Ayah 29:41مَثَلُ الَّذِيْنَ [ان لوگوں کی مثال جنہوں نے ] اتَّخَذُوْا [بنائے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] اَوْلِيَاۗءَ [کچھ کار ساز ] كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ ښ [مکڑی کی مثال کی مانند ہے ] اِتَّخَذَتْ [اس (مکڑی) نے بتایا ] بَيْتًا ۭ [ایک گھر ] وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ [اور بیشک گھروں کا سب سے کمزور ] لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوْتِ ۘ [یقینا مکڑی کا گھر ہے ] لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ [کاش وہ لوگ جانتے ہوتے ]
Ayah 29:42اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] يَعْلَمُ [جانتا ہے ] مَا [اس کو جس کو ] يَدْعُوْنَ [یہ لوگ پکارتے ہیں ] مِنْ دُوْنِهٖ [اس کے علاوہ ] مِنْ شَيْءٍ ۭ [کسی چیز میں سے ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [اور وہ ہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [حکمت والا ہے ] ۔
Ayah 29:43وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ [اور یہ مثالیں ] نَضْرِبُهَا [ہم بیان کرتے ہیں ان کو ] لِلنَّاسِ ۚ [لوگوں کے لئے ] وَمَا يَعْقِلُهَآ [اور نہیں سمجھتے ان کو ] اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ [مگر علم والے لوگ ] ۔
Ayah 29:44خَلَقَ اللّٰهُ [پیدا کیا اللہ نے ] السَّمٰوٰتِ [آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [اور زمین کو ] بِالْحَـقِّ ۭ [حق کے ساتھ ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيَةً [یقینا ایک نشانی ہے ] لِّــلْمُؤْمِنِيْنَ [ایمان لانے والوں کے لئے ] ۔
Ayah 29:45اُتْلُ [آپ (علیہ السلام) پڑھیے ] مَآ [اس کو جو ] اُوْحِيَ [وحی کیا گیا ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] مِنَ الْكِتٰبِ [کتاب میں سے ] وَاَقِـمِ [اور آپ ﷺ قائم رکھیے ] الصَّلٰوةَ ۭ: نماز کو ] اِنَّ الصَّلٰوةَ [یقینا نماز ] تَنْهٰى [روکتی ہے ] عَنِ الْفَحْشَاۗءِ [بے حیائی سے ] وَالْمُنْكَرِ ۭ [اور برائی سے ] وَلَذِكْرُ اللّٰهِ [اور یقینا اللہ کی یاد ] اَكْبَرُ ۭ [سب سے بڑی (چیز) ہے ] وَاللّٰهُ يَعْلَمُ [اور اللہ جانتا ہے ] مَا [اس کو جو ] تَصْنَعُوْنَ : تم کرتے ہو ]
خ ط ط
(ن) خطا لکیر کھینچنا۔ کوئی عبارت لکھنا ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 48 ۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 45 ۔ میں ہے کہ نماز برائی سے روکتی ہے۔ آج کل مشاہدہ یہ ہے کہ ہم پانچ وقت کی نماز بھی پڑتے ہیں اور مختلف نوعیت کی برائیوں میں بھی ملوث ہیں، الا ما شاء اللہ ۔ سوال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو نماز برائی سے کیوں نہیں روک رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم میں ہماری حیات اور ہماری کارکردگی کے لئے مختلف نظام ودیعت کئے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نظام کا تعلق ہماری ذہنی ساخت اور اس کی کارکردگی کے ایک Process سے ہے جس کو آج کی اصطلاح میں عمل خود تجویزی (Self suggestion) کہتے ہیں اور نماز ہمارے عمل پر اسی عمل کے ذریعہ اثر انداز ہوتی ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ جو شخص عمل خودتجویزی کے Process کو On کر کے نماز پڑھے گا اسے وہ برائی سے روکے گی اور جو اسے Off کر کے نماز پڑھے گا اسے نہیں روکے گی۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات نوٹ کرلیں یہ میں کوئی دور کی کوڑی نہیں لایا ہوں۔ بلکہ نماز کے برائی سے نہ روکنے کی وجہ خود اللہ تعالیٰ نے سورة مریم میں بیان کی ہے۔ میں نے اس آیت کی ایک عام فہم تشریح آپ کے سامنے رکھی ہے سورة مریم میں اللہ تعالیٰ انبیاء کرام اور اپنے پسندیدہ بندوں کا ذکر کرنے کے بعد آیت۔ 59 ۔ میں فرماتا ہے ” پھر جانشین ہوئے ان کے بعد کچھ ایسے جانشین جنھوں نے ضائع کیا نماز کو اور انھوں نے پیروی کی خواہشات کی تو عنقریب وہ لوگ ملیں گے گمراہی سے۔ “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ انھوں نے نماز ترک کردی، بلکہ فرمایا کہ انھوں نے نماز ضائع کردی۔ اب نماز ضائع کرنے کی جو عملی شکل ہماری سمجھ میں آتی ہے اس کا ایک پہلو ہم نے واضح کیا ہے۔
عمل خود تجویزی کیا ہے ؟ اس کی وضاحت جینے کا سلیقہ کورس میں کی گئی ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ دینا بھی طوالت کا باعث ہوگا۔ فی الحال یہ سمجھ لیں کہ انسان کی خودتجویزی کی صلاحیت کا مؤثر ہونا سائنسی تحقیقات اور تجربات سے ثابت ہوچکا ہے۔ چناچہ اس کے ذریعہ سے آج نہ صرف نفسیاتی بیماریوں کا بلکہ متعدد جسمانی بیماریوں کا کامیابی سے علاج ہو رہا ہے۔ مثلاً کسی شخص کو اگر بھوک نہ لگنے کی شکایت ہے اور وہ ماہرین کی ہدایت کے مطابق اپنے آپ سے کہتا ہے کہ ” مجھے بھوک لگی ہے، مجھے بھوک لگی ہے “ تو اسے واقعی بھوک لگ جاتی ہے۔ اس قسم کے کامیاب نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ خودتجویزی کا عمل ایک مؤثر طاقت ہے۔ اور نفسیاتی بیماریوں میں کامیاب نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ خودتجویزی کے ذریعہ ہم اپنی سوچ کو، عادتوں کو اور عمل کو نہ صرف کنٹرول کرسکتے ہیں بلکہ تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔
دوسری بات یہ سمجھ لیں کہ خودتجویزی کا مؤثر ہونا مشروط ہے۔ یعنی یہ عمل اگر ماہرین کی ہدایت کے مطابق کیا جائے گا تو مؤثر ہوگا ورنہ نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں آج کے ماہرین جو ہدایات دیتے ہیں ان میں سے اکثر ہدایات نماز کے ضمن میں ہم کو چودہ سو سال پہلے دی جا چکی ہیں۔ مثلاً ماہرین کی پہلی ہدایت یہ ہے کہ تجویز کے الفاظ بلند آواز سے دہرائے جائیں اور خاموشی سے دہرانے کی صورت میں شرط یہ ہے کہ متعلقہ اعصاب لازماً حرکت میں ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ سِری رکعت میں بھی نماز پڑھتے ہوئے زبان کا متحرک ہونا ضروری ہے۔ نماز کے الفاظ اگر صرف ذہن میں دہرائے جائیں تو نماز نہیں ہوتی۔ دوسری ہدایت یہ ہے کہ یہ عمل ایسی جگہ کیا جائے جہاں خارجی اثرات کی مداخلت کم سے کم ہو۔ اب نماز کے لئے ہدایت یہ ہے کہ اولاً اسے مسجد میں ادا کرے ورنہ گھر میں گوشئہ تنہائی تلاش کیا جائے۔ تیسری ہدایت یہ ہے کہ عمل بالکل خالی الذہن ہو کر کیا جائے۔ نماز کے لئے رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے کہ احسن نماز یہ ہے کہ نمازی اس طرح نماز پڑھے جیسے وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ ممکن نہیں ہے تو کم از کم یہ خیال رکھے کہ اللہ تو اسے دیکھ ہی رہا ہے۔ اب جو نمازی اس طرح نماز پڑھے گا اس کی توجہ اپنے جسم، اپنے خیالات اور اپنے ماحول سے ہٹ جائے گی اور وہ یکسوئی سے نماز پڑھے گا۔ چوتھی ہدایت یہ ہے کہ یہ عمل سونے سے قبل اور سو کر اٹھنے کے فوراً بعد کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت خالی الذہن ہونا نبستاً آسان ہوتا ہے۔ اور اگر ضرورت ہو تو دن کے اوقات میں بھی یہ عمل کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالہ سے پانچ وقت کی نماز کے اوقات کے تعین کا جائزہ لیتے اور غور کرتے ہیں کہ سورج کی شعاعوں کی موجودگی میں ظہر اور عصر کی نمازیں سری ہیں جب کہ ان کی عدم موجودگی میں مغرب، عشاء اور فجر کی نمازین جہری ہیں اور ان میں بھی فجر میں طویل تلاوت کی ہدایت ہے، تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ پر حکمت نظام وضع کرنا کسی انسان کے لئے تو ممکن نہیں ہے۔ پانچویں ہدایت یہ ہے کہ صرف الفاظ دہرانے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ الفاظ سے متعلق کیفیات کو بھی اپنے اوپرطاری کیا جائے۔ مثلاً جس شخص کو بھوک نہ لگنے کی شکایت ہے اور وہ ” مجھے بھوک لگی ہے “ کہہ رہا ہے تو ساتھ ہی وہ اپنے پسندیدہ کھانوں کو یاد کر کے ان کی خوشبو اور ذائقہ کو ذہن میں تازہ کے یہاں تک کہ منہ میں پانی بھر آئے۔ یہ ناممکن نہیں بلکہ عین ممکن ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ناول یا افسانہ پڑھتے وقت ہم ہنسنے لگتے ہیں یا ہماری آنکھ سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ ہمیں ہدایت یہ ہے کہ جب نماز کے لئے بندہ کھڑا ہو تو شکر اور محبت کے جذبے کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو۔ عذاب کی آیات پڑھے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہونے چاہئیں۔ جنت کی نعمتوں کا ذکر آئے تو ان کو حاصل کرنے کے لئے دل میں ہوک اٹھنی چاہیے۔ اس کے لئے خشوع و خصوع کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
مذکورہ بالا جائزے سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ نماز کے بیشمار فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ برائی سے روکتی ہے۔ اس مخصوص فائدے کا انحصار اس بات پر ہے کہ خوتجویزی کے عمل کو On کر کے نماز پڑھی جائے۔ اس کے لئے عربی جاننا یقینا بہت مفید ہے لیکن لازمی نہیں ہے۔ عربی نہ جاننے والا بھی ہر پڑھا لکھا انسان اتنا تو یقیناکر سکتا ہے کہ وہ نماز کا اور نماز میں زیادہ پڑھی جانے والی سورتوں کا ترجمہ ذہن نشین کرلے اور نماز پڑھتے وقت مذکورہ عمل کو On رکھنے کی کوشش کرے۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ جن آیات کے معنی ہم کو معلوم ہیں ان کے الفاظ بھی ہم تیزی سے دہرا کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ کہیں گاڑی نہ چھوٹ جائے، اور ان الفاظ سے متعلق کیفیت کو اپنے اوپر طاری کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ مثلاً اھدنا الصراط المستقیم کے معنی کس نمازی کو نہیں معلوم اور کتنے نمازی ہیں جو ان الفاظ کو دہراتے وقت اپنے اندر بھیک مانگنے کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اصل وجہ ہے کہ ہماری نمازیں ہمارے عمل کو پوری طرح متاثر نہیں کر پاتیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ ہم عربی نہ جاننے کے عذر لنگ کو چھوڑ کر خود تجویزی کے عمل کو On کر کے نماز پڑھنے کی کوشش کریں اور زیادہ سے زیادہ خشوع و خضوع پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ نیک نیتی کے ساتھ کوشش شروع کردیں پھر صبرو استقامت کے ساتھ کوشش کرتے رہیں تو ان شاء اللہ ، اللہ تعالیٰ مدد کرے گا۔ اگر میری بات کا یقین نہیں ہے تو اسی سورة العنکبوت کی آخری آیت کو دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اور جن لوگوں نے جدوجہد کی ہم میں (یعنی ہماری راہ میں) ان کی ہم لازماً راہنمائی کریں گے اپنی راہوں کی۔ “
نوٹ۔ 2: آیت۔ 45 ۔ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ ذکر اللہ (ا اللہ کی یاد) سب سے بڑی چیز ہے۔ ذکر اللہ کا مفہوم آیت نمبر ۔ 2/152 کے نوٹ۔ 1 ۔ میں واضح کیا جا چکا ہے۔ اسے دوبارہ دیکھ لیں۔ وہی مفہوم سمجھانے کے لئے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے ایک مثال دی ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب عورتیں پنگھٹ پر پانی بھرنے جاتی ہیں تو وہ پانی سے بھرا ہوا گھڑا سر پر رکھ کر میلوں سفر کرتی ہوئی واپس آتی ہیں۔ سر پر پانی کا بھرا ہوا گھڑا ہوتا ہے جسے وہ پکڑ کر نہیں بلکہ ہاتھ چھوڑ کر چلتی ہیں۔ اس دوران وہ چڑھائی چڑھتی اور اترائی اترتی ہیں۔ اس چڑھائی اور اترائی میں ان کے جسم اور گردن کا زاویہ ایسا بن جاتا ہے کہ گھڑا سر سے نیچے نہیں گرتا۔ وہ راستے میں لطیفے سناتی اور قہق ہے لگاتی ہوئی آتی ہیں۔ راستے میں وہ ایک دوسرے سے اپنے خاوند کا رونا بھی روتی ہیں۔ سسکیاں بھی لیتی ہیں۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے ان کے دل میں یہ دھیان رہتا ہے کہ میرے سر پر ایک گھڑا ہے کہیں گر نہ جائے۔ اس طرح زندگی گزارتے ہوئے (دوکان پر، دفتر میں، گھر میں) دل میں یہ دھیان رہے کہ میرا کوئی مالک، کوئی پالنہار ہے، کہیں مجھ سے کوئی ایسی حرکت نہ ہوجائے جس سے اس کی نظر کرم میں فرق آجائے اور میں اس کی نظر سے گر جاؤں۔ یہی یاد ہے، یہی ذکر ہے۔ (منقول ازماہنامہ سوچنے کی باتیں۔ نومبر 2007 ء)
نوٹ۔ 3: یہ سورة مکی زندگی کے اس دور کی ہے جب کفار نے مسلمانوں پر عرصئہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ ان حالات میں اسی سورة میں آگے چل کر ہجرت کی تلقین آئی ہے۔ اس وقت حبشہ ہی ایک ایسی امن والی جگہ تھی۔ جہاں مسلمان ہجرت کر کے جاسکتے تھے اور وہاں پر اس زمانے میں عیسائیوں کا غلبہ تھا۔ اس لئے آیت۔ 46 ۔ میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی کہ اہل کتاب سے جب سابقہ پیش آئے تو ان سے دین کے معاملہ میں بحث و کلام کا کیا انداز اختیار کیا جائے۔ (تفہیم القرآن) ۔ جبکہ آیت۔ 47 ۔ قرآن کی پیشنگوئیوں میں سے ایک پیشنگوئی ہے۔ کیونکہ عبدا اللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی مدینہ میں ایمان لائے اور اہل مکہ کی اکثریت فتح مکہ کے بعد ایمان لائی۔ (تفسیر نعیمی سے ماخوذ)
Ayah 29:46وَلَا تُجَادِلُوْٓا [اور تم لوگ مناظرہ مت کرو ] اَهْلَ الْكِتٰبِ [اہل کتاب سے ] اِلَّا [مگر ] بِالَّتِيْ [اس (طریقہ) سے جو کہ ] ھِىَ [وہی ] اَحْسَنُ ڰ [سب سے خوبصورت ہو ] اِلَّا الَّذِيْنَ [سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ] ظَلَمُوْا [ظلم کیا ] مِنْهُمْ [ان میں سے ] وَقُوْلُوْٓا [اور تم لوگ (یوں) کہو ] اٰمَنَّا [ہم ایمان لائے ] بِالَّذِيْٓ [اس پر جو ] اُنْزِلَ [اتارا گیا ] اِلَيْنَا [ہماری طرف ] وَاُنْزِلَ [اور نازل کیا گیا ] اِلَيْكُمْ [تم لوگوں کی طرف ] وَاِلٰـهُنَا [اور ہمارا الٰہ ] وَاِلٰــهُكُمْ [اور تم لوگوں کا الٰہ ] وَاحِدٌ [ایک (ہی) ہے ] وَّنَحْنُ [اور ہم لوگ ] لَهٗ [اس کی ہی ] مُسْلِمُوْنَ [فرمانبرداری کرنے والے ہیں ] ۔
Ayah 29:47وَكَذٰلِكَ [اور اسی طرح ] اَنْزَلْنَآ [ہم نے اتارا ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] الْكِتٰبَ ۭ [اس کتاب کو ] فَالَّذِيْنَ [تو وہ لوگ ] اٰتَيْنٰهُمُ [ہم نے دی جن کو ] الْكِتٰبَ [کتاب ] يُؤْمِنُوْنَ [وہ لوگ ایمان لائیں گے ] بِهٖ ۚ [اس (کتاب) پر ] وَمِنْ هٰٓؤُلَاۗءِ مَنْ [اور ان (مکہ والوں) میں وہ بھی ہیں جو ] يُّؤْمِنُ [ایمان لائیں گے ] بِهٖ ۭ [اس پر ] وَمَا يَجْحَدُ [اور انکار نہیں کرتے ] بِاٰيٰتِنَآ [ہماری آیتوں کا ] اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ [مگر کافر لوگ ] ۔
Ayah 29:48وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا [اور آپ ﷺ نہیں پڑھا کرتے تھے ] مِنْ قَبْلِهٖ [اس سے پہلے ] مِنْ كِتٰبٍ [کوئی سی بھی کتاب ] وَّلَا تَخُــطُّهٗ [اور نہ ہی آپ ﷺ لکھتے تھے اس کو ] بِيَمِيْنِكَ [اپنے داہنے ہاتھ سے ] اِذًا [تب تو ] لَّارْتَابَ [ضرور شبہ میں پڑتے ] الْمُبْطِلُوْنَ [ناحق کرنے والے ] ۔
Ayah 29:49بَلْ هُوَ [بلکہ یہ ] اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ [ایسی واضح آیات ہیں جو ] فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ [ان لوگوں کے سینوں میں ہیں جن کو ] اُوْتُوا [دیا گیا ] الْعِلْمَ ۭ [علم ] وَمَا يَجْـحَدُ [اور انکار نہیں کرتے ] بِاٰيٰتِنَآ [ہماری آیات کا ] اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ [مگر ظلم کرنے والے لوگ ] ۔
Ayah 29:50وَقَالُوْا [اور انہوں نے کہا ] لَوْلَآ اُنْزِلَ [کیوں نہیں اتاری گئیں ] عَلَيْهِ [ان ﷺ پر ] اٰيٰتٌ [کچھ نشانیاں (معجزات)] مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ [ان کے رب (کی طرف) سے ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْاٰيٰتُ [تمام نشانیاں (معجزات)] عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [اللہ کے پاس ہیں ] وَاِنَّمَآ اَنَا [اور میں تو بس ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں ] ۔
Ayah 29:51اَوَلَمْ يَكْفِهِمْ [اور کیا کافی نہیں ہوا ان لوگوں کو ] اَنَّآ [(یہ) کہ ] اَنْزَلْنَا [ہم نے اتارا ] عَلَيْكَ الْكِتٰبَ [آپ پر اس کتاب کو ] يُتْلٰى [وہ پڑھی جاتی ہے ] عَلَيْهِمْ ۭ [ان پر ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَرَحْمَةً [یقینا رحمت ہے ] وَّذِكْرٰي [اور نصیحت ہے ] لِقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يُّؤْمِنُوْنَ [ایمان لوتے ہیں ] ۔
Ayah 29:52قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] كَفٰي [کافی ہوا ] بِاللّٰهِ [اللہ ] بَيْنِيْ [میرے درمیان ] وَبَيْنَكُمْ [اور تم لوگوں کے درمیان ] شَهِيْدًا ۚ [بطور گواہ کے ] يَعْلَمُ [وہ جانتا ہے ] مَا [اس کو جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمانوں اور زمین میں ہے ] وَالَّذِيْنَ [اور جو لوگ ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] بِالْبَاطِلِ [ناحق پر ] وَكَفَرُوْا [اور جنہوں نے انکار کیا ] بِاللّٰهِ ۙ [اللہ کا ] اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ] هُمُ الْخٰسِرُوْنَ [ہی خسارہ پانے والے ہیں ] ۔
Ayah 29:53وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ [اور جلدی مانگتے ہیں آپ ﷺ سے ] بِالْعَذَابِ ۭ [عذاب کو ] وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّى [اور اگر نہ ہوتا ایک معین وقت ] لَّجَاۗءَهُمُ [تو ضرور آتا ان کے پاس ] الْعَذَابُ ۭ [عذاب ] وَلَيَاْتِيَنَّهُمْ [اور وہ لازما پہنچے گا ان کے پاس ] بَغْتَةً [اچانک ] وَّ [اس حال میں کہ ] هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ [وہ لوگ شعور نہ رکھتے ہوں گے ] ۔
Ayah 29:54يَسْتَعْجِلُوْنَكَ [جلدی مانگتے ہیں آپ ﷺ سے ] بِالْعَذَابِ ۭ [عذاب کو ] وَاِنَّ جَهَنَّمَ [اور بیشک جہنم ] لَمُحِيْطَةٌۢ [یقینا گھیرنے والی ہے ] بِالْكٰفِرِيْنَ [کافروں کو ] ۔
نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا انکار کرنے والوں کا ایک اعتراض یہ تھا کہ آپ ﷺ کو ایسے معجزے کیوں نہیں عطا ہوئے جیسے سابقہ انبیاء خاص طور سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے تھے۔ اسکا ایک جواب یہ دیا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو بتادیں کہ معجزات کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے میں اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں رکھتا۔ میرا فرض یہ ہے کہ تم لوگوں کو آنے والے خطرات سے اچھی طرح آگاہ کر دوں۔ (تدبر قرآن) ۔ دوسرا جواب یہ دیا کہ امی ہونے کے باوجود آپ ﷺ پر قرآن جیسی کتاب کا نازل ہونا کیا یہ بجائے خود اتنا بڑا معجزہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت پر یقین لانے کے لئے یہ کافی ہو۔ اس کے بعد بھی کسی اور معجزے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ دوسرے معجزے تو وقتی تھے مگر یہ معجزہ تو ہر وقت تمہارے سامنے ہے۔ تمہیں آئے دن پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔ تم جب چاہو اسے دیکھ سکتے ہو۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 29:55يَوْمَ [جس دن ] يَغْشٰـىهُمُ [چھائے گا ان پر ] الْعَذَابُ [عذاب ] مِنْ فَوْقِهِمْ [ان کے اوپر سے ] وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ [اور ان کے پیروں کے نیچے سے ] وَيَقُوْلُ [اور (اللہ تعالیٰ ) کہے گا ] ذُوْقُوْا [تم لوگ چکھو ] مَا [اس کو جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کیا کرتے تھے ] ۔
Ayah 29:56يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ [اے میرے وہ بندو جو ] اٰمَنُوْٓا [ایمان لائے ] اِنَّ اَرْضِيْ [بیشک میری زمین ] وَاسِعَةٌ [کشادہ ہے ] فَاِيَّايَ [تو صرف میری ہی ] فَاعْبُدُوْنِ [پس تم لوگ بندگی کرو میری ] ۔
Ayah 29:57كُلُّ نَفْسٍ [ہر جان ] ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣ [موت کو چکھنے والی ہے ] ثُمَّ اِلَيْنَا [پھر ہماری طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔
Ayah 29:58وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [اور جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] لَنُبَوِّئَنَّهُمْ [ان کو ہم لازما ٹھکانہ دیں گے ] مِّنَ الْجَنَّةِ [جنت میں سے ] غُرَفًا [بالا خانوں میں ] تَجْرِيْ [بہتی ہوں گی ] مِنْ تَحْتِهَا [جن کے نیچے سے ] الْاَنْهٰرُ [نہریں ] خٰلِدِيْنَ [ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَا ۭ [ان میں ] نِعْمَ [کتنی اچھی ہے ] اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ [عمل کرنے والوں کے اجرت ] ۔
Ayah 29:59الَّذِيْنَ صَبَرُوْا [وہ لوگ جو ثابت قدم رہے ] وَعَلٰي رَبِّهِمْ [اور اپنے رب پر ہی ] يَتَوَكَّلُوْنَ [وہ لوگ بھروسہ کرتے ہیں ] ۔
Ayah 29:60وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ [اور چلنے والے جاندار میں سے کتنے ہی ہیں جو ] لَّا تَحْمِلُ [اٹھا نہیں رکھتے ] رِزْقَهَا [اپنا رزق ] اَللّٰهُ [اللہ ہی ] يَرْزُقُهَا [رزق دیتا ہے ان کو ] وَاِيَّاكُمْ ڮ [اور تم کو بھی ] وَهُوَ السَّمِيْعُ [اور وہ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [جاننے والا ہے ] ۔
Ayah 29:61وَلَىِٕنْ [اور بیشک اگر ] سَاَلْتَهُمْ [آپ ﷺ پوچھیں ان سے ] مَّنْ خَلَقَ [کس نے پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [آسمانوں اور زمین کو ] وَسَخَّــرَ [اور مسخر کیا ] الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ [سورج کو اور چاند کو ] لَيَقُوْلُنَّ [تو وہ لوگ لازما کہیں گے ] اللّٰهُ [اللہ نے ] فَاَنّٰى [تو کہاں سے ] يُؤْفَكُوْنَ : وہ سب پلٹائے جارہے ہیں ]
Ayah 29:62اَللّٰهُ [اللہ ہی ] يَبْسُطُ [کشادہ کرتا ہے ] الرِّزْقَ [رزق کو ] لِمَنْ [اس کے لئے جس کے لئے ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖ [اپنے بندوں میں سے ] وَيَقْدِرُ [اور نپا تلا دیتا ہے ] لَهٗ ۭ [اس کو (جسے چاہے)] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز کو ] عَلِيْمٌ [جاننے والا ہے ] ۔
Ayah 29:63وَلَىِٕنْ [اور بیشک اگر ] سَاَلْتَهُمْ [آپ ﷺ پوچھیں ان سے ] مَّنْ نَّزَّلَ [کس نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ [آسمان سے ] مَاۗءً [کچھ پانی ] فَاَحْيَا [پھر زندہ کیا ] بِهِ [اس سے ] الْاَرْضَ [زمین کو ] مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا [اس کے مردہ ہونے کے بعد ] لَيَقُوْلُنَّ [تو وہ لوگ لازما کہیں گے ] اللّٰهُ ۭ [اللہ نے ] قُلِ [آپ ﷺ کہیے ] الْحَمْدُ [تمام شکرو سپاس ] لِلّٰهِ ۭ [اللہ کے لئے ہے ] بَلْ [بلکہ (یعنی لیکن)] اَكْثَرُهُمْ [ان کے اکثر ] لَا يَعْقِلُوْنَ [عقل سے کام نہیں لیتے ] ۔
نوٹ۔ 1: شروع سورت سے مسلمانوں کے ساتھ کفار کی عداوت اور ان کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹوں کا بیان ہے۔ زیر مطالعہ آیات میں مسلمانوں کے لئے ان کے شر سے بچنے اور حق و انصاف کو دنیا میں قائم کرنے کی ایک تدبیر کا بیان ہے جس کا اصطلاحی نام ہجرت ہے یعنی وہ وطن اور ملک چھوڑ دینا جس میں انسان خلاف حق بولنے اور کرنے پر مجبور کیا جائے۔ وطن سے ہجرت کر کے کسی دوسری جگہ جانے میں دو قسم کے خطرات انسان کو عادۃً پیش آیا کرتے ہیں جو اس کو ہجرت سے روکتے ہیں۔ پہلا خطرہ جان کا ہے کہ جہاں جا رہے ہیں وہاں یا راستہ میں کفار حملہ کردیں جس میں جان کا خطرہ ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ہر جان موت کو چکھنے والی ہے۔ موت سے کسی کو کسی جگہ کسی حال میں مفر نہیں ہے۔ اس لئے ہجرت کرنے میں موت کا خوف حائل نہ ہونا چاہیے۔ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ دوسرے ملک میں جا کر رزق کا کیا سامان ہوگا۔ اس کے لئے فرمایا کہ زمین پر چلنے والے کتنے ہی جاندار ہیں جو اپنے رزق جمع کرنے اور رکھنے کا کوئی انتظام نہیں کرتے۔ اللہ کی کھلی زمین میں نکلتے ہیں اور سب کو پیٹ بھرائی رزق ملتا ہے۔ اور یہ ایک دن کا معاملہ نہیں ‘ جب تک وہ زندہ ہیں یہی سلسلہ جاری ہے۔ اس لئے یہ دوسرا خطرہ بھی ہجرت سے مانع نہیں ہونا چاہیے۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 29:64وَمَا [اور نہیں ہے ] هٰذِهِ الْحَيٰوةُ [یہ دنیوی زندگی ] اِلَّا لَهْوٌ [مگر ایک تماشا ] وَّلَعِبٌ ۭ [اور کچھ کھیل کود ] وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ [اور بیشک آخری گھر ] لَھِىَ [یقینا وہی ] الْحَـيَوَانُ ۘ [کل (یعنی حقیقی) زندگانی ہے ] لَوْ [کاش ] كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ [یہ لووگ جانتے ہوتے ]
Ayah 29:65فَاِذَا [پھر جب کبھی ] رَكِبُوْا [وہ لوگ سوار ہوتے ہیں ] فِي الْفُلْكِ [کشتی میں ] دَعَوُا [تو پکارتے ہیں ] اللّٰهَ [اللہ کو ] مُخْلِصِيْنَ [خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَهُ [اس کے لئے ] الدِّيْنَ ڬ [دین (عقیدہ) کو ] فَلَمَّا [پھر جب ] نَجّٰىهُمْ [وہ نجات دیتا ہے ان کو ] اِلَى الْبَرِّ [خشکی کی طرف ] اِذَا هُمْ [تب ہی وہ لوگ ] يُشْرِكُوْنَ : وہ سب شریک بناتے ہیں ]
Ayah 29:66لِيَكْفُرُوْا [نتیجتاً وہ لوگ ناشکری کرتے ہیں ] بِمَآ [اس کی جو ] اٰتَيْنٰهُمْ ڌ [ہم نے دیا ان کو ] وَلِيَتَمَتَّعُوْا ۪ [اور فائدہ اٹھاتے ہیں (اس سے)] فَسَوْفَ [تو عنقریب ] يَعْلَمُوْنَ [وہ لوگ جان لیں گے ] ۔
Ayah 29:67اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا ان لوگوں نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّا جَعَلْنَا [کہ ہم نے بنایا ] حَرَمًا اٰمِنًا [امن میں ہونے والی محترم جگہ ] وَّ [اس حال میں کہ ] يُتَخَطَّفُ اچک لیا جاتا ہے ] النَّاسُ [انسانوں کو ] مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ [ان لوگوں کے اردگرد سے ] اَفَبِالْبَاطِلِ [تو کیا ناحق پر ] يُؤْمِنُوْنَ [یہ لوگ ایمان لاتے ہیں ] وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ [اور اللہ کی نعمت کا ] يَكْفُرُوْنَ [اور کون زیادہ ظالم ہے ]
Ayah 29:68وَمَنْ اَظْلَمُ [اور کون زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [اس سے جس نے ] افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ [گھڑ اللہ پر ] كَذِبًا [کوئی جھوٹ ] اَوْ كَذَّبَ [یا جس نے جھٹلایا ] بِالْحَقِّ [حق کو ] لَمَّا [جب ] جَاۗءَهٗ ۭ [وہ آیا اس کے پاس ] اَلَيْسَ [کیا نہیں ہے ] فِيْ جَهَنَّمَ [جہنم میں ] مَثْوًى [ٹھکانہ ] لِّلْكٰفِرِيْنَ [کفر کرنے والوں کے لئے ] ۔
Ayah 29:69وَالَّذِيْنَ [اور جن لوگوں نے ] جَاهَدُوْا [جدوجہد کی ] فِيْنَا [ہم میں (یعنی ہماری راہ میں)] لَـنَهْدِيَنَّهُمْ [ہم لازما رہنمائی کریں گے ان کی ] سُـبُلَنَا ۭ [اپنی راہوں کی ] وَاِنَّ اللّٰهَ [اور بیشک اللہ ] لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کارواں کے ساتھ ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: لفظ حیوان قرآن مجید میں صرف ایک مرتبہ زیر مطالعہ آیت۔ 64 ۔ میں استعمال ہوا ہے۔ نوٹ کرلیں کہ اس کا مادہ ” ح ی ی “ ہی ہے اور یہ لفظ حیوۃ کا ہم معنی ہے۔ یعنی اس کے بھی معنی ہیں ” زندگی۔ حیات “ یہ دراصل فعلان کے وزن پر حییان ہے۔ دوسری ” ی “ کو واؤ میں تبدیل کر کے حیوان استعمال ہوا ہے۔