38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 38:81

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 38:81 in the Quran reader

جس کا وقت مجھے معلوم ہے"

اِلٰى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ [اس معلوم وقت کے دن تک ] ۔
Ayah 38:82

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 38:82 in the Quran reader

اس نے کہا "تیری عزت کی قسم، میں اِن سب لوگو ں کو بہکا کر رہوں گا

قَالَ [اس نے کہا ] فَبِعِزَّتِكَ [تو تیری عزت کی قسم ہے ] لَاُغْوِيَنَّهُمْ [میں لازما گمراہ کروں گا ان کو ] اَجْمَعِيْنَ [سب کے سب کو ] ۔
Ayah 38:83

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 38:83 in the Quran reader

بجز تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے خالص کر لیا ہے"

اِلَّا [سوائے ] عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ [ان میں سے تیرے ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے بندوں کے ] ۔
Ayah 38:84

قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ Open ayah 38:84 in the Quran reader

فرمایا "تو حق یہ ہے، اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں

قَالَ [(اللہ تعالیٰ نے) کہا ] فَالْحَقُّ ۡ [پس (یہ تیرا قول) ٹھیک ہے ] وَالْحَقَّ [اور ٹھیک ہی ] اَقُوْلُ [میں (بھی) کہتا ہوں (کہ)] ۔
Ayah 38:85

لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 38:85 in the Quran reader

کہ میں جہنم کو تجھ سے اور اُن سب لوگوں سے بھر دوں گا جو اِن انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے"

لَاَمْلَــــَٔنَّ [میں لازما بھروں گا ] جَهَنَّمَ [جہنم کو ] مِنْكَ [تجھ سے ] وَمِمَّنْ تَبِعَكَ [اور ان سے جنہوں نے تیری پیروی کی ] مِنْهُمْ [ان میں سے ] اَجْمَعِيْنَ [سب سے ] ۔
Ayah 38:86

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ Open ayah 38:86 in the Quran reader

(اے نبیؐ) اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ [میں نہیں مانگتا تم لوگوں سے ] عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ [اس پر کوئی بھی اجرت ] وَّمَآ اَنَا [اور نہ ہی میں ہوں ] مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ [ Pose کرنے والوں میں سے ] ۔
Ayah 38:87

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے

اِنْ هُوَ [نہیں ہے یہ ] اِلَّا ذِكْرٌ [مگر ایک یاد دہانی ] لِّلْعٰلَمِيْنَ [جہان والوں کے لئے ] ۔
Ayah 38:88

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود معلوم ہو جائے گا

وَلَتَعْلَمُنَّ [اور تم لوگ لازما جان لو گے ] نَبَاَهٗ [اس کی خبر کو ] بَعْدَ حِيْنٍ [کچھ وقت کے بعد ] ۔ نوٹ۔ 1: یہ پورا قصہ قریش کے اس قول کے جواب میں سنایا گیا ہے، جو اسی سورة کی آیت 7 میں نقل کیا گیا کہ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر ذکر نازل کیا گیا۔ اس کا ایک جواب تو وہ تھا جو آیت نمبر 9 اور 10 میں دیا گیا تھا کہ کیا خدا کی رحمت کے خزانوں کے تم مالک ہو اور کیا آسمان و زمین کی بادشاہی تمہاری ہے کہ تم فیصلہ کرو کہ اللہ کا نبی کسے بنایا جائے اور کسے نہ بنایا جائے۔ دوسرا جواب یہ ہے ۔ اس میں سراداران قریش کو بتایا گیا ہے کہ محمد ﷺ کے مقابلہ میں تمہارا حسد اور بڑائی کا گھمنڈ، حضرت آدم (علیہ السلام) کے مقابلہ میں ابلیس کے حسد اور گھمنڈ سے ملتا جلتا ہے۔ ابلیس نے بھی اللہ تعالیٰ کے اس حق کو ماننے سے اور کیا تھا کہ جسے وہ چاہے اپنا خلیفہ بنائے اور تم بھی اس کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہو کہ جسے وہ چاہے اپنا رسول بنائے۔ اس حضرت آدم (علیہ السلام) کے آگے جھکنے کا حکم نہ مانا اور تم محمد ﷺ کی پیروی کرنے کا حکم نہیں مان رہے ہو۔ اس کے ساتھ تمہاری یہ مشابہت بس اس حد پر ختم نہ ہوجائے گی، بلکہ تمہارا انجام پھر وہی ہوگا جو اس کے لئے مقدر ہوچکا ہے یعنی دنیا میں اللہ کی لعنت اور آخرت میں جہنم کی آگ۔ (تفہیم القرآن) اسے آیات کا باہمی ربط بھی واضح ہوگیا۔