37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 37:81

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

در حقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

اِنَّهٗ [بیشک وہ (علیہ السلام) ہیں ] مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ [ہمارے مومن بندوں میں سے ] ۔
Ayah 37:82

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کر دیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا [پھر ہم نے غرق کیا ] الْاٰخَرِيْنَ [دوسروں کو ] ۔
Ayah 37:83

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور نوحؑ ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیمؑ تھا

وَاِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ [اور بیشک ان کے گروہ میں سے ] لَاِبْرٰهِيْمَ [ہی ابراہیم (علیہ السلام) ہیں ] ۔
Ayah 37:84

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا

اِذْ جَاۗءَ رَبَّهٗ [جب وہ آئے اپنے رب کے پاس ] بِقَلْبٍ سَلِـيْمٍ [قلب سلیم کے ساتھ ] ۔
Ayah 37:85

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا "یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو؟

اِذْ قَالَ [جب انھوں نے کہا ] لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ [اپنے والد اور اپنی قوم سے ] مَاذَا تَعْبُدُوْنَ [تم لوگ کس کی بندگی کرتے ہو ] ۔
Ayah 37:86

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟

اَ [کیا ] ىِٕفْكًا [ایک گھڑے ہوئے جھوٹ کے لئے ] اٰلِــهَةً [کچھ الٰہ ] دُوْنَ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] تُرِيْدُوْنَ [تم لوگ چاہتے ہو ] ۔
Ayah 37:87

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

آخر اللہ ربّ العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے؟"

فَمَا ظَنُّكُمْ [تم لوگوں کا کیا گمان ہے ] بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [تمام جہانوں کے پروردگار کے بارے میں ] ۔
Ayah 37:88

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر اس نے تاروں پر ایک نگاہ ڈالی

فَنَظَرَ [پھر انھوں نے دیکھا ] نَــظْرَةً [ایک منظر ] فِي النُّجُوْمِ [ستاروں میں ] ۔
Ayah 37:89

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

اور کہا میری طبیعت خراب ہے

فَقَالَ [پھر انھوں نے کہا ] اِنِّىْ سَقِيْمٌ [بیشک میں بیمار ہوں ] س ق م (س۔ ک) سقما بیمار ہونا۔ سقیم فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ بیمار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 89 ۔
Ayah 37:90

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

چنانچہ وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ [تو ان لوگوں نے منہ موڑا ان سے ] مُدْبِرِيْنَ [پیٹھ دینے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 37:91

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

اُن کے پیچھے وہ چپکے سے اُن کے معبودوں کے مندر میں گھس گیا اور بولا " آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں ہیں؟

فَرَاغَ [پھر وہ چپکے سے آئے ] اِلٰٓى اٰلِـهَــتِهِمْ [ان کے خداؤں کی طرف ] فَقَالَ [پھر کہا ] اَلَا تَاْكُلُوْنَ [کیا تم لوگ کھاتے نہیں ] ۔ ر و غ (ن) روغا (1) بچ بچ کر چلنا۔ چپکے سے کسی طرف مائل ہونا۔ اس کے لئے عموما الیٰ کا صلہ آتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ۔ 91 ۔
Ayah 37:92

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

کیا ہو گیا، آپ لوگ بولتے بھی نہیں؟"

مَا لَكُمْ [تم لوگوں کو کیا ہے ] لَا تَنْطِقُوْنَ [بولتے نہیں ہو ]
Ayah 37:93

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

اس کے بعد وہ اُن پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں

فَرَاغَ عَلَيْهِمْ [پھر وہ ٹوٹ پڑے ان پر ] ضَرْبًۢـا [مارتے ہوئے ] بِالْيَمِيْنِ [داہنے ہاتھ سے ] ۔ زف (2) کسی پر جھپٹ پڑنا۔ ٹوٹ پڑنا۔ اس کے لئے عموما علی کا صلہ آتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ۔ 93 ۔
Ayah 37:94

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

(واپس آ کر) وہ لوگ بھاگے بھاگے اس کے پاس آئے

فَاَقْبَلُوْٓا [تو وہ لوگ سامنے آئے ] اِلَيْهِ [ان (ابراہیم (علیہ السلام) ) کی طرف ] يَزِفُّوْنَ [بھاگتے ہوئے ] ۔ (ض) زفا تیز دوڑنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 94 ۔
Ayah 37:95

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

اس نے کہا "کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو؟

قَالَ [انھوں نے کہا ] اَ تَعْبُدُوْنَ [کیا تم لوگ بندگی کرتے ہو ] مَا [اس کی جس کو ] تَنْحِتُوْنَ [تم لوگ (خود) تراشتے ہو ] ۔
Ayah 37:96

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اُن چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو"

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ [حالانکہ اللہ نے پیدا کیا تم کو ] وَمَا تَعْمَلُوْنَ [اور اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ]
Ayah 37:97

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

انہوں نے آپس میں کہا "اس کے لیے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو"

قَالُوا [ان لوگوں نے کہا ] ابْنُوْا [تم لوگ تعمیر کرو ] لَهٗ [اس کے لئے ] بُنْيَانًا [ایک عمارت ] فَاَلْقُوْهُ [پھر ڈال دو اس کو ] فِي الْجَــحِيْمِ [آگ کے ڈھیر میں ] ۔
Ayah 37:98

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

انہوں نے اس کے خلاف ایک کاروائی کرنی چاہی تھی، مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا

فَاَرَادُوْا [پھر انھوں نے ارادہ کیا ] بِهٖ [ان (علیہ السلام) کے بارے میں ] كَيْدًا [ایک چالبازی کا ] فَجَـعَلْنٰهُمُ [تو ہم نے کردیا ان لوگوں کو ] الْاَسْفَلِيْنَ [پست ترین ] ۔
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

ابراہیمؑ نے کہا "میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، وہی میری رہنمائی کرے گا

وَقَالَ [اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] اِنِّىْ ذَاهِبٌ [کہ میں جانے والا ہوں ] اِلٰى رَبِّيْ [اپنے رب کی طرف ] سَيَهْدِيْنِ [وہ رہنمائی کرے گا میری ]
Ayah 37:100

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو"

رَبِّ [اے میرے رب ] هَبْ لِيْ [تو بخش دے مجھ کو ] مِنَ الصّٰلِحِيْنَ [نیکوں میں سے ] نوٹ۔ 1: آیات 100 ۔ 101 میں ہے کہ اپنے وطن سے ہجرت کرتے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک صالح بیٹے کی دعا کی تھی اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غلام حلیم کی بشارت دی جبکہ قرآن مجید میں جہاں حضرت اسحٰق (علیہ السلام) کی بشارت دی گئی ہے وہاں ان کے لئے غلام علیم کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو صاحبزادوں کی دو نمایاں صفات الگ الگ تھیں۔ آیات زیر مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ غلام حلیم یعنی اسماعیل (علیہ السلام) جب دوڑنے کے قابل ہوگئے تب ابراہیم (علیہ السلام) کو خواب میں انھیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تب ان کو ایک اور بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی۔ واقعات کی یہ ترتیب قطعی طور پر فیصلہ کردیتی ہے کہ جن صاحبزادے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) نہ تھے بلکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے جو ان سے کئی برس پہلے پیدا ہوچکے تھے۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 37:101

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

(اس دعا کے جواب میں) ہم نے اس کو ایک حلیم (بردبار) لڑکے کی بشارت دی

فَبَشَّرْنٰهُ [تو ہم نے خوشخبری دی ان (علیہ السلام) کو ] بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ [ایک برباد بار لڑکے کی ] ۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا، "بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟" اُس نے کہا، "ابا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ انشاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے"

فَلَمَّا [پھر جب ] بَلَــغَ [وہ (لڑکا) پہنچا ] مَعَهُ [ان (علیہ السلام) کے ساتھ ] السَّعْيَ [دوڑنے کو ] قَالَ [تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] يٰبُنَيَّ [اے میرے بچے ] اِنِّىْٓ اَرٰى [میں دیکھتا ہوں ] فِي الْمَنَامِ [سونے کے وقت میں ] اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ [کہ میں ذبح کرتا ہوں تجھ کو ] فَانْظُرْ [پس تو دیکھ ] مَاذَا تَرٰى ۭ [تیری کیا رائے ہے ] قَالَ [اس (لڑکے) نے کہا ] يٰٓاَبَتِ [اے میرے والد ] افْعَلْ [آپ کر ئیے ] مَا [وہ جس کا ] تُــؤْمَرُ ۡ [آپ کو حکم دیا جاتا ہے ] سَتَجِدُنِيْٓ [آپ پائیں گے مجھ کو ] اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ [اگر چاہا اللہ نے ] مِنَ الصّٰبِرِيْنَ [ثابت قدم رہنے والوں میں سے ]
Ayah 37:103

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

آخر کو جب اِن دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا

فَلَمَّآ [وہ جس کا ] اَسْلَمَا [وہ دونوں فرمانبردار ہوئے ] وَتَلَّهٗ [اور انھوں (علیہ السلام) نے لٹا دیا اس (لڑکے) کو ] لِلْجَبِيْنِ [پیشانی کے بل ] ۔ ت ل ل (ن) تلا پچھاڑنا۔ لٹا دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 103 ۔
Ayah 37:104

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے ندا دی کہ "اے ابراہیمؑ

وَنَادَيْنٰهُ [اور ہم نے پکارا ان (علیہ السلام) کو ] اَنْ يّـٰٓاِبْرٰهِيْمُ [کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) ] ۔
Ayah 37:105

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

قَدْ صَدَّقْتَ [آپ سچ کرچکے ] الرُّءْيَا ۚ [خواب کو ] اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي [بیشک ہم اس طرح جزا دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [خوبکاروں کو ] ۔
Ayah 37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی"

اِنَّ ھٰذَا [بیشک یہ ] لَهُوَ [یقینا یہی ] الْبَلٰۗــــؤُا الْمُبِيْنُ [صریح آزمائش تھی ] ۔
Ayah 37:107

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا

وَفَدَيْنٰهُ [اور ہم نے مشکل میں سے نکالا ان (علیہ السلام) کو ] بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ [ایک عظیم ذبیحہ کے بدلے ] ۔
Ayah 37:108

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور اس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ [اور ہم نے چھوڑی ان کے لئے ] فِي الْاٰخِرِيْنَ [آخری لوگوں میں (ان کی ثنا)]
Ayah 37:109

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

سلام ہے ابراہیمؑ پر

سَلٰمٌ عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ [سلام ہے ابراہیم (علیہ السلام) پر ]
Ayah 37:110

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

كَذٰلِكَ نَجْزِي [اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کاروں کو ] ۔
Ayah 37:111

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

اِنَّهٗ [بیشک وہ ہیں ] مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ [ہمارے ایمان لانے والے بندوں میں سے ] ۔
Ayah 37:112

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاقؑ کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے

وَبَشَّرْنٰهُ [اور ہم نے بشارت دی ان (علیہ السلام) کو ] بِاِسْحٰقَ [اسحاق (علیہ السلام) کی ] نَبِيًّا [نبی ہوتے ہوئے ] مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ [نیک لوگوں میں سے ] ۔
Ayah 37:113

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور اسے اور اسحاقؑ کو برکت دی اب ان دونوں کی ذریّت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے

وَبٰرَكْنَا [اور ہم نے برکت دی ] عَلَيْهِ [اس لڑکے (اسمعیل (علیہ السلام) ) پر ] وَعَلٰٓي اِسْحٰقَ ۭ [اور اسحاق (علیہ السلام) پر ] وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا [اور ان دونوں کی اولاد میں سے ] مُحْسِنٌ [کوئی نیکی کرنے والا ہے ] وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ [اور اپنے آپ پر کوئی صریح ظلم کرنے والا ہے ] ۔ ترکیب : آیت 113 ۔ وترکنا علیہ میں علیہ کی ضمیر کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بھی مانا جاسکتا تھا اور کے پہلے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے بھی۔ گرامر کے لحاظ سے دونوں کی گنجائش موجود تھی لیکن آگے من ذریتھما میں ھما کی ضمیر نے واضح کردیا کہ علیہ کی ضمیر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے ہے۔ یہ اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ہوتی تو پھر من ذریتہ آتا۔
Ayah 37:114

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰؑ و ہارونؑ پر احسان کیا

وَلَقَدْ مَنَنَّا [اور بیشک ہم احسان کرچکے ] عَلٰي مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ [موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر ] ۔
Ayah 37:115

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اُن کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی

وَنَجَّيْنٰهُمَا [اور ہم نے نجات دی ان دونوں کو ] وَقَوْمَهُمَا [اور ان دونوں کی قوم کو ] مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ [اس بڑے دکھ سے ] ۔
Ayah 37:116

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اُنہیں نصرت بخشی جس کی وجہ سے وہی غالب رہے

وَنَصَرْنٰهُمْ [اور ہم نے نصر دی ان لوگوں کو ] فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ [تو وہ لوگ ہی ہوئے غالب ] ۔
Ayah 37:117

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

ان کو نہایت واضح کتاب عطا کی

وَاٰتَيْنٰهُمَا [اور ہم نے دی ان دونوں کو ] الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِيْنَ [وہ واضح ہوجانے والی کتاب ] ۔
Ayah 37:118

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

انہیں راہ راست دکھائی

وَهَدَيْنٰهُمَا [اور ہم نے ہدایت دی ان دونوں کو ] الـصِّرَاطَ الْمُسْتَــقِيْمَ [اس سیدھے راستے کی ] ۔
Ayah 37:119

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا [اور ہم نے چھوڑی ان دونوں کے لئے ] فِي الْاٰخِرِيْنَ [آخری لوگوں میں (ان کی ثنا)] ۔
Ayah 37:120

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

سلام ہے موسیٰؑ اور ہارونؑ پر

سَلٰمٌ عَلٰي مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ [سلام ہے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر ] ۔