29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 29:1
الۗمّۗ نوٹ۔ 1: مکہ میں جو شخص بھی اسلام قبول کرتا تھا اس پر مظالم کا ایک طوفان ٹوٹ پڑتا تھا۔ ان حالات نے اگرچہ راسخ الایمان صحابہ کے عزم و ثبات میں خوئی تزلزل پیدا نہ کیا تھا۔ لیکن انسانی فطرت کے تقاضے سے اکثر ان پر بھی ایک شدید اضطراب کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ اس اضطرابی کیفیت کو ٹھنڈے صبر و تحمل میں تبدیل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو سمجھاتا ہے کہ ہمارے جو وعدے دنیا اور آخرت کی کامرانیوں کے لئے ہیں کوئی شخص صرف زبانی دعوائے ایمان کرکے ان کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ہر مدعی کو لازما آزمائشوں کی بھٹی سے گزرنا ہوگا تاکہ وہ اپنے دعوے کی صلاحیت کا ثبوت دے اور یہ بات کھل جائے (یعنی ریکارڈ پر آجائے۔ مرتب) کہ ایمان کا جو دعوی تھا وہ سچا تھا یا جھوٹا۔ تاریخ میں ہمیشہ یہی ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 29:2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ "ہم ایمان لائے " اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟

اَحَسِبَ [کیا گمان کیا ] النَّاسُ [لوگوں نے ] اَنْ يُّتْرَكُوْٓا [کہ وہ چھوڑ دئیے جائیں گے ] اَنْ [(اس لئے) کہ ] يَّقُوْلُوْٓا [وہ کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ہم ایمان لائے ] وَهُمْ [اور وہ لوگ ] لَا يُفْتَنُوْنَ [آزمائے نہ جائیں گے ] ۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون

وَلَقَدْ فَتَنَّا [اور بیشک ہم آزما چکے ہیں ] الَّذِيْنَ [ان کو جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ان سے پہلے تھے ] فَلَيَعْلَمَنَّ [تو لازما جان لے گا ] اللّٰهُ [اللہ ] الَّذِيْنَ [ان کو جنہوں نے ] صَدَقُوْا [سچ کہا ] وَلَيَعْلَمَنَّ [اور وہ لازما جان لے گا ] الْكٰذِبِيْنَ [جھوٹ کہنے والوں کو ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 3 ۔ میں ہے کہ اللہ لازما جان لے گا۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کو تو سچے کی سچائی اور جھوٹے کا جھوٹ خود ہی معلوم ہے۔ آزمائش کرکے اسے معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک ایک شخص کے اندر کسی چیز کی صرف صلاحیت اور استعداد ہی ہوتی ہے۔ عملا اس کا ظہور نہیں ہوجاتا، اس وقت تک از روئے عدل و انصاف نہ تو وہ کسی جزاء کا مستحق ہوتا ہے نہ کسی سزا کا۔ اللہ کے ہاں انصاف اس علم کی بنیاد پر نہیں ہوتا کہ فلاں شخص چوری کا رجحان رکھتا ہے اور چوری کرے گا یا کرنے والا ہے۔ بلکہ اس علم کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد پر دئیے جاتے ہیں کہ اس نے عمل سے اللہ کی راہ میں جان لڑا کر دکھا دی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

اور کیا وہ لوگ جو بُری حرکتیں کر رہے ہیں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں

اَمْ حَسِبَ [یا گمان کیا ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں نے جو ] يَعْمَلُوْنَ [عمل کرتے ہیں ] السَّـيِّاٰتِ [برائیوں کے ] اَنْ يَّسْبِقُوْنَا ۭ [کہ وہ بھاگ نکلیں گے ہم سے ] سَاۗءَ [برا ہے ] مَا [وہ جو ] يَحْكُمُوْنَ [وہ لوگ فیصلہ کرتے ہیں ] ۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو (اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے، اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے

مَنْ كَانَ [جو ہے (کہ)] يَرْجُوْا [امید رکھتا ہے ] لِقَاۗءَ اللّٰهِ [اللہ سے ملاقات کی ] فَاِنَّ [تو بیشک ] اَجَلَ اللّٰهِ [اللہ کا (مقرر کردہ) خاتمے کا وقت ] لَاٰتٍ ۭ [یقینا آنے والا ہے ] وَهُوَ [اور وہ ہی ] السَّمِيْعُ [سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [جاننے والا ہے ] ۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

جو شخص بھی مجاہدہ کریگا اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا، اللہ یقیناً دنیا جہان والوں سے بے نیاز ہے

وَمَنْ جَاهَدَ [اور جو جدوجہد کرتا ہے ] فَاِنَّمَا [تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُجَاهِدُ [وہ جدوجہد کرتا ہے ] لِنَفْسِهٖ ۭ [اپنے نفس کے (بھلے کے) لئے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَغَنِيٌّ [یقینا بےنیاز ہے ] عَنِ الْعٰلَمِيْنَ [تمام جہانوں سے ] ۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے اُن کی برائیاں ہم ان سے دُور کر دیں گے اور انہیں اُن کے بہترین اعمال کی جزا دیں گے

وَالَّذِيْنَ [اور وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [اور انھوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [نیکیوں کے ] لَنُكَفِّرَنَّ [تو ہم لازما دور کریں گے ] عَنْهُمْ [ان سے ] سَـيِّاٰتِهِمْ [ان کی برائیوں کو ] وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ [اور ہم لازما بدلہ دیں گے ان کو ] اَحْسَنَ الَّذِيْ [اس کے بہترین سے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [وہ عمل کیا کرتے تھے ] ۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبُود) کو شریک ٹھیرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے، پھر میں تم کو بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو

وَوَصَّيْنَا [اور ہم نے تاکید کی ] الْاِنْسَانَ [انسان کو ] بِوَالِدَيْهِ [اس کے والدین کے بارے میں ] حُسْـنًا ۭ [بھلائی کی ] وَاِنْ [اور اگر ] جَاهَدٰكَ [د دونوں کشمکش کریں تجھ سے ] لِتُشْرِكَ [کہ تو شریک کرے ] بِيْ [میرے ساتھ ] مَا [اس کو ] لَيْسَ [نہیں ہے ] لَكَ [تیرے لئے ] بِهٖ [جس کے بارے میں ] عِلْمٌ [کوئی علم ] فَلَا تُطِعْهُمَا ۭ [تو کہنا مت مان ان دونوں کا ] اِلَيَّ [میری طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ [تم لوگوں کو لوٹنا ہے ] فَاُنَبِّئُكُمْ [پھر میں جتا دوں گا تم لوگوں کو ] بِمَا [وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کیا کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: ماں باپ کے حقوق چونکہ ہر دین میں مسلم ع ہے ہیں اس وجہ سے اس حق سے والدین نے بسا اوقات غلط فائدہ بھی اٹھایا ہے کہ اپنے حق کے نام پر انھوں نے اپنی اولاد کو خدا کے حقوق سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ یہی صورتحال ان نوجوانوں کو بھی پیش آئی جو نبی ﷺ پر ایمان لائے اور اسلام لانے کے جرم میں وہ بھی اپنے والدین اور سرپرستوں کے ظلم و ستم کے ہدف بنے۔ اس صورتحال کا تقاضہ یہ ہوا کہ اس باب میں جو نوانوں کو واضح ہدایت دے دی جائے کہ والدین اگر ان کے دین کے معاملہ میں مداخلت کریں تو ان کی اطاعت نہ کی جائے۔ جب والدین کو یہ حق حاصل نہیں تو پھر دوسروں کے لئے اس حق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چناچہ اسلام میں قانون ہے کہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ یعنی خالق کے حکم کے خلاف کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ (تدبر القرآن)
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے اُن کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے

وَالَّذِيْنَ [اور جو لوگ ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [اور انہوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [نیکیوں کے ] لَــنُدْخِلَنَّهُمْ [تو ہم لازماداخل کریں گے ان کو ] فِي الصّٰلِحِيْنَ [نیک لوگوں میں ] ۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آ گئی تو یہی شخص کہے گا کہ "ہم تو تمہارے ساتھ تھے" کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ [اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو ] يَّقُوْلُ [کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ہم ایمان لائے ] بِاللّٰهِ [اللہ پر ] فَاِذَآ [پھر جب ] اُوْذِيَ [ان کو اذیت دی جاتی ہے ] فِي اللّٰهِ [اللہ (کی راہ) میں ] جَعَلَ [تو بناتے ہیں ] فِتْنَةَ النَّاسِ [لوگوں کی آزمائش کو ] كَعَذَابِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کے عذاب کی مانند ] وَلَىِٕنْ [اور بیشک اگر ] جَاۗءَ [آئے گی ] نَصْرٌ [کوئی نصرت ] مِّنْ رَّبِّكَ [آپ ﷺ (کی طرف) سے ] لَيَقُوْلُنَّ [تو یہ لوگ لازما کہیں گے ] اِنَّا كُنَّا [بیشک ہم تھے ] مَعَكُمْ ۭ [تمہارے ساتھ ] اَوَلَيْسَ اللّٰهُ [اور کیا اللہ نہیں ہے ] بِاَعْلَمَ [خوب جاننے والا ] بِمَا [اس کو جو ] فِيْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِيْنَ [تمام جہان والوں کے سینوں میں ہے ] ۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون

وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ [اور اللہ لازما جان لے گا ] الَّذِيْنَ [ان کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَلَيَعْلَمَنَّ [اور وہ لازما جان لے گا ] الْمُنٰفِقِيْنَ [منافقوں کو ] ۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اُوپر لے لیں گے حالانکہ اُن کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں، وہ قطعاً جھوٹ کہتے ہیں

وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] لِلَّذِيْنَ [ان لوگوں سے جو ] اٰمَنُوا [ایمان لائے ] اتَّبِعُوْا [تم لوگ پیروی کرو ] سَبِيْلَنَا [ہمارے راستے کی ] وَلْنَحْمِلْ [اور ضروری ہوگا کہ ہم اٹھالیں ] خَطٰيٰكُمْ ۭ [تمہاری غلطیوں کو ] وَ [حالانکہ ] مَا هُمْ [وہ نہیں ہیں ] بِحٰمِلِيْنَ [اٹھانے والے ] مِنْ خَطٰيٰهُمْ [ان کی غلطیوں میں سے ] مِّنْ شَيْءٍ ۭ [کچھ بھی ] اِنَّهُمْ [بیشک یہ لوگ ] لَكٰذِبُوْنَ [یقینا جھوٹے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 2: کفار مکہ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگ بلاوجہ عذاب آخرت کے خوف سے ہمارے طریقہ پر نہیں چلتے، لو ہم ذمہ داری لیتے ہیں۔ اگر تمہاری ہی بات سچی ہوئی تو تمہارے گناہوں کا بوجھ ہم اٹھالیں گے تم پر آنچ بھی نہ آئے گی۔ آیت۔ 12 ۔ 13 ۔ میں حق تعالیٰ نے اس کا حوالہ دے کر ایک تو یہ فرمایا کہ ایسا کہنے والے بالکل جھوٹے ہیں۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ ان لوگوں کا یہ کہنا تو جھوٹ ہے کہ وہ تمہارے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر تمہیں سبکدوش کردیں گے۔ البتہ یہ ضرور ہوگا کہ تم کو بہکانا خود ایک بڑا گناہ ہے۔ اس لئے ان پر اپنے اعمال کا بھی وبال ہوگا اور جن کو بہکایا تھا ان کا بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دے تو جتنے لوگ اس کی دعوت کی وجہ سے ہدایت پر عمل کریں گے ان سب کے عمل کا ثواب اس داعی کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا۔ بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجر و ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ اور جو شخص کسی گمراہی اور گناہ کی طرف راعی کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا۔ بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجر و ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ اور جو شخص کسی گمراہی اور گناہ کی طرف دعوت دے تو جتنے لوگ اس کے کہنے سے اس گمراہی میں مبتلا ہوں گے ان سب کا گناہ اس شخص پر بھی پڑے گا بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے وبال عذاب میں کوئی کمی ہو۔ (معارف القرآن)
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ بہت سے دوسرے بوجھ بھی اور قیامت کے روز یقیناً ان سے اِن افترا پردازیوں کی بازپرس ہو گی جو وہ کرتے رہے ہیں

وَلَيَحْمِلُنَّ [اور یہ لوگ لازما اٹھائیں گے ] اَثْــقَالَهُمْ [اپنے بوجھ ] وَاَثْــقَالًا [اور کچھ (دوسرے) بوجھ ] مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ [اپنے بوجھوں کے ساتھ ] وَلَيُسْـَٔــلُنَّ [اور ان سے لازما پوچھا جائے گا ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن ] عَمَّا [اس کے بارے میں جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [یہ لوگ کھڑا کرتے تھے ]
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آ گھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [اور یقینا ہم بھیج چکے ] نُوْحًا [نوح (علیہ السلام) کو ] اِلٰى قَوْمِهٖ [ان کی قوم کی طرف ] فَلَبِثَ [تو وہ رہے ] فِيْهِمْ [ان میں ] اَلْفَ سَنَةٍ [ایک ہزار سال ] اِلَّا [سوائے ] خَمْسِيْنَ عَامًا ۭ [پچاس سالوں کے ] فَاَخَذَهُمُ [پھر پکڑا ان کو ] الطُّوْفَانُ [طوفان نے ] وَ [اس حال میں کہ ] هُمْ [وہ لوگ ] ظٰلِمُوْنَ [ظلم کرنے والے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: یہاں سے انبیاء اور ان کی قوموں کے قصے جس مناسبت سے بیان کئے جا رہے ہیں ان کو سمجھنے کے لئے سورة کی ابتدائی آیات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے۔ وہاں ایک طرف اہل ایمان سے فرمایا کیا کہ ہم نے ان سب اہل ایمان کو آزمائش میں ڈالا ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ دوسری طرف ظالم کافروں سے فرمایا کہ تم اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تم ہم سے بازی لے جاؤ گے اور ہماری گرفت سے بچ نکلو گے۔ انہی دو باتوں کو ذہن نشین کرانے کے لئے یہ تاریخی واقعات بیان کئے جا رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں عمروں کا اوسط آج کی نسبت بہت زیادہ تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے والد کی عمر۔ 773 ۔ برس کی ہوئی۔ ان کے دادا کی عمر ۔ 969 برس ، ان کے دوسرے اجداد میں سے کسی کی عمر۔ 962 ۔ برس اور کسی کی 895 ۔ برس مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر اس دور کی اوسط عمر کے بالکل مطابق ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر نوحؑ کو اور کشتی والوں کو ہم نے بچا لیا اور اُسے دنیا والوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا کر رکھ دیا

فَاَنْجَيْنٰهُ [پھر ہم نے نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] وَاَصْحٰبَ السَّفِيْنَةِ [اور کشتی والوں کو ] وَجَعَلْنٰهَآ [اور ہم نے بنایا اس (کشتی) کو ] اٰيَةً [ایک نشانی ] لِّــلْعٰلَمِيْنَ [تمام جہان والوں کے لئے ] ۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیمؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا "اللہ کی بندگی کرو اور اُس سے ڈرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو

وَاِبْرٰهِيْمَ [اور (یقینا ہم بھیج چکے) ابراہیم (علیہ السلام) کو ] اِذْ قَالَ [جب انہوں نے کہا ] لِقَوْمِهِ [اپنی قوم سے ] اعْبُدُوا [تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [اللہ کی ] وَاتَّــقُوْهُ ۭ [اور تقوی اختیار کرو اس کا ] ذٰلِكُمْ خَيْرٌ [یہ بہتر ہے ] لَّكُمْ [تمہارے لئے ] اِنْ كُنْتُمْ [اگر تم لوگ ] تَعْلَمُوْنَ [جانتے ہو ] ۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پوج رہے ہو وہ تو محض بت ہیں اور تم ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو در حقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے اللہ سے رزق مانگو اور اُسی کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو

اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] تَعْبُدُوْنَ [تم لوگ بندگی کرتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] اَوْثَانًا [بتوں کی ] وَّتَخْلُقُوْنَ [اور تم تخلیق کرتے ہو ] اِفْكًا ۭ [جھوٹ کو ] اِنَّ الَّذِيْنَ [بیشک وہ لوگ جن کی ] تَعْبُدُوْنَ [تم لوگ بندگی کرتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] لَا يَمْلِكُوْنَ [اختیار نہیں رکھتے ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] رِزْقًا [کسی رزق کا ] فَابْتَغُوْا [پس تم لوگ تلاش کرو ] عِنْدَ اللّٰهِ [اللہ کے پاس ] الرِّزْقَ [رزق کو ] وَاعْبُدُوْهُ [اور بندگی کرو اس کی ] وَاشْكُرُوْا لَهٗ ۭ [اور شکر ادا کرو اس کا ] اِلَيْهِ [اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں، اور رسول پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے"

وَاِنْ تُكَذِّبُوْا [اور اگر تم لوگ جھٹلاتے ہو ] فَقَدْ كَذَّبَ [تو جھٹلا چکی ہیں ] اُمَمٌ [کچھ امتیں ] مِّنْ قَبْلِكُمْ ۭ [تم لوگوں سے پہلے ] وَمَا عَلَي الرَّسُوْلِ [اور نہیں ہے رسول پر ] اِلَّا [مگر ] الْبَلٰــغُ الْمُبِيْنُ [واضح طور پر پہنچا دینا ] ۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا اِن لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ اللہ کس طرح خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اُس کا اعادہ کرتا ہے؟ یقیناً یہ (اعادہ تو) اللہ کے لیے آسان تر ہے

اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا انھوں نے غور نہیں کیا ] كَيْفَ يُبْدِئُ [کیسے ابتداء کرتا ہے ] اللّٰهُ [اللہ ] الْخَــلْقَ [تخلیق کی ] ثُمَّ [پھر ] يُعِيْدُهٗ ۭ [وہ دہرائے گا اس کو ] اِنَّ ذٰلِكَ [بیشک یہ ] عَلَي اللّٰهِ [اللہ پر ] يَسِيْرٌ [آسان ہے ] ۔
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اُس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے، پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] سِيْرُوْا [تم لوگ گھومو پھرو ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] فَانْظُرُوْا [تو دیکھو ] كَيْفَ بَدَاَ [کیسے اس نے ابتداء کی ] الْخَــلْقَ [تخلیق کی ] ثُمَّ اللّٰهُ [پھر اللہ ] يُنْشِئُ [اٹھائے گا ] النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ ۭ [آخری اٹھان ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [قادر ہے ] ۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے، اُسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو

يُعَذِّبُ [وہ عذاب دیتا ہے ] مَنْ [اس کو جیسے ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] وَيَرْحَمُ [اور وہ رحم کرتا ہے ] مَنْ [اس پر جس پر ] يَّشَاۗءُ ۚ [وہ چاہتا ہے ] وَاِلَيْهِ [اور اس کی طرف ہی ] تُقْلَبُوْنَ : [تم لوگ پلٹائے جاؤ گے ]
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو نہ آسمان میں، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مدد گار تمہارے لیے نہیں ہے

وَمَآ اَنْتُمْ [اور تم لوگ نہیں ہو ] بِمُعْجِزِيْنَ [عاجز کرنے والے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] وَلَا فِي السَّمَاۗءِ ۡ [اور نہ ہی آسمان میں ] وَمَا لَكُمْ [اور تمہارے لئے نہیں ہے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے سوا ] مِنْ وَّلِيٍّ [کوئی بھی کارساز ] وَّلَا نَصِيْرٍ [اور نہ کوئی مددگار ] ۔
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہو چکے ہیں اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے

وَالَّذِيْنَ [اور جن لوگوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی آیات کا ] وَلِقَاۗىِٕهٖٓ [اور اس کی ملاقات کا ] اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ہیں ] يَىِٕسُوْا [جو مایوس ہوئے ] مِنْ رَّحْمَتِيْ [میری رحمت سے ] وَاُولٰۗىِٕكَ [اور وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ایک دردناک عذاب ہے۔ نوٹ۔ 1: زیرمطالعہ آیت۔ 19 ۔ سے آیت 23 تک ایک جملہ معتر ضہ ہے جو حضرت ابراہیم کے قصے کا سلسلہ منقطع کرکے اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا ہے۔ (تفہیم القرآن) ۔ اور اس دنیا کے مظاہر پر غور کرنے کی دعوت دی ہے کہ توحید ، قیامت اور جزاء و سزا کے لئے باہر سے دلیل ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس دنیا کے شب و روز کے مشاہدات میں ان میں سے ہر چیز کی شہادت موجود ہے۔ فرمایا کہ اس زمین میں چلو پھر و اور غور کی نگاہ سے دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح خلق کا آغاز فرماتا ہے اور پھر اس کو فنا کرکے اس کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرتا ہے۔ ایک قوم کو وجد بخشتا ہے اور پھر اس کو مٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم کو لاتا ہے۔ رات کے بعد دن نمودار کرتا ہے۔ خزاں کے بعد بہار آتی ہے۔ یہ سارے مشاہدات وہ اسی لئے کر ارہا ہے کہ انسان مرنے کے بعد کی زندگی کو بعید از امکان تصور نہ کرے۔ یہ باتیں غائب کے اسلوب میں بیان کرنے کے بعد آیت۔ 22 ۔ میں قریش کو خطاب کرکے فرمایا کہ جب وہ تم کو پکڑنا چاہیے گا تو تم اس کی پکڑ سے نہ زمین میں بچ سکو گے نہ آسمان میں۔ نہ یہاں تمہارا کوئی کار ساز ہوگا نہ آخرت میں کوئی حامی ہوگا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پھر اُس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا "قتل کر دو اِسے یا جلا ڈالو اِس کو" آخر کار اللہ نے اسے آگ سے بچا لیا، یقیناً اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں

فَمَا كَانَ [تو نہیں تھا ] جَوَابَ قَوْمِهٖٓ [ان (علیہ السلام) کی قوم کا جواب ] اِلَّا اَنْ [سوائے اس کے کہ ] قَالُوا [ان لوگوں نے کہا ] اقْتُلُوْهُ [تم لوگ قتل کرو اس کو ] اَوْ حَرِّقُوْهُ [یا جلا کر بھسم کردو اس کو ] فَاَنْجٰىهُ [تو نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] اللّٰهُ [اللہ نے ] مِنَ النَّارِ ۭ [آگ سے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ایسی قوم کے لئے جو ] يُّؤْمِنُوْنَ [ایمان لاتے ہیں ] ۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور اُس نے کہا "تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے روز تم ایک دُوسرے کا انکار اور ایک دُوسرے پر لعنت کرو گے اور آگ تمہارا ٹھکانا ہو گی اور کوئی تمہارا مدد گار نہ ہو گا"

وَقَالَ [اور (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اتَّخَذْتُمْ [تم لوگوں نے بنائے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے سوا ] اَوْثَانًا ۙ [کچھ بت ] مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ [تمہارے مابین کی دوستی (کا ذریعہ) ہوتے ہے ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ [دنیوی زندگی میں ] ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [پھر قیامت کے دن ] يَكْفُرُ [انکار کرے گا ] بَعْضُكُمْ [تم میں کا کوئی ] بِبَعْضٍ [کسی کا ] وَّيَلْعَنُ [اور لعنت کرے گا ] بَعْضُكُمْ [تم میں کا کوئی ] بَعْضًا ۡ [کسی کو ] وَّمَاْوٰىكُمُ [اور تم لوگوں کا ٹھکانہ ] النَّارُ [آگ ہے ] وَمَا لَكُمْ [اور تمہارے لئے نہیں ہے ] مِّنْ نّٰصِرِيْنَ [کوئی بھی مددگار ] ۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

اُس وقت لوطؑ نے اُس کو مانا اور ابراہیمؑ نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں، وہ زبردست ہے اور حکیم ہے

فَاٰمَنَ [تو بات مان لی ] لَهٗ [ان (علیہ السلام) کی ] لُوْطٌ ۘ [لوط (علیہ السلام) نے ] وَقَالَ [اور (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] اِنِّىْ مُهَاجِرٌ [کہ میں ہجرت کرنے والا ہوں ] اِلٰى رَبِّيْ ۭ [اپنے رب کی طرف ] اِنَّهٗ [یقینا وہ ] هُوَ الْعَزِيْزُ [ہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [حکمت والا ہے ] نوٹ۔ 1: فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ۔ یہاں تصدیق و تائید کے مفہوم میں ہے۔ لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ وہ خود منصب رسالت پر فائز تھے اور اپنی قوم کی دعوت پر مامور تھے۔ یہاں ان کی تصدیق و تائید کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر نبی پر بھی ایک وقت ایسا گزرا ہے کہ ان کی دعوت میں ان کی ہمنوائی کرنے والا حضرت لوط کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں تھا لیکن بالآخر وہ وقت بھی آیا کہ ان کی دعوت کی صدائے بازگشت دنیا کے کونے کونے سے اٹھی۔ (تدبر قرآن)
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاقؑ اور یعقوبؑ (جیسی اولاد) عنایت فرمائی اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی، اور اسے دنیا میں اُس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہو گا

وَوَهَبْنَا لَهٗٓ [اور ہم نے عطا کیا ان (علیہ السلام) کو ] اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ [اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ] وَجَعَلْنَا [اور ہم نے بنائی (رکھ دی)] فِيْ ذُرِّيَّتِهِ [ان (علیہ السلام) کی اولاد میں ] النُّبُوَّةَ [نبوت ] وَالْكِتٰبَ [اور کتاب ] وَاٰتَيْنٰهُ [اور ہم نے دیا ان (علیہ السلام) کو ] اَجْرَهٗ [ان (علیہ السلام) کا اجر ] فِي الدُّنْيَا ۚ [دنیا میں ] وَاِنَّهٗ [اور بیشک وہ ] فِي الْاٰخِرَةِ [آخرت میں ] لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ [یقینا صالحین میں سے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 2: حضرت اسحاق علیہ السلام، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹوں کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ ان کی اولاد کی مدین والی شاخ میں صرف شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور اسمعیل (علیہ السلام) کی شاخ میں محمد ﷺ تک ڈھائی ہزار سال کی مدت میں کوئی نبی نہیں آیا۔ جبکہ نبوت اور کتاب کی نعمت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک مسلسل اس شاخ کو عطا ہوتی رہی جو حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے چلی تھی۔ البتہ ان کا ذکر کرنے کے بعد جب یہ فرمایا کہ نبوت اور کتاب ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں رکھ دی تو اس میں وہ تمام انبیاء آگئے جو نسل ابراہیمی کی سب شاخوں میں مبعوث ہوئے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 3: آیت۔ 27 ۔ میں در پردہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کے لئے بشارت ہے۔ یہ سورة مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب مسلمانوں پر کفار نے عرصئہ حیات بالکل تنگ کردیا تھا اور مسلمانوں کے لئے ہجرت کے سوا کوئی اور راہ باقی نہیں رہ گئی تھی۔ ان حالات میں ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت کو نمایاں کر کے ان کو تسلی تھی کہ اگر یہ مرحلہ پیش آتا ہے اور اپنے رب کی خاطر تم اپنی قوم کو چھوڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے دنیا اور آخرت دونوں میں اچھے ساتھی پیدا کرے گا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور ہم نے لوطؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا "تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے

وَلُوْطًا [اور (یقینا ہم بھیج چکے) لوط (علیہ السلام) کو ] اِذْ قَالَ [جن انہوں نے کہا ] لِقَوْمِهٖٓ [اپنی قوم سے ] اِنَّكُمْ [بیشک تم لوگ ] لَتَاْتُوْنَ [یقینا کرتے ہو ] الْفَاحِشَةَ ۡ [وہ بےحیائی ] مَا سَبَقَكُمْ [تم سے پہلے نہیں کیا ] بِهَا [جس کو ] مِنْ اَحَدٍ [کسی ایک نے بھی ] مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ [تمام جہاں والوں میں سے ] ۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟" پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا "لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچّا ہے"

اَىِٕنَّكُمْ [کیا بیشک تم لوگ ] لَتَاْتُوْنَ [واقعی آتے ہو ] الرِّجَالَ [مردوں کے پاس ] وَتَقْطَعُوْنَ [اور کاٹتے ہو ] السَّبِيْلَ ڏ[راستہ کو ] وَتَاْتُوْنَ [اور تم لوگ کرتے ہو ] فِيْ نَادِيْكُمُ [اپنی مجلس میں ] الْمُنْكَرَ ۭ [برائی ] فَمَا كَانَ [تو نہیں تھا ] جَوَابَ قَوْمِهٖٓ [ان کی قوم کا جواب ] اِلَّآ اَنْ [سوائے اس کے کہ ] قَالُوا [انہوں نے کہا ] ائْتِنَا [تو لے آ ہم پر ] بِعَذَابِ اللّٰهِ [اللہ کے عذاب ] اِنْ كُنْتَ [اگر تو ہے ] مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [سچ کہنے والوں میں سے ] ۔
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوطؑ نے کہا "اے میرے رب، اِن مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما"

قَالَ [(لوط (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبِّ [اے میرے رب ] انْصُرْنِيْ [تو مدد کر میری ] عَلَي الْقَوْمِ الْمُفْسِدِيْنَ [نظم بگاڑنے والی قوم کے خلاف ] ۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس بشارت لے کر پہنچے تو انہوں نے اُس سے کہا "ہم اِس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں، اس کے لوگ سخت ظالم ہو چکے ہیں"

وَلَمَّا جَاۗءَتْ [اور جب آئے ] رُسُلُنَآ [ہمارے رسول (فرشتے)] اِبْرٰهِيْمَ [ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ] بِالْبُشْرٰى ۙ [خوشخبری کے ساتھ ] قَالُوْٓا [تو انہوں نے کہا ] اِنَّا [کہ ہم ] مُهْلِكُوْٓا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ ۚ [اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ] اِنَّ اَهْلَهَا [بیشک اس کے لوگ ] كَانُوْا ظٰلِمِيْنَ [ظلم کرنے والے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: بشری سے مراد وہ بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی، جس کا ذکر آیت میں گزر چکا ہے۔ جو فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیٹے اور پوتے کی بشارت لے کر آئے وہی فرشتے قوم لوط (علیہ السلام) کے لئے عذاب کا تازیانہ لے کر آئے۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس رحمت و نقمت دونوں ہیں۔ جس طرح ایک ہی بارش کو وہ کسی کے لئے عذاب اور کسی کے لئے رحمت بنا دیتا ہے۔ اس سے مشرک قوموں کے اس اوہمہ کی تردید ہو رہی ہے جس میں وہ کائنات کے اندراضداد کے وجود کے سبب سے مبتلا ہوئیں اور انھوں نے خیر و شر کے الگ الگ دیوتا مان کر ان کی الگ الگ عبادت شروع کردی۔ (تدبر قرآن) شاید ہلاکت کی خبر کے ساتھ بیٹے کی بشارت دینے کا مطلب یہ ہو کہ ایک قوم سے اگر خدا کی زمین خالی کی جانے والی ہے تو دوسری طرف حق تعالیٰ ایک عظیم الشان قوم ” بنی اسرائیل “ کی بنیاد ڈالنے والا ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح))
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیمؑ نے کہا "وہاں تو لوطؑ موجود ہے" انہوں نے کہا "ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہے ہم اُسے، اور اس کی بیوی کے سوا اس کے باقی گھر والوں کو بچا لیں گے" اس کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی

قَالَ [(ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] اِنَّ فِيْهَا [یقینا اس میں (تو)] لُوْطًا ۭ [لوط (علیہ السلام) ہیں ] قَالُوْا [(فرشتوں نے) کہا ] نَحْنُ اَعْلَمُ [ہم زیادہ جاننے والے ہیں ] بِمَنْ [اس کو جو ] فِيْهَا ۅ[اس میں ہے ] لَنُنَجِّيَنَّهٗ [ہم لازما نجات دیں گے ان (علیہ السلام) کو ] وَاَهْلَهٗٓ [اور ان (علیہ السلام) کے گھر والوں کو ] اِلَّا امْرَاَتَهٗ ڭ [سوائے ان (علیہ السلام) کی عورت کے ] كَانَتْ [وہ ہے ] مِنَ الْغٰبِرِيْنَ [پیچھے رہ جانے والوں میں سے ] ۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

پھر جب ہمارے فرستادے لوطؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوا اُنہوں نے کہا "نہ ڈرو اور نہ رنج کرو ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے

وَلَمَّآ اَنْ [اور جیسے ہی ] جَاۗءَتْ [پہنچے ] رُسُلُنَا [ہمارے رسول (فرشتے)] لُوْطًا [لوط (علیہ السلام) کے پاس ] سِيْۗءَ [تو ان کو برا لگایا گیا ] بِهِمْ [ان (کے آنے) سے ] وَضَاقَ [اور وہ تنگ ہوئے ] بِهِمْ [ان (کے آنے) سے ] ذَرْعًا [بلحاظ کمزوری کے ] وَّقَالُوْا [اور (فرشتوں نے) کہا ] لَا تَخَفْ [آپ (علیہ السلام) مت ڈریں ] وَلَا تَحْزَنْ ۣ[اور غمگین مت ہوں ] اِنَّا [بیشک ہم ] مُنَجُّوْكَ [نجات دینے والے ہیں آپ (علیہ السلام) کو ] وَاَهْلَكَ [اور (نجات دیں گے) آپ (علیہ السلام) کے گھر والوں کو ] اِلَّا امْرَاَتَكَ [ سوائے آپ (علیہ السلام) کی عورت کے ] كَانَتْ [وہ ہے ] مِنَ الْغٰبِرِيْنَ [پیچھے رہ جانے والوں میں سے ] ۔
Ayah 29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں"

اِنَّا [بیشک ہم ] مُنْزِلُوْنَ [نازل کرنے والے ہیں ] عَلٰٓي اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ [اس بستی کے لوگوں پر ] رِجْزًا [ایک عذاب ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [آسمان سے ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ [یہ لوگ نافرمانی کرتے تھے ] ۔
Ayah 29:35

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے اُس بستی کی ایک کھُلی نشانی چھوڑ دی ہے اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

وَلَقَدْ تَّرَكْنَا [اور بیشک ہم نے چھوڑا ہے ] مِنْهَآ [اس (بستی) میں ] اٰيَةًۢ بَيِّنَةً [ایک کھلی نشانی ] لِّقَوْمٍ [ایسی قوم کے لئے جو ] يَّعْقِلُوْنَ [عقل (استعمال) کرتی ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: کھلی نشانی سے مراد بحیرۂ مردار ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اس قوم پر جو عذاب آیا تھا اس کی ایک نشانی آج بھی شاہراہ عام پر موجود ہے جسے تم شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں جاتے ہوئے شب و روز دیکھتے ہو ۔ موجودہ زمانے میں یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ بحیرۂ مردار کا جنوبی حصہ ایک ہولناک زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے وجود میں آیا ہے اور اسی دھنسے ہوئے حصے میں قوم لوط کا مرکزی شہر سدوم واقع تھا۔ اس حصے میں پانی کے نیچے کچھ ڈوبی ہوئی بستیوں کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مَدیَن کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب کو بھیجا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو اور روزِ آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو"

وَاِلٰى مَدْيَنَ [اور مدین کی طرف ] اَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۙ [(ہم بھیج چکے) ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو ] فَقَالَ [تو انہوں (علیہ السلام) نے کہا ] يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] اعْبُدُوا [تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [اللہ کی ] وَارْجُوا [اور تم لوگ امید رکھو ] الْيَوْمَ الْاٰخِرَ [آخری دن (قیامت) کی ] وَلَا تَعْثَوْا [اور تم لوگ انتشار مت پھیلاؤ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] مُفْسِدِيْنَ [نظم بگاڑنے والے ہوتے ہوئے ] ۔ نوٹ۔ 1: ان کے مکانوں سے تمہارے لئے واضح ہوچکا ہے۔ یہ قریش کو توجہ دلائی گئی ہے کہ قوم لوط کی طرح ان بستیوں کے آثار بھی تم سے مخفی نہیں ہیں۔ تم اپنے تجارتی سفروں میں ان کے کھنڈروں پر سے گزرتے ہو اور اندازہ کرسکتے ہو کہ ماضی میں وہ کس شان و شوکت کے مالک تھے، لیکن اب ان کے کھنڈروں کے سوا ان کی کہانی سنانے والا کوئی نہیں ہے۔ (تدبر قرآن) ۔ عرب کے جن علاقوں میں عاد وثمود آباد تھے ان سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ جنوبی عرب کا علاقہ جو اب احقاف، یمن اور حضر موت کے نام سے معروف ہے یہ عاد کا مسکن تھا۔ حجاز کے شمالی حصہ میں رابع سے عقبہ تک اور مدینہ ہ خیبر سے تیما اور تبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھرا ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 29:37

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے

فَكَذَّبُوْهُ [پھر ان لوگوں نے جھٹلایا ان (علیہ السلام) کو ] فَاَخَذَتْهُمُ [تو پکڑا ان لوگوں کو ] الرَّجْفَةُ [زلزلے نے ] فَاَصْبَحُوْا [نتیجتاً وہ ہوگئے ] فِيْ دَارِهِمْ [اپنے (اپنے) گھر میں ] جٰثِمِيْنَ [اوندھے منہ گرے ہوئے ] ۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد و ثمود کو ہم نے ہلاک کیا، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے اُن کے اعمال کو شیطان نے اُن کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہِ راست سے برگشتہ کر دیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے

وَعَادًا [اور (ہم نے ہلاک کیا) عاد کو ] وَّثَمُــوْدَا۟ [اور ثمود کو ] وَقَدْ تَّبَيَّنَ [اور واضح ہوچکا ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ ۣ [ان کے مکانوں سے ] وَزَيَّنَ [اور سجایا ] لَهُمُ [ان کے لئے ] الشَّيْطٰنُ [شیطان نے ] اَعْمَالَهُمْ [ان کے اعمال کو ] فَصَدَّهُمْ [پھر اس نے روک دیا ان کو ] عَنِ السَّبِيْلِ [اس (صحیح) راستہ سے ] وَكَانُوْا [حالانکہ وہ لوگ تھے ] مُسْتَبْصِرِيْنَ [غور و فکر کرنے والے ] ۔ نوٹ۔ 2: وکانوا مستبصرین کا مطلب یہ ہے کہ یوں تو وہ بڑے زیرک و ہوشیار ، تعمیرہ تمدن اور حکومت و سیاست میں بڑے ماہر تھے، لیکن ان کی یہ ہوشیاری ان کو شیطان کے پھندوں سے نہ بچا سکی۔ اس نے ان کے دنیوی انہماک کو اس طرح ان کی نگاہوں میں کھبا دیا کہ ان کی آنکھیں خدا اور آخرت کی طرف سے بند ہوگئیں اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اصل شاہراہ سے منحرف ہوگئے اور ہلاکت کے کھڈ میں جا گرے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ مجرد سائنس اور تمدن میں کسی قوم کا عروج اس بات کی شہادت نہیں ہے کہ وہ زندگی کی صحیح شاہراہ پر گامزن ہے، جیسا کہ عام طور پر بےبصیرت لوگ سمجھتے ہیں بلکہ یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی ایک آنکھ کھلی ہوئی ہے جو اس دنیا کو دیکھتی ہے۔ لیکن دوسری آنکھ جو اس دنیا کی پس پردہ حقیقتوں کو دیکھتی ہے اگر ہو کھلی ہوئی نہ ہو تو تمام علم و سائنس کے باوجود شیطان اس کو ہلاکت کے ایسے کھڈ میں گراتا ہے جس سے اس کو نکلنا نصیب نہیں ہوتا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسیٰؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے

وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ ۣ [اور (ہم نے ہلاک کیا) قارون کو اور فرعون اور ہامان کو ] وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ [اور بیشک آچکے تھے ان کے پاس ] مُّوْسٰي [موسیٰ (علیہ السلام) ] بِالْبَيِّنٰتِ [واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] فَاسْتَكْبَرُوْا [پھر وہ بڑے بنے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] وَمَا كَانُوْا [اور وہ نہیں تھے ] سٰبِقِيْنَ [ بھاگ نکلنے والے ] ۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا، پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھسا دیا، اور کسی کو غرق کر دیا اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے

فَكُلًّا [پھر سب کو ] اَخَذْنَا [ہم نے پکڑا ] بِذَنْۢبِهٖ ۚ [اس کے گناہ کے سبب سے ] فَمِنْهُمْ مَّنْ [تو ان میں وہ بھی ہے ] اَرْسَلْنَا [ہم نے بھیجا ] عَلَيْهِ [جس پر ] حَاصِبًا ۚ[کنکریاں مارنے والی تند ہوا کو ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [اور ان میں وہ بھی ہے ] اَخَذَتْهُ [جس کو پکڑا ] الصَّيْحَةُ ۚ [چنگھاڑنے ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [اور ان میں وہ بھی ہے ] خَسَفْنَا [ہم نے دھنسا دیا ] بِهِ [جس کے ساتھ ] الْاَرْضَ ۚ [زمین کو ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [اور ان میں وہ بھی ہے جس کو ] اَغْرَقْنَا ۚ [ہم نے غرق کیا ] وَمَا كَانَ اللّٰهُ [اور اللہ نہیں ہے ] لِيَظْلِمَهُمْ [کہ وہ ظلم کرے ان پر ] وَلٰكِنْ [اور لیکن ] كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ [وہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: اوپر بیان کردہ تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ مشرکین نے خدا کے سوا جو سہارے ڈھونڈے تھے وہ سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ اور جس طرح یہ اس دنیا میں جھوٹے ثابت ہوئے اسی طرح آخرت میں بھی جھوٹے ثابت ہوں گے۔ اور جو لوگ اپنے فرضی دیوتاؤں کی سفارش پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں ان پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ جس سہارے کو انھوں نے قلعہ کی دیوار سمجھا اس کی حقیقت مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں تھی۔ (تدبر قرآن)