37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 37:41

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

ان کے لیے جانا بوجھا رزق ہے

اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ] رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ [ایک معلوم رزق ہے ]
Ayah 37:42

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

ہر طرح کی لذیذ چیزیں،

فَوَاكِهُ ۚ [جو پھل ہیں ] وَهُمْ [اور وہ لوگ ہی ] مُّكْـرَمُوْنَ [عزت دئیے ہوئے ہوں گے ] نوٹ۔ 1: لفظ ” فواکہ “ کے ذریعہ قرآن نے جنت کے رزق کی خود تفسیر فرمادی ہے کہ وہ رزق میوں پر مشتمل ہوگا۔ عربی میں فاکھۃ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو بھوک کی ضرورت رفع کرنے کے لئے نہیں بلکہ لذت حاصل کرنے کے لئے کھائی جائے۔ اردو میں اس کا ترجمہ میوہ اس لئے کردیا جاتا ہے کہ میوہ بھی لذت حاصل کرنے کے لئے کھایا جاتا ہے۔ ورنہ در حقیقت فاکھۃ کا مفہوم میوے کے مفہوم سے زیادہ عام ہے۔ امام رازی نے اسی لفظ سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ جنت میں جتنی غذائیں دی جائیں گی وہ سب لذت بخشنے کے لئے دی جائیں گی، بھوک کی حاجت رفع کرنے کے لئے نہیں۔ اس لئے کہ جنت میں انسان کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہوگی۔ وہاں اسے اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لئے یا حفظان صحت کے لئے کسی بھی غذا کی ضرورت نہیں ہوگی اور جنت کی تمام نعمتوں کا مقصد لذت عطا کرنا ہوگا۔ (معارف القرآن)
Ayah 37:43

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

اور نعمت بھری جنتیں

فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ [تروتازگی کے باغات میں ]
Ayah 37:44

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

جن میں وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے

عَلٰي سُرُرٍ [تختوں پر ] مُّتَـقٰبِلِيْنَ [ایک دوسرے کے آمنے سامنے ] ۔
Ayah 37:45

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

شراب کے چشموں سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان پھرائے جائیں گے

يُـطَافُ عَلَيْهِمْ [گردش میں لایا جائے گا ان پر ] بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۢ [ایسے جاری پانی میں کا جام جو ] ۔
Ayah 37:46

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

چمکتی ہوئی شراب، جو پینے والوں کے لیے لذّت ہو گی

بَيْضَاۗءَ [سفید ہوگا ] لَذَّةٍ [لذت ہوگا ] لِّلشّٰرِبِيْنَ [پینے والوں کے لئے ] ۔ فعل استعمال نہیں ہوتا۔ کاس پینے کا برتن جبکہ اس میں پینے کی چیز موجود ہو۔ پھر یہ صرف پینے کے برتن کے لئے بھی آتا ہے اور صرف پینے کی چیز کے لئے بھی۔ (1) پیالہ۔ جام۔ (2) شربت، شراب۔ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا (وہ لوگ باہم کھینچا تانی کریں گے اس (جنت) میں جام کے لئے) 52/23 ۔ وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا (اور ان کو پلائی جائے گی اس (جنت) میں ایک ایسی شراب جس کا مزاج ادرک کا ہوگا) 76/17 ۔ ل ذ ذ (س) لذاذۃ مزے دار ہونا۔ لذیذ ہونا۔ وَفِيْهَا مَا تَشْتَهِيْهِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْيُنُ (اور اس میں وہ ہے جس کی خواہش کریں گے جی اور مزے دار ہوجائیں گی آنکھیں) ۔ 43/71 ۔ لذۃ اسم ذات ہے۔ مزہ ۔ لذت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 46 ۔
Ayah 37:47

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہو گی

لَا فِيْهَا [نہیں ہوگی اس میں ] غَوْلٌ [کوئی سرگرانی ] وَّلَا هُمْ عَنْهَا [اور نہ وہ اس سے ] يُنْزَفُوْنَ [بدمست کئے جائیں گے ] ۔ غ و ل (ن) غولا اچانک پکڑ لینا۔ شراب سے مدہوش ہوجانا ۔ غول اسم ذات ہے۔ مدہوشی۔ دردسر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 47 ۔ ن ز (ض) نزفا کنویں کا سارا پانی نکال لینا۔ کسی کو بےعقل کرنا۔ بدمست کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 47 ۔ (افعال) انزافا کنویں کا سارا پانی نکل جانا۔ بےعقل ہونا۔ بدمست ہونا۔ وَلَا يُنْزِفُوْنَ اور نہ وہ لوگ بدمست ہوں گے) 56/19 ۔
Ayah 37:48

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی، خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی

وَعِنْدَهُمْ [اور ان کے پاس ہوں گی ] قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ [آنکھ کی پلک نیچے رکھنے والیاں ] عِيْنٌ [بڑی آنکھوں والیاں ] ۔
Ayah 37:49

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی

كَاَنَّهُنَّ [جیسے کہ وہ ہیں ] بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ [محفوظ کیے ہوئے انڈے ]
Ayah 37:50

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے

فَاَقْبَلَ [پھر سامنے آئے گا ] بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ [ان کا کوئی کسی کے ] يَّتَسَاۗءَلُوْنَ [ایک دوسرے سے پوچھتے ہوئے ] ۔
Ayah 37:51

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہے گا، "دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا

قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ [کہے گا ایک کہنے والا ان میں سے ] اِنِّىْ [بیشک ] كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ [میرا یک ساتھی تھا ] ۔ نوٹ۔ 1: آیات 51 تا 57 میں دو اشخاص کا ذکر کرنے سے قرآن کا اصل منشاء لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ اپنے حلقہء احباب کا جائزہ لے کر یہ دیکھیں کہ اس میں کوئی ایسا شخص تو نہیں ہے جو انہیں کشاں کشاں دوزخ کی طرف لے جارہا ہو۔ بری صحبت سے جو تباہی آسکتی ہے اس کا صحیح اندازہ آخرت ہی میں ہوگا اور اس وقت تباہی سے بچنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ اس لئے دنیا میں تعلقات دیکھ بھال کر قائم کرنے چاہئیں۔ بسا اوقات کسی نافرمان شخص سے تعلقات قائم کرنے کے بعد انسان غیر محسوس طریقے پر اس کے افکار ونظریات اور طرز زندگی سے متاثر ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ چیز آخرت کے انجام کے لئے خطرناک ہوتی ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 37:52

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

جو مجھ سے کہا کرتا تھا، کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟

يَّقُوْلُ [وہ کہا کرتا تھا ] اَىِٕنَّكَ [کیا بیشک (واقعی) تو ] لَمِنَ الْمُصَدِّقِيْنَ [ضرور تصدیق کرنے والوں میں سے ہے ]
Ayah 37:53

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کیا واقعی جب ہم مر چکے ہوں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا و سزا دی جائے گی؟

ءَاِذَا مِتْنَا [کیا جب ہم مرجائیں گے ] وَكُنَّا تُرَابًا [اور ہوجائیں گے مٹی ] وَّعِظَامًا [اور ہڈیاں ] ءَاِنَّا لَمَدِيْنُوْنَ [تو کیا بیشک ہم ضرور حساب لئے جانے والے ہیں ] ۔
Ayah 37:54

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

اب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں؟"

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ [اس نے کہا کیا تم لوگ ] مُّطَّلِعُوْنَ [جھانکنے والے ہو ]
Ayah 37:55

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

یہ کہہ کر جونہی وہ جھکے گا تو جہنم کی گہرائی میں اس کو دیکھ لے گا

فَاطَّلَعَ [پھر اس نے جھانکا ] فَرَاٰهُ [تو اس نے دیکھا اس کو ] فِيْ سَوَاۗءِ الْجَحِيْمِ [دوزخ کے بیچ میں ] ۔
Ayah 37:56

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

اور اس سے خطاب کر کے کہے گا "خدا کی قسم، تُو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا

قَالَ تَاللّٰهِ [اس نے کہا اللہ کی قسم ] اِنْ [یقینا ] كِدْتَّ [قریب تھا کہ تو ] لَتُرْدِيْنِ [ضرور گڑھے میں گرا دیتا مجھ کو ] ۔
Ayah 37:57

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی اُن لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں

وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ [اور اگر نہ ہوتی میرے رب کی نعمت ] لَكُنْتُ [تو میں ضرور ہوتا ] مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ [حاضر کئے ہوؤں میں سے ] ۔
Ayah 37:58

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں؟

اَفَمَا نَحْنُ [تو کیا (اب) ہم لوگ ] بِمَيِّتِيْنَ [مردہ نہیں ہوں گے ] ۔
Ayah 37:59

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

موت جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آ چکی؟ اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونا؟"

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى [سوائے ہماری پہلی موت کے ] وَمَا نَحْنُ [اور ہم لوگ ] بِمُعَذَّبِيْنَ [عذاب دئیے ہوئے نہیں ہیں ] ۔
Ayah 37:60

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

یقیناً یہی عظیم الشان کامیابی ہے

اِنَّ ھٰذَا [بیشک یہ ] لَهُوَ [یقینا یہی ] الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [شاندار کامیابی ہے ]
Ayah 37:61

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے

لِــمِثْلِ ھٰذَا [اس کی جیسی کے لئے ] فَلْيَعْمَلِ [چاہے کہ عمل کریں ] الْعٰمِلُوْنَ [عمل کرنے والے ] ۔
Ayah 37:62

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بولو، یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم کا درخت؟

اَذٰلِكَ خَيْرٌ [کیا یہ بہتر ہے ] نُّزُلًا [بطور ابتدائی مہمان نوازی کے ] اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ [یا تھوہر کا درخت ] ۔ ز ق م (ن) زقما لقمہ نگلنا۔ تھوہر کھانا۔ زقوم تھوہر کا درخت۔ دوزخ کے ایک درخت کا نام۔ زیر مطالعہ آیت۔ 62 ۔
Ayah 37:63

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اُس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے

[اِنَّا جَعَلْنٰهَا : بیشک ہم نے بنایا اس کو ] [فِتْنَةً : ایک آفت ] [لِّلظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کے لیے ]
Ayah 37:64

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے

[اِنَّهَا : وہ ایک ] [شَجَــرَةٌ: ایسا ہولناک درخت ہوگا ] [ تَخْرُجُ : نکلے گا ] [فِيْٓ اَصْلِ الْجَحِيْمِ : جو دوزخ کی تہ سے ]
Ayah 37:65

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اُس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر

طَلْعُهَا [اس کا خوشہ ] كَاَنَّهٗ [جیسے کہ وہ ہے ] رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ [شیطانوں کے سر ] ۔ نوٹ۔ 1: کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ شیطان کا سرکس نے دیکھا ہے جو زقوم کے شگوفوں کو اس سے تشبیہ دی گئی۔ در اصل یہ تخیلی نوعیت کی تشبیہ ہے اور عام طور پر ہر زبان کے ادب میں اس سے کام لیا جاتا ہے۔ مثلا ایک عورت کی انتہائی خوبصورتی کا تصور دلانے کے لئے کہتے ہیں کہ وہ تو پری ہے اور انتہائی بد صورتی بیان کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ وہ تو چڑیل ہے یا بھتنی ہے۔ کسی کی نورانی شکل کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتہ صورت ہے۔ (تفہیم القرآن) رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ کی تشبیہ نہایت بلیغ ہے۔ بعض مرتبہ تشبیہہ کسی خیالی چیز کی دی جاتی ہے لیکن وہ مرئی وشاہد چیزوں سے زیادہ ذہنوں کے قریب ہوتی ہے۔ مثلا آپ کسی پراگندہ حال اور پراگندہ بال شخص کو کہیں کیا بھوت کی سی صورت بنا رکھی ہے۔ بھوت اگرچہ ایک خیالی چیز ہے لیکن اس کا ایک تصور ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے۔ اس وجہ سے یہ تشبیہہ اس شخص کو جس خوبی کے ساتھ مصور کرے گی کوئی دوسری تشبیہہ مشکل ہی سے کرسکے گی۔ اسی طرح یہاں زقوم کے پتوں کو شیاطین کے سروں سے تشبیہہ دی ہے ہرچند یہ ایک خیالی تشبیہہ ہے لیکن ذہنوں میں شیاطین کا ایک خوفناک تصور موجود ہے۔ اس وجہ سے اس کو سن کر دل پر ایک کپکپی طاری ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 37:66

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

جہنم کے لوگ اُسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

فَاِنَّهُمْ [تو وہ لوگ ] لَاٰكِلُوْنَ [یقینا کھانے والے ہیں ] مِنْهَا [اس میں سے ] فَمَالِـــــُٔوْنَ [پھر بھرنے والے ہیں ] مِنْهَا [اس سے ] الْبُطُوْنَ [پیٹوں کو ] ۔
Ayah 37:67

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر اس پر پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ملے گا

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ [پھر بیشک ان کے لئے ] عَلَيْهَا [اس پر ] لَشَوْبًا [یقینا آمیزش ہوگی ] مِّنْ حَمِيْمٍ [کسی گرم (پانی) سے ] ش و ب (ن) شوبا ایک چیز میں دوسری چیز ملانا۔ خلط ملط کرنا۔ شوب وہ چیز جو کسی چیز میں ملائی جائے۔ ملاوٹ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 67 ۔
Ayah 37:68

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

اور اس کے بعد ان کی واپسی اُسی آتش دوزخ کی طرف ہو گی

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ [پھر بیشک ان کا لوٹنا ] لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ [یقینا دوزخ کی طرف ہے ] ۔
Ayah 37:69

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا [بیشک انھوں نے پایا ] اٰبَاۗءَهُمْ [اپنے باپ دادا کو ] ضَاۗلِّيْنَ [گمراہ ہونے والے ] ۔
Ayah 37:70

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

اور انہی کے نقش قدم پر دوڑ چلے

فَهُمْ عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ [پھر وہ ان کے نقوش قدم پر ] يُهْرَعُوْنَ [بے سدھ دوڑائے جاتے ہیں ]
Ayah 37:71

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہو چکے تھے

وَلَقَدْ ضَلَّ [اور بیشک گمراہ ہوچکے ] قَبْلَهُمْ [ان سے پہلے ] اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ [اگلوں کے اکثر ] ۔
Ayah 37:72

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور اُن میں ہم نے تنبیہ کرنے والے رسول بھیجے تھے

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [اور بیشک ہم بھیج چکے ] فِيْهِمْ مُّنْذِرِيْنَ [ان میں خبردار کرنے والے ] ۔
Ayah 37:73

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

اب دیکھ لو کہ اُن تنبیہ کیے جانے والوں کا کیا انجام ہوا

فَانْظُرْ [تو آپ ﷺ دیکھیں ] كَيْفَ كَانَ [کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ [خبردار کئے جانے والوں کا انجام ] ۔
Ayah 37:74

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کر لیا ہے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ [مگر ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے اللہ کے بندے ] ۔
Ayah 37:75

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

ہم کو (اِس سے پہلے) نوحؑ نے پکارا تھا، تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے

وَلَقَدْ نَادٰىنَا [اور بیشک پکار چکے ہم کو ] نُوْحٌ [نوح (علیہ السلام) ] فَلَنِعْمَ [تو یقینا کیا ہی اچھے ہیں (ہم)] الْمُجِيْبُوْنَ [قبول کرنے والے ] ۔
Ayah 37:76

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

ہم نے اُس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے بچا لیا

وَنَجَّيْنٰهُ [اور ہم نے نجات دی نوح (علیہ السلام) کو ] وَاَهْلَهٗ [اور ان کے گھر والوں کو ] مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ [اس بڑے دکھ سے ] ۔
Ayah 37:77

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور اسی کی نسل کو باقی رکھا

وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ [اور ہم نے بنایا ان کی اولاد کو ] هُمُ الْبٰقِيْنَ [ہی باقی رہنے والے ] ۔ نوٹ۔ 1: اکثر مفسرین کے نزدیک آیت ۔ 77 کا مطلب یہ ہے کہ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد ساری دنیا کی نسل حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث سے چلی۔ جو لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار ہوکر طوفان سے بچ گئے تھے ان میں سے کسی اور سے کوئی نسل نہیں چلی۔ اس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سام اہل عرب کا باپ ہے، حام اہل حبشہ کا باپ ہے اور یافث اہل روم کا۔ (معارف القرآن)
Ayah 37:78

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور بعد کی نسلوں میں اس کی تعریف و توصیف چھوڑ دی

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ [اور ہم نے چھوڑی ان کے لئے ] فِي الْاٰخِرِيْنَ [آخری لوگوں میں (ان کی ثناء)] ۔ نوٹ۔ 2: آیت 78 میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کی کامیابی کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے دشمنوں کی مخالفت کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے ان کی دعوت کو فروغ دیا۔ ان کے بعد ان ہی کی دعوت کو آگے بڑھانے والے انبیاء اور علماء پیدا ہوئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد سے زیادہ جلیل القدر نبی و رسول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ جس ملت کے داعی حضرت نوح (علیہ السلام) تھے اسی ملت کے داعی بن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اٹھے۔ (تدبر قرآن ماخوذ) حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان میں جو عہد گزرا اس میں صرف دو نبی ہوئے۔ ایک حضرت ہود (علیہ السلام) اور دوسرے حضرت صالح علیہ السلام۔ (تفسیر نعیمی) نوٹ۔ 3: یہ تو ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج اور ستاروں میں کچھ ایسی خاصیتیں رکھی ہیں جو انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض خصوصٰات ایسی ہیں جن کا ہر شخص مشاہدہ کرسکتا ہے۔ مثلا سورج کے قرب وبعد سے گرمی اور سردی کا پیدا ہونا۔ چاند کے اتار چڑھاؤ سے سمندر میں مدوجزر وغیرہ۔ اب بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ ان ستاروں کی خصوصیات صرفاتنی ہی ہیں جتنی عام مشاہدہ سے معلوم ہوتی ہیں۔ اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاوہ بھی ستاروں کی گردش کے کچھ ایسے خواص ہوتے ہیں جو انسان کی زندگی کے اکثر ممعاملات پر اثر ڈالتے ہیں۔ پھر بعض لوگ تو ان ستاروں ہی کو کامیابیوں اور ناکامیوں کے معامہ میں مؤثر حقیقی مانتے ہیں۔ بلا شبہ ان کا خیال غلط اور باطل ہے اور یہ عقیدہ انسان کو شرک کی حد تک پہنچا دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عقیدے کی سخت تردید فرمائی ہے، جس کی تصریح احادیث میں موجود ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مؤثر حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر اس نے ستارون کو ایسے خواص عطا کردیئے ہیں اس لئے دنیا کے دوسرے اسباب کی طرح وہ بھی انسان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا ایک سبب ہوتے ہیں۔ جس طرح بارش برسانے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اس کا ظاہری سبب بادل ہیں۔ اسی طرح تمام کامیابیوں اور ناکامیوں کا اصل سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی ہے لیکن یہ ستارے ان کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہ خیال شرک نہیں ہے اور قرآن وحدیث سے اس خیال کی نہ تصدیق ہوتی ہے اور نہ تردید۔ لہٰذا یہ کچھ بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی گردش اور ان کے طلوع و غروب میں کچھ ایسے اثرات رکھے ہوں، لیکن ان اثرات کی جستجو کرنے کے لئے علم نجوم کی تحصیل۔ اس علم پر اعتماد اور اس کی بناء پر مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا بہر حال ممنوع اور ناجائز ہے اور احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تقدیر کا ذکر چھڑ جائے تو رک جاؤ(یعنی اس میں زیادہ غور وخوض اور بحث و مباحثہ نہ کرو) اور جب ستاروں کا ذکر چھڑے تو رک جاؤ۔ حضرت عمر کا ارشاد ہے کہ ستاروں کے علم سے اتنا علم حاصل کرو جس کے ذرعہ تم خشکی اور سمندر میں راستے جان سکو اس کے بعد رک جاؤ۔ اس ممانعت سے تاروں کے خواص و آثار کا انکار لازم نہیں آتا لیکن ان خواص و آثار کے پیچھے پڑنے اور ان کی جستجو کرنے کو منع کیا گیا ہے۔ امام غزالی نے احیاء العلوم میں اس پر مفصل بحث کرتے ہوئے اس ممانعت کی متعدد حکمتیں بتائی ہیں۔ پہلی حکمت تو یہ ہے کہ جب اس علم میں انسان کا انہماک بڑھتا ہے تو تجربہ یہ ہے کہ وہ رفتہ رفتہ ستاروں کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے اور یہ چیز اسے کشاں کشاں مشرکانہ عقیدے کی طرف لے جاتی ہے۔ دوسری ھکمت یہ ہے کہ اگر ستاروں میں اللہ تعالیٰ نے کچھ خواص و آثار رکھے بھی ہیں تو ان کے یقینی علم کا ہمارے پاس سوائے وحی کے کوئی راستہ نہیں ہے۔ حضرت ادریس کے بارے میں احادیث میں آیا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا کوئی علم عطا فرمایا تھا لیکن اب وہ علم جس کی بنیاد وحی الٰہی پر تھی دنیا سے مٹ چکا ہے۔ اب علم نجوم کے ماہرین کے پاس جو کچھ ہے وہ محض قیاسات، اندازے اور تخمینے ہیں، جن سے کوئی یقینی علم حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نجومیوں کی بیشمار پیشنگوئیاں آئے دن غلط ہوتی رہتی ہیں۔ چناچہ جن بڑے بڑے لوگوں نے اس علم کی تحصیل میں اپنی عمریں کھپائی ہیں وہ آخر میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اس علم کا انجام قیاس وتخمین سے آگے کچھ نہیں۔ اور اس میں غلطیوں کے بےحساب احتمالات ہوتے ہیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ اس علم کی تحصیل میں لگتے ہیں وہ اسے بالکل قطعی اور یقینی علم کا درجہ دے بیٹھتے ہیں۔ اس کی بناء پر مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں اور بعض اوقات علم غیب کے دعوے کرنے لگتے ہیں۔ تیسری حکمت یہ ہے کہ عمر عزیزکا ایک بےفائدہ کام میں صرف کرنے کے متراد ہے جب اس سے یقینی طور پر کوئی نتیجہ حاصل نہیں کیا جاسکتا تو یہ دنیا کے کاموں میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتا اور ایک بےفائدہ چیز کے پیچھے پڑنا اسلامی عریعت کی روح اور مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ اس لئے یہ ممنوع ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 37:79

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

سلام ہے نوحؑ پر تمام دنیا والوں میں

سَلٰمٌ عَلٰي نُوْحٍ [سلام ہے نوح (علیہ السلام) پر ] فِي الْعٰلَمِيْنَ [تمام جہانوں میں ] ۔
Ayah 37:80

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي [بیشک اسی طرح ہم جزاء دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کاروں کو ] ۔