35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا اور فرشتوں کو پیغام رساں مقرر کر نے والا ہے، (ایسے فرشتے) جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار بازو ہیں وہ اپنی مخلوق کی ساخت میں جیسا چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ [تمام شکر و سپاس اللہ کے لئے ہے ] فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [جو زمین اور آسمانوں کو وجود میں لانے والا ہے ] جَاعِلِ الْمَلٰۗىِٕكَةِ [جو فرشتوں کو بنانے والا ہے ] رُسُلًا [پیغامبر ] اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍ [جو پروں والے ہیں ] مَّثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۭ [دو دو اور تین تین اور چار چار ] يَزِيْدُ [وہ زیادہ کرتا ہے ] فِي الْخَلْقِ [پیدا کرنے میں ] مَا يَشَاۗءُ ۭ [جو وہ چاہتا ہے ] اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [بیشک اللہ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [قدرت رکھنے والا ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: ہمارے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ فرشتوں کے بازؤوں اور پروں کی کیفیت کیا ہے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے اس کیفیت کو بیان کرنے کے لئے دوسرے الفاظ کے بجائے وہ لفظ استعمال فرمایا ہے جو انسانی زبان میں پرندوں کے بازؤوں کے لئے آتا ہے تو یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ہماری زبان کا یہی لفظ اصل کیفیت سے قیرب تر ہے۔ دودو اور تین تین اور چار چار بازؤوں کے ذکر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے مختلف درجہ کی طاقتیں عطاء فرمائی ہیں اور جس سے جیسی خدمت لینی مطلوب ہوتی ہے اس کو ویسی ہی سرعت رفتار اور قوت کار سے آراستہ فرمایا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے اسے اللہ کے بعد پھر کوئی دوسرا کھولنے والا نہیں وہ زبردست اور حکیم ہے

مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ [جو کھول دے اللہ ] لِلنَّاسِ [لوگوں کے لئے ] مِنْ رَّحْمَةٍ [کسی رحمت میں سے ] فَلَا مُمْسِكَ [تو کوئی بھی روکنے والا نہیں ہے ] لَهَا ۚ [اس کو ] وَمَا يُمْسِكْ ۙ [اور جو وہ روک لے ] فَلَا مُرْسِلَ [تو کوئی بھی بھیجنے والا نہیں ہے ] لَهٗ [اس کو ] مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ [اس (روک) کے بعد ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [اور وہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [حکمت والا ہے ] ۔
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

لوگو، تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یاد رکھو کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ کوئی معبود اُس کے سوا نہیں، آخر تم کہاں سے دھوکا کھا رہے ہو؟

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [اے لوگو !] اذْكُرُوْا [تم لوگ یاد کرو ] نِعْمَتَ اللّٰهِ [اللہ کی نعمت کو ] عَلَيْكُمْ ۭ [اپنے اوپر ] هَلْ مِنْ خَالِقٍ [کیا کوئی بھی ایسا خالق ہے ] غَيْرُ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] يَرْزُقُكُمْ [جو رزق دیتا ہے تم لوگوں کو ] مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمان اور زمین سے ] لَآ اِلٰهَ [کوئی بھی الٰہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ ڮ [مگر وہ ] فَاَنّٰى [تو کہاں سے ] تُـؤْفَكُوْنَ [تم لوگ پھیرے جاتے ہو ] ۔
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اب اگر (اے نبیؐ) یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں (تو یہ کوئی نئی بات نہیں)، تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں، اور سارے معاملات آخرکار اللہ ہی کی طرف رجوع ہونے والے ہیں

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ [اور اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں آپ ﷺ کو ] فَقَدْ كُذِّبَتْ [تو جھٹلائے جا چکے ہیں ] رُسُلٌ [رسول لوگ ] مِّنْ قَبْلِكَ ۭ [آپ ﷺ سے پہلے ] وَ اِلَى اللّٰهِ [اور اللہ ہی کی طرف ] تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ [لوٹائے جائیں گے تمام معاملات ] ۔
Ayah 35:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

لوگو، اللہ کا وعدہ یقیناً برحق ہے، لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [اے لوگو !] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [یقینا اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ [برحق ہے ] فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ [تو ہرگز دھوکا نہ دے تم لوگوں کو ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۪ [دنیوی زندگی ] وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ [اور ہرگز دھوکہ نہ دے تم لوگوں کو ] بِاللّٰهِ [اللہ کے بارے میں ] الْغَرُوْرُ [وہ انتہائی دھوکے باز ] ۔
Ayah 35:6

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

در حقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو وہ تو اپنے پیروؤں کو اپنی راہ پر اس لیے بلا رہا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیں

اِنَّ الشَّيْطٰنَ [بیشک شیطان ] لَكُمْ عَدُوٌّ [تمہارے لئے دشمن ہے ] فَاتَّخِذُوْهُ [پس تم لوگ بناؤ (سمجھو) اس کو ] عَدُوًّا ۭ [دشمن (ہی)] اِنَّمَا يَدْعُوْا [وہ تو بس دعوت دیتا ہے ] حِزْبَهٗ [اپنے گروہ کو ] لِيَكُوْنُوْا [تاکہ وہ سب ہوجائیں ] مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ [آگ والوں میں سے ] ۔
Ayah 35:7

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جو لوگ کفر کریں گے اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اُن کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے

اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا [جن لوگوں نے انکار کیا ] لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ڛ [ان کے لئے ایک سخت عذاب ہے ] وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [اور جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ [ان کے لئے مغفرت ہے ] وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ [اور بڑا اجر ہے ] ۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

(بھلا کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا) جس کے لیے اُس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اُسے اچھا سمجھ رہا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے پس (اے نبیؐ) خواہ مخواہ تمہاری جان ان لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گھلے جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے

اَفَمَنْ [تو کیا وہ ] زُيِّنَ لَهٗ [سجایا گیا جس کے لئے ] سُوْۗءُ عَمَلِهٖ [اس کے عمل کی برائی کو ] فَرَاٰهُ [تو اس نے دیکھا اس کو ] حَسَـنًا ۭ [اچھا (بھلا)] فَاِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ [تو بیشک اللہ گمراہ کرتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ [اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] وَيَهْدِيْ [اور وہ ہدایت دیتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ ڮ [اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] فَلَا تَذْهَبْ [پس چاہیے کہ نہ جائے ] نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ [آپ ﷺ کی جان ان پر ] حَسَرٰتٍ ۭ [حسرتیں کرتے ہوئے ] اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ [بیشک اللہ جاننے والا ہے ] بِمَا يَصْنَعُوْنَ [اس کو جو یہ لوگ کاریگری کرتے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: میں اَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَـنًا ۭ کے بعد جواب بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ اگر اس حذف کو کھول دیجئے تو پوری بات یوں ہوگی۔ کیا وہ جس کی نگاہوں میں اس کی بد عملی کھبادی گئی ہے اور اپنی بدی کو نیکی سمجھنے لگا ہے، تم اس کو ہدایت دینے والے بن سکتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگون کا ہدایت پانا سنت الٰہی کے خلاف ہے تو ایسے لوگوں کی فکر میں اپنے کو گھلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوانے کرنا چاہیے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے، پھر وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر ہم اسے ایک اُجاڑ علاقے کی طرف لے جاتے ہیں اور اسی زمین کو جِلا اٹھاتے ہیں جو مری پڑی تھی مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا

وَاللّٰهُ الَّذِيْٓ [اور اللہ وہ ہے جو ] اَرْسَلَ الرِّيٰحَ [بھیجتا ہے ہواؤں کو ] فَتُـثِيْرُ سَحَابًا [تو وہ اٹھاتی ہیں بادل کو ] فَسُقْنٰهُ [پھر ہم ہانک دیتے ہیں اس کو ] اِلٰى بَلَدٍ مَّيِّتٍ [کسی مردہ شہر کی طرف ] فَاَحْيَيْنَا بِهِ [پھر ہم زندہ کرتے ہیں اس سے ] الْاَرْضَ [زمین کو ] بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ [اس کے مردہ ہوجانے کے بعد ] كَذٰلِكَ [اس طرح ] النُّشُوْرُ [دوبارہ زندہ ہونا ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 9 میں آفاقی صداقت کا بیان سے اس لئے اس میں افعال ماضی کا ترجمہ حال میں کیا گیا ہے۔ (دیکھیں آیات 2:49، نوٹ 2) ۔ آیت 10 میں مَنْ شرطیہ ہے اس لئے کان یرید (ماضی اسمراری) کا ترجمہ بھی حال میں ہوا ہے۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو کوئی عزت چاہتا ہو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے اُس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے، اور عمل صالح اس کو اوپر چڑھاتا ہے رہے وہ لوگ جو بیہودہ چال بازیاں کرتے ہیں، اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور اُن کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ [جو ارادہ کرتا رہتا ہے ] الْعِزَّةَ [عزت (حاصل کرنے) کا ] فَلِلّٰهِ [تو اللہ ہی کے لئے ہے ] الْعِزَّةُ جَمِيْعًا ۭ [عزت ساری کی ساری ] اِلَيْهِ يَصْعَدُ [اس کی طرف ہی چڑھتا ہے ] الْكَلِمُ الطَّيِّبُ [پاکیزہ کلام ] وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ [اور نیک عمل ] يَرْفَعُهٗ ۭ [بلند کرتا ہے اس کو ] وَالَّذِيْنَ يَمْكُرُوْنَ [اور جو لوگ خفیہ تدبیر کرتے ہیں ] السَّـيِّاٰتِ [برائیوں کی ] لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۭ [ان کے لئے ایک سخت عذاب ہے ] وَمَكْرُ اُولٰۗىِٕكَ [اور ان لوگوں کی چالبازی ] هُوَ يَبُوْرُ [وہ ہی تباہ و برباد ہوگی ] ۔ نوٹ۔ 2: جو لوگ عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ عزت تمام تر اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور اسی کے تعلق سے عزت حاصل ہوتی ہے۔ اسے حاصل کرنے کا طریقہ یہ بتایا کہ بندوں کی طرف سے اللہ کی طرف عروج کرنے والی چیز کلمہ طیب، یعنی کلمہ ایمان ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں جو خدا سے قربت کا ذریعہ بن سکے۔ اس کلمہ ایمان کو جو چیز رفعت بخشتی ہے وہ عمل صالح ہے۔ عمل صالح کے بغیر کلمہء ایمان مرجھا کے رہ جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے الکلم الطیب سے کلمہء ایمان ہی مراد لیا ہے اور یہاں اس کے پہلو پہلو عمل صالح کا ذکر خود اس بات کی شہادت ہے کہ اس سے کلمہء ایمان ہی مراد ہے۔ فلسفہء دین میں یہی کلمہ تمام علم و حکمت کی جڑ ہے۔ اور یہ حقیقت بھی مسلم ہے کہ ایمان اور عمل صالح دونوں لازم وملزوم ہیں۔ جس طرح ایمان کے بغیر عمل کی کوئی بنیاد نہیں اسی طرح عمل کے بغیر ایمان ایک بےجان شئے ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے بنا دیے (یعنی مرد اور عورت) کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ [اور اللہ نے پیدا کیا تم کو ] مِّنْ تُرَابٍ [ایک مٹی سے ] ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ [پھر ایک نطفہ سے ] ثُمَّ جَعَلَكُمْ [پھر اس نے بنایا تم کو ] اَزْوَاجًا ۭ [جوڑے جوڑے ] وَمَا تَحْمِلُ [اور نہیں اٹھاتی (حمل)] مِنْ اُنْـثٰى [کوئی بھی مؤنث ] وَلَا تَضَعُ [اور نہ وہ جنتی ہے ] [اِلَّا بِعِلْمِهٖ ۭ : مگر اس کے علم سے ] وَمَا يُعَمَّرُ [اور عمر نہیں دی جاتی ] مِنْ مُّعَمَّرٍ [کسی بھی عمر دئیے ہوئے کو ] وَّلَا يُنْقَصُ [اور نہ کمی کی جاتی ہے ] مِنْ عُمُرِهٖٓ [اس کی عمر میں سے ] اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ ۭ [سوائے اس کے کہ ایک کتاب میں (وہ لکھا) ہے ] اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ [بیشک یہ اللہ پر ] يَسِيْرٌ [آسان ہے ] ۔ نوٹ۔ 3: آیت 11 کا جو حصہ وما یعمر سے فی کتب تک ہے، اس کا مفہوم جمہور مفسرین کے نزیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو طویل عمر عطا فرماتے ہیں وہ پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اسی طرح جس کی عمر کم رکھی جاتی ہے وہ بھی لوح محفوظ مین درج ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ کلام فرد واحد کے بجائے نوع انسانی کے متعلق ہے کہ اس کے کسی فرد کو طویل عمر دی جاتی ہے اور کسی کو اس سے کم۔ امام نسائی نے اس آیت کی تفسیر میں حدیث نقل کی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت اور عمر میں زیادتی ہو اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے، بظاہر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صلہ رحمی سے عمر بڑھ جاتی ہے، مگر اس کا مطلب ایک دوسری حدیث نے خود واضح کردیا ہے کہ حضرت ابو درداء ؓ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہم نے اس (مضمون) کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (عمر تو اللہ کے نزدیک ایک ہی مقرر ہے) جب مقررہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو کسی شخص کو ذرا بھی مہلت نہیں دی جاتی، بلکہ عمر کے زیادہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد صالح عطا فرما دیتا ہے۔ وہ اس کے لئے دعا کرتی رہتی ہے۔ یہ شخص نہیں ہوتا اور ان لوگوں کی دعائیں اس کو قبر میں ملتی رہتی ہیں۔ یعنی مرنے کے بعد بھی ان کو وہ فائدہ پہنچتا رہتا ہے جو خود زندہ رہنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح گویا اس کی عمر بڑھ گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جن احادیث میں بعض اعمال کے متعلق یہ آیا ہے کہ ان سے عمر بڑھ جاتی ہے اس سے مراد عمر کی برکت کا بڑھنا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور پانی کے دونوں ذخیرے یکساں نہیں ہیں ایک میٹھا اور پیاس بجھانے والا ہے، پینے میں خوشگوار، اور دوسرا سخت کھاری کہ حلق چھیل دے مگر دونوں سے تم تر و تازہ گوشت حاصل کرتے ہو، پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو، اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اُس کا سینہ چیرتی چلی جا رہی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اُس کے شکر گزار بنو

وَمَا يَسْتَوِي [اور برابر نہیں ہوتے ] الْبَحْرٰنِ ڰ [دونوں سمندر ] ھٰذَا [یہ ] عَذْبٌ [میٹھا ہے ] فُرَاتٌ [نہایت شیریں ہے ] سَاۗىِٕــغٌ [خوشگوار ہے ] شَرَابُهٗ [اس کا پینا ] وَھٰذَا [اور یہ ] مِلْحٌ [کھاری ہے ] اُجَاجٌ ۭ [نہایت کڑوا ہے ] وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ [اور ہر ایک میں سے تم لوگ کھاتے ہو ] لَحـْـمًا طَرِيًّا [کچھ تازہ گوشت ] وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ [اور نکالتے ہو ] حِلْيَةً [ایک ایسا زیور ] تَلْبَسُوْنَهَا ۚ [تم لوگ پہنتے ہو جس کو ] وَتَرَى الْفُلْكَ [اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو ] فِيْهِ [اس میں ] مَوَاخِرَ [پانی چیر نے والیاں ہوتے ہوئے ] لِتَبْتَغُوْا [تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] مِنْ فَضْلِهٖ [اس کے فضل میں سے (روزی)] وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ [اور شاید کہ تم لوگ شکر کرو ]
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ دن کے اندر رات کو اور رات کے اندر دن کو پروتا ہوا لے آتا ہے چاند اور سورج کو اُس نے مسخر کر رکھا ہے یہ سب کچھ ایک وقت مقرر تک چلے جا رہا ہے وہی اللہ (جس کے یہ سارے کام ہیں) تمہارا رب ہے بادشاہی اسی کی ہے اُسے چھوڑ کر جن دوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پرکاہ کے مالک بھی نہیں ہیں

[يُوْلِجُ الَّيْلَ : وہ گھساتا ہے رات کو ] فِي النَّهَارِ [دن میں ] وَيُوْلِجُ النَّهَارَ [اور وہ گھساتا ہے دن کو ] فِي الَّيْلِ ۙ [رات میں ] وَسَخَّرَ [اور اس نے مسخر کیا ] الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ڮ [سورج کو اور چاند کو ] كُلٌّ يَّجْرِيْ [ہر ایک رواں دواں ہے ] لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ [خاتمے کے ایک مقررہ وقت کے لئے ] ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [یہ اللہ ] رَبُّكُمْ [تم لوگوں کا رب ہے ] لَهُ [اس کے لئے ہی ہے ] الْمُلْكُ ۭ [کل بادشاہت ] وَالَّذِيْنَ [اور وہ لوگ جن کو ] تَدْعُوْنَ [تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِهٖ [اس کے علاوہ ] مَا يَمْلِكُوْنَ [وہ اختیار نہیں رکھتے ] مِنْ قِطْمِيْرٍ [کھجور کی گٹھلی پر جھلی جتنا بھی ] ۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن نہیں سکتے اور سن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا

اِنْ تَدْعُوْهُمْ [اگر تم لوگ پکارو گے ان کو ] لَا يَسْمَعُوْا [تو وہ نہیں سنیں گے ] دُعَاۗءَكُمْ ۚ [تمہاری پکار کو ] وَلَوْ سَمِعُوْا [اور اگر سنیں گے ] مَا اسْتَجَابُوْا [تو جواب نہیں دیں گے ] لَكُمْ ۭ [تمہارے لئے ] وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ [اور قیامت کے دن ] يَكْفُرُوْنَ [وہ لوگ انکار کریں گے ] بِشِرْكِكُمْ ۭ [تمہارے شرک کا ] وَلَا يُنَبِّئُكَ [اور خبر نہیں دے گا آپ ﷺ کو (کوئی)] مِثْلُ خَبِيْرٍ [خبر رکھنے والے کی طرح ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 14 کا مطلب یہ ہے کہ یہ بت یا بعض انبیاء یا فرشتے جن کو تم مصیبت کے وقت پکاروگے تو اولا یہ تمہاری بات سن ہی نہ سکیں گے، کیونکہ بتوں میں تو سننے کی صلاحیت ہے ہی نہیں، انبیاء اور فرشتوں میں اگرچہ صلاحیت ہے مگر نہ وہ ہر جگہ موجود ہیں اور نہ ہر ایک کے کلام کو سنتے ہیں۔ آگے فرمایا کہ بالفرض وہ سن بھی لیں تو پھر بھی وہ تمہاری درخواست پوری نہ کریں گے کیونکہ ان کو خود قدرت نہیں اور اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتے۔ (معارف القرآن)
Ayah 35:15

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

لوگو، تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ [اے لوگو ! تم لوگ ہی ] الْفُقَرَاۗءُ [محتاج ہو ] اِلَى اللّٰهِ ۚ [اللہ کے ] وَاللّٰهُ [اور اللہ ] هُوَ الْغَنِيُّ [وہی بےنیاز ہے ] الْحَمِيْدُ [حمد کیا ہوا ہے ]
Ayah 35:16

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

وہ چاہے تو تمہیں ہٹا کر کوئی نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے

اِنْ يَّشَاْ [اگر وہ چاہے ] يُذْهِبْكُمْ [تو لے جائے تم لوگوں کو ] وَيَاْتِ [اور وہ لے آئے ] بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ [ایک نئی مخلوق کو ] ۔
Ayah 35:17

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ بھی دشوار نہیں

وَمَا ذٰلِكَ [اور نہیں ہے یہ ] عَلَي اللّٰهِ [اللہ پر ] بِعَزِيْزٍ [کچھ بھاری ]
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے پکارے گا تو اس کے بار کا ایک ادنیٰ حصہ بھی بٹانے کے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (اے نبیؐ) تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کر سکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے

وَلَا تَزِرُ [اور نہیں اٹھائے گی ] وَازِرَةٌ [کوئی اٹھانے والی (جان)] وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ [کسی دوسری (جان) کا بوجھ ] وَاِنْ تَدْعُ [اور اگر پکارے گی ] مُثْقَلَةٌ [کوئی بوجھل کی ہوئی (جان)] اِلٰى حِمْلِهَا [اپنے بوجھ کی طرف ] لَا يُحْمَلْ [تو نہیں اٹھایا جائے گا ] مِنْهُ [اس (بوجھ) میں سے ] شَيْءٌ [کچھ بھی ] وَّلَوْ كَانَ [اور اگرچہ وہ ہو ] ذَا قُرْبٰى ۭ [قرابت والا ] اِنَّمَا تُنْذِرُ [آپ ﷺ تو بس خبردار کرتے ہیں ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں کو جو ] يَخْشَوْنَ [ڈرتے ہیں ] رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ [اپنے رب سے بن دیکھے ] وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ [اور قائم کرتے ہیں نماز کو ] وَمَنْ تَزَكّٰى [اور جو اپنا تزکیہ کرتا ہے ] فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى [تو وہ تو بس اپنا تزکیہ کرتا ہے ] لِنَفْسِهٖ ۭ [اپنی جان (کے بھلے) کے لئے ] وَاِلَى اللّٰهِ [اور اللہ کی طرف ہی ] الْمَصِيْرُ : لوٹنا ہے ] نوٹ۔ 1: وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ میں اشارہ اقامتِ صلوٰۃ کے فائدے کی طرف ہے کہ کوئی مثقلۃ یعنی گناہوں سے بوجھل کی ہوئی جان اگر اپنے گناہوں کے بوجھ سے سبکدوش ہونا چاہتی ہے اور اپنا تزکیہ کرکے پاکیزہ ہونا چاہتی ہے تو وہ نماز کا اہتمام کرے۔ یہ چیز اس کو گناہوں سے پاک کرے گی۔ اور جس نے پاکیزگی حاصل کی وہ اپنا ہی بھلا کرے گا۔ اس لئے کہ اللہ کسی کی عبادت و اطاعت کا محتاج نہیں ہے بلکہ بندے خود ہی اس کے محتاج ہیں (تدبر قرآن)
Ayah 35:19

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے

[وَمَا يَسْتَوِي : اور برابر نہیں ہوتے ] [ الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ : اندھا اور بصارت والا ]
Ayah 35:20

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں

[ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُ : اور نہ اندھیرے اور نہ نور ]
Ayah 35:21

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

نہ ٹھنڈی چھاؤں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی ہے

[ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَــرُوْرُ : اور نہ سایہ اور نہ تیز دھوپ ]
Ayah 35:22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور مردے مساوی ہیں اللہ جسے چاہتا ہے سنواتا ہے، مگر (اے نبیؐ) تم اُن لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں

وَمَا يَسْتَوِي [اور برابر نہیں ہوتے ] الْاَحْيَاۗءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ۭ [زندہ لوگ اور نہ مردے ] اِنَّ اللّٰهَ يُسْمِعُ [بیشک اللہ سناتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ [اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ [اور آپ ﷺ سنانے والے نہیں ہیں ] مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ [ان کو جو قبروں میں ہیں ] ۔
Ayah 35:23

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تم تو بس ایک خبردار کرنے والے ہو

اِنْ اَنْتَ [آپ ﷺ نہیں ہیں ] اِلَّا نَذِيْرٌ [مگر ایک خبردار کرنے والے ] ۔ نوٹ۔ 2: یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمائی گئی ہے کہ دنیا مین کوئی امت ایسی نہیں گزری ہے جس کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے نبی مبعوث نہ فرمائے ہوں، مگر اس سلسلہ میں دو باتیں سمجھ لینی چاہئیں تاکہ کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ اول یہ کہ ایک نبی کی تبلیغ جہاں جہاں تک پہنچ سکتی ہو وہاں کے لئے وہی نبی کافی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ہر بستی اور ہر ہر قوم میں الگ الگ انبیاء بھیجے جائیں۔ دوم یہ کہ ایک نبی کی دعوت و ہدایت کے آثار اور اس کی رہنمائی کے نقوش قدم جب تک محفوظ رہیں اس وقت تک کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 35:24

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے تم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر اور کوئی امت ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو

اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ [بیشک ہم نے بھیجا آپ ﷺ کو حق کے ساتھ ] بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ۭ[بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا ] وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ [اور نہیں ہے کوئی بھی امت ] اِلَّا خَلَا فِيْهَا [مگر (یہ کہ) گزرا اس میں ] نَذِيْرٌ [کوئی خبردار کرنے والا ] ۔
Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اب اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں اُن کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل اور صحیفے اور روشن ہدایات دینے والی کتاب لے کر آئے تھے

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ [اور اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں آپ ﷺ کو ] فَقَدْ كَذَّبَ [تو جھٹلا چکے ہیں ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ [ان سے پہلے تھے ] جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ [آئے ان کے پاس ان کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ [واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] وَبِالزُّبُرِ [اور صحیفوں کے ساتھ ] وَبِالْكِتٰبِ الْمُنِيْرِ [اور روشن کتاب کے ساتھ ] ۔
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نہ مانا اُن کو میں نے پکڑ لیا اور دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِيْنَ [پھر میں نے پکڑا ان کو جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] فَكَيْفَ كَانَ [تو کیسا تھا ] نَكِيْرِ [میرا عدم عرفان ]
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ سے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں پہاڑوں میں بھی سفید، سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں

اَلَمْ تَرَ [کیا تم نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ [کہ اللہ نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۚ [آسمان سے کچھ پانی ] فَاَخْرَجْنَا بِهٖ [تو ہم نے نکالے اس سے ] ثَمَرٰتٍ [کچھ پھل ] مُّخْتَلِفًا [مختلف ہوتے ہوئے ] اَلْوَانُهَا ۭ[ان کے رنگ ] وَمِنَ الْجِبَالِ [اور پہاڑوں میں سے ] جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ [سرخ و سفید راستے ہیں ] مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا [مختلف ہیں ان کے رنگ ] وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ [اور کچھ بھجنگ کالے ہیں ]
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں بے شک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے

وَمِنَ النَّاسِ [اور لوگوں میں سے ] وَالدَّوَاۗبِّ [اور جانداروں میں سے ] وَالْاَنْعَامِ [اور مویشیوں میں سے ] مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ [مختلف ہیں ان کے رنگ ] كَذٰلِكَ ۭ [اسی طرح ہے ] اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ڈرتے ہیں اللہ سے ] مِنْ عِبَادِهِ [اس کے بندوں میں سے ] الْعُلَمٰۗؤُا ۭ[علم والے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] عَزِيْزٌ [بالادست ہے ] غَفُوْرٌ [بے انتہا بخشنے والا ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 28 میں علماء سے مراد کسی دینی ادارے یا یونیورسٹی کے سند یافتہ عالم دین نہیں ہیں۔ یہاں پر یہ لفظ ہر اس شخص کے لئے آیا ہے جو محض ظاہر پرست نہیں ہوتا بلکہ ظاہر سے باطن اور مجاز سے حقیقت تک پہنچنے کی انسانی صلاحیت کو اتعمال کرتا ہے۔ اور اس دنیا کے نظام پر غور وفکر کرکے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلیتا ہے۔ اس نے گویا علم کی جڑ پکڑلی۔ یہ علم انسان میں اللہ کی خشیت پیدا کرتا ہے۔ یہی معرفت اور خشیت انسان کے تمام علوم و افکار مین حقیقی زندگی پیدا کرتی ہے، جن سے علوم وفنون دنیا کے لئے موجب خیرو برکت بنتے ہیں۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو انسان کی ساری ذہانت شیطان کی مقصد براری میں صرف ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن سے ماخوذ)
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا

اِنَّ الَّذِيْنَ [بیشک جو لوگ ] يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ [تلاوٹ کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی ] وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ [اور قائم کرتے ہیں نماز ] وَاَنْفَقُوْا [اور خرچ کرتے ہیں ] مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ [اس میں سے جو ہم نے عطا کیا ان کو ] سِرًّا وَّعَلَانِيَةً [چھپاتے ہوئے اور علانیہ ] يَّرْجُوْنَ [وہ لوگ امید کرتے ہیں ] تِجَارَةً [ایک ایسی تجارت کو جو ] لَّنْ تَـبُوْرَ [ہرگز برباد نہیں ہوگی ] ۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

(اس تجارت میں انہوں نے اپنا سب کچھ اِس لیے کھپایا ہے) تاکہ اللہ اُن کے اجر پورے کے پورے اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائے بے شک اللہ بخشنے والا اور قدردان ہے

لِيُوَفِّيَهُمْ [نتیجتاً وہ پورا پورا دے گا ان کو ] اُجُوْرَهُمْ [ان کے اجر ] وَيَزِيْدَهُمْ [اور زیادہ دوں گا ان کو ] مِّنْ فَضْلِهٖ ۭ [اپنے فضل سے ] اِنَّهٗ غَفُوْرٌ [یقینا وہ بےانتہاء بخشنے والا ہے ] شَكُوْرٌ [انتہائی قدردان ہے ] ۔
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

(اے نبیؐ) جو کتاب ہم نے تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے اُن کتابوں کی جو اِس سے پہلے آئی تھیں بے شک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے

وَالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ [اور وہ جو ہم نے وحی کیا آپ ﷺ کی طرف ] مِنَ الْكِتٰبِ [کتاب میں سے ] [هُوَ الْحَــقُّ : وہ حق ہے ] مُصَدِّقًا [تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے ] لِّمَا [اس کی جو ] بَيْنَ يَدَيْهِ ۭ [اس سے پہلے ہے ] اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ [بیشک اللہ اپنے بندوں سے ] لَخَبِيْرٌۢ [یقینا باخبر ہے ] بَصِيْرٌ [دیکھنے والا ہے ] ۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چن لیا اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے

ثُمَّ اَوْرَثْنَا [پھر ہم نے وارث بنایا ] الْكِتٰبَ [کتاب کا ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں کو جنہیں ] اصْطَفَيْنَا [ہم نے چن کیا ] مِنْ عِبَادِنَا ۚ [اپنے بندوں میں سے ] فَمِنْهُمْ [تو ان میں سے ] ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ [کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنی جان پر ] وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ [اور ان میں سے کوئی میانہ رو ہے ] وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ [اور ان میں سے کوئی سبقت کرنے والا ہے ] بِالْخَــيْرٰتِ [بھلائی پر ] بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کی اجازت سے ] ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ [یہ ہی بڑا فضل ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: کتاب کا وارث بنائے جانے والوں سے مراد مسلمان ہیں۔ اگرچہ یہ کتاب پیش تو کی گئی ہے سارنے انسانوں کے سامنے مگر جنھوں نے آگے بڑھ کر اسے قبول کرلیا وہی اس شرف کے لئے منتخب کرلیے گے کہ قرآن کے وارث بنیں۔ یہ مسلمان سب ایک ہی طرح کے نہیں ہیں بلکہ تین طبقوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ اولا اپنے نفس پر ظلم کرنے والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآکو اللہ کی کتاب اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول تو مانتے ہیں مگر کتاب اور سنت رسول ﷺ کی پیروی کا حق ادا نہیں کرت۔ مومن ہیں مگر گناہ گار اور مجرم ہیں مگر باغی نہیں ہیں۔ اسی لئے ان کا ظالم لنفسہٖ ہونے کے باوجود وارثین کتاب میں داخل اور خدا کے چنے ہوئے بندوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ثانیا میانہ رہ لوگ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس وراثت کا حق کم وبیش ادا تو کرتے ہیں مگر پوری طرح نہیں کرتے۔ ان کی زندگی اچھے اور برے دونوں طرح کے اعمال کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ثالثا نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔ یہ لوگ اس وراثت کا حق ادا کرتے ہیں۔ یہ لوگ اتباع کتاب وسنت میں اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے میں اور بھلائی کے ہر کام میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ مفسرین کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ امت کے یہ تینوں گروہ بالآخر جنت میں داخل ہوں گے خواہ محاسبہ کے بغیر یا محاسبہ کے بعد یا کوئی سزاپانے کے بعد۔ اس کی تائید نبی ﷺ کی ایک حدیث سے ہوتی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ نیکیوں میں سبقت لے گئے وہ جنت کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے اور جو میانہ رہ ہیں ان کا محاسبہ ہوگا مگر ہلکا محاسبہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا وہ محشر کے پورے عرصہ میں روکے رکھے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت میں لے لے اور یہی لوگ ہیں جو کہین گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کردیا۔ اس حدیث میں رسول اللہ نے اس آیت کی تفسیر خود بیان فرمادی ہے۔ محشر کے پورے عرصہ میں روکے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے بلکہ ان کو ” تابرخاستِ عدالت “ کی سزا دی جائے گی اور روز محشر کی پوری طویل مدت ان پر اپنی ساری سختیوں کے ساتھ گزر جائے گی۔۔ تفہیم القرآن) اس سلسلہ میں میرا ذہن جس بات کی طرف منتقل ہوتا ہے وہ جمہور مفسرین کی رائے سے مختلف ہے۔ لیکن مری رائے ایک ایسے فرد واحد کی رائے ہے جس کی مفسرین کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس لئے پہلے ان کی رائے نقل کردی ہے تاکہ امانت ادا ہوجائے، ویسے میری رائے یہ بنتی ہے کہ اس امت میں سے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن وحدیث کا علم ھاصل کرنے کی توفیق عطا کردی ان کو گویا اس نے کتاب کا وارث بنانے کے لئے چن لیا۔ پھر اس علم کے عالم لوگ تین طبقات میں تقسیم ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی زندگی میں اعمال صالحہ اور اتباع سنت کی تو کمی نہیں ہوتی لیکن ان لوگوں کو علم ہیضہ ہوجاتا ہے اور وہ مناظرہ، بحث و مباحثہ وغیرہ میں الجھ کر اپنے علم کو اپنی اَنا کی تسکین کا ذریعہ بنالیتے ہیں اور ان کا علم نافع نہیں رہتا۔ یہ لوگ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے طبقہ میں آتے ہیں۔ ان کے اعمال صالحہ اور اتباع سنت ان کو دوزخ میں جانے سے روک دیں گے اور علم کو نفع بخش نہ بنانے کی غلطی کی سزا کے طور پر تابرخاست عدالت ان کو عرصہء محشر میں روک لیا جائے گا۔ کچھ لوگ اپنے نفس کو قابو میں رکھتے اور اپنے علم کو مونچھ کا بال نہیں بناتے لیکن کبھی ان کا نفس ان پر حاوی ہوجاتا ہے۔ اپنے علم کو لوگوں کے لئے نفع بخش بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں ٹھوکریں بھی کھاتے ہیں، سنبھلتے بھی ہیں۔ یہ مقتصد لوگ ہیں، جن کا محاسبہ ہوگا مگر ہلکا سا۔ اور الحمد للہ اس امت میں ایسے علماء کرام پہلے بھی بہت تھے اور آج بھی ہیں۔ جن کو زندگی میں اعمال صالحہ اور اتباع سنت کا بھی اہتمام ہوتا ہے اور وہ پورے خلوص سے اپنے علم کو لوگوں کے لئے نفع بخش بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کام کے لئے اپنی زندگی وقت کردیتے ہیں۔ یہ لوگ سابق بالخیرات ہیں اور جنت مین کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے۔
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا

جَنّٰتُ عَدْنٍ [(ان کے لئے) عدن کے باغات ہیں ] يَّدْخُلُوْنَهَا [وہ لوگ داخل ہوں گے ان میں ] [يُحَلَّوْنَ فِيْهَا : ان کو آراستہ کیا جائے گا ] [مِنْ اَسَاوِرَ [کچھ ایسے کنگنوں سے جو ] مِنْ ذَهَبٍ [سونے کے ہوں گے ] وَّلُــؤْلُــؤًا ۚ [اور موتی سے ] وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا [اور ان کا لباس ان میں ] حَرِيْرٌ [باریک ریشم ہے ] ۔
Ayah 35:34

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کر دیا، یقیناً ہمارا رب معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے

وَقَالُوا [اور کہیں گے ] الْحـَمْدُ [تمام شکرو سپاس ] لِلّٰهِ الَّذِيْٓ [اس اللہ کے لئے ہے جو ] اَذْهَبَ عَنَّا [لے گیا ہم سے ] الْحَزَنَ ۭ [سارے غم ] اِنَّ رَبَّنَا [بیشک ہمارا رب ] لَغَفُوْرٌ [یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] شَكُوْرُۨ [انتہائی قدر دان ہے ] ۔
Ayah 35:35

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھیرا دیا، اب یہاں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے

الَّذِيْٓ اَحَلَّنَا [جس نے اتارا ہم کو ] دَارَ الْمُقَامَةِ [ٹھہرائے جانے کے گھر میں ] مِنْ فَضْلِهٖ ۚ [اپنے فضل سے ] لَا يَمَسُّنَا فِيْهَا [نہیں چھوئے گی ہم کو اس میں ] نَصَبٌ [کوئی مشقت ] وَّلَا يَمَسُّنَا فِيْهَا [اور نہیں چھوئے گی ہم کو اس میں ] لُغُوْبٌ (35) [کوئی تھکان ] ۔ ل غ ب (ف۔ ک) لغوبا بہت تھکنا۔ لغوب اسم ذات بھی ہے۔ تھکاوٹ۔ درماندگی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 35 ۔
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اُن کے لیے جہنم کی آگ ہے نہ اُن کا قصہ پاک کر دیا جائے گا کہ مر جائیں اور نہ اُن کے لیے جہنم کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی اِس طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر اُس شخص کو جو کفر کرنے والا ہو

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ] لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ ۚ [ان کے لئے جہنم کی آگ ہے ] لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ [کام تمام نہیں کیا جائے گا ان کا ] فَيَمُوْتُوْا [کہ وہ مر ہی جائیں ] وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ [اور تخفیف نہیں کی جائے گی ان سے ] مِّنْ عَذَابِهَا ۭ [اس (آگ) کے عذاب میں سے ] كَذٰلِكَ نَجْزِيْ [اس طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ] كُلَّ كَفُوْرٍ [ہر ایک ناشکرے کو ] ۔
Ayah 35:37

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں اُن اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے" (انہیں جواب دیا جائے گا) "کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتاتھا؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آ چکا تھا اب مزا چکھو ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے"

وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا ۚ [اور وہ لوگ چلائیں گے اس میں ] رَبَّنَآ [اے ہمارے رب ] اَخْرِجْنَا [تو نکال ہم کو ] نَعْمَلْ صَالِحًا [تو ہم عمل کریں گے نیک ] غَيْرَ الَّذِيْ [اس کے علاوہ وہ جو ] كُنَّا نَعْمَلُ ۭ [ہم عمل کیا کرتے تھے ] اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [اور کیا ہم نے عمر نہیں دی تم لوگوں کو ] مَّا [اتنا عرصہ ] يَتَذَكَّرُ فِيْهِ [یاد دہانی حاصل کرتا جس میں ] مَنْ [وہ جو ] تَذَكَّرَ [یاد دہانی حاصل کرنا چاہے ] وَجَاۗءَكُمُ [اور آیا تمہارے پاس ] النَّذِيْرُ ۭ [خبردار کرنے والا ] فَذُوْقُوْا [تو (اب) چکھو ] فَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ [پس نہیں ہے ظالموں کے لئے ] مِنْ نَّصِيْرٍ [کوئی بھی مددگار ] نوٹ۔ 1: آیت 37 میں جس مہلت ِ عمر کی بات ہے اس سے مراد عمر بلوغ اور اس سے آگے کی عمر ہے۔ جس شخص کو عمر بلوغ ملی اس کو قدرت نے اتنا سامان دے دیا کہ حق و باطل میں تمیز کرسکے۔ جس نے نہیں کیا وہ عذاب کا مستحق ہے۔ جس کو جتنی زیادہ عمر ملی اس پر اللہ تعالیٰ کی اتنی زیادہ حجت پوری ہوئی اور وہ اتنا ہی زیادہ مستحق عذاب ہوا۔ آگے فرمایا وجاء کم النذیر۔ اس میں اشارہ ہے کہ اپنے خالق ومالک کو پہچاننے اور ماننے کے لئے خود انسانی عقل کافی تھی مگر اللہ نے صرف اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اس عقل کی امداد کے لئے نذیر بھی بھیجے۔ معروف معنی کے اعتبار سے اس سے مراد انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائب علماء ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ انسان کو بالغ ہونے کے بعد سے جتنے حالات پیش آتے ہیں، اس کے اپنے وجود اور گردو پیش میں جو تغیرات اور انقلاب آتے ہیں وہ سب ہی اللہ تعالیٰ کی طرف نذیر اور انسان کو متنبہ کرنے والے ہیں۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے، وہ تو سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [زمین اور آسمانوں کے غیب کا جاننے والا ہے ] اِنَّهٗ عَلِـيْمٌۢ [بیشک وہ جاننے والا ہے ] بِذَاتِ الصُّدُوْرِ [سینوں والی (بات) کو ] ۔
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اُسی پر ہے، اور کافروں کو اُن کا کفر اِس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رب کا غضب اُن پر زیادہ سے زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں

هُوَ الَّذِيْ [وہ، وہ ہے جس نے ] جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ [بنایا تم کو خلیفہ ] فِي الْاَرْضِ ۭ [زمین میں ] فَمَنْ كَفَرَ [تو جس نے کفر کیا ] فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ ۭ [تو اس پر ہے اس کا کفر ] وَلَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ [اور زیادہ نہیں کرتا کافروں کو ] كُفْرُهُمْ [ان کا کفر ] عِنْدَ رَبِّهِمْ [ان کے رب کے پاس ] اِلَّا مَقْتًا ۚ [سوائے بیزاری کے ] وَلَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ [اور زیادہ نہیں کرتا کافروں کو ] كُفْرُهُمْ [ان کا کفر ] اِلَّا خَسَارًا [سوائے خسارے کے ]
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

(اے نبیؐ) ان سے کہو، "کبھی تم نے دیکھا بھی ہے اپنے اُن شریکوں کو جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو؟ مجھے بتاؤ، انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے؟ یا آسمانوں میں ان کی کیا شرکت ہے "؟ (اگر یہ نہیں بتا سکتے تو ان سے پوچھو) کیا ہم نے انہیں کوئی تحریر لکھ کر دی ہے جس کی بنا پر یہ (اپنے اس شرک کے لیے) کوئی صاف سند رکھتے ہوں؟ نہیں، بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دیے جا رہے ہیں

قُلْ اَرَءَيْتُمْ [آپ ﷺ کہیے کیا تم لوگوں نے غور کیا ] شُرَكَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ [اپنے ان شریکوں پر جن کو ] تَدْعُوْنَ [تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کے علاوہ ] اَرُوْنِيْ [تم لوگ دکھاؤ مجھ کو ] مَاذَا خَلَقُوْا [کیا انھوں نے تخلیق کیا ] مِنَ الْاَرْضِ [زمین میں سے ] اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ [یا ان کے لئے کوئی شراکت ہے ] فِي السَّمٰوٰتِ ۚ [آسمانوں میں ] اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا [یا ہم نے دی ان کو کوئی کتاب ] فَهُمْ عَلٰي بَيِّنَةٍ [تو وہ کسی دلیل پر ہیں ] مِّنْهُ ۚ [اس (کتاب) میں سے ] بَلْ اِنْ يَّعِدُ [بلکہ وعدہ نہیں کرتے ] الظّٰلِمُوْنَ [ظالم لوگ ] بَعْضُهُمْ بَعْضًا [ان کا کوئی کسی سے ] اِلَّا غُرُوْرًا [سوائے فریبوں کے ] ۔