36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 36:1
يٰسۗ نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سورة یٰسن قرآن کا دل ہے۔ امام غزالی نے فرمایا کہ سورة یٰسن کو قرآن کا دل فرمانے کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ اس سورة میں قیامت اور حشر ونشر کے مضامین خاص تفصیل اور بلاغت کے ساتھ آئے ہیں اور اصول ایمان میں سے عقیدئہ آخرت وہ چیز ہے جس پر انسان کے اعمال کی صحت موقوف ہے۔ خوف آخرت ہی انسان کو عمل صالح کے لئے مستعد کرتا ہے اور وہی اس کو ناجائز خواہشات اور حرام سے روکتا ہے۔ جس طرح بدن کی صحت قلب کی صحت پر موقوف ہے اسی طرح ایمان کی صحت آخرت پر موقوف ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 36:2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن حکیم کی

وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ [اس حکمت والے قرآن کی قسم ہے ] ۔
Ayah 36:3

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

کہ تم یقیناً رسولوں میں سے ہو

اِنَّكَ [بیشک آپ ﷺ ] لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [یقینا بھیجے ہو ئوں میں سے ہیں ]
Ayah 36:4

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے راستے پر ہو

عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ [ایک سیدھ راستے پر ] ۔
Ayah 36:5

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

(اور یہ قرآن) غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے

تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم [اس رحیم بلا دست کا نازل کرنا ہوتے ہوئے ]
Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبردار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

لِتُنْذِرَ قَوْمًا [تا کہ آپ ﷺ خبردار کریں ایک ایسی قوم کو ] مَّآ اُنْذِرَ [خبردار نہیں کیا گیا ] اٰبَاۗؤُهُمْ [جن کے آباواجداد کو ] فَهُمْ غٰفِلُوْنَ [تو وہ لوگ غافل ہیں ]
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

اِن میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں، اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ [بیشک ثا بت ہوچکی وہ بات ] عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ [ان کے اکثرپر ] فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ [ تو وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ] ۔
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے اُن کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں

اِنَّا جَعَلْنَا [بیشک ہم نے بنائے ] فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ [ان کی گر دنوں میں ] اَغْلٰلًا [کچھ طوق ] فَهِىَ اِلَى الْاَذْقَانِ [پھر وہ (طوق) ٹھوڑ یوں تک ہیں ] فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ [تو وہ لوگ گردن جکڑ ادئے ہوئے ہیں ] ۔ ق م ح (ن) قموحا اونٹ کا سیراب ہوکر پینے سے رک جانا اور حوض سے سر اونچا کرنا۔ (افعال) اقماحا اونٹ کا سر اونچا کرکے پیچھے سے باندھ دینا۔ گردن اکڑا دینا۔ مقمح اسم المفعول ہے۔ سر باندھا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 8 ۔
Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

ہم نے ایک دیوار اُن کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک دیوار اُن کے پیچھے ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے، انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا

وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ [اور ہم نے بنائی ان کے سامنے سے ] سَدًّا [ایک آڑ ] وَّمِنْ خَلْفِهِمْ [اور ان کے پیچھے سے ] سَدًّا [ایک آڑ ] فَاَغْشَيْنٰهُمْ [پھر ہم نے ڈھانپ دیا ان کو ] فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ [تو وہ لوگ بصیرت نہیں رکھتے ]
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

ان کے لیے یکساں ہے، تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، یہ نہ مانیں گے

وَسَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ [اور برابر ہے ان پر ] ءَ [خوا ] اَنْذَرْتَهُمْ [آپ ﷺ خبر دارنہ کریں ان کو ] اَمْ [یا ] لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ آپ ﷺ خبردارنہ کریں ان کو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ] ۔
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو اُسی شخص کو خبردار کر سکتے ہی جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمان سے ڈرے اُسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو

اِنَّمَا تُنْذِرُ [آپ ﷺ تو خبر دار کرتے ہیں ] مَنِ [اس کو جس نے ] اتَّـبَعَ [پیروی کی ] الذِّكْرَ [اس یاد دہانی (قرآن) کی ] وَخَشِيَ الرَّحْمٰنَ [اور جو ڈرا رحمان سے ] بِالْغَيْبِ ۚ [بن دیکھے ] فَبَشِّرْهُ [تو آپ ﷺ بشا رت دیں اس کو ] بِمَغْفِرَةٍ [مغفرت کی ] وَّاَجْرٍ كَرِيْمٍ [اور باعزت اجر کی ]
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

ہم یقیناً ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں، اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے

اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ [بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں ] الْمَوْتٰى [مردوں کو ] وَنَكْتُبُ [اور ہم لکھتے ہیں ] مَا قَدَّمُوْا [جو انھوں نے آگے بھیجا ] وَاٰثَارَهُمْ ڳ [اور ان کے نقوش قدم کو ] وَكُلَّ شَيْءٍ [اور ہر چیز !] اَحْصَيْنٰهُ [ہم نے مکمل شمار کیا اس کو ] فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ [ایک واضح ریکارڈ میں ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 12 ۔ سے معلوم ہوا کہ انسان کا نامہء اعمال تین قسم کے اندراجات پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی اچھا یا برا عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دفتر میں لکھ لیا جاتا ہے۔ دوسرے اپنے گردو پیش کی اشیاء اور خود اپنے جسم کے اعضاء پر جو نقوش انسان مرتسم کرتا ہے وہ سب کے سب ثبت ہوجاتے ہیں اور یہ سارے نقوش ایک وقت اس طرح ابھر آئیں گے کہ اس کی اپنی آواز سنی جائے گی، اس کے اپنے خیالات، نیتوں اور ارادوں کی پوری داستان اس لوح ذہن پر لکھی نظر آئے گی اور اس کی تمام حرکات و سکنات کی تصویریں سامنے آجائیں گی۔ تیسرے اپنے مرنے کے بعد اپنی آئندہ نسل پر، اپنے معاشرے پر اور پوری انسانیت پر اپنے اچھے اور برے اعمال کے جو اثرات وہ چھوڑ گیا ہے، وہ جس وقت تک اور جہاں جہاں تک کارفرما رہیں گے وہ سب اس کے حساب میں لکھے جاتے رہیں گے۔ (تفہیم القرآن) اس آیت کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا بھی ثواب ملے گا اور جتنے آدمی اس طریقہ پر عمل کریں گے اس کا بھی ثواب اس کو ملے گا بغیر اس کے کہ ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا بھی گناہ ہوگا اور جتنے آدمی اس برے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے ان کا گناہ بھی اس کو ہوتا رہے گا، بغیر اس کے کہ عمل کرنے والے کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔ (معارف القرآن)
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصہ سناؤ جبکہ اُس میں رسول آئے تھے

وَاضْرِبْ لَهُمْ [اور آپ ﷺ بیان کریں ان کے لئے ] مَّثَلًا [ایک مثال ] اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ[جو اس بستی والوں کی ہے ] اِذْ جَاۗءَهَا [جب آئے اس (بستی) میں ] الْمُرْسَلُوْنَ [بھیجے ہوئے (رسول)] نوٹ۔ 1: قدیم مفسرین بالعموم اس طرف گئے ہیں کہ آیت 13 میں القریہ سے مراد شام کا شہر انطاکیہ ہے اور جن رسولوں کا ذکر ہے انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ کے لئے بھیجا تھا۔ لیکن یہ سارا قصہ عیسائیوں کی غیر مستند روایات سے اخذ کیا گیا ہے اور تاریخی حیثیت سے بالکل بےبنیاد ہے۔ (تفہیم القرآن) سہل اور بےغبار بات وہی ہے جسے مولانا تھانوی نے بیان القرآن میں اختیار فرمایا ہے کہ ان آیات کا مضمون سمجھنے کے لئے اس بستی کا تعین ضروری نہیں ہے۔ اور قرآن کریم نے اس کو مبہم رکھا ہے تو ضرورت ہی کیا ہے کہ اس کے تعین پر اتنا زور خرچ کیا جائے۔ سلف صالحین کا ارشاد ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے تم بھی اسے مبہم ہی رہنے دو ۔ (معارف القرآن)
Ayah 36:14

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے تیسرا مدد کے لیے بھیجا اور ان سب نے کہا "ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں"

اِذْ اَرْسَلْنَآ [جب ہم نے بھیجا ] اِلَيْهِمُ [ان کی طرف ] اثْــنَيْنِ [دو (رسولوں) کو ] فَكَذَّبُوْهُمَا [توانھوں نے جھٹلایا دونوں کو ] فَعَزَّزْنَا [تو ہم نے (ان کو) یقویت دی ] بِثَالِثٍ [ایک تیسرے (رسول) سے ] فَقَالُـوْٓا [تو انھوں نے کہا ] اِنَّآ اِلَيْكُمْ [کہ ہم تمہاری طرف ] مُّرْسَلُوْنَ [بھیجے ہوئے ہیں ]
Ayah 36:15

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

بستی والوں نے کہا "تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے چند انسان، اور خدائے رحمٰن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، تم محض جھوٹ بولتے ہو"

قَالُوْا [ان لو گوں نے کہا ] مَآ اَنْتُمْ [تم لوگ نہیں ہو ] اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۙ [مگر بشر ہمارے جیسے ] وَمَآ اَنْزَلَ [اور نہیں اتاری ] الرَّحْمٰنُ [رحمان نے ] مِنْ شَيْءٍ ۙ [کوئی بھی چیز ] اِنْ اَنْتُمْ [تم لوگ نہیں ہو ] اِلَّا تَكْذِبُوْنَ [سوائے اس کے کہ تم لوگ جھوٹ کہتے ہو ]
Ayah 36:16

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

رسولوں نے کہا "ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

قَالُوْا [انھوں نے کہا ] رَبُّنَا يَعْلَمُ [ہمارا رب جانتا ہے ] اِنَّآ اِلَيْكُمْ [کہ ہم تمہاری طرف ] لَمُرْسَلُوْنَ [یقینا بھیجے ہوئے ہیں ]
Ayah 36:17

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے"

وَمَا عَلَيْنَآ [اور ہم پر (کوئی ذمہ داری) نہیں ہے ] اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ [سوائے واضح طور پر پہنچا دینے کے ] ۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

بستی والے کہنے لگے "ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کر دیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے"

قَالُوْٓا [ان لوگوں نے کہا ] اِنَّا تَــطَيَّرْنَا [کہ ہم منحوس سمجھتے ہیں ] بِكُمْ ۚ [تم لوگوں کو ] لَىِٕنْ [بیشک اگر ] لَّمْ تَنْتَهُوْا [تم باز نہ آئے ] لَنَرْجُمَنَّكُمْ [تو ہم لازما سنگسار کریں گے گے تم سب کو ] وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ [اور لازما چھوئے گا تم کو ] مِّنَّا [ہم سے ] عَذَابٌ اَلِــيْمٌ [ایک دردناک عذاب ] ۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

رسولوں نے جواب دیا "تمہاری فال بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے کیا یہ باتیں تم اِس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو"

قَالُوْا [انھوں نے کہا ] طَاۗىِٕرُكُمْ [تمہاری نحوست ] مَّعَكُمْ ۭ [تمہارے ساتھ ہے ] اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْ ۭ [کیا اگر یاد دہانی کرائی جائے تم کو (تب بھی)] بَلْ اَنْتُمْ [بلکہ تم لوگ ] قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ [حد سے تجاوز کرنے والی قوم ہو ] ۔
Ayah 36:20

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اتنے میں شہر کے دُور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا "اے میری قوم کے لوگو، رسولوں کی پیروی اختیار کر لو

وَجَاۗءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ [اور آیا شیر کے زیادہ دور سے ] رَجُلٌ يَّسْعٰى [ایک شخص دوڑتا ہوا ] قَالَ يٰقَوْمِ [اس نے کہا اے میری قوم ] اتَّبِعُوا [تم لوگ پیروی کرو ] الْمُرْسَلِيْنَ [بھیجے ہوؤں کی ] ۔
Ayah 36:21

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

پیروی کرو اُن لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں

اتَّبِعُوْا مَنْ [پیروی کرو ان کی جو ] لَّا يَسْـَٔــلُكُمْ [نہیں مانگتے تم سے ] اَجْرًا [کوئی اجرت ] وَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ [اور وہ لوگ ہدایت یافتہ ہیں ]
Ayah 36:22

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

آخر کیوں نہ میں اُس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے؟

وَمَالِيَ [اور مجھے کیا ہے کہ ] لَآ اَعْبُدُ [میں بندگی نہ کروں ] الَّذِيْ [اس کی جس نے ] فَطَرَنِيْ [وجود بخشا مجھ کو ] وَاِلَيْهِ [اور اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم سب لوٹائے جاؤ گے ] ۔ ترکیب : (آیت۔ 22) مالی در اصل مالیْ ہے۔ اس کو اگر مالیْ ہی پڑھیں تو اس پر وقف آجاتا ہے اور یہ اگلی عبارت لااعبد سے منفصل ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں معنی ہوجاتے ہیں ” مجھے کیا ہے ! میں عبادت نہیں کرتا یا نہیں کروں گا۔ “ لیکن اس کو اگر لا اعبد سے متصل مانیں تو پھر اسے وقف کے بغیر پڑھنا ہوگا اور ایسی صور میں معنی ہوں گے ” مجھے کیا ہے کہ میں عبادت نہ کروں۔ “ یہ ظاہر کرنے کے لئے یہاں اس کو وقف کے بغیر پڑھنا ہے اسے مالی پڑھتے ہیں۔ آیت 23 فعل مضارع یرید حرف شرط انْ کی وجہ سے مجزوم ہوکر یردْ آیا ہے۔ اس کے آگے نون وقایہ ہے یعنی نِ در اصل ضمیر مفعولی نِیْ ہے جس کی ی گری ہوئی ہے۔ جبکہ لاتغنِ میں نون وقایہ نہیں ہے بلکہ یہ مادے کی نون ہے۔ یہ در اصل فعل مضارع لاتغنی ہے۔ جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے تو ی گرگئی ہے۔ لیکن لا ینقدون میں بھی نون وقایہ ہے ۔ یہ در اصل لا ینقدون ہے۔ جواب شرط ہونے کی وجہ سے مضارع کا نون اعرابی گرا ہوا ہے اور ضمیر مفعولی کی ی گری ہوئی ہے۔
Ayah 36:23

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اُسے چھوڑ کر دوسرے معبود بنا لوں؟ حالانکہ اگر خدائے رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ اُن کی شفاعت میرے کسی کام آ سکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکتے ہیں

ءَاَتَّخِذُ [کیا میں بناؤں ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [اس کے سوا ] اٰلِــهَةً [کچھ ایسے الٰہ ] اِنْ يُّرِدْنِ [(کہ) اگر ارادہ کرے میرے بارے میں ] الرَّحْمٰنُ [رحمان ] بِضُرٍّ [کسی تکلیف کا ] لَّا تُغْنِ عَـنِّىْ [تو کام نہ آئے گی میرے ] شَفَاعَتُهُمْ [ان کی شفاعت ] شَـيْـــًٔا [کچھ بھی ] وَّلَا يُنْقِذُوْنِ [اور نہ بچائیں گے مجھ کو ] ۔
Ayah 36:24

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

اگر میں ایسا کروں تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہو جاؤں گا

اِنِّىْٓ اِذًا [بیشک میں تب تو ] لَّفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [یقینا کھلی گمراہی میں ہوں ] ۔
Ayah 36:25

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا، تم بھی میری بات مان لو"

اِنِّىْٓ اٰمَنْتُ [بیشک میں ایمان لایا ] بِرَبِّكُمْ [تم لوگوں کے رب پر ] فَاسْمَعُوْنِ [تو تم سب سن لو مجھ سے ] ۔
Ayah 36:26

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

(آخرکار ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور) اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ "داخل ہو جا جنت میں" اُس نے کہا "کاش میری قوم کو معلوم ہوتا

قِيْلَ [اس سے کہا گیا ] ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۭ [تو داخل ہو جنت میں ] قَالَ يٰلَيْتَ [اس نے کہا اسے کاش ] قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَ [میری قوم جانتی ہوتی ] ۔ نوٹ۔ 1: آیات 26 ۔ 27 سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو قتل کردیا گیا اور شہادت نصیب ہوتے ہی اسے جنت کی بشارت دے دی گئی۔ جن لوگوں نے اسے قتل کیا تھا ان کے خلاف کوئی جذبہء انتقام اس کے دل میں نہ تھا۔ اسکے بجائے وہ اب بھی ان کی خیر خواہی کررہا تھا ۔ مرنے کے بعد اس کے دل میں اگر کوئی تمنا پیدا ہوئی تو وہ بس یہ تھی کہ کاش مری قوم میرے اس نیک انجام سے باخبر ہوجائے اور راہ راست اختیار کرلے۔ وہ شریف انسان اپنے قاتلوں کے لئے بھی جہنم نہ چاہتا تھا بلکہ یہ چاہتا تھا کہ وہ ایمان لارک جنت کے مستحق بنیں۔ اسی کی تعریف کرتے ہوئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ” اس شخص نے جیتے جی بھی اپنے قوم کی خیر خواہی کی اور مر کر بھی۔ “ (تفہیم القرآن)
Ayah 36:27

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ میرے رب نے کس چیز کی بدولت میری مغفرت فرما دی اور مجھے با عزت لوگوں میں داخل فرمایا"

بِمَا [اس کو جس سبب سے ] غَفَرَ لِيْ رَبِّيْ [بخشا مجھ کو میرے رب نے ] وَجَعَلَنِيْ [اور اس نے بنایا مجھ کو ] مِنَ الْمُكْرَمِيْنَ [عزت دئیے ہوؤں میں سے ] ۔
Ayah 36:28

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اس کے بعد اُس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی

وَمَآ اَنْزَلْنَا [اور ہم نے نہیں اتارا ] عَلٰي قَوْمِهٖ [اس کی قوم پر ] مِنْۢ بَعْدِهٖ [اس کے بعد ] مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ [کوئی بھی لشکر آسمان سے ] وَمَا كُنَّا مُنْزِلِيْنَ [اور نہ ہم اتارنے والے تھے ] ۔
Ayah 36:29

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

بس ایک دھماکہ ہوا اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے

اِنْ كَانَتْ [وہ نہیں تھی ] اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً [مگر ایک (ہی) چنگھاڑ ] فَاِذَا [تو جب ہی ] هُمْ خٰمِدُوْنَ [وہ سب بجھنے والے ہوگئے ] ۔ نوٹ۔ 2: یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہے جن سے حیات برزخ کا ثبوت ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد سے قیامت تک کا زمانہ خالص عدم اور کامل نیستی کا زمانہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض کم علم لوگ گمان کرتے ہیں، بلکہ اس زمانہ مین جسم کے بغیر روح زندہ رہتی ہے، کلام کرتی ہے اور کلام سنتی ہے، جذبات و احساسات بھی رکھتی ہے، خوشی اور غم محسوس کرتی ہے اور اہل دنیا کے ساتھ بھی اس کی دلچسپیاں باقی رہتی ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 36:30

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا اُس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے

يٰحَسْرَةً [(کہا گیا) ہائے افسوس ] عَلَي الْعِبَادِ ڱ [ان بندوں پر ] مَا يَاْتِيْهِمْ [نہیں پہنچا ان کے پاس ] مِّنْ رَّسُوْلٍ [کوئی بھی رسول ] اِلَّا [مگر ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [وہ لوگ اس سے مذاق کرتے تھے ] ۔
Ayah 36:31

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے؟

اَلَمْ يَرَوْا [کیا انھوں نے دیکھا ہی نہیں ] كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ [ہم نے کتنی ہی ہلاک کیں ان سے پہلے ] مِّنَ الْقُرُوْنِ [قوموں میں سے ] اَنَّهُمْ [کہ وہ (قومیں)] اِلَيْهِمْ [ان کی طرف ] لَا يَرْجِعُوْنَ [لوٹیں گی نہیں ]
Ayah 36:32

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے

وَاِنْ كُلٌّ [اور بیشک ہر ایک ] لَّمَّا جَمِيْعٌ [یقینا سب کے سب ] لَّدَيْنَا مُحْـضَرُوْنَ [ہمارے پاس حاضر کئے جانے والے ہیں ] ۔
Ayah 36:33

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اِن لوگوں کے لئے بے جان زمین ایک نشانی ہے ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں

وَاٰيَةٌ لَّهُمُ [اور ایک نشانی ہے ان کے لئے ] الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ [یہ مردہ زمین ] اَحْيَيْنٰهَا [ہم نے زندہ کیا اس کو ] وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا [اور ہم نے نکالا اس میں سے ] حَبًّا [دانے (اناج)] فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ [تو اس میں سے یہ لوگ کھاتے ہیں ] ۔
Ayah 36:34

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس کے اندر چشمے پھوڑ نکالے

وَجَعَلْنَا فِيْهَا [اور ہم نے بنائے اس میں ] جَنّٰتٍ [کچھ باغات ] مِّنْ نَّخِيْلٍ [جیسے کھجور کے ] وَّاَعْنَابٍ [اور انگور کے ] وَّفَجَّــرْنَا فِيْهَا [اور ہم نے جاری کئے اس میں ] مِنَ الْعُيُوْنِ [چشموں میں سے ] ۔
Ayah 36:35

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے؟

لِيَاْكُلُوْا [تاکہ یہ لوگ کھائیں ] مِنْ ثَمَرِهٖ ۙ [اس کے پھل میں سے ] وَ [حالانکہ ] مَا عَمِلَتْهُ [عمل نہیں کیا اس کا ] اَيْدِيْهِمْ ۭ [ان کے ہاتھوں نے ] اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ [تو کیا پھر (بھی) شکر نہیں کریں گے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 35 ۔ میں وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ کے جملے نے غافل انسان کو متنبہ کیا ہے کہ ذرا اپنے کام اور محنت پر غور کر کہ تیرا کام اس باغ و بہار میں اس کے سوا کیا ہے کہ تو نے زمین میں بیج ڈال دیا، اس پر پانی ڈال دیا، زمین کو نرم کردیا کہ کونپل نکلنے میں رکاوٹ نہ ہو، مگر اس بیج میں سے درخت اگان، درخت پر پتے اور شاخیں نکالنا، پھر اس پر طرح طرح کے پھل پیدا کرنا، ان سب چیزوں میں تیرا کیا دخل ہے۔ یہ تو خالص قادر مطلق کا ہی فعل ہے۔ اس لئے تیرا فرض ہے کہ ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتے وقت اس کے خالق ومالک کو فراموش نہ کرے۔ (معارف القرآن)
Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود اِن کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں سے یا اُن اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں

سُبْحٰنَ الَّذِيْ [پاکیزگی اس کی ہے جس نے ] خَلَقَ الْاَزْوَاجَ [پیدا کیا جوڑوں کو ] كُلَّهَا [ان کے ہر ایک کو ] مِمَّا [اس میں سے جو ] تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ [اگاتی ہے زمین ] وَمِنْ اَنْفُسِهِمْ [اور ان کی جانوں میں سے ] وَمِمَّا لَا يَعْلَمُوْنَ [اور اس میں سے جو یہ لوگ نہیں جانتے ]
Ayah 36:37

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اُس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو اِن پر اندھیرا چھا جاتا ہے

وَاٰيَةٌ لَّهُمُ [اور ایک نشانی ہے ان کے لئے ] الَّيْلُ ښ [رات ] نَسْلَخُ [ہم کھینچ لیتے ہیں ] مِنْهُ النَّهَارَ [اس میں سے دن کو ] فَاِذَا هُمْ [تو جب ہی وہ لوگ ] مُّظْلِمُوْنَ [اندھیرے میں ہونے والے ہیں ]
Ayah 36:38

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے

وَالشَّمْسُ [اور سورج ] تَجْرِيْ [وہ رواں ہے ] لِمُسْتَــقَرٍّ لَّهَا ۭ [اپنے ٹھہرنے کی جگہ کے لئے ] ذٰلِكَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِ [یہ علم والے بالادست کا طے شدہ امر ہے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت 38 میں مستقر سے مراد وہ جگہ بھی ہوسکتی ہے جہاں جاکر سورج کو آخر کار ٹھہرجانا ہے اور وہ وقت بھی ہوسکتا ہے جب وہ ٹھہر جائے گا۔ اس آیت کا صحیح مفہوم انسان اس وقت متعین کرسکتا ہے جب اسے کائنات کے حقائق کا ٹھیک ٹھیک علم حاصل ہوجائے۔ لیکن انسانی علم کا حال یہ ہے کہ وہ ہر زمانے میں بدلتارہا ہے۔ آج جو کچھ اسے معلوم اس کے بدل جانے کا ہر وقت امکان ہے۔ سورج کے متعلق قدیم زمانے کے لوگ عینی مشاہدے کی بنا پر یقین رکھتے تھے کہ زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ پھر مزید تحقیق کے بعد یہ نظریہ قائم کیا گیا کہ وہ اپنی جگہ ساکن ہے اور نظام شمسی کے سیارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ لیکن یہ نظریہ بھی مستقل ثابت نہیں ہوا۔ بعد کے مشاہدات سے پتہ چلا کہ نہ صرف سورج بلکہ وہ تمام تارے جن کو ثواب (FIXED STARS) کہا جاتا ہے، ایک رخ پر چلے جارہے ہیں۔ ثوابت کی رفتار کا اندازہ دس سے لے کر ایک سو میل فی سیکنڈ تک کیا گیا ہے۔ اور سورج کے متعلق موجودہ زمانہ کے ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ وہ اپنے پورے نظام شمسی کو لئے ہوئے تقریبا بارہ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔ ملاحظہ ہو انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا۔ لفظ اسٹار اور لفظ سن۔ (تفہیم القرآن) مذکورہ نظریہ حتمی ہے یا اس میں پھر کوئی تبدیلی ہوجائے گی، یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن نظریات کی تبدیلی سے اس حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس آیت میں لفظ مستقر سے ہر دور کا انسان آسانی سے سمجھ سکتا تھا اور آج بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ نظام شمسی ایک دن ختم ہونے والا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے۔
Ayah 36:39

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند، اُس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے

وَالْقَمَرَ [اور چاند ] قَدَّرْنٰهُ [ہم نے مقرر کیں اس کی ] مَنَازِلَ [منزلیں ] حَتّٰى عَادَ [یہاں تک کہ وہ پھر سے ہوجائے ] كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ [پرانی ٹہنی کی مانند ]
Ayah 36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں

لَا الشَّمْسُ [نہ سورج ہے ] يَنْۢبَغِيْ لَهَآ [(کہ) شایان شان ہو اس کے لئے ] اَنْ تُدْرِكَ [کہ وہ آن پکڑے ] الْقَمَرَ [چاند کو ] وَلَا الَّيْلُ [اور نہ رات کو ] سَابِقُ النَّهَارِ ۭ [دن کے آگے نکلنے والی ] وَكُلٌّ فِيْ فَلَكٍ [اور سب کسی مدار میں ] يَّسْبَحُوْنَ [تیرتے ہیں ]