34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

حمد اُس خدا کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے وہ دانا اور باخبر ہے

اَلْحَمْدُ [تمام شکرو سپاس ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [اس اللہ کے لئے ہے ] لَهٗ [جس کے لئے ہی ہے ] مَا فِي السَّمٰوٰتِ [وہ جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ [اور جو زمین میں ہے ] وَلَهُ الْحَمْدُ [اور اس کے لئے ہی تمام شکر و سپاس ہے ] فِي الْاٰخِرَةِ ۭ [آخرت میں (بھی)] وَهُوَ [اور وہ ہی ] الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ [حکمت والا ہے باخبر ہے ] ۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے، ہر چیز کو وہ جانتا ہے، وہ رحیم اور غفور ہے

يَعْلَمُ [وہ جانتا ہے ] مَا يَـلِجُ [اس کو جو گھستا ہے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] وَمَا يَخْرُجُ [اور اس کو جو نکلتا ہے ] مِنْهَا [اس میں سے ] وَمَا يَنْزِلُ [اور اس کو جو اترتا ہے ] مِنَ السَّمَاۗءِ [آسمان سے ] وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ [اور اس کو جو چڑھتا ہے اس میں ] وَهُوَ الرَّحِيْمُ [اور وہ ہی رحم کرنے والا ہے ] الْغَفُوْرُ [بے انتہا بخشنے والا ہے ]
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

منکرین کہتے ہیں کہ کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آ رہی ہے! کہو، قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی، وہ تم پر آ کر رہے گی اُس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے نہ زمین میں نہ ذرے سے بڑی اور نہ اُس سے چھوٹی، سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے

وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] لَا تَاْتِيْنَا [نہیں آئے گی ہمارے پاس ] السَّاعَةُ ۭ [وہ گھڑی (قیامت)] قُلْ بَلٰى [آپ ﷺ کہیے کیوں نہیں ] وَرَبِّيْ [میرے اس رب کی قسم ] لَتَاْتِيَنَّكُمْ ۙ [وہ لازما آگی تم لوگوں کے پاس ] عٰلِمِ الْغَيْبِ ۚ [جوعالم الغیب ہے ] لَا يَعْزُبُ [پوشیدہ نہیں ہوتی ] عَنْهُ [اس سے ] مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ [کسی ذرہ کے ہم وزن (چیز)] فِي السَّمٰوٰتِ [آسمانوں میں ] وَلَا فِي الْاَرْضِ [اور نہ زمین میں ] وَلَآ اَصْغَرُ [اور نہ زیادہ چھوٹی (چیز)] مِنْ ذٰلِكَ [اس سے ] وَلَآ اَكْبَرُ [اور نہ زیادہ بڑی ] اِلَّا [مگر (یہ کہ)] فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ [(وہ سب) ایک واضح کتاب میں ہیں ] ۔
Ayah 34:4

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

اور یہ قیامت اس لئے آئے گی کہ جزا دے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم

لِّيَجْزِيَ [تاکہ وہ بدلہ دے ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ان لوگوں کو جو ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ [اور عمل کئے نیکیوں کے ] اُولٰۗىِٕكَ [یہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ہے ] مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ [مغفرت اور با عزت روزی ] ۔
Ayah 34:5

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے

وَالَّذِيْنَ سَعَوْ [اور جن لوگوں نے بھاگ دوڑ کی ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا [ہماری آیات (احکام) میں ] مُعٰجِزِيْنَ [(ان کو) عاجز کرنے والے ہوتے ہوئے ] اُولٰۗىِٕكَ [یہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ہے ] عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِــيْمٌ [گندگی میں سے ایک دردناک عذاب ] نوٹ۔ 1: آیت 5 سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کافر تو ہو مگر دین حق کے مقابلے میں عناد و مخالفت کی روش بھی اختیار نہ کرے، وہ عذاب سے تو نہ بچے گا مگر بد ترین عذاب اس کے لئے نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اے نبیؐ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے

وَيَرَى [اور دیکھتے ہیں ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جن کو ] اُوْتُوا [دیا گیا ] الْعِلْمَ [علم ] الَّذِيْٓ [اس کا جو ] اُنْزِلَ اِلَيْكَ [اتارا گیا آپ ﷺ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ [آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] هُوَ الْحَقَّ ۙ [(وہ پاتے ہیں اس کو ہی) کل حق ] وَيَهْدِيْٓ [اور وہ رہنمائی کرتا ہے ] اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ [حمد کئے ہوئے بالادست کے راستے کی طرف ] ۔ ترکیب : آیت 6 ۔ یری کا فاعل الذین اوتوا العلم ہے جبکہ الذی انزل الیک اس کا مفعول اول ہے اور ھو الحق اس کا مفعول ثانی ہے۔ اگر یہ خبر ہوتا تو الحق آتا۔ اس کی نصب بتارہی ہے کہ یہ یری کا مفعول ہے۔ اس پر لام جنس ہے اور ھو ضمیر فاصل ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت 6 میں الذین اوتوالعلم میں اہل کتاب بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے نبیوں اور صحیفوں کے علم کو محفوظ رکھا اور وہ اہل عرب بھی شامل ہیں جو بت پرستی عام ہوجانے کے باوجود اس سے کنارہ کش رہے اور دین ابراہیمی پر قائم رہے، جن کو حنفاء کہا جاتا تھا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 34:7

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

منکرین لوگوں سے کہتے ہیں "ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہو چکا ہو گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دیے جاؤ گے؟

وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور کہا ان لوگں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] هَلْ نَدُلُّكُمْ [کیا ہم رہنمائی کریں تو لوگوں کی ] عَلٰي رَجُلٍ [ایک ایسے شخص پر جو ] يُّنَبِّئُكُمْ [خبر دیتا ہے تم لوگوں کو ] اِذَا مُزِّقْتُمْ [(کہ) جب بکھیر دئیے جاؤ گے تم لوگ ] كُلَّ مُمَزَّقٍ ۙ [بالکل ریزہ ریزہ کئے ہوئے ] اِنَّكُمْ [تو بیشک تم لوگ ] لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ [ضرور ایک نئی مخلوق میں (زندہ) ہوگے ] ۔ م ز ق (ن۔ ض) مزقا کسی چیز کو پھاڑ دینا۔ (تفعیل) تمزیقا ریزہ ریزہ کرکے بکھیر دینا۔ پراگندہ کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 7 ۔ ممزق اسم المفعول ہے۔ بکھیرا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 7 ۔ آیت 7 ۔ کل کی نصب کی وجہ سے کل ممزق کو مزقتم کا مفعول مطلق مانا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں ممزق مصدر ہوگا اور ترجمہ اس لحاظ سے ہوگا ۔ قاعدہ یہ ہے کہ ابواب مزید فیہ کے اسم المفعول ظرف کے طور پر بھی آتے ہیں اور مصدر میمی کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کل کی نصب حال ہونے کی وجہ سے بھی مانی جاسکتی ہے۔ ایسی صورت میں ممزق اسم المفعول ہی رہے گا اور ترجمہ اس لحاظ سے ہوگا۔ ہم دوسری صورت کو ترجیح دیں گے۔
Ayah 34:8

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے ہے یا اسے جنون لاحق ہے" نہیں، بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور و ہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں

اَفْتَرٰى [کیا اس نے گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [اللہ پر ] كَذِبًا [کوئی جھوٹ ] اَمْ بِهٖ [یا اس کے ساتھ ] جِنَّةٌ ۭ [کوئی جنون ہے ] بَلِ الَّذِيْنَ [بلکہ وہ لوگ جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ایمان نہیں لاتے ] بِالْاٰخِرَةِ [آخرت پر ] فِي الْعَذَابِ [عذاب میں ] وَالضَّلٰلِ الْبَعِيْدِ [اور دور والی گمراہی میں ہیں ] ۔ آیت 8 ۔ افتری میں ہمزہ استفہام کا ہے اور ہمزہ الوصل لکھنے میں بھی گرگیا ہے، یعنی یہ در اصل ا افتری ہے۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟ ہم چاہیں تو اِنہیں زمین میں دھسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے اِن پر گرا دیں در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو

اَفَلَمْ يَرَوْا [تو کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا ] اِلٰى مَا [اس کی طرف جو ] بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ [ان کے سامنے ہے ] وَمَا خَلْفَهُمْ [اور جو ان کے پیچھے ہے ] مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمان اور زمین سے ] اِنْ نَّشَاْ [اگر ہم چاہتے ] نَخْسِفْ بِهِمُ [تو ہم دھنسا دیتے ان کو ] الْاَرْضَ [زمین میں ] اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ [یا ہم گرا دیتے ان پر ] كِسَفًا [کوئی ٹکڑا ] مِّنَ السَّمَاۗءِ ۭ [آسمان سے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيَةً [یقینا ایک نشانی ہے ] لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ [ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے ] ۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا [اور بیشک ہم دے چکے ] دَاوٗدَ [داؤد علیہ سلام کو ] مِنَّا [اپنے پاس سے ] فَضْلًا ۭ [ایک فضیلت ] يٰجِبَالُ [اے پہاڑو ] اَوِّبِيْ [ہمنوائی کرو ] مَعَهٗ [ان (علیہ السلام) کے ساتھ ] وَالطَّيْرَ ۚ [اور (ہم نے یہی حکم دیا) پرندوں کو ] وَاَلَنَّا [اور ہم نے نرم کیا ] لَهُ [ان (علیہ السلام) کے لئے ] الْحَدِيْدَ [لوہے کو ] ۔ ترکیب : آیت 10 ۔ الطیر اگر الطیر ہوتا تو اس کو یجبال پر عطف مانا جاسکتا تھا لیکن اس پر نصب ہونے کی وجہ سے اس سے پہلے کوئی فعل محذوف مانن ہوگا جو کہ کذالک امرنا یا حکمنا ہوسکتا ہے۔ الطیرَ پر لام جنس ہے اس لئے اس کا ترجمہ جمع میں ہوگا۔ النا دراصل الیننا (مادہ ل ی ن۔ باب افعال) تھا۔ قاعدے کے مطابق یا گرگئی اور نون کا ادغام ہوگیا تو النا استعمال ہوا۔ نوٹ۔ 1: حضرت داؤد کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوہے کے استعمال کا فن تعلیم فرمایا جس سے انہوں اپنی برری قوت میں اضافہ کیا۔ اسی طرح حضرت سلیمان کو ہوا کے کنٹرول کرنے کا فن عطا فرمایا جس سے انہوں اپنے بحری بیڑے کو اس قدر ترقی دی کہ ان کے بحری جہاز مہینوں کا سفر بےروک ٹوک جاری تکھتے۔ (تدبر قرآن) ۔ بائبل اور جدید تاریخ تحقیقات سے اس پر جو روشنی پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمٰن نے اپنے دور حکومت میں بڑے پیمانے پر بحری تجارت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ایک طرف عصیون جابر سے ان کے تجارتی جہاز بحر احمر میں یمن اور دوسرے ممالک کی طرف جاتے تھے اور دوسری طرف بحرم روم کی بندرگاہوں سے ان کا بیڑہ (جسے بائبل میں ترسیسی بیڑہ کہا گیا ہے) مغربی ممالک کی طرف جایا کتا تھا۔ (تفہیم القرآن ج 3 ص 176)
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ (اے آل داؤدؑ) نیک عمل کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اُس کو میں دیکھ رہا ہوں

اَنِ اعْمَلْ [کہ آپ (علیہ السلام) عمل کریں (یعنی بتائیں)] سٰبِغٰتٍ [زر ہیں ] وَّقَدِّرْ [اور آپ (علیہ السلام) اندازے مقرر کریں ] فِي السَّرْدِ [کڑیاں بنانے میں ] وَاعْمَلُوْا [اور تم سب عمل کرو ] صَالِحًا ۭ [نیک ] اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ [بیشک میں اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ] بَصِيْرٌ [دیکھنے والا ہوں ] ۔ س ر د (ن۔ ض) سردا کسی سخت چیز کو سینا۔ چمڑا سینا۔ لوہے کی کڑیاں جوڑنا ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 11 ۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کر دیا، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور ایسے جن اس کے تابع کر دیے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے

وَلِسُلَيْمٰنَ [اور (ہم نے مسخر کیا) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ] الرِّيْحَ [ہوا کو ] غُدُوُّهَا [اس کا صبح کو چلنا ] شَهْرٌ [ایک مہینہ تھا ] وَّ رَوَاحُهَا [اور اس کا شام کو واپس ہونا ] شَهْرٌ ۚ [ایک مہینہ تھا ] وَاَسَلْنَا [اور ہم نے پگھلایا ] لَهٗ [ان (علیہ السلام) کے لئے ] عَيْنَ الْقِطْرِ ۭ [تانبے کے چشمے کو ] وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ [اور جنوں میں سے وہ بھی تھے جو ] يَّعْمَلُ [عمل کرتے تھے ] بَيْنَ يَدَيْهِ [ان کے سامنے ] بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۭ [ان (علیہ السلام) کے رب کی اجازت سے ] وَمَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ [اور جو پھرتا ان میں سے ] عَنْ اَمْرِنَا [ہمارے حکم سے ] نُذِقْهُ [تو ہم چکھا دیتے اس کو ] مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ [بھڑکتی آگ کے عذاب میں سے ] ۔ آیت 12 ۔ الریحَ کی نصب بتارہی ہے کہ اس سے پہلے فعل سخرنا محذوف ہے۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں، تصویریں، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں اے آلِ داؤدؑ، عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں

يَعْمَلُوْنَ [وہ سب عمل کرتے تھے ] لَهٗ [ان (علیہ السلام) کے لئے ] مَا يَشَاۗءُ [جو وہ چاہتے ] مِنْ مَّحَارِيْبَ [جیسے محرابیں ] وَتَمَاثِيْلَ [اور مجسمے ] وَجِفَانٍ [اور طشت ] كَالْجَــوَابِ [تالاب کی مانند ] وَقُدُوْرٍ [اور دیگیں ] رّٰسِيٰتٍ ۭ [جمی ہوئی (اپنی جگہ پر)] اِعْمَلُوْٓا [عمل کرو ] اٰلَ دَاوٗدَ [اے داود (علیہ السلام) کے پیروکار ] شُكْرًا ۭ [شکر گزاری کا ] وَقَلِيْلٌ [اور تھوڑے ہیں ] مِّنْ عِبَادِيَ [میرے بندوں میں سے ] الشَّكُوْرُ [شکر کرنے والے ] ۔ جن (ن) جفنا بڑے بڑے پیالوں میں کھلانا۔ جفنۃ ج جفان۔ بڑا پیالہ۔ لگن۔ طشت۔ (زیر مطالعہ آیت۔ 13) آیت 13 ۔ مادہ ج و ب سے لفظ جواب بنتا ہے جو اردو میں عام مستعمل ہے اور قرآن مجید میں بھی چار جگہ وماکان جواب قومہٖ کے الفاظ کے ساتھ آیا ہے۔ لیکن اس آیت میں کالجواب وہ لفظ جواب نہیں ہے بلکہ جوابٍ ہے۔ مادہ ج ب ی سے اسم الفاعل جابیۃ آتا ہے۔ اس کی جمع اصلا تو جوابی ہے جوا قاعدہ کے مطابق تبدیل ہوکر حالت رفع اور حالت جر دونوں میں جوابٍ آتی ہے۔ جواب اور جوابٍ میں تمیر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسی آیت میں کالجوابِ کو جوابٌ مان کر ترجمہ کریں تو معنی نہیں بنیں گے جوابٍ مان کر ترجمہ کریں تو مفہوم واحض ہوجائے گا۔ یہ بھی نوٹ کرلیں کہ جوابٍ قرآن مجید میں صرف ایک مرتبہ اسی آیت میں آیا ہے۔ نوٹ۔ 2: آیت 13 میں لفظ تماثیل استعمال ہوا ہے، جو تمثال کی جمع ہے۔ تمثال عربی مین ہر اس چیز کو کہتے جو کسی قدرتی شئے کے مشابہ بنائی جائے قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی انسان یا حیوان، کوئی درخت ہو یا پھول یا دریا یا کوئی دوسری بےجان چیز ۔ اس لئے قرآن مجید کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت سلیمٰن کے لئے جو تماثیل بنائی جاتی تھیں وہ ضرور انسانوں اور حیوانون کی تصاویر یا ان کے مجسمے ہی ہوں، ہوسکتا ہے کہ وہ پھول پتیاں، قدرتی مناظر اور مختلف قسم کے نقش ونگار ہوں جن سے حضرت سلیمٰن نے اپنی عمارتوں کو آراستہ کرایا ہو۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت سلیمٰن نے انبیاء اور ملائکہ کی تصویریں بنوائی تھیں۔ یہ باتیں ان مفسرین نے بنی اسرائیل کی روایات سے اخذ کیں اور پھر ان کی توجیہ یہ کی کہ پچھلی شریعتوں میں اس قسم کی تصوریریں بنانا ممنوع نہ تھا۔ حالانکہ حضرت سلیمٰن جس شریعت موسوی کے پیرو تھے اس مین بھی انسانی اور حیوانی تصاویر اور مجسمے اسی طرح حرام تھے جس طرح شریعتِ محمدیہ میں حرام ہیں۔ در اصل بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو حضرت سلیمٰن سے جو عداوت تھی اس کی بناء پر انہوں نے ان پر شرک، بت پرستی، جادو گری اور دیگر الزامات لگائے۔ اس لئے ان کی روایات پر اعتماد کرکے ایک جلیل القدر پیغمبر کے بارے میں کوئی ایسی بات قبول نہیں کی جاسکتی جو خدا کی بھیجی ہوئی شریعت کے خلاف پڑتی ہو۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گھن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا اس طرح جب سلیمانؑ گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے

فَلَمَّا [پھر جب ] قَضَيْنَا [ہم نے فیصلہ کیا ] عَلَيْهِ الْمَوْتَ [ان (علیہ السلام) پر موت کا ] مَا دَلَّهُمْ [تو رہنمائی نہیں کی ان کی ] عَلٰي مَوْتِهٖٓ [ان کی موت پر ] اِلَّا دَاۗبَّةُ الْاَرْضِ [مگر زمین کے کیڑے نے ] تَاْكُلُ [وہ کھاتا تھا ] مِنْسَاَتَهٗ ۚ [ان (علیہ السلام) کی لاٹھی کو ] فَلَمَّا خَرَّ [پھر جب وہ گرپڑے ] تَبَيَّنَتِ [تو معلوم کیا ] الْجِنُّ [جنوں نے ] اَنْ لَّوْ [کہ اگر ] كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ [وہ جانتے ہوتے ] الْغَيْبَ [غیب کو ] مَا لَبِثُوْا [تو وہ نہ ٹھہرتے ] فِي الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ [ذلیل کرنے والے اس عذاب میں ] ۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

سبا کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی، دو باغ دائیں اور بائیں کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاؤ اُس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا

لَقَدْ كَانَ [بیشک ہوچکی ] لِسَـبَاٍ [(قوم) سبا کے لئے ] فِيْ مَسْكَنِهِمْ [ان کے رہنے کی جگہ (یعنی بستی) میں ] اٰيَةٌ ۚ [ایک نشانی ] جَنَّتٰنِ [دو باغات تھے ] عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ ڛ [داہنے اور بائیں سے ] كُلُوْا [تم لوگ کھاؤ] مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ [اپنے رب کے رزق میں سے ] وَاشْكُرُوْا لَهٗ ۭ [اور شکر کرو اس کا ] بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ [(تمھارا شہر) ایک پاکیزہ شہر ہے ] وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ [اور (تمھارا رب) بےانتہا بخشنے والا رب ہے ] ۔
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

مگر وہ منہ موڑ گئے آخرکار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں

فَاَعْرَضُوْا [پھر ان لوگوں نے اعراض کیا ] فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [تو ہم نے بھیجا ان پر ] سَيْلَ الْعَرِمِ [شدت کا سیلاب ] وَبَدَّلْنٰهُمْ [ہم نے بدلے میں دیا ان کو ] بِجَنَّتَيْهِمْ [ان کے دو باغات کے بدلے ] جَنَّتَيْنِ [دو ایسے باغات جو ] ذَوَاتَىْ اُكُلٍ خَمْطٍ [کڑوے پھل والے تھے ] وَّاَثْلٍ [اور جھاؤ کے درخت والے ] وَّشَيْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِيْلٍ [اور تھوڑی سی چیزوالے بیری میں سے ] ۔ ع ر م (س۔ ک) عرامۃ شوخ ہونا۔ شدید ہونا۔ عرم صفت ہے۔ شوخ۔ شدید۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔ خ م ط (س) خمطا کسی چیز کی بو یعنی مہلک میں تغیر آجانا۔ خمط کھٹی یا کڑوی چیز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔ ء ث ل (ک) اثالۃ زمین میں یا شرافت میں جڑ پکڑنا۔ اثل ایک خاردار درخت جس کا پھل کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ اسے بکریاں کھاتی ہیں۔ اردو میں اسے جھاؤ کا درخت کہتے ہیں۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔ س ذ ر (ن۔ ض) سدرا بالوں کو لٹکانا۔ سدر بیری کا درخت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔ السدرۃ بیری کا مخصوص درخت۔ عرش الٰہی کے داہنی جانب بیری کا درخت جو ملائکہ کی پہنچ کی آخری حد ہے۔ اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى (جو چھایا اس بیری کے درخت پر وہ جو چھایا) 53/16 ۔
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ تھا ان کے کفر کا بدلہ جو ہم نے ان کو دیا، اور ناشکرے انسان کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے

ذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ [یہ ہم نے بدلہ دیا ان کو ] بِمَا كَفَرُوْا ۭ [اس کے سبب سے جو انھوں نے نا شکری کی ] وَهَلْ نُجٰزِيْٓ [ اور ہم سزا نہیں دیتے ] اِلَّا الْكَفُوْرَ [مگر بہت ہی نا شکرے کو ] ۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی، نمایاں بستیاں بسا دی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں چلو پھرو اِن راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ

وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ [اور ہم نے بنائیں ان کے درمیان ] وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ [اور ان بستیوں کے درمیان ] بٰرَكْنَا فِيْهَا [ہم نے برکت دی جن میں ] قُرًى ظَاهِرَةً [کچھ نظر آنے والی بستیاں ] وَّقَدَّرْنَا فِيْهَا [اور ہم نے مقررکیں ان میں (منزلیں)] السَّيْرَ [سفر کرنے کے لئے ] سِيْرُوْا فِيْهَا [تم لوگ کرو ان میں ] لَيَالِيَ [راتوں کے وقت ] وَاَيَّامًا [اور دنوں کے وقت ] اٰمِنِيْنَ [امن میں ہونے والے ہوتے ہوئے ] ۔ نوٹ۔ 1: برکت والی بستیوں سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہے جن کے ساتھ اہل سبا کے تجارتی تعلقات تھے، نمایاں بستیوں سے مراد وہ بستیاں ہیں جو تجارتی شاہراہ پر آباد تھیں اور ان کے کے لئے منزلوں کا کام دیتی تھیں۔ یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام آسائشوں کے اہتمام کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ یہ اس حقیقت کا بیان کہ اس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی حاصل ہوتا ہے وہ اللہ کے فضل ہی سے ملتا ہے۔ لیکن انسان اپنی ناشکری کے باعث اسے اپنی سعی اور تدبیر کا کرشمہ سمجھنے لگتا ہے۔ اس زمانے کی عام گمراہی کا اصل سبب بھی یہی ہے اور سائنس کی ایجادات نے اس میں اضافہ کردیا ہے۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2: اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب زوال نعمت کا دور شروع ہوا تو سبا کے مختلف قبیلے اپنا وطن چھوڑ کر عرب کے مختلف علاقوں میں چلے گئے۔ غسانیوں نے اردن اور شام کا رخ کیا۔ اوس اور خزرج یثرت (مدینہ) میں جا بسے۔ اسی طرح باقی قبائل بھی عرب کے مختلف علاقوں میں نکل گئے۔ حتی کہ سبانام کی کوئی قوم ہی دنیا میں باقی نہ رہی۔ صرف اس کا ذکر افسانوں میں رہ گیا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

مگر انہوں نے کہا "اے ہمارے رب، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کر دے" انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا آخرکار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تتربتر کر ڈالا یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو

فَقَالُوْا رَبَّنَا [پھر ان لوگوں نے کہا اے ہمارے رب ] بٰعِدْ [تو دور کردے (فاصلے)] بَيْنَ اَسْفَارِنَا [ہمارے سفروں کے درمیان ] وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ [اور انھوں نے ظلم کیا اپنی جانوں پر ] فَجَعَلْنٰهُمْ [تو ہم نے بنادیا ان کو ] اَحَادِيْثَ [افسانے ] وَمَزَّقْنٰهُمْ [اور ہم نے بکھیر دیا ان کو ] كُلَّ مُمَــزَّقٍ ۭ [بالکل ریزہ ریزہ کئے ہوئے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ [ہر ثابت قدم رہنے والے شکر کرنے والے کے لئے ] ۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اُن کے معاملہ میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا اور انہوں نے اُسی کی پیروی کی، بجز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا

وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ [اور بیشک سچ کر دکھایا ان پر ] اِبْلِيْسُ [ابلیس نے ] ظَنَّهٗ [اپنے گمان کو ] فَاتَّبَعُوْهُ [تو انھوں نے پیروی کی اس کی ] اِلَّا فَرِيْقًا [سوائے ایک ایسے فریق کے جو ] مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ایمان لانے والوں سے تھا ] ۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 20 میں اشارہ ابلیس کے اس گمان کی طرف ہے جس کا اظہار اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کے وقت کیا تھا۔ اس وقت اس نے یہ کہا تھا کہ میں اولاد آدم پر اس طرح گھیرے ڈالوں گا کہ ان کی اکثریت تیری جگہ میری پیروی کرے گی اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہیں پائے گا (الاعراف۔ 17) یہ ان اس کا حوالہ دینے سے مقصود اس کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو جواب دیا تھا کہ جو تیری پیروی کریں گے میں ان سب کو جہنم میں بھر دوں گا۔ آگے آیت۔ 21 میں بتادیا کہ شیطان کو لوگوں پر یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ جس کو چاہے گمراہ کردے۔ اس کو صرف اس بات کی مہلت ملی ہے کہ وہ لوگوں کو بدی کے راستہ کی دعوت دے سکتا ہے اور یہ مہلت اس کو اس لئے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ کون آخر پر ایسا مضبوط ایمان رکھتا ہے کہ شیطان کے بہکائے میں نہیں آتا اور کون شک میں مبتلا ہوکر اس کے بہکاوے میں آجاتا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے تیرا رب ہر چیز پر نگران ہے

وَمَا كَانَ لَهٗ [اور نہیں تھا اس کے لئے ] عَلَيْهِمْ [ان پر ] مِّنْ سُلْطٰنٍ [کوئی بھی اختیار ] اِلَّا لِنَعْلَمَ [سوائے اس کے کہ ہم جان لیں ] مَنْ [اس کو جو ] يُّؤْمِنُ [ایمان لاتا ہے ] بِالْاٰخِرَةِ [آخرت پر ] مِمَّنْ هُوَ [ان میں سے جو کہ وہی ] مِنْهَا [اس (آخرت) سے ] فِيْ شَكٍّ ۭ [شک میں ہے ] وَرَبُّكَ [اور آپ ﷺ کا رب ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز پر ] حَفِيْظٌ [نگران ہے ] ۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

(اے نبیؐ، اِن مشرکین سے) کہو کہ پکار دیکھو اپنے اُن معبودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار بھی نہیں ہے

قُلِ [آپ ﷺ کہیے ] ادْعُوا [تم لوگ پکارو ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں کو جن پر ] زَعَمْتُمْ [تم لوگوں نے زعم کیا ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۚ [اللہ کے علاوہ ] لَا يَمْلِكُوْنَ [وہ لوگ مالک نہیں ہیں ] مِثْقَالَ ذَرَّةٍ [کسی ذرہ کے ہم وزن (چیز) کے ] فِي السَّمٰوٰتِ [آسمانوں میں ] وَلَا فِي الْاَرْضِ [اور نہ ہی زمین میں ] وَمَا لَهُمْ [اور نہیں ہے ان لوگوں کے لئے ] فِيْهِمَا [ان دونوں (جگہوں) میں ] مِنْ شِرْكٍ [کوئی بھی شراکت ] وَّمَا لَهٗ [اور نہیں ہے اس (اللہ تعالیٰ ) کے لئے ] مِنْهُمْ [ان لوگوں میں سے ] مِّنْ ظَهِيْرٍ [کوئی بھی مدد کرنے (ہاتھ بٹانے) والا ]
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجز اُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو گی تو وہ (سفارش کرنے والوں سے) پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا جواب دیا وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے

وَلَا تَنْفَعُ [اور نفع نہیں دیتی ] الشَّفَاعَةُ [شفاعت ] عِنْدَهٗٓ [اس کے پاس ] اِلَّا لِمَنْ [سوائے اس کے لئے ] اَذِنَ [اس نے اجازت دی ] لَهٗ ۭ [جس کے لئے ] حَتّىٰٓ اِذَا [یہاں تک کہ جب ] فُزِّعَ [دہشت دور کردی جائے گی ] عَنْ قُلُوْبِهِمْ [ان کے دلوں سے ] قَالُوْا [تو کہیں گے ] مَاذَا ۙ قَالَ [کیا کہا ] رَبُّكُمْ ۭ [تمہارے رب نے ] قَالُوا [وہ لوگ کہیں گے ] الْحَقَّ ۚ [(اس نے کہا) حق ہی ] وَهُوَ الْعَلِيُّ [اور وہ ہی بلند ہے ] الْكَبِيْرُ [بڑا ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 23 میں حکم ربانی کے نزول کے وقت جو فرشتوں کا مدہوش ہوجانا پھر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کرنے کا ذکر ہے، اس کا بیان بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس طرح آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان سے کوئی حکم نافذ فرماتے ہیں تو فرشتے خشوع و خضوع سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں (اور مدہوش جیسے ہوجاتے ہیں) جب ان کے دلوں سے ہیبت و جلال کا اثر دور ہوجاتا ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا۔ دوسرے کہتے ہیں فلاں حکم حق ارشاد فرمایا۔ (معارف القرآن)
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

(اے نبیؐ) اِن سے پوچھو، "کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟" کہو "اللہ اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے"

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] مَنْ يَّرْزُقُكُمْ [کون رزق دیتا ہے تم لوگوں کو ] مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمانوں اور زمین سے ] قُلِ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] اللّٰهُ ۙ [(وہ) اللہ ہی ہے ] وَاِنَّآ [اور بیشک ہم لوگ ] اَوْ اِيَّاكُمْ [یا تم لوگ ] لَعَلٰى هُدًى [ضرور ہدایت پر ہیں ] اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [یا کسی کھلی گمراہی میں ہیں ] ۔
Ayah 34:25

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

ان سے کہو، "جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہو گی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی"

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] لَّا تُسْـَٔــلُوْنَ [تم لوگوں سے نہیں پوچھا جائے گا ] عَمَّآ [اس کے بارے میں جو ] اَجْرَمْنَا [ہم نے جرم کیا ] وَلَا نُسْـَٔــلُ [اور ہم سے نہیں پوچھا جائے گا ] عَمَّا [اس کے بارے میں جو ] تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کرتے ہو ] ۔
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہو، "ہمارا رب ہم کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے"

[قُلْ : آپ کہیے ][يَجْمَعُ : جمع کرے گا ][بَيْـنَنَا : ہمارے مابین (سب کو)] [ رَبُّنَا : ہمارا رب ][ ثُمَّ يَفْتَـحُ : پھر وہ فیصلہ کرے گا ][بَيْـنَنَا : ہمارے درمیان ][ بِالْحَقِّ ۭ: حق کے ساتھ ][ وَهُوَ الْفَتَّاحُ : اور وہی سارے فیصلے کرنے والا ][ الْعَلِـيْمُ : سب کچھ جاننے والا ہے ]
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

اِن سے کہو، "ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگا رکھا ہے" ہرگز نہیں، زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ ہی ہے

[قُلْ : آپ کہیے ][ اَرُوْنِيَ : تم لوگ دکھاؤ مجھے ][ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جن کو ][ اَلْحَــقْتُمْ : تم لوگوں نے جوڑ دیا ][ بِهٖ : اس کے ساتھ ][ شُرَكَاۗءَ : بطور شریک ][ كَلَّا ۭ : ہرگز نہیں ][بَلْ هُوَ اللّٰهُ : بلکہ وہ اللہ ہی ہے ][الْعَزِيْزُ : بالا دست ہے ][ الْحَكِيْمُ : حکمت والا ہے۔
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

[وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو ][ اِلَّا كَاۗفَّةً لِّلنَّاسِ : مگر سارے کے سارے لوگوں کے لئے ][ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا : خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ][ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ : اور لیکن لوگوں کی اکثریت ][لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتی نہیں ] نوٹ۔ 2: زیر مطالعہ آیت 28 سے واضح ہوجاتا ہے کہ نبی ﷺ صرف اپنے ملک یا اپنے زمانے کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک پوری نوع بشر کے لئے مبعوث فرمائے گئے ہیں۔ یہی بات قرآن مجید مین متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ مثلا الانعام 197 ۔ الاعراف 158 ۔ الانبیائ۔ 107 ۔ الفرقان۔ 1 ۔ وغیرہ ۔ یہی مضمون نبی ﷺ نے خوب بھی بہت سی احادیث میں مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے۔ مثلا ارشاد ہے کہ میں کالے اور گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ ایک دوسرے حدیث میں ہے کہ میں عمومیت کے ساتھ تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں، حالا کہ مجھ سے جو بھی نبی گزرا ہے وہ اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 34:29

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ وہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہو گا اگر تم سچے ہو؟

[وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ][ مَتٰى: کب ہے ][ ھٰذَا الْوَعْدُ : وہ وعدہ ][ اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہو ][صٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والے ]
Ayah 34:30

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہو تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کر سکتے ہو اور نہ ایک گھڑی بھر پہلے اسے لا سکتے ہو

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] لَّكُمْ [تم لو گوں کے لئے ] مِّيْعَادُ يَوْمٍ [ایک ایسے دن کا وعدہ ہے ] لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ [تم لوگ پیچھے نہیں رہو گے ] عَنْهُ [جس سے ] سَاعَةً [ایک گھڑی (لمحہ بھر ) بھی ] وَّلَا تَسْتَــقْدِمُوْنَ [اور آگے ہوگے ] ۔
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

یہ کافر کہتے ہیں کہ "ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے" کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اُس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ "اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے"

وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور کہا ان لوگں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] لَنْ نُّؤْمِنَ [ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ] بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ [اس قرآن پر ] وَلَا بِالَّذِيْ [اور نہ اس پر جو ] بَيْنَ يَدَيْهِ ۭ [اس کے آگے (پہلے) ہے ] وَلَوْ تَرٰٓى [اور اگر آپ ﷺ دیکھتے ] اِذِ الظّٰلِمُوْنَ [جب یہ ظلم کرنے والے ] مَوْقُوْفُوْنَ [ٹھہرائے ہوئے ہوں گے ] عِنْدَ رَبِّهِمْ ښ [اپنے رب کے پاس ] يَرْجِــعُ [لوٹائیں گے ] بَعْضُهُمْ [ان کے کوئی ] اِلٰى بَعْضِۨ [کسی کی طرف ] الْقَوْلَ ۚ [بات کو ] يَقُوْلُ الَّذِيْنَ [کہیں گے وہ لوگ جن کو ] اسْتُضْعِفُوْا [کمزور سمجھا گیا ] لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا [ان سے جو بڑے بنے ] لَوْلَآ اَنْتُمْ [اگر نہ ہوتے تم لوگ ] لَكُنَّا مُؤْمِنِيْنَ [تو ہم ضرور ہوتے ایمان لانے والے ] ۔
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے "کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے"

قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا [کہیں گے وہ جو بڑے بنے ] لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْٓا [ان سے جن کو کمزور سمجھا گیا ] اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ [کیا ہم نے روکا تھا تم کو ] عَنِ الْهُدٰى [ہدایت سے ] بَعْدَ اِذْ جَاۗءَكُمْ [اس کے بعد کہ جب وہ پہنچی تمہارے پاس ] بَلْ كُنْتُمْ [بلکہ تم لوگ تھے ] مُّجْرِمِيْنَ [جرم کرنے والے ] ۔
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے، "نہیں، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیرائیں" آخرکار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے کیا لوگوں کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جا سکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسی ہی جزا وہ پائیں؟

وَقَالَ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا [اور کہیں گے وہ جن کو کمزور سمجھا گیا ] لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا [ان سے جو بڑے بنے ] بَلْ [(نہیں) بلکہ ] مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ [دن اور رات کی (تمہاری) چالبازی ] اِذْ تَاْمُرُوْنَــنَآ [جب تم لوگ حکم دیتے تھے ہم کو ] اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ [کہ ہم انکار کریں اللہ (کے حکم) کا ] وَنَجْعَلَ لَهٗٓ [اور ہم بنائیں اس کے ] اَنْدَادًا ۭ [کچھ ہم پلہ ] وَاَسَرُّوا [اور وہ چھپائیں گے ] النَّدَامَةَ [ندامت کو ] لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ۭ [جب وہ دیکھیں گے عذاب کو ] وَجَعَلْنَا [اور ہم بنائیں (ڈالیں) گے ] الْاَغْلٰلَ [کچھ طوق ] فِيْٓ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ [ان کی گردنوں میں جنہوں نے ] كَفَرُوْا ۭ [کفر کیا ] هَلْ يُجْزَوْنَ [ان کو کیا بدلہ دیا جائے گا ] اِلَّا مَا [سوائے اس کے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [وہ لوگ عمل کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 33 ۔ میں اسروا الندامۃ آیا ہے۔ اس سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ سوال و جواب کے بعد جب وہ دیکھیں گے کے سامنے عذاب کھڑا ہے تو سخت پشیمان ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا یہ عذر نہیں سنا جائے گا کہ وہ اپنے لیڈروں کی سازشوں کے سبب سے ہدایت کی پیروی سے محروم رہے، بلکہ ان کو عذاب سے دو چارہونا پڑے گا۔ اس وقت ان کے سامنے یہ بات کھل کر آجائے گی کہ انھوں نے اپنے ضمیر کے خلاف اپنے لیڈروں کی پیروی کی۔ جو آدمی اپنے ضمیر کے خلاف کسی باطل کی پیروی کرنا ہے۔ جب اس کا نتیجہ سامنے آتا ہے تو اس کو صرف نتیجہ کی تلخی ہی سے سابقہ نہیں پڑتا بلکہ اپنے ضمیر کی لعنت سے بھی اسے دوچار ہونا پڑتا ہے اور اس کی مصیبت دو چند ہوجاتی ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو کہ جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے

وَمَآ اَرْسَلْنَا [اور ہم نے نہیں بھیجا ] فِيْ قَرْيَةٍ [کسی بستی میں ] مِّنْ نَّذِيْرٍ [کوئی بھی خبردار کرنے والا ] اِلَّا قَالَ [سوائے اس کے کہ کہا ] مُتْرَفُوْهَآ ۙ [اس کے خوشحال لوگوں نے ] اِنَّا بِمَآ [بیشک ہم اس سے ] اُرْسِلْتُمْ [تم بھیجے گئے ] بِهٖ [جس کے ساتھ ] كٰفِرُوْنَ [انکار کرنے والے ہیں ] ۔
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

انہیں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں ہیں

وَقَالُوْا [اور انھوں نے کہا ] نَحْنُ اَكْثَرُ [ہم زیادہ ہیں ] [اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا ۙ : بلحاظ مال اور اولاد کے ] [وَّمَا نَحْنُ : اور ہم نہیں ہیں ] [بِمُعَذَّبِيْنَ : عذاب دئیے جانے والے ] ۔
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن سے کہو میرا رب جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا عطا کرتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنَّ رَبِّيْ [بیشک میرا رب ] يَبْسُطُ الرِّزْقَ [کشادہ کرتا ہے رزق کو ] لِمَنْ [اس کے لئے جس کے لئے ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] وَيَــقْدِرُ [اور اندازے سے دیتا ہے ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ [اور لیکن لوگوں کی اکثریت ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتی نہیں ہے ] ۔
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے عمل کی دہری جزا ہے، اور وہ بلند و بالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے

وَمَآ اَمْوَالُكُمْ [اور نہیں ہیں تمہارے مال ] وَلَآ اَوْلَادُكُمْ [اور نہ تمہاری اولاد ] بِالَّتِيْ [وہ جو ] تُقَرِّبُكُمْ [نزدیک کردیں تم کو ] عِنْدَنَا [ہمارے پاس ] زُلْفٰٓي [بلحاظ زیادہ قریب ہونے کے ] اِلَّا مَنْ [مگر وہ جو ] اٰمَنَ [ایمان لایا ] وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ [اور عمل کیا نیک ] فَاُولٰۗىِٕكَ [تو وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ہے ] جَزَاۗءُ الضِّعْفِ [دوگنے کا (دوہرا) بدلہ ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] عَمِلُوْا [انھوں نے عمل کیا ] وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ [اور وہ لوگ بالا خانوں میں ] اٰمِنُوْنَ [امن میں ہونے والے ہیں ] ۔
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے

وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ [اور جو لوگ بھاگ دوڑ کرتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا [ہماری نشانیوں میں ] مُعٰجِزِيْنَ [عاجز کرنے والے ہوتے ہوئے ] اُولٰۗىِٕكَ فِي الْعَذَابِ [وہ لوگ عذاب میں ] مُحْضَرُوْنَ [حاضر کئے ہوئے ہوں گے ] ۔
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

اے نبیؐ، ان سے کہو، "میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے جو کچھ تم خرچ کر دیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے

قُلْ اِنَّ رَبِّيْ [آپ ﷺ کہیے بیشک میرا رب ] يَبْسُطُ الرِّزْقَ [کشادہ کرتا ہے رزق کو ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [جس کے لئے وہ چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖ [اپنے بندوں میں سے ] وَيَقْدِرُ لَهٗ ۭ [اور اندازے سے دیتا ہے جس کے لئے (چاہے)] وَمَآ اَنْفَقْتُمْ [اور جو تم لوگ خرچ کرتے ہو ] مِّنْ شَيْءٍ [کوئی بھی چیز ] فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ [تو وہ اس کا عوض دیتا ہے ] وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ [اور وہ رزق دینے والوں کا بہترین ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 39 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اپنے خزانہ غیب سے تمہیں اس کا بدل دیتا ہے کبھی دنیا ، کبھی آخرت میں اور کبھی دونوں جگہ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر روز جب لوگ صبح میں داخل ہوتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ خرچ کرنے والے اس کا بدل عطافرما اور بخل کرنے والے کا مال ضائع کردے۔ (معارف القرآن)
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا "کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟"

وَيَوْمَ [اور جس دن ] يَحْشُرُهُمْ [وہ اکٹھا کرے گا ان کو ] جَمِيْعًا [سب کے سب کو ] ثُمَّ يَقُوْلُ [پھر وہ کہے گا ] لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ [فرشتوں سے ] اَهٰٓؤُلَاۗءِ [کیا یہ لوگ ] اِيَّاكُمْ [تم لوگوں کی ہی ] كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ [بندگی کیا کرتے تھے ] ۔