31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 31:1
الۗمّۗ
Ayah 31:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں

تِلْكَ [یہ ] اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ [حکمت والی کتاب کی آیات ہیں ] ۔
Ayah 31:3

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

ہدایت اور رحمت نیکو کار لوگوں کے لیے

هُدًى وَّرَحْمَةً [ہدایت اور رحمت ہوتے ہوئے ] لِّلْمُحْسِنِيْنَ [بلا کم وکاست نیکی کرنے والوں کے لئے ] ۔
Ayah 31:4

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو ] يُقِيْمُوْنَ [قائم رکھتے ہیں ] الصَّلٰوةَ [نماز کو ] وَيُؤْتُوْنَ [اور پہنچاتے ہیں ] الزَّكٰوةَ [زکوۃ کو ] وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ [اور وہ لوگ ہی آخرت پر ] هُمْ يُوْقِنُوْنَ [یقین رکھتے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 4 ۔ میں زکوٰۃ کا حکم ہے حالانکہ یہ آیت مکی ہے۔ اس سے اور سورة مزمل سے بھی معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کا حکم مکہ میں ہجرت سے پہلے آچکا تھا۔ البتہ ہجرت کے دوسرے سال میں نصابوں کا تقرر اور مقدار واجب کی تفصیلات اور حکومت کی طرف سے اس کی وصولیاں اور خرچ کرنے کا انتظام ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 31:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے راہِ راست پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں

اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ] عَلٰي هُدًى [ہدایت پر ہیں ] مِّنْ رَّبِّهِمْ [اپنے رب (کی طرف) سے ] وَاُولٰۗىِٕكَ [اور وہ لوگ ] هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [ہی مراد پانے والے ہیں ] ۔
Ayah 31:6

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ [اور لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو ] يَّشْتَرِيْ [خریدتے ہیں ] لَهْوَ الْحَدِيْثِ [بات کے کھیل (فضولیات) کو ] لِيُضِلَّ [تاکہ وہ گمراہ کریں ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [اللہ کی راہ سے ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ڰ [کسی علم کے بغیر ] وَّيَتَّخِذَهَا [اور تاکہ وہ بنائیں اس (راہ) کو ] هُزُوًا ۭ [مذاق کا نشانہ ] اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ] عَذَابٌ مُّهِيْنٌ [رسوا کرنے والا عذاب ہے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت ۔ 6 ۔ میں من یشتری لھوالحدیثآیا ہے۔ اشتراء کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں اور بعض اوقات ایک کام کے بدلے دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جسیے الذین استروا الضللۃ بالھدٰی۔ اور لھو الحدیث میں لفظ حدیث تو باتوں اور قصے کہانیوں کے لئے آیا ہے۔ اور لھوکے لفظی معنی غفلت میں پڑنے کے ہیں ۔ جو چیزیں انسان کو ضروری کاموں سے غفلت میں ڈال دیں وہ لھو کہلاتی ہیں۔ جمہور صحابہ و تابعین اور عامہ مفسرین کے نزدیک لھو الحدیث عام ہے تمام ان چیزوں کے لئے جو انسان کو اللہ کی عبادت اور یاد سے غفلت میں ڈالے۔ مذموم اور ممنوع وہ لھو اور کھیل ہے جس میں کوئی دینی و دنیوی فائدہ نہ ہو۔ جو کھیل بدن کی ورزش ، صحت اور تندرستی باقی رکھنے کے لئے کیا جائے یا کم از کم طبیعت کی تھکان دور کرنے کے لئے ہوں، ہو ایسے کھیل شرعاً مباح ہیں اور دینی ضرورت کی نیت سے ہوں تو ثواب بھی ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ان میں غلونہ کیا جائے اور ان ہی کو مشغلہ نہ بنایا جائے کہ ضروری کاموں میں ان سے حرج پڑنے لگے۔ (معارف القرآن۔ ج 7 ۔ ص 19 تا 23 سے ماخوذ)
Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے انہیں سنا ہی نہیں، گویا کہ اس کے کان بہرے ہیں اچھا، مژدہ سُنا دو اسے ایک درد ناک عذاب کا

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ [اور جب بھی پڑھی جاتی ہیں اس پر ] اٰيٰتُنَا [ہماری آیتیں ] وَلّٰى [تو وہ مڑ جاتا ہے ] مُسْتَكْبِرًا [بڑا بنتے ہوئے ] كَاَنْ [جیسے کہ ] لَّمْ يَسْمَعْهَا [اس نے سنا ہی نہیں ان کو ] كَاَنَّ [گویا کہ ] فِيْٓ اُذُنَيْهِ [اس کے دونوں کانوں میں ] وَقْرًا ۚ [کوئی بوجھ ہے ] فَبَشِّرْهُ [تو آپ ﷺ خوشخبری دیں اس کو ] بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ [ایک دردناک عذاب ] ۔
Ayah 31:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں، اُن کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [بیشک جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور انھوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] لَهُمْ [ان کے لئے ] جَنّٰتُ النَّعِيْمِ [دائمی نعمتوں کے باغات ہیں ] ۔
Ayah 31:9

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے

خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ [ہمیشہ رہنے والے اس میں ] وَعْدَ اللّٰهِ [(یقینا ) اللہ کا وعدہ ] حَقًّا ۭ [(ہوچکا) برحق ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [اور وہ ہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [حکمت والا ہے ] ۔
Ayah 31:10

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ستونوں کے جو تم کو نظر آئیں اُس نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے اس نے ہر طرح کے جانور زمین میں پھیلا دیے اور آسمان سے پانی برسایا اور زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگا دیں

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ [اس نے پیدا کیا آسمانوں کو ] بِغَيْرِ عَمَدٍ [ایسے ستونوں کے بغیر ] تَرَوْنَهَا [تم لوگ دیکھو جن کو ] وَاَلْقٰى [اور اس نے ڈالے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] رَوَاسِيَ [کچھ پہاڑ ] اَنْ [کہ کہیں ] تَمِيْدَ بِكُمْ [وہ لرزے تمہارے ساتھ ] وَبَثَّ [اور اس نے پھیلائے ] فِيْهَا [اس میں ] مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ ۭ [ہر چلنے والے جاندار میں سے ] وَاَنْزَلْنَا [اور ہم نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً [آسمان سے کچھ پانی ] فَاَنْۢبَتْنَا [پھر ہم نے اگایا ] فِيْهَا [اس (زمین) میں ] مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ [ہر ایک نفیس و پاکیزہ جوڑے میں سے ] ۔
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو ہے اللہ کی تخلیق، اب ذرا مجھے دکھاؤ، ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

ھٰذَا [یہ ] خَلْقُ اللّٰهِ [اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے ] فَاَرُوْنِيْ [تو تم لوگ دکھاؤ مجھ کو ] مَاذَا [کیا ] خَلَقَ [پیدا کیا ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں نے جو ] مِنْ دُوْنِهٖ ۭ [اس کے سوا ہیں ] بَلِ الظّٰلِمُوْنَ [بلکہ ظلم کرنے والے ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [کھلی گمراہی میں ہیں ] ۔
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کا شکر گزار ہو جو کوئی شکر کرے اُس کا شکر اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے اور جو کوئی کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا [اور بیشک ہم دے چلے ] لُقْمٰنَ [لقمان کو ] الْحِكْمَةَ [دانائی ] اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ ۭ [کہ تو کر شکر اللہ کا ] وَمَنْ يَّشْكُرْ [اور جو شکر کرتا ہے ] فَاِنَّمَا [تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَشْكُرُ [وہ شکر کرتا ہے ] لِنَفْسِهٖ ۚ [اپنی ہی جان (کے بھلے) کے لئے ] وَمَنْ كَفَرَ [اور جو ناشکری کرتا ہے ] فَاِنَّ اللّٰهَ [تو بیشک اللہ ] غَنِيٌّ [بے نیاز ہے ] حَمِيْدٌ [حمد کیا ہوا ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: حضرت لقمان کی شخصیت عرب میں ایک حکیم و دانا کی حیثیت سے بہت مشہور تھی۔ اہل عرب میں بعض پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفۂ لقمان کے نام سے ان کے حکیمانہ اقوال کا ایک مجموعہ بھی موجود تھا۔ ہجرت سے تین سال پہلے مدینہ کا پہلا شخص جو رسول اللہ ﷺ سے متاثر ہوا ہو سویدہ بن صامت تھا۔ وہ حج کے لئے گیا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی تقریر سنی۔ اس نے آپ ﷺ سے کہا کہ آپ جو باتیں پیش کر رہے ہیں ایسی ہی ایک چیز میرے پاس بھی موجود ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا وہ کیا ہے۔ اس نے کہا مجلۂ لقمان۔ پھر آپ ﷺ کی فرمائش پر اس نے اس کا کچھ حصہ آپ ﷺ کو سنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ بہت اچھا کلام ہے مگر میرے پاس ایک اور کلام اس سے بہتر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اسے قرآن سنایا۔ اس نے اعتراف کیا کہ بلاشبہ مجلۂ لقمان سے بہتر ہے۔ پھر جب وہ مدینہ واپس ہوا تو کچھ عرصہ بعد جنگ بعاث پیش آئی اور یہ اس میں مارا گیا (تفہیم القرآن)
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اس نے کہا "بیٹا! خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے"

وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ [اور جب کہا لقمان نے ] لِابْنِهٖ [اپنے بیٹے سے ] وَهُوَ [اس حال میں کہ وہ ] يَعِظُهٗ [نصیحت کر رہا تھا اس کو ] يٰبُنَيَّ [اسے میرے بچے ] لَا تُشْرِكْ [تو شریک مت کرنا ] بِاللّٰهِ ڼ [اللہ کے ساتھ (کسی کو)] اِنَّ الشِّرْكَ [بیشک شرک ] لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ [یقینا ایک عظیم ظلم ہے ] ۔ نوٹ۔ 2: حضرت لقمان کی نصیحتوں کے درمیان میں یعنی آیت۔ 15 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم بیان فرمایا کہ اگرچہ ہم نے اولاد کو ماں باپ کی اطاعت اور خدمت کی بڑی تاکید کی ہے لیکن شرک ایک ایسا ظلم عظیم ہے کہ وہ ماں باپ کے مجبور کرنے سے بھی جائز نہیں ہوتا۔ اگر کسی کو اس کے والدین اللہ تعالیٰ کے سا تھ کسی کو شریک قرار دینے پر مجبور کریں تو اس معاملہ میں والدین کا کہنا ماننا بھی جائز نہیں ہے۔ مگر دنیا کے کاموں میں مثلاً ان کی جسمانی خدمت میں یامالی اخراجات میں کمی نہ ہونے دو اور نہ بےادبی کرو۔ مطلب یہ ہے کہ شرک کے معاملہ میں ان کا کہنا ماننے سے جوان کی دل آزاری ہوگی وہ تو مجبوری کے لئے برداشت کرو مگر ضرورت کو ضرورت کی حد میں رکھو اور دوسرے معاملات میں ان کی دل آزاری سے پرہیز کرو۔ (معارف القرآن)
Ayah 31:14

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اُس کا دودھ چھوٹنے میں لگے (اِسی لیے ہم نے اُس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے

وَوَصَّيْنَا [اور ہم نے تاکید کی ] الْاِنْسَانَ [انسان کو ] بِوَالِدَيْهِ ۚ [اس کے والدین کے بارے میں ] حَمَلَتْهُ [اٹھایا اس کو ] اُمُّهٗ [اس کی ماں نے ] وَهْنًا عَلٰي وَهْنٍ [تکلیف پر تکلیف جھیلتے ہوئے ] وَّفِصٰلُهٗ [اور اس کا دودھ چھڑانا ] فِيْ عَامَيْنِ [دو سالوں میں ] اَنِ اشْكُرْ لِيْ [کہ تو کر شکر میرا ] وَلِوَالِدَيْكَ ۭ [اور اپنے والدین کا ] اِلَيَّ الْمَصِيْرُ [میری طرف ہی لوٹنا ہے ] ۔
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان دُنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے، اُس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو

وَاِنْ جَاهَدٰكَ [اور اگر وہ دونوں کشمکش کریں تجھ سے ] عَلٰٓي اَنْ [اس (بات) پر کہ ] تُشْرِكَ بِيْ [تو شریک کرے میرے ساتھ ] مَا [اس کو ] لَيْسَ لَكَ [نہیں ہے تیرے لئے ] بِهٖ [جس کے بارے میں ] عِلْمٌ ۙ[کوئی علم ] فَلَا تُطِعْهُمَا [تو تو اطاعت مت کر ان دونوں کی ] وَصَاحِبْهُمَا [اور اس دونوں کے ساتھ رہ ] فِي الدُّنْيَا [دنیا میں ] مَعْرُوْفًا ۡ [بھلے طریقے سے ] وَّاتَّبِعْ [اور تو پیروی کر ] سَبِيْلَ مَنْ [اس کے راستے کی جس نے ] اَنَابَ [رخ کیا ] ۔ اِلَيَّ ۚ [میری طرف ] ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ [پھر میری طرف ہی تم لوگوں کا لوٹنا ہے ] فَاُنَبِّئُكُمْ [تو میں جتلا دوں گا تم لوگوں کو ] بِمَا [وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کیا کرتے تھے ] ۔
Ayah 31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(اور لقمان نے کہا تھا کہ) "بیٹا، کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو، اللہ اُسے نکال لائے گا وہ باریک بیں اور باخبر ہے

يٰبُنَيَّ [اے میرے بچے ] اِنَّهَآ [حقیقت یہ ہے کہ ] اِنْ تَكُ [اگر وہ (برائی) ہوگی ] مِثْقَالَ حَبَّةٍ [ایک دانے کے ہم وزن ] مِّنْ خَرْدَلٍ [رائی میں سے ] فَتَكُنْ فِيْ صَخْـرَةٍ [پھر وہ ہو کسی چٹان میں ] اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ [یا آسمانوں میں ] اَوْ فِي الْاَرْضِ [یا زمین میں ] يَاْتِ بِهَا [لے آئے گا اس کو ] اللّٰهُ ۭ [اللہ ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] لَطِيْفٌ [باریک بین ہے ] خَبِيْرٌ [با خبر ہے ] ۔
Ayah 31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا، نماز قائم کرنے کا حکم دے، بدی سے منع کر، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے

يٰبُنَيَّ [اے میرے بچے ] اَقِمِ [تو قائم رکھ ] الصَّلٰوةَ [نماز کو ] وَاْمُرْ [اور توکید کر ] بِالْمَعْرُوْفِ [بھلائی کی ] وَانْهَ [اور تو منع کر ] عَنِ الْمُنْكَرِ [برائی سے ] وَاصْبِرْ [اور تو صبر کر ] عَلٰي مَآ [اس پر جو ] اَصَابَكَ ۭ [آلگے تجھ کو ] اِنَّ ذٰلِكَ [بیشک یہ ] مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ [معاملات کی ثابت قدمی میں سے ہے ] ۔
Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا

وَلَا تُصَعِّرْ [اور تو مت پھلا ] خَدَّكَ [اپنے گال کو ] لِلنَّاسِ [لوگوں کے لئے ] وَلَا تَمْشِ [اور تو مت چل ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] مَرَحًا ۭ [اتراتا ہوا ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَا يُحِبُّ [پسند نہیں کرتا ] كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ [کسی بھی اکڑنے والے فخر کرنے والے کو ] ۔ (س) صعرا منہ کا ٹیڑھا ہونا۔ (تفعیل) تصعیرا تکبر سے رخسار ٹیڑھا کرنا۔ پھیلانا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18 ۔ (خ د د) (ن) خدا چوٹ کا نشان چھوڑنا۔ زمین میں گڑھا کرنا۔ خد گڑھا۔ رخسار (چہرے کا گڑھا) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔ خدۃ ج اخدود۔ گڑھا۔ کھائی۔ خندق۔ قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ (مارے گئے کھائیاں (کھودنے) والے) ۔
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے

وَاقْصِدْ [اور تو میانہ روی اختیار کر ] فِيْ مَشْيِكَ [اپنی چال میں ] وَاغْضُضْ [اور تو پست رکھ ] مِنْ صَوْتِكَ ۭ [اپنی آواز میں سے ] اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ [بیشک آوازوں کی بدترین ] لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ [یقینا گدھوں کی آواز ہے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 19 ۔ میں ہے کہ چال میں میانہ روی اختیار کرو۔ سباق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں چلنے کی تیز یا سست رفتار پر بحث نہیں ہے۔ آدمی کو جلدی کا کوئی کام ہو تو تیز کیوں نہ چلے۔ اور اگر وہ محض تفریحاً چل رہا ہے تو آہستہ چلنے میں کیا قباحت ہے۔ دراصل جو چیز یہاں مقصود ہے وہ نفس کی اس کیفیت کی اصلاح ہے جس کے اثر سے چال میں اکڑ یا مسکینی کا ظہور ہوتا ہے دولت، اقتدار، حسن، علم، طاقت وغیرہ انسان کے اندر تکبر پیدا کرتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا گھمنڈ اس کی چال کا ایک مخصوص ٹائپ پیدا کردیتا ہے۔ اس کے برعکس چال میں مسکینی کا ظہور بھی کسی مذموم نفسی کیفیت کے اثر سے ہوتا ہے۔ کبھی انسان کے نفس کا مخفی تکبر ایک نمائشی تواضع اور دکھاوے کی درویشی کا روپ دھارتا ہے اور یہ چیز اس کی چال میں نمایاں نظر آتی ہے۔ اور کبھی انسان حالات سے شکست کھا کر اور اپنی نگاہ میں آپ حقیر ہوکر مریل چلنے لگتا ہے، لقمان کی نصیحت کامنشایہ ہے کہ اپنے نفس کی ان کیفیات کو دور کرو اور ایک معقول انسان کی سی چال چلو۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟ اِس پر حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی عِلم ہو، یا ہدایت، یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب

اَلَمْ تَرَوْا [کیا تم لوگوں نے غور نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ [کہ اللہ نے ] سَخَّرَ لَكُمْ [مسخر کیا تمہارے لئے ] مَّا فِي السَّمٰوٰتِ [اس کو جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ [اور اس کو جو زمین میں ہے ] وَاَسْبَغَ [اور اس نے تمام کیں ] عَلَيْكُمْ [تم لوگوں پر ] نِعَمَهٗ [اپنی نعمتیں ] ظَاهِرَةً [ظاہری ہوتے ہوئے ] وَّبَاطِنَةً ۭ [اور باطنی ہوتے ہوئے ] وَمِنَ النَّاسِ مَنْ [اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو ] يُّجَادِلُ [مناظرہ کرتے ہیں ] فِي اللّٰهِ [اللہ (کے بارے) میں ] بِغَيْرِ عِلْمٍ [کی علم کے بغیر ] وَّلَا هُدًى [اور نہ کسی ہدایت سے ] وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ [اور نہ کسی روشن کتاب سے ] ۔ س ب غ (ن) سبوغا کسی چیز کا فراخ اور وسیع ہونا۔ دراز ہونا۔ سابغ اسم الفاعل اور دراز ہونا۔ پھر مجازا پوری اور مکمل زرہ کے لئے آتا ہے۔ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ . اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ (اور ہم نے نرم کیا اس کے لئے لوہے کو کہ تو عمل کر یعنی بنا کشادہ زر ہیں) ۔ 34:10، 11 (افعال) اسباغا کسی چیز کو وسیع کرنا۔ مکمل کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 20 ۔ نوٹ۔ 1: کسی چیز کو کسی کے لئے مسخر کرنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ چیز اس کے تابع کردی جائے اور اسے اختیار دے دیا جائے کہ جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ دوسرے یہ کہ اس چیز کہ ایسے ضابطہ کا پابند کردیا جائے جس کی بدولت وہ اس شخص کے لئے نافع ہوجائے اور اس کے مفاد کی خدمت کرتی رہے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے ایک ہی معنی میں مسخر نہیں کیا بلکہ بعض چیزیں پہلے معنی میں مسخر ہیں اور بعض دوسرے معنی میں مثلاً ہوا، پانی ، آگ ، مٹی ، نباتات ، معدنیات، مویشی وغیرہ بیشمار چیزیں پہلے معنی میں ہمارے لئے مسخر ہیں اور چاند ، سورج وغیرہ دوسرے معنی میں۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ظاہری و مادی بھی ہیں اور عقلی و روحانی بھی۔ شکل و صورت، ہاتھ پاؤں، غذا لباس اور اس قبیل کی دوسری تمام چیزیں بھی اس کی بخشی ہوئی ہیں اور سمع و بصر، عقل و ادراک اور ہدایت کی نعمتیں بھی اسی کی عطا کردہ ہیں۔ ان میں سے کسی چیز کے متعلق کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ خدا کے سوا کسی اور سے اس کو ملی ہیں یا کوئی دوسرا ان کے ملنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تو جب تمام نعمتوں کو بخشنے والا اللہ ہی ہے تو بندے کی تمام شکر گزاری کا حق دار بھی وہی ہوا۔ کوئی دوسرا اس کے اس حق میں کس طرح ساجھی بن سکتا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اُس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اُس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان اُن کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہا ہو؟

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ [اور جب کہا جاتا ہے ان لوگوں سے ] اتَّبِعُوْا [تم لوگ پیروی کرو ] مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ [اس کی جو نازل کیا اللہ نے ] قَالُوْا [تو وہ لوگ کہتے ہیں ] بَلْ نَتَّبِعُ [بلکہ ہم پیروی کرتے ہیں ] مَا [اس کی ] وَجَدْنَا [ہم نے پایا ] عَلَيْهِ [جس پر ] اٰبَاۗءَنَا ۭ [اپنے باپ دادا کو ] اَوَلَوْ [اور کیا اگر ] كَانَ [ہو ] الشَّيْطٰنُ [شیطان (کہ)] يَدْعُوْهُمْ [وہ بلاتا ہو ان کو ] اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ [شعلوں والی آگ کے عذاب کی طرف ] ۔
Ayah 31:22

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کر دے اور عملاً وہ نیک ہو، اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابل سہارا تھام لیا، اور سارے معاملات کا آخری فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ ہے

وَمَنْ يُّسْلِمْ [اور جو تابعدار کرتا ہے ] وَجْهَهٗٓ [اپنے چہرے (شخصیت) کو ] اِلَى اللّٰهِ [اللہ کی طرف ] وَهُوَ [اس حال میں کہ وہ ] مُحْسِنٌ [حسن دینے والا ہے (نیکی کو)] فَقَدِ اسْتَمْسَكَ [تو وہ چمٹ گیا ہے ] بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۭ [انتہائی مضبوط کنڈے سے ] وَاِلَى اللّٰهِ [اور اللہ ہی کی طرف ] عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ [تمام معاملات کا انجام ہے ] ۔
Ayah 31:23

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اب جو کفر کرتا ہے اس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے، انہیں پلٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے، پھر ہم انہیں بتا دیں گے کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں یقیناً اللہ سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

وَمَنْ كَفَرَ [اور جس نے انکار کیا ] فَلَا يَحْزُنْكَ [تو غمگین مت کرے آپ ﷺ کو ] كُفْرُهٗ ۭ [اس کا انکار کرنا ] اِلَيْنَا [ہماری طرف ہی ] مَرْجِعُهُمْ ان سب کا لوٹنا ہے ] فَنُنَبِّئُهُمْ [تو ہم جتا دیں گے ان کو ] بِمَا عَمِلُوْا ۭ [وہ جو انہوں نے عمل کئے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] عَلِيْمٌۢ [جاننے والا ہے ] بِذَاتِ الصُّدُوْرِ [سینوں والی (باتوں) کو ] ۔
Ayah 31:24

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم تھوڑی مدت انہیں دُنیا میں مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں، پھر ان کو بے بس کر کے ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے

نُمَـتِّعُهُمْ [ہم برتنے کا سامان دیں گے ] قَلِيْلًا [ان کو تھوڑا سا ] ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ [پھر ہم مجبور کریں گے ان کو ] اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ [ایک گاڑھے عذاب کی طرف ] ۔
Ayah 31:25

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اگر تم اِن سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے، تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے کہو الحمدللہ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

وَلَىِٕنْ [اور بیشک اگر ] سَاَلْتَهُمْ [آپ ﷺ پوچھیں ان سے ] مَّنْ [کس نے ] خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] لَيَقُوْلُنَّ [تو یہ لوگ لازما کہیں گے ] اللّٰهُ ۭ [اللہ نے ] قُلِ [آپ ﷺ کہیے ] الْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ [تمام شکر و سپاس اللہ کے لئے ہے ] بَلْ اَكْثَرُهُمْ [بلکہ (لیکن) ان کی اکثریت ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتی نہیں ہے ] ۔
Ayah 31:26

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، بے شک اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے

لِلّٰهِ [اللہ ہی کا ہے ] مَا [ وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمانوں اور زمین میں ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] هُوَ الْغَنِيُّ [ہی بےنیاز ہے ] الْحَمِيْدُ [حمد کیا ہوا ہے ] ۔
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے

وَلَوْ اَنَّ [اور اگر یہ (ہوتا) کہ ] مَا [جو ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] مِنْ شَجَـرَةٍ [(از قسم) درخت میں سے ہے وہ ] اَقْلَامٌ [قلم ہوتے ] وَّالْبَحْرُ [اور سمندر (روشنائی ہوتا)] يَمُدُّهٗ [بڑھاتے اس کو ] مِنْۢ بَعْدِهٖ [اس کے بعد ] سَبْعَةُ اَبْحُرٍ [سات سمندر ] مَّا نَفِدَتْ [تو ختم نہیں ہوں گے ] كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭ [اللہ کے فرمان ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] عَزِيْزٌ [بالادست ہے ] حَكِيْمٌ [حکمت والا ہے ] ۔ ترکیب : (آیت۔ 27) لو شرطیہ ہے۔ ما فی الارض سے سبعۃ ابحر تک شرط ہے اور ما نفدت کلمت اللہ جواب شرط ہے۔ شرط میں ما فی الارض من شجرۃ صلہ موصول مل کر مبتدا ہے اور اقلام اس کی خبر ہے۔ البحرمبتدا ثانی ہے اور اس کی خبر مدادمحذوف ہے۔ یمد کا فاعل سبعۃ ابح رہے اور ہ کی ضمیر مفعولی البحر کے لئے ہے۔ جواب شرط ہونے کی وجہ سے فعل ماضی نفدت کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جِلا اُٹھانا تو (اُس کے لیے) بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور جِلا اٹھانا) حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے

مَا [نہیں ہے ] خَلْقُكُمْ [تم لوگوں کا پید کرنا ] وَلَا بَعْثُكُمْ [اور نہ ہی تمہارا اٹھانا ] اِلَّا [مگر ] كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ [ایک جان (کو پیدا کرنے اور اٹھانے) کی مانند ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] سَمِيْعٌۢ [سننے والا ] بَصِيْرٌ [سیکھنے والا ہے ] ۔
Ayah 31:29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں؟ اُس نے سُورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے، سب ایک وقت مقرر تک چلے جا رہے ہیں، اور (کیا تم نہیں جانتے) کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے

اَلَمْ تَرَ [کیا تو نے غور نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ [کہ اللہ ] يُوْ لِجُ [گھساتا ہے ] الَّيْلَ فِي النَّهَارِ [رات کو دن میں ] وَيُوْ لِجُ [اور وہ گھساتا ہے ] النَّهَارَ فِي الَّيْلِ [دن کو رات میں ] وَسَخَّــرَ [اور اس نے مسخر کیا ] الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۡ [سورج کو اور چاند کو ] كُلٌّ [سب کے سب ] يَّجْرِيْٓ [رواں رواں ہیں ] اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى [ایک معین (خاتمے کے) وقت کی طرف ] وَّاَنَّ اللّٰهَ [اور یہ کہ اللہ ] بِمَا [اس سے جو ] تَعْمَلُوْنَ [تم کرتے ہو ] خَبِيْرٌ [باخبر ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: الی اجل مسمی کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کی جو مدت عمر مقرر کردی گئی ہے اس وقت تک وہ چل رہی ہے۔ سورج ہو یا چاند یا کائنات کا کوئی اور سیارہ، ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ازلی ہے نہ ابدی۔ ہر ایک کا ایک وقت آغاز ہے جس سے پہلے وہ موجود نہ تھی اور ایک وقت اختتام ہے جس کے بعد وہ موجود نہ رہے گی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اسے چھوڑ کر جن دُوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں، اور (اس وجہ سے کہ) اللہ ہی بزرگ و برتر ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ [یہ اس سبب سے کہ اللہ ] هُوَ الْحَقُّ [ہی حق ہے ] وَاَنَّ [اور یہ کہ ] مَا [جس کو ] يَدْعُوْنَ [یہ لوگ پکارتے ہیں ] مِنْ دُوْنِهِ [اس کے علاوہ ] الْبَاطِلُ ۙ [وہ ہی باطل ہے ] وَاَنَّ اللّٰهَ [اور یہ کہ اللہ ] هُوَ الْعَلِيُّ [ہی بلند ہے ] الْكَبِيْرُ [بڑا ہے ] ۔
Ayah 31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے؟ در حقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو

اَلَمْ تَرَ [کیا تو نے غور نہیں کیا ] اَنَّ الْفُلْكَ [کہ کشتی ] [تَجْرِيْ : چلتی ہیں ] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] بِنِعْمَتِ اللّٰهِ [اللہ کی نعمت (یعنی فضل) سے ] لِيُرِيَكُمْ [تاکہ وہ کھائے تم لوگوں کو ] مِّنْ اٰيٰتِهِ ۭ [اپنی نشانیوں میں سے (کچھ)] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّكُلِّ صَبَّارٍ [ہر ایک کثرت سے تحمل کرنے والے کے لئے ] شَكُوْرٍ [بہت شکر کرنے والے کے لئے ] ۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب (سمندر میں) اِن لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کر کے، پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدّار اور ناشکرا ہے

وَاِذَا غَشِيَهُمْ [اور جب چھا جاتی ہے ان پر ] مَّوْجٌ [کوئی موج ] كَالظُّلَلِ [بادلوں کی مانند ] دَعَوُا اللّٰهَ [تو وہ لوگ پکارتے ہیں اللہ کو ] مُخْلِصِيْنَ [خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَهُ الدِّيْنَ ڬ [اس کے لئے دین کو ] فَلَمَّا [پھر جب ] نَجّٰىهُمْ [وہ نجات دیتا ہے ان کو ] اِلَى الْبَرِّ [خشکی کی طرف ] فَمِنْهُمْ [تو ان میں ] مُّقْتَصِدٌ ۭ [میانہ رو (بھی) ہیں ] وَمَا يَجْــحَدُ [اور انکار نہیں کرتا ] بِاٰيٰتِنَآ [ہماری نشانیوں کا ] اِلَّا كُلُّ [مگر ہر ایک ] خَتَّارٍ [کثرت سے غداری کرنے والا ] [كَفُوْرٍ : بہت ناشکری کرنے والا ] خ ت ر (ض) خترا بری طرح بےوفائی کرنا۔ غداری کرنا۔ ختار فعال کے وزن پر مبالغہ ہے۔ عہد شکنی کثرت سے کرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 32 ۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

لوگو، بچو اپنے رب کے غضب سے اور ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا ہے پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [اے لوگو !] اتَّقُوْا [تم لوگ تقوی اختیار کرو ] رَبَّكُمْ [اپنے رب کا ] وَاخْشَوْا [اور ڈرو ] يَوْمًا [ایک ایسے دن سے جب ] لَّا يَجْزِيْ [بدلے میں نہیں دے گا ] وَالِدٌ [کوئی والد ] عَنْ وَّلَدِهٖ ۡ [اپنی اولاد کی طرف سے (کچھ بھی)] وَلَا مَوْلُوْدٌ [اور نہ کوئی اولاد (ہوگی)] هُوَ [(کہ) وہ ] جَازٍ [بدلے میں دینے والی ہو ] عَنْ وَّالِدِهٖ [اپنے والد کی طرف سے ] شَـيْـــــًٔا ۭ [کچھ بھی ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [یقینا اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ [برحق ہے ] فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ [تو ہرگز دھوکا نہ دے تم لوگوں کو ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۪ [دنیوی زندگی ] وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ [اور ہرگز دھوکہ نہ دے تم کو ] بِاللّٰهِ [اللہ کے بارے میں ] الْغَرُوْرُ [وہ انتہائی دھوکے باز ] ۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے

اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] عِنْدَهٗ [اس کے پاس ہی ] عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ [اس گھڑی (قیامت) کا علم ہے ] وَيُنَزِّلُ [اور وہ اتارتا ہے ] الْغَيْثَ ۚ [بارش کو ] وَيَعْلَمُ [اور وہ جانتا ہے ] مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ [اس کو جو رحموں میں ہے ] وَمَا تَدْرِيْ [اور نہیں جانتی ] نَفْسٌ [کوئی جان ] مَّاذَا [کیا ] تَكْسِبُ [وہ کمائے گی ] غَدًا ۭ [کل ] وَمَا تَدْرِيْ [اور نہیں جانتی ] نَفْسٌۢ [کوئی جان ] بِاَيِّ اَرْضٍ [کون سی زمین میں ] تَمُوْتُ ۭ [وہ مرے گی ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] عَلِيْمٌ [جاننے والا ہے ] خَبِيْرٌ [باخبر ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 34 ۔ میں پہلی تین چیزوں میں اگرچہ تصریح نہیں کی گئی کہ ان کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے مگر ایسے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جس سے ان چیزوں کے علم کا انحصار علم الٰہی میں معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ باقی دو چیزوں میں اس کی تصریح موجود ہے کہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ (معارف القرآن۔ ج 7، ص 52) علم غیب درحقیقت اس علم کو کہا جاتا ہے جو سبب طبعی کے واسطہ سے نہ ہو بلکہ بلاواسطہ خودبخود ہو۔ جو چیزیں انبیاء (علیہم السلام) کو بذریعہ وحی اور اولیاء کرام کو بذریعہ الہام اور نجومیوں وغیرہ کو اپنے حسابات و اسباب طبیعیہ کے ذریعہ حاصل ہوجائیں تو وہ علم غیب نہیں بلکہ انباء الغیب (غیب کی خبریں) ہیں جو کسی جزوی و شخصی معاملہ میں کسی مخلوق کو حاصل ہوجاتی ہیں۔ ان کا حاصل ہوجانا آیت مذکورہ کے منافی نہیں۔ کیونکہ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ ان پانچ چیزوں کا کلی علم جو تمام مخلوقات اور تمام حالات پر حاوی ہو، وہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا۔ کوئی جزوی علم کسی ذریعہ سے حاصل ہوجانا اس کے منافی نہیں۔ اس کے علاوہ علم سے مراد علم قطعی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ۔ الہام کے ذریعہ سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ قطعی نہیں ہوتا۔ اس میں مغالطوں کے بہت احتمالات رہتے ہیں۔ (معارف القرآن۔ ج 7، ص 54) نوٹ۔ 2: مذکورہ بالا نوٹ میں سبب طبعی ، کلی علم، جزوی علم اور علم قطعی کا ذکر آیا ہے۔ ان کی وضاحت کے لئے ہم ایک سوال کے جواب کا ایک حصہ نقل کر رہے ہیں ۔ یہ سوال و جواب فاؤنڈیشن کے سہ ماہی میگزین میں شائع ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کسی علم کو جب کوئی شکل عطا فرما دیتا ہے ، اور انسان اس کا علم حاصل کرتا ہے تو اسے علم غیب نہیں کہتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کو شکل دیتا ہی اس لئے ہے کہ اس کا علم حاصل کیا جائے۔ اس بات کو ذہن میں رکھ کر اللہ اور بندے کے علم کے فرق کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ حمل قرار پانے کے بعد چھ ہفتوں تک انسان کے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ حمل ہے کہ نہیں ہے۔ لیکن اللہ جانتا ہے۔ چھ ہفتوں کے بعد جب اس کا حجم کچھ بڑھ جاتا ہے تو Pregnancy Test کے ذریعہ انسان معلوم کرسکتا ہے کہ حمل ہے کہ نہیں ، لیکن ابھی وہ یہ نہیں جانتا کہ مذکر ہے یا مؤنث ، لیکن اللہ جانتا ہے۔ پھر تین مہینوں میں جب بچے کے جنسی اعضاء شکل اختیار کرلیتے ہیں تو انسان الڑا ساؤنڈ کے ذریعے جان سکتا ہے کہ بچہ مذکر ہے یا مؤنث، لیکن ابھی وہ یہ نہیں جانتا کہ بچے کا رنگ کیا ہے۔ البتہ اللہ جانتا ہے ۔ پھر جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو انسان جان سکتا ہے کہ اس کا رنگ کیا ہوگا لیکن ابھی وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کا قدو کاٹھ کیا ہوگا۔ اسی طرح بچے کی طبیعت و مزاج ، سیرت و کردار، والدین خاندان اور قوم کے لئے نیک و سعد ہونا یا نہ ہونا، وغیرہ وغیرہ بیشمار چیزیں ہیں جو اللہ کے علم میں ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ مختلف شکلوں میں انسان کے علم میں آتی ہیں۔