38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 38:1

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

ص، قسم ہے نصیحت بھرے قرآن کی

صۗ وَالْقُرْاٰنِ [قسم ہے اس قرآن کی ] ذِي الذِّكْرِ [جو نصیحت والا ہے ] ۔
Ayah 38:2

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے، سخت تکبر اور ضد میں مبتلا ہیں

بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [بلکہ وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا ] فِيْ عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ [گھمنڈ اور مخالفت میں ہیں ] ۔
Ayah 38:3

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

اِن سے پہلے ہم ایسی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں (اور جب اُن کی شامت آئی ہے) تو وہ چیخ اٹھے ہیں، مگر وہ وقت بچنے کا نہیں ہوتا

كَمْ اَهْلَكْنَا [ہم نے کتنی ہی ہلاک کیں ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ان لوگوں سے پہلے ] مِّنْ قَرْنٍ [جماعتوں میں سے ] فَنَادَوْا [تو ان لوگوں نے پکارا ] وَّ [حالانکہ ] لَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ [پناہ گاہ (تلاش کرنے) کا کوئی بھی وقت نہیں تھا ] ۔ ل و ت (ن) لوتا پوچھے بغیر خبر دینا۔ لات حین یہ موقعہ نہیں۔ یہ وقت نہیں۔ زیر مطالعہ آیت۔ 3 ۔ (الات زیادہ تر لائے نفسی جنس کی طرف استعمال ہوتا ہے) ۔ ن و ص (ن) نوضا بچنا۔ بھاگنا۔ مناص اسم الظرف ہے۔ بھاگنے کی جگہ۔ پناہ گاہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 3 ۔
Ayah 38:4

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اِن لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ایک ڈرانے والا خود اِنہی میں سے آگیا منکرین کہنے لگے کہ "یہ ساحرہے، سخت جھوٹا ہے

وَعَجِبُوْٓا [اور وہ حیرت زدہ ہوئے ] اَنْ جَاۗءَهُمْ [کہ آیا ان کے پاس ] مُّنْذِرٌ [ایک خبردار کرنے والا ] مِّنْهُمْ ۡ [ان میں سے ] وَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ [اور کہا انکار کرنے والوں نے ] ھٰذَا سٰحِرٌ [یہ ایک جادو کرنے والا ہے ] كَذَّابٌ [انتہائی جھوٹا ہے ] ۔
Ayah 38:5

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اِس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے"

اَجَعَلَ [کیا اس نے بنا لیا ] الْاٰلِـهَةَ [سارے خداؤں کو ] اِلٰــهًا وَّاحِدًا ښ [ایک تنہا الٰہ ] اِنَّ ھٰذَا [بیشک یہ ] لَشَيْءٌ عُجَابٌ [یقینا ایک نتہائی حیران کن چیز ہے ] ۔
Ayah 38:6

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ "چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جا رہی ہے

وَانْطَلَقَ [اور چل پڑے ] الْمَلَاُ مِنْهُمْ [سردار لوگ ان میں سے ] اَنِ امْشُوْا [کہ تم لوگ چلتے رہو (اپنے طریقہ پر)] وَاصْبِرُوْا [اور تم لوگ ثابت قدم رہو ] عَلٰٓي اٰلِـهَتِكُمْ ښ [اپنے خداؤں پر ] اِنَّ ھٰذَا [بیشک یہ ] لَشَيْءٌ [یقینا ایک ایسی چیز ہے ] يُّرَادُ [جس کی خواہش کی گئی ہے ] ۔
Ayah 38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات

مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا [ہم نے نہیں سنا اس کو ] فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ ښ [(اپنے سے پہلوں کی) آخری ملت میں ] اِنْ ھٰذَآ [نہیں ہے یہ ] اِلَّا اخْتِلَاقٌ [مگر جھوٹ گھڑنا ] ۔
Ayah 38:8

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کر دیا گیا؟" اصل بات یہ ہے کہ یہ میرے "ذکر"پر شک کر رہے ہیں، اور یہ ساری باتیں اس لیے کر رہے ہیں کہ انہوں نے میرے عذاب کا مزا چکھا نہیں ہے

ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ [کیا اتارا گیا اس پر ] الذِّكْرُ [اس نصیحت کو ] مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ [ہمارے درمیان سے ] بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ [بلکہ یہ لوگ شک میں ہیں ] مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ [میری نصیحت سے ] بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا [بلکہ انھوں نے ابھی تک نہیں چکھا ] عَذَابِ [میرے عذاب کو ]
Ayah 38:9

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا تیرے داتا اور غالب پروردگار کی رحمت کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟

اَمْ عِنْدَهُمْ [کیا ان کے پاس ] خَزَاۗىِٕنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ [آپ ﷺ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں ] الْعَزِيْزِ [جو بالادست ہے ] الْوَهَّابِ [بار بار بخشش کرنے والا ہے ] ۔
Ayah 38:10

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

کیا یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں؟ اچھا تو یہ عالم اسباب کی بلندیوں پر چڑھ کر دیکھیں!

اَمْ لَهُمْ [یا ان کے لئے ] مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے ] وَمَا بَيْنَهُمَا ۣ [اور اس کی جو ان دونوں کے درمیان ہے ] فَلْيَرْتَقُوْا [تو انھیں چاہیے کہ چڑھیں ] فِي الْاَسْبَابِ [رسیوں میں ] ۔
Ayah 38:11

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتھا ہے جو اِسی جگہ شکست کھانے والا ہے

جُنْدٌ مَّا [کوئی بھی لشکر ہو ] هُنَالِكَ [وہیں ] مَهْزُوْمٌ [شکست دیا جانے والا ہے ] مِّنَ الْاَحْزَابِ [مضبوط جتھوں میں سے ] ۔
Ayah 38:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم، اور عاد، اور میخوں والا فرعون

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ [جھٹلایا ان سے پہلے ] قَوْمُ نُوْحٍ [نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ] وَّعَادٌ [اور عاد نے ] وَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ [اور میخوں والے فرعون نے ] ۔ و ت د (ض) وتدا میخ گاڑنا۔ وتد ج اوتاد۔ اسم ذات ہے۔ میخ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12 ۔ نوٹ۔ 1: فرعون کے لئے میخوں والا یا تو اس معنی میں استعمال کیا گیا کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا میخ زمین میں ٹھکی ہوئی ہو۔ یا اس بنا پر کہ اس کے کثیر التعداد لشکر جہاں ٹھہرتے تھے وہاں ہر طرف خیموں کی میخین نظر آتی تھیں یا اس بنا پر کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اسے میخیں ٹھونک کر عذاب دیا کرتا تھا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 38:13

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود، اور قوم لوط، اور اَیکہ والے جھٹلا چکے ہیں جتھے وہ تھے

وَثَمُــوْدُ [اور ثمود نے ] وَقَوْمُ لُوْطٍ [اور لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ] وَّاَصْحٰبُ لْــــَٔـيْكَةِ ۭ [اور گھنے درخت والوں نے ] اُولٰۗىِٕكَ [یہ ہیں ] الْاَحْزَابُ [وہ مضبوط جتھے ] ۔
Ayah 38:14

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور میری عقوبت کا فیصلہ اس پر چسپاں ہو کر رہا

اِنْ كُلٌّ [نہیں ہیں یہ سب ] اِلَّا [مگر یہ کہ ] كَذَّبَ [انھوں نے جھٹلایا ] الرُّسُلَ [رسولوں کو ] فَحَقَّ [تو ثابت ہوا ] عِقَابِ [میرا سزا دینا ] ۔
Ayah 38:15

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

یہ لوگ بھی بس ایک دھماکے کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی دوسرا دھماکا نہ ہوگا

وَمَا يَنْظُرُ [اور راہ نہیں دیکھتے ] هٰٓؤُلَاۗءِ [یہ لوگ ] اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً [مگر ایک چنگھاڑ کی ] مَّا لَهَا [نہیں ہوگا جس میں ] مِنْ فَوَاقٍ [کوئی بھی وقفہ ] ۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، یوم الحساب سے پہلے ہی ہمارا حصہ ہمیں جلدی سے دے دے

وَقَالُوْا [اور یہ لوگ کہتے ہیں ] رَبَّنَا [اے ہمارے رب ] عَجِّلْ [تو جلدی کر دے ] لَّنَا [ہمارے لئے ] قِطَّنَا [ہمارا حصہ ] قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ [حساب کے دن سے پہلے ] ۔ ق م م (ن) قطا قلم وغیرہ کو تراشنا۔ قط (1) حساب کا رجسٹر۔ چارج شیٹ (2) جزا و سزا کا حصہ۔ نصیب ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔
Ayah 38:17

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

اے نبیؐ، صبر کرو اُن باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں، اور اِن کے سامنے ہمارے بندے داؤدؑ کا قصہ بیان کرو جو بڑی قوتوں کا مالک تھا ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا

اِصْبِرْ [آپ ﷺ صبر کریں ] عَلٰي مَا [اس پر جو ] يَقُوْلُوْنَ [یہ لوگ کہتے ہیں ] وَاذْكُرْ [اور آپ ﷺ یاد کریں ] عَبْدَنَا دَاوٗدَ [ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو ] ذَا الْاَيْدِ ۚ [جو قوت والے تھے ] اِنَّهٗٓ [بیشک وہ ] اَوَّابٌ [بار بار رجوع کرنے والے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: کفار کی تکذیب و استہزاء سے رسول اللہ ﷺ کو جو صدمہ ہوتا، اسے دور کرنے اور تسلی دینے کے لئے عموما اللہ تعالیٰ نے پچھلے انبیاء (علیہ السلام) کے واقعات سنائے ہیں۔ چناچہ یہاں بھی آپ ﷺ کو صبر کی تلقین فرماکر بعض انبیاء (علیہ السلام) کے واقعات ذکر کئے گئے ہیں جن میں پہلا واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 38:18

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا تھا کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے

اِنَّا سَخَّرْنَا [بیشک ہم نے مطیع کیا ] الْجِبَالَ [پہاڑوں کو ] مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ [ان (علیہ السلام) کے ساتھ وہ سب تسبیح کرتے تھے ] بِالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ [شام اور صبح کو ] ۔
Ayah 38:19

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

پرندے سمٹ آتے اور سب کے سب اُس کی تسبیح کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے

وَالطَّيْرَ [اور پرندوں کو (مطیع کیا)] مَحْشُوْرَةً ۭ [جمع کئے ہوئے ] كُلٌّ [سب ] ۔ لَّهٗٓ [اس (اللہ ) کے لئے ] اَوَّابٌ [بار بار رجوع کرنے والے تھے ] ۔
Ayah 38:20

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کر دی تھے، اس کو حکمت عطا کی تھے اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی

وَشَدَدْنَا [اور ہم نے مضبوط کیا ] مُلْكَهٗ [ان کی سلطنت کو ] وَاٰتَيْنٰهُ [اور ہم نے دی ان (علیہ السلام) کو ] الْحِكْمَةَ [دانائی ] وَفَصْلَ الْخِطَابِ [اور بات کا فیصلہ کرنا ] ۔
Ayah 38:21

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے اُن مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اُس کے بالا خانے میں گھس آئے تھے؟

وَهَلْ اَتٰىكَ [اور کیا پہنچی آپ ﷺ کے پاس ] نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ [مخالف فریقوں کی خبر ] اِذْ تَسَوَّرُوا [جب انھوں نے پھلانگا ] الْمِحْرَابَ [محراب کو ] ۔
Ayah 38:22

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب وہ داؤدؑ کے پاس پہنچے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گیا انہوں نے کہا "ڈریے نہیں، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجیے، بے انصافی نہ کیجیے اور ہمیں راہ راست بتائیے

اِذْ دَخَلُوْا [جب وہ داخل ہوئے ] عَلٰي دَاوٗدَ [داؤد (علیہ السلام) پر ] فَفَزِعَ [تو وہ گھبرائے ] مِنْهُمْ [ان سے ] قَالُوْا [انھوں نے کہا ] لَا تَخَفْ ۚ [آپ (علیہ السلام) خوف مت کریں ] خَصْمٰنِ [(ہم ) دو فریق مخالف ہیں ] بَغٰى [زیادتی کی ] بَعْضُنَا [ہمارے کسی نے ] عَلٰي بَعْضٍ [کسی پر ] فَاحْكُمْ بَيْنَنَا [تو آپ (علیہ السلام) فیصلہ کریں ہمارے درمیان ] بِالْحَــقِّ [حق کے ساتھ ] وَلَا تُشْطِــطْ [اور آپ (علیہ السلام) زیادتی مت کریں ] وَاهْدِنَآ [اور آپ (علیہ السلام) ہماری رہنمائی کریں ] اِلٰى سَوَاۗءِ الصِّرَاطِ [راستہ کے درمیان ] ۔
Ayah 38:23

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

یہ میرا بھائی ہے، اِس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے اِس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا"

اِنَّ ھٰذَآ [بیشک یہ ] اَخِيْ ۣ [میرا بھائی ہے ] لَهٗ [اس کے لئے ] تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ [ننانوے ] نَعْجَةً [بھیڑیں ہیں ] وَّلِيَ [اور میرے لئے ] نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ ۣ [ایک بھیر ہے ] فَقَالَ [پھر اس نے کہا ] اَكْفِلْنِيْهَا [تو میری کفالت میں دے اس کو ] وَعَزَّنِيْ [اور وہ غالب ہوا مجھ پر ] فِي الْخِطَابِ [بات میں ] ۔ ن ع ح (س) نعجا خالص سفید رنگ ہونا۔ نعجۃ ج نعاج۔ بھیڑ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔ 24 ۔
Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

داؤدؑ نے جواب دیا: "اِس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقیناً تجھ پر ظلم کیا، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں" (یہ بات کہتے کہتے) داؤدؑ سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے، چنانچہ اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کر لیا

قَالَ [انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] لَقَدْ ظَلَمَكَ [بیشک اس نے ظلم کیا ہے تجھ پر ] بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ [تیری بھیڑ کو مانگنے سے ] اِلٰى نِعَاجِهٖ ۭ [اپنی بھیڑوں کی طرف ] وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْخُلَطَاۗءِ [بیشک شریک کاروں میں سے اکثر ] لَيَبْغِيْ [یقینا زیادتی کرتے ہیں ] بَعْضُهُمْ [ان کا کوئی ] عَلٰي بَعْضٍ [کسی پر ] اِلَّا الَّذِيْنَ [سوائے ان کے جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور عمل کئے نیکیوں کے ] وَقَلِيْلٌ مَّا [اور بہت ہی تھورے ہیں ] هُمْ ۭ [وہ لوگ ] وَظَنَّ دَاوٗدُ [اور گمان کیا داؤد (علیہ السلام) نے ] اَنَّمَا [کہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] فَتَنّٰهُ [ہم نے آزمائش میں ڈالا ان (علیہ السلام) کو ] فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ [تو انھوں نے مغفرت مانگی اپنے رب سے ] وَخَرَّ [اور وہ گرپڑے ] رَاكِعًا [عاجزی سے جھکنے والے ہوتے ہوئے ] وَّاَنَابَ [اور انھوں نے رجوع کیا ] ۔
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

تب ہم نے اس کا وہ قصور معاف کیا اور یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے

فَغَفَرْنَا [تو ہم نے معاف کیا ] لَهٗ [ان کے لئے ] ذٰلِكَ ۭ [اس (بات) کو ] وَاِنَّ لَهٗ [اور بیشک ان کے لئے ہے ] عِنْدَنَا [ہمارے پاس ] لَـزُلْفٰى [یقینا زیادہ قریب ہونا ] وَحُسْنَ مَاٰبٍ [اور ٹھکانے کا حسن ] ۔
Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

(ہم نے اس سے کہا) "اے داؤدؑ، ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً اُن کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے"

يٰدَاوٗدُ [اے داؤد (علیہ السلام) ] اِنَّا جَعَلْنٰكَ [بیشک ہم نے بنایا آپ (علیہ السلام) کو ] خَلِيْفَةً [خلیفہ ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] فَاحْكُمْ [تو آپ (علیہ السلام) فیصلہ کریں ] بَيْنَ النَّاسِ [لوگوں کے درمیان ] بِالْحَقِّ [حق کے ساتھ ] وَلَا تَتَّبِعِ [اور آپ (علیہ السلام) پیروی مت کریں ] الْهَوٰى [من مانی (بات) کی ] فَيُضِلَّكَ [نتیجتاً وہ بھٹکا دے گی آپ (علیہ السلام) کو ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ[اللہ کی راہ سے ] اِنَّ الَّذِيْنَ [بیشک جو لوگ ] يَضِلُّوْنَ [بھٹکتے ہیں ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [اللہ کی راہ سے ] لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ [ان کے لئے ایک شدید عذاب ہے ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] نَسُوْا [انھوں نے بھلایا ] يَوْمَ الْحِسَابِ [اس حساب کے دن کو ] ۔ نوٹ۔ 1: ان آیات میں باری تعالیٰ نے حضرت داؤد کا واقعہ جس انداز میں بیان کیا ہے اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت گاہ میں دو فریقوں کو بھیج کر ان کا کئی امتھان کیا تھا۔ حضرت داؤد نے اس پر متنبہ ہوکر استغفار کیا اور سجدے میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمادی۔ قرآن کریم کا اصل مقصد چونکہ یہاں یہ بیان کرنا ہے کہ حضرت داؤد ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع فرماتے تھے اور کبھی ذرا سی لغزش بھی ہوجائے تو فورا استغفار کرتے تھے، اس لئے یہاں تفصیل بیان نہیں کی گئی کہ وہ امتحان کیا تھا۔ (معارف القرآن) ۔ رہے وہ قصے جو تفسیر کی بعض کتابوں میں نقل ہوئے ہیں ان کی نسبت ہماری دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو معاف کرے جو اپنی کتابوں مین ان کو نقل کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ (تدبر قرآن) حضرت تھانوی نے اس آزمائش اور لغزش کی تشریح اس طرح فرمائی ہے کہ مقدمہ کے دو فریق دیوار پھاند کر داخل ہوئے اور طرز مکاطبت بھی انتہائی گستاخانہ اختیار کیا کہ شروع ہی میں حضرت داؤد کو انصاف کرنے اور ظلم نہ کرنے کی نصیحت شروع کردی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ امتحان لیا کہ وہ شہنشاہی جلال میں آکر ان کو گستاخی کی سزا دیتے ہیں یا پیغمبرانہ عفو و تحمل سے کام لے کر ان کی بات سنتے ہیں۔ حضرت داؤد اس امتحان میں پورے اترے لیکن اتنی سی فروگذاشت ہوگئی کہ فیصلہ سناتے وقت ظالم کو خطاب کرنے کے بجائے مظلوم کو مخاطب فرمایا جس سے ایک گونہ جانبداری مترشح ہوئی تھی مگر اس پر فورا متنبہ ہوئے اور سجدے میں گرگئے اور اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرمادیا۔ بعض مفسرین نے لغزش کی یہ تشریح کی ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے مدعا علیہ (ظالم) کا بیان سنے بغیر صرف مدعی (مظلوم) کی بات سن کر اپنی نصیحت میں ایسی بات فرمادی جس سے مدعی کی تائید ہوتی تھی، حالانکہ پہلے مدعاعلیہ سے پوچھننا چاہیے تھا کہ اس کا مؤقف کیا ہے۔ اسی بات پر متنبہ ہوکر وہ سجدہ ریز ہوئے۔ (معارف القرآن) ان ہی آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کو معاف کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نصیحت کی ہے وہ یہ ہے کہ اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے تو آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جس لغزش کی طرف اشارہ ہے اس کا تعلق مقدمہ سے ہے۔ اب اس کا تو امکان نہیں ہے کہ حضرت داؤدعلیہ السلام سے نعوذ بااللہ کوئی غلط فیصلہ ہوگیا ہوگا۔ اس لئے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مقدمہ سننے اور فیصلہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ طریقہ کار کے اطلاق میں کہیں کوئی خلا یا جھول رہ گیا تھا جس کا حضرت داؤد (علیہ السلام) کو خود بھی اھس اس ہوگیا تھا۔ اس لحاظ سے مذکورہ بالا تشریحات میں کافی وزن محسوس ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

ہم نے اس آسمان اور زمین کو، اور اس دنیا کو جو ان کے درمیان ہے، فضول پیدا نہیں کر دیا ہے یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنم کی آگ سے

وَمَا خَلَقْنَا [اور ہم نے نہیں پیدا کیا ] السَّمَاۗءَ وَالْاَرْضَ [اس آسمان کو اور اس زمین کو ] وَمَا بَيْنَهُمَا [اور اس کو جو ان دونوں کے درمیان ہے ] بَاطِلًا ۭ [بے مقصد ] ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيْنَ [یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے ] كَفَرُوْا ۚ [انکار کیا ] [فَوَيْلٌ: تو تباہی ہے ] لِّــلَّذِيْنَ [ان کے لئے جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] مِنَ النَّارِ [آگ سے ] ۔
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اور اُن کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کر دیں؟ کیا متقیوں کو ہم فاجروں جیسا کر دیں؟

اَمْ نَجْعَلُ [کیا ہم بنائیں گے ] الَّذِيْنَ [ان کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور انھوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ [اس زمین میں نظم بگاڑنے والوں کے جیسا ] اَمْ نَجْعَلُ [یا ہم بنائیں گے ] الْمُتَّقِيْنَ [تقوی اختیار کرنے والوں کو ] كَالْفُجَّارِ [فاجروں کے جیسا ] ۔
Ayah 38:29

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں

كِتٰبٌ [(یہ) ایک کتاب ہے ] اَنْزَلْنٰهُ [ہم نے اتارا جس کو ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] مُبٰرَكٌ [جو برکت دی ہوئی ہے ] لِّيَدَّبَّرُوْٓا [تاکہ یہ لوگ غور وفکر کریں ] اٰيٰتِهٖ [اس کی آیتوں میں ] وَلِيَتَذَكَّرَ [اور تاکہ نصیحت حاصل کریں ] اُولُوا الْاَلْبَابِ [خالص عقل والے ] ۔ نوٹ۔ 1: ان آیات میں اسلام کے بنیادی عقائد، خاص طور سے آخرت کا اثبات کیا گیا ہے۔ یہ آیات حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعات کے درمیان انتہائی لطیف ترتیب کے ساتھ آئی ہیں۔ اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ سمجھ رہا ہو تو حکیمانہ طریقہ یہ ہے کہ زیر بحث موضوع چھوڑ کر کوئی دوسری بات شروع کردی جائے اور جب اس کا ذہن پہلی بات سے ہٹ جائے تو باتوں ہی باتوں میں اسے پھر پہلی بات کی طرف لایا جائے۔ یہاں آخرت کے اثبات کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت داؤد کے واقعہ سے پہل کفار کی ہٹ دھرمی کا ذکر چل رہا تھا جو اس آیت پر ختم ہو کہ اے ہمارے رب تو حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا حساب چکا دے۔ (آیت 16) ۔ اس کا حاصل یہ تھا کہ یہ لوگ آخرت کا انکار کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کے فورا بعد یہ ارشادہوا کہ ان کی باتوں پر صبر کیجیے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کیجیے۔ لہٰذا تم لوگوں میں انصاف سے فیصلہ کرتے رہنا۔ یہاں ایک غیر محسوس طریقے پر آخرت کا اثبات کردیا گیا، کہ جو ذات زمین میں اپنے خلیفہ کو عدل و انصاف قائم کرنے میں حکم دے رہی ہے ، جس کا حاصل یہ ہے کہ بدکاروں کو سزا ملے اور نیکوں کو راحت، کیا وہ خود اس کائنات میں عدل و انصاف قائم نہیں کرے گی ؟ یقینا اس کی حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اچھے اور برے لوگوں کو ایک لاٹھی سے ہانکن کے بجائے بدکاروں کو سزا دے اور نیکو کاروں کو انعام دے۔ یہی اس کائنات کی تخلیق کا مقصد اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے قیامت اور آخرت کا وجود ناگزیر ہے۔ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ گویا زبان حال سے یہ کہتے ہیں کہ کاتنات بےمقصد پیدا کردی گئی ہے اور اس میں اچھے برے تمام لوگ زندگی گزار کر مراجائیں گے اور پھر ان سے کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا۔ حالانکہ انسانی عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی۔ (معارف القرآن)
Ayah 38:30

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور داؤدؑ کو ہم نے سلیمانؑ (جیسا بیٹا) عطا کیا، بہترین بندہ، کثرت سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا

وَوَهَبْنَا [اور ہم نے عطا کیا ] لِدَاوٗدَ [داؤد (علیہ السلام) کو ] سُلَيْمٰنَ ۭ [سلیمان (علیہ السلام) ] نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ [کیا ہی اچھا بندہ ] اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ [بیشک وہ بار بار رجوع کرنے والے تھے ] ۔
Ayah 38:31

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

قابل ذکر ہے وہ موقع جب شام کے وقت اس کے سامنے خوب سدھے ہوئے تیز رو گھوڑے پیش کیے گئے

اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ [جب پیش کئے گئے ان (علیہ السلام) پر ] بِالْعَشِيِّ [شام کو ] الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ [بہترین تیز رفتار گھوڑے ] ۔ صن صفونا گھوڑے کا تین ٹانگوں پر کھڑا ہونا اور چوتھی ٹانگ کے کھر کا صرف سرا زمین پر ٹکانا۔ جب چلیں تو نہایت تیز رفتار۔ صافن ج صافنات۔ تین ٹانگوں پر کھڑا ہونے والا گھوڑا۔ تیز رفتار گھوڑا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 31 ۔ نوٹ۔ 1: آیات 31 ۔ 32 ۔ 33 کے ترجمہ اور تفسیر میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ ان کا یہ مطلب بیان کرتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کے معاملہ اس قدر مشغول ہوئے کہ عصر کی عبادت بھول گئے یہاں تک کہ سورج چھپ گیا۔ تب انھوں نے گھوڑوں کو واپس لانے کا حکم دیا اور تلوار سے ان کو قربان کرنا شروع کردیا کیونکہ وہ ذکر الٰہی سے غفلت کا موجب بن گئے تھے۔ یہ تفسیر اگرچہ بعض اکابر مفسرین نے کی ہے لیکن یہ اس وجہ سے قابل ترجیح نہیں ہے کہ اس میں مفسر کو تین باتیں اپنی طرف سے بڑھانی پڑتی ہیں جن کا کوئی ماخذ نہیں ہے۔ اولا وہ فرض کرتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عصر کی عبادت اس شغل میں چھوٹ گئی۔ حالانکہ انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی کا ترجمہ یہ تو کیا جاسکتا ہے کہ میں نے اس مال کو اتنا پسند کیا کہ اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا، لیکن اس میں عصر کی کوئی خاص عبادت مراد لینے کے لئے کوئی قرینہ نہیں ہے۔ ثانیا وہ یہ بھی فرض کرتا ہے کہ سورج چھپ گیا۔ حالانکہ یہاں سورج کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ حتی تورت بالحجات کے الفاظ پڑھ کر آدمی ذہن منا الصافنات الجیاد کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ ثالثا وہ یہ بھی فرض کرتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر خالی مسح نہیں کیا بلکہ تلوار سے مسح کیا۔ حالانکہ قرآن میں بالسیف کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور کوئی قرینہ بھی ایسا موجود نہیں ہے جس کی بنا پر مسح سے مسح بالسیف مراد لیا جاسکے۔ اصول یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ سے زائد کوئی مطلب لینا چار ہی صورتوں میں درست ہوسکتا ہے۔ یا تو قرآن ہی کی عبارت میں اس کے لئے کوئی قرینہ موجود ہو۔ یا قرآن میں کسی دوسرے مقام پر اس کی طرف اشارہ ہو۔ یا کسی حدیث میں اس اجمال کی شرح ملتی ہو یا اس کا اور کوئی قابل اعتبار ماخذ ہو۔ مثلا تاریخ کا معاملہ ہو تو تاریخ میں تفصیلات ملتی ہوں یا آثار کائنات کا ذکر ہے تو مستند علمی تحقیقات سے اس کی تشریحات ہورہی ہو، وغیرہ۔ یہاں ان میں سے کوئی بھی بات موجود نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 38:32

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو اس نے کہا "میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے" یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہو گئے

فَقَالَ [تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] اِنِّىْٓ اَحْبَبْتُ [کہ میں نے محبت کی ] حُبَّ الْخَيْرِ [اس مال کے پار سے ] عَنْ ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ [اپنے رب کی یاد کے سبب سے ] حَتّٰى تَوَارَتْ [یہاں تک کہ وہ (گھوڑے) چھپ گئے ] بِالْحِجَابِ [اوٹ میں ] ۔
Ayah 38:33

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

تو (اس نے حکم دیا کہ) انہیں میرے پاس واپس لاؤ، پھر لگا ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے

رُدُّوْهَا [تم لوگ لوٹاؤ ان (گھوڑوں) کو ] عَلَيَّ ۭ [مجھ پر ] فَطَفِقَ مَسْحًۢا [تو وہ ہاتھ پھیرنے لگے ] بِالسُّوْقِ [پنڈلیوں پر ] وَالْاَعْنَاقِ [اور گردنوں پر ] ۔
Ayah 38:34

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور (دیکھو کہ) سلیمانؑ کو بھی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا

وَلَقَدْ فَتَنَّا [اور بیشک ہم آزمائش میں ڈال چکے ] سُلَيْمٰنَ [سلیمان (علیہ السلام) کو ] وَاَلْقَيْنَا [اور ہم نے ڈالا ] عَلٰي كُرْسِيِّهٖ [ان کے تخت پر ] جَسَدًا [ایک بےجان جسم ] ثُمَّ اَنَابَ [پھر انھوں نے رجوع کیا ] ۔
Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

اور کہا کہ "اے میرے رب، مجھے معاف کر دے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بیشک تو ہی اصل داتا ہے"

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ [انھوں نے کہا اے میرے رب بخش دے مجھ کو ] وَ [اور ] هَبْ [تو عطا کر ] لِيْ [مجھ کو ] مُلْكًا [ایک ایسی سلطنت جو ] لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ [کسی ایک کے (بھی) لائق نہ ہو ] مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ [میرے بعد ] اِنَّكَ اَنْتَ [بیشک تو ہی ] الْوَهَّابُ [بار بار عطا کرنے والا ہے ] ۔
Ayah 38:36

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا

فَسَخَّرْنَا لَهُ [تو ہم نے مطیع کیا ان (علیہ السلام) کے لئے ] الرِّيْحَ [ہوا کو ] تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ [وہ چلتی تھی ان (علیہ السلام) کے حکم سے ] رُخَاۗءً [نرمی کے ساتھ ] حَيْثُ اَصَابَ [جہاں وہ پہنچے ] ۔ ر خ ی (س) رخا نرم ہونا۔ آسان ہوا۔ رخاء نرمی ۔ ہوا کی ایسی نرمی جو کسی چیز کو نہ ہلائے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 36 ۔
Ayah 38:37

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور شیاطین کو مسخر کر دیا، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور

وَالشَّيٰطِيْنَ [اور شیطانوں کو ] كُلَّ بَنَّاۗءٍ [سارے معماروں کو ] وَّغَوَّاصٍ [اور غوطہ خوروں کو (مطیع کیا)] ۔
Ayah 38:38

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے

وَّاٰخَرِيْنَ [اور کچھ دوسروں کو (بھی)] مُقَرَّنِيْنَ [باندھے ہوئے ] فِي الْاَصْفَادِ [بیڑیوں میں ] ۔
Ayah 38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے اُس سے کہا) "یہ ہماری بخشش ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں"

ھٰذَا عَطَاۗؤُنَا [یہ ہماری بخشش ہے ] فَامْنُنْ [تو (اب) آپ (علیہ السلام) احسان کریں (کسی پر)] اَوْ اَمْسِكْ [یا آپ (علیہ السلام) روک لیں (کسی سے)] [بِغَيْرِ حِسَابٍ : کسی حساب کتاب کے بغیر ]
Ayah 38:40

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

یقیناً اُس کے لیے ہمارے ہاں تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے

وَاِنَّ لَهٗ [اور بیشک ان کے لئے ہے ] عِنْدَنَا [ہمارے پاس ] لَزُلْفٰى [یقینا زیادہ قریب ہونا ] وَحُسْنَ مَاٰبٍ [اور ٹھکانے کا حسن ] ۔