37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 37:1

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قطار در قطار صف باندھنے والوں کی قسم

وَالصّــٰۗفّٰتِ [قسم ہے قطار بنانے والیوں کی ] صَفًّا [جیسا قطار بنانے کا حق ہے ] نوٹ۔ 1: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو قسمیں کھائی ہیں یہ تعظیم کے لئے نہیں بلکہ مقسم علیہ پر شہادت کے لئے ہیں۔ قسم کے اس مفہوم کی روشنی میں والصفات صفا کا ترجمہ ” شاہد ہیں صفیں باندھے ہوئے حاضررہنے والے فرشتے “ کیا جائے تو یہ قسم کے مفہوم کو بالکل ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والا ہوگا۔ آیات ایک تا تین میں فرشتوں کی تین صفات بیان ہوئی ہیں۔ ان صفات میں اسی طرح کی ترتیب ہے جس طرح کی ترتیب ہماری نمازوں میں ہوتی ہے۔ جس طرح ہم خدا کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر شیطان سے تعوذ کرتے ہیں، پھر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہیں، اسی طرح ملائکہ بھی عرش الٰہی کے ارد گرد صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیاطین کو زجر کرتے ہیں، پھر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہیں۔ (تدبر قرآن) مفسرین کی اکثریت کی رائے ہے کہ ان تینوں گروہوں سے مراد فرشتوں کے گروہ ہیں۔ اس میں قطار در قطار صف باندھنے کا اشارہ اس طرف ہے کہ تمام فرشتے جو نظام کائنات کی تدبیر کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور غلام ہیں اور اس کی اطاعت و بندگی میں صف بستہ ہیں۔ پھٹکارنے والوں سے مراد یہ ہے کہ ان ہی فرشتوں میں سے یک گروہ وہ بھی ہے جو نافرمانوں اور مجرموں کو پھٹکارتا ہے۔ اور یہ پھٹکار صرف لفظی ہی نہیں ہوتی بلکہ انسانوں پر وہ حوادثِ طبعی اور آفات تاریخی کی شکل میں برستی ہے۔ کلام نصیحت سنانے والوں سے مراد یہ ہے کہ ان ہی میں وہ بھی ہیں جو امر حق کی طرف توجہ دلاتے ہیں، حوادث زمانہ کی شکل میں بھی، جن سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے ہیں اور ان تعلیمات کی صورت میں بھی جو ان کے ذریعہ سے انبیاء پر نازل ہوئیں اور ان الہامات کی صورت مین بھی جو ان کے واسطہ سے نیک انسانوں پر ہوتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 37:2

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر اُن کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں

فَالزّٰجِرٰتِ [پھر قسم ہے جھڑکنے والیوں کی ] [زَجْرًا : جیسا جھڑکنے کا حق ہے ] ز ج ر (ن) زجرا چلا کر روکنا۔ جھڑکنا۔ دھتکارنا۔ زاجر روکنے والا۔ جھڑکنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 زجرۃ جھڑکی۔ ڈانٹ۔ فَاِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ (پھر وہ تو بس ایک جھڑکی ہوگی) 37/19 ۔ (افتعال) ازدجارا اہتمام سے روکنا۔ دھتکارنا۔ وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ (اور انھوں نے کہا مجنوں ہے اور اس کو دھتکارا گیا) 54/9 مزدجر اسم المفعول ہے۔ جس کو روکا گیا۔ اور جس چیز سے روکا گیا ، دونوں کے لئے آتا ہے۔ وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَاۗءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرٌ (اور بیشک آچکی ہیں ان کے پاس خبروں میں سے وہ جس میں روکی ہوئی بات ہے) 54/4 ۔
Ayah 37:3

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر اُن کی قسم جو کلام نصیحت سنانے والے ہیں

فَالتّٰلِيٰتِ [پھر قسم ہے تلاوت کرنے والیوں کی ] ذِكْرًا [یاد رکھنے کے لئے ] ۔
Ayah 37:4

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے

اِنَّ اِلٰهَكُمْ [بیشک تمہارا الٰہ ] لَوَاحِدٌ [یقینا ایک (ہی) ہے ] ۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام اُن چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں، اور سارے مشرقوں کا مالک

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [(وہ) آسمانوں اور زمین کا رب ہے ] وَمَا بَيْنَهُمَا [اور اس کا جوان دونوں کے درمیان ہے ] وَرَبُّ الْمَشَارِقِ [اور سارے مشرقوں کا رب ہے ]
Ayah 37:6

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

ہم نے آسمان دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے

اِنَّا زَيَّنَّا [بیشک ہم نے زینت دی ] السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا [دنیوی آسمان کو ] بِزِيْنَةِۨ [ایک زینت سے ] الْكَـوَاكِبِ [جو ستارے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 2: پہلی تین آیات میں ملائکہ کا ذکر ہوا کہ نادانوں نے ان کو خدائی کا درجہ دے رکھا ہے جبکہ ان کے اعلیٰ سرداروں تک کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے آگے صف بستہ اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ پھر آیات چھ تا دس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جنوں کی رسائی ملاء اعلیٰ تک نہیں ہوپاتی کہ وہاں غیب کی کوئی خبر معلوم کرسکیں۔ اس وجہ سے جو لوگ فرشتوں کو پوج رہے ہیں وہ بھی احمق ہیں اور جو جنوں کو علم غیب کا وسیلہ سمجھ کر ان سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ بھی احمق ہیں۔ (تدبر قرآن)
Ayah 37:7

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کر دیا ہے

وَحِفْظًا [اور حفاظت کے لئے ] مِّنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ مَّارِدٍ [ہر ایک سرکشی کرنے والے شیطان سے ] ۔
Ayah 37:8

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں

لَا يَسَّمَّعُوْنَ [وہ کان نہیں لگا پاتے ] اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰي [(فرشتوں کی) اعلیٰ مجلس کی طرف ] وَيُقْذَفُوْنَ [اور ان پر پھینک مارا جاتا ہے ] مِنْ كُلِّ جَانِبٍ [ہر طرف سے ]
Ayah 37:9

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے

دُحُوْرًا [کھدیرنے کے لئے ] وَّلَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ [اور ان کے لئے ایک دائمی عذاب ہے ] ۔
Ayah 37:10

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے

اِلَّا مَنْ [سوائے اس کے کہ جس نے ] خَطِفَ [اچک لیا ] الْخَــطْفَةَ [ایک اچکی ہوئی بات ] فَاَتْــبَعَهٗ [تو پیچھے لگتا ہے اس کے ] شِهَابٌ ثَاقِبٌ [ایک چمکدار انگارہ ] ۔ ث ق ب (ن) ثقبا کسی چیز کا روشن ہونا۔ چمکنا۔ ثاقب فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ روشن ہونے وال۔ چمکنے والا۔ یعنی روشن ۔ چمکدار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 10 ۔
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

اب اِن سے پوچھو، اِن کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟ اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے

فَاسْتَفْتِهِمْ [تو آپ ﷺ فتوی مانگیں ان سے ] اَهُمْ اَشَدُّ [کیا یہ لوگ زیادہ سخت (مضبوط) ہیں ] خَلْقًا [بلحاظ مخلوق کے ] اَمْ مَّنْ [یا وہ سب جن کو ] خَلَقْنَا ۭ [ہم نے پیدا کیا ] اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ [بیشک ہم نے پیدا کیا ان کو ] مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ [ایک چپکنے والے گارے سے ] ۔ ل ز ب (ن) لزوبا مضبوطی سے قائم ہونا۔ چمٹنا۔ لازب اسم الفاعل ہے۔ چمٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 11
Ayah 37:12

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر) حیران ہو اور یہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں

بَلْ عَجِبْتَ [بلکہ آپ ﷺ نے تعجب کیا ] وَيَسْخَرُوْنَ [حالانکہ وہ مذاق کرتے ہیں ]
Ayah 37:13

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے

وَاِذَا ذُكِّرُوْا [اور جب کبھی ان کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے ] لَا يَذْكُرُوْنَ [تو وہ لوگ یاد نہیں کرتے ] ۔
Ayah 37:14

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں

وَاِذَا رَاَوْا [اور جب کبھی وہ دیکھتے ہیں ] اٰيَةً [کوئی نشانی ] يَّسْتَسْخِرُوْنَ [تو مذاق اڑاتے ہیں ] ۔
Ayah 37:15

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں "یہ تو صریح جادو ہے

وَقَالُوْٓا [اور کہتے ہیں ] اِنْ ھٰذَآ اِلَّا [نہیں ہے یہ مگر ] سِحْرٌ مُّبِيْنٌ [ایک کھلا جادو ] ۔
Ayah 37:16

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اُس وقت ہم پھر زندہ کر کے اٹھا کھڑے کیے جائیں؟

ءَاِذَا مِتْنَا [کیا جب ہم مرگئے ] وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا [اور ہوگئے مٹی اور ہڈیاں ] ءَاِنَّا [تو کیا ہم ] لَمَبْعُوْثُوْنَ [ضرور اٹھائے جائیں گے ] ۔
Ayah 37:17

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آبا و اجداد بھی اٹھائے جائیں گے؟"

اَوَاٰبَاۗؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ [اور کیا ہمارے پہلے باب دادا (بھی)]
Ayah 37:18

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

اِن سے کہو ہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں) بے بس ہو

قُلْ نَعَمْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ ہاں ] وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ [اور تم لوگ ذلیل ہونے والے ہو ] ۔
Ayah 37:19

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

بس ایک ہی جھڑکی ہو گی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے (وہ سب کچھ جس کی خبر دی جا رہی ہے) دیکھ رہے ہوں گے

فَاِنَّمَا هِىَ [پس وہ تو بس ] زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ [ایک (ہی) جھڑکی ہوگی ] فَاِذَا هُمْ [تو جب ہی وہ ] يَنْظُرُوْنَ [دیکھتے ہوں گے ] ۔
Ayah 37:20

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اُس وقت یہ کہیں گے "ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے"

وَقَالُوْا [اور کہیں گے ] يٰوَيْلَنَا [ہائے ہماری تباہی ] ھٰذَا يَوْمُ الدِّيْنِ [یہ (تو) بدلے کا دن ہے ]
Ayah 37:21

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

"یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے"

ھٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ [یہ فیصلے کا وہ دن ہے ] كُنْتُمْ بِهٖ [تم لوگ جس کو ] تُكَذِّبُوْنَ [جھٹلاتے تھے ] ۔
Ayah 37:22

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

(حکم ہو گا) گھیر لاؤ سب ظالموں اور ان کے ساتھیوں اور اُن معبودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے

اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ [ان لوگوں کو جمع کرو جنہوں نے ] ظَلَمُوْا [ظلم کیا ] وَاَزْوَاجَهُمْ [اور ان کے جوڑوں (ساتھیوں) کو ] وَمَا [اور ان کو جن کی ] كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ [یہ لوگ بندگی کرتے تھے ] نوٹ۔ 1: ازواج کے لفظی معنی ” جوڑے “ ہے۔ یہاں یہ ہم مشربوں کے لئے آیا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عمر کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ یہاں ازواجھم سے مراد ان کے جیسے لوگ ہیں۔ چناچہ سود خور دوسرے سود خوروں کے ساتھ، شراب پینے والے دوسرے شراب پینے والوں کے ساتھ جمع کئے جائیں گے۔ (معارف القرآن) معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں۔ ایک وہ انسان اور شیاطین جن کی اپنی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ لوگ ان کی بندگی کریں۔ دوسرے وہ اصنام اور شجر وحجر جن کی پرستش دنیا میں کی جاتی رہی ہے۔ ان میں سے پہلی قسم کے معبود تو خود مجریمین میں شامل ہوں گے اور انھیں سزا کے طور پر جہنم کا راستہ دکھایا جائے گا۔ دوسری قسم کے معبود اپنے پرستاروں کے ساتھ اس لئے جہنم میں ڈالے جائیں گے کہ وہ انہیں دیکھ کر اپنی حماقتوں کا ماتم کرتے رہیں ان کے علاوہ ایک تیسری قسم کے معبود وہ بھی ہیں جنہیں دنیا میں پوچا تو گیا ہے مگر خود ان کا اپنا ایمان ہرگز یہ نہ تھا کہ ان کی پرستش کی جائے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ انسانوں کو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے رہے مثلا فرشتے، انبیاء اور اولیاء۔ اس قسم کے معبود ان معبودوں میں شامل نہ ہوں گے جنھیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: میدان حشر میں جمع ہونے کے بعد کافروں کے سردار اپنی پیروی کرنے والوں کے سامنے آئیں گے تو ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے آپس میں بحث و تکرار شروع کردیں گے۔ یہاں اسی بحث و تکرار کا کچھ نقشہ کھینچ کر فریقین کا انجام یہ بیان کیا گیا ہے ۔ فی العذاب مشترکون۔ سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو گناہ پر آمادہ کرنے کے لئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے تو اسے دعوت گناہ کا عذات تو بیشک ہوگا لیکن جس نے اس کی دعوت کو اپنے اختیار سے قبول کرلیا تو وہ بھی گناہ سے بری نہیں ہوسکتا۔ وہ آخرت میں یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں پاسکتا کہ مجھے تو فلاں نے گمراہ کیا تھا۔ (معارف القرآن)
Ayah 37:23

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے سوا ] فَاهْدُوْهُمْ [پھر ان کی رہنمائی کرو ] اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ [دوزخ کے راستہ کی طرف ] ۔
Ayah 37:24

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ذرا اِنہیں ٹھیراؤ، اِن سے کچھ پوچھنا ہے

وَ [اور ] قِفُوْهُمْ [تم لوگ ٹھہراؤ ان کو ] اِنَّهُمْ [بیشک یہ لوگ ] مَّسْـُٔـوْلُوْنَ [پوچھے جانے والے ہیں ] ۔
Ayah 37:25

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

"کیا ہو گیا تمہیں، اب کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟

مَا لَكُمْ [تم لوگوں کو کیا ہوگیا ] لَا تَنَاصَرُوْنَ [(کہ) ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ہو ] ۔
Ayah 37:26

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دوسرے کو) حوالے کیے دے رہے ہیں!"

بَلْ هُمُ الْيَوْمَ [بلکہ وہ لوگ آج کے دن ] مُسْتَسْلِمُوْنَ [سرنگوں ہونے والے ہیں ]
Ayah 37:27

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اس کے بعد یہ ایک دوسرے کی طرف مڑیں گے اور باہم تکرار شروع کر دیں گے

وَاَقْبَلَ [اور سامنے آئے گا ] بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ [انکا کوئی کسی کے ] يَّتَسَاۗءَلُوْنَ [ایک دوسرے سے پوچھتے ہوئے ] ۔
Ayah 37:28

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

(پیروی کرنے والے اپنے پیشواؤں سے) کہیں گے، "تم ہمارے پاس سیدھے رخ سے آتے تھے"

قَالُوْٓا اِنَّكُمْ [کہیں گے بیشک تم لوگ ] كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا [آتے تھے ہمارے پاس ] عَنِ الْيَمِيْنِ [داہنی طرف سے (بڑے ٹھ سے سے)]
Ayah 37:29

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے، "نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے

قَالُوْا بَلْ [وہ لوگ کہیں گے بلکہ ] لَّمْ تَكُوْنُوْا [تم لوگ تھے ہی نہیں ] مُؤْمِنِيْنَ [ایمان لانے والے ] ۔
Ayah 37:30

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش لوگ تھے

وَمَا كَانَ لَنَا [اور نہیں تھا ہمارے لئے ] عَلَيْكُمْ [تم لوگوں پر ] مِّنْ سُلْطٰنٍ ۚ [کچھ بھی اختیار ] بَلْ كُنْتُمْ [بلکہ تم لوگ تھے ] قَوْمًا طٰغِيْنَ [سرکشی کرنے والی قوم ] ۔
Ayah 37:31

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

آخرکار ہم اپنے رب کے اِس فرمان کے مستحق ہو گئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں

فَحَــقَّ عَلَيْنَا [تو ثابت ہوا ہم پر ] قَوْلُ رَبِّنَآ ڰ [ہمارے رب کا قول ] اِنَّا [بیشک ہم ] لَذَاۗىِٕقُوْنَ [(اب) ضرور چکھنے والے ہیں ] ۔
Ayah 37:32

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

سو ہم نے تم کو بہکا یا، ہم خود بہکے ہوئے تھے"

فَاَغْوَيْنٰكُمْ [تو ہم نے گمراہ کیا تم کو ] اِنَّا كُنَّا [(کہ) بیشک ہم ہی تھے ] غٰوِيْنَ [گمراہ ہونے والے ] ۔
Ayah 37:33

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

اِس طرح وہ سب اُس روز عذاب میں مشترک ہوں گے

فَاِنَّهُمْ يَوْمَىِٕذٍ [تو بیشک وہ سب اس دن ] فِي الْعَذَابِ [اس عذاب میں ] مُشْتَرِكُوْنَ [مشترک ہونے والے ہیں ] ۔
Ayah 37:34

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ [بیشک اسی طرح ہم کرتے ہیں ] بِالْمُجْرِمِيْنَ [مجرموں کے ساتھ ] ۔
Ayah 37:35

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا "اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے" تو یہ گھمنڈ میں آ جاتے تھے

اِنَّهُمْ [بیشک وہ لوگ ] كَانُوْٓا [(ایسے) تھے ] اِذَا [(کہ) جب کبھی ] قِيْلَ لَهُمْ [کہا جاتا تھا ان سے ] لَآ اِلٰهَ [کوئی الٰہ نہیں ہے ] اِلَّا اللّٰهُ ۙ [سوائے اللہ کے ] يَسْتَكْبِرُوْنَ [تو وہ تکبر کرتے تھے ] ۔
Ayah 37:36

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے "کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟"

وَيَقُوْلُوْنَ [اور کہتے تھے ] اَىِٕنَّا [کیا (بھلا) ہم ] لَتَارِكُوْٓا اٰلِـهَتِنَا [کہیں اپنے الٰہوں کو چھوڑنے والے ہیں ] لِشَاعِرٍ مَّجْــنُوْنٍ [ایک مجنون شاعر کے لئے ] ۔
Ayah 37:37

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی تھی

بَلْ جَاۗءَ [بلکہ (جبکہ) وہ ﷺ آئے ] بِالْحَــقِّ [حق کے ساتھ ] وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِيْنَ [اور انھوں ﷺ نے تصدیق کی رسولوں کی ] ۔
Ayah 37:38

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

(اب ان سے کہا جائے گا کہ) تم لازماً دردناک سزا کا مزا چکھنے والے ہو

اِنَّكُمْ [بیشک تم لوگ ] لَذَاۗىِٕقُوا الْعَذَابِ الْاَلِــيْمِ [دردناک عذاب کو ضرور چکھنے والے ہو ] ۔
Ayah 37:39

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جا رہا ہے اُنہی اعمال کا دیا جا رہا ہے جو تم کرتے رہے ہو

وَمَا تُجْزَوْنَ [اور تم کو بدلہ نہیں دیا جائے گا ] اِلَّا مَا [سوائے اس کے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کرتے تھے ] ۔
Ayah 37:40

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر اللہ کے چیدہ بندے (اس انجام بد سے) محفوظ ہوں گے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ [مگر ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے اللہ کے بندے ]