30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 30:41

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزا چکھائے اُن کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں

ظَهَرَ الْفَسَادُ [ظاہر ہوا فساد ] فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [خشکی اور سمندر میں ] بِمَا كَسَبَتْ [بسبب اس کے جو کمایا ] اَيْدِي النَّاسِ [لوگوں کے ہاتھوں نے ] لِيُذِيْقَهُمْ [تاکہ وہ (اللہ) چکھائے ان کو ] بَعْضَ الَّذِيْ [اس کا کچھ جو ] عَمِلُوْا [انھوں نے عمل کئے ] لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [شاید وہ لوگ لوٹ آئیں ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 41 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو مصائب و آفات تم پر آتی ہیں ان کا حقیقی سبب تمہارے گناہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں نہ ان گناہوں کا پورا بدلہ دیا جاتا ہے اور نہ ہر گنا ہ پر آفت آتی ہے بلکہ بہت سے گناہوں کو تو معاف کردیا جاتا ہے۔ اور جو معاف نہیں ہوتے ان کا بھی پورا بدلہ دنیا میں نہیں دیا جاتا ، بلکہ تھوڑا سا مزہ چکھا یا جاتا ہے جیسا کہ اس آیت میں فرمایا لیذیقھم بعض الذی عملوا۔ اس کے علاوہ قرآن کریم نے جن آفات و مصائب کو گناہوں کا سبب قرار دیا ہے اس سے مراد وہ آفات و مصائب ہیں جو پوری دنیا پر یا پورے شہر پر عام ہوجائیں اور عام انسان یا جانور ان کے اثر سے نہ بچ سکیں۔ ایسی آفات و مصائب کا سبب عموماً لوگوں میں گناہوں کی کثرت ، خصوصاً اعلانیہ گناہ کرنا ہی ہوتا ہے۔ جبکہ انفرادی تکلیف و مصیبت میں یہ ضابطہ نہیں ہے بلکہ وہ کھبی کسی انسان کی آزمائش کرنے کے لئے بھی بھیجی جاتی ہیں۔ اور جب وہ اس آزمائش میں پورا اترتا ہے تو اس کے درجات آخرت میں بڑھ جاتے ہیں۔ یہ مصیبت درحقیقت اس کے لئے رحمت و نعمت ہوتی ہے۔ اس لئے انفرادی طور پر کسی کو مبتلائے مصیبت دیکھ کر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بہت گناہگار ہے۔ اسی طرح کسی کو عیش و آرام میں دیکھ کر یہ حکم نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ بڑا نیک صالح بزرگ ہے۔ البتہ عام مصائب و آفات جیسے قحط، طوفان، وبائی امراض، اشیاء ضرورت کی گرانی، چیزوں کی برکت کا مٹ جانا وغیرہ، اس کا اکثر اور بڑا سبب لوگوں کا اعلانیہ گناہ اور سرکشی ہوتی ہے ۔ انفرادی مصائب و آفات نعمت و رحمت ہیں یا گناہوں کی کچھ سزا ہے، ان دونوں میں فرق کیسے پہچانا جائے۔ اس کی پہچان شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ نے یہ لکھی ہے کہ جو لوگ رفع و رجات یا کفارۂ سیئات مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے قلوب کو مطمئن کردیتے ہیں اور وہ ان مصائب پر ایسے ہی راضی ہوتے ہیں جیسے بیمار کڑوی دوا یا آپریشن پر راضی ہوتا ہے۔ اور جو بطور سزا مبتلا کیے جاتے ہیں ان کی پریشانی اور جزع و فزع کی حد نہیں رہتی۔ مولانا تھانوی رحمۃ اللہ نے ایک پہچان یہ بتائی ہے کہ جس مصیبت کے ساتھ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور توبہ و استغفار کی رغبت زیادہ ہوجائے وہ علامت اس کی ہے کہ یہ قہر نہیں بلکہ عنایت ہے اور جس کو یہ صورت نہ بننے بلکہ جزع و فزع بڑھ جائے وہ علامت قہر الٰہی کی ہے۔ (معارف قرآن۔ ج 6 ۔ ص 752 تا 757 سے ماخوذ)
Ayah 30:42

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

(اے نبیؐ) اِن سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہو چکا ہے، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] سِيْرُوْا [تم لوگ گھومو پھرو ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] فَانْظُرُوْا [پھر دیکھو ] كَيْفَ كَانَ [کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ [ان کا انجام جو ] مِنْ قَبْلُ ۭ [پہلے تھے ] كَانَ اَكْثَرُهُمْ [ان کے اکثر تھے ] مُّشْرِكِيْنَ [شرک کرنے والے ] ۔
Ayah 30:43

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

پس (اے نبیؐ) اپنا رُخ مضبوطی کے ساتھ جما دو اِس دین راست کی سمت میں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن لوگ پھَٹ کر ایک دُوسرے سے الگ ہو جائیں گے

فَاَقِمْ [پس آپ ﷺ قائم رکھیں ] وَجْهَكَ [اپنے چہرے کو ] لِلدِّيْنِ الْقَيِّمِ [اس سیدھے دین کے لئے ] مِنْ قَبْلِ اَنْ [اس سے پہلے کہ ] يَّاْتِيَ [آئے ] يَوْمٌ [ایک ایسا دن ] لَّا مَرَدَّ [کوئی بھی لوٹانے کی جگہ (یعنی امکان) نہیں ہے ] لَهٗ [جس کے لئے ] مِنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف) سے ] يَوْمَىِٕذٍ [اس دن ] يَّصَّدَّعُوْنَ [لوگ الگ الگ ہوں گے ] ۔
Ayah 30:44

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے وہ اپنے ہی لیے فلاح کا راستہ صاف کر رہے ہیں

مَنْ كَفَرَ [جس نے کفر کیا ] فَعَلَيْهِ [تو اس پر ہے ] كُفْرُه ٗ ۚ [اس کا کفر ] وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا [اور جس نے عمل کیا نیکی کا ] فَلِاَنْفُسِهِمْ [تو اپنی جانوں کے لئے ] يَمْهَدُوْنَ [وہ لوگ آرام دہ بناتے ہیں ] ۔
Ayah 30:45

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عملِ صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا

لِيَجْزِيَ [تاکہ وہ (اللہ) بدلہ دے ] الَّذِيْنَ [ان کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور عمل کئے نیکیوں کے ] مِنْ فَضْلِهٖ ۭ [اپنے فضل سے ] اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ [بیشک وہ پسند نہیں کرتا ] الْكٰفِرِيْنَ [کفر کرنے والوں کو ] ۔
Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے اور تمہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرنے کے لیے اور اس غرض کے لیے کہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] اَنْ يُّرْسِلَ [کہ وہ بھیجتا ہے ] الرِّيَاحَ [ہواؤں کو ] مُبَشِّرٰتٍ [خوشخبری دینے والی ہوتے ہوئے ] وَّلِيُذِيْقَكُمْ [اور تاکہ وہ چکھائے تم کو ] مِّنْ رَّحْمَتِهٖ [اپنی رحمت میں سے ] وَلِتَجْرِيَ [اور تاکہ رواں ہوں ] الْفُلْكُ [کشتیاں ] بِاَمْرِهٖ [اس کے حکم سے ] وَلِتَبْتَغُوْا [اور تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] مِنْ فَضْلِهٖ [اس کے فضل میں سے (روزی)] وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ [اور شاید تم لوگ شکر ادا کرو ] ۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے رسُولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے، پھر جنہوں نے جرم کیا اُن سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [اور یقینا ہم نے بھیجا ہے ] مِنْ قَبْلِكَ [آپ ﷺ سے پہلے ] رُسُلًا [رسولوں کو ] اِلٰى قَوْمِهِمْ [ان کی قوم کی طرف ] فَجَــاۗءُوْهُمْ [پھر وہ لوگ آئے ان کے پاس ] بِالْبَيِّنٰتِ [واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] فَانْتَـقَمْنَا [پھر ہم نے انتقام لیا ] مِنَ الَّذِيْنَ [ان لوگوں سے جنہوں نے ] اَجْرَمُوْا ۭ [جرم کیا ] وَكَانَ حَقًّا [اور واجب ہے ] عَلَيْنَا [ہم پر ] نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں کی نصرت کرنا ] ۔
Ayah 30:48

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ اِن بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے، پھر تُو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل سے ٹپکے چلے آتے ہیں یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے

اَللّٰهُ الَّذِيْ [اللہ وہ ہے جو ] يُرْسِلُ [بھیجتا ہے ] الرِّيٰحَ [ہواؤں کو ] فَتُثِيْرُ [تو وہ اوپر اٹھاتی ہیں ] سَحَابًا [بادل کو ] فَيَبْسُطُهٗ [پھر وہ (اللہ) پھیلاتا ہے اس کو ] فِي السَّمَاۗءِ [آسمان میں ] كَيْفَ يَشَاۗءُ [جیسے وہ چاہتا ہے ] وَيَجْعَلُهٗ [اور وہ بناتا ہے اس کو ] كِسَفًا [ٹکڑے ٹکڑے ] [فَتَرَى : پھر تو دیکھتا ہے ] الْوَدْقَ [بارش (کے قطرے) کو ] يَخْرُجُ [وہ نکلتا ہے ] مِنْ خِلٰلِهٖ ۚ [اس کی دراڑوں سے ] فَاِذَآ [پھر جب ] اَصَابَ بِهٖ [وہ پہنچتا ہے اسے ] مَنْ [اس کے پاس جس کو ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖٓ [اپنے بندوں میں سے ] اِذَا هُمْ [جب ہی وہ لوگ ] يَسْتَبْشِرُوْنَ [خوشی مناتے ہیں ] ۔ صر (س) صفرا زرد ہونا۔ پیلا ہونا۔ اصفر مؤنث صفراء ج۔ صفر۔ افعل الوان و عیوب کے وزن پر صفت ہے۔ زرد رنگ والا یعنی رزد۔ پیلا۔ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاۗءُ (بیشک وہ ایک پیلی گائے ہے) ۔ 2/69 ۔ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ(گویا کہ وہ پہلے اونٹ ہیں) ۔ 77/33 (افعال) اصفرارا زرد ہوجانا۔ پیلا پڑجانا۔ مصفر اسم الفاعل۔ زرد ہونے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 51 نوٹ۔ 1: لفظ ریح واحد ہے اور ریاح اس کی جمع ہے۔ قرآن مجید میں ان دونوں الفاظ کے استعمال کے متعلق حافظ احمد یار صاحب مرحوم نے کہا ہے کہ انھوں نے کہیں پڑھا تھا کہ ریح کا لفظ عام طور پر ناموافق اور نقصان دہ ہوا کے لئے آیا ہے جبکہ ریاح کا لفظ عموماً موافق اور فائدہ مند ہوا کے لئے آیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ قاعدہ کس حد تک درست ہے۔ حافظ صاحب کا کیسٹ سننے کے بعد میں نے معجم سے چیک کیا تو معلوم ہوا کہ یہ قاعدہ بڑی حد تک درست ہے۔ ریاح کا لفظ قرآن مجید میں دس مرتبہ آیا ہے۔ اس میں سے نو مرتبہ یہ واضح طور پر مفید ہواؤں کے لئے آیا ہے۔ صرف الکہف کی آیت ۔ 45 ۔ کو ہم مستثنیٰ کرسکتے ہیں لیکن یہاں بھی یہ لفظ نقصان دہ ہواؤں کے لئے نہیں بلکہ مجرد ہوا کے مفہوم میں آیا ہے۔ جبکہ ریح کا لفظ قرآن مجید میں =18= مرتبہ آیا ہے جس میں سے =13= مرتبہ واضح طور پر نقصان دہ ہواؤں کے لئے ہے۔ چار مرتبہ یہ لفظ مجرد ہواؤں کے مفہوم میں آیا ہے اور صرف ایک مرتبہ سورة یونس کی آیت ۔ 22 ۔ میں بریح طیبۃ آیا ہے۔ اور وہ بھی کشتیوں کے چلنے کے ضمن میں آیا ہے۔ معلوم ہے کہ کشتی کے لئے ایک ہی رخ کی ہوا چاہیے لہٰذا ریح کے ساتھ طیبۃ کی صفت شامل کردی گئی۔
Ayah 30:49

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

تو یکایک وہ خوش و خرم ہو جاتے ہیں حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے

وَاِنْ كَانُوْا [اور بیشک وہ تھے ] مِنْ قَبْلِ اَنْ [اس سے پہلے کہ ] يُّنَزَّلَ عَلَيْهِمْ [وہ (بارش) اتاری جاتی ان پر ] مِّنْ قَبْلِهٖ [اس سے پہلے ] لَمُبْلِسِيْنَ [یقینا انتہائی مایوس ہونے والے ] ۔
Ayah 30:50

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جِلا اٹھاتا ہے، یقیناً وہ مُردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

فَانْظُرْ [پس تو دیکھ ] اِلٰٓى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ [اللہ کی رحمت کے نشانات کی طرف ] كَيْفَ يُـحْىِ [کیسے وہ زندہ کرتا ہے ] الْاَرْضَ [زمین کو ] بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ [اس کے مردہ ہونے کے بعد ] اِنَّ ذٰلِكَ [بے شک وہ ] لَمُحْيِ [یقینا زندہ کرنے والا ہے ] الْمَوْتٰى ۚ [مردوں کو ] وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [اور وہ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [قدرت رکھنے والا ہے ] ۔
Ayah 30:51

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثر سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو وہ کفر کرتے رہ جاتے ہیں

وَلَىِٕنْ اَرْسَلْنَا [اور بیشک اگر ہم بھیج دیں ] رِيْحًا [ایک ہوا ] فَرَاَوْهُ [پھر وہ دیکھیں اس (سرسبز زمین کو) [ مُصْفَرًّا : پیلا پڑتے ہوئے ] لَّظَلُّوْا [تو یقینا وہ لوگ رہ جائیں گے ] مِنْۢ بَعْدِهٖ [اس کے بعد ] يَكْفُرُوْنَ [ناشکری کرتے ہوئے ] ۔
Ayah 30:52

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

(اے نبیؐ) تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جو پیٹھ پھیرے بھاگے چلے جا رہے ہوں

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ [پس بیشک آپ ﷺ نہیں سناتے ] الْمَوْتٰى [مردوں کو ] وَلَا تُسْمِعُ [اور آپ ﷺ نہیں سناتے ] الصُّمَّ [بہروں کو ] الدُّعَاۗءَ [پکار ] اِذَا وَلَّوْا [جب وہ (منہ) پھیرتے ہیں ] مُدْبِرِيْنَ [پیٹھ دینے والے ہوتے ہوئے ] ۔
Ayah 30:53

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہِ راست دکھا سکتے ہو تم تو صرف انہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں

وَمَآ اَنْتَ [اور آپ ﷺ نہیں ہیں ] بِهٰدِي الْعُمْىِ [اندھوں کو راہ سجھانے والے ] عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ ۭ [ان کی گمراہی سے ] اِنْ تُسْمِعُ [آپ ﷺ نہیں سناتے ] اِلَّا مَنْ [مگر اس کو جو ] يُّؤْمِنُ [ایمان لاتا ہے ] بِاٰيٰتِنَا [ہماری آیت پر ] فَهُمْ [تو وہی ] مُّسْلِمُوْنَ [فرمانبرداری کرنے والے ہیں ] ۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت میں تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

اَللّٰهُ الَّذِيْ [اللہ وہ ہے جس نے ] خَلَقَكُمْ [پیدا کیا تم تو ] مِّنْ ﮨـعْفٍ [کمزوری سے (کمزور)] ثُمَّ جَعَلَ [پھر اس نے بنایا ] مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ [کمزوری کے بعد ] قُوَّةً [قوت (طاقتور)] ثُمَّ جَعَلَ [پھر اس نے بنایا ] مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ [قوت کے بعد ] ﮨـعْفًا [کمزوری ] وَّشَيْبَةً ۭ [اور بڑھاپا ] يَخْلُقُ [وہ پیدا کرتا ہے ] مَا [وہ جو ] يَشَاۗءُ ۚ [وہ چاہتا ہے ] وَهُوَ الْعَلِيْمُ [اور وہ ہی جاننے والا ہے ] الْقَدِيْرُ [قدرت والا ہے ] ۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جب وہ ساعت برپا ہو گی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھیرے ہیں، اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے

وَيَوْمَ [اور جس دن ] تَــقُوْمُ السَّاعَةُ [قائم ہوگی وہ گھڑی (قیامت)] يُـقْسِمُ [قسمیں کھائیں گے ] الْمُجْرِمُوْنَ ڏ [مجرم لوگ ] مَا لَبِثُوْا [(کہ) وہ نہیں ٹھہرے ] غَيْرَ سَاعَةٍ ۭ [سوائے ایک گھڑی کے ] كَذٰلِكَ [اس طرح ] كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ [وہ الٹے پھیرے جاتے تھے ] ۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

مگر جو علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روزِ حشر تک پڑے رہے ہو، سو یہ وہی روزِ حشر ہے، لیکن تم جانتے نہ تھے

وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور وہ لوگ کہیں گے جن کو ] اُوْتُوا [دیا گیا تھا ] الْعِلْمَ وَالْاِيْمَانَ [علم اور ایمان ] لَقَدْ لَبِثْتُمْ [یقینا تم لوگ ٹھہر چکے ہو ] فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ [اللہ کی کتاب (ریکارڈ) میں ] اِلٰى يَوْمِ الْبَعْثِ ۡ [اٹھائے جانے کے دن تک ] فَھٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ [تو یہ اٹھائے جانے کا دن ہے ] وَلٰكِنَّكُمْ [اور لیکن تم لوگ ] كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ [نہیں جانتے تھے ] ۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

پس وہ دن ہو گا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا

فَيَوْمَىِٕذٍ [تو اس دن ] لَّا يَنْفَعُ [نفع نہیں دے گی ] الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا [ان کی جنہوں نے ظلم کیا ] مَعْذِرَتُهُمْ [ان کی معذرت ] وَلَا هُمْ [اور نہ وہ لوگ ] يُسْتَعْتَبُوْنَ [منائے جائیں گے ] ۔
Ayah 30:58

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا ہے تم خواہ کوئی نشانی لے آؤ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا [اور بیشک ہم نے بیان کیا ہے ] لِلنَّاسِ [لوگوں کے لئے ] فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ [اس قرآن میں ] مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۭ [ہر ایک (طرح کی) مثال ] وَلَىِٕنْ جِئْتَهُمْ [اور بیشک اگر آپ ﷺ لائیں گے ان کے پاس ] بِاٰيَةٍ [کوئی نشانی ] لَّيَقُوْلَنَّ [تو لازما کہیں گے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا [وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ] اِنْ اَنْتُمْ [نہیں ہو تم لوگ ] اِلَّا مُبْطِلُوْنَ [مگر ناحق کرنے والے ] ۔
Ayah 30:59

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اِس طرح ٹھپہ لگا دیتا ہے اللہ اُن لوگوں کے دلوں پر جو بے علم ہیں

كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ [اس طرح چھاپ لگا دیتا ہے اللہ ] عَلٰي قُلُوْبِ الَّذِيْنَ [ان لوگوں کے دلوں پر جو ] لَا يَعْلَمُوْنَ [علم نہیں رکھتے ] ۔
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس (اے نبیؐ) صبر کرو، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے

فَاصْبِرْ [پس آپ ﷺ ثابت قدم رہیں ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ [یقینا اللہ کا وعدہ برحق ہے ] وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ [اور ہرگز ہلکا سمجھیں آپ ﷺ کو ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو ] لَا يُوْقِنُوْنَ [یقین نہیں رکھتے ] ۔ نوٹ۔ 1: کسی کو اپنی قوت و صلاحیت اور اپنے اسباب و وسائل پر ناز نہیں ہونا چاہیے۔ جو کچھ بھی انسان کو ملتا ہے سب خدا کا ہی دیا ہوا ملتا ہے پھر اسی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ تم اپنے وجود پر ہی غور کرو۔ اللہ تعالیٰ کمزور ناتواں حالت میں تم کو وجود بخشتا ہے۔ اس کے بعد پھر جوانی کی توانائیاں اور صلاحتیں عطا فرماتا ہے۔ اس کے بعد پھر بڑھاپے کی صورت میں نا توانی کا دور عود کر آتا ہے۔ کسی کے امکان میں نہیں ہے کہ اپنی جوانی اور طاقت کو برقرار رکھ سکے۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2: آخری آیت کا مطلب یہ ہے کہ نہ کسی قیمت پر تمہیں خریدا جاسکے ، نہ کسی فریب سے تمہیں پھسلایا جاسکے، نہ کوئی خطرہ یا نقصان تمہیں اپنی راہ سے ہٹا سکے اور نہ دین کے معاملہ میں کسی لین دین کا سودا تم سے چکایا جاسکے۔ یہ سارا مضمون اللہ تعالیٰ کے کلام بلاغت نظام نے اس ذرا سے فقرے میں سمیٹ دیا کہ ” یہ بےیقین لوگ تم کو ہلکا نہ پائیں۔ “ (تفہیم القرآن)