37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 37:121

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي [بیشک ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کاروں کو ] ۔
Ayah 37:122

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

در حقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

اِنَّهُمَا [بیشک وہ دونوں ] مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ [ہمارے ایمان لانے والے بندوں میں سے ہیں ] ۔
Ayah 37:123

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور الیاسؑ بھی یقیناً مرسلین میں سے تھا

وَاِنَّ اِلْيَاسَ [اور بیشک الیاس (علیہ السلام) ] لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [یقینا بھیجے ہوؤں (رسولوں) میں سے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: قرآن کریم میں حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر صرف دو مقامات پر آیا ہے۔ سورة انعام کی آیت 85 میں تو صرف انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست میں آپ کا اسم گرامی شمار کردیا گیا ہے اور کوئی واقعہ مذکور نہیں ہے۔ البتہ یہاں یہایت اختصار کے ساتھ آپ کی دعوت و تبلیغ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ قرآن کریم میں حضرت الیاس (علیہ السلام) کے حالات تفصیل سے مذکور نہیں ہیں اور نہ احادیث میں آپ (علیہ السلام) کے حالات آئے ہیں، اس لئے آپ (علیہ السلام) کے بارے میں کتب تفسیر میں مختلف اقوال ملتے ہیں جن میں سے بیشتر بنی اسرائیل کی روایات سے ماخوذ ہیں۔ لیکن تاریخی اور اسرائلی روایات اس بات پر تقریبا متفق ہیں کہ آپ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی طرف اس زمانے میں مبعوث ہوئے جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جانشینوں کی بدکاری کی وجہ سے بنی اسرائیل کی سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔ ایک حصہ یہوداہ اور دوسرا حصہ اسرائیل کہلاتا تھا۔ اسرائیل کے بادشاہ کی بیوی بعل نامی ایک بت کی پرستار تھی۔ اس کے کہنے پر بادشاہ نے اسرائیل میں بعل کے نام پر ایک بڑی قربان گاہ تعمیر کرکے تمام بو اسرائیل کو بت پرستی کے راستہ پر لگادیا۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ وہ اس خطہ میں جاکر توحید کی تعلیم دیں اور اسرائیلیوں کو بت پرستی سے روکیں۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 37:124

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ "تم لوگ ڈرتے نہیں ہو؟

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ [جب انھوں (علیہ السلام) نے کہا اپنی قوم سے ] اَلَا تَتَّقُوْنَ [کیا تم لوگ تقویٰ اختیار نہیں کرو گے ] ۔
Ayah 37:125

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو

اَتَدْعُوْنَ [کیا تم لوگ پکارتے ہو ] بَعْلًا [بعل (بت) کو ] وَّتَذَرُوْنَ [اور چھوڑتے ہو ] اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ [تخلیق کرنے والوں کے بہترین کو ] ۔
Ayah 37:126

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

اُس اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے پچھلے آبا و اجداد کا رب ہے؟"

اللّٰهَ [جو اللہ ہے ] رَبَّكُمْ [جو تم لوگوں کا رب ہے ] وَرَبَّ اٰبَاۗىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ [اور تمہارے پہلے آباؤ اجداد کا رب ہے ] ۔
Ayah 37:127

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا، سو اب یقیناً وہ سزا کے لیے پیش کیے جانے والے ہیں

فَكَذَّبُوْهُ [تو ان لوگوں نے جھٹلایا ان (علیہ السلام) کو ] فَاِنَّهُمْ [توبیشک وہ لوگ ] لَمُحْضَرُوْنَ [یقینا حاضر کئے جانے والے ہیں ] ۔
Ayah 37:128

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

بجز اُن بندگان خدا کے جن کو خالص کر لیا گیا تھا

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ [مگر ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے اللہ کے بندے ] ۔
Ayah 37:129

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور الیاسؑ کا ذکر خیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ [اور ہم نے چھوڑی ان (علیہ السلام) کے لئے ] فِي الْاٰخِرِيْنَ [آخری لوگوں میں (ان کی ثنائ)] ۔
Ayah 37:130

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

سلام ہے الیاسؑ پر

سَلٰمٌ عَلٰٓي اِلْ يَاسِيْنَ [سلام ہے الیاس (علیہ السلام) پر ] ۔
Ayah 37:131

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي [ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کاروں کو ] ۔
Ayah 37:132

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

واقعی وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

اِنَّهٗ [بیشک وہ ہیں ] مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ [ہمارے ایمان لانے والے بندوں میں سے ] ۔
Ayah 37:133

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور لوطؑ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

وَاِنَّ لُوْطًا [اور بیشک لوط (علیہ السلام) ] لَّمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [یقینا بھیجے ہوؤں (رسولوں) میں سے ہیں ] ۔
Ayah 37:134

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

یاد کرو جب ہم نے اس کو اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی

اِذْ نَجَّيْنٰهُ [جب ہم نے نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] وَاَهْلَهٗٓ [اور ان کے گھر والوں کو ] اَجْمَعِيْنَ [سب کو ] ۔
Ayah 37:135

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی

اِلَّا عَجُوْزًا [سوائے ایک بڑھیا کے ] فِي الْغٰبِرِيْنَ [پیچھے رہ جانے والوں میں ] ۔
Ayah 37:136

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر باقی سب کو تہس نہس کر دیا

ثُمَّ دَمَّرْنَا [پھر ہم نے ہلاک کیا ] الْاٰخَرِيْنَ [دوسروں کو ] ۔
Ayah 37:137

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

آج تم شب و روز اُن کے اجڑے دیار پر سے گزرتے ہو

وَاِنَّكُمْ [اور بیشک تم لوگ ] لَتَمُرُّوْنَ [یقینا گزرتے ہو ] عَلَيْهِمْ [ان پر سے ] مُّصْبِحِيْنَ [صبح کرتے ہوئے ] ۔
Ayah 37:138

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

کیا تم کو عقل نہیں آتی؟

وَبِالَّيْلِ ۭ [اور رات کو ] اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ [تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ] ۔
Ayah 37:139

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یقیناً یونسؑ بھی رسولوں میں سے تھا

وَاِنَّ يُوْنُسَ [اور بیشک یونس (علیہ السلام) ] لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [یقینا بھیجے ہوؤں میں سے ہیں ] ۔
Ayah 37:140

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

یاد کرو جب وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا

اِذْ اَبَقَ [جب وہ چل دئیے ] اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ [اس بھری ہوئی کشتی کی طرف ] ۔ ء ب ق (ض) ابقا غلام کا آقا کے پاس سے بھاگ جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 140 ۔
Ayah 37:141

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی

فَسَاهَمَ [پھر قرعہ اندازی کی ] فَكَانَ [تو وہ تھے ] مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ [پھسلائے جانے والوں میں سے ] ۔ س ہ م (ف) سھوما قرعہ اندازی میں غالب آنا۔ (مفاعلہ) مساھمۃ قرعہ اندازی کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 141 ۔ نوٹ۔ 1: قرعہ اندازی اس وقت کی گئی جب کشتی طوفان گھر گئی اور وزن کی زیادتی سے اس کے ڈوبنے کا اندیشہ ہوگیا اور طے یہ پایا کہ وزن کم کرنے کے لئے ایک شخص کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ یہ متعین کرنے کے لئے ڈالا گیا کہ وہ شخص کون ہو۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرعہ اندازی کے ذریعہ نہ کسی کو مجرم قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ کسی کا حق ثابت کیا جاسکتا ہے۔ مثلا قرعہ کے ذریعے کو چور ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اگر دو آدمیوں میں یہ اختلاف ہو کہ فلاں جائیداد کس کی ملکیت ہے تو قرعہ کے ذریعہ اس کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ ہاں قرعہ اندازی اس موقع پر جائز بلکہ بہتر ہے جہاں ایک شخص کو اختیار ھاصل ہو کہ وہ چند جائز راستوں میں سے کسی بھی راستے کو اختیار کرلے۔ اب وہ اپنی مرضی سے کوئی راستہ متعین کرنے کے بجائے قرعہ ڈال کر فیصلہ کرے۔ حضرت یونس کے واقعہ میں بھی قرعہ اندازی سے کسی کو مجرم ثابت کرنا مقصود نہیں تھا۔ بلکہ پوری کشتی کو بچانے کے لئے کسی کو بھی دریا میں ڈالا جاسکتا تھا۔ قرعہ کے ذریعہ فیصلہ کیا گیا کہ کس کو ڈالا جائے۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 2: بہت سے عقلیت کے مدعی حضرات یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ مچھلی کے پیٹ میں جاکر کسی انسان کا زندہ نکل آنا غیر ممکن ہے۔ لیکن اس نام نہعقلیت کے گڑھ (انگلستان) کے ساحل کے قریب ایک واقعہ پیش آچکا ہے جو اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔ اگست 1891 ء میں STAR OF THEe AST میں کچھ مچھیرے وہیل مچھلی کے شکار کے لئے گہرے سمندر میں گئے۔ وہاں انھوں نے ایک بہت بڑی مچھلی کو جو بیس فٹ چوڑی اور سو ٹن وزنی تھی سخت زخمی کردیا۔ مگر اس سے جنگ کرتے ہوئے جیمز بار ٹلے نامی ایک مچھیرے کو اس کے ساتھیوں کی آنکھوں کے سامنے مچھلی نے نگل لیا۔ دوسرے روز وہی مچھلی اس جہاز کے لوگوں کو مری ہوئی مل گئی۔ انہوں نے بمشکل اسے جہاز پر چڑھایا۔ پھر طویل جد وجہد کے بعد جب اس کا پیٹ چاک کیا گیا تو جیمز بارٹلے اس کے اندر سے زندہ برآمد ہوگیا۔ یہ شخص مچھلی کے پیٹ میں پورے ساٹھ گھنٹے رہا۔ (اردو ڈائجسٹ، فروری 1964 ء) غور کرنے کی بات ہے کہ اگر معمولی حالات میں فطری طور پر ایسا ہونا ممکن ہے تو غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ کے معجزے کے طور پر ایسا ہونا کیوں غیر ممکن ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 37:142

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

آخرکار مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا

فَالْتَقَمَهُ [پھر نگل لیا ان (علیہ السلام) کو ] الْحُوْتُ [مچھلی نے ] وَهُوَ [اس حال میں کہ وہ ] مُلِـيْمٌ [خود کو ملامت کرنے والے تھے ] ۔ ل ق م (س) لقما جلدی جلدی کھانا۔ (افتعال) التقاما کسی چیز کو نگل لینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 142 ۔
Ayah 37:143

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو

فَلَوْلَآ [تو اگر نہ ہوتا ] اَنَّهٗ كَانَ [کہ وہ تھے ] مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ [تسبیح کرنے والوں میں سے ] ۔
Ayah 37:144

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

روز قیامت تک اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا

لَـلَبِثَ [تو وہ ٹھہرتے ] فِيْ بَطْنِهٖٓ [اس کے پیٹ میں ] اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ [لوگوں کو اٹھائے جانے کے دن تک ] ۔
Ayah 37:145

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

آخرکار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا

فَنَبَذْنٰهُ [پھر ہم نے پھینک دیا ان (علیہ السلام) کو ] بِالْعَرَاۗءِ [کھلے میدان میں ] وَهُوَ سَقِيْمٌ [اس حال میں کہ وہ بیمار تھے ] ۔
Ayah 37:146

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور اُس پر ایک بیل دار درخت اگا دیا

وَاَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ [اور ہم نے اگایا ان (علیہ السلام) پر ] شَجَرَةً [ایک پودا ] مِّنْ يَّقْطِيْنٍ [کدو کی بیل میں سے ] ۔
Ayah 37:147

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اس کے بعد ہم نے اُسے ایک لاکھ، یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا

وَاَرْسَلْنٰهُ [اور ہم نے بھیجا ان (علیہ السلام) کو ] اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ [ایک لاکھ (لوگوں) کی طرف ] اَوْ يَزِيْدُوْنَ [یا وہ لوگ (کچھ) زیادہ ہوں گے ] ۔ نوٹ۔ 3: آیت 147 میں یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو علیم وخبیر ہے اس کو اس شک کے اظہر کی کیا ضرورت ہے کہ ایک لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ آدمی تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملہ عام لوگوں کی مناسبت سے کہا گیا ہے۔ یعنی ایک عام آدمی انھیں دیکھتا تو یہ کہتا کہ یہ تعداد ایک لاکھ یا اس سے کچھ اوپر ہے۔ اور حضرت تھانوی نے فرمایا کہ یہاں شک کا اظہار مقصود ہی نہیں ہے۔ انھیں ایک لاکھ بھی کہا جاسکتا ہے اور اس سے زیادہ بھی۔ اور اس طرح کہ اگر کسر (FRACTION) کا لحاظ نہ کیا جائے تو ان کی تعداد ایک لاکھ تھی اور اگر کسر کو بھی شمار کیا جائے تو ایک لاکھ سے زیادہ۔ (معارف القرآن)
Ayah 37:148

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک وقت خاص تک انہیں باقی رکھا

فَاٰمَنُوْا [پھر وہ لوگ ایمان لائے ] فَمَتَّعْنٰهُمْ [تو ہم نے برتنے کا سامان دیا ان لوگوں کو ] اِلٰى حِيْنٍ [ایک وقت تک ] ۔
Ayah 37:149

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

پھر ذرا اِن لوگوں سے پوچھو، کیا (اِن کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ) تمہارے رب کے لیے تو ہوں بیٹیاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے!

فَاسْتَفْتِهِمْ [تو آپ ﷺ ان لوگوں سے پوچھیں ] اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ [کیا آپ ﷺ کے رب کے لئے بیٹیاں ہیں ] وَلَهُمُ الْبَنُوْنَ [اور ان کے لئے بیٹے ہیں ] ۔
Ayah 37:150

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

کیا واقعی ہم نے ملائکہ کو عورتیں ہی بنا یا ہے اور یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں؟

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰۗىِٕكَةَ [یا ہم نے پیدا کیا فرشتوں کو ] اِنَاثًا [مؤنث ہوتے ہوئے ] وَّهُمْ [اس حال میں کہ وہ لوگ ] شٰهِدُوْنَ [موقعہ پر موجود تھے ] ۔
Ayah 37:151

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

خوب سن رکھو، دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں

اَلَآ [خبردار !] اِنَّهُمْ [بیشک یہ لوگ ] مِّنْ اِفْكِهِمْ [اپنے گھڑے ہوئے جھوٹ سے ] لَيَقُوْلُوْنَ [یقینا کہتے ہیں (کہ)] ۔
Ayah 37:152

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ اللہ اولاد رکھتا ہے، اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں

وَلَدَ اللّٰهُ ۙ [بچہ ہوا اللہ کے ہاں ] وَاِنَّهُمْ [اور بیشک یہ لوگ ] لَكٰذِبُوْنَ [یقینا جھوٹ کہنے والے ہیں ] ۔
Ayah 37:153

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لیے پسند کر لیں؟

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ [کیا اس نے ترجیح دیا بیٹیوں کو ] عَلَي الْبَنِيْنَ [بیٹیوں پر ] ۔
Ayah 37:154

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تمہیں کیا ہو گیا ہے، کیسے حکم لگا رہے ہو

مَا لَكُمْ ۣ [تمہیں کیا ہوا ہے ] كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ [کیسا تم لوگ حکم لگاتے ہو ] ۔
Ayah 37:155

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

کیا تمہیں ہوش نہیں آتا

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [تو کیا تم لوگ نصیحت نہیں پکڑو گے ] ۔
Ayah 37:156

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

یا پھر تمہارے پاس اپنی ان باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے

اَمْ لَكُمْ [یا تمہارے لئے ] سُلْطٰنٌ مُّبِيْنٌ [کوئی واضح دلیل ہے ] ۔
Ayah 37:157

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ [تو تم لوگ لاؤ اپنی کتاب ] [اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ : اگر تم لوگ ہو سچ کہنے والے ]
Ayah 37:158

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اِنہوں نے اللہ اور ملائکہ کے درمیان نسب کا رشتہ بنا رکھا ہے، حالانکہ ملائکہ خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ مجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں

وَجَعَلُوْا [اور ان لوگوں نے بنایا ] بَيْنَهٗ [اس کے (اللہ کے) درمیان ] وَبَيْنَ الْجِنَّةِ [اور جنوں کے درمیان ] نَسَـبًا ۭ [ایک رشتہ داری ] وَلَقَدْ عَلِمَتِ [اور بیشک جان چکے ہیں ] الْجِنَّةُ [جن لوگ ] اِنَّهُمْ [کہ وہ لوگ ] لَمُحْضَرُوْنَ [یقینا حاضر کئے جانے والے ہیں ] ۔
Ayah 37:159

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

(اور وہ کہتے ہیں کہ) "اللہ اُن صفات سے پاک ہے

سُبْحٰنَ اللّٰهِ [اللہ کی پاکیزگی ہے ] عَمَّا [اس سے جو ] يَصِفُوْنَ : یہ لوگ بتاتے ہیں ]
Ayah 37:160

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

جو اُس کے خالص بندوں کے سوا دوسرے لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ [مگر ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے اللہ کے بندے ] ۔