33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے نبیؐ! اللہ سے ڈرو اور کفار و منافقین کی اطاعت نہ کرو، حقیقت میں علیم اور حکیم تو اللہ ہی ہے

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ [اے نبی ﷺ ] اتَّقِ [آپ ﷺ تقویٰ کریں ] اللّٰهَ [اللہ کا ] وَلَا تُطِـعِ [اور آپ ﷺ کہنا مت مانیں ] الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ ۭ [کافروں کا اور منافقوں کا ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] كَانَ [ہے ] عَلِيْمًا حَكِيْمًا [جاننے والا حکمت والا ] ۔
Ayah 33:2

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

پیروی کرو اُس بات کی جس کا اشارہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں کیا جا رہا ہے، اللہ ہر اُس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو

وَّاتَّبِعْ [اور آپ ﷺ پیروی کریں ] مَا [اس کی جو ] يُوْحٰٓى [وحی کیا جاتا ہے ] اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭ [آپ ﷺ کی طرف آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] كَانَ [ہے ] بِمَا تَعْمَلُوْنَ [اس کی جو تم لوگ کرتے ہو ] خَبِيْرًا [خبر رکھنے والا ] ۔
Ayah 33:3

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اللہ پر توکل کرو، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے

وَّتَوَكَّلْ [اور آپ ﷺ بھروسہ رکھیں ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [اللہ پر ] وَكَفٰي بِاللّٰهِ [اور کافی ہے اللہ ] وَكِيْلًا [بطور کارساز کے ] ۔
Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دِل نہیں رکھے ہیں، نہ اس نے تم لوگوں کی اُن بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری ماں بنا دیا ہے، اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی بر حقیقت ہے، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے

مَا جَعَلَ اللّٰهُ [نہیں بنایا اللہ نے ] لِرَجُلٍ [کسی مرد کے لئے ] مِّنْ قَلْبَيْنِ [کوئی بھی دو دل ] فِيْ جَوْفِهٖ ۚ [اس کے اندرونی حصے (سینے) میں ] وَمَا جَعَلَ [اور اس نے نہیں بنایا ] اَزْوَاجَكُمُ اڿ [تمہاری ان بیویوں کو ] تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ [تم لوگ ظہار کرتے ہو جن سے ] اُمَّهٰتِكُمْ ۚ [تمہاری مائیں ] وَمَا جَعَلَ [اور اس نے نہیں بنایا ] اَدْعِيَاۗءَكُمْ [تمہاری منہ بولے بیٹوں کو ] اَبْنَاۗءَكُمْ ۭ[تمہارے بیٹے ] ذٰلِكُمْ [یہ ] قَوْلُكُمْ [تم لوگوں کا کہنا ہے ] بِاَفْوَاهِكُمْ ۭ [اپنے مونہوں سے ] وَاللّٰهُ يَـقُوْلُ [اور اللہ کہتا ہے ] الْحَـقَّ [حق (بات)] وَهُوَ يَهْدِي [اور وہ راہنمائی کرتا ہے ] السَّبِيْلَ [راستے کی ] ۔ ج و (س) جو فا اندر سے کھوکھلا ہونا۔ جوف مکان کا اندرونی حصہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں نا دانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے، لیکن اُس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے

اُدْعُوْهُمْ [تم لوگ پکارو ان (لے پالکوں) کو ] لِاٰبَاۗىِٕهِمْ [ان کے باپوں (کے نام) سے ] هُوَ اَقْسَطُ [یہ زیادہ انصاف ہے ] عِنْدَ اللّٰهِ ۚ [اللہ کے نزدیک ] فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا [پھر اگر تم لوگ نہ جانو ] اٰبَاۗءَهُمْ [ان کے باپوں کو ] فَاِخْوَانُكُمْ [تو (وہ) تمہارے بھائی ہیں ] فِي الدِّيْنِ [اس دین میں ] وَمَوَالِيْكُمْ ۭ [اور تمہارے ساتھی ہیں ] وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ [اور تم لوگوں پر نہیں ہے ] جُنَاحٌ [کوئی گناہ ] فِيْمَآ [اس میں ] اَخْطَاْتُمْ [تم لوگ چوک گئے ] بِهٖ ۙ [جس میں ] وَلٰكِنْ [اور لیکن ] مَّا [اس میں (گناہ ہے) جس کا ] تَعَمَّدَتْ [پختہ ارادہ کیا ] قُلُوْبُكُمْ ۭ [تمہارے دلوں نے ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور اللہ ہے ] غَفُوْرًا رَّحِـيْمًا [بخشنے والا رحم کرنے والا ] ۔ نوٹ۔ 1: یہ آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب حضرت زید ؓ بی بی زینب ؓ کو طلاق دے چکے تھے۔ اس وقت نبی ﷺ خود بھی یہ محسوس فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی یہی تھا کہ منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کی رسوم پر ضرب لگانے کا یہ ٹھیک موقعہ ہے، اب آپ ﷺ کو خود آگے بڑھ کر اپنے منہ بولے بیٹے (زید ؓ کی مطلقہ سے نکاح کرلینا چاہیے تاکہ یہ رسم قطعی طور پر ٹوٹ جائے۔ لیکن آپ ﷺ اس لئے جھجک رہے تھے کہ کفار اور منافقین کو آپ ﷺ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے لئے ایک زبردست ہتھیار مل جائے گا۔ یہ خوف اپنی بدنامی کے اندیشے سے نہ تھا بلکہ اس بنا پر تھا کہ اس سے اسلام کو زک پہنچے گی۔ اس لئے حضور ﷺ یہ خیال کرتے تھے کہ جاہلیت کی ایک رسم کو توڑنے کی خاطر ایسا قدم اٹھانا خلاف مصلحت ہے۔ چناچہ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے پہلے ہی فقرے میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ان اندیشوں کو رفع فرما دیا۔ ارشاد کا منشا یہ ہے کہ دین کی مصلحت کو ہم زیادہ جانتے ہیں۔ لہٰذا تم وہ طرز عمل اختیار نہ کرو جو کفار و منافقین کی مرضی کے مطابق ہو، بلکہ وہ کام کرو جو ہماری مرضی کے مطابق ہو۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: ایک آدمی بیک وقت مومن اور منافق، سچا اور جھوٹا، بدکار اور نیکوکار نہیں ہوسکتا۔ اس کے سینے میں دو دل نہیں ہیں کہ ایک دل میں اخلاص ہو اور دوسرے میں خدا سے بےخوفی۔ ایک وقت میں آدمی کی ایک ہی حیثیت ہوسکتی ہے۔ یا تو وہ مومن ہوگا یا منافق۔ یا تو وہ وہ کافر ہوگا یا مسلم ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقدم ہے، اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں، مگر کتاب اللہ کی رو سے عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی (کرنا چاہو تو) کر سکتے ہو یہ حکم کتاب الٰہی میں لکھا ہوا ہے

اَلنَّبِيُّ [یہ نبی ﷺ ] اَوْلٰى [زیادہ قریب ہیں ] بِالْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں کے ] مِنْ اَنْفُسِهِمْ [ان کی جانوں سے (بھی زیادہ)] وَاَزْوَاجُهٗٓ [اور ان ﷺ (نبی) کی بیویاں ] اُمَّهٰتُهُمْ ۭ [ان (مومنوں) کی مائیں ہیں ] [وَاُولُوا الْاَرْحَامِ : اور رحمی رشتوں والے ] بَعْضُهُمْ [ان کے بعض ] اَوْلٰى [زیادہ قریب ہیں ] بِبَعْضٍ [بعض کے ] فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ [اللہ کی کتاب میں ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں میں سے ] وَالْمُهٰجِرِيْنَ [اور مہاجروں میں سے ] اِلَّآ اَنْ [سوائے اس کے کہ ] تَفْعَلُوْٓا [تم لوگ کرو ] اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ [اپنے رفیقوں کی طرف ] مَّعْرُوْفًا ۭ [کوئی بھلائی ] كَانَ ذٰلِكَ [ہے یہ ] فِي الْكِتٰبِ [کتاب میں ] مَسْطُوْرًا [لکھا ہوا ] ۔ نوٹ۔ 1: اگر دیکھاجائے تو مومن کا ایمان ایک شعاع ہے اس نوراعظیم کی جو آفتاب نبوت سے پھیلتا ہے۔ بنا بریں ایک مومن اگر اپنی حقیقت سمجھنے کے لئے غور و فکر شروع کرے تو اپنی ایمانی ہستی سے پہلے اس کو نبی ﷺ کی معرفت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ نبی کا وجود مسعود خود ہماری ہستی سے بھی زیادہ ہم سے نزدیک ہے۔ اور اگر اس روحانی تعلق کی بناء پر کہہ دیا جائے کہ مومنین کے حق میں نبی بمنزلہ باپ کے ، بلکہ مراتب کے لحاظ سے اس سے بھی بڑھ کر ہے تو بالکل بجا ہوگا۔ باپ بیٹے کے تعلق پر غور کرو تو اس کا حاصل یہ ہی نکلے گا کہ بیٹے کا جسمانی وجود باپ کے جسم سے نکلا ہے اور باپ کی ترتیب و شفقت اوروں سے بڑھ کر ہے۔ جبکہ امتی کا ایمانی و روحانی وجود نبی کی روحانیت کبری کا ایک پر تو ہوتا ہے۔ اور جو شفقت و تربیت نبی کی طرف سے ظہور پذیر ہوتی ہے، ماں باپ تو کیا تمام مخلوق میں اس کا نمونہ نہیں مل سکتا۔ باپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو دنیا کی عارضی حیات عطا فرمائی لیکن نبی کے طفیل ابدی اور دائمی حیات ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ ہماری وہ ہمدردی اور خیر خواہانہ شفقت و تربیت فرماتے ہیں جو خود ہمارا نفس بھی اپنی نہیں کرسکتا۔ اسی لئے نبی کو ہماری جان و مال میں تصرف کرنے کا وہ حق پہنچتا ہے جو دنیا میں کسی کو حاصل نہیں۔ ان ہی حقائق پر نظر کرتے ہوئے احادیث میں فرمایا تم میں کوئی آدمی مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک باپ، بیٹے اور سب آدمیوں بلکہ اس کی جان سے بھی بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح))
Ayah 33:7

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور (اے نبیؐ) یاد رکھو اُس عہد و پیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ہے، تم سے بھی اور نوحؑ اور ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم سے بھی سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں

وَاِذْ اَخَذْنَا [اور جب ہم نے لیا ] مِنَ النَّـبِيّٖنَ [نبیوں سے ] مِيْثَاقَهُمْ [ان کا عہد ] وَمِنْكَ [اور آپ ﷺ سے ] وَمِنْ نُّوْحٍ [اور نوح (علیہ السلام) سے ] وَّاِبْرٰهِيْمَ [اور ابراہیم (علیہ السلام) سے ] وَمُوْسٰى [اور موسیٰ (علیہ السلام) سے ] وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ [اور مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) سے ] وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ [اور ہم نے لیا ان سے ] مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا [ایک پختہ عہد ] ۔
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ سچے لوگوں سے (ان کا رب) ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے، اور کافروں کے لیے تو اس نے درد ناک عذاب مہیا کر ہی رکھا ہے

لِّيَسْـَٔـلَ [تاکہ وہ (اللہ) پوچھے ] الصّٰدِقِيْنَ [سچوں سے ] عَنْ صِدْقِهِمْ ۚ [ان کی سچائی کے بارے میں ] وَاَعَدَّ [ اور اس نے تیار کیا ] لِلْكٰفِرِيْنَ [کافروں کے لئے ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا [ایک دردناک عذاب ] ۔
Ayah 33:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، یاد کرو اللہ کے احسان کو جو (ابھی ابھی) اُس نے تم پر کیا ہے جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اس وقت کر رہے تھے

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا [اے لوگو جو ایمان لائے ] اذْكُرُوْا [تم لوگ یاد کرو ] نِعْمَةَ اللّٰهِ [اللہ کی نعمت کو ] عَلَيْكُمْ [تم لوگوں پر ] اِذْ جَاۗءَتْكُمْ [جب آئے تمہارے پاس ] جُنُوْدٌ [کچھ لشکر ] فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [تو ہم نے بھیجا ان پر ] رِيْحًا وَّجُنُوْدًا [ایک ہوا اور کچھ لشکر ] لَّمْ تَرَوْهَا ۭ [تم لوگ نہیں دیکھتے تھے جن کو ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور اللہ ہے ] بِمَا تَعْمَلُوْنَ [اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والا ]
Ayah 33:10

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آ گئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے

اِذْ جَاۗءُوْكُمْ [جب وہ (لشکر) آئے تمہارے پاس ] مِّنْ فَوْقِكُمْ [تمہارے اوپر سے ] وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ [اور تم سے نیچے سے ] وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ [اور جب کج ہوئیں (پتھرا گئیں) آنکھیں ] وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ [اور پہنچے دل ] الْحَـنَاجِرَ [گلوں تک ] وَ [اس حال میں کہ ] تَظُنُّوْنَ [تم لوگ گمان کرتے تھے ] بِاللّٰهِ [اللہ کے بارے میں ] الظُّنُوْنَا [بہت سے گمان ] ۔ ح ن ج ر (رباعی) حنجرۃ گلا کاٹتے ہوئے سانس کی نالی تک کاٹ دینا۔ ذبح کرنا۔ حنجرۃ اسم ذات بھی ہے۔ نرخرہ (سانس کی نالی 9 ۔ گلا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 10
Ayah 33:11

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلا مارے گئے

هُنَالِكَ [وہیں ] ابْتُلِيَ [آزمائے گئے ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ایمان لانے والے ] وَزُلْزِلُوْا [اور ہلا مارے گئے ] زِلْزَالًا شَدِيْدًا [شدت سے ہلا مارنا ] ۔
Ayah 33:12

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے

وَاِذْ يَقُوْلُ [اور جب کہتے تھے ] الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ [منافق اور وہ لوگ ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [جن کے دلوں میں ] مَّرَضٌ [مرض تھا ] مَّا وَعَدَنَا [نہیں وعدہ کیا ہم سے ] اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ [اللہ نے اور اس کے رسول نے ] [ اِلَّا غُرُوْرًا : مگر دھوکوں کا ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 12 میں منافقوں کا قول گزر چکا ہے کہ دشمنوں کے ہجوم کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جو وعدے ہم سے کئے گئے وہ سب فریب ثابت ہوئے۔ اب آیت۔ 22 میں ان کے مقابل میں سچے مسلمانوں کا تاثر بیان ہوا ہے کہ انہوں نے دشمنوں کے نرغہ کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو وہی امتحان ہمیں پیش آیا ہے جس کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے پہلے سے ہمیں خبر دی تھی۔ یہ اشارہ قرآن کی متعدد آیات کی طرف ہے جن میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة البقرہ کی آیات۔ 24 میں ہے کہ تم لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی ایسے حالات پیش نہیں آئے جو ان کو پیش آئے جو تم سے پہلے تھے۔ یا سورة عنکبوت کی آیت۔ 2 میں ہے کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ یہ کہنے پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا۔ وغیرہ (تدبر القرآن)
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ "اے یثرب کے لوگو، تمہارے لیے اب ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، پلٹ چلو" جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبیؐ سے رخصت طلب کر رہا تھا کہ "ہمارے گھر خطرے میں ہیں،" حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے، دراصل وہ (محاذ جنگ سے) بھاگنا چاہتے تھے

وَاِذْ قَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ [اور جب کہا ایک گروہ نے ] مِّنْهُمْ [ان میں سے ] يٰٓاَهْلَ يَثْرِبَ [اے یثرب کے لوگو ] لَا مُقَامَ [کوئی ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] فَارْجِعُوْا ۚ [تو تم لوگ واپس چلو ] وَيَسْتَاْذِنُ [اور اجازت مانگی ] فَرِيْقٌ مِّنْهُمُ [ایک فریق نے ان میں سے ] النَّبِيَّ [ان نبی ﷺ سے ] يَقُوْلُوْنَ [کہتے ہوئے ] اِنَّ [کہ ] بُيُوْتَنَا عَوْرَةٌ ړ [ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں ] وَمَا هِىَ [حالانکہ وہ ] بِعَوْرَةٍ ڔ [غیر محفوظ نہیں تھے ] اِنْ يُّرِيْدُوْنَ [وہ لوگ ارادہ نہیں رکھتے ] اِلَّا فِرَارًا [مگر فراز ہونے کا ] ۔ نوٹ۔ 1: اس میں اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب ، جو جنگ خندق کے نام سے مشہور ہے، اور غزوہ بنو قریظہ پر تبصرہ ہے۔ ان کے حالات بہت معروف ہیں اس لئے ان کو دہرایا نہیں جائے گا۔ غزوہ احزاب میں کافروں کی شکست کے دنیاوی اسباب بھی متعدد تھے۔ ان میں سے دو زیادہ اہم ہیں۔ کافروں کے لشکر میں یہودیوں اور مشرکین مکہ کے علاوہ دوسرے قبائل دراصل کرائے کے فوجی تھے جن کو مختلف نوعیت کے لالچ دے کر اور وعدے کرکے اس جنگ میں شریک پر آمادہ کیا گیا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ عرب لوگ جنگجو تو تھے لیکن ان کی جنگ یہ ہوتی تھی کہ حملہ کیا، ماردھاڑ کی ، لوٹ مار کی اور واپس چلے گئے۔ طویل جنگ کا ان کو کوئی تجربہ نہیں تھا اور نہ وہ اس کے لئے تیار ہوکر آئے تھے۔ ایک ماہ کے محاصرے کے دوران مدینہ والوں کو ضروریات کی سپلائی معطل ہوگئی تھی لیکن خود کافروں کی خوراک کی سپلائی کا کوئی انتظار نہیں تھا۔ (حافظ احمد یاد صاحب کی کیسٹ سے ماخوذ) ۔
Ayah 33:14

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھس آئے ہوتے اور اُس وقت انہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامل ہوتا

وَلَوْ دُخِلَتْ [اور اگر (کچھ لشکر) گھس آتے ] عَلَيْهِمْ [ان لوگوں پر ] مِّنْ اَقْطَارِهَا [اس (یثرب) کے کناروں سے ] ثُمَّ سُىِٕلُوا [پھر ان سے مانگا جاتا ] الْفِتْنَةَ [فتنہ (یعنی ارتداد)] لَاٰتَوْهَا [تو یہ لوگ ضرور دے بیٹھتے وہ (مرتد ہوجاتے)] وَمَا تَلَبَّثُوْا بِهَآ [اور دیر نہ کرتے اس میں (مرتد ہونے میں)] اِلَّا يَسِيْرًا [مگر تھوڑی سی ] ۔ ترکیب : (آیت۔ 14) ۔ دخل۔ یدخل فعل لازم ہے جس کا مجہول نہیں آتا۔ لیکن یہاں دخلت فعل مجہول استعمال ہوا ہے۔ یہ عربی کا مخصوص استعمال ہے کہ اس کا مجہول دخل۔ یدخل اور باب سمع سے دخل۔ یدخل دونوں فعل معروف کے معانی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس کے معنی ہوتے ہیں کسی جگہ کسی خرابی کا دخل ہونا۔ (المنجد) ۔ دخلت واحد مؤنث کا صیغہ ہے۔ اس کا فاعل اس میں شامل ہی کی ضمیر ہے جو جنود کے لئے ہے۔ اقطارھا میں ھا کی ضمیر یثرب کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور بیوت کے لئے بھی۔ ہم اس کو یثرب کے لئے ماننے کو ترجیح دیں گے۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہی تھی

وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا [اور یقینا یہ لوگ معاہدہ کرچکے تھے ] اللّٰهَ [اللہ سے ] مِنْ قَبْلُ [پہلے سے ] [لَا يُوَلُّوْنَ : (کہ) وہ لوگ نہیں پھیریں گے ] الْاَدْبَارَ ۭ [پیٹھوں کو ] وَكَانَ [اور ہے ] عَهْدُ اللّٰهِ [اللہ کا عہد ] مَسْـُٔــوْلًا [پوچھا جانے والا ] ۔
Ayah 33:16

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

اے نبیؐ! ان سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہو گا اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا

قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ [ہرگز نفع نہیں دے گا تم لوگوں کو ] الْفِرَارُ [بھاگنا ] اِنْ فَرَرْتُمْ [اگر تم لوگ بھاگتے ہو ] مِّنَ الْمَوْتِ [موت سے ] اَوِ الْقَتْلِ [یا قتل ہونے سے ] وَاِذًا [اور تب تو ] لَّا تُمَـتَّعُوْنَ [تم کو فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا ] [اِلَّا قَلِيْلًا : مگر تھوڑا سا (چند دن)]
Ayah 33:17

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

اِن سے کہو، کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہو اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے؟ اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر مہربانی کرنا چاہے؟ اللہ کے مقابلے میں تو یہ لوگ کوئی حامی و مدد گار نہیں پا سکتے ہیں

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] مَنْ ذَا الَّذِيْ [کون ہے وہ جو ] يَعْصِمُكُمْ [بچائے گا تم کو ] مِّنَ اللّٰهِ [اللہ سے ] اِنْ اَرَادَ [اگر وہ ارادہ کرے ] بِكُمْ [تمہارے بارے میں ] سُوْۗءًا [کسی برائی کا ] اَوْ اَرَادَ بِكُمْ [یا وہ ارادہ کرے تمہارے بارے میں ] رَحْمَةً ۭ [کسی رحمت کا ] وَلَايَجِدُوْنَ [اور وہ نہیں پائیں گے ] لَهُمْ [اپنے لئے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] وَلِيًّا [کوئی ولی ] وَّلَا نَصِيْرًا [اور نہ کوئی مدد کرنے والا ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 17 ۔ میں عربی کے معروف قاعدے کے مطابق اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً سے پہلے جملہ کا ایک حصہ محذوف ہے۔ پوری بات یوں ہے۔ او یمسک رحمتہ ان ارادبکم رحمۃ۔ (یا اس کی رحمت کو روک سکے اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے) ۔ عربی میں حذف کے اس اسلوب کی مثالیں بہت ہیں لیکن اردو میں یہ اسلوب موجود نہیں ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جنگ کے کام میں) رکاوٹیں ڈالنے والے ہیں، جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ "آؤ ہماری طرف" جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنانے کو

قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ [جانتارہا ہے اللہ ] الْمُعَوِّقِيْنَ [روکنے والوں کو ] مِنْكُمْ [تم میں سے ] وَالْقَاۗىِٕلِيْنَ [اور کہنے والوں کو ] لِاِخْوَانِهِمْ [اپنے بھائیوں سے ] هَلُمَّ [چلے آئو ] اِلَيْنَا ۚ [ہماری طرف ] وَلَا يَاْتُوْنَ [ اور وہ لوگ نہیں آئے ] الْبَاْسَ [جنگ کے پاس ] اِلَّا قَلِيْلًا [مگرتھو ڑاسا (کبھی کبھی) ۔ ع و ق (ن) عوقا روکنا۔ باز رکھنا۔ منع کرنا۔ (تفعیل) تعویقا کثرت سے روکنا۔ بار بار منع کرنا۔ معوق اسم الفاعل ہے۔ روکنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18
Ayah 33:19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں خطرے کا وقت آ جائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آ جاتے ہیں یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے، اسی لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کر دیے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے

اَشِحَّةً [کنجوسی کرنے والے ہوتے ہوئے ] عَلَيْكُمْ ښ [تم لوگوں پر ] فَاِذَا جَاۗءَ الْخَوْفُ [پھر جب آتا ہے خوف (کا وقت)] رَاَيْتَهُمْ [آپ ﷺ دیکھتے ہیں ان کو ] [يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ : [(کہ) وہ لوگ دیکھتے ہیں آپ ﷺ کی طرف ] [تَدُوْرُ [گھومتی ہیں ] اَعْيُنُهُمْ [ان کی آنکھیں ] كَالَّذِيْ [اس کی مانند ] يُغْشٰى عَلَيْهِ [ڈھانپ دیا جاتا ہے جس پر ] مِنَ الْمَوْتِ ۚ [موت میں سے ] فَاِذَا ذَهَبَ [پھر جب چلا جاتا ہے ] الْخَوْفُ [خوف (کا وقت)] سَلَقُوْكُمْ [تو یہ لوگ چرب زبانی کرتے ہیں تم لوگوں سے ] بِاَلْسِـنَةٍ حِدَادٍ [تیز تیز زبانوں کے ساتھ ] اَشِحَّةً [رال ٹپکانے والے ہوتے ہوئے ] عَلَي الْخَــيْرِ ۭ [بھلائی (مال غنیمت) پر ] اُولٰۗىِٕكَ [یہ لوگ ہیں ] لَمْ يُؤْمِنُوْا [جو ایمان لائے ہی نہیں ] فَاَحْبَطَ اللّٰهُ [تو اکارت کیا اللہ نے ] اَعْمَالَهُمْ ۭ [ان کے اعمال کو ] وَكَانَ ذٰلِكَ [اور یہ ہے ] عَلَي اللّٰهِ [اللہ پر ] يَسِيْرًا [ آسان ] ۔ س ل ق (ن) سلقا (1) زبان درازی کرنا۔ طعنہ دین۔ (2) چرب زبانی کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 19 نوٹ۔ 1: آیت۔ 19 ۔ میں اولئک لم یؤمنوا سے یسیرا تک کا جو حصہ ہے یہ کچھ لوگوں کی بعض شدید قسم کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہے۔ بہت سے لوگ ارادے اور نیت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ ان لوگوں کے خیال میں کسی کا کوئی عمل اگر اچھا ہے ہے تو وہ لازما آخرت میں بھی اس کا ثواب پائے گا۔ حالانکہ یہ بات حقیقت کے بالکل خلاف ہے ۔ اللہ کے ہاں کسی کے بڑے سے بڑے عمل کی بھی کوئی وقعت نہیں ہے اگر وہ اس کی رضا کے لئے نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ ہر اس عمل کو قبول فرمائے گا جو اس احکام کے مطابق اور خالص اس کی رضا جوئی کے لئے کیا جائے۔ اگر کوئی عمل اس کی رضا جوئی کے سوا کسی اور کی رضا یا کسی اور غرض کے لئے کیا جائے تو ایسے عمل کع اللہ تعالیٰ عمل کرنے والے کے منہ پر پھینک مارے گا کہ اس کا صلہ وہ ان سے لے جن کی خوشنودی کے لئے اس نے کیا ہے۔ بعض لوگوں کو یہ مغالطہ بھی ہوجاتا ہے کہ خدا بڑا مہربان و کریم ہے۔ اس وجہ سے جو کچھ بھی اور جس طرح بھی کوئی نیکی کا کام کر دے گا وہ اس کو قبول فرمائے گا۔ اس میں ذرا شبہ نہیں کہ خدا بڑا ہی مہربان و کریم ہے لیکن ساتھ ہی وہ نہایت غیور و غنی بھی ہے۔ اس وجہ سے ایسے لوگوں کے اعمال کو پامال کردینا اس پر ذرا بھی گراں نہیں ہوگا جن کا قبول کرنا اس کی غیرت کے منافی ہو۔ (تدبر القرآن)
Ayah 33:20

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں اور اگر وہ پھر حملہ آور ہو جائیں تو ان کا جی چاہتا ہے کہ اُس موقع پر یہ کہیں صحرا میں بدوؤں کے درمیان جا بیٹھیں اور وہیں سے تمہارے حالات پوچھتے رہیں تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے

يَحْسَبُوْنَ [وہ لوگ سمجھتے ہیں ] الْاَحْزَابَ [لشکروں کو ] لَمْ يَذْهَبُوْا ۚ [(کہ) وہ گئے ہی نہیں ] وَاِنْ يَّاْتِ [اور اگر آجاتے ] الْاَحْزَابُ [لشکر ] يَوَدُّوْا [تو وہ لوگ آرزو کرتے ] لَوْ اَنَّهُمْ [(کہ) کاش وہ لوگ ] بَادُوْنَ [صحرا نشین ہوتے ] فِي الْاَعْرَابِ [دیہاتوں میں ] يَسْاَلُوْنَ [پوچھتے ہوتے ] عَنْ اَنْۢبَاۗىِٕكُمْ ۭ [تمہاری خبروں کے بارے میں ] وَلَوْ كَانُوْا [اور اگر وہ ہوتے ] فِيْكُمْ [تم لوگوں میں ] مَّا قٰتَلُوْٓا [تو وہ لوگ جنگ نہ کرتے ] اِلَّا قَلِيْلًا [مگر تھوڑا سا ] ۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے

لَقَدْ كَانَ [یقینا ہوچکا ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ [اللہ کے رسول میں ] اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [ایک بھلائی والا نمونہ ] لِّمَنْ [اس کے لئے جو ] كَانَ يَرْجُوا [امید کرتا رہے ] اللّٰهَ [اللہ (کی رحمت) کی ] وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ [اور آخری دن (کے اجر) کی ] وَذَكَرَ اللّٰهَ [اور یاد کرے اللہ کو ] كَثِيْرًا [کثرت سے ] ۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور سچے مومنوں (کا حال اُس وقت یہ تھا کہ) جب انہوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ "یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اُس کے رسولؐ کی بات بالکل سچّی تھی" اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا

وَلَمَّا [اور جب ] رَاَ [دیکھا ] الْمُؤْمِنُوْنَ [مومنوں نے ] الْاَحْزَابَ ۙ [لشکروں کو ] قَالُوْا [تو انہوں نے کہا ] ھٰذَا مَا [یہ وہ ہے جو ] وَعَدَنَا [وعدہ کیا ہم سے ] اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ [اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے ] وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ [اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے ] وَمَا زَادَهُمْ [اور اس نے زیادہ نہیں کیا ان کو ] اِلَّآ اِيْمَانًا [مگر بلحاظ ایمان لانے کے ] وَّتَسْلِيْمًا [اور بلحاظ فرمانبرداری کرنے کے ] ۔
Ayah 33:23

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی

مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں میں سے ] رِجَالٌ [کچھ ایسے مرد ہیں ] صَدَقُوْا [جنہوں نے سچ کردیا ] مَا [اس کو ] عَاهَدُوا اللّٰهَ [انہوں نے معاہدہ کیا اللہ سے ] عَلَيْهِ ۚ [جس پر ] فَمِنْهُمْ مَّنْ [تو ان میں بھی ہیں جنہوں نے ] قَضٰى [پورا کیا ] نَحْبَهٗ [اپنی منت کو ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّنْتَظِرُ ڮ [انتظار کرتے ہیں ] وَمَا بَدَّلُوْا [اور انھوں نے تبدیلی نہیں کی ] تَبْدِيْلًا [کچھ بھی تبدیلی ] ۔ ن ح ب (ض۔ ن) نحبا شرط لگانا۔ نذر ماننا۔ نحب نذر۔ منت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔
Ayah 33:24

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

(یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ سچوں کو اُن کی سچائی کی جزا دے اور منافقوں کو چاہے تو سزا دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے، بے شک اللہ غفور و رحیم ہے

لِّيَجْزِيَ اللّٰهُ [نتیجتاً بدلہ دے گا اللہ ] الصّٰدِقِيْنَ [سچ کر دکھانے والوں کو ] بِصِدْقِهِمْ [ان کی سچائی کے سبب سے ] وَيُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ [اور عذاب دے گا منافقوں کو ] اِنْ شَاۗءَ [اگر اس نے چاہا ] اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭ [یا توبہ قبول کرے گا ان کی ] اِنَّ اللّٰهَ كَانَ [یقینا اللہ ہے ] غَفُوْرًا [بے انتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ہرحال میں رحم کرنے والا ] ۔
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا، وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی جلن لیے یونہی پلٹ گئے، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہو گیا، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

وَرَدَّ اللّٰهُ [واپس کردیا اللہ نے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ] بِغَيْظِهِمْ [ان کے غیظ و غضب کے ساتھ ] لَمْ يَنَالُوْا [انہوں نے حاصل نہیں کی ] خَيْرًا ۭ [کوئی بھلائی ] وَكَفَى اللّٰهُ [اور کافی رہا اللہ ] الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں کو ] الْقِتَالَ ۭ [جنگ میں ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور اللہ ہے ] قَوِيًّا [قوت والا ] [عَزِيْزًا :[بالادست ] ۔
Ayah 33:26

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا، اللہ ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور اُن کے دلوں میں اُس نے ایسا رُعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو

وَاَنْزَلَ [اور اس نے اتارا ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں کو جنہوں نے ] ظَاهَرُوْهُمْ [مدد کی ان (کافروں) کی ] مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ [اہل کتاب میں سے ] مِنْ صَيَاصِيْهِمْ [ان کے قلعوں سے ] وَقَذَفَ [اور اس نے پھینک مارا ] فِيْ قُلُوْبِهِمُ [ان کے دلوں میں ] الرُّعْبَ [عرب کو ] فَرِيْقًا [ایک فریق کو ] تَقْتُلُوْنَ [تم لوگ قتل کرتے تھے ] وَتَاْسِرُوْنَ [اور قیدی بناتے تھے ] فَرِيْقًا [کسی فریق کو ] ۔ ص ی ص ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا۔ صیصۃ ج صیاص۔ حفاظت کا ذریعہ۔ قلعہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 26 نوٹ۔ 1: آیت۔ 26 ۔ میں الذین ظاھروھم میں اشارہ ہے بنو قریظہ کی طرف جنہوں نے آنے والے لشکروں کی مددد کی تھی۔ لشکروں کی واپسی کے بعد بنو قریظہ کا محاصرہ کیا گیا جو تقریبا 25 دن جاری رہا۔ پھر یہودیوں نے حضرت سعد بن معاذ ؓ کو حکم مان لیا کہ وہ جو فیصلہ کریں گے ان کو قبول ہوگا۔ حضرت سعد ؓ نے فیصلہ دیا کہ ان کے تمام قابل جنگ افراد قتل کر دئیے جائیں اور باقی لوگوں کو غلام اور لونڈی بنا لیا جائے۔ آیت۔ 27 ۔ میں لم تطئوھا میں مستقبل کی فتوحات کی بشارت ہے خصوصا خیبر کی فتح
Ayah 33:27

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَاَوْرَثَكُمْ [اور اس نے وارث بنایا تم کو ] اَرْضَهُمْ [ان کی زمین کا ] وَدِيَارَهُمْ [اور ان کے گھروں کا ] وَاَمْوَالَهُمْ [اور ان کے مالوں کا ] وَاَرْضًا [اور ایک ایسی زمین کا جس کو ] لَّمْ تَـــطَـــــُٔـوْهَا ۭ [تم نے قدموں سے نہیں روندا ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور اللہ ہے ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز پر ] قَدِيْرًا [قدرت رکھنے والا ] ۔
Ayah 33:28

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبیؐ، اپنی بیویوں سے کہو، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ [اے نبی ﷺ ] قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] لِّاَزْوَاجِكَ [اپنی ازواج سے ] [اِنْ كُنْتُنَّ : اگر تم لوگ ہو (کہ)] تُرِدْنَ [تم لوگ چاہتی ہو ] الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا [دنیوی زندگی کو ] وَزِيْنَتَهَا [اور اس کی زینت کو ] فَتَعَالَيْنَ [تو تم سب آؤ] اُمَتِّعْكُنَّ [میں کچھ سامان دیتا ہوں تم سب کو ] وَاُسَرِّحْكُنَّ [اور میں آزاد کرتا ہوں تم کو ] سَرَاحًا جَمِيْلًا [خوبصورتی سے آزاد کرنا ] ۔ نوٹ۔ 1: غزوہ احزاب کے بعد بنو نضیر، پھر بنو قریظہ کی فتوحات اور اموال غنیمت کی تقسیم نے مسلمانوں میں ایک گونہ خوشحالی پیدا کردی تھی۔ اس وقت ازواج مطہرات کو یہ خٰال ہوا کہ ان اموال غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنا حصہ رکھا ہوگا۔ اس لئے انہوں نے خرچہ میں اضافہ کا مطالبہ کی۔ آیت۔ 28 ۔ 29 ۔ نے ازواج مطہرات کو اختیاردے دیا کہ وہ چاہیں تو رسول اللہ ﷺ کی موجودہ حالت یعنی معاشی تنگی کے ساتھ آپ ﷺ کی زوجیت میں رہیں یا طلاق حاصل کرکے آزاد ہوجائیں۔ قرآن کا یہ حکم سب ازواج کو سنایا گیا اور سب نے اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو اور آخرت کو اختیار کیا۔ (معارف القرآن)
Ayah 33:29

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے

وَاِنْ كُنْتُنَّ [اور اگر تم لوگ ہو (کہ)] تُرِدْنَ [تم لوگ چاہتی ہے ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو ] وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ [اور آخری گھر کو ] فَاِنَّ اللّٰهَ [تو بیشک اللہ نے ] اَعَدَّ [تیار کیا ] لِلْمُحْسِنٰتِ [نیکی کرنے والیوں کے لئے ] مِنْكُنَّ [تم میں سے ] اَجْرًا عَظِيْمًا [ایک اجر عظیم ] ۔
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

نبیؐ کی بیویو، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ [اے نبی ﷺ کی خواتین ] مَنْ [جو کوئی ] يَّاْتِ [کرے گی ] مِنْكُنَّ [تم میں سے ] بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ [کوئی کھلی بےحیائی ] يُّضٰعَفْ [تو بڑھایا جائے گا ] لَهَا [اس کے لئے ] الْعَذَابُ [عذاب کو ] ضِعْفَيْنِ ۭ [دوگنا ] وَكَانَ ذٰلِكَ [اور یہ ہے ] عَلَي اللّٰهِ [اللہ پر ] يَسِيْرًا [آسان ] ۔ نوٹ۔ 2: آیات۔ 30 ۔ 31 میں ازواج مطہرات کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ اگر وہ کوئی غلط کام کریں گی تو ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر وہ کوئی نیک عمل کریں گی تو ان کو ثواب بھی دوہرا دیا جائے گا ایک حیثیت سے یہ ان کے اس عمل کی جزاء ہے جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجیت پر دنیا کی فراخی کو قربان کردیا۔
Ayah 33:31

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور تم میں سے جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے

وَمَنْ يَّقْنُتْ [اور جو کوئی فرمانبرداری کرے گی ] مِنْكُنَّ [تم میں سے ] لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [اللہ کی اور اس کے رسول کی ] وَتَعْمَلْ [اور عمل کرے گی ] صَالِحًا [نیک ] نُّــؤْتِهَآ [تو ہم دیں گے اس کو ] اَجْرَهَا [اس کا اجر ] مَرَّتَيْنِ ۙ [دوبار ] وَاَعْتَدْنَا لَهَا [اور ہم نے تیار کیا اس کے لئے ] رِزْقًا كَرِيْمًا [عزت والی روزی ] ۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 31 ۔ کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات تمام دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں۔ مگر سورة ال عمران کی آیت سے بی بی مریم کا سارے جہاں کی عورتوں سے افضل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافی ہیں تم کو ساری عورتوں میں مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد (ام المؤمنین) اور فاطمہ بنت محمد ﷺ اور آسیہ روجہ فرعون۔ اس حدیث میں بی بی مریم کے ساتھ اور تین عورتوں کو نساء العالمین سے افضل فرمایا ہے۔ اس لئے مذکورہ آیات میں ازواج مطہرات کی فضیلت ایک خاص حیثیت سے ہے یعنی ازواج النبی ہونے کی حیثیت سے، جس میں وہ دوسری عورتوں سے افضل ہیں۔ لیکن اس سے عام فضیلت مطلقہ ثابت نہیں ہوتی۔ (معارف القرآن)
Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

نبیؐ کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ [اے نبی کی خواتین ] لَسْتُنَّ [تم لوگ نہیں ہو ] كَاَحَدٍ [کسی ایک کی مانند ] مِّنَ النِّسَاۗءِ [عورتوں میں سے ] اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ [اگر تم لوگ تقوی اختیار کرو ] فَلَا تَخْـضَعْنَ [پس تم لوگ تواضع مت کرو ] بِالْقَوْلِ [بات سے ] فَيَطْمَعَ [نتیجتاً لالچ کرے ] الَّذِيْ [وہ جس کے ] فِيْ قَلْبِهٖ [دل میں ] مَرَضٌ [کوئی روگ ہو ] وَّقُلْنَ [اور تم لوگ کہو ] قَوْلًا مَّعْرُوْفًا [معقول بات ] ۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیتِ نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے

وَقَرْنَ [اور تم لوگ قرار پکڑو ] فِيْ بُيُوْتِكُنَّ [اپنے گھروں میں ] [وَلَا تَبَرَّجْنَ : اور خود کو نمایاں مت کرو ] تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى [جیسے سابقہ جاہلیت کا نمایاں کرنا ] وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ [اور قائم رکھو نماز کو ] وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ [اور پہنچاؤ زکوۃ ] وَاَطِعْنَ [اور اطاعت کرو ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ [اللہ اور اس کے رسول کی ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُرِيْدُ اللّٰهُ [اللہ چاہتا ہے ] لِيُذْهِبَ [کہ وہ لے جائے ] عَنْكُمُ [تم لوگوں سے ] الرِّجْسَ [گندے (رواج) کو ] اَهْلَ الْبَيْتِ [اے اس گھر والو ] وَيُطَهِّرَكُمْ [اور تاکہ وہ پاک کرے تم کو ] تَطْهِيْرًا [جیسے پاک کرنا ہوتا ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت منقول ہے کہ انھوں نے آیت۔ 33 میں اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات کو قرار دیا اور استدلال میں اگلی آیت واذکرن ما یتلی فی بیوتکن پیش کی۔ لیکن حدیث کی متعدد روایات اس پر شاہد ہیں کہ اہل بیت میں حضرت فاطمہ ؓ اور علی ؓ اور حضرت حسن ؓ اور حسین ؓ بھی شامل ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ در حقیقت ان دونوں اقوال میں جو ائمہ تفسیر سے منقول ہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔ جن لوگوں نے کہا کہ یہ آیت ازواج مطہرات کی شان میں نازل ہوئی اور اہل بیت سے وہ مراد ہیں۔ یہ اس کے منافی نہیں کہ دوسرے حضرات بھی اہل بیت میں شامل ہوں۔ اس لئے صحیح یہی ہے کہ لفظ اہل بیت میں ازواج مطہرات بھی داخل ہیں کیونکہ اس آیت کا شان نزول وہی ہیں اور ارشاد نبوی کے مطابق حضرت فاطمہ و علی و حسن و حسین ؓ بھی اہل بیت میں شامل ہیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بے شک اللہ لطیف اور باخبر ہے

وَاذْكُرْنَ مَا [اور یاد رکھو اس کو جو ] يُتْلٰى [تلاوت کیا جاتا ہے ] فِيْ بُيُوْتِكُنَّ [تمہارے گھروں میں ] مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی آیات میں سے ] وَالْحِكْمَةِ ۭ[اور حکمت میں سے ] اِنَّ اللّٰهَ كَانَ [بیشک اللہ ہے ] لَطِيْفًا [باریک بین ] خَبِيْرًا [باخبر ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 34 ۔ میں ایت اللہ سے مراد قرآن اور الحکمۃ سے مراد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور سنت رسول ﷺ ہے۔ ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ جو شخص ﷺ سے کوئی آیت قرآن یا حدیث سنے اس پر لازم ہے کہ وہ امت کو پہنچائے۔ یہاں تک کہ ازواج مطہرات پر بھی لازم کیا گیا کہ اللہ کی امنات امت کو پہنچائیں۔ (معارف القرآن) ۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ نبی ﷺ کا علم و عمل جتنا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے ذریعہ سے پھیلا ہے اس کی مقدار صحابہ کرام ؓ کے ذریعے پھیلے ہوئے علم سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ اور اس آیت سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اس مشن پر آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کو اللہ تعالیٰ نے خود مامور فرمایا تھا۔ ہمارے نزدیک یہ مصلحت بھی من جملہ ان مصالح کے ہے جن کی بنا پر آپ ﷺ کو تعد و ازواج کی خاص اجازت دی تھی۔ (تدبر القرآن ] ۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 34 ۔ میں حکمت کے لفظ کا اطلق کتاب اللہ کی تعلیمات پر بھی ہوسکتا ہے۔ مگر صرف ان ہی کے ساتھ اس کو خاص کردینے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن کی آیات سنانے کے علاوہ جس حکمت کی تعلیم نبی ﷺ اپنی سیرت پاک سے اور اپنے ارشادات سے دیتے تھے وہ بھی لا محالہ اس میں شامل ہے۔ بعض لوگ محض اس بنیاد پر کہ آیت میں ما یتلی (جو تلاوت کی جاتی ہیں) ک لفظ استعمال ہوا ہے، یہ دعوی کرتے ہیں کہ آیات اللہ اور حکمت سے مراد صرف قرآن ہے کیونکہ تلاوت کا لفظ اصطلاحا قرآن کی تلاوت کے لئے مخصوص ہے۔ لیکن یہ استدلال بالکل غلط ہے۔ تلاوت کے لفظ کو اصطلاح کے طور پر قرآن کی تلاوت کے لئے مخصوص کردینا بعد کے لوگوں کا کام ہے۔ قرآن میں اس لفظ کو اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ سورة البقرہ کی آیت۔ 102 ۔ میں یہی لفظ جادو کے ان منتروں کے لئے استعمال کیا گیا جو شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرکے لوگوں کو سناتے تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن اس لفظ کو اس کے لغوی معنی میں استعمال کرتا ہے، کتاب اللہ کی آیات سنانے کے لئے اصطلاحا مخصوص نہیں کرتا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے

اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ [بیشک تابعداری قبول کرنے والے اور تابعداری قبول کرنے والیاں ] وَالْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ [اور ایمان لانے والے اور ایمان لانے والیاں ] وَالْقٰنِتِيْنَ وَالْقٰنِتٰتِ [اور تابعداری کرنے والے اور تابعداری کرنے والیاں ] وَالصّٰدِقِيْنَ وَالصّٰدِقٰتِ [اور سچ کرنے والے اور سچ کرنے والیاں ] وَالصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰبِرٰتِ [اور ثابت قدم رہنے والے اور ثابت قدم رہنے والیاں ] وَالْخٰشِعِيْنَ وَالْخٰشِعٰتِ [اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں ] وَالْمُتَصَدِّقِيْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ [اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں ] وَالصَّاۗىِٕـمِيْنَ وَالـﮩـىِٕمٰتِ [اور روزہ رکھنے والے اور روزہ رکھنے والیاں ] وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ [اور حفاظت کرنے والے اپنی شرمگاہوں کی ] وَالْحٰفِظٰتِ [اور حفاظت کرنے والیاں ] وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا [اور یاد کرنے والے اللہ کو کثرت سے ] وَّالذّٰكِرٰتِ ۙ [اور یاد کرنے والیاں ] اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ [اللہ نے تیار کیا ان کے لئے ] مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا [ایک مغفرت اور ایک اجر عظیم ] ۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اُس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا

وَمَا كَانَ [اور نہیں ہے ] لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ [کسی مومن مرد اور نہ ہی کسی مومن عورت کے لئے ] اِذَا قَضَى [جب فیصلہ کر دے ] اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ [اللہ اور اس کا رسول ] اَمْرًا [کسی معاملہ کا ] اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ [کہ ہو ان کے لئے ] الْخِـيَرَةُ [اختیار ] مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ [ان کے کام میں ] وَمَنْ يَّعْصِ [اور جو نافرمانی کرتا ہے ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [اللہ اور اس کے رسول کی ] فَقَدْ ضَلَّ [تو وہ بھٹک گیا ہے ] ضَلٰلًا مُّبِيْنًا [صریحا بھٹکنا ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 36 ۔ اس وقت نازل ہوئی تھی جب نبی ﷺ نے حضرت زید ؓ کے لئے بی بی زینب ؓ کے ساتھ نکاح کا پیغام دیا تھا اور بی بی زینب ؓ ور ان کے بھائی نے اسے نامنظور کردیا تھا۔ ان لوگوں کو یہ بات ناگوار تھی کہ اتنے اونچے گھرانے کی لڑکی اور اپنی پھوپھی زاد بہن کے لئے آپ ﷺ اپنے آزاد کردہ غلام دے رہے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اسے سنتے ہیں بی بی زینب ؓ اور ان کے خاندان والوں نے سر اطاعت خم کر دیاا۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے ان کا نکاح پڑھایا، یہ آیت اگرچہ ایک خاص موقعہ پر نازل ہوئی ہے مگر جو حکم اس میں بیان کیا گیا ہے وہ اسلامی آئین کا اصل الاصول ہے اور اس کا اطلاق پورے اسلامی نظام زندگی پر ہوتا ہے۔ اس کی رو سے کسی مسلمان فرد یا قوم یا ادارے یا عدالت یا پارلیمنٹ یا ریاست کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جس معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی حکم ثابت ہو اس میں وہ اپنی آزادی رائے استعمال کرے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اے نبیؐ، یاد کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ "اپنی بیوی کو نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر" اُس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو پھر جب زیدؓ اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہیے تھا

وَاِذْ تَقُوْلُ [اور جب آپ ﷺ کہتے تھے ] لِلَّذِيْٓ [اس (شخص) سے ] اَنْعَمَ اللّٰهُ [انعام کیا اللہ نے ] عَلَيْهِ [جس پر ] وَاَنْعَمْتَ [اور آپ ﷺ نے انعام کیا ] عَلَيْهِ [جس پر ] اَمْسِكْ [(کہ) تو تھامے رکھ ] عَلَيْكَ [اپنے پاس ] زَوْجَكَ [اپنی بیوی کو ] وَاتَّقِ اللّٰهَ [اور تو تقوی کر اللہ کا ] وَتُخْــفِيْ [اور آپ ﷺ چھپاتے تھے ] فِيْ نَفْسِكَ [اپنے جی میں ] مَا [اس کو ] اللّٰهُ مُبْدِيْهِ [اللہ ظاہر کرنے والا تھا جس کو ] وَتَخْشَى النَّاسَ ۚ [اور آپ ﷺ ڈرتے تھے لوگوں سے ] وَاللّٰهُ اَحَقُّ [اور اللہ سب سے زیادہ حقدا ہے ] اَنْ تَخْشٰـىهُ ۭ [کہ آپ ﷺ ڈریں اس سے ] فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ [تو پھر جب پوری کی زید ؓ نے ] مِّنْهَا [اس (بیوی) سے ] وَطَرًا [حاجت (یعنی طلاق دے دی)] زَوَّجْنٰكَهَا [تو ہم نے جوڑا بنایا (نکاح کیا) آپ ﷺ کا ان ؓ سے ] لِكَيْ لَا يَكُوْنَ [تاکہ نہ ہو ] عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں پر ] حَرَجٌ [کوئی حرج ] فِيْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِيَاۗىِٕهِمْ [اپنے منہ بولوں کی بیویوں میں ] اِذَا قَضَوْا [جب وہ پوری کریں ] مِنْهُنَّ [ان سے ] وَطَرًا ۭ[حاجت ] وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ [اور تھا اللہ کا حکم ] مَفْعُوْلًا [کیا جانے والا ] ۔
Ayah 33:38

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے

مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ [نہیں ہے ان نبی ﷺ پر ] مِنْ حَرَجٍ [کوئی بھی حرج ] فِيْمَا [اس میں جو ] فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ ۭ [فرض کیا اللہ نے ان ﷺ کے لئے ] سُـنَّةَ اللّٰهِ [(آپ ﷺ پائیں گے) اللہ کی سنت کو ] فِي الَّذِيْنَ [ان (انبیاء) میں جو ] خَلَوْا [گزرے ] مِنْ قَبْلُ ۭ [اس سے پہلے ] وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ [اور ہے اللہ کا حکم ] قَدَرًا [ایک اندازے سے ] مَّقْدُوْرَۨا [اندازہ کیا ہوا ] ۔
Ayah 33:39

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

(یہ اللہ کی سنت ہے اُن لوگوں کے لیے) جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے

الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو ] يُبَلِّغُوْنَ [تبلیغ کرتے ہیں ] رِسٰلٰتِ اللّٰهِ [اللہ کے پیغامات کی ] وَيَخْشَوْنَهٗ [اور وہ ڈرتے ہیں اس سے ] وَلَا يَخْشَوْنَ [اور وہ لوگ نہیں ڈرتے ] اَحَدًا [کسی ایک سے ] اِلَّا اللّٰهَ ۭ[سوائے اللہ کے ] وَكَفٰى بِاللّٰهِ [اور کافی ہے اللہ ] حَسِيْبًا [بطور حساب کرنے والے کے ] ۔
Ayah 33:40

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

(لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

مَا كَانَ [نہیں ہیں ] مُحَـمَّـدٌ [محمد ﷺ ] اَبَآ اَحَدٍ [کسی ایک کے والد ] مِّنْ رِّجَالِكُمْ [تمہارے مردوں میں سے ] وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ [اور لیکن اللہ کے رسول ہیں ] وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ [اور نبیوں (کے سلسلہ) کو سیل بند کرنے والے ہیں ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور اللہ ہے ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز کا ] عَلِــيْمًا [جاننے والا ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 40 ۔ میں ان لوگوں کے خیال کا رد ہے جو اپنی رسم جاہلیت کے مطابق بی بی زینب ؓ سے نبی ﷺ کے نکاح پر طعن کرتے تھے کہ بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس کے رد کے لئے یہ کہہ دینا کافی تھا۔ آپ ﷺ زید ؓ کے باپ نہیں ہیں بلکہ ان کے باپ حارثہ ہیں۔ مگر اس میں تاکید کے لئے فرمایا کہ آپ ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے بھی باپ نہیں ہیں۔ تو جس کی کوئی اولاد نرینہ نہ ہو اس کو یہ طعن دینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے چار بیٹے پیدا ہوئے۔ بی بی خدیجہ ؓ سے قاسم ، طیب اور طاہر جبکہ ماریہ قبطیہ ؓ سے ابراہیم پیدا ہوئے لیکن یہ سب بچپن میں ہی وفات پاگئے اور ان میں سے کوئی بھی رجال کی حد میں داخل نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ نزول آیت کے وقت آپ ﷺ کا کوئی بیٹا نہ تھا۔ قاسم ، طیب اور طاہر کی وفات ہوگئی تھی اور ابراہیم ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس وضاحت کے ساتھ یہ بھی بتادیا کہ گو آپ ﷺ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں لیکن ایک امت کے روحانی باپ ہیں کیونکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔ (معارف القرآن) آج کل خاتم النبین کے معنی و مفہوم کے متعلق کافی غلط فہمیاں پیدا کردی گئی ہیں اور اچھے خاصے مخلص مسلمانوں کے ذہنوں میں کسی اس کے بارے میں مختلف تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ایسے اصحاب کو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ اس آیت کی تشریح میں مولانا مودودی (رح) کا لکھا ہوا ضمیمہ تفہیم القرآن سے پڑھ لیں۔ پھر بھی تسلی نہ ہو تو مفتی محمد شفیع کی کتاب ختم نبوت پڑھ لیں جس میں ایک سو آیات اور دو سو سے زائد احادیث ہیں۔ یوں ہی رجما بالغیب کرکے وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے ، صرف اپنی آخرت خراب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔ یہاں پر میں صرف دو باتیں ذہن نشین کروانا چاہتا ہوں۔ اولا یہ کہ مختلف مسائل میں صحابہ کرام ؓ کے درمیان اختلاف رائے ہوتا تھا۔ اور خلیفہ وقت فیصلہ کرتا تھا کہ کسی رائے پر عمل کیا جائے۔ مثلا رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد کچھ قبیلوں نے زکوۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ اس وقت ایک رائے یہ تھی کہ زکوٰۃ کا انکار کرنے سے یہ لوگ کافر ہوگئے اس لئے ان سے جنگ کی جائے دوسری رائے یہ تھی کہ حالات کی سنگینی کے پیش مصلحت سے کام لیا جائے اور جنگ نہ کی جائے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسیلمہ کذاب کے مسئلہ میں بھی حضرت ابوبکر ؓ نے مشاورت طلب کی تھی۔ اس وقت بلا استثناء تمام صحابہ کرام ؓ کا متفقہ فیصلہ تھا کہ مسیلمہ کافر ہوگیا اس لئے اس سے جنگ کی جائے۔ اس سے یہ بات سوا نیزے پر دمکتے ہوئے سورج کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ خاتم النبین کے معنی اور مفہوم کے بارے میں کسی ایک بھی صحابی کے ذین میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ ثانیا یہ کہ دور صحابہ کے صدیوں بعد اور آج سے صدیوں پہلے امام غزالی (رح) تعالیٰ نے اس آیت کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے ، اسے ہم معارف القرآن سے نقل کر رہے ہیں اور وہ ذہن کی آنکھ کھولنے کے لئے کافی ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ” اس آیت میں کسی تاویل یا تخصیص کی گنجائش نہیں ہے اور جو شخص تاویل کرکے اس میں کوئی تخصیص نکالے اس کا کلام ہذیان (یعنی کسی مخبوط الحواس کی بڑ بڑاہٹ) کی قسم سے ہے اور یہ تاویل اس کو کافر کہنے سے نہیں روک سکتی کیونکہ وہ اس آیت کی تکذیب کر رہا ہے “۔ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بےاثر