32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 32:1
الۗمّۗ
Ayah 32:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اِس کتاب کی تنزیل بلا شبہ رب العالمین کی طرف سے ہے

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [اس کتاب کا اتارنا ہے ] لَا رَيْبَ [کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے ] فِيْهِ [جس میں ] مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ [تمام جہانوں کے رب (کی طرف) سے ]
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں

اَمْ [یا ] يَقُوْلُوْنَ [وہ لوگ کہتے ہیں ] افْتَرٰىهُ ۚ [انھوں ﷺ نے گھڑا ہے اس کو ] بَلْ هُوَ الْحَـقُّ [بلکہ وہ ہی حق ہے ] مِنْ رَّبِّكَ [آپ ﷺ کا رب (کی طرف) سے ] لِتُنْذِرَ [تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں ] قَوْمًا [ایک ایسی قوم کو ] مَّآ اَتٰىهُمْ [نہیں پہنچا جن کے پاس ] مِّنْ نَّذِيْرٍ [کوئی بھی خبردار کرنے والا ] مِّنْ قَبْلِكَ [آپ ﷺ سے پہلے ] لَعَلَّهُمْ [شاید وہ لوگ ] يَهْتَدُوْنَ [ہدایت پائیں ] ۔ آیت۔ 3 ۔ میں لفظ نذیر اپنے عام لغوی معنی میں ہے، یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے والا (آخرت کے انجام سے خبردار کرکے) ، وہ خواہ رسول اور پیغمبر ہو یا ان کا کوئی نائب، خلیفہ، یا عالم دین۔ جیسا کہ ابوحیان نے فرمایا کہ توحید اور ایمان کی دعوت کسی زمانے، کسی جگہ اور کسی قوم میں کبھی منقطع نہیں ہوئی۔ جب کہیں نبوت پر زما نہ دراز گزر جانے کے بعد اس نبوت کا علم رکھنے والے علماء بہت کم رہ گئے تو کوئی دوسرا نبی و رسول مبعوث ہوگیا۔ روح المعانی میں مو سیٰ بن عقبہ کی مغازی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل، جو نبی ﷺ سے ملے تھے لیکن آپ ﷺ کی نبوت سے پانچ سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا تھا، ان کا حال یہ تھا کہ قریش کو بت پرستی سے روکتے تھے۔ بتوں کے نام پر قربانی دینے کو بہت برا کہتے تھے اور اس کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ ان کے بیٹے حضرت سعید ؓ بن زید عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ انہوں نے بنی ﷺ سے پوچھا کہ میرے والد کا جو حال تھا وہ آپ ﷺ کو معلوم ہے، تو کیا میں ان کے لئے دعائے مغفرت کرسکتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یاں ان کے لئے دعائے مغفرت جائز ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور اُن ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا، اُس کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی و مدد گار ہے اور نہ کوئی اُس کے آگے سفارش کرنے والا، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟

اَللّٰهُ الَّذِيْ [اللہ وہ ہے جس نے ] خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] وَمَا بَيْنَهُمَا [اور اس کو جو ان دونوں کے درمیان ہے ] فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ [چھ دنوں میں ] ثُمَّ اسْتَوٰي [پھر وہ متمکن ہوا ] عَلَي الْعَرْشِ ۭ [عرش پر ] مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ [تم لوگوں کے لئے نہیں ہے اس کے سوا ] مِنْ وَّلِيٍّ [کوئی بھی کارساز ] وَّلَا شَفِيْعٍ ۭ [اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ] [اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ : تو کیا تم لوگ نصیحت نہیں پکڑو گے ]
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمان سے زمین تک دُنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اُوپر اُس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے

[يُدَبِّرُ الْاَمْرَ : وہ تدبیر کرتا ہے تمام معاملات کی ] مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَى الْاَرْضِ [آسمانوں سے زمین کی طرف ] ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ [پھر وہ (معاملہ) عروج کرتا ہے اس کی طرف ] فِيْ يَوْمٍ [ایک ایسے دن میں ] كَانَ [ہے ] مِقْدَارُهٗٓ [جس کے اندازے کا پیمانہ ] اَلْفَ سَـنَةٍ [ایک ہزار سال ] مِّمَّا تَعُدُّوْنَ [جس سے تم لوگ گنتی کرتے ہو ]
Ayah 32:6

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، زبردست، اور رحیم

ذٰلِكَ [یہ ہے ] عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ [ظاہر اور پوشیدہ کا جاننے والا ] الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ [جو بالادست ہے رحم کرنے والا ہے ] ۔
Ayah 32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی اُ س نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی

الَّذِيْٓ [وہ جس نے ] اَحْسَنَ [حسن دیا ] كُلَّ شَيْءٍ [ہر اس چیز کو ] خَلَقَهٗ [اس نے پیدا کیا جس کو ] وَبَدَاَ [اور اس نے ابتدا کی ] خَلْقَ الْاِنْسَانِ [انسان کی تخلیق کی ] مِنْ طِيْنٍ [ایک گارے سے ] ۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اُس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے

ثُمَّ جَعَلَ [پھر اس نے بنایا ] نَسْلَهٗ [اس کی نسل کو ] مِنْ سُلٰلَةٍ [ایک جوہر سے ] مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ [حقیر پانی میں سے ] ۔ م ھـ ن (ک) مھانۃ حقیر و ذلیل ہونا۔ بےوقعت ہونا۔ مھین فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ حقیر۔ بےوقعت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 8 ۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور دِل دیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو

ثُمَّ سَوّٰىهُ [پھر اس نے نوک پلک درست کی اس کی ] وَنَفَخَ فِيْهِ [اور پھونکا اس میں ] مِنْ رُّوْحِهٖ [اپنی روح میں سے ] وَجَعَلَ لَكُمُ [اور بنایا تمہارے لئے ] السَّمْعَ [سننے (کی صلاحیت) کو ] وَالْاَبْصَارَ [اور آنکھیں ] وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ [اور دل ] قَلِيْلًا [بہت ہی تھوڑا ] مَّا تَشْكُرُوْنَ [تم لوگ شکر کرتے ہو ] ۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں: "جب ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟" اصل بات یہ ہے کہ یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

وَقَالُوْٓا [اور ان لوگوں نے کہا ] ءَاِذَا [کیا جب ] ضَلَلْنَا [ہم گم (رل مل) جائیں گے ] فِي الْاَرْضِ [زمین (مٹی) میں ] ءَاِنَّا [تو کیا ہم ] لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ڛ [ضرور نئے (سرے سے) پیدا کئے جائیں گے ] بَلْ هُمْ [بلکہ وہ لوگ ] بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ [اپنے رب سے ملاقات کا ] كٰفِرُوْنَ [انکار کرنے والے ہیں ] ۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

اِن سے کہو "موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لے گا اور پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹا لائے جاؤ گے"

قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] يَتَوَفّٰىكُمْ [موت دے گا تم لوگوں کو ] مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ [موت کا وہ فرشتہ جس کو ] وُكِّلَ [نگہبان مقرر کیا گیا ] بِكُمْ [تم پر ] ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ [پھر تمہارے رب کی طرف ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔ نوٹ۔ 1: عرب میں دین حق کی روشنی سب سے پہلے حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے ذریعہ سے پہنچی تھی جو زمانہ قبل تاریخ میں گزرے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) آئے جن کا زمانہ حضور ﷺ سے ڈھائی ہزارر سال قبل گزرا ہے۔ اس کے بعد آخری پیغمبر جو عرب کی سرزمین میں نبی ﷺ سے پہلے بھیجے گئے وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔ اور ان کی آمد پر بھی تقریبا دو ہزار برس گزر چکے تھے۔ یہ اتنی طویل مدد ہے کہ اس لحاظ سے آیت۔ 3 ۔ میں یہ کہنا بالکل بجا تھا کہ اس قوم کے اندر کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ جب نبی ﷺ سے پہلے صدہا برس تک عربوں میں کوئی نبی نہیں آیا تو اس جاہلیت کے دور میں گزرے ہوئے لوگوں سے باز پرس کس بنیاد پر ہوگی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دین کا تفصیلی علم چاہے اس جاہلیت کے زمانے میں لوگں کے پاس نہ رہا ہو مگر یہ بات اس زمانے میں بھی لوگوں سے پاشیدہ نہ تھی کہ اصل دین توحید ہے اور انبیاء (علیہم السلام) نے کبھی بت پرستی نہیں سکھائی۔ یہ حقیقت ان روایات میں بھی محفوظ تھی جو عرب کے لوگوں کو اپنی سرزمین کے انبیاء سے پہنچی تھی اور قریب کی سرزمین میں آئے ہوئے انبیاء حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کی تعلیمات کے واسطے سے بھی وہ اس حقیقت کو جانتے تھے۔ عرب کی روایات میں یہ بات بھی مشہور و معروف تھی کہ اہل عرب کا اصل دین ، دین ابراہیمی تھا اور بت پرستی بعد میں شروع ہوئی۔ شرک اور بت پرستی کا رواج عام ہوجانے کے باوجود عرب کے مختلف حضور میں جگہ جگہ ایسے لوگ موجود تھے جو شرک کا انکار کرتے تھے، توحید کا اعلان کرتے تھے اور بتوں پر قربانیوں کی اعلانیہ مذمت کرتے تھے ۔ نبی ﷺ سے بالکل قریب زمانے میں بہت سے لوگوں کے حالات ہمیں تاریخوں میں ملتے ہیں جنہیں حنفاء کے نام سے ید کیا جاتا ہے۔ یہ سب لوگ توحید کو اصل دین کہتے کو اصل دین کہتے تھے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

کاش تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے (اُس وقت یہ کہہ رہے ہوں گے) "اے ہمارے رب، ہم نے خوب دیکھ لیا اور سُن لیا اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں، ہمیں اب یقین آگیا ہے"

وَلَوْ [اور کاش ] تَرٰٓي [تو تصور کرے ] اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ [جب مجرم لوگ ] نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ [اپنے سروں کو اوندھا کرنے والے ہیں ] عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ [اپنے رب کے پاس ] رَبَّنَآ [(اور کہنے والے ہیں) اے ہمارے رب ] اَبْصَرْنَا [ہم بینا ہوگئے ] وَسَمِعْنَا [اور ہم نے سن لیا ] فَارْجِعْنَا [پس تو لوٹا دے ہم کو ] نَعْمَلْ [تو ہم عمل کریں گے ] صَالِحًا [نیکی کے ] اِنَّا مُوْقِنُوْنَ [بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 12 ۔ میں مجرموں کی اس درخواست پر کہ ہم کو واپس بھیج دے اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت کا مشاہدہ اور تجربہ کرا کے ہدایت دینا ہوتا تو دنیا کی امتحان گاہ میں تم کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ ایسی ہدایت تو ہم پہلے ہی تم کو دے سکتے تھے۔ لیکن ہم تو حقیقت کو نگاہوں سے اوجھل اور حواس سے مخفی رکھ کر تمہارا امتحان لینا چاہتے تھے کہ تم حقیقت کو براہ راست دیکھنے کے بجائے کائنات میں اور خوداپنے نفس میں اس کی علامات دیکھ کر اپنی عقل سے اس کو پہچانتے ہو یا نہیں۔ ہم اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے اس حقیقت شناسی میں تمہاری جو مدد کرتے ہیں اس سے فائدہ اٹھا تے ہو یا نہیں۔ اور حقیقت جان لیتے کے بعد اپنے نفس پر اتنا قابو پا تے ہو یا نہیں کہ خواہشات اور اغراض کی بندگی سے آزاد ہو کر اس حقیقت کو مان جا ئو اور اس کے مطابق اپنا طرز عمل درست کرلو۔ اس امتحان میں تم ناکام ہوچکے ہو۔ اب دو بارہ اسی امتحان کا سلسلہ شروع کرنے سے کیا حاصل ہوگا ۔ دوسرا امتحان اگر اس طرح لیا جائے کہ تمہیں وہ سب کچھ یاد ہو جو تم نے یہاں دیکھ اور سن لیا ہے تو سرے سے کوئی امتحان ہی نہ ہوگا۔ اور اگر پہلے کی طرح تمہیں خالی الذہن کرکے اور حقیقت کو اوجھل رکھ کر تمہیں پھر دنیا میں پیداکر دیاجائے تو نتیجہ پہلے امتحان سے کچھ مختلف نہ ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

(جواب میں ارشاد ہو گا) "اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پُوری ہو گئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنّم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا

وَلَوْ [اور اگر ] شِئْنَا [ہم چاہتے ] لَاٰتَيْنَا [تو ہم ضرور دیتے ] كُلَّ نَفْسٍ [ہر نفس کو ] هُدٰىهَا [اس کی ہدایت ] وَلٰكِنْ حَقَّ [اور لیکن مقصد کے مطابق ہوئی ] الْقَوْلُ [وہ بات ] مِنِّيْ [میری طرف سے ] لَاَمْلَئَنَّ [(کہ) میں لازما بھر دوں گا ] جَهَنَّمَ [جہنم کو ] مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [جنوں اور انسانوں سے ] اَجْمَعِيْنَ [سب سے ]
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

پس اب چکھو مزا اپنی اِس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا، ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کر دیا ہے چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزا اپنے کرتوتوں کی پاداش میں"

فَذُوْقُوْا [تو چکھو ] بِمَا [اس کو جو ] نَسِيْتُمْ [تم لوگوں نے بھلا دیا ] لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا ۚ [تمہاری اس دن کی ملاقات کو ] اِنَّا نَسِيْنٰكُمْ [بیشک ہم نے بھلا دیا تم کو ] وَذُوْقُوْا [اور تم لوگ چکھو ] عَذَابَ الْخُلْدِ [ہمیشگی کے عذاب کو ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کیا کرتے تھے ] ۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے

اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [يُؤْمِنُ : ایمان لاتے ہیں ] [بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں پر ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو (ہیں کہ)] اِذَا ذُكِّرُوْا [جب ان کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے ] بِهَا [ان (نشانیوں) کے ذریعہ سے ] خَرُّوْا [تو وہ گرپڑتے ہیں ] سُجَّدًا [سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ] وَّسَبَّحُوْا [اور تسبیح کرتے ہیں ] بِحَمْدِ رَبِّهِمْ [اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ [اور وہ لوگ بڑے نہیں بنتے ] ۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُنہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

تَـتَجَافٰى [الگ ہوتے ہیں ] جُنُوْبُهُمْ [ان کے پہلو ] عَنِ الْمَضَاجِعِ [لیٹنے کی جگہوں سے ] يَدْعُوْنَ [وہ لوگ پکارتے ہیں ] رَبَّهُمْ [اپنے رب کو ] خَوْفًا [ڈرتے ہوئے ] وَّطَمَعًا ۡ [اور آرزو کرتے ہوئے ] وَّمِـمَّا [اور اس سے جو ] رَزَقْنٰهُمْ [ہم نے دیا ان کو ] يُنْفِقُوْنَ [خرچ کرتے ہیں ] ۔ جو (ن) جفوا اعراض کرنا۔ (تفاعل) تجافی کسی جگہ سے الگ ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ [تو نہیں جانتی کوئی جان ] مَّآ اُخْفِيَ [اس کو جو پوشیدہ کیا گیا ] لَهُمْ [ان لوگوں کے لئے ] مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ [آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے ] جَزَاۗءًۢ بِمَا [بدلہ ہوتے ہوئے اس کا جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [یہ لوگ عمل کیا کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 17 ۔ کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کبھی کسی کان نے سنا اور نہ کوئی انسان کبھی اس کا تصور کرسکا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا کہیں یہ ہو سکتا ہے کہ جو شخص مومن ہو وہ اُس شخص کی طرح ہو جائے جو فاسق ہو؟ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے

اَفَمَنْ كَانَ [تو کیا وہ جو تھا ] مُؤْمِنًا [ایمان لانے والا ] كَمَنْ كَانَ [اس کے مانند ہے جو تھا ] فَاسِقًا ڼ [نافرمانی کرنے والا ] لَا يَسْـتَوٗنَ [یہ لوگ برابر نہیں ہوں گے ] ۔
Ayah 32:19

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اُن کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں، ضیافت کے طور پر اُن کے اعمال کے بدلے میں

اَمَّا الَّذِيْنَ [وہ جو لوگ ہیں جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [اور عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [نیکیوں کے ] فَلَهُمْ [تو ان کے لئے ] جَنّٰتُ الْمَاْوٰي ۡ [بسنے کے باغات ہیں ] نُزُلًۢا [مہمان نوازی ہوتے ہوئے ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [یہ لوگ عمل کیا کرتے تھے ] ۔
Ayah 32:20

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے اُن کا ٹھکانا دوزخ ہے جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اُسی آگ کے عذاب کا مزا جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

وَاَمَّا الَّذِيْنَ [اور وہ جو لوگ ہیں جنہوں نے ] فَسَقُوْا [نافرمانی کی ] فَمَاْوٰىهُمُ [تو ان کا ٹھکانا ] النَّارُ ۭ [آگ ہے ] كُلَّمَآ [جب کبھی ] اَرَادُوْٓا [وہ ارادہ کریں گے ] اَنْ يَّخْـرُجُوْا [کہ وہ نکلیں ] مِنْهَآ [اس سے ] اُعِيْدُوْا [وہ لوٹا دئیے جائیں گے ] فِيْهَا [اس میں ] وَقِيْلَ [اور کہا جائے گا ] لَهُمْ [ان سے ] ذُوْقُوْا [تم لوگ چکھو ] عَذَابَ النَّارِ الَّذِيْ [اس آگ کا عذاب ] كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ [تم لوگ جس کو جھٹلاتے تھے ] ۔
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اُس بڑے عذاب سے پہلے ہم اِسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا اِنہیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آ جائیں

وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ [اور ہم لازما چکھائیں گے ان لوگوں کو ] مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى [نزدیک والے عذاب میں سے ] دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ [بڑے عذاب کے علاوہ ] لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [شاید وہ لوگ لوٹ آئیں ] ۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 21 ۔ میں عذاب ادنیٰ سے مراد دنیا کے مصائب، آفات اور امراض وغیرہ ہیں اور عذاب اکبر سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو ان کے گناہوں پر متنبہ کرنے کے لئے دنی میں ان پر مصائب مسلط کردیتا ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور آخرت کے عذاب اکبر سے نجات پائیں۔ اس طرح گنہگاروں کے لئے دنیا کے مصائب اور تکالیف ایک قسم کی رحمت ہی ہیں کہ غفلت سے باز آکر عذاب آخرت سے بچ جائیں ۔ البتہ جو لوگ آفات اکبر۔ انبیاء اور اولیاء اللہ پر جو مصائب آتے ہیں ان کا معاملہ الگ ہے، وہ ان کے امتحان اور رفع درجات کے لئے ہوتے ہیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اُس سے بڑا ظالم کون ہو گا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیر لے ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے

وَمَنْ اَظْلَمُ [اور کون زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنْ [اس سے جس کو ] ذُكِّرَ [یاد دہانی کرائی گئی ] بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ [اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے ] ثُمَّ اَعْرَضَ [پھر اس نے اعراض کیا ] عَنْهَا ۭ [اس سے ] اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ [بیشک ہم ان مجرموں سے ] مُنْتَقِمُوْنَ [انتقام لینے والے ہیں ] ۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اِس سے پہلے ہم موسیٰؑ کو کتاب دے چکے ہیں، لہٰذا اُسی چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہیے اُس کتاب کو ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى [اور بیشک ہم دے چکے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کو ] الْكِتٰبَ [وہ کتاب (تورات)] فَلَا تَكُنْ [تو آپ ﷺ مت ہوں ] فِيْ مِرْيَةٍ [کسی شبہ میں ] مِّنْ لِّــقَاۗىِٕهٖ [اس (کتاب یعنی قرآن) کے ملنے سے ] وَجَعَلْنٰهُ [اور ہم نے بنایا اس (تورات) کو ] هُدًى [ہدایت ] لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [بنی اسرائیل کے لئے ] ۔ ترکیب : (آیت۔ 23) من لقائہ میں ئہ کی ضمیر کو موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے بھی مانا جاسکتا ہے اور الکتب کے لئے بھی۔ دونوں طرح ترجمے کئے گئے ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ہم ضمیر کا مرجع کتاب کو ماننے کو ترجیح دیں گے۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 23 ۔ میں بظاہرخطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن اصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو آپ ﷺ کی رسالت میں اور آپ ﷺ پر کتاب الٰہی کے نازل ہونے میں شک کر رہے تھے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک بندے پر خدا کی طرف سے کتاب نازل ہونا کوئی نرالا واقہ تو نہیں ہے۔ اس سے پہلے متعدد انبیاء پر کتابیں نازل ہوچکی ہیں، جن میں مشہور ترین کتاب وہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی۔ اسی نوعیت کی ایک چیز آج تمہیں دی گئی ہے ، تو اس میں انوکھی بات کیا ہے جس پر خواہ مخواہ شک کیا جائے ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے

وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ [اور ہم نے بنائے ان میں سے ] اَىِٕمَّةً [کچھ ایسے پیشوا ] يَّهْدُوْنَ [جو رہنمائی کرتے تھے ] بِاَمْرِنَا [ہمارے حکم کے مطابق ] لَمَّا [جب ] صَبَرُوْا ڜ [ان لوگوں نے صبر کیا ] وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ [اور وہ لوگ ہماری آیات پر یقین کیا کرتے تھے ] ۔
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

یقیناً تیرا رب ہی قیامت کے روز اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں (بنی اسرائیل) باہم اختلاف کرتے رہے ہیں

[اِنَّ رَبَّكَ : بیشک آپ ﷺ کا رب ] هُوَ يَفْصِلُ [وہ ہی فیصلہ کرے گا ] بَيْنَهُمْ [ان کے مابین ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن ] فِيْمَا [اس میں ] كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ [یہ لوگ جس میں اختلاف کرتے تھے ] ۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

اور کیا اِن لوگوں کو (اِن تاریخی واقعات میں) کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کے رہنے کی جگہوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ اس میں بڑی نشانیاں ہیں، کیا یہ سنتے نہیں ہیں؟

اَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ [اور کیا رہنمائی کی ہی نہیں ان کے لئے ] كَمْ اَهْلَكْنَا [(اس بات نے کہ) ہم نے کتنی ہی ہلاک کیں ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ان سے پہلے ] مِّنَ الْقُرُوْنِ [قوموں میں سے ] يَمْشُوْنَ [یہ لوگ چلتے ہیں ] فِيْ مَسٰكِنِهِمْ ۭ [ان کے گھروں میں ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ۭ [بیشک اس میں یقینا نشانیاں ہیں ] اَفَلَا يَسْمَعُوْنَ [تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں ] ۔ (آیت۔ 26) ۔ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یہ پورا فقرہ لم یھد کا فاعل ہے۔
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

اور کیا اِن لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا کہ ہم ایک بے آب و گیاہ زمین کی طرف پانی بہا لاتے ہیں، اور پھر اسی زمین سے وہ فصل اُگاتے ہیں جس سے ان کے جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں؟ تو کیا انہیں کچھ نہیں سوجھتا؟

اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا انھوں نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّا نَسُوْقُ [کہ ہم ہانکتے (رواں کرتے) ہیں ] الْمَاۗءَ [پانی کو ] اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ [بنجر زمین کی طرف ] فَنُخْرِجُ بِهٖ [پھر ہم نکالتے ہیں اس سے ] زَرْعًا [ایک ایسی کھیتی ] تَاْكُلُ مِنْهُ [کھاتے ہیں جس سے ] اَنْعَامُهُمْ [ان کے مویشی ] وَاَنْفُسُهُمْ ۭ [اور ان کی جانیں (خود بھی)] ۔ ااَفَلَا يُبْصِرُوْنَ [تو کیا ان کو سجھائی نہیں دیتا ] ۔ نوٹ۔ 2: خشک زمین کو سیراب کرنے اور اس میں نباتات اگانے کا ذکر قرآن کریم میں جابجا اس طرح آیا ہے کہ زمین پر بارش برستی ہے اس سے زمین تر و تازہ ہو کر اگانے کے قابل ہوجاتی ہے۔ مگر آیت۔ 27 میں بارش کے بجائے پانی کو زمین پر چلا کر خشک زمین کی طرف لے جانے اور اس سے نباتات اگانے کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی بارش کسی دوسری زمین پر نازل کی جاتی ہے۔ پھر وہاں سے ندی نالوں کے ذریعہ زمین پر چلا کر پانی کو خشک زمین کی طرف لے جایا جاتا ہے جہاں بارش نہیں ہوتی یا کم ہوتی ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ فیصلہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو؟"

وَيَقُوْلُوْنَ [اور وہ لوگ کہتے ہیں ] مَتٰى [کب ہے (ہوگا)] ھٰذَا الْفَتْحُ [یہ فیصلہ ] اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ [اگر تم لوگ سچ کہنے والے ہو ] ۔
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

ان سے کہو "فیصلے کے دن ایمان لانا اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو گا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر اُن کو کوئی مہلت نہ ملے گی"

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] يَوْمَ الْفَتْحِ [فیصلے کے دن ] لَا يَنْفَعُ [نفع نہیں دے گا ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا [ان کو جنہوں نے کفر کیا ] اِيْمَانُهُمْ [ان کا ایمان ] وَلَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ : [اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی ] ۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

اچھا، اِنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو، یہ بھی منتظر ہیں

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ [پس آپ ﷺ اعراض کریں ان سے ] وَانْتَظِرْ [اور آپ ﷺ انتظار کریں ] اِنَّهُمْ [بیشک یہ لوگ (بھی)] مُّنْتَظِرُوْنَ [انتظار کرنے والے ہیں ] ۔