنے پاس سے ] قَالَ [تو وہ کہتا ہے ] اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ [مجھے تو بس دی گئی یہ (نعمت)] عَلٰي عِلْمٍ ۭ [ایک علم (کی بنا) پر ] بَلْ هِىَ فِتْنَةٌ [بلکہ (جبکہ) یہ ایک آزمائش ہے ] وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ [اور لیکن ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتے نہیں ہیں ] ۔
Ayah 39:50

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

یہی بات ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی کہہ چکے ہیں، مگر جو کچھ وہ کماتے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آیا

قَدْ قَالَهَا [کہہ چکے یہ (بات) ] الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ [وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ] فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ [پھر کام نہ آیا ان کے ] مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [وہ جو لوگ کمائی کرتے تھے ] ۔
Ayah 39:51

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

پھر اپنی کمائی کے برے نتائج انہوں نے بھگتے، اور اِن لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے، یہ ہمیں عاجز کر دینے والے نہیں ہیں

فَاَصَابَهُمْ [تو آلگیں ان کو ] سَـيِّاٰتُ مَا [اس کی برائیاں جو ] كَسَبُوْا ۭ [انھوں نے کمائی کی ] وَالَّذِيْنَ ظَلَمُوْا [اور جنہوں نے ظلم کیا ] مِنْ هٰٓؤُلَاۗءِ [ان الوگوں میں سے ] سَيُصِيْبُهُمْ [آلگیں گی ان کو (بھی)] سَـيِّاٰتُ مَا [اس کی برائیاں جو ] كَسَبُوْا ۙ [انھوں نے کمائی کی ] وَمَا هُمْ [یہ لوگ نہیں ہیں ] بِمُعْجِزِيْنَ [عاجز کرنے والے (ہم کو)] ۔
Ayah 39:52

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

اور کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے؟ اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

اَوَلَمْ يَعْلَمُوْٓا [اور کیا انھوں نے جانا ہی نہیں ] اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ [کہ اللہ کشادہ کرتا ہے ] الرِّزْقَ [رزق کو ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [اس کے لئے جس کے لئے وہ چاہتا ہے ] وَيَقْدِرُ ۭ [اور اندازے سے دیتا ہے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ [بیشک اس میں یقینا نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ [ایسے لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ] ۔
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے نبیؐ) کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور و رحیم ہے

قُلْ [آپ ﷺ (میرا) پیغام دیں (کہ)] يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ [اے میرے وہ بندو جنہوں نے ] اَسْرَفُوْا [زیادتی کی ] عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ [اپنی جانوں پر ] لَا تَقْنَطُوْا [تم لوگ مایوس مت ہو ] مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کی رحمت سے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ [بخش دیتا ہے گناہوں کو ] جَمِيْعًا ۭ [سب کو ] اِنَّهٗ [بیشک وہ ] هُوَ الْغَفُوْرُ [ہی بےانتہا بخشنے والا ] الرَّحِيْمُ [ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 53 میں خطاب تمام انسانون سے ہے۔ جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ عام انسانوں کو مخاطب کرکے یہ بات ارشاد فرمانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کے بغیر سارے گناہ معار کردیتا ہے بلکہ بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود ہی وضاحت فرمادی ہے کہ گناہوں کی معافی کی صور بندگی و اطاعت کی طرف پلٹ آنا اور اللہ کے نازل کئے ہوئے پیغام کی پیروی کرنا ہے۔ (تفہیم القرآن (۔ خلاصہ آیت کے مجمون کا یہ ہوا کہ مرنے سے پہلے پہلے ہر بڑے سے بڑے گناہ ، یہ ان تک کہ کفر وشرک سے بھی اگر کوئی توبہ کرلے تو سچی توبہ سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 39:54

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ اُس کے قبل اِس کے کہ تم پر عذاب آ جائے اور پھر کہیں سے تمہیں مدد نہ مل سکے

وَاَنِيْبُوْٓا [اور تم لوگ رخ کرو ] اِلٰى رَبِّكُمْ [اپنے رب کی طرف ] وَاَسْلِمُوْا لَهٗ [اور فرمانبرداری کرو اس کی ] مِنْ قَبْلِ اَنْ [اس سے پہلے کہ ] يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ [پہنچے تمہارے پاس عذاب ] ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ [پھر تمہاری مدد نہ کی جائے ] ۔
Ayah 39:55

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور پیروی اختیار کر لو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی، قبل اِس کے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تم کو خبر بھی نہ ہو

وَاتَّبِعُوْٓا [اور تم لوگ پیروی کرو ] اَحْسَنَ مَآ [اس کے بہترین کی جو ] اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ [اتارا گیا تمہاری طرف ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [تمہارے رب کی طرف سے ] مِّنْ قَبْلِ اَنْ [اس سے پہلے کہ ] يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ [پہنچے تمہارے پاس عذاب ] بَغْتَةً [اچانک ] وَّ [اس حال میں کہ ] اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ [تم لوگ شعور نہ رکھتے ہو ] ۔
Ayah 39:56

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے "افسوس میری اُس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا، بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا"

اَنْ [(قبل اس کے) کہ ] تَـقُوْلَ نَفْسٌ [کہے کوئی جان ] يّٰحَسْرَتٰى [ہائے میری حسرت ] عَلٰي مَا [اس پر جو ] فَرَّطْتُّ [میں نے کوتاہی کی ] فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ [اللہ کی جناب میں ] وَاِنْ [اور بیشک ] كُنْتُ [میں ] لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ [یقینا مسخری کرنے والوں میں سے تھا ] ۔
Ayah 39:57

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا کہے "کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا"

اَوْ [یا (اس سے پہلے کہ)] تَقُوْلَ [وہ (جان) کہے ] لَوْ اَنَّ [اگر یہ کہ ] اللّٰهَ هَدٰىنِيْ [اللہ ہدایت دیتا مجھ کو ] لَكُنْتُ [تو میں ضرور ہوتا ] مِنَ الْمُتَّقِيْنَ [تقوی اختیار کرنے والوں میں سے ] ۔
Ayah 39:58

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا عذاب دیکھ کر کہے "کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جاؤں"

اَوْ [یا (اس سے پہلے کہ)] تَـقُوْلَ [وہ (جان) کہے ] حِيْنَ تَرَى الْعَذَابَ [جس وقت وہ دیکھے عذاب کو ] لَوْ اَنَّ [کاش کہ ] لِيْ كَرَّةً [میرے لئے ایک اور باری ہوتی ] فَاَكُوْنَ [نتیجتاً میں ہوجاتا ] مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ [نیکوکاروں میں سے ] ۔
Ayah 39:59

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

(اور اُس وقت اسے یہ جواب ملے کہ) "کیوں نہیں، میری آیات تیرے پاس آ چکی تھیں، پھر تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا"

بَلٰى [کیوں نہیں ] قَدْ جَاۗءَتْكَ [آچکیں تیرے پاس ] اٰيٰتِيْ [میری نشانیاں ] فَكَذَّبْتَ بِهَا [تو تو نے جھٹلایا ان کو ] وَاسْتَكْبَرْتَ [اور تو نے گھمنڈ کیا ] وَكُنْتَ [اور تو تھا ہی ] مِنَ الْكٰفِرِيْنَ [ناشکری کرنے والوں میں سے ] ۔
Ayah 39:60

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

آج جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے کیا جہنم میں متکبروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے؟

وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ [اور قیامت کے دن ] تَرَى الَّذِيْنَ [آپ ﷺ دیکھیں گے ان کو جنہوں نے ] كَذَبُوْا عَلَي اللّٰهِ [جھوٹ کہا اللہ پر (کہ)] وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ ۭ [ان کے چہرے سیاہ پڑنے والے ہیں ] اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ [کیا جہنم میں نہیں ہے ] مَثْوًى [مستقل قیام گاہ ] لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ [بڑا بننے والوں کے لئے ] ۔
Ayah 39:61

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اس کے برعکس جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ہے ان کے اسباب کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

وَيُنَجِّي اللّٰهُ [اور نجات دے گا اللہ ] الَّذِيْنَ [ان کو جنہوں نے ] اتَّــقَوْا [تقوی اختیار کیا ] بِمَفَازَتِهِمْ ۡ [ان کی نجات کی جگہ میں ] لَا يَمَسُّهُمُ [(جہاں) نہیں چھوئے گی ان کو ] السُّوْۗءُ [برائی ] وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ [اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ] ۔
Ayah 39:62

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے

اَللّٰهُ خَالِقُ [اللہ پیدا کرنے والا ہے ] كُلِّ شَيْءٍ ۡ [ہر چیز کا ] وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [اور وہ ہر چیز پر ] وَّكِيْلٌ [نگران ہے ] ۔
Ayah 39:63

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کے خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں

لَهٗ [اس کے لئے ہی ہیں ] مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [زمین اور آسمانوں کی کنجیاں ] وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [اور جنہوں نے انکار کیا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی نشانیوں کا ] اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ] هُمُ الْخٰسِرُوْنَ [ہی خسارہ پانے والے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: کنجیوں کا کسی کے ہاتھ میں ہونا اس کے مالک و متصرف ہونے کی علامت ہے۔ اس لئے آیت 63 کی مراد یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں نعمتوں کے جو خزانے چھپے ہوئے ہیں ان سب کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی ان کا محافظ ہے اور وہی متصرف ہے کہ جب چاہے، جس کو چاہے، جتنا چاہے دے دے اور جس کو چاہے نہ دے۔ بعض احادیث میں تیسرے کلمہ کو مقالید السموت والارض فرمایا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص صبح وشام یہ کلمہ پڑھتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ محدثین نے ان احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ فضائل اعمال میں ان کا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 39:64

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

(اے نبیؐ) اِن سے کہو "پھر کیا اے جاہلو، تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کے لیے مجھ سے کہتے ہو؟"

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اَفَغَيْرَ اللّٰهِ [تو کیا اللہ کے علاوہ کی ] تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ [تم لوگ ترغیب دیتے ہو مجھ کو ] اَعْبُدُ [(کہ) میں بندگی کروں ] اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ [اے جاہلو ] ۔ نوٹ۔ 1: جاہل اس کو کہتے ہیں جو علم وعقل کے بجائے جذبات اور خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔ فرمایا کہ ان جاہلوں سے پوچھو کہ تمام دلائل و شواہد تو اس بات کے حق میں ہیں کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور اسی کے قبضہ میں تمام آسمانون اور زمین کی کنجیاں ہیں، تو کیا پھر تم لوگ مجھ سے اس بات کی ضد کرتے رہو گے کہ میں اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کروں۔ (تدبر قرآن)
Ayah 39:65

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

(یہ بات تمہیں ان سے صاف کہہ دینی چاہیے کیونکہ) تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے

وَ [حالانکہ ] لَقَدْ اُوْحِيَ [یقینا وحی کی جا چکی ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] وَاِلَى الَّذِيْنَ [اور ان کی طرف جو ] مِنْ قَبْلِكَ ۚ [آپ ﷺ سے پہلے تھے ] لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ [(کہ ہر امتی کو بتادو کہ) یقینا اگر تو نے شرک کیا ] لَيَحْبَطَنَّ [تو یقینا اکارت جائے گا ] عَمَلُكَ [تیرا عمل ] وَلَتَكُوْنَنَّ [اور تو لازما ہوجائے گا ] مِنَ الْخٰسِرِيْنَ [خسارہ پانے والوں میں سے ] ۔
Ayah 39:66

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

لہٰذا (اے نبیؐ) تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ

بَلِ اللّٰهَ [بلکہ اللہ کی ہی ] فَاعْبُدْ [پس تو بندگی کر ] وَكُنْ [اور تو ہوجا ] مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ [شکر کرنے والوں میں سے ] ۔
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے (اس کی قدرت کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ) قیامت کے روز پوری زمین اُس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے پاک اور بالاتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ [اور انھوں نے تعظیم نہیں کی اللہ کی ] حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ [جیسا اس کی تعظیم کا حق ہے ] وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا [اور زمین کل کی کل ] قَبْضَتُهٗ [اس کی ایک مٹھی میں ہوگی ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن ] وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ [اور آسمان لپیٹے ہوئے ہوں گے ] بِيَمِيْنِهٖ ۭ [اس کے داہنے ہاتھ میں ] سُبْحٰنَهٗ [پاکیزگی اس کی ہے ] وَتَعٰلٰى [اور وہ بلند ہوا ] عَمَّا يُشْرِكُوْنَ [اس سے جو یہ لوگ شریک کرتے ہیں ] ۔
Ayah 39:68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور اُس روز صور پھونکا جائے گا اور وہ سب مر کر گر جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے اُن کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے

وَنُفِخَ [اور پھونکا جائے گا ] فِي الصُّوْرِ [صور میں ] فَصَعِقَ [تو مرجائیں گے ] مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ [وہ جو آسمانوں میں ہیں ] وَمَنْ فِي الْاَرْضِ [اور وہ زمین میں ہیں ] اِلَّا مَنْ [سوائے اس کے جس کو ] شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ [چاہے گا اللہ ] ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ [پھر پھونکی جائے گی اس میں ] اُخْرٰى [دوسری (پھونک)] فَاِذَا هُمْ [پھر جب ہی وہ لوگ ] قِيَامٌ [کھڑے ہوں گے ] يَّنْظُرُوْنَ [دیکھتے ہوئے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت 68 میں دو مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ سورة نمل آیت 87 میں ان دونوں سے پہلے ایک صور پھونکنے کا ذکر آیا ہے جسے سن کر زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہوجائے گی، اسی بنا پر احادیث میں تین مرتبہ صور پھونکنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک نفخۃ الفزع یعنی گھبرادینے والا صور، دوسرے نفخۃ الصعق یعنی مارنے والا صور اور تیسرا نفخۃ القیام۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 39:69

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، کتاب اعمال لا کر رکھ دی جائے گی، انبیاء اور تمام گواہ حاضر کر دیے جائیں گے، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہ ہوگا

وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ [اور جگمگا اٹھے گی زمین ] بِنُوْرِ رَبِّهَا [اپنے رب کے نور سے ] وَوُضِعَ الْكِتٰبُ [اور رکھا جائے گا لکھا ہوا (ریکارڈ ] وَجِايْۗءَ [اور لائے جائیں گے ] بِالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ [انبیاء کرام اور گواہ ] وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ [اور فیصلہ کیا جائے گا ان لوگوں کے درمیان ] بِالْحَــقِّ [حق کے ساتھ ] وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ [اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ] ۔
Ayah 39:70

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے

وَوُفِّيَتْ [اور پورا پورا دیا جائے گا ] كُلُّ نَفْسٍ [ہر ایک جان کو ] مَّا عَمِلَتْ [وہ جو اس نے عمل کیا ] وَهُوَ اَعْلَمُ [اور وہ خوب جاننے والا ہے ] بِمَا يَفْعَلُوْنَ [اس کو جو یہ لوگ کرتے ہیں ] ۔
Ayah 39:71

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

(اِس فیصلہ کے بعد) وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اُس کے کارندے ان سے کہیں گے "کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسول نہیں آئے تھے، جنہوں نے تم کو تمہارے رب کی آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا؟" وہ جواب دیں گے "ہاں، آئے تھے، مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا"

وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا [اور ہانکے جائیں گے وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا ] اِلٰى جَهَنَّمَ [جہنم کی طرف ] زُمَرًا ۭ [گروہ در گروہ ] حَتّىٰٓ اِذَا [یہاں تک کہ جب ] جَاۗءُوْهَا [وہ لوگ آئیں گے اس کے پاس ] فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا [تو کھولے جائیں گے اس کے دروازے ] وَقَالَ لَهُمْ [اور کہیں گے ان سے ] خَزَنَــتُهَآ [اس کے داروغے ] اَلَمْ يَاْتِكُمْ [کیا نہیں پہنچے تمہارے پاس ] رُسُلٌ مِّنْكُمْ [کچھ رسول تم میں سے ] يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ [پڑھ کر سناتے ہوئے تم کو ] اٰيٰتِ رَبِّكُمْ [تمہارے رب کی آیات ] وَيُنْذِرُوْنَكُمْ [اور خبردار کرتے ہوئے تم کو ] لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا ۭ [تمہارے اس دن کی ملاقات سے ] قَالُوْا بَلٰى [وہ لوگ کہیں گے کیوں نہیں ] وَلٰكِنْ حَقَّتْ [اور لیکن ثابت ہوا ] كَلِمَةُ الْعَذَابِ [عذاب کا فرمان ] عَلَي الْكٰفِرِيْنَ [انکار کرنے والوں پر ] ۔ ز م ر (ن) زمرا بانسری بجانا۔ بات پھیلانا۔ زمرۃ ج زمر۔ جماعت ۔ گروہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 71 ۔
Ayah 39:72

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا، داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، بڑا ہی برا ٹھکانا ہے یہ متکبروں کے لیے

قِيْلَ ادْخُلُوْٓا [کہا جائے گا تم لوگ داخل ہو ] اَبْوَابَ جَهَنَّمَ [جہنم کے دروازوں میں (سے)] خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ [ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ] فَبِئْسَ [تو کتنی بری ہے ] مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ [بڑا بننے والوں کی مستقل قیام گاہ ] ۔
Ayah 39:73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے، اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے، تو اُس کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ "سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے، داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے"

وَسِيْقَ الَّذِيْنَ [اور لے جائے جائیں گے وہ لوگ جنہوں نے ] اتَّقَوْا رَبَّهُمْ [تقوی اختیار کیا اپنے رب کا ] اِلَى الْجَنَّةِ [جنت کی طرف ] زُمَرًا ۭ [گروہ در گروہ ] حَتّىٰٓ اِذَا [یہاں تک کہ جب ] جَاۗءُوْهَا [وہ لوگ آئیں گے اس کے پاس ] وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا [اور کھولے جائیں گے اس کے دروازے ] وَقَالَ لَهُمْ [اور کہیں گے ان سے ] خَزَنَـــتُهَا [اس کے داروغے ] سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ [سلامتی ہے تم لوگوں پر ] طِبْتُمْ [تم لوگ پاکیزہ ہوئے ] فَادْخُلُوْهَا [پس داخل ہو اس میں ] خٰلِدِيْنَ [ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] ۔
Ayah 39:74

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے "شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، اب ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں" پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے

وَقَالُوا [اور وہ لوگ کہیں گے ] الْحـَمْدُ [تمام شکر و سپاس ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] صَدَقَنَا [سچ کیا ہم سے ] وَعْدَهٗ [اپنے وعدہ کو ] وَاَوْرَثَنَا [اور اس نے وارث بنایا ہم کو ] الْاَرْضَ [اس سرزمین کا ] نَـتَبَوَّاُ [ہم اقامت اختیار کرتے ہیں ] مِنَ الْجَــنَّةِ [اس جنت میں سے ] حَيْثُ نَشَاۗءُ ۚ[جہاں ہم چاہیں ] فَنِعْمَ [تو کیا خوب ہے ] اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ [عمل کرنے والوں کا اجر ] ۔
Ayah 39:75

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد اور تسبیح کر رہے ہوں گے، اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا، اور پکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ ربّ العالمین کے لیے

وَتَرَى الْمَلٰۗىِٕكَةَ [اور آپ ﷺ دیکھیں گے فرشتوں کو ] حَاۗفِّيْنَ [پرے باندھنے والے ہوتے ہوئے ] مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ [عرش کے اردگرد سے ] يُسَبِّحُوْنَ [تسبیح کرتے ہوئے ] بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ۚ [اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ [اور فیصلہ کیا جائے گا ان لوگوں کے درمیان ] بِالْحَقِّ [حق کے ساتھ ] وَقِيْلَ [اور کہا جائے گا ] الْحَـمْدُ [تمام شکر و سپاس ] لِلّٰهِ [اللہ کے لئے ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [جو تمام جہانوں کا رب ہے ] ۔