Ayah 37:41اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ] رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ [ایک معلوم رزق ہے ]
Ayah 37:42فَوَاكِهُ ۚ [جو پھل ہیں ] وَهُمْ [اور وہ لوگ ہی ] مُّكْـرَمُوْنَ [عزت دئیے ہوئے ہوں گے ]
نوٹ۔ 1: لفظ ” فواکہ “ کے ذریعہ قرآن نے جنت کے رزق کی خود تفسیر فرمادی ہے کہ وہ رزق میوں پر مشتمل ہوگا۔ عربی میں فاکھۃ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو بھوک کی ضرورت رفع کرنے کے لئے نہیں بلکہ لذت حاصل کرنے کے لئے کھائی جائے۔ اردو میں اس کا ترجمہ میوہ اس لئے کردیا جاتا ہے کہ میوہ بھی لذت حاصل کرنے کے لئے کھایا جاتا ہے۔ ورنہ در حقیقت فاکھۃ کا مفہوم میوے کے مفہوم سے زیادہ عام ہے۔ امام رازی نے اسی لفظ سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ جنت میں جتنی غذائیں دی جائیں گی وہ سب لذت بخشنے کے لئے دی جائیں گی، بھوک کی حاجت رفع کرنے کے لئے نہیں۔ اس لئے کہ جنت میں انسان کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہوگی۔ وہاں اسے اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لئے یا حفظان صحت کے لئے کسی بھی غذا کی ضرورت نہیں ہوگی اور جنت کی تمام نعمتوں کا مقصد لذت عطا کرنا ہوگا۔ (معارف القرآن)
Ayah 37:43فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ [تروتازگی کے باغات میں ]
Ayah 37:44عَلٰي سُرُرٍ [تختوں پر ] مُّتَـقٰبِلِيْنَ [ایک دوسرے کے آمنے سامنے ] ۔
Ayah 37:45يُـطَافُ عَلَيْهِمْ [گردش میں لایا جائے گا ان پر ] بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۢ [ایسے جاری پانی میں کا جام جو ] ۔
Ayah 37:46بَيْضَاۗءَ [سفید ہوگا ] لَذَّةٍ [لذت ہوگا ] لِّلشّٰرِبِيْنَ [پینے والوں کے لئے ] ۔
فعل استعمال نہیں ہوتا۔
کاس پینے کا برتن جبکہ اس میں پینے کی چیز موجود ہو۔ پھر یہ صرف پینے کے برتن کے لئے بھی آتا ہے اور صرف پینے کی چیز کے لئے بھی۔ (1) پیالہ۔ جام۔ (2) شربت، شراب۔ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا (وہ لوگ باہم کھینچا تانی کریں گے اس (جنت) میں جام کے لئے) 52/23 ۔ وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا (اور ان کو پلائی جائے گی اس (جنت) میں ایک ایسی شراب جس کا مزاج ادرک کا ہوگا) 76/17 ۔
ل ذ ذ
(س) لذاذۃ مزے دار ہونا۔ لذیذ ہونا۔ وَفِيْهَا مَا تَشْتَهِيْهِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْيُنُ (اور اس میں وہ ہے جس کی خواہش کریں گے جی اور مزے دار ہوجائیں گی آنکھیں) ۔ 43/71 ۔
لذۃ اسم ذات ہے۔ مزہ ۔ لذت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 46 ۔
Ayah 37:47لَا فِيْهَا [نہیں ہوگی اس میں ] غَوْلٌ [کوئی سرگرانی ] وَّلَا هُمْ عَنْهَا [اور نہ وہ اس سے ] يُنْزَفُوْنَ [بدمست کئے جائیں گے ] ۔
غ و ل
(ن) غولا اچانک پکڑ لینا۔ شراب سے مدہوش ہوجانا ۔
غول اسم ذات ہے۔ مدہوشی۔ دردسر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 47 ۔
ن ز
(ض) نزفا کنویں کا سارا پانی نکال لینا۔ کسی کو بےعقل کرنا۔ بدمست کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 47 ۔
(افعال) انزافا کنویں کا سارا پانی نکل جانا۔ بےعقل ہونا۔ بدمست ہونا۔ وَلَا يُنْزِفُوْنَ اور نہ وہ لوگ بدمست ہوں گے) 56/19 ۔
Ayah 37:48وَعِنْدَهُمْ [اور ان کے پاس ہوں گی ] قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ [آنکھ کی پلک نیچے رکھنے والیاں ] عِيْنٌ [بڑی آنکھوں والیاں ] ۔
Ayah 37:49كَاَنَّهُنَّ [جیسے کہ وہ ہیں ] بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ [محفوظ کیے ہوئے انڈے ]
Ayah 37:50فَاَقْبَلَ [پھر سامنے آئے گا ] بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ [ان کا کوئی کسی کے ] يَّتَسَاۗءَلُوْنَ [ایک دوسرے سے پوچھتے ہوئے ] ۔
Ayah 37:51قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ [کہے گا ایک کہنے والا ان میں سے ] اِنِّىْ [بیشک ] كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ [میرا یک ساتھی تھا ] ۔
نوٹ۔ 1: آیات 51 تا 57 میں دو اشخاص کا ذکر کرنے سے قرآن کا اصل منشاء لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ اپنے حلقہء احباب کا جائزہ لے کر یہ دیکھیں کہ اس میں کوئی ایسا شخص تو نہیں ہے جو انہیں کشاں کشاں دوزخ کی طرف لے جارہا ہو۔ بری صحبت سے جو تباہی آسکتی ہے اس کا صحیح اندازہ آخرت ہی میں ہوگا اور اس وقت تباہی سے بچنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ اس لئے دنیا میں تعلقات دیکھ بھال کر قائم کرنے چاہئیں۔ بسا اوقات کسی نافرمان شخص سے تعلقات قائم کرنے کے بعد انسان غیر محسوس طریقے پر اس کے افکار ونظریات اور طرز زندگی سے متاثر ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ چیز آخرت کے انجام کے لئے خطرناک ہوتی ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 37:52يَّقُوْلُ [وہ کہا کرتا تھا ] اَىِٕنَّكَ [کیا بیشک (واقعی) تو ] لَمِنَ الْمُصَدِّقِيْنَ [ضرور تصدیق کرنے والوں میں سے ہے ]
Ayah 37:53ءَاِذَا مِتْنَا [کیا جب ہم مرجائیں گے ] وَكُنَّا تُرَابًا [اور ہوجائیں گے مٹی ] وَّعِظَامًا [اور ہڈیاں ] ءَاِنَّا لَمَدِيْنُوْنَ [تو کیا بیشک ہم ضرور حساب لئے جانے والے ہیں ] ۔
Ayah 37:54قَالَ هَلْ اَنْتُمْ [اس نے کہا کیا تم لوگ ] مُّطَّلِعُوْنَ [جھانکنے والے ہو ]
Ayah 37:55فَاطَّلَعَ [پھر اس نے جھانکا ] فَرَاٰهُ [تو اس نے دیکھا اس کو ] فِيْ سَوَاۗءِ الْجَحِيْمِ [دوزخ کے بیچ میں ] ۔
Ayah 37:56قَالَ تَاللّٰهِ [اس نے کہا اللہ کی قسم ] اِنْ [یقینا ] كِدْتَّ [قریب تھا کہ تو ] لَتُرْدِيْنِ [ضرور گڑھے میں گرا دیتا مجھ کو ] ۔
Ayah 37:57وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ [اور اگر نہ ہوتی میرے رب کی نعمت ] لَكُنْتُ [تو میں ضرور ہوتا ] مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ [حاضر کئے ہوؤں میں سے ] ۔
Ayah 37:58اَفَمَا نَحْنُ [تو کیا (اب) ہم لوگ ] بِمَيِّتِيْنَ [مردہ نہیں ہوں گے ] ۔
Ayah 37:59اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى [سوائے ہماری پہلی موت کے ] وَمَا نَحْنُ [اور ہم لوگ ] بِمُعَذَّبِيْنَ [عذاب دئیے ہوئے نہیں ہیں ] ۔
Ayah 37:60اِنَّ ھٰذَا [بیشک یہ ] لَهُوَ [یقینا یہی ] الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [شاندار کامیابی ہے ]
Ayah 37:61لِــمِثْلِ ھٰذَا [اس کی جیسی کے لئے ] فَلْيَعْمَلِ [چاہے کہ عمل کریں ] الْعٰمِلُوْنَ [عمل کرنے والے ] ۔
Ayah 37:62اَذٰلِكَ خَيْرٌ [کیا یہ بہتر ہے ] نُّزُلًا [بطور ابتدائی مہمان نوازی کے ] اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ [یا تھوہر کا درخت ] ۔
ز ق م
(ن) زقما لقمہ نگلنا۔ تھوہر کھانا۔
زقوم تھوہر کا درخت۔ دوزخ کے ایک درخت کا نام۔ زیر مطالعہ آیت۔ 62 ۔
Ayah 37:63[اِنَّا جَعَلْنٰهَا : بیشک ہم نے بنایا اس کو ] [فِتْنَةً : ایک آفت ] [لِّلظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کے لیے ]
Ayah 37:64[اِنَّهَا : وہ ایک ] [شَجَــرَةٌ: ایسا ہولناک درخت ہوگا ] [ تَخْرُجُ : نکلے گا ] [فِيْٓ اَصْلِ الْجَحِيْمِ : جو دوزخ کی تہ سے ]
Ayah 37:65طَلْعُهَا [اس کا خوشہ ] كَاَنَّهٗ [جیسے کہ وہ ہے ] رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ [شیطانوں کے سر ] ۔
نوٹ۔ 1: کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ شیطان کا سرکس نے دیکھا ہے جو زقوم کے شگوفوں کو اس سے تشبیہ دی گئی۔ در اصل یہ تخیلی نوعیت کی تشبیہ ہے اور عام طور پر ہر زبان کے ادب میں اس سے کام لیا جاتا ہے۔ مثلا ایک عورت کی انتہائی خوبصورتی کا تصور دلانے کے لئے کہتے ہیں کہ وہ تو پری ہے اور انتہائی بد صورتی بیان کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ وہ تو چڑیل ہے یا بھتنی ہے۔ کسی کی نورانی شکل کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتہ صورت ہے۔ (تفہیم القرآن)
رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ کی تشبیہ نہایت بلیغ ہے۔ بعض مرتبہ تشبیہہ کسی خیالی چیز کی دی جاتی ہے لیکن وہ مرئی وشاہد چیزوں سے زیادہ ذہنوں کے قریب ہوتی ہے۔ مثلا آپ کسی پراگندہ حال اور پراگندہ بال شخص کو کہیں کیا بھوت کی سی صورت بنا رکھی ہے۔ بھوت اگرچہ ایک خیالی چیز ہے لیکن اس کا ایک تصور ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے۔ اس وجہ سے یہ تشبیہہ اس شخص کو جس خوبی کے ساتھ مصور کرے گی کوئی دوسری تشبیہہ مشکل ہی سے کرسکے گی۔ اسی طرح یہاں زقوم کے پتوں کو شیاطین کے سروں سے تشبیہہ دی ہے ہرچند یہ ایک خیالی تشبیہہ ہے لیکن ذہنوں میں شیاطین کا ایک خوفناک تصور موجود ہے۔ اس وجہ سے اس کو سن کر دل پر ایک کپکپی طاری ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 37:66فَاِنَّهُمْ [تو وہ لوگ ] لَاٰكِلُوْنَ [یقینا کھانے والے ہیں ] مِنْهَا [اس میں سے ] فَمَالِـــــُٔوْنَ [پھر بھرنے والے ہیں ] مِنْهَا [اس سے ] الْبُطُوْنَ [پیٹوں کو ] ۔
Ayah 37:67ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ [پھر بیشک ان کے لئے ] عَلَيْهَا [اس پر ] لَشَوْبًا [یقینا آمیزش ہوگی ] مِّنْ حَمِيْمٍ [کسی گرم (پانی) سے ]
ش و ب
(ن) شوبا ایک چیز میں دوسری چیز ملانا۔ خلط ملط کرنا۔
شوب وہ چیز جو کسی چیز میں ملائی جائے۔ ملاوٹ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 67 ۔
Ayah 37:68ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ [پھر بیشک ان کا لوٹنا ] لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ [یقینا دوزخ کی طرف ہے ] ۔
Ayah 37:69اِنَّهُمْ اَلْفَوْا [بیشک انھوں نے پایا ] اٰبَاۗءَهُمْ [اپنے باپ دادا کو ] ضَاۗلِّيْنَ [گمراہ ہونے والے ] ۔
Ayah 37:70فَهُمْ عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ [پھر وہ ان کے نقوش قدم پر ] يُهْرَعُوْنَ [بے سدھ دوڑائے جاتے ہیں ]
Ayah 37:71وَلَقَدْ ضَلَّ [اور بیشک گمراہ ہوچکے ] قَبْلَهُمْ [ان سے پہلے ] اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ [اگلوں کے اکثر ] ۔
Ayah 37:72وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [اور بیشک ہم بھیج چکے ] فِيْهِمْ مُّنْذِرِيْنَ [ان میں خبردار کرنے والے ] ۔
Ayah 37:73فَانْظُرْ [تو آپ ﷺ دیکھیں ] كَيْفَ كَانَ [کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ [خبردار کئے جانے والوں کا انجام ] ۔
Ayah 37:74اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ [مگر ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے اللہ کے بندے ] ۔
Ayah 37:75وَلَقَدْ نَادٰىنَا [اور بیشک پکار چکے ہم کو ] نُوْحٌ [نوح (علیہ السلام) ] فَلَنِعْمَ [تو یقینا کیا ہی اچھے ہیں (ہم)] الْمُجِيْبُوْنَ [قبول کرنے والے ] ۔
Ayah 37:76وَنَجَّيْنٰهُ [اور ہم نے نجات دی نوح (علیہ السلام) کو ] وَاَهْلَهٗ [اور ان کے گھر والوں کو ] مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ [اس بڑے دکھ سے ] ۔
Ayah 37:77وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ [اور ہم نے بنایا ان کی اولاد کو ] هُمُ الْبٰقِيْنَ [ہی باقی رہنے والے ] ۔
نوٹ۔ 1: اکثر مفسرین کے نزدیک آیت ۔ 77 کا مطلب یہ ہے کہ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد ساری دنیا کی نسل حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث سے چلی۔ جو لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار ہوکر طوفان سے بچ گئے تھے ان میں سے کسی اور سے کوئی نسل نہیں چلی۔ اس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سام اہل عرب کا باپ ہے، حام اہل حبشہ کا باپ ہے اور یافث اہل روم کا۔ (معارف القرآن)
Ayah 37:78وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ [اور ہم نے چھوڑی ان کے لئے ] فِي الْاٰخِرِيْنَ [آخری لوگوں میں (ان کی ثناء)] ۔
نوٹ۔ 2: آیت 78 میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کی کامیابی کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے دشمنوں کی مخالفت کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے ان کی دعوت کو فروغ دیا۔ ان کے بعد ان ہی کی دعوت کو آگے بڑھانے والے انبیاء اور علماء پیدا ہوئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد سے زیادہ جلیل القدر نبی و رسول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ جس ملت کے داعی حضرت نوح (علیہ السلام) تھے اسی ملت کے داعی بن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اٹھے۔ (تدبر قرآن ماخوذ)
حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان میں جو عہد گزرا اس میں صرف دو نبی ہوئے۔ ایک حضرت ہود (علیہ السلام) اور دوسرے حضرت صالح علیہ السلام۔ (تفسیر نعیمی)
نوٹ۔ 3: یہ تو ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج اور ستاروں میں کچھ ایسی خاصیتیں رکھی ہیں جو انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض خصوصٰات ایسی ہیں جن کا ہر شخص مشاہدہ کرسکتا ہے۔ مثلا سورج کے قرب وبعد سے گرمی اور سردی کا پیدا ہونا۔ چاند کے اتار چڑھاؤ سے سمندر میں مدوجزر وغیرہ۔ اب بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ ان ستاروں کی خصوصیات صرفاتنی ہی ہیں جتنی عام مشاہدہ سے معلوم ہوتی ہیں۔ اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاوہ بھی ستاروں کی گردش کے کچھ ایسے خواص ہوتے ہیں جو انسان کی زندگی کے اکثر ممعاملات پر اثر ڈالتے ہیں۔ پھر بعض لوگ تو ان ستاروں ہی کو کامیابیوں اور ناکامیوں کے معامہ میں مؤثر حقیقی مانتے ہیں۔ بلا شبہ ان کا خیال غلط اور باطل ہے اور یہ عقیدہ انسان کو شرک کی حد تک پہنچا دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عقیدے کی سخت تردید فرمائی ہے، جس کی تصریح احادیث میں موجود ہے۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مؤثر حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر اس نے ستارون کو ایسے خواص عطا کردیئے ہیں اس لئے دنیا کے دوسرے اسباب کی طرح وہ بھی انسان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا ایک سبب ہوتے ہیں۔ جس طرح بارش برسانے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اس کا ظاہری سبب بادل ہیں۔ اسی طرح تمام کامیابیوں اور ناکامیوں کا اصل سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی ہے لیکن یہ ستارے ان کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہ خیال شرک نہیں ہے اور قرآن وحدیث سے اس خیال کی نہ تصدیق ہوتی ہے اور نہ تردید۔ لہٰذا یہ کچھ بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی گردش اور ان کے طلوع و غروب میں کچھ ایسے اثرات رکھے ہوں، لیکن ان اثرات کی جستجو کرنے کے لئے علم نجوم کی تحصیل۔ اس علم پر اعتماد اور اس کی بناء پر مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا بہر حال ممنوع اور ناجائز ہے اور احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تقدیر کا ذکر چھڑ جائے تو رک جاؤ(یعنی اس میں زیادہ غور وخوض اور بحث و مباحثہ نہ کرو) اور جب ستاروں کا ذکر چھڑے تو رک جاؤ۔ حضرت عمر کا ارشاد ہے کہ ستاروں کے علم سے اتنا علم حاصل کرو جس کے ذرعہ تم خشکی اور سمندر میں راستے جان سکو اس کے بعد رک جاؤ۔ اس ممانعت سے تاروں کے خواص و آثار کا انکار لازم نہیں آتا لیکن ان خواص و آثار کے پیچھے پڑنے اور ان کی جستجو کرنے کو منع کیا گیا ہے۔
امام غزالی نے احیاء العلوم میں اس پر مفصل بحث کرتے ہوئے اس ممانعت کی متعدد حکمتیں بتائی ہیں۔ پہلی حکمت تو یہ ہے کہ جب اس علم میں انسان کا انہماک بڑھتا ہے تو تجربہ یہ ہے کہ وہ رفتہ رفتہ ستاروں کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے اور یہ چیز اسے کشاں کشاں مشرکانہ عقیدے کی طرف لے جاتی ہے۔ دوسری ھکمت یہ ہے کہ اگر ستاروں میں اللہ تعالیٰ نے کچھ خواص و آثار رکھے بھی ہیں تو ان کے یقینی علم کا ہمارے پاس سوائے وحی کے کوئی راستہ نہیں ہے۔ حضرت ادریس کے بارے میں احادیث میں آیا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا کوئی علم عطا فرمایا تھا لیکن اب وہ علم جس کی بنیاد وحی الٰہی پر تھی دنیا سے مٹ چکا ہے۔ اب علم نجوم کے ماہرین کے پاس جو کچھ ہے وہ محض قیاسات، اندازے اور تخمینے ہیں، جن سے کوئی یقینی علم حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نجومیوں کی بیشمار پیشنگوئیاں آئے دن غلط ہوتی رہتی ہیں۔ چناچہ جن بڑے بڑے لوگوں نے اس علم کی تحصیل میں اپنی عمریں کھپائی ہیں وہ آخر میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اس علم کا انجام قیاس وتخمین سے آگے کچھ نہیں۔ اور اس میں غلطیوں کے بےحساب احتمالات ہوتے ہیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ اس علم کی تحصیل میں لگتے ہیں وہ اسے بالکل قطعی اور یقینی علم کا درجہ دے بیٹھتے ہیں۔ اس کی بناء پر مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں اور بعض اوقات علم غیب کے دعوے کرنے لگتے ہیں۔ تیسری حکمت یہ ہے کہ عمر عزیزکا ایک بےفائدہ کام میں صرف کرنے کے متراد ہے جب اس سے یقینی طور پر کوئی نتیجہ حاصل نہیں کیا جاسکتا تو یہ دنیا کے کاموں میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتا اور ایک بےفائدہ چیز کے پیچھے پڑنا اسلامی عریعت کی روح اور مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ اس لئے یہ ممنوع ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 37:79سَلٰمٌ عَلٰي نُوْحٍ [سلام ہے نوح (علیہ السلام) پر ] فِي الْعٰلَمِيْنَ [تمام جہانوں میں ] ۔
Ayah 37:80اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي [بیشک اسی طرح ہم جزاء دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کاروں کو ] ۔