38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوبؑ کا ذکر کرو، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے

وَاذْكُرْ [اور آپ ﷺ یاد کریں ] عَبْدَنَآ [ہمارے بندے ] اَيُّوْبَ ۘ [ایوب (علیہ السلام) کو ] اِذْ نَادٰى [جب انھوں (علیہ السلام) نے پکارا ] رَبَّهٗٓ [اپنے رب کو ] اَنِّىْ [کہ میں ہوں کہ ] مَسَّنِيَ [چھوا مجھ کو ] الشَّيْطٰنُ [شیطان نے ] بِنُصْبٍ [تکلیف سے ] وَّعَذَابٍ [اور عذاب سے ] نوٹ۔ 1: قرآن کریم میں اتنا تو بتایا گیا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو ایک شدید قسم کا مرض لاحق ہوگیا تھا لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ احادیث میں بھی اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ البتہ بعض آثار صحابہ ؓ میں اس کی تفصیل ملتی ہے لیکن وہ قابل اعتماد نہیں۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 2: قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کی حالت میں ناراض ہوکر کسی کو مارنے کی قسم کھائی تھی اور اس قسم میں انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو صھت عطا فرمائی تو ان کو یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ قسم پوری کرتاہوں تو ایک بےگناہ کو مارنا پڑے گا اور قسم توڑتا ہوں تو یہ بھی ایک گناہ ہے۔ اس مشکل سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح نکالا کہ انھیں حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے ہوں جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی اور اس جھاڑو سے اس شخص کو بس ایک ضرب لگادو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور اسے ناروا تکلیف بھی نہ پہنچے۔ بعض لوگوں نے اس آیت کو حیلہء شرعی کے لئے دلیل قراردیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ و ہ ایک حیلہ ہی تھا جو حضرت ایوب (علیہ السلام) کو بتایا گیا تھا، لیکن وہ کسی فرض سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ ایک برائی سے بچنے کے لئے بتایا گیا تھا۔ لہٰذ شریعت میں صرف وہی حیلے جائز ہیں جو آدمی کو اپنی ذات سے یا کسی دوسرے شخص سے گناہ اور برائی کو دفع کرنے کے لئے اختیار کئے جائیں۔ ورنہ حرام کو حلال کرنے یا فرائض کو ساقط کرنے یا نیکی سے بچنے کے لئے حیلہ سازی گناہ در گناہ ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 38:42

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے اُسے حکم دیا) اپنا پاؤں زمین پر مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے اور پینے کے لیے

اُرْكُضْ [آپ (علیہ السلام) رگڑیں ] بِرِجْلِكَ ۚ [اپنے پیر سے ] ھٰذَا [یہ ] مُغْتَسَلٌۢ [نہانے کی جگہ ہے ] بَارِدٌ [ٹھنڈا کرنے والی ہے ] وَّشَرَابٌ [اور پینے کی چیز ہے ] ۔
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

ہم نے اُسے اس کے اہل و عیال واپس دیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر

وَوَهَبْنَا [اور ہم نے عطا کئے ] لَهٗٓ اَهْلَهٗ [اس کو اس کے گھر والے ] وَمِثْلَهُمْ [اور ان کے جیسے ] مَّعَهُمْ [ان کے ساتھ ] رَحْمَةً مِّنَّا [ہماری طرف سے رحمت ہوتے ہوئے ] وَذِكْرٰى [اور یاد دہانی ہوتے ہوئے ] لِاُولِي الْاَلْبَابِ [خالص عقل والوں کے لئے ] ۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

(اور ہم نے اس سے کہا) تنکوں کا ایک مٹھا لے اور اُس سے مار دے، اپنی قسم نہ توڑ ہم نے اُسے صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا

وَخُذْ بِيَدِكَ [اور آپ (علیہ السلام) پکڑیں اپنے ہاتھ میں ] ضِغْثًا [ایک مٹھی گھاس ] فَاضْرِبْ بِّهٖ [پھر آپ (علیہ السلام) ماریں اس سے ] وَلَا تَحْــنَثْ ۭ[اور آپ (علیہ السلام) قسم مت توریں ] اِنَّا وَجَدْنٰهُ [بیشک ہم نے پایا ان (علیہ السلام) کو ] صَابِرًا ۭ [صبر کرنے والا ] نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ [کیا ہی اچھا بندہ ] اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ [بیشک وہ بار بار رجوع کرنے والے تھے ] ۔ ح ن ث (س) حنثا (1) باطل کی طرف مائل ہونا۔ نافرمانی کرنا۔ (2) قسم توڑنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 44 ۔ حنث نافرمانی۔ گناہ۔ وَكَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ (اور وہ لوگ اڑتے تھے اس بڑے گناہ پر) 56/46
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے

وَاذْكُرْ عِبٰدَنَآ [اور آپ ﷺ یاد کریں ہمارے بندوں کو ] اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ [ابراہیم (علیہ السلام) کو اور اسحاق (علیہ السلام) کو اور یعقوب (علیہ السلام) کو ] اُولِي الْاَيْدِيْ [جو قوت والے تھے ] وَالْاَبْصَارِ [اور بصیرت والے تھے ] ۔
Ayah 38:46

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا، اور وہ دار آخرت کی یاد تھی

اِنَّآ اَخْلَصْنٰهُمْ [بیشک ہم نے الگ کیا (ممتاز کیا) ان سب کو ] بِخَالِصَةٍ [ایک خالص (بات) سے ] ذِكْرَى الدَّارِ [جو اس (آخرت کے) گھر کی یاد دہانی تھی ] ۔
Ayah 38:47

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے

وَاِنَّهُمْ عِنْدَنَا [اور بیشک وہ سب ہمارے پاس ] لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَخْيَارِ [یقینا چنے ہوئے بہت خیر والوں میں سے تھے ] ۔
Ayah 38:48

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیلؑ اور الیسع اور ذوالکفلؑ کا ذکر کرو، یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے

وَاذْكُرْ [اور آپ ﷺ یاد کریں ] اِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۭ [اسمعیل (علیہ السلام) کو اور الیسع (علیہ السلام) کو اور ذوالکفل (علیہ السلام) کو ] وَكُلٌّ [اور وہ سب ] مِّنَ الْاَخْيَارِ [بہت خیر والوں میں سے تھے ] ۔
Ayah 38:49

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک ذکر تھا (اب سنو کہ) متقی لوگوں کے لیے یقیناً بہترین ٹھکانا ہے

ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ [یہ ایک یاد دہانی ہے ] وَاِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ [اور بیشک تقوی اختیار کرنے والوں کے لئے ] لَحُسْنَ مَاٰبٍ [یقینا ٹھکانے کا حسن ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات سنانے کے بعد خلاصہ بحث سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ ایک یاد دہانی ہے۔ یعنی یہ محض ماضی کے قصے نہیں ہیں بلکہ تمہارے لئے بھی یہ درس موعظت ہیں اور یہ یاد رکھو کہ خدا کے ہاں اچھا ٹھکانہ خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 38:50

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے اُن کے لیے کھلے ہوں گے

جَنّٰتِ عَدْنٍ [عدن کے باغات ہیں ] مُّفَتَّحَةً [کھولے ہوئے ہیں ] لَّهُمُ [ان کے لئے ] الْاَبْوَابُ [(ان کے) دروازے ] ۔
Ayah 38:51

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، خوب خوب فواکہ اور مشروبات طلب کر رہے ہوں گے

مُتَّكِــــِٕيْنَ [ٹیک لگا کر بیٹھے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَا [ان میں ] يَدْعُوْنَ [وہ لوگ طلب کریں گے ] فِيْهَا [ان میں ] بِفَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ [بہت سے میوے ] وَّشَرَابٍ [اور مشروبات ] ۔
Ayah 38:52

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن بیویاں ہوں گی

وَعِنْدَهُمْ [اور ان کے پاس ہوں گے ] قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ [آنکھ کی پلک کو نیچا رکھنے والیاں ] اَتْرَابٌ [ہم جھولیاں ] ۔
Ayah 38:53

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے

ھٰذَا مَا [یہ وہ ہے جو ] تُوْعَدُوْنَ [تم لوگوں سے وعدہ کیا گیا ] لِيَوْمِ الْحِسَابِ [حساب کتاب کے دن کے لئے ] ۔
Ayah 38:54

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں

اِنَّ ھٰذَا [بیشک یہ ] لَرِزْقُنَا [ہماری بخشش ہوگی ] مَا لَهٗ [نہیں ہوگا جس کے لئے ] مِنْ نَّفَادٍ [کبھی بھی ختم ہونا ] ۔
Ayah 38:55

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ تو ہے متقیوں کا انجام اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے

ھٰذَا ۭ [یہ ہے (متقین کے لئے)] وَاِنَّ لِلطّٰغِيْنَ [اور بیشک سرکشی کرنے والوں کے لئے ] لَـشَرَّ مَاٰبٍ [یقینا ٹھکانے کی برائی ہے ] ۔
Ayah 38:56

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

جہنم جس میں وہ جھلسے جائیں گے، بہت ہی بری قیام گاہ

جَهَنَّمَ ۚ [جو جہنم ہے ] يَصْلَوْنَهَا ۚ [وہ لوگ کریں گے اس میں ] فَبِئْسَ [تو کیا ہی بری ہے ] الْمِهَادُ [یہ آرام گاہ ] ۔
Ayah 38:57

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے اُن کے لیے، پس وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہو

ھٰذَا ۙ [یہ ہے (طاغین کے لئے)] فَلْيَذُوْقُوْهُ [پس چاہیے کہ وہ چکھیں اس کو ] حَمِيْمٌ [(یہ) کھولتا پانی ہے ] وَّغَسَّاقٌ [اور (یہ) پیپ ہے ] ۔ ترکیب : (آیت۔ 57) ۔ حمیم اور غساق کو ہم فلیذوقوہ کی ضمیر مفعولی ہُ کا بدل نہیں مان سکتے کیو کہ ایسی صورت میں یہ حالت نصب میں حمیم اور غساقا ہوتے۔ ان کی رفع بتارہی ہے کہ یہ خبریں ہیں۔ آیت کے شروع میں ہذا کو ان کا مبتدا مانا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں ہذا کے بعد وقف نہیں ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حزا کو مستقل اشارہ مانا جائے۔ ایسی صورت میں ھذا کے بعد وقف ہوگا جیسے آیت 55 کے شروع میں ھذا پر وقف ہے۔ اور حمیم وغساق سے پہلے ان کے مبتدا ھذا کو محزوف مانا جائے۔ ترجمہ میں ہم دوسری صورت کو ترجیح دیں گے۔ آیت 59 مرحبا کی صب ظرف ہونے کی وجہ سے ہے۔ آیت 60 قدمتموہ میں ضمیر مفعولی ہُ النار یا جہنم کے لئے نہیں ہوسکتی ورنہ ضمیر ھا آتی کیونکہ وہ مؤنث ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہُ کی ضمیر اس وقت کی مجموعی صورحال یعنی عذاب کے لئے ہے۔ آیت 61 قدم لنا ھذا میں اسم اشارہ ھذا بھی اس عذاب کے لئے ہے۔ آیت 63 اتخذنا در ااتخذنا ہے جس میں پہلا ہمزہ استفہامیہ ہے اور دوسرا افتعال کا ہے۔ قاعدے کے مطابق اتخذ کا ہمزۃ الوصل صامت ہونے کے ساتھ لکھنے میں بھی گرگیا ہے۔
Ayah 38:58

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی قسم کی دوسری تلخیوں کا

وَّاٰخَرُ [اور دوسرے ] مِنْ شَكْلِهٖٓ [ان کے ملتے جلتے سے ] اَزْوَاجٌ [کچھ جوڑے ] ۔
Ayah 38:59

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

(وہ جہنم کی طرف اپنے پیروؤں کو آتے دیکھ کر آپس میں کہیں گے) "یہ ایک لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آ رہا ہے، کوئی خوش آمدید اِن کے لیے نہیں ہے، یہ آگ میں جھلسنے والے ہیں"

ھٰذَا فَوْجٌ [یہ ایک گروہ ہے ] مُّقْتَحِمٌ [گھس جانے والا ہے ] مَّعَكُمْ ۚ [تمہارے ساتھ ] لَا مَرْحَبًۢا [کوئی کشادگی کی جگہ نہیں ہے ] بِهِمْ ۭ [ان کے ساتھ ] اِنَّهُمْ [بیشک وہ سب ] صَالُوا النَّارِ [آگ سیکنے والے ہیں ] ۔ ق ح م (ن) فحما بلا سوچے سمجھے داخل ہونا۔ بلا قامل کود پڑنا۔ (افتعال) اقتحاما کسی تکلیف وہ جگہ میں گھس جانا۔ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (تو وہ بلا تامل نہیں کود اس گھاٹی میں) 90/11 ۔ مقتحم اسم الفاعل ہے۔ گھس جانے والا۔ آیت زیر مطالعہ۔ 59 ۔
Ayah 38:60

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ اُن کو جواب دیں گے "نہیں بلکہ تم ہی جھلسے جا رہے ہو، کوئی خیر مقدم تمہارے لیے نہیں تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو، کیسی بری ہے یہ جائے قرار"

قَالُوْا [وہ لوگ کہیں گے ] بَلْ اَنْتُمْ ۣ [بلکہ تم لوگ ] لَا مَرْحَبًۢا [کوئی کشادگی کی جگہ نہیں ہے ] بِكُمْ ۭ [تمہارے ساتھ ] اَنْتُمْ [تم لوگوں نے ہی ] قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا ۚ [آگے بھیجا اس کو ہمارے لئے ] فَبِئْسَ الْقَرَارُ [تو کتنا برا ہے یہ ٹھہرنا ] ۔
Ayah 38:61

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

پھر وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا اُس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے"

قَالُوْا [وہ کہیں گے ] رَبَّنَا [اے ہمارے رب ] مَنْ قَدَّمَ لَنَا [جس نے آگے بھیجا ہمارے لئے ] ھٰذَا [اس کو ] فَزِدْهُ [تو تو زیادہ کردے اسے ] عَذَابًا ضِعْفًا [بلحاظ دوگنے عذاب کے ] فِي النَّارِ [آگ میں ] ۔
Ayah 38:62

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور وہ آپس میں کہیں گے "کیا بات ہے، ہم اُن لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے؟

وَقَالُوْا [اور وہ کہیں گے ] مَا لَنَا [ہمیں کیا ہے (کہ)] لَا نَرٰى [ہم نہیں دیکھتے ] رِجَالًا [ایسے مردوں کو ] كُنَّا نَعُدُّهُمْ [ہم شمار کرتے تھے جن کو ] مِّنَ الْاَشْرَارِ [برے لوگوں میں سے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 62 میں رجالا سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جن کو یہ کفار دنیا میں تمام برائیوں کی جڑ سمجھتے تھے۔ وہ حیران ہوکر ہر طرف دیکھیں گے کہ اس جہنم میں ہم اور ہمارے پیشوا تو موجود ہیں مگر ان لوگوں کا یہاں کہیں پتہ نشان تک نہیں ہے جن کی ہم دنیا میں برائیاں کرتے تھے اور خدا، رسول، آخرت کی باتیں کرنے پر جن کا مذاق ہماری مجلسوں میں اڑایا جاتا تھا۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 38:63

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

ہم نے یونہی ان کا مذاق بنا لیا تھا، یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں؟"

اَتَّخَذْنٰهُمْ [کیا ہم نے بنایا ان کو ] سِخْرِيًّا [مذاق کا نشانہ ] اَمْ زَاغَتْ [یا بہک گئیں ] عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ [ان سے آنکھیں ] ۔
Ayah 38:64

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بے شک یہ بات سچی ہے، اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں

اِنَّ ذٰلِكَ [بیشک یہ ] لَحَــقٌّ [یقینا حق ہے ] تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ [آگ والوں کا باہمی تو تکار کرنا ] ۔
Ayah 38:65

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

(اے نبیؐ) اِن سے کہو، "میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں کوئی حقیقی معبود نہیں مگر اللہ، جو یکتا ہے، سب پر غالب

قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] اِنَّمَآ [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَنَا مُنْذِرٌ ڰ [میں ایک خبردار کرنے والا ہوں ] وَّمَا مِنْ اِلٰهٍ [اور کوئی بھی الٰہ نہیں ہے ] اِلَّا اللّٰهُ [سوائے اللہ کے ] الْوَاحِدُ [جو واحد ہے ] الْقَهَّارُ [جو زبردست ہے ] ۔
Ayah 38:66

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا مالک اور اُن ساری چیزوں کا مالک جو ان کے درمیان ہیں، زبردست اور درگزر کرنے والا"

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [جو زمین اور آسمانوں کا مالک ہے ] وَمَا [اور اس کا جو ] بَيْنَهُمَا [ان دونوں کے درمیان ہے ] الْعَزِيْزُ [جو بالادست ہے ] الْغَفَّارُ [جو بار بار بخشنے والا ہے ] ۔
Ayah 38:67

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

اِن سے کہو "یہ ایک بڑی خبر ہے

قُلْ هُوَ [آپ ﷺ کہیے کہ یہ ] نَبَؤٌا عَظِيْمٌ [ایک بہت بڑی خبر ہے ] ۔
Ayah 38:68

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

جس کو سن کر تم منہ پھیرتے ہو"

اَنْتُمْ عَنْهُ [تم لوگ جس سے ] مُعْرِضُوْنَ [اعراض کرنے والے ہو ] ۔
Ayah 38:69

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

(ان سے کہو) "مجھے اُس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا

مَا كَانَ لِيَ [نہیں تھا میرے لئے ] مِنْ عِلْمٍۢ [کوئی بھی علم ] بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي [(فرشتوں کی) اعلیٰ مجلس کا ] اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ [جب وہ بحث کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: ملأ اعلیٰ مقربین کی مجلس ہے جن کے توسط سے تدابیر الٰہیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں یعنی ملأ اعلیٰ میں نظام عالم کے فنا وبقا کے متعلق جو تدبییں یا بحثیں ہوتی ہیں مجھے اس کی کیا خبر تھی جو تم سے بیان کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے جن اجزاء پر مطلع فرمادیا وہ بیان کردیئے۔ جو کہتاہوں اسی کی وحی سے کہتاہوں۔ مجھ کو یہی حکم لا ہے کہ سب کو آنے والے مستقبل سے خوب کھول کھول کر آگاہ کردوں۔ رہا یہ کہ وہ وقت کب آئے گا اور قیامت کب قائم ہوگی، نہ انذار کے لئے اس کی ضرورت ہے نہ اس کی اطلاع کسی کو دی گئی ہے۔ جو تخاصم ابلیس کا آدم کے معاملہ میں ہوا، جس کا ذکر آگے آتا ہے، وہ بھی وحی کے ذریعہ معلوم ہوا۔ (ترجمہ شیخ الہند) یہ رسول اللہ ﷺ کے صحت نبوت کی ایک دلیل ہے۔ مدعا یہ ہے کہ عالم بالا میں فرشتوں کا حضرت آدم (علیہ السلام) کے باب میں سوال و جواب کرنا مجھے کیا معلوم ہوتا اگر میں نبی نہ ہوتا۔ اس کی خبر دینا میری نبوت اور میرے پاس وحی آنے کی دلیل ہے۔ (تفسیر نعیمی)
Ayah 38:70

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

مجھ کو تو وحی کے ذریعہ سے یہ باتیں صرف اس لیے بتائی جاتی ہیں کہ میں کھلا کھلا خبردار کرنے والا ہوں"

اِنْ [نہیں ] يُّوْحٰٓى اِلَيَّ [وحی کی جاتی میری طرف ] اِلَّآ [مگر (یہ کہ)] اَنَّمَآ [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [میں ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ] ۔
Ayah 38:71

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا "میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں

اِذْ قَالَ رَبُّكَ [جب کہا آپ ﷺ کے رب نے ] لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ [فرشتوں سے ] اِنِّىْ خَالِقٌۢ [کہ میں پیدا کرنے والا ہوں ] بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ [ایک بشر گارے سے ] ۔
Ayah 38:72

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

پھر جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جاؤ"

فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ [پھر جب نوک پلک درست کرلوں اس کی ] وَنَفَخْتُ فِيْهِ [اور پھون کہ دوں اس میں ] مِنْ رُّوْحِيْ [اپنی روح میں سے ] فَقَعُوْا لَهٗ [تو تم لوگ گرپڑنا اس کے لئے ] سٰجِدِيْنَ [سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] ۔
Ayah 38:73

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

اس حکم کے مطابق فرشتے سب کے سب سجدے میں گر گئے

فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ [تو سجدہ کیا فرشتوں نے ] كُلُّهُمْ [ان کے ہر ایک نے ] اَجْمَعُوْنَ [سب نے ] ۔
Ayah 38:74

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا

اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ [سوائے ابلیس کے ] اِسْتَكْبَرَ [اس نے تکبر کیا ] وَكَانَ [اور وہ تھا ] مِنَ الْكٰفِرِيْنَ [انکار کرنے والوں میں سے ] ۔
Ayah 38:75

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

رب نے فرمایا "اے ابلیس، تجھے کیا چیز اُس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے؟"

قَالَ [(اللہ تعالیٰ نے) کہا ] يٰٓـاِبْلِيْسُ [اے ابلیس ] مَا مَنَعَكَ [کس چیز نے منع کیا تجھ کو ] اَنْ تَسْجُدَ [کہ تو سجدہ کرے ] لِمَا [اس کے لئے جسے ] خَلَقْتُ [میں نے پیدا کیا ] بِيَدَيَّ ۭ [اپنے دونوں ہاتھوں سے ] اَسْتَكْبَرْتَ [کیا تو نے بڑائی اختیار کی ] اَمْ كُنْتَ [یاتو تھا (ہی)] مِنَ الْعَالِيْنَ [بلند (سر چڑھے) لوگوں میں سے ]
Ayah 38:76

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

اُس نے جواب دیا "میں اُس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے"

قَالَ [اس نے کہا ] اَنَا خَيْرٌ [میں بہتر ہوں ] مِّنْهُ ۭ [اس سے ] خَلَقْتَنِيْ [تو نے پیدا کیا مجھ کو ] مِنْ نَّارٍ [ایک آگ سے ] وَّخَلَقْتَهٗ [اور تو نے پیدا کیا اس کو ] مِنْ طِيْنٍ [ایک گارے سے ] ۔
Ayah 38:77

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

فرمایا "اچھا تو یہاں سے نکل جا، تو مردود ہے

قَالَ [(اللہ تعالیٰ نے) کہا ] فَاخْرُجْ مِنْهَا [پس تو نکل اس سے ] فَاِنَّكَ [پھر بیشک تو ] رَجِيْمٌ [دھتکارا ہوا ہے ] ۔
Ayah 38:78

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور تیرے اوپر یوم الجزاء تک میری لعنت ہے"

وَّاِنَّ عَلَيْكَ [اور بیشک تجھ پر ] لَعْنَتِيْٓ [میری لعنت ہے ] اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ [بدلے کے دن تک ] ۔
Ayah 38:79

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

وہ بولا "ا ے میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس وقت تک کے لیے مہلت دے دے جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے"

قَالَ [اس نے کہا ] رَبِّ [اے میرے رب ] فَاَنْظِرْنِيْٓ [پس تو مہلت دے مجھ کو ] اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ [لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک ] ۔
Ayah 38:80

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

فرمایا، "اچھا، تجھے اُس روز تک کی مہلت ہے

قَالَ [(اللہ تعالیٰ نے ) کہا ] فَاِنَّكَ [پس بیشک تو ] مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ [مہلت دیے ہوؤں میں سے ہے ] ۔