30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 30:1
الۗمّۗ
Ayah 30:2

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں

غُلِبَتِ [مغلوب کیا گیا ] الرُّوْمُ [روم کو ]
Ayah 30:3

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

اور اپنی اِس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے

فِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ [اس سرزمین کے قریب میں ] وَهُمْ [اور وہ لوگ ] مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ [اپنی مغلوبی کے بعد ] سَيَغْلِبُوْنَ [غالب ہوں گے ] ۔
Ayah 30:4

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور وہ دن وہ ہو گا جبکہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے

فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ڛ [چند سالوں میں ] لِلّٰهِ [اللہ ہی کے لئے ہیں ] الْاَمْرُ [تمام معاملات ] مِنْ قَبْلُ [پہلے (بھی)] وَمِنْۢ بَعْدُ ۭ [اور بعد میں (بھی)] وَيَوْمَىِٕذٍ [اور اس دن ] يَّفْرَحُ [خوش ہوں گے ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لانے والے ] ۔
Ayah 30:5

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے، اور وہ زبردست اور رحیم ہے

بِنَصْرِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کی مدد سے ] يَنْصُرُ [وہ مدد کرتا ہے ] مَنْ [اس کی جس کی ] يَّشَاۗءُ ۭ [وہ چاہتا ہے ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [اور وہ ہی بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ہمیشہ رحم کرنے ولا ہے ] ۔
Ayah 30:6

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں

وَعْدَ اللّٰهِ ۭ [(ہوچکا) اللہ کا وعدہ ] لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ [خلاف نہیں کرتا اللہ ] وَعْدَهٗ [اپنے وعدے کے ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ [اور لیکن لوگوں کی اکثریت ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتی نہیں ہے ]
Ayah 30:7

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

لوگ دُنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں

[يَعْلَمُوْنَ : وہ لوگ جانتے ہیں ] [ظَاهِرًا : کچھ ظاہر کو ] مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ښ [دنیوی زندگی میں سے ] وَهُمْ [اور ہ لوگ (ہیں کہ)] عَنِ الْاٰخِرَةِ [آخرت سے ] هُمْ [وہی ] غٰفِلُوْنَ [غفلت برتنے والے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: ان آیات میں جو پیشنگوئی کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کی اور محمد ﷺ کی رسالت کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اسے پوری طرح سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان تاریخی واقعات پر ایک نگاہ ڈال لی جائے جو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں، نبی ﷺ کی نبوت کے آغاز سے آٹھ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قیصر روم مارلیس کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک شخص فوک اس تخت پر قابض ہوگیا۔ اس نے قیصر، اس کی بیوی اور بیٹے بیٹیوں کو قتل کر کے قیصر اور اس کے بیٹوں کے سر قسطنطنیہ میں برسر عام لٹکوا دئیے۔ قیصر مارلیس ایران کے بادشاہ خسر و پرویز کا محسن تھا اسی کی مدد سے پرویز کو ایران کا تخت نصیب ہوا تھا۔ اس بنا پر اس نے اعلان کیا کہ میں غاصب فوک اس سے بدلہ لوں گا۔ 603 ء میں اس نے روم کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور چند سال کے اندر وہ فوک اس کی فوجوں کو شکستیں دیتا ہوا شام تک پہنچ گیا روم کے اعیان سلطنت، یہ دیکھ کر کہ فوک اس ملک کو نہیں بچا سکتا، افریقہ کے گورنر سے مدد کے طالب ہوئے۔ اس نے اپنے بیٹے ہرقل کو ایک طاقتور بحری بیڑے کے ساتھ قسطنطنیہ بھیج دیا۔ اس کے پہنچتے ہی فوک اس کو معزول کر کے ہرقل کو قیصر بنایا گیا اور فوک اس اور اس کے بیٹوں کا قتل کردیا گیا۔ یہ 610 ء کا واقعہ ہے اور یہ وہی سال ہے جب نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت پر سرفراز ہوئے۔ فوک اس کے معزول اور قتل ہونے کے بعد اصولاً خسرو پرویز کو نئے قیصر سے صلح کر لینی چاہیے تھی لیکن اس نے پھر سے جنگ جاری رکھی۔ اور اب اس نے اس جنگ کو مجوسیت اور مسیحیت کی مذہبی جنگ کا رنگ دے دیا۔ یہودیوں نے مجوسیوں کا ساتھ دیا اور خسرو پرویز کی فوج میں یہودیوں کی تعداد 26 ہزار تک پہنچ گئی۔ ہرقل اس ایرانی سیلاب کو نہ روک سکا۔ 613 ء میں دمش فتح ہوا۔ 614 ء میں بیت المقدس پر قبضہ کر کے مسیحیوں کے سب سے زیادہ مقدس کلیسا کو برباد کردیا۔ اصلی صلیب، جس پر عیسائی عقیدے کے مطابق مسیح (علیہ السلام) نے جان دی تھی، مجوسی چھین کر مدائن لے گئے۔ اس فتح کا نشہ جس بری طرح خسروپرویز پر چڑھا تھا اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے جو اس نے بیت المقدس سے ہرقل لو لکھا تھا۔ اس میں و ہ کہتا ہے ـــــــــ” سب خداؤں سے بڑے خدا، تمام روئے زمین کے مالک خسرو کی طرف سے اس کے کمینے اور بےشعور بندے ہرقل کے نام۔ تو کہتا ہے تجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے، کیوں نہ تیرے رب نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا لیا۔ “ اس فتح کے بعد ایک سال کے اندر اندر ایرانی فوجیں اردن، فلسطین اور جزیرہ نمائے سینا کے پورے علاقے پر قابض ہوگئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ میں مسلمانوں اور قریش کے درمیان کشمکش اپنے عروج پر تھی اور مسلمانوں کی مظلومیت یہاں تک پہنچ گئی کہ 615 ء میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو حبش کی عیسائی سلطنت میں ( جو روم کی حلیف تھی) پناہ لینی پڑی۔ مکہ کے مشرکین اس وقت مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ایران کے آتش پرست فتح پا رہے ہیں اور وحی و رسالت کے ماننے والے عیسائی شکست پر شکست کھاتے چلے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ہم بت پرست بھی تمہیں اور تمہارے دین کو مٹا کر رکھ دیں گے۔ ان حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ ان میں ایک کے بجائے دو پیشنگوئیاں تھیں۔ ایک یہ کہ رومیوں کو غلبہ نصیب ہوگا۔ دوسری یہ کہ مسلمانوں کو بھی اسی زمانے میں فتح حاصل ہوگی۔ اس وقت ان میں سے کوئی ایک پیشنگوئی بھی پوری ہونے کا امکان کہیں بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایک طرف مٹھی بھر مسلمان تھے جو مکہ میں ستائے جا رہے تھے۔ دوسری طرف روم کی مغلوبیت روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔ 617 ء میں ایرانیوں نے عین قسطنطنیہ کے سامنے خلقد رون پر قبضہ کرلیا اور 619 ء تک پورا مصر ایران کے قبضہ میں چلا گیا۔ مختصر یہ کہ انگریز مورخ گبن کے بقول قرآن مجید کی اس پیشنگوئی کے بعد بھی سات آٹھ برس تک حالات ایسے تھے کہ کوئی شخص یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ رومی ایران پر غالب آجائیں گے۔ بلکہ غلبہ تو درکنار اس وقت تو کسی کو یہ امید بھی نہ تھی کہ اب یہ سلطنت زندہ رہ جائے گی۔ 622 ء میں ادھر نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور ادھر ہرقل خاموشی کے ساتھ قسطنطنیہ سے بحراسود کے راستے طرابزون کی طرف روانہ ہوا جہاں اس نے ایران پر پشت سے حملہ کرنے کی تیاری کی۔ اس کے لئے اس نے کلیسا سے پیسے مانگے، کلیسا کے اسقف اعظم نے مسیحیت کو مجوسیت سے بچانے کے لئے گرجاؤں کے نذرانوں کی جمع شدہ دولت سود پر قرض دی۔ 623 ء میں ہرقل نے اپنا حملہ آرمینیا سے شروع کیا اور دوسرے سال 624 میں اس نے آذر بیجان میں زرشت کے مقام پیدائش اور ایرانیوں سے سب سے بڑے آتش کدے کو تباہ کردیا۔ یہی وہ سال تھا جس میں مسلمانوں کو بدر کے مقام پر پہلی مرتبہ مشرکین کے مقابلے میں فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی۔ اس طرح سورة روم کی دونوں پیشنگوئیاں دس سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے بیک وقت پوری ہوگئیں۔ (تفہیم القرآن ج 3 ۔ ص 724 تا 728 سے ماخوذ) نوٹ۔ 2: آیت۔ 7 ۔ میں لفظ ظاھراً کو نکرہ لا کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ درحقیقت یہ لوگ حیات ظاہرہ کو بھی پورا نہیں جانتے۔ اس کے صرف ایک رخ کو جانتے ہیں اور دوسرے رخ سے غافل ہیں، یہ لوگ یہ تو خوب جانتے ہیں کہ کھیتی باڑی، تجارت کسب مال وغیرہ کس طرح کریں، تعمیرات کیسی کریں۔ سامان عشرت کیا کیا مہیا کریں لیکن دوسرا پہلو اوجھل ہے جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دنیا کا چند روزہ قیام دراصل ایک مسافرانہ قیام ہے۔ انسان اس زمین کا باشندہ (نیشنل) نہیں ہے بلکہ وہ ایک دوسرے ملک (آخرت) کا باشندہ ہے۔ یہاں کچھ مدت کے لئے ویزا پر آیا ہوا ہے۔ یہاں اس کا اصلی کام یہ ہے کہ وہ اپنے وطن (آخرت) کے لئے یہاں سے سامان راحت فراہم کر کے وہاں بھیجے۔ (معارف القرآن)
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرّر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا [اور کیا ان لوگوں نے سوچ و چار نہیں کیا ] فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ۣ [اپنے جی (یعنی وجود) میں ] مَا خَلَقَ اللّٰهُ [نہیں پیدا کیا اللہ نے ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [آسمانوں اور زمین کو ] وَمَا [اور اس کو جو ] بَيْنَهُمَآ [ان دونوں کے مابین ہے ] اِلَّا بِالْحَقِّ [مگر حق کے ساتھ ] وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ [اور ایک معین وقت کے ساتھ ] وَاِنَّ [اور بیشک ] كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ [لوگوں میں سے اکثر ] بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ [اپنے رب کی ملاقات کا ] لَكٰفِرُوْنَ [یقینا انکار کرنے والے ہیں ] ۔
Ayah 30:9

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِنہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سے زیادہ طاقت رکھتے تھے، اُنہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اُسے اتنا آباد کیا تھا جتنا اِنہوں نے نہیں کیا ہے اُن کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے

اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا [اور کیا انھوں نے سیر نہیں کی ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] فَيَنْظُرُوْا [نتیجتاً (تاکہ) وہ دیکھتے ] كَيْفَ كَانَ [کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ [ان لوگوں کا انجام جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ان سے پہلے تھے ] كَانُوْٓا [وہ لوگ تھے ] اَشَدَّ مِنْهُمْ [ان سے زیادہ شدید ] قُوَّةً [بلحاظ قوت کے ] وَّاَثَارُوا ] اور انہوں نے جوتا ] الْاَرْضَ [زمین کو ] وَعَمَرُوْهَآ [اور آباد کیا اس کو ] اَكْثَرَ مِمَّا [اس سے زیادہ جو ] عَمَرُوْهَا [ان لوگوں نے آباد کیا اس کو ] وَجَاۗءَتْهُمْ [اور پہنچے ان کے پاس ] رُسُلُهُمْ [اس کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ ۭ [واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] فَمَا كَانَ اللّٰهُ [تو نہیں ہے اللہ ] لِيَظْلِمَهُمْ [کہ وہ ظلم کرتا ہے ان پر ] وَلٰكِنْ [اور لیکن ] كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ [وہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے ] ۔
Ayah 30:10

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

آ خرکار جن لوگوں نے بُرائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت برا ہوا، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے

ثُمَّ [پھر ] كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ [ان کا انجام تھا جنہوں نے ] اَسَاۗءُوا [برا کیا ] السُّوْۗآٰى [سب سے برا ] اَنْ [(اس وجہ سے) کہ ] كَذَّبُوْا [انہوں نے جھٹلایا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی نشانیوں کو ] وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ [اور وہ لوگ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: گذشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ لوگوں کی اکثریت آخرت سے غفلت برتنے والی ہے۔ ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز آخرت پر دلالت کرنے والی ہے۔ ان پر صرف غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر انسان اپنے وجود پر غور کرے تو صاف نظر آتا ہے کہ انسانی جسم کے تمام اعضاء ، جوارح اور جسم کے اندرونی نظام کے ہر ایک کل پرزے کا اپنا ایک Function ہے، ہر ایک کے وجود کا کوئی مقصد ہے۔ اسی طرح یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز کا کوئی Function اور کوئی مقصد ہے، کسی بھی چیز کا وجود بےمقصد نہیں ہے۔ ہو پھر خود انسان کا وجود بےمقصد کیسے ہوسکتا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ انسان مر کر مٹی ہوجائے گا اور کوئی حساب و کتاب اور جزاء و سزا نہیں ہے تو انسان کا وجود بےمقصد ہوجاتا ہے جو کائنات کی ہر چیز کی گواہی کے خلاف ہے۔ اسی طرح تھوڑا سا غور کرنے سے صاف نظر آتا ہے کہ اس دنیا میں روانہ کچھ نئے لوگ آتے ہیں اور کچھ پرانے لوگ چلے جاتے ہیں۔ یہاں کسی بھی انسان کو دوام حاصل نہیں ہے۔ اپنے اردگرد حیوانات اور بناتات میں بھی یہی نظر آتا ہے کہ ہر چیز پیدا ہوتی ہے، بڑھتی ہے، پھولتی ہے پھلتی ہے، پھر ختم ہوجاتی ہے۔ کائنات میں کسی بھی چیز کو دوام نہیں ہے۔ ہر چیز کا وجود ایک معین وقت تک کے لئے ہے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ خود اس کائنات کا وجود بھی ایک معین وقت تک کے لئے ہے۔ اس کو بھی ایک دن ختم ہونا ہے اور حساب و کتاب اور جزاء و سزا یقینی ہے۔ نوٹ۔ 2: ہریوں اور خدا پرستوں کے درمیان یہ بحث بہت پرانی ہے جس میں فلسفی اور سائنسداں اس دنیا کو ازلی اور ابدی قرار دیتے تھے۔ ان کا انحصار اس تخیل پر تھا کہ مادہ فنا نہیں ہوسکتا، صرف صورت بدلی جاسکتی ہے۔ مگر ہر تغیر کے بعد مادہ، مادہ ہی رہتا ہے اور اس کی مقدار میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ اس بنا پر یہ نتیجہ نکالا جاتا تھا کہ اس عالم مادی کی نہ کوئی ابتداء ہے نہ انتہا۔ لیکن اب جوہری توانائی کے انکشاف نے اس پورے عمل کی بساط الٹ کر رکھ دی ہے۔ اب یہ بات کھل گئی ہے کہ قوت مادے میں تبدیل ہوتی ہے اور مادہ پھر قوت میں تبدیل ہوجاتا ہے حتیٰ کہ نہ صورت باقی رہتی ہے نہ ہیولیٰ ۔ اب حرکیات حرارت کے دوسرے قانون (Second law of Thermo-Dynamics) نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ عالم مادی نہ ازلی ہوسکتا ہے نہ ابدی۔ اس کو لازماً ایک وقت شروع اور ایک وقت ختم ہونا ہی چاہیے۔ اس لئے سائنس کی بنیاد پر اب قیامت کا انکار ممکن نہیں رہا ہے۔ اور ظاہر بات ہے کہ جب سائنس ہتھیار ڈال دے تو فلسفہ کن ٹانگوں پر کھڑا ہو کر قیامت کا انکار کرے گا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 30:11

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا، پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے

اَللّٰهُ يَبْدَؤُا [اللہ ہی پہل کرتا ہے ] الْخَــلْقَ [پیدا کرنے کی ] ثُمَّ يُعِيْدُهٗ [پھر وہ واپس لائے گا اس کو ] ثُمَّ اِلَيْهِ [پھر اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ : [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 11 ۔ میں فرمایا کہ اللہ ہی خلق کا آغاز فرماتا ہے اور وہی اس کا اعادہ کرے گا۔ ان دو لفظوں میں دعویٰ اور دلیل دونوں جمع ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ اللہ اس خلق کا اعادہ فرمائے گا۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اسی نے اس کا آغاز کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس نے اس کا آغاز کیا اور اس کام میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی اس کو اس کے اعادے میں بھی کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بلکہ اعادہ ابتدا سے زیادہ آسان ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 30:12

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جب وہ ساعت برپا ہو گی اس دن مجرم ہَک دَک رہ جائیں گے

وَيَوْمَ [اور جس دن ] تَقُوْمُ [قائم ہوگی ] السَّاعَةُ [وہ گھڑی (قیامت)] يُبْلِسُ [تو شاید مایوس ہوں گے ] الْمُجْرِمُوْنَ [مجرم لوگ ] ۔
Ayah 30:13

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے

وَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ [اور ان کے لئے نہیں ہوگا ] مِّنْ شُرَكَاۗىِٕهِمْ [ان کے شریکوں میں سے ] شُفَعٰۗـــؤُا [کوئی شفاعت کرنے والا ] وَكَانُوْا [اور وہ لوگ ہوجائیں گے ] بِشُرَكَاۗىِٕهِمْ [اپنے شریکوں کا ] كٰفِرِيْنَ [انکار کرنے والے ] ۔
Ayah 30:14

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

جس روز وہ ساعت برپا ہو گی، اس دن (سب انسان) الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے

وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ [اور جس دن برپا ہوگی قیامت ] يَوْمَىِٕذٍ [اس دن ] يَّتَفَرَّقُوْنَ [لوگ الگ الگ ہوجائیں گے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 14 ۔ میں فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ الگ الگ فرقوں میں بٹ جائیں گے۔ یعنی دنیا کی تمام جتھ بندیاں جو آج قوم ، نسل، وطن، قبیلہ وغیرہ کی بنیاد پر بنی ہوئی ہیں، اس روز ٹوٹ جائیں گی اور خالص عقیدے اور کردار کی بنیاد پر نئے سرے سے ایک دوسری گروبندی ہوگی۔ ایک طرف نوع انسانی کی تمام اگلی پچھلی قوموں میں سے مومن و صالح انسان الگ چھانٹ لئے جائیں گے اور ان سب کا ایک گروہ ہوگا۔ دوسری طرف ایک ایک قسم کے گمراہانہ نظریات و عقائد رکھنے والے ، اور ایک ایک قسم کے جرائم پیشہ لوگ چھانٹ چھانٹ کر الگ نکال لئے جائیں گے اور ان کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 30:15

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایک باغ میں شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے

فَاَمَّا الَّذِيْنَ [تو وہ جو ہیں جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [اور انہوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [نیکیوں کے ] فَهُمْ [تو ان لوگوں کی ] فِيْ رَوْضَةٍ [ایک باغ میں ] يُّحْبَرُوْنَ [آؤ بھگت کی جائے گی ] ۔ ر و ض (ن) روضا کسی جگہ کا سرسبز و شاداب ہونا۔ باغ و بہار ہونا۔ روضۃ باغ ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 15 ۔
Ayah 30:16

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے

وَاَمَّا الَّذِيْنَ [اور وہ جو ہیں جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] وَكَذَّبُوْا [اور جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ہماری نشانیوں کو ] وَلِقَاۗئِ الْاٰخِرَةِ [اور آخرت کی ملاقات کو ] فَاُولٰۗىِٕكَ [تو وہ لوگ ] فِي الْعَذَابِ [عذاب میں ] مُحْضَرُوْنَ [حاضر کئے ہوئے ہوں گے ] ۔
Ayah 30:17

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

پس تسبیح کرو اللہ کی جبکہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو

فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ [تو (بیان کرو) اللہ کی پاکیزگی ] حِيْنَ [جب ] تُمْسُوْنَ [تم لوگ شام کرتے ہو ] وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ [اور جب صبح کرتے ہو ] ۔ م س و (ن) مسوا وعدہ کرکے دیر لگانا۔ (افعال) امساء شام میں داخل ہونا۔ یعنی شام کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔
Ayah 30:18

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لیے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے

وَلَهُ [اور اس کے لئے ہی ہے ] الْحَمْــدُ [تمام شکر و سپاس ] فِي السَّمٰوٰتِ [آسمانوں میں ] وَالْاَرْضِ [اور زمین میں ] وَعَشِـيًّا [اور سہ پہر کے وقت ] وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ [اور جب دوپہر کرتے ہو ] ۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ زندہ میں سے مُردے کو نکالتا ہے اور مُردے میں سے زندہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے

يُخْرِجُ [وہ نکالتا ہے ] الْـحَيَّ [زندہ کو ] مِنَ الْمَيِّتِ [مردہ میں سے ] وَيُخْرِجُ [اور وہ نکالتا ہے ] الْمَيِّتَ [مردہ کو ] مِنَ الْـحَيِّ [زندہ میں سے ] وَيُـحْيِ [اور وہ زندہ کرتا ہے ] الْاَرْضَ [زمین کو ] بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ [اس کی موت کے بعد ] وَكَذٰلِكَ [اور اس طرح ] تُخْرَجُوْنَ [تم لوگ نکالے جاؤ گے ] ۔ البقرہ کی آیت۔ 28 ۔ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم لوگ اللہ کا کیسے انکار کرتے جب حال یہ ہے کہ تم لوگ مردہ حالت میں تھے تو اس نے تم کو زندہ کیا۔ اس آیت کی وضاحت کو ہم یہاں دوبارہ نقل کر رہے ہیں۔ ــ” سمندر سے پانی کا بھاپ بن کر اٹھنا، بادل بننا ، پانی برسنا، پودے اگنا، پودوں کا زمین اور فضا سے غذا حاصل کرنا، پھل کا پکنا، غرض یہ کہ اس طرح کے نہ معلوم کتنے عناصر قدرت کام کرتے ہیں تب کہیں مختلف مقامات پر ایک انسان کے بکھرے ہوئے ذرات (اجزاء) کھینچ کر ایک گندے پانی کی بوند میں جمع ہوتے ہیں جس سے وہ جنم لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس نظام پر ہم جتنا غور کریں گے اتنا ہی فاحیاکم کی گہرائی اور گیرائی عیاں ہوگی۔ “ غرضیکہ ہم کسی بھی پہلو سے غور کریں، بہرحال ماننا پڑتا ہے کہ انسانی جسم خاکی ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اس کے جسم کی تمام تر ضروریات ، روٹی ، کپڑا، مکان ، ادویات وغیرہ سب چیزیں زمین سے ہی حاصل کی جاتی ہیں۔ نوٹ۔ 2: محبت سے مراد یہاں (آیت۔ 21 ۔ میں) جنسی محبت ہے جو مرد اور عورت کے اندر جذب و کشش کی ابتدائی محرک بنتی ہے اور پھر انھیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے۔ اور رحمت سے مراد وہ روحانی تعلق ہے جو ازدواجی زندگی میں بتدریج ابھرنا ہے، جس کی بدولت وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ، ہمدرد اور غم گسار بن جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جن جنسی محبت پیچھے جا پڑتی ہے اور بڑھاپے میں یہ جیون ساتھی جوانی سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے کے حق میں رحیم و شفیق ثابت ہوتے ہیں۔
Ayah 30:20

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] اَنْ خَلَقَكُمْ [کہ اس نے پیدا کیا تم کو ] مِّنْ تُرَابٍ [کسی مٹی سے ] ثُمَّ اِذَآ [پھر جب ہی ] اَنْتُمْ [تم لوگ ] بَشَرٌ [بشر (ہو جاتے) ہو ] تَنْتَشِرُوْنَ [جو پھیل جاتے ہو ] ۔
Ayah 30:21

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ [اور اس نے بنایا تمہارے مابین ] اَنْ خَلَقَ لَكُمْ [کہ اس نے پیدا کئے تمہارے لئے ] مِّنْ اَنْفُسِكُمْ [تمہاری جانوں سے ] اَزْوَاجًا [جوڑے ] لِّتَسْكُنُوْٓا [تاکہ تم لوگ سکون پکڑو ] اِلَيْهَا [ان کی طرف ] وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ [اور اس نے بنایا تمہارے مابین ] مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ۭ [محبت اور رحمت ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّــقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّتَفَكَّرُوْنَ [غور و فکر کرتے ہیں ]
Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانشمند لوگوں کے لیے

وَمِنْ اٰيٰتِهٖ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ] وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ ۭ [اور تمہارے رنگوں اور تمہاری بولیوں کا اختلاف ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّــلْعٰلِمِيْنَ [علم والوں کے لئے ] ۔ نوٹ۔ 1: انسان جیسے اشرف المخلوقات کو مٹی سے پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کھلا ثبوت ہے۔ کیونکہ اس دنیا کے عناصر ترکیبیہ میں سب سے زیادہ ادنیٰ درجہ کا عنصر مٹی ہے جس میں حس و حرکت اور شعور ادراک کا کوئی شمہ نظر نہیں آتا۔ مشہور چار عناصر آگ ، پانی ، ہوا اور مٹی میں سے مٹی کے سوا اور سب عناصر میں کچھ نہ کچھ حرکت تو ہے، جبکہ مٹی اس سے بھی محروم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانی کے لئے اس کو منتخب فرمایا۔ (اور مٹی کے پتلے میں شعور، احساس، تخیل ، عقل اور اس طرح کی متعدد صلاحتیں پیدا کردیں۔ مرتب) ۔ انسان کی تخلیق کا مادہ مٹی ہونا حضرت آدم (علیہ السلام) کے اعتبار سے ظاہر ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ انسان جو تو الدو تناسل کے سلسلے سے نطفہ کے ذریعہ پیدا ہوئے ہیں ان میں بھی نطفہ جن اجزاء سے مرکب ہوتا ہے اس میں مٹی کا جزو غالب ہو۔ (معارف القرآن) آیت ۔ 22 ۔ میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ تمہارے منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق نہیں ہے مگر زمین کے مختلف خطوں میں تمہاری زبانیں مختلف ہیں۔ پھر ایک ہی زبان کے بولنے والے علاقوں میں شہر شہر اور بستی بستی کی بولیاں مختلف ہیں اور مزید یہ کہ ہر شخص کا لہجہ اور طرز ِ گفتگو دوسرے سے مختلف ہے۔ اسی طرح تمہارا مادۂ تخلیق اور بناوٹ کا فارمولا ایک ہی ہے مگر تمہارے رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ قوم اور قوم تو درکنار ، ایک ماں باپ کے دو بیٹوں کا رنگ بھی بالکل یکساں نہیں ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق اپنی خلق کی ایک ایک چیز پر انفرادی توجہ صرف کر رہا ہے۔ اور تخلیق کائنات کے بعد وہ اس سے لا تعلق نہیں ہوگیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اُس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (غور سے) سُنتے ہیں

وَمِنْ اٰيٰتِهٖ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] مَنَامُكُمْ [تم لوگوں کی نیند ] بِالَّيْلِ [رات میں ] وَالنَّهَارِ [اور دن میں ] وَابْتِغَاۗؤُكُمْ [اور تمہارا تلاش کرنا ] مِّنْ فَضْلِهٖ ۭ [اس کے فضل میں سے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّــقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّسْمَعُوْنَ [سنتے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: انسان مسلسل محنت نہیں کرسکتا بلکہ ہرچند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹوں کے لئے آرام درکار ہوتا ہے۔ اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر نیند کا ایک زبردست داعیہ رکھ دیا جو اس کے ادارے کے بغیر ، حتیٰ کہ اس کی مزاحمت کے باوجود، خودبخود اسے آ دبوچتا ہے اور آرام لینے پر اسے مجبور کردیتا ہے۔ اور ضرورت پوری ہوجانے پر خودبخود اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس نیند کی ماہیت و کیفیت اور اس کے حقیقی اسباب کو آج تک انسان نہیں سمجھ سکا ہے۔ یہ قطعاً ایک پیدائشی چیز ہے جو آدمی کی فطرت اور اس کی ساخت میں رکھ دی گئی ہے۔ اس کا ٹھیک انسان کی ضرورت کے مطابق ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ کسی حکیم نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق یہ تدبیر وضع کی ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: گذشتہ آیات میں تفکر اور علم کا ذکر ہوا تھا۔ یہاں سمع کا ذکر ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا درجہ پہلی دونوں چیزوں سے کم تر ہے لیکن حصول علم کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے۔ اگر ایک شخص میں اتنی معقولیت موجود ہو کہ وہ معقول لوگوں کی باتیں سنے تو اس راہ سے بھی اس کو ہدایت حاصل ہوسکتی ہے اگرچہ وہ کائنات کے نظام اور اس کے اسرار میں زیادہ تفکر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔ (تدبر قرآن)
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

وَمِنْ اٰيٰتِهٖ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] يُرِيْكُمُ [(کہ) وہ دکھاتا ہے تم لوگوں کو ] الْبَرْقَ [بجلی ] خَوْفًا [خوف کے لئے ] وَّطَمَـعًا [اور آرزو کے لئے ] وَّيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاۗءِ [اور وہ اتارتا ہے آسمان سے ] مَاۗءً [کچھ پانی ] فَيُحْيٖ بِهِ [پھر وہ زندہ کرتا ہے اس سے ] الْاَرْضَ [زمین کو ] بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ [اس کے مردہ ہونے کے بعد ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک نشانیاں ہیں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّعْقِلُوْنَ [عقل (استعمال ) کرتے ہیں ] ۔
Ayah 30:25

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جونہی کہ اُس نے تمہیں زمین سے پکارا، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] اَنْ تَــقُوْمَ [کہ قائم ہیں ] السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ [آسمان اور زمین ] بِاَمْرِهٖ ۭ [اس کے حکم سے ] ثُمَّ اِذَا [پھر جب ] دَعَاكُمْ [وہ پکارے گا تم لوگوں کو ] دَعْوَةً ڰ [ایک (ہی) پکار ] مِّنَ الْاَرْضِ ڰ (تو) زمین میں سے ] اِذَآ اَنْتُمْ [جب ہی تم لوگ ] تَخْرُجُوْنَ [نکل پڑو گے ] ۔
Ayah 30:26

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اُس کے بندے ہیں، سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں

وَلَهٗ مَنْ [اور اسی کا ہے وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمانوں اور زمین میں ہے ] كُلٌّ لَّهٗ [سارے اسی کی ] قٰنِتُوْنَ [فرمانبرداری کرنے والے ہیں ] ۔
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے

وَهُوَ [اور وہ ] الَّذِيْ [وہی ہے جو ] يَبْدَؤُا [پہل کرتا ہے ] الْخَــلْقَ [پیدا کرنے کی ] ثُمَّ يُعِيْدُهٗ [پھر وہ واپس لائے گا اس کو ] وَهُوَ اَهْوَنُ [اور یہ زیادہ آسان ہے ] عَلَيْهِ ۭ [اس پر ] وَلَهُ [اور اس کے لئے ہی ہے ] الْمَثَلُ الْاَعْلٰى [اعلی ترین مثال (یعنی صفت)] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ [آسمانوں اور زمین میں ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [اور وہ ہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [حکمت والا ہے ] ۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

وہ تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے کیا تمہارے اُن غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم اُن سے اُس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟ اس طرح ہم آیات کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

ضَرَبَ لَكُمْ [اس نے بیان کی تمہارے لئے ] مَّثَلًا [ایک مثال ] مِّنْ اَنْفُسِكُمْ ۭ [تہارے جییؤں میں سے ] هَلْ لَّكُمْ [کیا تمہارے لئے ] مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ [اس میں سے جن کے مالک ہوئے تمہارے داہنے ہاتھ ] مِّنْ شُرَكَاۗءَ [کوئی بھی شریک ہے ] فِيْ مَا رَزَقْنٰكُمْ [اس میں جو ہم نے روزی دی تم کو ] فَاَنْتُمْ فِيْهِ [نتیجتاً تم لوگ اس میں ] سَوَاۗءٌ [برابر ہو جاؤ] تَخَافُوْنَهُمْ [جیسے تمہارا ڈرنا ] كَخِيْفَتِكُمْ [جیسے تمہارا ڈرنا ] اَنْفُسَكُمْ ۭ [اپنے نفوس (یعنی اپنوں) سے ] كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ [اس طرح ہم کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [آیات کو ] لِقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّعْقِلُوْنَ [عقل (استعمال) کرتے ہیں ] ۔
Ayah 30:29

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں اب کون اُس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو ایسے لوگوں کا تو کوئی مدد گار نہیں ہو سکتا

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ [بلکہ پیروی کی ان لوگوں نے جنہوں نے ] ظَلَمُوْٓا [ظلم کیا ] اَهْوَاۗءَهُمْ [اپنی خواہشات کی ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ [کسی علم کے بغیر ] فَمَنْ يَّهْدِيْ [تو کون ہدایت دے گا ] مَنْ [اسے جس کو ] اَضَلَّ اللّٰهُ ۭ [گمراہ کیا اللہ نے ] وَمَا لَهُمْ [اور نہیں ہے ان کے لئے ] مِّنْ نّٰصِرِيْنَ [کوئی مدد کرنے والوں میں سے ] ۔
Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

پس (اے نبیؐ، اور نبیؐ کے پیروؤں) یک سُو ہو کر اپنا رُخ اِس دین کی سمت میں جما دو، قائم ہو جاؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

فَاَقِمْ [تو آپ ﷺ قائم رکھیں ] وَجْهَكَ [اپنے چہرے کو ] لِلدِّيْنِ [اس دین کے لئے ] حَنِيْفًا ۭ [یکسو ہوتے ہوئے ] فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ [(قائم رکھو) اللہ کی بخشی ہوئی اس ساخت اور ذہنی استعداد کو ] فَطَرَ النَّاسَ [اس نے وجود بخشا لوگوں کو ] عَلَيْهَا ۭ [جس پر ] لَا تَبْدِيْلَ [کوئی بھی تبدیلی (جائز) نہیں ہے ] لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کی تخلیق کے لئے ] ذٰلِكَ [یہ ] الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ [سیدھا دین ہے ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ [اور لیکن لوگوں کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتے نہیں ہیں ] ۔
Ayah 30:31

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

(قائم ہو جاؤ اِس بات پر) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے، اور ڈرو اُس سے، اور نماز قائم کرو، اور نہ ہو جاؤ اُن مشرکین میں سے

مُنِيْبِيْنَ [رخ کرنے والے ہوتے ہوئے ] اِلَيْهِ [اس کی طرف ] وَاتَّقُوْهُ [اور تقوی اختیار کرو اس کا ] وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ [اور قائم رکھو نماز کو ] وَلَا تَكُوْنُوْا [اور تم لوگ مت ہونا ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [شرک کرنے والوں میں سے ] ۔
Ayah 30:32

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے

مِنَ الَّذِيْنَ [ان لوگوں میں سے جنہوں نے ] فَرَّقُوْا [الگ الگ کیا ] دِيْنَهُمْ [اپنے دین (کی راہوں ) کو ] وَكَانُوْا [اور ہوگئے ] شِيَعًا ۭ [فرقے فرقے ] كُلُّ حِزْبٍۢ [ہر گروہ ] بِمَا [اس کے ساتھ ] لَدَيْهِمْ [ان کے پاس ہے ] فَرِحُوْنَ [خوش ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک خدا جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب خدا کے غلام ہیں۔ چناچہ وہ حج و عمرے کے موقع پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔ پس یہاں انھیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جا رہا ہے جو خود یہ اپنے نفس میں پائیں اور اچھی طرح غور و خوص کرسکیں۔ تو فرماتا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی بھی اس پر راضی ہوگا کہ اس کے مال میں اس کے غلام شریک ہوں اور اسے یہ ڈر رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کر کے میری جائداد بانٹ نہ لے جائیں۔ پس جس طرح تم یہ بات اپنے لیئے پسند نہیں کرتے ، خدا تعالیٰ کے لئے بھی نہ چاہو۔ جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کرسکتا اسی طرح خدا کا کوئی بندہ خدا کا شریک نہیں ہوسکتا۔ (ابن کثیررحمۃ اللہ ) نوٹ۔ 2: فطرت اللہ کی وضاحت آیت ۔ 6/14 کے نوٹ۔ 2 ۔ میں کی جا چکی ہے۔ یہاں پر اتنا اور سمجھ لیں کہ فطرت اللہ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ کسی فعل محذوف کا مفعول ہے، جو کہ اقیموا ہوسکتا ہے۔
Ayah 30:33

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتے ہیں، پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انہیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں

وَاِذَا مَسَّ [اور جب چھوتا ہے ] النَّاسَ [لوگوں کو ] ضُرٌّ [کوئی نقصان ] دَعَوْا رَبَّهُمْ [تو وہ لوگ پکارتے ہیں رب کو ] مُّنِيْبِيْنَ [رخ کرنے والے ہوتے ہوئے ] اِلَيْهِ [اس کی طرف ] ثُمَّ اِذَآ [پھر جب ] اَذَاقَهُمْ [وہ چکھاتا ہے ان کو ] مِّنْهُ [اپنے (پاس) سے ] رَحْمَةً [کوئی رحمت ] اِذَا فَرِيْقٌ [جب ہی ایک فریق ] مِّنْهُمْ [ان میں سے ] بِرَبِّهِمْ [اپنے رب کا ] يُشْرِكُوْنَ [شریک بناتے ہیں ] ۔
Ayah 30:34

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ ہمارے کیے ہوئے احسان کی ناشکری کریں اچھا، مزے کر لو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا

لِيَكْفُرُوْا [نتیجتاً وہ ناشکری کرتے ہیں ] بِمَآ [اس کی جو ] [اٰتَيْنٰهُمْ ۭ : جو ہم نے ان کو بخشی ] [فَتَمَتَّعُوْا ۪ [تو تم لوگ فائدہ اٹھالو ] فَسَوْفَ [پھر عنقریب ] تَعْلَمُوْنَ [جان لو گے ] ۔
Ayah 30:35

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں؟

اَمْ اَنْزَلْنَا [یا ہم نے اتارا ] عَلَيْهِمْ [ان لوگوں پر ] سُلْطٰنًا [کوئی دلیل ] فَهُوَ [پھر وہ ] يَتَكَلَّمُ [بولتی ہے ] بِمَا [اس کے بارے میں ] كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ [یہ لوگ جس کو شریک کیا کرتے ہیں ] ۔
Ayah 30:36

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں، اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں

وَاِذَآ اَذَقْنَا [اور جب کبھی ہم چکھاتے ہیں ] النَّاسَ [لوگوں کو ] رَحْمَةً [کوئی رحمت ] فَرِحُوْا [تو وہ لوگ خوش ہوتے ہیں ] بِهَا ۭ [اس سے ] وَاِنْ تُصِبْهُمْ [اور اگر آلگتی ہے ان کو ] سَيِّئَةٌۢ [کوئی برائی ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] قَدَّمَتْ [آگے بھیجا ] اَيْدِيْهِمْ [ان کے ہاتھوں نے ] اِذَا [جب ہی ] هُمْ يَقْنَطُوْنَ [وہ لوگ مایوس ہوتے ہیں ] ۔
Ayah 30:37

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کا چاہتا ہے) یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا انھوں نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ [کہ اللہ ] يَبْسُطُ [کشادہ کرتا ہے ] الرِّزْقَ [رزق کو ] لِمَنْ [اس کے لئے جس کے لئے ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] [وَيَقْدِر ُ ۭ : اور نپا تلا دیتا ہے (جس کے لئے چاہتا ہے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّـقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يُّؤْمِنُوْنَ [ایمان لاتے ہیں ] ۔
Ayah 30:38

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

پس (اے مومن) رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین و مسافر کو (اُس کا حق) یہ طریقہ بہتر ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں

فَاٰتِ [پس تو دے ] ذَا الْقُرْبٰى [قرابت والے کو ] حَقَّهٗ [اس کا حق ] وَالْمِسْكِيْنَ [اور مسکین کو ] وَابْنَ السَّبِيْلِ ۭ [اور راستے کے بیٹے (مسافر) کو ] ذٰلِكَ خَيْرٌ [یہ بہتر ہے ] لِّــلَّذِيْنَ [ان کے لئے جو ] يُرِيْدُوْنَ [چاہتے ہیں ] وَجْهَ اللّٰهِ ۡ [اللہ کے چہرے (توجہ) کو ] وَاُولٰۗىِٕكَ [اور وہ لوگ ] هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [ہی مراد پانے والے ہیں ] ۔
Ayah 30:39

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں

وَمَآ اٰتَيْتُمْ [اور جو تم لوگ دیتے ہو ] مِّنْ رِّبًا [سود میں سے ] لِّيَرْبُوَا۟ [تاکہ وہ بڑھے ] فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ [لوگوں کے مالوں میں ] فَلَا يَرْبُوْا [تو وہ نہیں بڑھتا ] عِنْدَ اللّٰهِ ۚ [اللہ کے پاس ] وَمَآ اٰتَيْتُمْ [اور جو لوگ دیتے ہو ] مِّنْ زَكٰوةٍ [زکوٰۃ میں سے ] تُرِيْدُوْنَ [چاہتے ہوئے ] وَجْهَ اللّٰهِ [اللہ کے چہرے (توجہ) کو ] فَاُولٰۗىِٕكَ [تو وہ لوگ ] هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ [ہی بڑھانے والے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت۔ 39 ۔ قرآن مجید میں پہلی آیت ہے جو سود کی مذمت میں نازل ہوئی۔ پھر مدینہ میں سود کی حرمت کا حکم نازل کیا گیا۔ اس آیت کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہاں ربوا سے مراد وہ سود نہیں ہے جو شرعاً حرام کیا گیا ہے۔ بلکہ وہ عطیہ یا تحفہ ہے جو اس نیت سے دیا جائے کہ لینے والا بعد میں اس سے زیادہ واپس کرے گا یا کوئی مفید خدمات انجام دے گا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس سے مراد وہی ربوا ہے جسے شریعت نے حرام کیا ہے۔ ہمارے خیال میں دوسری تفسیر صحیح ہے۔ قرآن مجید کا طریقہ یہ ہے کہ جس چیز کو بعد میں حرام کرنا ہوتا ہے، اس کے لئے وہ پہلے سے ذہنوں کو تیار کرنا شروع کردیتا ہے۔ شراب کے معاملے میں بھی پہلے صرف اتنی بات فرمائی گئی تھی کہ وہ پاکیزہ رزق نہیں ہے۔ (النحل ۔ 67) پھر فرمایا کہ اس کا گناہ اس کے فائدے سے زیادہ ہے (البقرہ۔ 219) ۔ پھر حکم دیا گیا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ (النسائ۔ 43) پھر اس کی قطعی حرمت کا فیصلہ کردیا گیا۔ اسی طرح یہاں سود کے متعلق صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ اس سے دولت کی افزائش نہیں ہوتی بلکہ زکوٰۃ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد سود در سود کو منع کیا گیا (اٰل عمران۔ 130) ۔ اور پھر بجائے خود سود کی ہی حرمت کا فیصلہ کردیا گیا (البقرہ۔ 275) ۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: اس آیت میں ایک بری رسم کی اصلاح کی گئی ہے جو رشتہ داروں میں چلتی ہے۔ عام طور پر رشتہ دار جو کچھ دوسرے کو دیتے ہیں تو اس پر نظر رکھتے ہیں وہ بھی ہمارے وقت پر کچھ دے گا بلکہ کچھ زیادہ دے گا۔ خصوصاً نکاح ، شادی وغیرہ کی تقریبات میں جو کچھ دیا جاتا ہے اس کی یہی حیثیت ہوتی ہے جسے عرف میں نوتہ کہتے ہیں۔ اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ اہل قرابت کا جو حق ادا کرنے کا حکم پہلی آیت میں دیا گیا ہے ان کو یہ حق اس طرح دیا جائے کہ نہ احسان جتائے اور نہ بدلے پر نظر رکھے۔ جس نے بدلے کی نیت سے دیا کہ اس کا مال کچھ زیادتی لے کر واپس آئے گا تو اللہ کے نزدیک اس کا کوئی درجہ اور ثواب نہیں ہے۔ اور قرآن نے اس زیادتی کو لفظ ربوا سے تعبیر کر کے اس کی قباحت کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ سود کی ایک صورت ہے۔ (معارف القرآن) راقم الحروف کی رائے میں یہ آیت ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ کیونکہ اس سے ایک طرف ایک بری رسم کی اصلاح بھی ہوتی ہے اور دوسری طرف سود کی حرمت کے لئے ذہن بھی تیار ہوتا ہے۔ اس لئے اس آیت کے دونوں مفہوم کو درست تسلیم کرنا چاہیے۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا کیا تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو؟ پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں؟

اَللّٰهُ الَّذِيْ [اللہ وہ ہے جس نے ] خَلَقَكُمْ [پیدا کیا تم کو ] ثُمَّ رَزَقَكُمْ [پھر اس نے رزق دیا تم کو ] ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ [پھر وہ موت دے گا تم کو ] ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ۭ [پھر وہ زندہ کرے گا تم کو ] هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ [کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ] مَّنْ [وہ ہے جو ] يَّفْعَلُ [کرتا ہے ] مِنْ ذٰلِكُمْ [اس میں سے ] مِّنْ شَيْءٍ ۭ [کوئی بھی چیز (یعنی کام)] سُبْحٰنَهٗ [پاکیزگی اس کی ہے ] وَتَعٰلٰى [اور وہ بلند ہوا ] عَمَّا [اس سے جو ] يُشْرِكُوْنَ [یہ لوگ شریک کرتے ہیں ] ۔